Dr Syed Ahmer - Psychiatrist

Dr Syed Ahmer - Psychiatrist نفسیاتی بیماریوں اور ان کے علاج کے بارے میں مستند معلومات۔
Authentic iformation about mental illnesses and their treatments

Dr Syed Ahmer MRCPsych

2011 to date - Consultant Psychiatrist, MidCentral District - Te What Ora - Health New Zealand, Palmerston North, New Zealand

2014 to 2017 - Clinical Director, Mental health & Addictions Service, MidCentral District Health Board, Palmerston North, New Zealand

2006 to 2011 - Assitant Professor & Consultant Psychiatrist, Aga Khan University, Karachi, Pakistan

November 200

2 to November 2005 - Specialist Training in General Adult Psychiatry leading to Certificate of Completion of Training (CCT), UK

June 2002 - passed MRCPsych exam - Membership of Royal College of Psychiatrists, UK

October 1998 to June 2002 - Basic Training in psychiatry, UK

1994 to 1997 - Resident Medical Officer in Psychiatry, Aga Khan University, karachi, Pakistan

30/04/2026

ہمارے زندگی ہمارے قابو میں ہے یا دوسروں کے؟ لوکس آف کنٹرول
(Internal and External locus of control)

لوکس آف کنٹرول سائیکولوجی کا ایک کونسیپٹ (نظریہ) ہے جس میں انسانوں کو اس عادت کے مطابق دو گروپس میں بانٹا جاتا ہے کہ ان کے خیال، ان کے یقین، میں ان کو اپنی زندگی میں پیش آنے والے حالات و واقعات پہ کس حد تک کنٹرول یا قابو ہے۔

کیا سرٹرالین بند کرنے سے کچھ تکلیف دہ (ودڈرال) علامات ہوتی ہیں؟Zoloft, Sert, Serlin, Elettra, Reline, Seroft, Sabert-50,...
29/04/2026

کیا سرٹرالین بند کرنے سے کچھ تکلیف دہ (ودڈرال) علامات ہوتی ہیں؟

Zoloft, Sert, Serlin, Elettra, Reline, Seroft, Sabert-50, Zaline, Equasert, etc.

(ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ)

ڈس کلیمر: اس تحریر کا مقصد نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی دوائیوں کے بارے میں آگہی پھیلانا ہے، آپ کی بیماری کے علاج کے بارے میں کلینیکل مشورہ دینا نہیں۔ علاج کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

پچھلے کچھ سالوں میں یہ بات زیادہ واضح ہوئی ہے کہ گو کہ اینٹی ڈپریسنٹس لینے سے اس طرح سے عادت تو نہیں پڑتی جیسے کہ بینزو ڈایازیپینز سے پڑتی ہے، لیکن ان کو بند کرنے سے کچھ مضر اثرات ہو سکتے ہیں مثلاً جیسے طویل عرصے کے استعمال کے بعد سرٹرالین اچانک بند کرنے پہ :

• دماغ میں یا ہاتھوں پیروں میں بجلی کے جھٹکے سے لگنے کی کیفیت محسوس ہونا،
• چکر آنا، متلی،
• شدید گھبراہٹ، بے چینی ہونا،
• بہت زیادہ تھکن محسوس ہونا جیسے بدن میں طاقت ہی نہ ہو،
• چڑچڑاپن،
• سر درد،
• کنفیوزن ہو جانا، ہذیان کی سی کیفیت ہونے لگنا ،

ان تکلیف دہ علامات کو ڈس کنٹی نوئیشن علامات کہا جاتا ہے۔ اب گائیڈلائنز یہ کہتی ہیں کہ مریض کو اینٹی ڈپریسنٹ شروع کرتے ہوئے بتا دینا چاہیے کہ انہیں بند کرنے سے کچھ تکلیف دہ علامات ہو سکتی ہیں۔

اپنی اینٹی ڈپریسنٹ دوا کو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ہرگز بند نہ کریں!

27/04/2026

اپنی سوچ کو مثبت کیسے بنائیں؟
How to develop positive thinking?

