24/08/2025
بچہ کھانا نہیں کھاتا۔
زیادہ تر مائیں اس ایک مسئلے کی وجہ سے بہت پریشان رہتی ہیں۔ کوشش کرتے ہیں حل ڈھونڈنے کی 🙂
عمر 6 ماہ سے کم :
6 ماہ سے کم عمر بچے کو کسی بھی قسم کا کھانا، جوس، پتلی خوراک کچھ بھی دینے کی ضرورت نہیں ہوتی نا ہی ارد گرد کے لوگوں کا پریشر لینے کی ضرورت ہے۔ 6 ماہ کی عمر تک ماں کا دودھ بچے کی صحت کے لیئے کافی ہے مزید کچھ بھی دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔
عمر 6 ماہ سے ایک سال:
اس عمر میں بچہ ایک دم سے سب کچھ کھانا نہیں شروع کر سکتا۔ بچہ پہلے صرف دودھ پیتا آرہا تھا تو اب آج ہم نے ٹھوس غذا شروع کروائی اور آج ہی بچے نے کھانا شروع کر دی ایسا ممکن نہیں، ذائقہ (taste develop) آنے میں کچھ وقت لگے گا۔ جب ہم بھی کچھ نیا ٹرائے کرتے ہیں تو کچھ وقت لگتا ہے اس چیز کو قبول کرنے میں ، اسی طرح بچے بھی ایک انسان ہیں ان کے بھی احساست، پسند نا پسند ہے۔
اب کرنا کیا ہے بی ایل ڈبلیو (blw) سے شروع کریں جو پھل یا سبزی سخت ہے اس کو تھوڑا نرم کر لیں بھاپ دے کر ۔ بچے کے سامنے رکھ دیں ، جتنا بچے کا دل کرے گا وہ اتنا کھا لے گا۔ اگر ہم خود پتلی کر کے غذا دیں گے تو ہم بچے کو زیادہ بھی کھلا سکتے ہیں اور کم بھی۔ تو بچے کو اپنی مرضی سے کھانے دیں۔
پہلے سبزیاں اور پھل دیں پھر آہستہ آہستہ اگلے مہینوں میں جو بھی گھر میں کھانا بن رہا ہے وہ بغیر نمک کے نکال لیں اور بچے کو دیں روٹی کے ساتھ۔
میٹھا دینے کی ضرورت نہیں بچے کی ضرورت کے مطابق میٹھا پھلوں سے مل جاتا ہے۔
اس عمر میں بچہ کھانا سیکھتا ہے، جیسا ہم کریں گے ویسے ہی بچے کریں گے، ناشتہ، دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا میں بچے کو ساتھ بٹھائیں بچے کی عادت بنے گی کھانا کھانے کی۔
یاد رہے ایک سال تک بچے کی اصل ضرورت اور اصل غذائیت ماں کا دودھ ہے اس لیئے ہمیشہ پہلے ماں کا دودھ پلایا جائے پھر اس کے آدھا پون گھنٹے بعد ٹھوس غذا دی جائے۔
اگر لگے کہ بچہ پھر بھی کچھ نہیں کھا رہا تو ماں کا دودھ پلانے کے آدھا گھنٹہ، پون گھنٹے یا ایک گھنٹے بعد دیں ۔ جب بچہ کو بھوک لگے گی وہ لے گا کھانا۔
غذا دینے کا مقصد بچے کو کھانا کھانا سکھانا ہوتا ہے۔
ایک سال سے دو سال تک:
ایک سال کے بعد بھی بچے ماں کے دودھ سے غذائیت حاصل کرتے ہیں۔ اور کھانا کھانا سیکھے چکے ہوتے ہیں پچھلے 6 ماہ میں تو آسانی سے کھانا نہیں کھاتے۔
لیکن اگر آپ کا بچہ نہیں کھا رہا تو اصل کام یہی ہے کہ مل کر کھانا کھایا جائے اور بچے کو ساتھ شامل رکھا جائے۔
اب ایک سال بعد پہلے ٹھوس غذا دی جائے گی یعنی کھانا پھر اس کے بعد بچے کو ماں کا دودھ پلایا جائے گا آدھے، پونے گھنٹے بعد۔
