Ayush health and wellness center taper patan

Ayush health and wellness center taper patan ALL TYPES OF UNANI AYURVEDIC HERBAL MEDICINE AND REMEDIES AVAILABLE AVAILABLE STOCK

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE Call freely or what's app on 7780904881-9906801351ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE PATTANATZ ONLI...
20/01/2026

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE

Call freely or what's app on
7780904881-9906801351

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE PATTAN

ATZ ONLINE INSURANCE OFFICE
All types of vehicle insurance available bike🚲 car 🚘bus 🚍truck🚛 sumo tipper taxi 🚕tractor🚜
Full insurance and third party insurance available from all companies
24x7 online service available
Complete online facilities available
Online inspection
Online insurance policy
Online claims

Online payment
Need not to disturb your schedule get zero dip bumper to bumper insurance comprehensive insurance and third party insurance easily

Travel✈️️ insurance
Health insurance
Life insurance available
House🏠 shop building🏢 insurance available
Transportation insurance of goods
Cattle cow🐄 sheep 🐑poultry insurance available
Please call freely on 7780904881-9906801351-6006049571
Just click link to connect on what's app

https://whatsapp.com/dl/
https://advisor.turtlemint.com/profile/217310/ATZ_INSURANCE_ONLINE_OFFICE

https://www.pbpartners.com/v2/partner/IP132572

28/10/2025

Qoute of the day

ایک سبق آموز دلچسپ واقعہ:
کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں ایک قاضی تھے جن کا نام نور الدین تھا۔ وہ اپنی عقلمندی، سمجھداری اور حکمت کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ جو اپنے مالکوں اور مظلوموں کے حق میں ہونے والے ظلم کو دور کرنے میں کام آتے تھے۔ اس کے بعد اس نے ایک مقدمہ حل کیا جو بہت ہی کھٹن مقدمہ تھا۔۔۔۔
کہ دو آدمی ایک دوسرے کے پڑوس میں رہتے تھے۔ ان میں سے ایک نیک دل تھا اور دوسرا چلاک تھا۔ لیکن نیک دل پڑوسی اس بات سے بے خبر تھا۔ کہ اسکا پڑوسی مکار اور دھوکے باز ہے۔ ایک دن چلاک پڑوسی ایک مصیبت میں پڑ گیا اسکے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ تو وہ اپنے پڑوسی کے گھر قرض مانگنے گیا۔ لیکن وہاں اسے کچھ نہ ملا۔ حالانکہ کے اسکے پڑوسی کی بیوی نے اسے بتایا کہ اسکا شوہر صبح سے کام پر گیا ہے۔ اور ابھی تک لوٹا نہیں۔ تو وہ پڑوسی سیدھے اپنے پڑوسی کی طرف سیدھے اس کے کام پر چل پڑا۔ چلتے چلتے اسے اپنا پڑوسی کام سے لوٹتے وقت دیکھائی دیا۔۔۔۔۔۔
اس نے اسے روکا اور کہا۔ کہ میں بہت سخت مصیبت میں ہوں۔ مجھے دو ہزار درہم قرض دے دو۔ تو نیک دل پڑوسی نے بنا کسی ڈر کے اسے ایک اچھا قرض دینے کا ارادہ کیا۔ پاس ہی ایک کجھور کا درخت تھا۔ نیک دل پڑوسی نے اسے کہا کہ کل انشاءاللّٰہ میں دو ہزار درہم کا انتظام کر دوں گا۔ تم سے یہی اس کجھور کے درخت کے پاس ملاقات ہو گی۔ اگلے دن نیک پڑوسی وعدے کے مطابق وہاں پہنچا اس نے دو ہزار درہم اکٹھا کر کے اپنے پڑوسی کو دے دئیے۔ بدقسمت پڑوسی نے کہا میں یہ رقم تین مہنوں میں لوٹا دوں گا۔ نیک دل پڑوسی نے کسی قسم کی شرط یا ثبوت نہیں لیا۔۔۔۔
تین مہنے بعد نیک دل پڑوسی اپنے پڑوسی سے دو ہزار درہم لینے گیا۔ مگر وہ پڑوسی صاف مُکر گیا۔ نیک دل پڑوسی حیران رہ گیا۔ نیک دل پڑوسی نے اپنے دل میں سوچا کہ ہم ایسے دور میں پہنچ گئے ہیں۔ جہاں بھلائی کو برائی سے لوٹا جاتا ہے اور برائی کو بھلائی سے لوٹا جاتا ہے۔ مگر نیک دل پڑوسی کو نور الدین قاضی کی انصاف پسندی اور مضبوط ضمیر کا علم تھا۔ اس نے سوچا اس معاملے کا فیصلہ عدالت میں ہونا چاہیے۔۔۔۔۔
نیک دل پڑوسی اپنے پڑوسی کی شکایت لے کر عدالت پہنچ گیا۔ جب اس نے قاضی نورالدین کے سامنے اپنا سارہ حال بیان کیا۔ تو قاضی نے اپنے سپاہی کو حکم دیا کہ اس پڑوسی کو بلایا جائے۔۔۔۔
جب وہ پڑوسی آیا تو قاضی نورالدین نے اس سے پوچھا کہ تمہارا پڑوسی دعوا کرتا ہے کہ اس نے تمہیں دو ہزار درہم قرض دیا ہے۔
کیا یہ دعوا سچ ہے؟ اس بدتمیز پڑوسی نے صاف انکار کر دیا اس نے کہا کہ جناب میں نے اپنے پڑوسی سے کبھی قرض لیا ہی نہیں۔ اسکا دعوا جھوٹا ہے۔ تو نورالدین نے نیک پڑوسی کی طرف رخ کر کے کہا کہ تمہارے پاس کوئی گواہ یا ثبوت ہے۔ نیک پڑوسی نے کہا نہیں حضور۔
جب میں نے اسے قرض دیا تھا تو میں نے اس پر بھروسہ کیا۔ اسوقت میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میرا پڑوسی میرے حق سے مجھے اسطرح محروم کر دے گا۔۔۔۔۔۔۔
قاضی نورالدین کچھ دیر سوچ میں پڑ گئے کہ اگر تمہاری بات سچ ہے۔ تو جاؤ جہاں تم نے اسے قرض دیا تھا۔ اسی جگہ سے مُٹھی بھر مٹی لے کر آؤ۔ نیک پڑوسی حیران ہوا اور ادب سے چُپ چاپ چلا گیا۔ جب دیر ہو گئی تو وہ واپس نا آیا۔ تو قاضی نورالدین نے اس بد چلن پڑوسی کی طرف دیکھا اور اچانک پوچھا۔ کہ تمہارا پڑوسی اتنی دیر کیوں کر رہا ہے۔ کیا تم جانتے ہو؟ بِنا سوچے سمجھے اس بدتمیز پڑوسی نے جواب دیا۔
جناب وہ جگہ یہاں سے کافی دور ہے۔ قاضی مُسکرائے اور بولے کہ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ تم وہ جگہ جانتے ہو۔ اگر تم نے وہاں کبھی قرض لیا ہی نہیں۔ اب صاف ہو گیا کہ تمہارے پڑوسی کا دعوا سچ ہے۔ اسطرح قاضی نورالدین نے حق دار کا حق ثابت کیا۔ اور حکم دیا کہ اس قرض دار کو قید کیا جائے۔ جب تک وہ دو ہزار درہم واپس نا لوٹا دے۔