سرٹرالین کے ممکنہ مضر اثرات (سائیڈ ایفیکٹس)Zoloft, Sert, Serlin, Elettra, Reline, Seroft, Sabert-50, Zaline, Equasert, e...
25/04/2026

سرٹرالین کے ممکنہ مضر اثرات (سائیڈ ایفیکٹس)

Zoloft, Sert, Serlin, Elettra, Reline, Seroft, Sabert-50, Zaline, Equasert, etc.

(ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ)

ڈس کلیمر: اس تحریر کا مقصد نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی دوائیوں کے بارے میں آگہی پھیلانا ہے، آپ کی بیماری کے علاج کے بارے میں کلینیکل مشورہ دینا نہیں۔ علاج کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

اینٹی ڈپریسنٹ دوا شروع کرنے کے فوراً بعد عام طور سے دوا کے مضر اثرات (سائیڈ ایفیکٹس ) زیادہ نظر آتے ہیں، اور دوا کا فائدہ کم نظر آتا ہے۔ لیکن انسان باقاعدگی سے دوا لیتا رہے تو دو تین ہفتوں کے بعد عام طور سے مضر اثرات کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور فائدہ بڑھنے لگتا ہے۔

سرٹرالین کے بیشتر مضر اثرات کم شدّت کے ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ کم یا ختم ہو جاتے ہیں۔ ان کی وجہ سے دوا بند کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

سرٹرالین شروع کرنے پہ ممکنہ مضر اثرات

نظامِ ہاضمہ پہ مضر اثرات
- متلی محسوس ہونا یا متلی ہو جانا، پیچش، بھوک کم ہوجانا، وزن کم ہو جانا یا بڑھ جانا، منہ میں خشکی ہونا،

اعصابی نظام پہ مضر اثرات
- سر درد ، گھبراہٹ، بے چینی، چکر آنا، کمزوری محسوس ہونا، کپکپی یا رعشہ محسوس ہونا، غنودگی محسوس ہونا، نیند آنے میں مشکل ہونایا نیند زیادہ آنا

جنسی اثرات: جنسی خواہش کم ہو جانا، مردوں میں فارغ ہونے میں بہت دیر لگنا

22/04/2026

ہم سب اپنے بچپن کے قیدی ہیں

We are all prisoners of our childhood

ہمارے پروفیشن میں کہا جاتا ہے کہ ہم سب اپنے بچپن کے قیدی ہیں۔ انسان کا بچپن جیسا گزرا ہوتا ہے، اس بات کا بہت زیادہ امکان ہوتا ہے کہ اس کی باقی زندگی بھی ویسی ہی گزرے گی۔ اس کا مطلب یہ کہ جس انسان کا بچپن خوشگوار گزرا ہوتا ہے اس کی باقی زندگی بھی عموماً خوشگوار گزرتی ہے۔ جس انسان کا بچپن ناخوشگوار، پریشان کن اور اداس گزرا ہوتا ہے، عموماً اس کی باقی زندگی بھی اداس اور پریشان گزرتی ہے۔

کلونازیپام – مکمل تحریر(Clonazepam, Rivotril, Naze, Clonatril, Magura, Clonazep, Setril, C-Pam, Paxam, etc.)(ڈاکٹر سید ا...
22/04/2026

کلونازیپام – مکمل تحریر
(Clonazepam, Rivotril, Naze, Clonatril, Magura, Clonazep, Setril, C-Pam, Paxam, etc.)

(ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ)

ڈس کلیمر: اس تحریر کا مقصد نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی دوائیوں کے بارے میں آگہی پھیلانا ہے، آپ کی بیماری کے علاج کے بارے میں کلینیکل مشورہ دینا نہیں۔ علاج کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

کلونازیپام کن بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کی جاتی ہے؟
- کلونازیپام بچوں اور بڑوں دونوں میں مرگی کے علاج کے لئے استعمال کی جا سکتی ہے۔

ان کے علاوہ ڈاکٹرز بعض اور علامات مثلاً گھبراہٹ کم کرنے کے لئے بھی آپ کو کلونازیپام تجویز کر سکتے ہیں۔

