Dr Syed Ahmer - Psychiatrist

Dr Syed Ahmer - Psychiatrist نفسیاتی بیماریوں اور ان کے علاج کے بارے میں مستند معلومات۔
Authentic iformation about mental illnesses and their treatments

Dr Syed Ahmer MRCPsych

2011 to date - Consultant Psychiatrist, MidCentral District - Te What Ora - Health New Zealand, Palmerston North, New Zealand

2014 to 2017 - Clinical Director, Mental health & Addictions Service, MidCentral District Health Board, Palmerston North, New Zealand

2006 to 2011 - Assitant Professor & Consultant Psychiatrist, Aga Khan University, Karachi, Pakistan

November 2002 to November 2005 - Specialist Training in General Adult Psychiatry leading to Certificate of Completion of Training (CCT), UK

June 2002 - passed MRCPsych exam - Membership of Royal College of Psychiatrists, UK

October 1998 to June 2002 - Basic Training in psychiatry, UK

1994 to 1997 - Resident Medical Officer in Psychiatry, Aga Khan University, karachi, Pakistan

28/02/2026

بینزو دوائیوں اور زی ڈرگز کی جسمانی عادت پڑ جانے کی علامات

Signs of physical dependence of benzodiazepines and Z drugs

.

بینزو ڈایازیپینز یعنی سکون آور ادویات، یا زی ڈرگز دماغ میں کیسے کام کرتی ہیں؟دنیا میں زیادہ تر پروفیشنل اداروں ا ور ریگو...
28/02/2026

بینزو ڈایازیپینز یعنی سکون آور ادویات، یا زی ڈرگز دماغ میں کیسے کام کرتی ہیں؟

دنیا میں زیادہ تر پروفیشنل اداروں ا ور ریگولیٹری اتھاریٹیز کی بینزو ڈایازپینز (مثلاً ڈایازیپام، کلونازیپام، الپرازولام وغیر) یا زی ڈرگز (جیسے کہ زوپی کلون یا زولپیڈیم) استعمال کرنے کی تجویز کردہ زیادہ سے زیادہ مدّت ۲ سے چار ہفتے ہے۔ ان کو ۲ سے ۴ ہفتے سے زیادہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس پابندی کی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی بھی شخص انہیں اس مدّت سے زیادہ کے لئے روزانہ استعمال کرے تو اسے ان کی عادت پڑنے (dependence) کا خطرہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس سے دو بڑے خطرات ہوتے ہیں؛ ٹالرنس، اور ودڈرال۔ ان کو سمجھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ بینزو دوائیاں یا زی دوائیاں کیسے کام کرتی ہیں۔

ہم سب کے دماغ میں ایک قدرتی کیمیکل یا نیوروٹرانسمیٹر ہوتا ہے جو ہمیں پرسکون کرتا ہے اور نیند آنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کو گابا (GABA) کہتے ہیں۔ بینزوڈایازیپینز، زی ڈرگس، اور الکحل، تینوں دماغ میں اسی جگہ یعنی ریسپیٹر (receptor) پہ جا کے لگتے ہیں جہاں یہ قدرتی کیمیکل لگ کے اپنا کام کرتا ہے۔ جو لوگ ان تینوں میں سے کوئی بھی چیز کچھ ہفتوں کے لئے باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں، ان کے دماغ میں یہ قدرتی کیمیکل بھی کم ہوجاتا ہے اور جن ریسیپٹرز پہ لگ کے یہ اپنا کام کرتا ہے وہ بھی کم ہو جاتے ہیں۔

27/02/2026

بینزو ڈایازیپینز یعنی سکون آور ادویات، یا زی ڈرگز دماغ میں کیسے کام کرتی ہیں؟

How do benzo (anti-anxiety and sleeping) drugs work?

24/02/2026

آپ سب کی محبتوں اور دعاؤں کا بہت بہت شکریہ۔ جزاک اللہ خیر اور آمین

23/02/2026

السلام علیکم و رحمتہ اللہ۔ بیمار ہوں اور ہسپتال میں داخل ہوں۔ احباب سے دعا کی بہت درخواست ہے۔ جزاک اللہ

ڈاکٹر صاحب اس دوا سے کوئی سائیڈ ایفیکٹ تو نہیں ہو گا؟یہ سوال مجھ سے اتنی دفعہ پوچھا جا چکا ہے کہ اگر ہر دفعہ کے بدلے ایک...
23/02/2026

ڈاکٹر صاحب اس دوا سے کوئی سائیڈ ایفیکٹ تو نہیں ہو گا؟

یہ سوال مجھ سے اتنی دفعہ پوچھا جا چکا ہے کہ اگر ہر دفعہ کے بدلے ایک ڈالر ملتا تو آج میں لکھ پتی ہوتا۔

میں ہمیشہ یہ جواب دیتا ہوں کہ آج تک کوئی ایسی دوا دریافت نہیں ہوئی جس کے صرف فائدہ مند اثرات ہوں اور کوئی مضر اثرات یعنی سائیڈ ایفیکٹس نہ ہوں۔ یہاں تک کہ پیراسیٹامول جو سر درد ہونے پہ ہم سب ہی کچھ سوچے سمجھے بغیر کھا لیتے ہیں اس کو بھی اگر زیادہ ڈوز میں لے لیا جائے تو جگر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ہم اپنے مریضوں کو یہ بتاتے ہیں کہ دوا لینے نہ لینے کا فیصلہ اس بات پہ نہیں کیا جاتا کہ دوا کے سائیڈ ایفیکٹس ہیں یا نہیں، کیونکہ سائیڈ ایفیکٹس تو ہر دوا کے ہوتے ہیں۔ اس کا فیصلہ اس بات پہ کیا جاتا ہے کہ مجموعی اعتبار سے دوا کا فائدہ زیادہ ہے یا نقصان زیادہ ہے۔

دوسری بہت اہم بات یہ ہے کہ ہر دوا کے سائیڈ ایفیکٹس کی مانیٹرنگ کرنی ہوتی ہے، یعنی یہ نظر رکھنی ہوتی ہے کہ سائیڈ ایفیکٹس ہو تو نہیں رہے، ہو رہے ہیں تو کتنے شدید ہیں، اور اگر شدید ہیں تو کیا علاج کیا جائے؟

اسی لیے میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ سوشل میڈیا پہ مجھ سمیت کسی سے دوا نہ پوچھیں، اور کبھی بھی خود سے میڈیکل اسٹور سے دوا خرید کے نہ کھائیں۔ ہمیشہ کسی مستند ڈاکٹر کو دکھا کے، ان کو اپنا تفصیلی حال بتا کے اور ان سے پورا معائنہ کروا کے ان کی تجویز کردہ دوا کھائیں۔ اور اس کے بعد بھی جب تک دوا لے رہے ہوں ان سے وقتا فوقتا اپنا چیک اپ کرواتے رہیں تا کہ وہ سائیڈ ایفیکٹس کی مانیٹرنگ اور ضرورت پڑنے پہ ان کا علاج کرتے رہیں۔ جزاک اللہ

موڈ اسٹیبلائزر دوائیوں کے مضر اثرات کی کچھ تفصیل(1) لیتھیم: بائی پولر ڈس آرڈر کے علاج لیے لیتھیم کا استعمال ۱۹۴۹ میں ہوا...
22/02/2026

موڈ اسٹیبلائزر دوائیوں کے مضر اثرات کی کچھ تفصیل

(1) لیتھیم: بائی پولر ڈس آرڈر کے علاج لیے لیتھیم کا استعمال ۱۹۴۹ میں ہوا تھا اور دنیا میں آج بھی یہ بائی پولر ڈس آرڈر کے طویل عرصے کے علاج کے لیے اہم ترین دوائیوں میں سے ایک مانی جاتی ہے۔ لیتھیم کا استعمال پچھلے کچھ سالوں میں نسبتاکم ہو گیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ اس کے کچھ مضر اثرات ہیں، اور دوسری بڑی وجہ سیکنڈ جنریشن اینٹی سائیکوٹک دوائیوں کے موڈ اسٹیبلائزر اثرات کا دریافت ہونا ہے۔

لیتھیم کا تھیراپیوٹک ونڈو (therapeutic window) بہت تنگ (narrow) ہوتاہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایکیوٹ مینیا کے علاج کے لیے لیتھیم کا خون میں جو لیول چاہیے ہوتا ہے، لیول اس سے تھوڑا ہی زیادہ بڑھ جانے پہ شدید مضر اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے مریض کو لیتھیم شروع کرنے پہ ہر ہفتے، اور کچھ مہینوں کے بعد ہمیشہ، جب تک وہ لیتھیم لیتا رہے، ہر تین سے چھ مہینے پہ لیتھیم کا خون میں لیول چیک کرواتے رہنا پڑتا ہے۔

جو لوگ لیتھیم طویل عرصے کے لیے لے رہے ہوں ان کو تھائی رائڈ گلینڈ اور گردوں کی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔ اس لیے مریض کو ہمیشہ گردوں اور تھائی رائڈ گلینڈ کی کارکردگی کے ٹیسٹ ہر چھ مہینے پہ کرواتے رہنے ہوتے ہیں۔ ان ہی وجوہات کی بنا پہ آج کل بائی پولر ڈس آرڈر کے علاج کے لیے لیتھیم کا استعمال نسبتا کم ہو گیا ہے اور سیکنڈ جنریشن اینٹی سائیکوٹک دوائیں اس مقصد کے لیے زیادہ استعمال ہوتی ہیں۔

(۲) سیکنڈ جنریشن اینٹی سائیکوٹک دوائیں: جیسا کہ پہلے آیا تھا سیکنڈ جنریشن اینٹی سائیکوٹک دوائیوں میں سے بعض دوائیاں مثلا اولینزاپین، کوٹائیپین، رسپیریڈون، ایری پپرازول وغیرہ اب بائی پولر ڈس آرڈر میں بھی موڈ اسٹیبلائزر کی حیثیت سے استعمال ہوتی ہیں۔

ان دوائیوں میں سے خصوصاً اولینزاپین سے زیادہ، لیکن رسپیریڈون اور کوٹائیپین سے بھی وزن بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ وزن بڑھنے سے خطرہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ آپ دیکھنے میں کیسے لگتے ہیں، بلکہ وزن صحت مندانہ حد سے زیادہ ہو جانے سے بلڈ پریشر، اور خون میں شوگر اور کولیسٹرول بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے جس کو ملا کے میٹابولک سنڈروم (metabolic syndrome) کہتے ہیں۔

ایری پیپرازول سے زیادہ تر لوگوں کا وزن نہیں بڑھتا۔

(۳) سوڈیم ویلپروئیٹ یا ویلپروئیٹ سیمی سوڈیم: اگر حاملہ خواتین زچگی کے دوران ویلپروئیٹ لے رہی ہوں تو اس سے پیٹ میں موجود بچوں کے اعضاٴ کی ساخت میں خرابی (congenital malformation) پیدا ہو سکتی ہے جس کا تقریباً دس فیصد (دس میں سے ایک) تک خواتین میں خطرہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسی صورت میں پیدائش کے بعد تقریباً تیس سے چالیس فیصد تک بچوں کی ذہنی صلاحیتوں (cognitive functions) میں خرابی کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس لیے دنیا کے بہت سے ممالک میں اب زچگی کے دوران ویلپروئیٹ کے استعمال پہ پابندی لگ گئی ہے، بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ جو خواتین اس عمر میں ہوں جو حاملہ ہو سکتی ہوں انہیں ویلپروئیٹ نہیں دی جا سکتی۔اگر خواتین زچگی کا علم ہونے سے پہلے ویلپروئیٹ استعمال کرتی رہی ہوں تو انہیں فولک ایسڈ (folic acid) دینا چاہیے جو ایک طرح کا وٹامن ہوتا ہے۔

