Mental Health - Psychiatry

Mental Health - Psychiatry Facing depression, anxiety, panic attacks, stress, or relationship challenges? You’re not alone. Reach out—we're here to help you heal and grow.

Compassionate, confidential support for mental health and marriage issues is just a message away.

06/01/2026

Today’s session..

Red Flags vs Reality
خوف اور حقیقت میں فرق کرنا

ہر وہ چیز جو ہمیں بے چین کر دے، لازماً red flag نہیں ہوتی، اور ہر وہ بات جو ہمیں اچھی لگے، ضروری نہیں کہ وہ حقیقت پر مبنی بھی ہو؛ رشتوں اور زندگی میں اصل امتحان یہی ہے کہ ہم خوف کی سرگوشیوں اور حقیقت کی پرسکون آواز کے درمیان فرق کرنا سیکھیں، کیونکہ بطورِ ماہرِ نفسیات میں یہ بارہا دیکھتا ہوں کہ لوگ اپنے پرانے زخموں، ناکام تجربات اور ادھورے دکھوں کی وجہ سے محبت کو شک کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں، اور بعض اوقات اپنی شدید خواہشوں کے زیرِ اثر خطرے کو خوبصورت جملوں میں لپیٹ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔

یہ بات ذہن میں واضح رکھیے کہ red flags وہ نہیں ہوتے جو ہمیں وقتی طور پر uncomfortable کریں، کیونکہ سچائی اکثر ابتدا میں ناگوار محسوس ہوتی ہے اور ہمیں اپنی کمزوریوں کا سامنا کرواتی ہے؛ اصل red flags وہ ہوتے ہیں جو آہستہ آہستہ ہمیں خود سے دور کر دیں، جہاں آپ اپنی بات کہنا چھوڑ دیں، اپنی ضروریات کو غیر اہم سمجھنے لگیں، اپنے سوالات دبانے لگیں، اور خاموشی کو حکمت، صبر یا سمجھ داری کا نام دے کر دل کو تسلی دینے لگیں—وہاں خطرہ ہوتا ہے، وہاں رشتہ نہیں، کنٹرول جنم لیتا ہے، اور میں نے ایسے بے شمار چہرے دیکھے ہیں جو باہر سے مطمئن مگر اندر سے ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں۔

ہم میں سے بہت سے لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ ہر اختلاف کو خطرہ سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ اختلاف ترقی، سیکھنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا ذریعہ بھی ہو سکتا ہے؛ مگر جب یہی اختلاف آپ کی آواز چھیننے لگے، جب آپ بار بار یہ سوچنے لگیں کہ “کہیں میں زیادہ تو نہیں بول رہا؟”، “کہیں میری ضرورت بوجھ تو نہیں؟”، “کہیں میری حساسیت ہی مسئلہ تو نہیں؟”—تو یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں رک کر خود سے ایمانداری سے سوال کرنا ضروری ہو جاتا ہے، کیونکہ جہاں انسان خود پر شک کرنے لگے، وہاں رشتے کا توازن پہلے ہی بگڑ چکا ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک صحت مند اور درست رشتہ ہمیں بہتر انسان بناتا ہے، ہمیں بڑا کرتا ہے، ہمیں اعتماد دیتا ہے، اور اپنی بات کہنے کا حوصلہ سکھاتا ہے؛ وہ ہمیں سہارا دیتا ہے، ہماری شناخت کو مضبوط کرتا ہے، نہ کہ آہستہ آہستہ مٹا دیتا ہے، وہ اختلاف کے باوجود عزّت کو قائم رکھتا ہے، اور محبت کے نام پر ہماری خودی کی قربانی طلب نہیں کرتا۔

یاد رکھیے، خوف شور مچاتا ہے، حقیقت خاموشی سے مضبوط کرتی ہے؛ خوف ہمیں سمیٹتا ہے، حقیقت ہمیں پھیلنے دیتی ہے؛ اور اگر کسی تعلق میں آپ کی آواز دھیرے دھیرے گم ہو رہی ہے، تو مسئلہ آپ کی حساسیت نہیں—مسئلہ وہ تعلق ہے۔

A red flag steals your voice.
— Dr Irfan Iqbal

06/01/2026

An Old sessiosn..

“طلاق کا داغ نہیں، خودداری کا امتحان — عورت کی اصل جنگ سیلف اسٹیم سے ہے”

بے شمار خواتین آج طلاق کے بوجھ تلے زندگی گزار رہی ہیں؛ یہ وہ بوجھ ہے جو اکثر اُن کی مرضی کے بغیر اُن پر ڈال دیا جاتا ہے، اور بدقسمتی یہ ہے کہ بہت سی خواتین اس بوجھ کو اپنا قصور سمجھ کر عمر بھر اٹھائے پھرتی ہیں۔

اس بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اس کے نیچے جو سانس لینے میں تنگی یا سفوکیشن آپ کو محسوس ہوتی ہے، جس میں آپ کا دم گھٹنے لگتا ہے، وہ دراصل سیلف اسٹیم کی کمی کا نتیجہ ہوتی ہے، طلاق کا نہیں۔

اس زمانے کو، اس دنیا کو، آپ کی طلاق سے کوئی خاص لینا دینا نہیں ہوتا—بالکل بھی نہیں۔ اس جہان اور اس معاشرے کا تعلق میوچول ریلیشن یعنی باہمی مفاد کے رشتے سے ہوتا ہے: آپ اس دنیا کو کیا دے سکتے ہیں، آپ کتنا کارآمد ہیں، آپ کتنا حصہ ڈال سکتے ہیں؛ آپ کی طلاق اس نظام کے لیے کوئی مرکزی مسئلہ نہیں ہوتی۔

کیا کبھی کسی نے آ کر آپ کی جگہ رونا رویا؟ کیا کسی نے آپ کی جگہ کھانا کھایا؟ کیا کوئی آپ کی خاطر رات بھر جاگا؟ نہیں—یہ سب کچھ آپ نے خود ہی کیا ہے اور آئندہ بھی خود ہی کرنا ہوگا، کیونکہ لوگوں کو اس بات سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی کہ آپ کا رشتہ کس معیار پر چل رہا ہے یا نہیں۔

آپ طلاق یافتہ ہیں یا نکاح یافتہ—زمانے کو اس سے کوئی غرض نہیں؛ اسے غرض ہے تو صرف اس بات سے کہ آپ کا اس دنیا کے ساتھ رشتہ کیسا ہے، آپ اس معاشرے کو دے کیا رہے ہیں، اور دوسروں کے مفاد کا تحفظ کس حد تک کر رہے ہیں۔

اگر آج آپ کی سیلف اسٹیم بہتر ہو جائے تو یقین جانیں، آپ کے کم از کم ساٹھ فیصد مسائل وہیں حل ہو جاتے ہیں۔

بدقسمتی سے جس لٹریچر کو آپ نے ادب سمجھ کر پڑھا، وہ دراصل ادب نہیں تھا؛ وہ انسان کو مظلومیت، کم تری، بدنصیبی، قابلِ رحم ہونے اور خود ترسی سکھاتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے بدترین اور گندے جذبات کو ادب کا نام دے کر لکھ دیتے ہیں، انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ ان کا لکھا ہوا کارآمد بھی ہے یا نہیں، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق بنتا بھی ہے یا نہیں، یا اس کے نتیجے میں رشتے اور تعلقات بہتر ہوں گے یا مزید بگڑ جائیں گے۔