ایک سال کے بعد ہم بچے کو وہی کھانا دے سکتے جو ہم خود کھا رہے ہوتے ہیں۔
بچے کر ہر 2 سے ڈھائی گھنٹے بعد کچھ کھانے کو دیں، درمیانی وقفہ میں کچھ نہ دیں اگر آپ چاہتے ہیں بچہ اچھی طرح کھانا کھائے۔
کھانوں کے درمیانی وقفہ میں پانی دیں اور کھانا کھانے کے بعد ماں کا دودھ پلائیں۔
بچوں کو جب بھوک لگتی ہے وہ کھاتے ہیں، اگر ابھی اس وقت بچہ نہی کھا رہا ، بچے کا موڈ نہیں ہے تو کوئی پریشانی کی بات بہیں کچھ دیر بعد دے دیں۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بچے نے ابھی کھانا نہیں کھایا اور ہم نے اسے کوئی جنک فوڈ دے دیا چپس، سلانٹی، بسکٹ وغیرہ۔
2 سال سے بڑے بچے:
بہت سی مائیں پریشان رہتی ہیں بچہ کچھ نہیں کھا رہا تو مجبوری میں فیڈر دینا پڑتا ہے، کچھ تو جائے پیٹ میں، اور یہاں ہم سب سے بڑی غلطی کر جاتے ہیں۔
سب سے پہلے تو فیڈر لگانے کی ضرورت نہی
دودھ دینے کے لیئے گلاس، کپ اور بہت سے برتن ہیں وہ دے سکتے، فیڈر سے دانت خراب ہو جاتے ہیں بچوں کے۔
دوسری بات 2 سال کے بعد بچے کو 500 ملی لیٹر سے زیادہ دودھ پینے کی بلکل بھی ضرورت نہیں ہے، اگر بچہ دو کپ سے زیادہ دودھ پیئے گا تو آئرن ڈیفشنسی اینیما کا شکار ہو جائے گا، اس بیماری میں بچے کو آپ جتنا مرضی آئرن دیں وہ بچے کے جسم میں جذب ہی نہیں ہو گا کیونکہ دودھ نے جذب کرنے ہی نہیں دینا۔
ساتھ کھانا کھائیں۔
بچے کو نہیں پسند تو چھوڑ دیں تھوڑی دیر جب بھوک لگے کی بچہ فورا آ کے کھا لے گا۔
اگر اب نہیں کھانا کھا رہا تو مائیں بھاگتی ہیں میں کچھ اور بنا دیتی ہوں یا باہر سے کچھ منگوا دیتی ہوں۔
یہی سے عادات خراب ہوتی ہیں اور بچہ گھر کا کھانا نہیں کھاتا۔ ہو سکتا ہے کوئی ایک چیز ، کوئی ایک سبزی یا ایک پھل نا پسند ہو بچے کو لیکن گھر کے ہر کھانے پہ بچے کا منع کرنا اور ماں کا باہر سے کچھ منگوا کر دینا مسائل کو جنم دیتا ہے۔
بچے کا پیٹ دودھ سے نا بھریں اسے غذائیت سے بھرپور کھانا دیں۔
بڑے بچوں کو روزانہ 45 سے 90 گرام بیف کھانا چاہیئے کیونکہ اس میں آئرن بچے کی صحت کے لیئے بے حد ضروری ہے۔
اب سوال آتا ہے اتنا مہنگا گوشت روز کہاں سے دیں تو یہ تقریبا ایک مہینے کا دو کلو بنتا ہے اور اس کو روز کے حساب سے تقسیم کر کے بچے کو دیں کباب بنا کے، سالن بنا کے، یا جس طرح بچہ پسند کرے۔
اسے کے علاوہ پالک میں آئرن موجود ہے بیف نہیں دینا چاہتے تو پالک ضرور دیں اس کے علاوہ لال لوبیا بھی دے سکتے ہیں۔
اب سوال آتا ہے آئرن جسم میں جذب کیسے ہو اس کے لیئے وٹامن سی ضروری ہے جو کے کھٹے پھل سے ملے گا، سٹرابیری ، ٹماٹر، گہری سبز سبزیوں سے۔
کوشش کرتی رہیں بچے کھانا کھانے لگ جائیں گے۔