حالیہ ریسرچ سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ جو مرد حضرات ویلپروئیٹ استعمال کر رہے ہوں، اس کے استعمال کے تین مہینے بعد تک اگر ان کی اہلیہ حاملہ ہو جائیں تو پیدائش کے بعد بچوں کی ذہنی صلاحیتوں پہ منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

کن دوائیوں کو موڈ اسٹیبلائزر کے طور پہ استعمال کیا جاتا ہے؟عام طور سے مندرجہ ذیل دوائیوں یا دوائیوں کی اقسام کو موڈ اسٹی...
21/02/2026

کن دوائیوں کو موڈ اسٹیبلائزر کے طور پہ استعمال کیا جاتا ہے؟

عام طور سے مندرجہ ذیل دوائیوں یا دوائیوں کی اقسام کو موڈ اسٹیبلائزر کہا جاتا ہے۔

۱۔ لیتھیم (lithium): اس کا استعمال ۱۹۴۰ کی دہائی میں شروع ہوا تھا اور اس کے بعد سے آج تک یہ مستند ترین موڈ اسٹیبلائزرز میں مانی جاتی ہے۔ یہ موڈ کو مینیا میں جانے سے بھی روکتی ہے، اور ڈپریشن میں جانے سے بھی۔ البتہ اس کے کچھ مضر اثرات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے سیکنڈ جنریشن اینٹی سائیکوٹکس کے آنے کے بعد اس کا موڈ اسٹیبلائزر کی حیثیت سے استعمال کافی کم ہو گیا ہے۔ ان مضر اثرات کی تفصیل ان شا ٴاللہ اگلی تحریر میں آئے گی۔

۲۔ سیکنڈ جنریشن اینٹی سائیکوٹکس (second generation antipsychotics): سیکنڈ جنریشن یعنی نئی اینٹی سائیکوٹکس ابتدا میں تو سائیکوسس کے علاج کے لیے مارکیٹ ہوئی تھیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ پتہ چلا کہ ان میں سے کئی دوائیں مثلاً اولینزاپین، کوٹائیپین، رسپیریڈون، اور ایری پیپرازول، موڈ پہ بھی مثبت اثر ڈالتی ہیں۔ یہ دوائیاں مینیا کا بھی علاج کرتی ہیں، اور مینیا ٹھیک ہو جانے کے بعد اسے واپس آنے سے بھی روکتی ہیں۔ یہ ڈپریشن میں بھی فائدہ مند ہوتی ہیں اور اگر کسی مریض کا ڈپریشن صرف اینٹی ڈپریسنٹ دوا لینے سے ٹھیک نہ ہو رہا ہو تو بعض دفعہ اینٹی ڈپریسنٹ دوا کے ساتھ ان نئی اینٹی سائیکوٹکس میں سے کسی ایک کو ملا کے دینے سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ان سے وہ مضر اثرات تو نہیں ہوتے جو لیتھیم سے ہوتے ہیں لیکن ان کے اپنے مضر اثرات ہوتے ہیں جن کی تفصیل ان شاٴ اللہ آگے آئے گی۔

۳۔ سوڈیم ویلپروئیٹ یا ویلپروئیٹ سیمی سوڈیم (valproate): ویلپروئیٹ ابتدا میں مرگی کی بیماری کے علاج کے لیے مارکیٹ ہوئی تھی۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس سے بائی پولر ڈس آرڈر میں بھی فائدہ ہوتا ہے۔ اس کو مینیا کے دورے، بائی پولر ڈپریشن، اور بائی پولر ڈس آرڈر میں ایک دفعہ مینیا یا ڈپریشن ٹھیک ہو جانے کے بعد اگلے دورے کو ہو نے سے روکنے (prophylaxis) کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

پچھلے کچھ سالوں میں کچھ مضر اثرات کی وجہ سے بہت سے ملکوں میں ان خواتین میں جو اس عمر میں ہوں جس میں بچے پیدا ہو سکتے ہیں اس کو تجویز کرنے پہ پابندی لگ گئی ہے۔