جب انسان خود جذباتی طور پر متوازن نہ ہو تو وہ بھلا کیسے کوئی شاندار اور مفید بات کر سکتا ہے؛ بھوکا انسان ہر چیز کو روٹی ہی سمجھتا ہے، وہ سوچتا بھی روٹی کے بارے میں ہے اور منصوبہ بندی بھی اسی کے گرد گھماتا ہے۔

آپ اپنے ماضی کو اچھے، مضبوط خیالات اور شاندار، ذمہ دار ادب سے بدل سکتے ہیں؛ اپنے نظریات پر نظرِ ثانی کیجیے، اپنے نقطۂ نظر کے لیے تحقیق سے ثابت شدہ بات کو دلیل بنائیے، اور اپنے یقین، عقائد اور اقدار کے لیے کسی دور اندیش معلم، استاد یا قابلِ اعتماد مینٹور کے ساتھ تعلق قائم رکھیے—کیونکہ درست رہنمائی ہی اصل شفا کی بنیاد ہوتی ہے۔

06/01/2026

“احساسِ کمتری: وہ خاموش زہر جو انسان کو خود سے دور کر دیتا ہے”

احساسِ کمتری دراصل خود کو دوسروں سے کم تر سمجھنے، کسی نہ کسی محرومی کے احساس میں جینے، اور خاموشی سے خود ترسی میں مبتلا ہو جانے کا نام ہے، یہ کیفیت اکثر اُن تجربات سے جنم لیتی ہے جو انسان زندگی کے مختلف ادوار میں سہتا ہے، کبھی بچپن کے زخموں کی صورت میں اور کبھی جوانی میں کسی بڑے مالی، جذباتی یا رشتوں کے نقصان کے بعد، جہاں انسان آہستہ آہستہ یہ ماننے لگتا ہے کہ شاید وہی اس نقصان کا ذمہ دار تھا یا وہ اسی تکلیف کے قابل تھا۔

کچھ افراد کا ناخوشگوار، نظر انداز کیا گیا یا محرومیوں سے بھرا بچپن اُن کے اندر یہ احساس جما دیتا ہے، جبکہ کچھ لوگ زندگی میں اچانک آنے والے صدمے کے بعد خود کو مسلسل کٹہرے میں کھڑا رکھنا شروع کر دیتے ہیں، ماہرینِ نفسیات کے مطابق خود ترسی اور احساسِ کمتری دماغی کارکردگی، فیصلہ سازی اور صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کرتے ہیں، کیونکہ یہ انسان کی توجہ کو ہمیشہ منفی پہلو کی طرف باندھے رکھتے ہیں اور یوں وہ اپنے اندر اور اپنے اردگرد موجود مثبت امکانات کو دیکھنے سے محروم رہ جاتا ہے، اسی لیے یہ چند عادات اگر آج چھوڑ دی جائیں تو کل کا بوجھ ہلکا ہو سکتا ہے۔

آج میں آپ کو احساسِ کمتری سے نمٹنے کے لیے چند ایسی تجاویز دے رہا ہوں جو وقتی طور پر حاوی ہونے والے محرومی کے احساس کو کم کر سکتی ہیں، البتہ اگر یہ کیفیت بچپن سے چلی آ رہی ہو تو اس کے لیے طویل المدتی حکمتِ عملی اور مستقل مثبت طرزِ عمل اختیار کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

سب سے پہلے اپنی پیٹھ خود تھپکانا سیکھیں، کیونکہ احساسِ کمتری کے شکار افراد کی زندگی میں تعریف کی شدید کمی ہوتی ہے، دن کے اختتام پر اپنے پورے دن پر ایک نظر ڈالیں اور اُن چھوٹے بڑے کاموں کو سراہیں جن کی وجہ سے کسی کا دن بہتر ہوا یا کوئی مسئلہ حل ہوا، یہ بھی یاد رکھیں کہ بعض اوقات آپ ایسے لوگوں میں گھرے ہوتے ہیں جو آپ سے حسد کرتے ہیں اور آپ کی کامیابی پر بھی تنقید کو اپنا فرض سمجھتے ہیں، ایسے میں خود اپنے اچھے کاموں کو محسوس کرنا ضروری ہے، مگر خیال رہے کہ یہ احساس کہیں احساسِ برتری میں تبدیل نہ ہو جائے جو احساسِ کمتری سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ استعمال کو بھی کم کریں، کیونکہ متعدد تحقیقات یہ ثابت کر چکی ہیں کہ دوسروں کی چمک دمک بھری زندگیوں سے مسلسل موازنہ انسان کو اپنی نادیدہ محرومیوں کا احساس دلا دیتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسکرین پر نظر آنے والی ہر مسکراہٹ اصلی نہیں ہوتی، اکثر چہرے فلٹرز کا کمال اور اکثر کہانیاں ادھوری حقیقت ہوتی ہیں، اس لیے اپنی زندگی کا موازنہ کسی اور کی زندگی سے ہرگز نہ کریں۔

اپنی زندگی میں کوئی مشغلہ ضرور شامل کریں، کیونکہ صرف گھر اور دفتر کے درمیان گھومتی ہوئی زندگی انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے، چاہے وہ کھیل ہوں، تخلیقی سرگرمیاں ہوں، کھانا پکانا، باغبانی، یا رضاکارانہ خدمات، ہم خیال لوگوں سے میل جول خیالات میں تازگی اور آگے بڑھنے کے نئے دروازے کھول دیتا ہے۔

غلطیوں سے سیکھنا بھی بے حد ضروری ہے، کیونکہ دنیا کی کوئی عظیم شخصیت ایسی نہیں جس نے ابتدا میں غلطیاں نہ کی ہوں، اصل فرق یہ ہے کہ کچھ لوگ غلطی کو سبق بنا لیتے ہیں اور کچھ اسے عمر بھر کا طعنہ، غلطی کو تسلیم کرنا شخصیت کی پختگی ہے مگر خود کو مسلسل موردِ الزام ٹھہرانا شخصیت کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔

آخر میں یہ بات یاد رکھیں کہ مثبت اندازِ فکر زندگی کے کئی بوجھ ہلکے کر دیتا ہے، ہر نقصان میں کوئی نہ کوئی سیکھ چھپی ہوتی ہے، اور احساسِ کمتری وہ زہر ہے جو انسان کی صلاحیتوں کو خاموشی سے ضائع کر دیتا ہے، اس لیے جتنا جلد ممکن ہو اس سے نجات حاصل کرنا ہی اصل ذہنی آزادی ہے۔

Inferiority complex is not a lack of ability, it is a loss of self-belief—and the moment you reclaim that belief, healing begins.

06/01/2026

An Old session..

