Doctor ABDUL Sattar

Doctor ABDUL Sattar PRIVATE SENIOR MEDICAL PRECTIONER FOR CHILDREN'
MAN
&
WOMEN
Since 1992.. FEE only Rs. 250/-

خارش والی جلد اور آپ کے جگر کے درمیان تعلق   کیا آپ کو کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو بلا وجہ خارش ہو رہی ہے—خاص طور پ...
26/02/2026

خارش والی جلد اور آپ کے جگر کے درمیان تعلق
کیا آپ کو کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو بلا وجہ خارش ہو رہی ہے—خاص طور پر رات کو؟ 🥴
ہو سکتا ہے یہ خشک جلد نہ ہو… یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کا جگر مدد کے لیے بلا رہا ہو! 🧬

💥 لنک کیا ہے؟
آپ کا جگر آپ کے جسم کا ڈیٹوکس پاور ہاؤس ہے 🧽🛡️
یہ زہریلے مادوں، ہارمونز، ادویات اور ہاضمے کی ضمنی مصنوعات کو فلٹر کرتا ہے۔ لیکن جب یہ اوورلوڈ یا سست ہو تو، کچھ ڈرپوک ہو سکتا ہے:

👉 بائل ایسڈز اور ٹاکسن آپ کے خون کے دھارے میں مناسب طریقے سے فلٹر ہونے کے بجائے جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

👀 اور آپ کی جلد؟ یہ نوٹس کرتا ہے۔
جسم جلد کو ایک ثانوی ڈیٹوکس عضو کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ یہ زہریلا بیک اپ خارش، جلن، یا یہاں تک کہ خارش کو متحرک کر سکتا ہے۔

🧬 جگر کے کن حالات میں عام طور پر خارش ہوتی ہے؟

🔹کولیس Cholestasis - پت کا بہاؤ سست یا مسدود ہونا (حمل اور جگر کی بیماریوں میں عام)
🔹 فیٹی لیور - جگر کے خلیوں میں بہت زیادہ چربی جمع ہوتی ہے۔
🔹 ہیپاٹائٹس یا جگر کی سوزش
🔹 سروسس یا جگر کے زخم
🔹 ناقص نکاسی آب، سوزش، یا لمفی جمود کی وجہ سے جگر کا بند ہونا

اکثر، ہاتھوں، پیروں، یا اعضاء پر خارش بدتر ہوتی ہے، اور رات کو جب پت کی سطح بڑھ جاتی ہے تو یہ بدتر ہو سکتی ہے۔

🌿 معاون اقدامات (ہمیشہ صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والے سے چیک کریں)

✅ اپنے لمفیٹک نظام کو سپورٹ کریں (ہیلو، ایم ایل ڈی! 🙌)
✅ جگر کو پیاری غذائیں کھائیں: چقندر، آرٹچوک، کڑوی سبزیاں، ڈینڈیلین
✅ زہریلے مادوں کو صاف کرنے میں مدد کے لیے ہائیڈریٹڈ رہیں
✅ الکوحل اور پروسس شدہ چربی کو محدود کریں۔
✅ ارنڈ کے تیل کے پیک یا ہلکے جڑی بوٹیوں کے جگر کی مدد پر غور کریں (دودھ کی تھیسٹل، برڈاک جڑ وغیرہ)

✨ آخری سوچ
جلد اور جگر کا گہرا تعلق ہے۔
اگر آپ کو خارش ہو رہی ہے اور آپ اس کی وضاحت نہیں کر سکتے ہیں کہ کیوں — آپ کا لمف اور جگر توجہ کے لیے صرف سرگوشی کر رہے ہیں (یا چیخ رہے ہیں تو اس طرف توجہ دیں!)۔

ایک عام مرد کو دن میں تقریباً 2000 سے 3000 کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ وہ توانائی ہے جس سے جسم اپنا نظام چلاتا ہے، دل د...
25/02/2026

ایک عام مرد کو دن میں تقریباً 2000 سے 3000 کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ وہ توانائی ہے جس سے جسم اپنا نظام چلاتا ہے، دل دھڑکتا ہے، دماغ سوچتا ہے اور پٹھے کام کرتے ہیں۔ لیکن مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں ضرورت اور عادت کے درمیان فرق ختم ہو جاتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں دن کا آغاز اکثر دو گرم پراٹھوں سے ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ انڈہ، میٹھی چائے اور کبھی مکھن بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ ناشتہ وقتی طور پر پیٹ کو تسکین دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہ 1200 سے 1500 کیلوریز یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ یوں دن کا آغاز ہی اس توانائی سے ہوتا ہے جو آدھے دن کیلئے کافی تھی، مگر ہم نے اسے ایک وقت میں لے لیا۔