کلونازیپام ہرگز استعمال نہ کریں اگر؛
- اگر آپ کو پہلے کلونازیپام سے الرجی کا ری ایکشن ہو چکا ہو
- آپ کو طویل عرصے کی پھیپھڑوں کی شدید بیماری ہو
- اگر آپ کو جگر کی شدید بیماری ہو
- اگر آپ کو پہلے سے کسی نشہ آور چیز یا دوا کی عادت ہو

کلونازیپام شروع کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں اگر آپ کو کوئی بھی جسمانی یا ذہنی بیماری ہو، اور خصوصاً ان میں سے کوئی بیماری ہو؛
- جگر، گردوں یا پھیپھڑوں کی بیماری
- بلڈ پریشر کم یا زیادہ ہونا
- مائی ایستھینیا گریوس (Myasthenia Gravis)
- سلیپ ایپنیا (نیند کی ایک بیماری جس میں سوتے میں سانس چند لمحے کے لئے بند ہو جاتی ہے یا بہت ہلکی ہو جاتی ہے)
- کالا موتیا
- ڈپریشن، سائیکوسس، شیزوفرینیا یا خود کشی کے خیالات
- پورفیریا (Porphyria)
- اگر آپ الکحل پیتے ہوں
- اگر آپ کو دودھ ہضم نہ کر سکنے کی بیماری ہو
- اگر آپ کو کسی بھی اور دوا سے الرجی ہوئی ہو

اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں اگر آپ حاملہ ہوں یا بچے کو دودھ پلا رہی ہوں
- ان ماؤں کے مقابلے میں جو حمل کے دوران اپنی مرگی کی بیماری کے علاج کے لئے صرف ایک دوا لے رہی ہوں، جو مائیں ایک سے زیادہ دوائیں لے رہی ہوں ان کے بچوں میں پیدائشی نقص ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
- اگر آپ حمل کے دوران کلونازیپام لیتی رہی ہوں تو پیدائش کے فوراً بعد آپ کے بچے میں کلونازیپام بند کرنے کی علامات (withdrawal symptoms) مثلاً بدن کا درجہٴ حرارت کم ہو جانا، بازوؤں ٹانگوں کا بالکل ڈھیلا پڑ جانا، دودھ پینے میں مشکل ہونا، سانس لینے میں مشکل ہونا، وغیرہ ہو سکتی ہیں۔
- اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں کہ اگر حمل کے دوران آپ کے لئے کلونازیپام لینا ضروری ہو تو اس سے آپ کے لئے اور آپ کے بچے کے لئے کیا فائدے اور نقصانات ہو سکتے ہیں۔
- جو مائیں اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہوں کلونازیپام ماں کے دودھ کے ذریعے ان کے بچے کے جسم میں منتقل ہو سکتی ہے۔ اس سے بچے کو غنودگی ہو سکتی ہے اور کھانے پینے میں مشکل ہو سکتی ہے۔ ان وجوہات کی بنا پہ یہ تجویز نہیں کیا جاتا کہ جو مائیں اپنے بچے کو دودھ پلا رہی ہوں وہ کلونازیپام استعمال کریں۔

اگر آپ اور دوائیاں لے رہے ہوں تو
اگر کلونازیپام بعض مخصوص دواؤں کے ساتھ لی جائے تو دونوں دوائیں ساتھ لینے سے ری ایکشن ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کوئی بھی دوا لے رہے ہوں، اور خصوصاً مندرجہ ذیل دوائیوں میں سے کوئی بھی دوا لے رہے ہوں، تو کلونازیپام شروع کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر کو ضرور بتا دیں۔ (ان دوائیوں کے علاوہ بعض اور دوائیوں سے بھی کلونازیپام کے ساتھ ری ایکشن ہو سکتا ہے، اس لئے آپ کے ڈاکٹر کو ان تمام دوائیوں کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے جو آپ لے رہے ہوں)؛
- نیند لانے والی یا گھبراہٹ کو کم کرنے والی کوئی بھی دوا
- اینٹی ڈپریسنٹ دوائیں
- مرگی کے علاج کی اور دوائیں
- الرجی کے علاج کی بعض دوائیں مثلاً اینٹی ہسٹامین ادویات
- درد کی بعض دوائیں
- عضلات کو ریلیکس کرنے والی دوائیں (muscle relaxants)
- انیستھیسیا میں استعمال ہونے والی دوائیں
- سیمیٹیڈین (Cimetidine)
- ڈائی سلفیرام (disulfiram)