دیکھو، بندوق سے گولی خود نکل کر کسی کو نہیں مارتی، نہ ہی کیمرا خودبخود آن ہو کر ویڈیو یا تصویر بنا لیتا ہے؛ ہر ہتھیار کے پیچھے ایک ہاتھ ہوتا ہے، ہر بٹن کے پیچھے ایک ارادہ، بالکل اسی طرح آپ کی زبان بھی خود سے نہیں چلتی، آپ ہی اسے چلاتے ہیں، اور پھر جب الفاظ تیر بن کر کسی کے دل میں پیوست ہو جاتے ہیں تو ہم حیران ہو کر کہتے ہیں: میں نے تو کچھ خاص نہیں کہا تھا—حالانکہ سچ یہ ہے کہ ہم نے وہی کہا ہوتا ہے جو ہمارے اندر پک رہا ہوتا ہے۔

ذرا ایمانداری سے خود سے پوچھیں، کتنے رشتے صرف اس لیے ٹوٹے کہ ہم نے غصے میں سوچے بغیر بول دیا، کتنی محبتیں اس لیے سرد پڑ گئیں کہ زبان نے دل کی تربیت سے پہلے آزادی حاصل کر لی، اور کتنی عزتیں اس لیے خاک میں ملیں کہ ہم نے الفاظ کو قابو میں رکھنے کے بجائے انا کو ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا دیا؛ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم بولتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم کیسے بولتے ہیں، کس لہجے میں، کس نیت کے ساتھ، اور کس وقت۔

یہ بات ذہن میں بٹھا لیں کہ زبان چھوٹی سی چیز ہے مگر اس کے زخم گہرے ہوتے ہیں، یہ وہ چھری ہے جو خون بہائے بغیر بھی قتل کر دیتی ہے، اور وہ مرہم بھی ہے جو برسوں کی اذیت کو ایک جملے میں سمیٹ کر رکھ دیتا ہے؛ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ہماری زندگی میں بہت سی چیزوں کے بگڑنے اور سنورنے میں زبان کا حصہ غیر معمولی طور پر بڑا ہوتا ہے، کیونکہ لفظ صرف آواز نہیں ہوتے، وہ پیغام ہوتے ہیں، وہ نیت کا پوسٹ مارٹم ہوتے ہیں، وہ ہمارے اندر کے انسان کا تعارف ہوتے ہیں۔

اگر آپ اپنی زبان پر ذرا سا کنٹرول سیکھ لیں، تو یقین کریں آدھے سے زیادہ مسئلے ایسے غائب ہو جائیں گے جیسے گدھے کے سر سے سینگ، نہ ہر بات پر وضاحتیں دینی پڑیں گی، نہ ہر ملاقات کے بعد پچھتاوا ستائے گا، اور نہ ہی رات کو یہ سوچ کر نیند اڑے گی کہ کاش میں نے وہ جملہ نہ کہا ہوتا؛ سوچ سمجھ کر بولنا کمزوری نہیں، یہ ذہانت کی علامت ہے، مناسب الفاظ کا انتخاب بناوٹ نہیں، یہ تربیت یافتہ نفس کی پہچان ہے، اور خاموشی اختیار کر لینا ہار نہیں، کئی بار یہی سب سے بڑی جیت ہوتی ہے۔

یاد رکھیں، آپ کی زبان وہ پہلا تعارف ہے جو آپ کسی کو دیتے ہیں، لہٰذا اسے مہذب، شائستہ اور ذمہ دار بنائیں، کیونکہ لفظ واپس نہیں آتے، مگر ان کے اثرات برسوں ساتھ رہتے ہیں۔

06/01/2026

2 years old session..

یہ ہمارا دوسرا سیشن تھا۔ پہلے سیشن میں، حسبِ معمول، میں نے اُس لڑکی کو پورے صبر اور توجہ سے سنا—اس لیے نہیں کہ فوراً حل پیش کیا جائے، بلکہ اس لیے کہ مسئلے کی جڑ تک پہنچا جا سکے، یا کم از کم اُس کی ساخت کو سمجھا جا سکے؛ کیونکہ بعض اوقات مسئلہ وہ نہیں ہوتا جو بولا جا رہا ہوتا ہے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو بولنے والا خود بھی پوری طرح نہیں جانتا۔

لڑکی ماشاءاللہ پڑھی لکھی تھی، ذہین بھی، مگر آپ جانتے ہیں نا—کبھی کبھی ہر انسان، چاہے کتنا ہی سمجھدار کیوں نہ ہو، غلطی کر ہی بیٹھتا ہے۔ میں نے اُسے جذبات کی نفسیات پر خاصی تفصیل سے سمجھایا، بات لمبی ہوتی رہی، سوال آتے رہے، اور میں پوری دیانت داری سے ایک ایک نکتے کا جواب دیتا رہا؛ مگر اس دوران اُس نے دو ایسے سوال پوچھے کہ مجھے ہنسی بھی آ گئی، اور میں نے صاف کہہ دیا کہ ان کا جواب میں ذرا مزاحیہ انداز میں دوں گا، تاکہ بات آسانی سے سمجھ میں آ جائے۔

امیں نے شرارتی لہجے میں کہا :
“جب نئی نئی سیٹنگ ہو—میرا مطلب ہے جب نیا ریلیشن بنا ہو—تو ایسے لگتا ہے جیسے اگلے ہی ہفتے شادی ہو جائے گی۔”

وہ کھلکھلا کر ہنسی، اور میں نے مسکرا کر کہا: دیکھیں، یہ ساری خوشی کسی فلمی معجزے کی نہیں، بلکہ ڈوپامین، آکسیٹوسن، ایڈرینالین، اینڈورفنز اور تھوڑا بہت واسوپریسن کی مہربانی ہوتی ہے۔ دراصل ڈوپامین وہ موڈ انٹینسیفائر ہے جو ہر چیز کو غیر معمولی طور پر خوبصورت، مثبت اور قابلِ تعریف بنا دیتا ہے؛ اینڈورفنز خوشی کا وہ تحفہ ہیں جو جسم خود کو دیتا ہے؛ جب ہگ وغیرہ ہوتے ہیں تو آکسیٹوسن اپنا جادو دکھاتا ہے؛ اور پھر وہی ڈر—جسے آپ شاید محبت سمجھ رہی ہوتی ہیں—ایڈرینالین کے رش سے پیدا ہوتا ہے، جو دل کی دھڑکن کو بھی تیز کرتا ہے اور فیصلے بھی انسان جلدی جلدی کرنے لگتا ہے۔

میں نے کہا: تھوڑی اور تفصیل بتاؤں؟
وہ فوراً بولی: نہیں ڈاکٹر صاحب، میں سمجھ گئی—اور یہ میری غلطی تھی کہ میں نے بات کو ہلکا، مزاحیہ بنا دیا۔

میں نے آخر میں ایک جملہ کہا، جو اکثر لوگوں کو دیر سے سمجھ آتا ہے:
“جب بات آپ کی ذات کی ہو تو اسے سیریس ہی لیا کریں، کیونکہ اگر آپ نے سنجیدگی نہ دکھائی تو مسئلہ ایک نہیں رہتا—مسائل بن جاتا ہے۔”

06/01/2026

Today's session..