اس کے بعد دوپہر کا کھانا آتا ہے۔ سفید آٹے کی روٹیاں، چاول، سالن اور ساتھ کولڈ ڈرنک۔ شام کو پھر چائے کے ساتھ بسکٹ یا سموسے، اور رات کو دوبارہ بھرپور کھانا۔ اگر سب کو جمع کیا جائے تو ایک عام آدمی باآسانی 4000 سے 6000 کیلوریز روزانہ لے رہا ہوتا ہے، جبکہ اس کا جسم اتنی توانائی خرچ نہیں کر رہا ہوتا۔

یہ اضافی کیلوریز کہیں غائب نہیں ہوتیں۔ یہ ہمارے جسم میں چربی کی صورت میں جمع ہوتی رہتی ہیں۔ آہستہ آہستہ وزن بڑھتا ہے، پھر بلڈ پریشر، شوگر اور دل کی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ جو چیز وقتی لذت دیتی ہے، وہی بعد میں مستقل بیماری بن جاتی ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم اپنی پلیٹ سے اپنی بیماری خود پیدا کرتے ہیں، اور پھر اسی بیماری کے علاج کیلئے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ یوں ہماری بے احتیاطی کسی اور کی آمدنی بن جاتی ہے۔

مسئلہ پراٹھے، روٹی یا کھانے کا نہیں، مسئلہ مقدار اور شعور کا ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد بھی یہی کھاتے تھے، مگر وہ سارا دن جسمانی محنت کرتے تھے۔ آج ہماری زندگی کرسی، موبائل اور گاڑی تک محدود ہو گئی ہے، مگر ہماری خوراک وہی پرانی اور بھاری ہے۔

وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی عادتوں پر نظر ثانی کریں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ خوراک صرف ذائقہ نہیں، بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔ کم کھانا نہیں، بلکہ صحیح مقدار میں کھانا ہی صحت کی ضمانت ہے۔

اگر ہم نے آج اپنی پلیٹ کو درست نہ کیا، تو کل ہمیں اپنا بستر ہسپتال میں درست کرنا پڑے





゚viralシfypシ゚viralシalシ

وہ لوگ جو کروڑوں میں نمبر پلیٹ لیتے ہیں ذرا اپنی معاشرے پر نظر دوڑائیں😢
25/02/2026

وہ لوگ جو کروڑوں میں نمبر پلیٹ لیتے ہیں ذرا اپنی معاشرے پر نظر دوڑائیں😢

خوش رہیںہنسی مدافعتی نظام کو بڑھاتی ہے۔ ہنسی تناؤ کے ہارمونز کو کم کرتی ہے اور مدافعتی خلیوں اور انفیکشن سے لڑنے والے ای...
24/02/2026

خوش رہیں

ہنسی مدافعتی نظام کو بڑھاتی ہے۔ ہنسی تناؤ کے ہارمونز کو کم کرتی ہے اور مدافعتی خلیوں اور انفیکشن سے لڑنے والے اینٹی باڈیز کو بڑھاتی ہے، اس طرح بیماری کے خلاف آپ کی مزاحمت کو بہتر بناتی ہے۔
مضبوط شخصیت ، بہترین قوت ارادی، واضح باونڈریز والے لوگ زیادہ خوش رہتے ہیں۔ اگر آپ قدرتی طور پر جلدی مشکل حالات کا اثر لینے والے ہیں تو اپنے آس پاس کے لوگ اور دوست ایسے بنائیں جو مشکلوں کا ہنس کر سامنا کرنا جانتے ہوں۔

V for victim and
V for Victor
آپ کی چوائس ہے کہ آپ نے وکٹم ذہنیت اپنانی ہے یا وکٹر۔
آپ جن لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں ان کا اثر آپ پر پڑتا ہے۔ خوش باش لوگوں کے ساتھ روابط رکھیں اور رونے پیٹنے شکایت کرنے والوں سے کنی کترا لیں۔
آپکی ذہنی صحت بہت اہم ہے۔ آپکی ایموشنل سپورٹ باہر سے نہیں سب سے پہلے آپ کے اپنے اندر سے آنی چاہیے ۔ آپ کو اللہ نے اس قابل بنایا ہے کہ آپ اپنے آپ کو بہترین حالت میں رکھ سکتے ہیں اپنی سوچ درست رکھ کر۔
خوش رہیں خوش رکھیں تب ہی خوشی کا سائیکل چلتا رہے گا۔




