Dr Tayyab Muneer Ch

Dr Tayyab Muneer Ch Doctor | Medical Content Creator (YouTube & Facebook) | Social Worker

The Government of Punjab – Specialized Healthcare & Medical Education Department has issued a new notification regarding...
16/03/2026

The Government of Punjab – Specialized Healthcare & Medical Education Department has issued a new notification regarding JCAT (Joint Centralized Admission Test).
Minimum Passing Requirement:
Candidates must secure at least 75 Percentile to qualify.

This policy will be applicable from the upcoming JCAT scheduled for March 2026.

Following allegations of r**e with staff nurse , the Chief Medical Officer of Mithi Hospital, Tharparkar, reportedly com...
14/03/2026

Following allegations of r**e with staff nurse , the Chief Medical Officer of Mithi Hospital, Tharparkar, reportedly committed su***de. An audio call circulating on social media shows him asking a friend to share his handwritten note as his last will. In the note, he claimed innocence and said the accusations had severely damaged his honor, reputation, and dignity. He wrote that he could not bear the humiliation and social pressure, which left him in deep mental distress, and expressed hope that the truth would eventually come to light.

With Prof. Dr M Aftab, Ass. Prof. Dr Mehmood Ul Hassan and Dr Rizwan Asghar at Annual Iftar Dinner of Medical Unit-1, Se...
09/03/2026

With Prof. Dr M Aftab, Ass. Prof. Dr Mehmood Ul Hassan and Dr Rizwan Asghar at Annual Iftar Dinner of Medical Unit-1, Services Hospital, Lahore. 09 March 2026

﴿ إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُوا تَس...
19/02/2026

﴿ إنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَاالَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وسَلِّمُوا تَسْليمًا ﴾

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو ، اور خوب سلام بھیجا کرو۔

﴿سورۃ الاحزاب،۵۶﴾

04/02/2026

آج کل سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر سے باہر کی دوائی لکھوانا ایسا ہی مشکل ہے جیسا پٹواری سے جھوٹی فرد ملکیت لکھوانا!!!!!!
مریض نت نئے طریقوں سے ڈاکٹر کے ایمان کو متزلزل کرنے کی کوششوں میں رہتے ہیں مثال کے طور پر
ڈاکٹر صاحب کوئی اچھی سی دوائی لکھ دیں ،،
ڈاکٹر صاحب میں روز روز نہیں آ سکتا دوائی باہر کی لکھ دیں ،،
ڈاکٹر صاحب اپنا قریبی مریض ہے کسی کو نہیں بتائےگا ، باہر سے کوئی اچھی سی دوائی لکھ دیں ،
ڈاکٹر صاحب ، کسی علیحدہ پرچی پر باہر کی دوائی لکھ دیں ،،
ڈاکٹر صاحب میری ہاتھ پر لکھ دیں ،،
ڈاکٹر صاحب موبائل پر باہر کی دوائی کا نام میسج کر دیں ،،
ڈاکٹر صاحب آپ بتا دیں میں زبانی یاد کر لوں گا
ڈاکٹر صاحب آرام آنا چاہیے بس افسوس اور مایوسی تب ہوتی ہے😭
جب کوئی غریب دیہاڑی چھوڑ کر اپنے کسی بزرگ ماں یا باپ کو بڑی امید سے میلوں کا سفر اور کرایہ بھر کے علاج کے لئے لاتا ہے اور وہ بزرگ مریض بڑی حسرت بھری اور بھرائی آواز میں اپنے سارے دکھ درد اور بے شمار تکلیفوں سے ہمیں آگاہ کرنے کے بعد ہمیں احساس دلواتا ہے کہ ہم اس تکلیف میں اس کا اللہ کے بعد واحد سہارا ہیں!!!
اور
کہتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب بڑی دور سے آپ کا نام سن کر آئے ہیں.
اس وقت ڈاکٹر کے اندر ایمان اور کفر کی ایک جنگ چھڑ نے ہی والی ہوتی ہے کہ باطن سے آواز آتی ہے کنڑول ڈاکٹر صاحب کنڑول ، اپنی نوکری بچائیں
مریض کو اللّٰہ بچا لے گا ،🕋
آج ایک مریض ادویات ہماری ٹیبل پر پھینک کر چلا گیا کہ اتنے دن سے آ رہے ہیں ایک ہی دوا بار بار دے دیتے ہو کوئی آرام تو آ نہیں رہا ،
اب عاقبت نااندیش مریضوں کو کون سمجھائے کہ یہ ادویات کسی نے ممتا بھری محبت سے اربوں روپے خرچ کر کے بھجوائی ہیں
بَک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
یہ میرے ملک کی سچی کہانی ہے جس قرب سے ڈاکٹرز گزر رہے ہیں اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔۔۔
مطیع اللہ خان