When Love Feels Safe
جب محبت خوف کے بغیر سانس لے

محفوظ محبت وہ ہوتی ہے جس میں دل کو ہر لمحہ دفاعی پوزیشن میں نہیں رہنا پڑتا، جہاں انسان اپنی بات کہتے ہوئے لفظ تولنے پر مجبور نہ ہو اور خاموش رہتے ہوئے خود کو سزا نہ دے، کیونکہ جب محبت واقعی محفوظ ہوتی ہے تو انسان سمٹتا نہیں بلکہ پھیلتا ہے، چھوٹا نہیں ہوتا بلکہ بہتر بنتا ہے، اپنے خوابوں کو تہہ در تہہ لپیٹ کر الماری میں بند نہیں کرتا بلکہ انہیں سانس لینے کی جگہ دیتا ہے، خود کو محدود نہیں کرتا بلکہ محفوظ محسوس کرتا ہے۔

ایسی محبت میں غلطی کرنے پر ذلت نہیں ملتی، اصلاح کا موقع ملتا ہے، سمجھایا جاتا ہے، توڑا نہیں جاتا، اور اختلاف کو رشتہ ختم کرنے کی وجہ نہیں بنایا جاتا بلکہ بات چیت کا دروازہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ محفوظ محبت جانتی ہے کہ اختلاف انسانوں کے بیچ فطری ہوتا ہے مگر تذلیل رشتوں کے لیے زہر ہے، وہ زہر جو آہستہ آہستہ اعتماد، سکون اور خودداری تینوں کو مار دیتا ہے۔

محفوظ محبت میں انسان ہر وقت یہ نہیں سوچتا کہ اگر میں نے یہ کہا تو ناراضی ہو جائے گی، اگر میں نے سچ بول دیا تو چھوڑ دیا جاؤں گا، یا اگر میں نے اپنی کمزوری دکھا دی تو میرے خلاف استعمال ہو گی، بلکہ وہاں انسان یہ جانتا ہے کہ وہ جیسا ہے، قابلِ قبول ہے، اس کی رائے سنی جائے گی، اس کے احساسات کو حقیر نہیں سمجھا جائے گا، اور اس کی ذات کو مسلسل صفائی دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

ایک سادہ سا معیار ہمیشہ یاد رکھیں: اگر محبت کے بعد آپ خود کو زیادہ خوددار، زیادہ پُرسکون اور زیادہ سچا محسوس کرتے ہیں تو آپ صحیح جگہ پر ہیں، لیکن اگر محبت آپ کو اپنے ہونے سے ڈرائے، آپ کو چپ رہنے پر مجبور کرے، یا آپ کو یہ احساس دے کہ آپ کم ہیں، ناکافی ہیں، یا قابلِ رحم ہیں، تو سچ یہ ہے کہ وہ محبت نہیں، صرف جذباتی قید ہے۔

اور یاد رکھیں، جو محبت آپ کو خود بننے کی اجازت دے، وہی محبت زندگی کو خوبصورت بناتی ہے، کیونکہ محفوظ محبت انسان کو توڑتی نہیں، جوڑتی ہے، کمزور نہیں کرتی، مضبوط بناتی ہے۔

Safe love doesn’t drain you… it restores you.
— Dr Irfan Iqbal

06/01/2026

Old and important session..
December 2019

زمانے گزر جاتے ہیں، وقت کا پہیہ گھومتا رہتا ہے، بیتی مدتوں کی گرد بھی کچھ واقعات پر دھول ڈالنے میں ناکام رہتی ہے؛ چند قصے، کہانیاں اور واقعات جو بچپن میں پڑھے، دیکھے یا سنے جاتے ہیں، وہ “پتھر کی لکیر” کی طرح ایک نوخیز ذہن پر کندہ ہو جاتے ہیں، اور جب کبھی اُن سے ملتے جلتے واقعات، حادثات یا صورتِ حال پیش آتی ہے تو بچپن کی وہ سب تصویریں پھر سے ذہن میں گھومنے لگتی ہیں۔

آج کا سیشن اُن بہنوں اور بیٹیوں کے نام ہے جو بیگانے گھروں میں، ان دیکھی راہوں پر ماری گئیں؛ جن کی روحیں آج بھی اس دنیا میں بھٹکتی پھرتی ہیں، میرے جیسے نالائق، ناسمجھ، حساس دل اور جذباتی لوگوں کے خوابوں میں آتی ہیں، باتیں کرتی ہیں اور کہتی ہیں: “بھائی، تمہیں تو میری ماں نے پیدا نہیں کیا، مگر پھر بھی بھائیوں سے بڑھ کر لگتے ہو؛ تم ہمارے سر پر ہاتھ رکھو گے؟ ہماری باتیں سنو گے؟ ہمارے درد کو زباں دو گے؟ ہمارے جذبات کو کہانی میں ڈھالو گے؟ ہماری روح کی اذیتوں کا ذکر کر کے زمانے کو بتاؤ گے کہ ہم بُری نہیں تھیں؟ ہمارے ذہنی کرب کو اپنے اندر سمو لو گے؟” بے شمار قصے ہیں، ان گنت کہانیاں ہیں، کئی بے چین راتیں ہیں، کپڑوں سے زیادہ بستر کی سلوٹیں ہیں، بے کلی کے عالم میں راتوں کے پچھلے پہر سنسان راستوں پر اٹھائے گئے بے شمار قدم ہیں، ایک بے انتہا اداسی کا سمندر ساتھ چلتا ہے، اور انگنت “چینی کے بغیر بلیک کافی” کے پیے گئے مگز کا ذکر ہے…
“میری آنکھوں سے جو جواب دیکھو تو ایک رات بھی نہ سو سکو گے…”

وہ پچیس سالہ نوجوان لڑکی، جس کی شادی کو ڈیڑھ سال بیت چکا تھا، ایک بڑی سی چادر میں ملبوس، شرم و حیا کا پیکر، میرے سامنے نظریں جھکائے بیٹھی تھی؛ کہنے لگی: “ڈاکٹر صاحب، مجھے اپنا مسئلہ کہتے ہوئے بہت شرم آ رہی ہے، میرے پاس الفاظ نہیں کہ کیسے بتاؤں، لفظوں کا چناؤ مشکل ہو گیا ہے، دو ماہ سے ہمت جمع کر رہی تھی، بہت سوچا بھی، مگر اب ہمت جواب دے گئی ہے…”
میں نے پینسل اور کاغذ آگے بڑھا دیا: آپ اپنا مسئلہ لکھ دیں، یا بس ایک لائن لکھ دیں؛ باقی میں پوری کوشش کروں گا کہ آپ کم بولیں اور میں زیادہ بات کروں۔

اُس نے ایک فقرہ لکھا: “میرا شوہر ازدواجی حق ادا نہیں کرتا، اس بات کو ایک سال ہو چکا ہے، شادی کے پہلے چھ ماہ بھی بس ٹھیک ہی تھے۔”
بظاہر یہ ایک فقرہ ہے، مگر جو اسے سہہ رہا ہو اُس کے لیے یہ کسی اذیت سے کم نہیں—ایک بہت بڑی اذیت؛ اس سے انسان میں احساسِ محرومی، تذلیل اور اپنے اندر بے شمار کمیوں کا احساس جنم لیتا ہے، اور ایک ڈاکٹر کے لیے اس ایک جملے میں ایک نہیں، کئی کہانیاں چھپی ہوتی ہیں۔