In My Clinic
24/02/2026

In My Clinic

Creatinine     کریٹینائن کیا ہےکریٹینائن ایک فضلہ مواد ہے جو پٹھوں میں پیدا ہوتا ہے۔  کریٹینائن پروٹین سے بنا ہے۔  کیمیا...
22/02/2026

Creatinine کریٹینائن کیا ہے
کریٹینائن ایک فضلہ مواد ہے جو پٹھوں میں پیدا ہوتا ہے۔ کریٹینائن پروٹین سے بنا ہے۔ کیمیائی فضلہ عام پٹھوں کے کام کی ضمنی پیداوار ہے۔ ایک شخص میں جتنی زیادہ طاقت ہوتی ہے، وہ جتنی زیادہ کریٹینائن پیدا کرتا ہے، ایک شخص جتنا زیادہ پروٹین لیتا ہے، اتنا ہی زیادہ کریٹینائن کی سطح بڑھ جاتی ہے۔

بہت زیادہ پروٹین کھانے سے اس نامیاتی مرکب کی تھوڑی مقدار بھی بن سکتی ہے۔ آپ کا خون آپ کے گردے میں کریٹینائن پہنچاتا ہے، جہاں آپ کا جسم اسے آپ کے پیشاب کے ذریعے فلٹر کرتا ہے۔

کریٹینائن کی اعلی سطح ہمارے گردے کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔

کریٹینائن کی اعلی سطح گردے کے سڑے ہوئے فعل یا گردے کی بیماری کی نشاندہی کرتی ہے۔ کریٹینائن کی اعلی سطح کا مطلب ہے کہ آپ کے گردے صحیح طریقے سے کام نہیں کر رہے جیسا کہ انہیں کرنا چاہیے۔ کریٹینائن کی سطح جو بچوں میں **2.0 یا اس سے زیادہ ** اور بالغوں میں 5.0 یا اس سے زیادہ تک پہنچ جاتی ہے گردے کی شدید خرابی کی طرف اشارہ کر سکتی ہے۔ مردوں میں عام طور پر خواتین کے مقابلے میں کریٹینائن کی سطح زیادہ ہوتی ہے کیونکہ خواتین میں مردوں کے مقابلے کم عضلات ہوتے ہیں۔

نارمل کریٹینائن لیولز:-

کریٹینائن کی عام سطح کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ کے پاس کتنے عضلات ہیں۔

- بالغ مرد کے لیے - 0.9 سے 1.3 ملی گرام/ڈی ایل

- بالغ خواتین کے لیے - 0.6 سے 1.1 ملی گرام/ڈی ایل

- 3 سے 18 سال کی عمر کے بچوں کے لیے - 0.5 سے 1.0 ملی گرام/ڈی ایل

**- 3 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے - 0.3 سے 0.7 mg/dL **

کریٹینائن کی سطح کو کم کرنے کے دو طریقے:-

خون میں کریٹینائن کی سطح کی تشکیل کو روکیں۔
اسے پیشاب کے ذریعے باہر نکالیں۔



20/02/2026
فیٹی لیور — جگر کی خاموش بیماری کو سنجیدگی سے لیںفیٹی لیور ایک ایسی حالت ہے جس میں جگر کے خلیوں میں غیر ضروری چکنائی جمع...
19/02/2026

فیٹی لیور — جگر کی خاموش بیماری کو سنجیدگی سے لیں
فیٹی لیور ایک ایسی حالت ہے جس میں جگر کے خلیوں میں غیر ضروری چکنائی جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ ابتدا میں یہ بیماری خاموش رہتی ہے، مگر وقت کے ساتھ یہ جگر کی سوزش، کمزوری اور حتیٰ کہ سیروسس جیسے سنگین مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ آج کل غیر متوازن غذا اور سست طرزِ زندگی کی وجہ سے یہ مسئلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
فیٹی لیور کی بڑی وجوہات میں موٹاپا، شوگر، ہائی کولیسٹرول، زیادہ چکنائی والی غذا، میٹھے مشروبات اور ورزش کی کمی شامل ہیں۔ کچھ افراد میں یہ مسئلہ زیادہ دواؤں کے استعمال یا الکحل کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے، جبکہ کئی کیسز میں یہ “نان الکوحلک فیٹی لیور” ہوتا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں اکثر کوئی واضح علامت نہیں ہوتی، لیکن بعض افراد کو دائیں جانب پیٹ کے اوپری حصے میں ہلکا درد، تھکن یا بھاری پن محسوس ہو سکتا ہے۔ اسی لیے باقاعدہ الٹراساؤنڈ اور لیور فنکشن ٹیسٹ کروانا اہم ہے، خاص طور پر اگر وزن زیادہ ہو یا شوگر کا مسئلہ ہو۔
بچاؤ اور علاج کا سب سے مؤثر طریقہ وزن میں کمی اور صحت مند طرزِ زندگی ہے۔ روزانہ کم از کم 30 منٹ واک کریں، میٹھے مشروبات اور تلی ہوئی اشیاء کم کریں، سبزیاں، دالیں اور فائبر والی غذا زیادہ لیں۔ پانی مناسب مقدار میں پئیں اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی سپلیمنٹ استعمال نہ کریں۔
یاد رکھیں، جگر جسم کا فلٹر ہے — اس کی حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے۔