  پاکستان میں کس بیماری پر کہاں جانا چاہیے؟(عوام کے لیے بنیادی صحت کا سادہ مگر ضروری نقشہ)پاکستان میں ہسپتالوں کی بھیڑ ک...
29/01/2026


پاکستان میں کس بیماری پر کہاں جانا چاہیے؟
(عوام کے لیے بنیادی صحت کا سادہ مگر ضروری نقشہ)

پاکستان میں ہسپتالوں کی بھیڑ کی اصل وجہ بیماریوں کی زیادتی نہیں بلکہ یہ الجھن ہے کہ کس بیماری پر کہاں جانا ہے۔ ہمارے ہاں مریض کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ علاج کا پہلا دروازہ کون سا ہے، دوسرا قدم کیا ہونا چاہیے، اور کب واقعی بڑے ہسپتال یا ایمرجنسی کی ضرورت پڑتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر درد ایمرجنسی بن جاتا ہے، ہر بخار ٹیچنگ ہسپتال پہنچتا ہے، اور اصل خطرے میں موجود مریض پیچھے رہ جاتے ہیں۔

زیادہ تر بیماریاں جن کا سامنا ایک عام انسان روزمرہ زندگی میں کرتا ہے، جیسے بخار، نزلہ، کھانسی، گلا خراب ہونا، پیٹ درد، الٹی، اسہال، جسم درد، بلڈ پریشر یا شوگر کی فالو اپ، ان سب کے لیے بڑے ہسپتال جانا نہ ضروری ہے اور نہ فائدہ مند۔ ایسی بیماریوں کا بہترین علاج قریبی مستند جنرل فزیشن، بنیادی صحت مرکز یا رورل ہیلتھ سینٹر میں ممکن ہوتا ہے۔ یہی وہ جگہیں ہیں جہاں مریض کو وقت دیا جا سکتا ہے، پوری بات سنی جا سکتی ہے، اور بیماری کو شروع میں ہی قابو میں لایا جا سکتا ہے، اس سے پہلے کہ وہ پیچیدہ شکل اختیار کرے۔

بڑے سرکاری یا نجی ٹیچنگ ہسپتال اس لیے بنائے جاتے ہیں کہ وہاں پیچیدہ، دیرینہ یا بگڑے ہوئے کیسز کو سنبھالا جا سکے۔ جب کوئی بیماری بار بار ٹھیک نہ ہو رہی ہو، علامات غیر واضح ہوں، یا علاج کے باوجود مسئلہ بڑھ رہا ہو، تب مریض کو ریفرل کے ذریعے اسپیشلسٹ یا بڑے ہسپتال جانا چاہیے۔ براہ راست بڑے ہسپتال پہنچ جانا نہ مریض کے حق میں بہتر ہوتا ہے اور نہ نظام کے، کیونکہ وہاں موجود ڈاکٹر پہلے ہی شدید اور جان لیوا کیسز میں مصروف ہوتا ہے۔

ایمرجنسی کا تصور ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ غلط سمجھا جاتا ہے۔ ایمرجنسی وہ نہیں ہوتی جس میں جلدی ہو، غصہ ہو یا سفارش ہو۔ اصل ایمرجنسی وہ حالت ہے جہاں مریض کی جان کو فوری خطرہ ہو، جیسے سانس لینے میں شدید دشواری، سینے میں ناقابل برداشت درد، اچانک بے ہوشی، فالج کی علامات، شدید حادثہ، جلنے کا واقعہ یا بے قابو خون بہنا۔ ان حالات میں ایمرجنسی جانا زندگی بچا سکتا ہے، مگر معمولی بخار یا پرانی تکلیف کو ایمرجنسی میں لے جانا اصل مریضوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔

زچگی، بچوں اور خواتین کے عام مسائل بھی اسی الجھن کا شکار ہیں۔ حمل کی معمول کی فالو اپ، بچوں کا بخار، ویکسینیشن، وزن یا غذائیت کے مسائل، اور خواتین کے عام ہارمونل مسائل کے لیے بنیادی صحت مراکز، MNCH یونٹس یا قریبی مستند ڈاکٹر ہی بہترین جگہ ہوتے ہیں۔ ہر درد آپریشن نہیں مانگتا اور ہر مسئلہ خطرے کی گھنٹی نہیں ہوتا، مگر لاعلمی خوف پیدا کرتی ہے اور خوف غلط فیصلے کرواتا ہے۔