میں نے نہایت نرم لہجے میں، آنکھیں ڈائری پر جمائے کہا: میڈیکل اور شریعت میں جنسی مسائل پر بات کرنا معیوب ہے نہ گناہ؛ ہم یہاں مسئلہ حل کرنے آئے ہیں، آپ میرے سوالوں کے جواب دیجیے، میں کوشش کروں گا کہ سوال کم سے کم ہوں اور مناسب الفاظ میں پوچھے جائیں۔
تیس منٹ بات ہوتی رہی؛ کچھ باتیں یہاں بیان نہیں کر سکتا، کیونکہ پیج پر بہت سے نوجوان اور غیر شادی شدہ بہنیں ہیں، اور ہر بات کو “بولڈلی، اوپنلی” لکھ دینا مناسب نہیں؛ کچھ چیزیں حیا کے دائرے میں ہی اچھی لگتی ہیں، ورنہ انسان اور جانور میں فرق باقی نہیں رہتا۔

وہ لڑکی بولتی رہی اور میرا ذہن ہزاروں میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مجھے بچپن میں لے جاتا رہا—بائیس، تئیس برس پیچھے، جب عمر کچی تھی اور بہت سی باتیں سمجھ سے باہر تھیں…
“** کی بیوی نے خودکشی کر لی…”*
عجیب لوگ، ہزار منہ اور دس ہزار باتیں۔ ہمارے محلے کے ایک لڑکے کی شادی ہوئی؛ چار پانچ ماہ بعد گھر میں مسائل شروع ہو گئے، ہر دوسرے دن لڑائی، لڑکی ناراض ہو کر میکے چلی گئی؛ والدین آئے، محلے کے بزرگ بلائے گئے، محفل جمی، حقے کے کش لگے، چائے چلی، لڑکی کو بلایا گیا اور پوچھا گیا: “پُتر، کیا مسئلہ ہے؟” ایک پہلو سے یہ سب درست تھا، مگر لڑکی کے نقطۂ نظر سے نہایت غلط—ہماری بدقسمتی کہ ہمیں کوئی نہیں سکھاتا کہ جذبات کا اظہار کیسے کیا جائے، اپنا مدعا کیسے بیان کیا جائے، بات ڈھنگ سے کیسے کہی جائے، احساسات کو لفظوں کی زبان کیسے دی جائے۔

وہ بےچاری خاموش رہی؛ سب نے باری باری پوچھا، آخر سر جھکا کر بولی: “میرا شوہر ازدواجی حق ادا کرنے سے قاصر ہے…”
سب کے منہ بند ہو گئے، حقے کی گڑگڑاہٹ رُک گئی، چائے کے کپ جہاں تھے وہیں رہ گئے؛ سمجھایا گیا کہ “شادی ہر روز نہیں ہوتی، بہت خرچ ہوتا ہے، رسوائی ہو گئی، سب ٹھیک ہو جائے گا…” سب سیانے تھے، سب عقلِ کل—مگر کون سمجھاتا کہ اگر شادی میں ازدواجی حق ادا نہ ہو تو یہ رشتہ کسی کام کا نہیں رہتا؛ لڑکی اور لڑکا اپنے اپنے والدین کے گھروں میں اکیلے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔

محفل برخاست ہوئی؛ سب سو گئے، کسی نے نہ دیکھا کہ اُس بیٹی کے ذہن پر اذیتوں کا بوجھ ہے، غم و الم کی سیاہی اُسے لپیٹ رہی ہے؛ کوئی تھا ہی نہیں جو دیکھتا، محسوس کرتا، سمجھتا، سنتا…
“میں نے اُسے کبھی دیکھا بھی نہیں، مگر وہ آج بھی کبھی کبھار میرے خواب میں آتی ہے، بہت سی باتیں کرتی ہے…”
اگلی صبح اُسے جگایا گیا تو وہ نہ اٹھی؛ وہ اس جہانِ فانی کو چھوڑ کر بہت دور جا چکی تھی—سیانوں، سسرال اور اُس لڑکے کی پہنچ سے دور—اور سامان، روپے پیسے سب ایک تماچے کی طرح معاشرے کے منہ پر مار کر جا چکی تھی۔ میرا کچا ذہن، لڑکپن کا دور، باتوں کی ضربیں…

میں نے ذہن کو قابو کیا اور اسلام آباد کے ہسپتال میں واپس آیا؛ کمرے میں وہ لڑکی اور میں تھے، اُس کے ہاتھ کا لکھا کاغذ پنکھے کی ہوا سے پھڑپھڑا رہا تھا۔ ضروری باتیں سمجھا کر، مشورے دے کر میں نے اُس بہن کو رخصت کیا اور کرسی پر ٹیک لگا کر سوچنے لگا: کب تک—آخر کب تک—ہماری بیٹیاں اور بہنیں کسی جرم کے بغیر ایسی کڑی سزائیں پاتی رہیں گی؟

دیکھیے، آپ مرد ہوں یا عورت، شادی کے بعد ہم بستری ایک نارمل عمل ہے جس سے انسان لطف لیتا ہے اور نسل کا ارتقا ہوتا ہے؛ جنسی خواہش فطری ہے، میڈیکل سائنس ثابت کرتی ہے کہ جنسی عمل سے دماغ میں ہارمونز خارج ہوتے ہیں، خوشی ملتی ہے، اسٹریس اور ڈپریشن کم ہوتے ہیں، قوتِ مدافعت بڑھتی ہے، انسان ذہنی و جسمانی طور پر ریلیکس ہو جاتا ہے—یوں سمجھیں کہ بیٹریاں ری چارج ہو جاتی ہیں۔ قرآن کے اردو ترجمے میں بھی اس حق کا ذکر ہے؛ ادا نہ کرنے پر گناہ ہے اور جواب دہی لازم۔

میں نے کافی کا گھونٹ بھرا اور سوچا: کب ہمارے والدین ہمیں اتنا ایجوکیٹ کریں گے کہ ہم اپنی جائز بات ہر پلیٹ فارم پر اعتماد کے ساتھ، بغیر خوف اور دباؤ کے کہہ سکیں؟
اور والدین سے گزارش ہے: خدارا بیٹی کو اتنا پراعتماد بنائیں کہ وہ لاکھوں کے مجمع میں بھی اپنی بات کہہ سکے؛ اتنا ایجوکیٹ کریں کہ ضرورت پڑے تو خود کو افورڈ کر سکے؛ اُسے یہ احساس نہ دلائیں کہ وہ کمزور “اسپیشی” ہے—عورت جتنی دیکھنے میں کمزور لگتی ہے، وہ اتنی ہی جذباتی طور پر مضبوط ہوتی ہے۔

06/01/2026

An old session..
January 2020

حصہ اوّل

ایک دلچسپ سیشن، یہ سیشن اُن لوگوں کے نام جو شادی سے ڈرتے ہیں، خاص طور پر لڑکیاں۔

جیٹ بلیک جینز پہ ہلکا گلابی لمبا کوٹ پہنے اور گلےکے گرد بھی گلابی رنگ کا سکارف لپٹے وہ بہت گریس فل لگ رہی تھی، مشہور و معروف یونیورسٹی سے ایم فل کر چکی ہیں اور ایک اچھے عہدے پہ فائز ہیں۔

