01/03/2026
ڈاکٹر سبیل اکرام کا تعلق پاکستان کے ایک معروف علمی و فکری خانوادے سے ہے۔نوجوان سبیل نہ صرف حافظِ قرآن ہیں بلکہ میڈیکل ڈاکٹر، بزنس مین اور امامِ تراویح بھی ہیں۔
اے بی ایس ڈویلپرز کے چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے اپنے فنی و تجارتی انداز سے نمایاں مقام حاصل کیا۔ ایک مذہبی حلیے کا یہ نوجوان، بحریہ اور پوش ایریاز میں لوگوں کے اعتماد کو جیت رہا ہے، محبتیں سمیٹ رہا ہے، جبکہ عموماً پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سے وابستہ افراد لوگوں کے لیے پریشانی کا سبب بنتے ہیں۔
ڈاکٹر سبیل اکرام نے پاکستان کی سب سے بلند عمارت بنانے کا اعلان بھی کیا ہے، اور اپنے دنیاوی کام میں اتنا احتیاط برتتے ہیں کہ ایک رہائشی عمارت کی جم انہوں نے کسی شخص کو اس لیے نہیں دی کیونکہ وہ وہاں موسیقی چلانا چاہتے تھے — شرعی حدود کا خیال رکھنے والا ایک منفرد رویہ۔
ڈاکٹر صاحب بحریہ لاہور کی گرینڈ مسجد میں نمازِ تراویح کی امامت کرتے ہیں، اور ان کی تراویح کی لائیو نشریات اور کیمروں کی بہتات سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔ ایک طبقہ ان پر شدید تنقید کر رہا ہے۔
ہماری قوم بھی عجیب مزاج کی ہے اگر تنقید کرنی ہے تو اس بات پر کریں کہ رمضان المبارک میں “رمضان ٹرانسمیشن” کے نام پر شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے بدنام و جاہل افراد ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر فلموں، سستے ڈراموں اور نیم برہنہ خواتین کے کھلے گریبانوں کے ذریعے رمضان کے پروگرام پیش کرتے ہیں۔
بھلا تراویح پڑھانے اور اسے پھیلانے پر اعتراض کیسے بنتا ہے؟
حرمین شریفین سے تراویح اور نمازوں کی لائیو نشریات کو پینتیس چالیس سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ بیت اللہ شریف میں 5,000 سے زائد اور مسجدِ نبوی شریف میں 1,300 سے زائد کیمرے نصب ہیں، اور دنیا کے تمام براعظموں میں یہ روح پرور نمازی لمحات دکھائے جا رہے ہیں۔ اور آپ ڈاکٹر سبیل اکرام کے مبلغ چھ عدد کیمروں کو لیکر رونے بیٹھ گئے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ ہم مولوی اور مذہبی لوگوں کی مسکین اور عاجزانہ شکل کو پسند کرتے ہیں، خود کفیل،اور اپنے پاؤں پر کھڑا مولوی یا قاری ہمیں ہضم نہیں ہوتا۔
ہمیں مولوی سائیکل پر آتا اچھا لگتا ہے مہنگی گاڑی اور اچھی سواری والا مولوی ہمیں منظور نہیں۔
Copied