13/11/2025
*دعوتِ اسلام: نیپال کے تناظر میں*
(اداریہ ہفت روزہ صدائے عام جنکپور، نیپال، 13 نومبر 2025)
اسلام وہ دینِ فطرت ہے جو انسان کو خیر، عدل، علم اور امن کی راہوں پر گامزن کرتا ہے۔
دعوتِ اسلام دراصل انسان کو اس کے خالق و مالک اللہ عز وجل کی بندگی اور مخلوق کے لیے رحمت بننے کی تعلیم دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ} (النحل: ۱۲۵)
ترجمہ: "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ دعوت دو۔"
دعوت کا مقصد جبر نہیں، بلکہ خیرخواہی، علم اور فہمِ حقیقت ہے۔
اسی لیے اسلام اور بہت حد تک دستورِ نیپال بھی مذہبی آزادی، انسانی وقار، اور پُرامن بقائے باہمی کے اصول پر قائم ہیں۔
*۱. دستورِ نیپال اور مذہبی آزادی: دعوت کا محفوظ دائرہ*
دستورِ نیپال (२०७२/۲۰۱۵) کا مضمون ۲۶ (धार्मिक स्वतन्त्रताको हक) مذہبی آزادی کو بنیادی حق قرار دیتا ہے:
شق 1:
“धर्ममा आस्था राख्ने प्रत्येक व्यक्तिलाई आफ्नो आस्था अनुसार धर्मको अवलम्बन, अभ्यास र संरक्षण गर्ने स्वतन्त्रता हुनेछ।”
ترجمہ: "ہر شخص کو اپنے عقیدے کے مطابق اپنے مذہب کو اپنانے، اس پر عمل کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کی آزادی ہوگی۔"
اسلام کا یہی اصول قرآن میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا:
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرہ: ۲۵۶)
ترجمہ: "دین میں کوئی جبر نہیں۔"
یہ آیت اور مذکورہ قانونی شق ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ اسلام کی دعوت دلائل، کردار اور حسنِ اخلاق سے کی جائے؛ کسی فرد یا برادری پر دباؤ یا نفرت کی فضا پیدا نہ کی جائے، بلکہ تعلیم، خدمت اور مکالمے کے ذریعے پیغامِ اسلام پہنچایا جائے۔
*۲. دعوت کا منہج: انبیاء کی سنت اور شریعت کا اسلوب*
دعوت کا حقیقی منہج وہی ہے جو قرآن و سنت میں آیا: {قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي} (یوسف: ۱۰۸)
ترجمہ: "کہہ دو: یہی میرا راستہ ہے، میں اور میرے پیروکار بصیرت پر اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔"
یہی طریقہ انبیاء اور سلفِ صالحین کا رہا: علم، عدل، حلم اور صبر کے ساتھ۔
دعوت کا مطلب ہے لوگوں کو خیر کی طرف بلانا، نہ کہ کسی پر جبر کر کے حکم چلانا۔
اسی منہج پر چلتے ہوئے داعیِ اسلام کو چاہیے کہ وہ نیپالی معاشرے میں علم و حکمت کے ساتھ گفتگو کرے، نیپال کی مختلف زبانوں کے ساتھ نیپالی زبان میں بات کرنے کی مہارت حاصل کرے، مقامی ثقافت کو سمجھے، اور اسلام کا پیغام علمی و قانونی احترام کے ساتھ پیش کرے۔
*۳. دعوت، قانون، اور احترامِ دستور*
دستورِ نیپال کی بنیاد عدل، مساوات اور ثقافتی ہم آہنگی پر رکھی گئی ہے۔
مضمون ۴ میں کہا گیا ہے: “नेपाल संघीय, समावेशी, धर्मनिरपेक्ष र बहुसांस्कृतिक गणराज्य हो।”
ترجمہ: "نیپال ایک وفاقی، جامع، مذہبی طور پر غیرجانبدار اور کثیر الثقافتی جمہوریہ ہے۔"
یہ "کثیرالثقافتی" پہلو دعوت کے لیے ایک مثبت فضا فراہم کرتا ہے، جہاں ہر مذہب اپنے اصول کے مطابق پُرامن انداز میں اپنی تعلیمات پیش کر سکتا ہے۔
اسلام کا پیغام کسی قوم یا نسل کے خلاف نہیں بلکہ تمام انسانیت کے لیے ہے،
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ} (الأنبياء: ۱۰۷)
ترجمہ: "ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔"
یہ آیت دعوتِ اسلامی کی روح ہے: رحمت، علم، عدل، اور خیرخواہی۔
*۴. دعوت اور زبان: فہم و رسائی کی ضرورت*
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ} (إبراهيم: ۴)
ترجمہ:" ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان کے ساتھ، تاکہ وہ ان کے لیے بات واضح کرے۔"
یہ آیت داعیانِ اسلام کے لیے ایک بنیادی رہنما اصول بیان کرتی ہے کہ وہ نیپال کی مختلف زبانوں کے ساتھ نیپالی زبان میں بھی بات کریں،
تاکہ دعوت عام فہم ہو، دلوں تک پہنچے، اور غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔
دستورِ نیپال نے بھی مضمون ۳۱(۵) میں زبان کے حق کو تسلیم کیا ہے: “नेपालमा बसोबास गर्ने प्रत्येक नेपाली समुदायलाई कानून बमोजिम आफ्नो मातृभाषामा शिक्षा पाउने ... हक हुनेछ।”
ترجمہ: "ہر شہری کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے اور تعلیمی ادارے قائم کرنے کا حق حاصل ہوگا۔"
لہٰذا دعوتِ اسلام کے لیے مختلف مقامی زبانوں کے ساتھ نیپالی زبان میں دینی مواد تیار کرنا اور تعلیم و تربیت کے مواقع فراہم کرنا نہ صرف شرعاً مطلوب ہے بلکہ قانوناً بھی درست اور مفید ہے۔
*۵. دعوت کا ادب و اخلاق: امن، علم اور خیرخواہی کا امتزاج*
دعوت کے لیے سب سے مؤثر زبان اخلاق اور خدمت کی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ} (الأنعام: ۱۰۸)
ترجمہ: "ان کو گالی نہ دو جنہیں وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔"
یہ آیت داعی کو عدل، احترام اور حلم کی تربیت دیتی ہے۔
دعوت وہاں کامیاب ہوتی ہے جہاں لوگ محبت، خدمت اور حسنِ عمل سے اسلام کا چہرہ دیکھیں۔
نبی ﷺ نے فرمایا: "إن الرفق لا يكون في شيء إلا زانه."
(صحیح مسلم، حدیث: 2594)
ترجمہ: “نرمی جس چیز میں ہو، اسے زینت بخش دیتی ہے۔”
نبی ﷺ کی سیرت گواہ ہے کہ نرم کلام اور خدمت کے رویّے نے دلوں کو فتح کیا، اور یہی آج بھی دعوت کی کامیابی کی کنجی ہے۔
*نتیجہ: دعوتِ اسلام: قانون کے احترام کے ساتھ خیر کی طرف پکار*
نیپال میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے رہنمائی یہ ہے کہ وہ:
دعوت کو اپنا اصل فریضہ سمجھیں اور اسے قانونی، پُرامن، اور علمی بنیادوں پر انجام دیں۔
زبان و ثقافت کو ذریعہ بنائیں، رکاوٹ نہیں۔
اور معاشرے میں رحمت، صدق، اور خدمت کے ذریعے اسلام کا تعارف کرائیں۔
یوں دعوتِ اسلام نہ صرف دین کی خدمت ہوگی بلکہ دستورِ نیپال میں درج عدل، آزادی اور باہمی احترام کے اصولوں کی عملی تفسیر بھی بنے گی۔
(رحمت اللہ آل سراج)