کہنے لگیں ڈاکٹر صاحب، میں نے آٹھ ماہ آپ پہ ریسرچ کی ہے، ایک بات بتاتی چلوں میں اُردو میں لکھنے والوں کو بہت کم پڑھتی ہوں، آپ کا پیج ، پیج کے نام کی وجہ سے لائک کیا تھا مگر اُردو کی پوسٹس دیکھتی تھی تو نظر انداز کر دیتی تھی، دو ہفتے پہلے تین سیشنز کو نہ چاہتے ہوئے بھی پڑھ بیٹھی، پھر جب جب وقت ملتا میں پیج پہ موجود سیشنز پڑھتی، شروع میں مِیں تنقیدی نظر سے پڑھتی تھی کہ کہیں کوئی ایسا پوائنٹ ملے کہ میں آپ پہ تنقید کر سکوں آپ سے اختلاف کر سکوں مگر آپ کی نئے سال پہ کتابوں والی پوسٹ نے مجھے رُلا دیا، میں جو خودکو بہت مضبوط خیال کرتی تھی، اُس لڑکی کو آپ کے الفاظ نے رُلا دیا، جو آپ پہ تنقید کرنے کے لئے پوائنٹس ڈھونڈتی رہی، اُس کو آپ نے گرویدہ کر لیا، وہ رکی ایک گہرا سانس لے کر اپنی بات جاری رکھتے ہوئے۔۔

کہنے لگی، ”میں بھی کُند ذہن تھا۔۔ سے لے کر آخر تک اُس پوسٹ نے میرے عقائد کو بدل کر رکھ دیا، میں نے وہ پوسٹ تین بار پڑھی، ایک فقرہ میں نے اپنی ڈائری میں لکھا ”میرے بابا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ پاک نے میرے ذہن میں انسانیت کا ایسا بیج بویا جو ایک تناور درخت بن چکا ہے۔۔“ یہ میری زندگی کا سب سے بہترین فقرہ تھا۔۔ اور سوچتی رہی کہ میں کتنی بے وقوف ہوں، کم عقل ہوں جس نے اپنی فیلڈ میں ایم فل کیا اور خود کو ذہین، فطین ڈکلیئر کرلیا، اپنے ہر فیصلے کودرست اور دوسروں کو غلط سمجھا، اپنی ”مِیں“ کو سب سے آگے رکھنا شروع کر دیا، لوگوں کو تنقیدی نگاہوں سے دیکھنے لگی تھی، روڈ پہ گاڑی چلاتے ہوئے دوسروں کو غلط اور خود کو ”ہمیشہ“ سے ٹھیک سمجھتی تھی، کبھی کسی سے یہ نہیں کہا تھا کہ میری غلطی ہے۔۔ وہ بولتی رہی میں سنتا رہا، کبھی کبھی وہ بھیگی آواز میں بولتی اور کبھی اپنے آپ پر طنزیہ ہنسی ہنس کر بات کرتی۔

میں نے اُن کتابوں میں سےدو کتابیں دوسرے دن خریدیں اور پڑھنا شروع کردیں، میں جیسے جیسے پڑھتی جاتی مجھے آپ ”اُستاد“ محسوس ہوتے جاتے ، ایسا اُستاد جس نے مجھے زندگی کے اُن پہلوؤں سے روشناس کروایا جن کے بارے میں مِیں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا، جس پہ میرے حلقہ احباب میں کبھی بات بھی نہیں ہوتی تھی، دو ہی دنوں میں آپ میرے روحانی باپ بن گئے، آپ کا بار بار کہنا کہ معاف کرنا سیکھیں، اپنی ذات پہ کام کریں، زندگی کو گزاریں نہیں جیئں، میں نے جھوٹ بولا تھا کہ میں بہت بیمار ہوں، شروع سے ہی مجھے ہر چیز میرے ایک بار کہنے پر مجھے مہیا کردی جاتی تھی تو سوچ میں جب چاہوں آپ سے مل لوں مگر جب ایک ہفتے بعد کا وقت ملا تو مجھے شروع میں غصہ آیا پھر میں نے جھوٹ کا سہارا لیا، میں بس آپ سے ملنا چاہتی تھی، وہ رکی اور مجھے غور سے دیکھ کر کہنے لگی ”ڈاکٹر صاحب، میری ساری باتیں لکھئے گا، میں جانتی ہوں کہ آپ سیشنز کی بہت ساری باتوں کو حذف کر جاتے ہیں، مگر میں اس سیشن کا ”اپرول“ اُس وقت دوں گی جب ساری باتیں لکھی ہوں گی۔

میں نے بیس منٹ بعد پوچھا اچھا یہ بتائیے کہ بس یہی وجہ تھی ملنے کی؟
کہنے لگی ایک اور بھی وجہ ہے ملنے کی، وہ ایک دم سے بے حد سنجیدگی سے کہنے لگی۔
میں نے نرم لہجے میں پوچھا تو بتائیے کہ کیا بات ہے؟

اُس نے ایک لمبی سرد آہ بھری اور کہنے لگی ”میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔“
اتنا کہہ کر وہ چُپ ہو گئی، ہمارے درمیان ایک لمبی خاموشی تھی ایسی خاموشی جیسے سردیوں کی لمبی راتوں میں ہوتی ہے، جب ہر طرف دھُند چھائی ہو اور آپ کے کمرے میں لگی گھڑی کی ٹک ٹک اپنے دل کی دھڑکن کے ساتھ چلتی محسوس ہو رہی ہو اور دور کہیں کہر میں کتے بھونکتے سنائی دے رہے ہوں۔۔

میں نے خاموشی کی گہری جھیل میں ایک چھوٹا سا پتھر پھینکا ”کافی لیں گی؟“
اُس نے تھوڑا مسکرا کر سر ہلا دیا۔
کافی سروؤ کر دی گئی، میں نے کافی کی دلکش مہک کو سونگھا اور پوچھا شادی نہ کرنے کی کوئی خاص وجہ؟

اُس نے سر اُٹھا لر مجھے دیکھا اور کہنے لگی،ایک نہیں بے شمار وجوہات ہیں،اُس نے مضبوط لہجے میں کہا۔۔
اچھا تو چند وجوہات بتا دیجیئے میں نے کافی کے دو گھونٹ بھر کر کہا۔

ڈاکٹر صاحب، میں نے گھر میں اپنے ماں باپ کو لڑتے دیکھا ہے، میری دوست کی شادی ہوئی وہ اپنے شوہر کی برائیاں کرتی رہتی ہے، اپنی جاب والی جگہ پر بھی دیکھا کہ لڑکیاں بتاتی ہیں کہ شادی ایک مصیبت ہے، خاوند یہ کرتا ہے وہ کہتا ہے، سسرال والے ایسے ہیں، وہ بہت ظلم ہیں، میری کزنز کہتی ہیں کہ شوہر ظلم ہوتا ہے،ڈرامہ دیکھوں تو بھی یہی دیکھایا جا رہا ہوتا ہے، کبھی اخبار پڑھ لوں تو اُس میں بھی یہی سب پڑھتی ہوں، دو تین کولیگز بتاتی ہیں کہ شوہر سیلری تک لے لیتے ہیں اور اپنے ہی پیسے مانگنے پڑتے ہیں، وہ سرد لہجے میں بولتی جارہی تھی۔

شادی میں یہی سب ہونا ہے تو پھر میں اکیلی ہی بہتر ہوں نا، مجھے کیا ضرورت کسی کی،نہ کسی کو سیلری دوں گی نہ کوئی مجھ پہ ظلم کر ے گا،نہ کوئی باتیں سنائیے گا اور نہ ہی لڑائی ہو گئی، وہ طنزیہ سے لہجے میں بولتی جارہی تھی۔۔
جب وہ اپنی باتیں کہہ کر خاموش ہو گی۔

دیکھیں جی، ہم انسان بہت عجیب اور بہت منافق بھی ہیں جانتی ہیں کیوں؟
کیونکہ ہم لوگ ”دکھ کی گھڑیاں مہنگی چیزوں کی طرح سینت سینت کے رکھتے ہیں اور سوکھوں کے موسموں کی قدر نہیں کرتے۔۔“

آپ کی بہت دفعہ اپنے بہن بھائیوں سے بحث اور لڑائی بھی ہو ئی ہو گی، ایک دوسرے کو عجیب و غریب ناموں اور لقبات سے بھی نوازہ ہوگا،چند دن بول چل بھی بند رہی ہو گی پھر کچھ دن بعد سب ایسے بات کر رہے ہوں گے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

آپ ایک بات نوٹ کیجیئے گا کہ زیادہ تر شادی شُدہ لوگ آپ کو شکوے، شکایات کرتے نظر آئیں گے، رونے روئیں گے کہ بہت مسئلے ہیں، شادی عجیب چیز ہے، ہمیں پتہ ہوتا تو ہم شادی نہ کرتے، اپنے شریکِ حیات کی برائیاں کررہے ہوں گے اور یہ ثابت کرنے پہ تُولے ہوں گے کہ وہ بہت مظلوم، ویکٹم اور بہت معصوم ہیں۔

اب دوسرا پہلوؤ دیکھیں گئی تو حیران رہ جائیں گئیں، یہ جو لوگ رونے روتے ہیں شکوے شکایات کرتے ہیں اُن کے سامنے آپ کسی کی بیوی یا شوہر کی تعریف کر دیں تو یہ اپنے شریکِ سفر کی تعریف میں آسمان اور زمین ایک کر دیں گے اُن کو ایسے پیش کریں گے جیسے اُن جیسا پوری دنیا میں کوئی نہیں اور وہ اُن کے بغیر رہ نہیں سکتے، میں نے دھیمے لہجے میں کہا تو لڑکی مسکرائی اور کہنے لگی۔۔

بلکل ٹھیک کہا آپ نے، میں یہ تضاد بہت دفعہ دیکھ چکی ہوں، وہ بہت دفعہ سوچا بھی کہ ایسا کیوں کرتے ہیں، ایک طرف شادی کو ساری اذیتوں تکلیفوں کی جڑ قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف شریکِ سفر کی اتنی تعریف بھی کرتے ہیں۔

دیکھیئے، ہم لوگ ذرا سی تکلیف یا دکھ پہ منہ پھاڑ کر رونے روتے ہیں مگر سوکھ اور چین کے دنوں میں تھوڑی سی اُونچی آواز میں ”شکر الحمد اللہ “ یا اس بارے میں بات تک نہیں کرتے۔

اب میں آپ کو ریسرچ بتاتا ہوں کہ یہ سب آپ کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور آپ شادی سے کیوں بھاگ رہی ہیں۔

بچپن سے آپ نے ماں باپ کے منہ سے شادی کے بارے میں سُنا ہو گا کہ ”اچھا تھا تم سے شادی کرتا/کرتی۔
اُس کے بعد آپ نے اپنے ”شتر بے مہار“ میڈیا پہ یہ سب سنا، کالج اور یونیورسٹی میں پھر ورکنگ پلیس پہ۔

آپ نے یہ سب اتنی بار سنا کہ یہ سب آپ کے لا شعور کا حصہ بنا چکا ہے اور اب آپ لاشعوری طور شادی سے انکار کر رہی ہیں،یہ سب آپ کا لا شعور روا رہا ہے۔

شادی شُدہ لوگ کبھی بھی آپ کو ”خوبصورت لمحات“ کے بارے میں نہیں بتاتے کہ میں نے شریکِ سفر کے ساتھ بہت انمول ، یادگار اور بے حد دلچسپ لمحات گزارے ہیں، ان کے بارے میں بات کرتے وقت لوگوں کو شرم آتی ہے حالانکہ کے شرم اُس وقت آنی چاہے جب وہ اپنے شریکِ سفر کی غیب کر رہے ہوتے ہیں۔

میاں بیوی کے درمیاں تعلق صرف ”ہمبستری“ ہی نہیں ہوتا، اُن کا تعلق جذبات، احساسات، دوستی، پیار، چاہت اور محبت والا ہوتا ہے۔
یوں کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کی ساری زبانوں میں اور انسان کے اندر جیتنے اچھے جذبے ہیں وہ والا رشتہ ہوتا ہے۔

ہمارے گھروں، سکولوں، کالجوں اور نہ یونیورسٹیوں میں اس رشتے کے بارے میں بتایا جاتا ہے، نہ سیکھایا جاتا ہے اور نہ ہی اس کے مثبت پہلوؤں کو اُجاگر کیا جاتا ہے۔

دیکھیں، ایک انسان کام سے تھکا ہارا گھر کو لوٹتا ہے تو اُس کو گرم گرم کھانا، ایک اچھی چائے کی پیالی، پُر جوش اور خوبصورت مسکراہٹ بھرا استقبال میں ملتا ہے تو اُس انسان کے تاثرات کیا ہوں گے اُس کی ذہنی کیفیت کیا ہو گی؟
آپ سوچیئے گا ضرور۔

ایک انسان زندگی کے مسئلوں سے یہ روزمرہ کی ”ٹینشن“ سے گھبرا جاتا ہے، کہیں آنا جانا ہو، کچھ خریدنا ہو، باہر کے لوگوں سے ڈیلنگ کرنی ہو تو ایسے میں ایک انسان آپ کے کہے بغیر آپ سے بہت پیار بھر لہجے میں کہے ”پریشان مت ہو، میں ہوں نا“ اور آپ کے ساتھ مل کر سارے کام کروا دے تو کیسا محسوس ہو گا؟

انسان اپنی زندگی کی بہت ساری باتیں اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور دوستوں یاروں سے نہیں کہہ پاتا،وہ باتیں پوری دنیا میں انسان صرف اور صرف اپنے شریکِ حیات سے ہی کہتا ہے۔

یہ سب کچھ جو آپ سوچتی ہیں کہ شوہر ظالم ہوتا ہے، سسرال میں تو ”ایسا ہونا ہی ہوتا ہے“ نندیں بُری ہیں اور آپ پہ ظلم ہو گا یہ سب منافق لوگوں اور آپ کے میڈیا کا کیا دھرا ہے، یہ سب عقل سے پیدل لکھنے والوں کا قصور ہے،یہ سب اُن لوگوں نے کیا ہے جو اپنے دکھ کا بدلہ دوسرے لوگوں سے لیتے ہیں، یہ سب اُن کی کارستانی ہے جو اپنی واہ واہ کے چکر میں اس رشتے کو بُرا بنا کر پیش کرتے ہیں،میں نے نرم لہجے میں آخری بات کر کے سیشن ختم کر دیا۔

06/01/2026

روسی ادب کے آسمان سے سب سے چمکدار ستارے کی روشنی سے ایک کرن۔۔

”لیو ٹالسٹائی“ میرے ”موسٹ فیورٹ ادیبوں“ میں سے ہیں، یہ وہ واحد ادیب ہیں جن کی تصویر ایک مدت سے میں نے اپنے فون میں محفوظ کر رکھی ہے۔