جب پرائمری ہیلتھ کیئر کو نظر انداز کیا جائے، ریفرل سسٹم نہ سکھایا جائے اور عوام کو یہ نہ بتایا جائے کہ علاج کا پہلا دروازہ کون سا ہے، تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ایمرجنسی میں عام مریضوں کا ہجوم لگ جاتا ہے، او پی ڈی آئی سی یو کا منظر پیش کرنے لگتی ہے، اور اصل ضرورت مند مریض وقت پر علاج سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس افراتفری میں نہ مریض مطمئن ہوتا ہے اور نہ ڈاکٹر اپنا کام بہتر انداز میں کر پاتا ہے۔

اگر عوام چند سادہ باتیں سمجھ لیں تو پورا نظام سانس لے سکتا ہے۔ ہر بیماری کا پہلا قدم قریبی مستند ڈاکٹر یا بنیادی صحت مرکز ہونا چاہیے۔ بڑے ہسپتال وہاں جانے چاہییں جہاں واقعی ان کی ضرورت ہو، اور ایمرجنسی صرف جان کے خطرے میں استعمال ہونی چاہیے۔ یہی ترتیب علاج کو مؤثر بناتی ہے، وقت بچاتی ہے اور سب کے لیے انصاف پیدا کرتی ہے۔

یہ تحریر کسی کو نیچا دکھانے کے لیے نہیں بلکہ راستہ دکھانے کے لیے ہے۔ جس دن عوام کو یہ سمجھ آ گئی کہ کس بیماری پر کہاں جانا ہے، اسی دن ہسپتالوں کی بھیڑ کم ہو گی، اصل مریض کو بروقت علاج ملے گا، اور ڈاکٹر بھی وہ خدمت کر سکیں گے جس کے لیے انہوں نے یہ پیشہ چنا تھا۔

ڈاکٹر سید شکیل بادشاہ
سلسلہ: صحت، ریاست اور معاشرہ

The United States has officially terminated its 80-year partnership with the World Health Organization, sparking a globa...
23/01/2026

The United States has officially terminated its 80-year partnership with the World Health Organization, sparking a global debate over the future of international health security and pandemic response.

On his first day in office, President Trump signed an executive order initiating the United States' formal withdrawal from the World Health Organization (WHO), citing alleged mismanagement of the COVID-19 pandemic and other global crises.

The administration further justified the exit by highlighting the "unfairly onerous" financial contributions required of the U.S. compared to other nations. This directive immediately paused all American funding, ordered the reassignment of U.S. contractors within the agency, and tasked officials with identifying alternative international health organizations for future collaboration.

WHO Director-General Dr. Tedros Adhanom Ghebreyesus described the move as a "lose-lose" scenario, warning that American health security is fundamentally linked to global cooperation.

Public health experts now face a landscape where the primary financial and strategic partner of the world's leading health body is absent, leaving a significant void in the infrastructure used to track and combat emerging infectious diseases.

source: World Health Organization (2026).

Depression is silently destroying the lives and potential of our youth. Behind smiles and achievements, many are fightin...
09/01/2026

Depression is silently destroying the lives and potential of our youth. Behind smiles and achievements, many are fighting battles that go unseen. Mental health is not a weakness or a choice—it is just as important as physical health.

It’s time to break the stigma, speak up, and support one another. Checking in, listening, and seeking help can save lives. Let’s build a future where mental well-being matters as much as physical health.

~ Dr Tayyab Muneer

Happy New Year 2026. May Allah bring happiness to our lives❣️
31/12/2025

Happy New Year 2026. May Allah bring happiness to our lives❣️

Eleven clinical trials that will shape medicine in 2026   #2026
29/12/2025

Eleven clinical trials that will shape medicine in 2026
#2026

1467/6993 Foreign Medical Graduates passed the NRE December 2025 exam. 21.27% Result
24/12/2025

1467/6993 Foreign Medical Graduates passed the NRE December 2025 exam. 21.27% Result

15/12/2025

Doctors of M1-SHL💕
Dr Mehmood Ul Hasan (Assistant Professor of Medicine and Endocrine)
Dr Khurram Islam (Consultant Medical Specialist)
Dr Usman Ghani (Gastroenterologist)
Dr M Raza (Gastroenterologist)
Dr Abdul Hafeez (Gastroenterologist)
Dr Imran Chohan (Gastroenterologist)
Dr Ch Tayyab Muneer (Registrar)

Address

London

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Tayyab Muneer Ch posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Tayyab Muneer Ch:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category