Like share and follow our page

18/10/2025

سبق آموز کہانی
دو بھائی چالیس برس سے آپس میں محبت اور اتفاق سے رہ رہے تھے۔ ان کا ایک وسیع زرعی فارم تھا، جس میں ان کے گھر آمنے سامنے بنے ہوئے تھے۔ دونوں خاندان ایک دوسرے کا خیال رکھتے، اور ان کی اولادوں میں بھی پیار و محبت کی مثالیں دی جاتی تھیں۔

مگر ایک دن معمولی بات پر اختلاف ایسا بڑھا کہ نوبت گالی گلوچ تک جا پہنچی۔
غصے میں چھوٹے بھائی نے دونوں گھروں کے درمیان ایک گہری اور لمبی کھائی کھدوا کر اُس میں قریبی نہر کا پانی چھوڑ دیا، تاکہ ایک دوسرے کے گھر آنے جانے کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے۔

اگلے روز بڑے بھائی نے ایک مستری کو اپنے گھر بلایا۔
اس نے کہا،
"سامنے والا فارم ہاؤس میرے بھائی کا ہے۔ کل اُس نے میرے اور اپنے گھر کے درمیان کھائی بنوا کر پانی چھوڑ دیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم یہاں آٹھ فٹ اونچی دیوار بنا دو تاکہ میں اُس کی شکل دیکھوں اور نہ ہی اس کا گھر۔ اور یہ کام جلد از جلد مکمل کر دو، اجرت تمہاری مرضی کے مطابق دوں گا۔"

مستری نے سر ہلاتے ہوئے کہا،
"پہلے وہ جگہ دکھا دیجیے جہاں سے باڑ شروع کرنی ہے، تاکہ پیمائش کے مطابق سامان ساتھ والے قصبے سے لے آئیں۔"