جب آپ کلونازیپام لینا شروع کریں توگاڑی اور مشینری چلانے سے احتیاط کریں جب تک کہ آپ کو اندازہ نہ ہو جائے کہ آپ کو اس سے کتنی غنودگی ہوتی ہے اور آپ کی کارکردگی اور ری ایکشن ٹائم پہ کتنا اثر پڑتا ہے۔

اگر آپ کلونازیپام طویل عرصے سے لے رہے ہوں تو اسے ہر گز اچانک بند نہ کریں کیونکہ اس سے مندرجہ ذیل مضر اثرات ہو سکتے ہیں؛
- شدید گھبراہٹ
- رعشہ
- نیند اڑ جانا
- ہوش و حواس صحیح نہ رہنا
- عضلات میں اکڑن
- ٹینشن، بے چینی، چڑچڑاپن
- پیٹ خراب ہو جانا، متلی سی محسوس ہونا
- پسینہ زیادہ آنا

بعض مریضوں کو کلونازیپام اچانک بند کرنے پہ یہ شدید مضر اثرات ہوسکتے ہیں؛
- غیبی آوازیں آنے لگنا، غیر مرئی چیزیں نظر آنے لگنا
- مرگی کے دورے
- ہوش وحواس برقرار نہ رہنا، ہذیان کی سی کیفیت ہو جانا

جب اس طرح کے شدید مضر اثرات نظر آنے لگیں تو عام طور سے مریض کو ہسپتال میں داخلے اور علاج کی ضرورت پڑ جاتی ہے، اس لئے اگر آپ طویل عرصے سے کلونازیپام لے رہے ہوں تو اسے کبھی بھی اچانک خود سے بند نہ کریں، بلکہ ڈاکٹر کے زیرِ نگرانی بہت آہستہ آہستہ بند کریں!

کلونازیپام کے استعمال سےممکنہ مضر اثرات (سائیڈ ایفیکٹس)
تمام دوائیوں کے کچھ نہ کچھ مضر اثرات ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثر مضر اثرات کم شدّت کے ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ کم یا ختم ہو جاتے ہیں۔ ان کی وجہ سے دوا بند کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن کچھ مضر اثرات زیادہ شدید نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے فوراً دوا بند کرنا ضروری ہوتا ہے۔ دوا کےمعلوماتی کتابچے میں بے شمار مضر اثرات لکھے ہوئے ہوتے ہیں جو دنیا میں کبھی بھی کسی بھی مریض کو ہوئے ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کو ان میں سے بیشتر یا کوئی بھی مضر اثر نہ ہو۔

کم شدّت کے مضر اثرات (اپنے ڈاکٹر کو بتائیں اگر یہ آپ کے لئے تکلیف دہ ہوں)
- غنودگی، تھکن, سر درد، صبح اٹھنے کے بعد نشہ ٹوٹنے کی سی کیفیت محسوس ہونا، ڈراؤنے خواب آنا
- چکر آنا، چلنے میں لڑکھڑاہٹ ہونا, رعشہ, عضلات (muscles) میں کمزوری
- یادداشت کی کمزوری، توجہ برقرار رکھنے میں مشکل ہونا، ہوش و حواس مکمل برقرار نہ رہنا
- الفاظ منہ سے واضح نہ نکلنا (slurred speech)
- دل کی دھڑکن تیز محسوس ہونا
- متلی