سیکھنے والے کہیں سے بھی سیکھ سکتے ہیں، اگر بات ادب کی ہو بات عزتّ و تمیز کی ہے، آپ یہ واقعہ پڑھیں اور اپنی اصلاح کیجیئے۔

”‏معروف روسی مصنف و ناول نگار “لیو ٹالسٹائی” نے ایک دن غلطی سے کسی کے پاؤں پر پاؤں رکھ دیا
اُس شخص نے خوب گالیاں دیں
جب وہ خاموش ہوا
تو ٹالسٹائی نے احتراماً سر سے کیپ اتار کر معذرت کی اور کہا کہ میں ”ٹالسٹائی“ ہوں۔
وہ شخص شرمندہ ہوا اورکہا کہ
کاش آپ پہلے اپنا تعارف کرواتے
‏ٹالسٹائی نے کہا کہ
آپ اپنا تعارف کروانے میں بہت مصروف تھے اس لئے مجھے موقع ہی نہیں ملا۔“

06/01/2026

Today’s Session…

"Secure Attachment — جہاں رشتہ خوف نہیں، اعتماد سے جُڑتا ہے"

Secure attachment
وہ کیفیت ہے جس میں انسان قربت سے نہیں گھبراتا اور تنہائی سے بھی بکھرتا نہیں؛ وہ جانتا ہے کہ محبت مانگ کر نہیں ملتی، بلکہ محفوظ ہو کر ملتی ہے، اسی لیے وہ رشتے میں رہتے ہوئے بھی خود کو کھو نہیں دیتا اور اکیلا ہوتے ہوئے بھی خود سے ٹوٹتا نہیں، کیونکہ اس کی بنیاد خوف پر نہیں بلکہ اعتماد پر رکھی ہوتی ہے۔
محفوظ وابستگی والے رشتوں میں سوال دھمکی نہیں بنتے، فاصلہ سزا نہیں ہوتا، اور اختلاف تعلق کے خاتمے کی وارننگ نہیں بن جاتا؛ یہاں بات کرنے کی اجازت مانگنی نہیں پڑتی، وضاحت جرم نہیں سمجھی جاتی، اور خاموشی کو بے وفائی کا ثبوت نہیں بنایا جاتا، بلکہ یہ مانا جاتا ہے کہ کبھی کبھی خاموش رہنا بھی تعلق کو زندہ رکھنے کا ایک باوقار طریقہ ہوتا ہے۔
Secure attachment
کی ایک بڑی اور واضح نشانی یہ ہے کہ انسان کو مسلسل یقین دہانی کی بھیک نہیں مانگنی پڑتی؛ وہ ہر لمحہ یہ ثابت کرنے پر مجبور نہیں ہوتا کہ وہ قابلِ محبت ہے، وہ جانتا ہے کہ محبت وہاں بھی قائم رہتی ہے جہاں وقتی فاصلے آ جائیں، مصروفیت بڑھ جائے، یا الفاظ کم ہو جائیں، کیونکہ اصل تحفظ وعدوں کے شور میں نہیں بلکہ رویّوں کے تسلسل میں ہوتا ہے۔
اگر کسی رشتے میں آپ کو بار بار اپنے ہونے کا ثبوت دینا پڑے، اپنی قدر سمجھانی پڑے، اپنی جگہ بچانے کے لیے خود کو چھوٹا کرنا پڑے، تو سمجھ لیجیے وہ attachment نہیں بلکہ ایک مسلسل امتحان ہے، جہاں انسان جیتنے کے باوجود ہارتا رہتا ہے اور ہارتے ہارتے خود سے بدظن ہو جاتا ہے۔
یاد رکھیں، محفوظ وابستگی کسی ایک شخص کا کمال نہیں ہوتی؛ یہ دو باشعور انسانوں کا مشترکہ فیصلہ ہوتی ہے، جہاں دونوں یہ طے کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو خوف نہیں دیں گے، غیر یقینی میں نہیں رکھیں گے، اور محبت کو سزا اور انعام کے نظام میں تبدیل نہیں کریں گے، کیونکہ محفوظ رشتہ انسان کو پُرسکون بناتا ہے، محتاج نہیں۔
Secure attachment feels calm, not consuming.
— Dr Irfan Iqbal

06/01/2026

DAY 23 — اپنی عزت کریں

کھل کر ہنسیں، مگر اس ہنسی میں اپنی قدر کو شامل رکھیں؛ محبت کریں، مگر محبت کے نام پر خودداری گروی نہ رکھیں، یاد رکھیں کہ جو انسان خود کو ہلکا کر کے کسی کو خوش کرتا ہے وہ وقتی تالیاں تو پا لیتا ہے مگر دیر سے یہ سمجھ آتا ہے کہ اس نے اپنی ہی روح کو خاموش کر دیا تھا۔

زندگی میں سب سے مہنگی چیز لوگوں کی رائے نہیں بلکہ اپنی عزتِ نفس ہوتی ہے؛ یہ وہ سرمایہ ہے جو ایک بار ٹوٹ جائے تو دنیا کے سارے رشتے بھی اسے جوڑنے سے قاصر رہتے ہیں، اور میں نے کلینک میں ایسے چہرے دیکھے ہیں جو ہنستے ہوئے آئے مگر اندر سے مکمل ٹوٹ چکے تھے—صرف اس لیے کہ انہوں نے ہر جگہ خود کو جھکا دیا تھا اور کبھی حد مقرر نہیں کی تھی۔

یاد رکھیں، جھکنا اخلاق ہے مگر ٹوٹ جانا کمزوری نہیں بلکہ نادانی ہے؛ آپ کا نرم ہونا آپ کی طاقت ہے، لیکن ہر کسی کے سامنے نرم پڑ جانا آپ کے زخموں کو دعوت دینا ہے، اور جو لوگ آپ کو صرف اسی وقت پسند کرتے ہیں جب آپ خود کو نظر انداز کریں وہ کبھی آپ کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔

اپنی ذات کے گرد خاموش سرحدیں کھینچنا سیکھیں؛ ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں، ہر الزام کا دفاع کرنا فرض نہیں، اور ہر رشتے کو اپنی قیمت پر نبھانا دانائی نہیں ہوتی، کیونکہ خودداری شور نہیں مچاتی بلکہ خاموشی سے یہ اعلان کرتی ہے کہ “یہاں تک—اور اس سے آگے نہیں۔”

محبت وہاں خوبصورت ہوتی ہے جہاں عزت محفوظ ہو، جہاں آپ کو بار بار اپنی قدر ثابت نہ کرنی پڑے، جہاں آپ کی خاموشی کو ضد نہیں بلکہ سمجھا جائے؛ ایسا رشتہ دل کو سکون دیتا ہے، ورنہ محبت کے نام پر خود کو مٹا دینا کوئی عظمت نہیں۔

آخر میں بس ایک سچ: جو شخص اپنی عزت کرنا سیکھ لیتا ہے وہ اکیلا نہیں ہوتا بلکہ محفوظ ہو جاتا ہے، اور محفوظ انسان زندگی کے ہر موڑ پر سیدھا کھڑا رہتا ہے—چاہے ساتھ کوئی ہو یا نہ ہو۔

Address

Grafton Street
Dublin

Telephone

+92518467276

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mental Health - Psychiatry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category