موقع دیکھنے کے بعد وہ بڑے بھائی کو ساتھ لے کر قریبی قصبے گیا، چند کاریگروں کے ساتھ ایک بڑی پک اپ پر سارا سامان لے آیا۔
اس نے کہا،
"اب آپ آرام کریں، یہ کام ہم پر چھوڑ دیجیے، ہم یہ کام رات کو ہی مکمل کر دیں گے۔"

مستری اور اس کے کاریگر ساری رات کام کرتے رہے۔

صبح جب بڑے بھائی کی آنکھ کھلی اور دیوار دیکھنے کے لیے گھر سے باہر نکلا تو سامنے منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہاں آٹھ فٹ اونچی دیوار تو کجا، ایک انچ دیوار بھی نہیں تھی... بلکہ اس کی جگہ ایک شاندار پل بنا ہوا تھا۔

وہ حیرانی سے پل کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ دوسری جانب چھوٹا بھائی کھڑا، نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہا ہے۔ دونوں چند لمحے خاموشی سے کھائی اور اس پر بنے پل کو تکتے رہے۔ چھوٹے بھائی کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے... اُس نے سوچا، میں نے باپ جیسے بھائی کا دل دکھایا، مگر اس نے پھر بھی تعلق نہیں توڑا۔

بڑے بھائی کا دل بھی پگھل گیا۔ اس نے خود سے کہا، غلطی جس کی بھی تھی، مجھے یوں جذباتی ہو کر معاملہ بگاڑنا نہیں چاہیے تھا۔

دونوں بھائی آنکھوں میں آنسو لیے ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ ان کی دیکھا دیکھی دونوں گھروں کے بیوی بچے بھی دوڑتے ہوئے آئے اور پل پر اکٹھے ہو گئے۔

بڑا بھائی مستری کو تلاش کرنے کے لیے ادھر ادھر نظر دوڑانے لگا۔ وہ اپنے اوزار سمیٹ کر جانے کی تیاری میں تھا۔
بڑا بھائی جلدی سے اس کے پاس گیا اور بولا،
"اپنی اجرت تو لیتے جاؤ!"

مستری مسکرا کر بولا،
"اس پل کی اجرت میں آپ سے نہیں لوں گا، بلکہ اُس سے لوں گا جس کا وعدہ ہے کہ،
'جو شخص اللہ کی رضا کے لیے لوگوں میں صلح کروائے، اللہ اسے عظیم اجر سے نوازے گا۔'"

یہ کہہ کر مستری نے "اللہ حافظ" کہا اور چلا گیا۔

سبق،
کوشش کریں کہ اس مستری کی طرح لوگوں کے درمیان پل بنائیں،
خدارا دیواریں نہ اٹھائیں۔
Like Share and follow our page

26/06/2025

*کرپشن کہاں نہیں ، بد عنوان کون نہیں؟*

{صرف چند موٹی موٹی تصویریں دکھا رہوں، مضمون طویل ہے لیکن ہمارے ضمیر کو جگانے کےلئے یا معاشرے کے صحیح خدوخال سے واقف کرنے کے لئے ضروری ہے، ہمیں صرف بڑی بدعنوانیاں اور دوسروں کی بدعنوانیاں ہی نظر آتی ہیں، چھوٹی چھوٹی بدعنوانیوں پر دھیان نہیں جاتا، *شاید اس لیے کہ ان چھوٹی چھوٹی بدعنوانیوں میں، ہم خود ملوث ہیں، اور ہم نے تو اس کے خلاف بولنا ہے، اب خود کے خلاف کیسے بول سکتے*۔۔