شدید مضر اثرات (اگر یہ نمودار ہوں تو فوراً اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں یا ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ جائیں)
- سانس لینے میں مشکل ہونے لگنا
- اچانک گھبراہٹ یا بے انتہا ایکسائٹمنٹ
- غیبی آوازیں آنے لگنا یا غیر مرئی چیزیں نظر آنے لگنا
- ایسے خیالات آنے لگنا جو حقیقت پہ مبنی نہ ہوں
- نیند بالکل اڑ جانا
- شدید الرجی کا ری ایکشن: جس میں سانس لینے میں مشکل ہو سکتی ہے، چہرے، ہونٹوں، زبان، گلے یاجسم کے دوسرے حصوں کی سوجن ہو سکتی ہے جس سے سانس لینے میں نگلنے میں مشکل ہو سکتی ہے، یا جلد میں الرجی کی علامات نمودار ہو سکتی ہیں۔
- ہوش وحواس میں کمی ہونے لگنا

ان کے علاوہ بھی کچھ مضر اثرات ہوسکتے ہیں ا سلئے بہتر ہوتا ہے کہ اگر آپ کو دوا شروع کرنے کے بعد کچھ نئی تکلیف دہ علامات شروع ہوں تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں۔

اینگزائٹی کی کسی بھی دوا کو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیراچانک ہرگز بند نہ کریں کیونکہ ایسا کرنا خطرناک ہو سکتا ہے!

20/04/2026

سوچنے کے غیر مفید طریقے

Cognitive distortions

ایرون ٹی بیک کاکہنا یہ تھا کہ ڈپریشن میں کثرت سے آنے والے منفی خیالات صرف اداس مزاج کی وجہ سے ہی نہیں آتے، بلکہ وہ ڈپریشن کی بیماری کا ایک بنیادی حصّہ ہوتے ہیں۔ یہ خیالات ایک دفعہ آنے کے بعد اس لئے طویل عرصے تک موجود رہتے ہیں کیونکہ بعض لوگوں میں سوچنے کے بعض غیر مفید اور غیر صحتمندانہ طریقے موجود ہوتے ہیں۔

Resuming work after two months. Such a lovely welcome by the team.
20/04/2026

Resuming work after two months. Such a lovely welcome by the team.

الپرازولام کو کم اور بند کرنے کا ایک محفوظ طریقہڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ(ڈس کلیمر...
19/04/2026

الپرازولام کو کم اور بند کرنے کا ایک محفوظ طریقہ

ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ

(ڈس کلیمر: اس تحریر کا مقصد نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی دوائیوں کے بارے میں آگہی پھیلانا اور عمومی معلومات فراہم کرنا ہے، آپ کی بیماری کے علاج کے بارے میں کلینیکل مشورہ دینا نہیں۔ علاج کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔)

پچھلے کچھ دنوں میں بے شمار احباب نے پوچھا کہ ہم کئی سالوں سے الپرازولام یا برومازیپام یا کلونازیپام لے رہے ہیں اور ہم سے اب وہ بند نہیں ہو رہی۔ اس کو بند کرنے کا کوئی آسان طریقہ بتا دیں۔ میں عموماً اس سے گریز کرتا ہوں کیونکہ ان دوائیوں کو کئی سال کے استعمال کے بعد اچانک بند کرنے سے مرگی کے دورے بھی پڑ سکتے ہیں (جو میں خود دو مریضوں میں دیکھ چکا ہوں) اور ہذیان (delirium) کی سی کیفیت بھی طاری ہو سکتی ہے، جو میں کئی مریضوں میں دیکھ چکا ہوں۔ اسی لیے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ خود سے ان دوائیوں کو بند نہ کریں بلکہ کسی ماہر ڈاکٹر کے زیر٬ نگرانی بند کریں۔ پھر خیال ہوا کہ بہت سے ڈاکٹروں کو بھی ان دوائیوں کو بند کرنے کا محفوظ طریقہ نہیں معلوم ہوتا، اور یہ صرف پاکستان میں نہیں ہے بلکہ باہر بھی نظر آتا ہے اس لیے خیال ہوا کہ ایک محفوظ طریقہ لکھ دوں جو ہم خود اپنے مریضوں کو ایڈوائس دیتے ہیں، جس سے شدید ودڈرال علامات کا خطرہ کم سے کم ہو۔ لیکن اس طریقے کو خود سے استعمال نہ کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر مریض میں دوا لینے کا بھی اور بند کرنے کا اثر الگ ہوتا ہے۔ ایک ماہر ڈاکٹر کا کام یہی ہوتا ہے کہ وہ ان اثرات پہ نظر رکھے اور اس حساب سے ہر مریض کا انفرادی علاج کرے۔ یہ تحریر اپنے ڈاکٹر سے شیئر کر لیں اگر آپ کا یہ دوائیں بند کرنے کا ارادہ ہو۔

فرض کریں ہمارا ایک مریض پچھلے سال بھر سے الپرازولام آدھا (0.5) ملی گرام دن میں ایک دفعہ مثلاً رات کو سوتے وقت لے رہا ہے۔ اگر اس کا الپرازولام بند کرنے کا ارادہ ہو تو ہم اسے یہ کہتے ہیں کہ ایک رات الپرازولام آدھا ملی گرام لے، اور اس کی اگلی رات الپرازولام نہ لے اور اس کی جگہ ڈایازیپام دس ملی گرام لے۔ (یہ ایک تخمینہ ہوتا ہے اس لیے چند ایک مریضوں کو دس ملی گرام ڈایازیپام لینے کے باوجود تھوڑی بہت یا زیادہ ودڈرال علامات ہو سکتی ہیں، اس لیے پندرہ ملی گرام ڈایازیپام سے شروع کرنا پڑتا ہے۔) پھر اس دس ملی گرام ڈوز کو مہینہ بھر لیتا رہے یا جب تک کہ ودڈرال علامات تقریباً مکمل ختم ہو جائیں۔

ایک مہینے بعد ہم اسے یہ کہتے ہیں کہ دس ملی گرام ڈوز کو کم کر کے اسے نو ملی گرام کر دے اور پھر اس نو ملی گرام ڈوز کو ایک مہینے یااس وقت تک لیتا رہے کہ جب تک ودڈرال علامات تقریباً ختم نہ ہو جائیں۔

الپرازولام اور تمام بینزو دوائیوں (لورازیپام، برومازیپام) کو بہت آہستہ آہستہ بند کرنا کیوں ضروری ہے(ڈاکٹر سید احمر ایم آ...
18/04/2026

الپرازولام اور تمام بینزو دوائیوں (لورازیپام، برومازیپام) کو بہت آہستہ آہستہ بند کرنا کیوں ضروری ہے

(ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ)

ڈس کلیمر: اس تحریر کا مقصد نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی دوائیوں کے بارے میں آگہی پھیلانا اور عمومی معلومات فراہم کرنا ہے، آپ کی بیماری کے علاج کے بارے میں کلینیکل مشورہ دینا نہیں۔ علاج کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

یاد رکھیں کہ جو شخص بھی کسی بینزو بشمول الپرازولام کو تین چار ہفتے سے زیادہ روزانہ استعمال کرے اس کا دماغ اور جسم اس دوا کے عادی (dependent) ہونے لگتے ہیں، اور اس نے یہ دوا جتنے زیادہ عرصے کے لیے اور جتنے زیادہ ڈوز میں استعمال کی ہو، یہ ڈیپینڈینس اتنی ہی شدید ہوتی ہے۔ ہم سب کے دماغ میں ایک فطری کیمیکل گابا (GABA) ہوتا ہے جو ہمیں پر سکون ہونے میں مدد دیتا ہے اور رات کو سونے میں مدد دیتا ہے۔ یہ گابا دماغ میں جن جنہوں پہ لگ کے یا جڑ کے اپنا کام کرتا ہے انہیں گابا ریسیپٹرز (GABA receptors) کہتے ہیں۔ بینزو دوائیاں مثلاً الپرازولام اور زی دوائیاں جیسے زوپی کلون جنہیں نیند کو بہتر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، انہیں گابا ریسیپٹرز پہ لگ کے کام کرتی ہیں اور ہمیں پر سکون کرتی ہیں اور نیند آنے میں مدد دیتی ہیں۔