کیا شوگر کے مریض زمین سے نیچے اگنے والی اجناس کھاسکتے ہیں؟زمین کے نیچے اُگنے والی نشاستہ دار سبزیوں(Underground Starchy ...
15/02/2026

کیا شوگر کے مریض زمین سے نیچے اگنے والی اجناس کھاسکتے ہیں؟

زمین کے نیچے اُگنے والی نشاستہ دار سبزیوں(Underground Starchy Vegetables-USV)میں آلو (Potato)، شلجم (Turnip)، اروی (Taro)، شکر قندی (Sweet potato)، چقندر (Beetroot)، مولی (Radish)، گاجر (Carrot) اور پیاز (Onion) وغیرہ شامل ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں میں یہ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ USV میں شامل سبزیوں کا استعمال قطعی طور پر ممنوع ہے، حالانکہ یہ تاثر درست نہیں۔ اصل مسئلہ انتخاب، مقدار اور پکانے کے طریقے کا ہے۔ عمومی طور پر آلو، اروی اور شلجم کو نسبتاً زیادہ مقدار میں پکا کر روٹی یا چاول کے ساتھ کھایا جاتا ہے، جبکہ مولی، گاجر، چقندر اور پیاز عموماً بہت کم مقدار میں سلاد کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، اورشکر قندی کو ابال کر نمک مرچ کے ساتھ کبھی کبھار بغیر روٹی کے کھایا جاتا ہے۔ذیابیطس میں USV میں شامل تمام اجناس کو استعمال کرنے سے پہلے نہ صرف انکے گلائیسیمک انڈیکس (GI)کے بارے میںبلکہ انکے پکانے کے ان طریقوں کے بارے میں بھی جاننا بہت ضروری ہے،جن پر عمل کر کےان کا GI مزید کم کیاجا سکتا ہے۔ ان نکات کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
گندم، مکئی اور چاول کے بعد، دنیا بھر میں غذائی جنس کے استعمال کے لحاظ سے آلو چوتھے نمبر پر آتا ہے۔ آلو کے ہر 100 گرام میں تقریباً 77 کیلوریز، 20-25 گرام نشاستہ، 2 گرام پروٹین، 75 گرام پانی، مختلف مفید وٹامنز اور معدنیات کے ساتھ ساتھ 2-3 گرام پھوک (Fiber) بھی موجود ہوتی ہے۔ تاہم یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ تمام USV میں چونکہ آلو کا GI سب سے زیادہ (تقریباً 78-90 تک) ہوتا ہے،اسلیے ذیابیطس کے مریضوں میں اس کا بے دریغ استعمال خون میں شوگر اور انسولین کی سطح میں تیز اضافے (Blood sugar and insulin spikes) کا سبب بن سکتا ہے۔البتہ اگر آلو کو بھاپ میں ابال کر ف*ج میں رکھ کر ٹھنڈا کر لیا جائے اور پھر اسے بغیر پیسے یا کچلے (Without mashing) کھایا جائے، تو دوبارہ گرم کرنے کے باوجود اس میں مزاحمتی نشاستہ (Resistant starch) کی مقدار نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کا گلائیسیمک انڈیکس خاصا کم ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر آلو کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر گھی یا تیل میں گہرائی میں تل لیا جائے (جسے‘‘Deep frying’’ کہا جاتا ہے) تو اس کا GI بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔ اس طریقے سے پکائے گئے آلو کو،جنکافاسٹ فوڈ میں بے تحاشا استعمال دنیا بھر میں موٹاپے کی ایک بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے، آلو کے چپس یا فرینچ فرائز (French fries) کہا جاتا ہے۔مزید یہ کہ اگر آلو کو اکیلے کھانے کے بجائے سالن کی صورت میں گوشت اور روغن (fats) کے ساتھ استعمال کیا جائے تو بھی اس کا گلائیسیمک اثر خاصا کم ہو جاتا ہے۔ذیابیطس کے مریضوں کے لیے شکر قندی، جس کا GI درمیانہ (تقریباً 55-65) ہوتا ہے، سفید آلو کا ایک بہتر نعم البدل ثابت ہو سکتی ہے۔ آلو کی طرح اگر شکر قندی کو بھی ابال کر ٹھنڈا کر کے کھایا جائے تو اس کا گلائیسیمک انڈیکس مزید کم کیاجاسکتا ہے۔
یاد رکھیں کہ کم گلائیسیمک انڈیکس والی خوراک کی مقدار بھی اگر بہت زیادہ مقدار میں لے لی جائے تو وہ ہائی گلائیسیمک لوڈ بن کر اسکے کم گلائیسیمک انڈیکس ولے فائدے کو بے اثر کر دیتی ہے(اس سلسلے میں فرکٹوز کی مثال میں پچھلی پوسٹوں میں بیان کر چکا ہوں)۔اکیسویں صدی میں فاسٹ اور پروسیسڈ فوڈ کی باآسانی دستیابی کی وجہ سے ‘‘کم کھانے’’ پر عمل کرنا مشکل ہوتا جارہاہے اور یہی وجہ موٹاپے کو جنم دے کر ذیابیطس کا باعث بن رہی ہے۔آلو کے بارے میں اوپر دی گئی مثال میں، اگر آلو کو سالن میں پکا کر یا سٹیم روسٹ کر کے اور اسے ٹھنڈا کر کے کھایا جائے تو اسکا گلائیسیمک انڈیکس کم ہو جاتا ہے جبکہ اگر انہی آلووں کے اگر فرینچ فرائیز بنا دئیے جائیں تو یہ کیلوریز سے بھرپور میٹابولک بم بن جاتیں ہیں۔ فیصلہ آپکے ہاتھوںمیں ہے۔‘‘حلال کھائیں، مزیدار کھائیں اور کم کھائیں’’ اور موٹاپے سے گریز کریں۔