١. وہ ڈاکٹر جو بلا ضرورت مختلف اقسام کا ٹیسٹ لکھ کر فالتو پیسہ لیتے ہیں، ہسپتال میں ٹھیک سے علاج نہیں کرتے اور خود کے کلینک میں بہتر علاج کرتے ہیں، کیا وہ کرپٹ نہیں؟
2. وہ ٹیکسی یا رکشہ ڈرائیور اور قلی جو زیادہ کرایہ یا مزدوری لیتا ہے، کیا وہ کرپٹ نہیں۔۔
3. وہ اسکول ٹیچر جو سکول میں ٹھیک سے نہیں پڑھاتے مگر ٹیوشن خوب دل لگا کر پڑھاتے ہیں، کیا وہ کرپٹ نہیں ۔۔
4. کیا وہ ملازم جو ایمانداری سے کام نہیں کرتا، بدعنوان نہیں
5. وہ طالب علم جو والدین کی کمائی خرچ کر کے بھی دل لگا کر پڑھائی نہیں کرتا، کیا وہ کرپٹ نہیں
6. وہ لوگ جو رشوت دے کر نوکری ایڈمیشن یا ٹھیکہ لیتے ہیں، کیا وہ کرپٹ نہیں۔۔
7. وہ مینیجر جو کسی قابل امیدوار کو نہ چن کر اپنے رشتہ دار یا اپنے ہم مذہب یا اپنے علاقے کے کمتر کا انتخاب کرتا ہے، کیا وہ کرپٹ نہیں۔۔۔
٨. وہ لوگ جو لاکھوں روپے کے اصلی سافٹ ویئر کے بجائے نقلی سافٹ ویئر سستے میں خرید کر استعمال کرتے ہیں یا بنا خریدے کاپی کرلیتے ہیں ، کرپٹ نہیں ۔۔
9. وہ لوگ جو شادی جیسے پاک رشتے کو تجارت بنا کر جہیز لیتے، کیا وہ کرپٹ نہیں۔۔
10. وہ لوگ جو زکوٰۃ نکال کر یا برائے نام زکوٰۃ نکال کر غریبوں کے حق کو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرتے ہیں، کیا وہ کرپٹ نہیں ۔۔
١١. وہ جرنلسٹ جو ان کے خلاف تو کچھ نہیں لکھتے جن سے ان کو فائدہ پہنچتا ہے، لیکن ان کے بال کی کھال اتار دیتے ہیں جن سے ان کو فائدہ نہیں ہوتا، کیا وہ کرپٹ نہیں ۔۔۔
12. وہ دین کے ٹھیکے دار جو آپس میں دوریاں اور اختلافات بڑھاتے ہیں، مذہب کو پیچیدہ بناتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کا بتنگڑ بنا کر دکان چلاتے ہیں، کیا وہ کرپٹ نہیں۔۔
13. وہ بھکاری جو جھوٹی معذوری دکھا کر بھیک مانگتا ہے اور اچھی خاصی رقم جمع کرنے کے باوجود بھیک مانگنا نہیں چھوڑتا، کیا وہ کرپٹ نہیں۔۔۔
14. وہ لوگ جو تنظیم کے نام پر لاکھوں روپیہ جمع کرتے ہیں اور اسے ایمانداری کے ساتھ ضرورت مندوں میں خرچ نہیں کرتے، کیا وہ کرپٹ نہیں۔۔۔؟؟؟

20/06/2025

Share follow like our page for good health

Top Current Problems Among Adolescents in 2025

1. Mental Health Issues

Rising anxiety, depression, and stress due to academic pressure, social media, and uncertain future..Most likely due to Loneliness and lack of emotional support.

2. Digital Addiction

Excessive use of smartphones, gaming, and especially social media (Instagram, TikTok, YouTube). Most likely due to Reduced real-life social interaction and sleep disturbances.

3. Substance Abuse

Increasing use of v**e, cannabis, alcohol, and even synthetic drugs. Reason Peer pressure , Mental health issues, easy availability are major triggers...

4. Academic Pressure & Career Confusion

Constant pressure to score high, choose “perfect” careers.

5. Body Image & Self-Esteem Issues

Influenced by unrealistic beauty standards on social media. And due to it Eating disorders like anorexia and bulimia on the rise.

6. Cyberbullying & Online Harassment

Threats, trolling, or shaming via online platforms deeply affect mental well-being.

7. Sexual Health & Relationship Confusion

Misinformation, early exposure to p**n, and lack of proper s*x education.

Confusion over gender identity, s*xual orientation, and consent.

8. Violence & Peer Pressure

School violence, gang involvement, or unsafe friendships leading to risk-taking behavior.

9. Family Conflict or Broken Homes

Lack of attention from busy or separated parents can lead to emotional instability........

09/02/2025

All friends are requested to follow our page

https://www.facebook.com/share/1Y9SCzEFN6/

KNOWLEDGE HUB BASED ON AGRICULTURE AND HORTICULTURE FOR PROMOTION OF BIO FERTILIZERS AND BIO PESTICIDES IN THE FEILD OF AGRICULTURE AND HORTICULTURE

Address

Taper Patan Near Panchayat House
Sopore
193121

Opening Hours

Monday 10am - 4pm
Tuesday 10am - 4pm
Wednesday 10am - 4pm
Thursday 10am - 4pm
Friday 10am - 4pm
Saturday 10am - 4pm

Telephone

+917780904881

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ayush health and wellness center taper patan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ayush health and wellness center taper patan:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram