05/04/2026
کتنا ظلم اور زیادہ تی کروگے؟
یہ جھوٹے پرچے اور جھوٹے الزام
آخری کب تک اور کیوں ؟
سچ تو آخر سامنے آنہ ہے۔۔
پاکستانی قوم کسی ہمدرد لیڈر کا انتظار کررہی ہے۔
یہ ظلم آج سے نہیں بلکہ ہر اس وقت ہوتے ہیں جب کوئی شخص حق اور سچ کی خاطر ڈٹ جائے آخر کار سچ جیت جاتا ہے اور جھوٹ کی زندگی ختم ہو جاتی ہے شہزاد حکیم اس کی فیملی اور سٹاف کے لیئے آزمائش اور کڑا امتحان ہے حکیم شہزاد پر ہونے والے جھوٹے پر چوں کی اصل حقیقت بتا نہیں سکتا اور آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ حکومت اور اپوزیشن کی لڑائی میں بلی کا بکرا عوام کو بنایا جاتا ہے اس کیس کی بھی سیم کہانی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ جھوٹے پرچے کروانے والوں اور بلیک میل کرنے والوں اور اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرنے والوں کے لیئے بھی کوئی قانون اور اداکارہ الگ سے بنتاہے ویسے فورسز تو بہت بنتی ہیں لیکن کام اپنانا کرتی ہیں کسی عام عوام کے لیئے نہیں۔اور جو آج ظلم اس بندے کے ساتھ کیا جارہا ہے شاید انڈیا کے پائلٹ ابھی نندن کے ساتھ بھی نہیں ہوا ہوگا اس ملک کے حالات واقعات سے ایک بات یہ تو ثابت ہوتی ہے کہ اگر آپ کے آباؤ واجداد اگر سیاسی نہیں تھے تو آپ کو(مڈل کلاس)بھی کوئی حق نہیں کہ آپ سیاست کا نام لو اگر آپ بھی ملک کے لیئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو(ملک سے) باہر جاکر اس ملک کی نیشنیلٹی لو اور اس ملک کے لیئے کچھ کرو وہاں آپ کو فل سپورٹ کی جائے گی۔
آخر میں یہی کہوں گا جو آج حکیم شہزاد لوہا پاڑ کے ساتھ ہورہا ہے وہ سراسر خلاف قانون اور غلط ہے اس کی گاڑی یاں اور پیسے ضبط کرنے کے لیئے کیا جارہاہے۔
جو سراسر غلط ہے۔
اس حالات میں انہیں بھی کسی بگ برادر کا انتظار ہے
اللہ پاک ہمارہ اور انکا حامی و ناصر ہو۔
۔
😭😭