۴۔ کاربامازیپین (carbamazepine): پہلے اس کو مینیا، بائی پولر ڈپریشن، یونی پولر ڈپریشن (یعنی جس مریض کو ہمیشہ صرف ڈپریشن کے دورے ہوں)اور بائی پولر ڈس آرڈر کے اگلے اٹیک کو روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، لیکن ریسرچ یہ کہتی ہے کہ ان تمام بیماریوں میں اس بات کا واضح ثبوت نہیں ہے کہ اس سے بہت فائدہ ہوتا ہو، اس لیے اسے آج کل بہت کم استعمال کیا جاتا ہے۔

20/02/2026

کن دوائیوں کو موڈ اسٹیبلائزر کے طور پہ استعمال کیا جاتا ہے؟

Which medicines are used as mood stabilisers?

موڈ اسٹیبلائزر اور اینٹی ڈپریسنٹ دوائیوں میں کیا فرق ہوتا ہے؟جیسا کہ پہلے آ چکا ہے موڈ یا مزاج کی بیماریاں دو طرح کی ہوت...
19/02/2026

موڈ اسٹیبلائزر اور اینٹی ڈپریسنٹ دوائیوں میں کیا فرق ہوتا ہے؟

جیسا کہ پہلے آ چکا ہے موڈ یا مزاج کی بیماریاں دو طرح کی ہوتی ہیں: موڈ کا بہت دنوں تک مستقل بلاوجہ بے انتہا خوش رہنا جسے مینیا یا ہائپو مینیا کہتے ہیں، اور موڈ کا بہت دنوں تک مستقل اور اکثر اوقات بلا کسی واضح وجہ کے شدید اداس رہنا جسے ڈپریشن کہتے ہیں۔

جن لوگوں کو ایک یا ایک سے زیادہ دفعہ صرف ڈپریشن ہی ہوا ہو، جن کی بیماری کو ڈپریسو ڈس آرڈر (depressive disorder) کہا جاتا ہے، ان کے علاج کے لیے پہلی چوائس کے طور پہ اینٹی ڈپریسنٹ دوائیں استعمال کی جاتی ہیں جو موڈ کو نیچے جانے سے روکتی ہیں۔

لیکن جن لوگوں کو پہلا ایپی سوڈ ہی مینیا کا ہوا ہو، یا پہلا ایپی سوڈ تو ڈپریشن کا ہوا ہو لیکن اس کے بعد مینیا کا ایپی سوڈ ہوا ہو، ان کی بیماری کو بائی پولر ڈس آرڈر (bipolar disorder) کہا جاتا ہے، چاہے ان کو عمر بھر کبھی ڈپریشن کا واضح اٹیک نہ ہو۔

بائی پولر ڈس آرڈر کے علاج کے لیے موڈ اسٹیبلائزر (mood stabiliser) دوائیں استعمال کی جاتی ہیں جو موڈ کو زیادہ اوپر اور زیادہ نیچے دونوں سمتوں میں جانے سے روکتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر بائی پولر ڈس آرڈر کے مریضوں کو بائی پولر ڈپریشن کے ایپی سوڈ میں بھی اگر موڈ اسٹیبلائزر کے بغیر صرف اینٹی ڈپریسنٹ دے دی جائے تو اس بات کا خطرہ ہوتا ہے کہ وہ کہیں مینیا میں نہ چلے جائیں۔

تمام قارئین اور ناظرین کو رمضان کا با برکت مہینہ بہت بہت مبارک ہو۔ آمین
19/02/2026

تمام قارئین اور ناظرین کو رمضان کا با برکت مہینہ بہت بہت مبارک ہو۔ آمین

18/02/2026

موڈ اسٹیبلائزر اور اینٹی ڈپریسنٹ دوائیوں میں کیا فرق ہوتا ہے؟

What is the difference between mood stabilisers and antidepressants?

Address

Palmerston North

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Syed Ahmer - Psychiatrist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category