لیکن ہوتا یہ ہے کہ جب کوئی شخص یہ بینزو دوائیاں مثلاً الپرازولام طویل عرصے کے لیے استعمال کرتا رہتا ہے تو اس کے دماغ میں فطری یا نیچرل طریقے پہ پیدا ہونے والی گابا کی مقدار کم ہونے لگتی ہے اور گابا ریسیپٹرز کی تعداد بھی کم ہونے لگتی ہے۔ اب یہ سمجھ لیں کہ اس کا دماغ سونے اور پرسکون رہنے کے لیے فطری گابا کے بجائے باہر سے آنے والی ان دوائیوں پہ انحصار کرنے لگتا ہے اور ان کا محتاج یا ان پہ ڈیپینڈینٹ ہو جاتا ہے۔ پھر اگر یہ دوائیں اگر اچانک کم یا بند کر دی جائیں تو چونکہ دماغ میں نیچرل گابا کارکردگی کم ہے اس لیے دماغ گابا کی شدید کمی کا اچانک شکار ہو جاتا ہے اور ایک شدید ری ایکشن میں چلا جاتا ہے جسے ودڈرال (withdrawal reaction) ری ایکشن کہتے ہیں۔ اگر کسی نے یہ دوائیں صرف کچھ ہفتوں کے لیے لی ہوں یا کم ڈوز میں لی ہوں تو یہ رد ِ عمل کم شدت کا ہوتا ہے جس میں انسان کو شدید گھبراہٹ ہوتی ہے اور نیند اڑ جاتی ہے۔ لیکن اگر کسی نے یہ دوائیں مثلاً الپرازولام مہینوں یا سالوں کے لیے اور زیادہ ڈوز میں لی ہو تو یہ ری ایکشن بہت شدید اور جان لیوا بھی ہو سکتا ہے مثلاً مرگی کے دورے پڑنا، ہذیان (delirium) کی سی کیفیت طاری ہو جانا جس میں انسان اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے، اسے غیبی آوازیں سنائی یا غیر مرئی چیزیں دکھائی دینے لگتی ہیں، یا بلا وجہ کے شکوک و شبہات ہونے لگتے ہیں۔

اچھی بات یہ ہے کہ بینزو دوائیوں کے استعمال سے دماغ میں گابا مستقل طور پہ کم نہیں ہو جاتا بلکہ اگر ان دوائیوں کا ڈوز آہستہ آہستہ کم کیا جاتا رہے تو دماغ میں فطری طور پہ پیدا ہونے والے گابا کی مقدار آہستہ آہستہ بڑھنے لگتی ہے اور دماغ کی کارکردگی بہتر ہونے لگتی ہے۔

بہت سے لوگ ہم سے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب مجھے یہ دوا بند کیے ہوئے تو اب تین یا چار ہفتے ہو گئے، آپ نے تو کہا تھا کہ یہ دوا ایک دفعہ بند کرنے خون سے ہفتے دو ہفتے میں نکل جاتی ہے، پھر مجھے اب تک ودڈرال علامات کیوں ہو رہی ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تو صحیح ہے کہ شارٹ یا انٹرمیڈیٹ ایکٹنگ بینزو دوائیاں مثلاً الپرازولام بند کرنے کے بعد ہفتے بھر میں خون سے مکمل طور پہ خارج ہو جاتی ہیں۔ لیکن ان کے طویل المدتی استعمال کی وجہ سے دماغ میں جو تبدیلیاں آتی ہیں مثلاً گابا کا اور گابا ریسیپٹرز کا کم ہو جانا، ان تبدیلیوں کو ریورس (reverse) ہونے یعنی واپس نارمل حالت میں آنے میں مہینوں لگتے ہیں اور سال بھر بھی لگ سکتا ہے۔ اور جب تک یہ تبدیلیاں ریورس نہ ہوں ودڈرال علامات مکمل طور پہ ختم نہیں ہوتیں۔ اور خاص طور سے جو لوگ کوئی بینزو سالوں سے یا زیادہ ڈوز میں لے رہے ہوں ان کے دماغ میں ان تبدیلیوں کو واپس نارمل ہونے میں اتنا ہی زیادہ وقت لگتا ہے۔

آہستہ آہستہ دوا کم کرنے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ دماغ کو صحت مند ہونے یا ریکور (recover) کرنے کا وقت دیا جائے تا کہ جب تک دوا مکمل بند ہو دماغ میں گابا کی مقدار اس کے قریب قریب ہو کہ انسان فطری طور پہ کسی دوا کے بغیر سو سکے اور پر سکون رہ سکے۔

ایک وضاحت: فیس بک نے آج مجھے اپنی یہ پالیسی بھیجی جو  تمام ڈاکٹروں پہ لاگو ہوتی ہے  کہ ہر پوسٹ پہ یہ واضح کریں کہ یہ صرف...
17/04/2026

ایک وضاحت: فیس بک نے آج مجھے اپنی یہ پالیسی بھیجی جو تمام ڈاکٹروں پہ لاگو ہوتی ہے کہ ہر پوسٹ پہ یہ واضح کریں کہ یہ صرف عمومی معلومات فراہم کرنے اور آگہی بڑھانے کے لیے ہے، اور کسی ایک فرد کا علاج کرنے کے لیے نہیں ہے۔ علاج کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

جو احباب مجھ سے اپنے ذاتی علاج یا کسی رشتہ دار کے علاج کے بارے میں سوال پوچھتے ہیں، ان سے درخواست ہے کہ اب سے اپنے ڈاکٹر سے یہ سوال پوچھیں۔ جزاک اللہ

کلونازیپام کے طویل استعمال کے بعد اسے اچانک بند کرنے پہ ہونے والی تکلیف دہ (ودڈرال) علامات(Clonazepam, Rivotril, Naze, C...
17/04/2026

کلونازیپام کے طویل استعمال کے بعد اسے اچانک بند کرنے پہ ہونے والی تکلیف دہ (ودڈرال) علامات

(Clonazepam, Rivotril, Naze, Clonatril, Magura, Clonazep, Setril, C-Pam, Paxam, etc.)

(ڈاکٹر سید احمر ایم آر سی سائیک، کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ، نیوزی لینڈ)

ڈس کلیمر: اس تحریر کا مقصد نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی دوائیوں کے بارے میں آگہی پھیلانا اور عمومی معلومات فراہم کرنا ہے، آپ کی بیماری کے علاج کے بارے میں کلینیکل مشورہ دینا نہیں۔ علاج کے لیے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

اگر آپ کلونازیپام طویل عرصے سے لے رہے ہوں تو اسے ہر گز اچانک بند نہ کریں کیونکہ اس سے مندرجہ ذیل مضر اثرات ہو سکتے ہیں؛
- شدید گھبراہٹ
- رعشہ
- نیند اڑ جانا
- ہوش و حواس صحیح نہ رہنا
- عضلات میں اکڑن
- ٹینشن، بے چینی، چڑچڑاپن
- پیٹ خراب ہو جانا، متلی سی محسوس ہونا
- پسینہ زیادہ آنا
بعض مریضوں کو کلونازیپام اچانک بند کرنے پہ یہ شدید مضر اثرات ہوسکتے ہیں؛
- غیبی آوازیں آنے لگنا، غیر مرئی چیزیں نظر آنے لگنا
- مرگی کے دورے
- ہوش وحواس برقرار نہ رہنا، ہذیان کی سی کیفیت ہو جانا
جب اس طرح کے شدید مضر اثرات نظر آنے لگیں تو عام طور سے مریض کو ہسپتال میں داخلے اور علاج کی ضرورت پڑ جاتی ہے، اس لئے اگر آپ طویل عرصے سے کلونازیپام لے رہے ہوں تو اسے کبھی بھی اچانک خود سے بند نہ کریں، بلکہ ڈاکٹر کے زیرِ نگرانی بہت آہستہ آہستہ بند کریں!

Address

Palmerston North

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Syed Ahmer - Psychiatrist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Featured

Share

Category