ذیابیطس کے علاج اور اسکی پیچیدگیوں سے متعلق چند حقائق:Type-I ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے جس کو علاج کے ذریعے کنٹرول تو کیا ج...
13/02/2026

ذیابیطس کے علاج اور اسکی پیچیدگیوں سے متعلق چند حقائق:

Type-I ذیابیطس ایک ایسا مرض ہے جس کو علاج کے ذریعے کنٹرول تو کیا جاسکتا ہے تاہم جڑ سے اکھاڑا نہیں جاسکتا۔تاہم Type-IIذیابیطس کے مریض، اگر موٹا پے کا شکار ہیں، تو یہ ممکن ہے کہ اگر وہ مروجہ طریقوں سے، اپنا وزن کافی حد تک کم کر لیں تو انکی ذیابیطس ختم ہو جائے۔تاہم ایسا شاز و نادر ہی ہوتا ہے اور ذیابیطس کا مرض ایک ایسے مہمان کے مانند ہوتاہے جسکا خیال ساری عمر رکھنا پڑتا ہے۔ یعنی یہ تسلیم کیا جانا چاہئے کہ اب ساتھ عمر بھر کا ہے۔ ذیابیطس کی پیچیدگیوں کو کم سے کم کرنے کیلئے جہاں اپنے طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاںلانا ضروری ہے وہیں باقاعدگی سے اسکا علاج کرانا بھی لازم ہے۔

• ذیابیطس کا علا ج صرف خون کی شوگر کے کنٹرول تک ہی محدود نہیں ہے۔موٹاپا، بلڈپریشر، سگریٹ نوشی، خون کی چکنائیوںمیں گڑ بڑی اور ذیابیطس ملکر امراضِ قلب، فالج اور گردوں کے امراض میں کئی گنا اضافہ کرتے ہیں۔ ذیابیطس کا علاج کرنے والے تمام ڈاکٹروں کا یہ فرض ہے کہ وہ ان سارے پُر خطرعوامل (Risk factors) کا تعین کرکے انکا مناسب علاج بھی کریں۔اور اس سلسلے میں مریض کا اپنے معالج کے ساتھ تعاون(خاص طور پر اپنے خون کی شوگر پر کڑی نظر رکھنا ) ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔

• اگر صرف غذا ئی پرہیز اور ورزش سے خون کی شوگر نارمل نہیں رہتی تو ذیابیطس کے مریض کومستقل طور پر روزانہ دوائی کھانی ہو گی۔ دوائی کی مقدار میں رد و بدل خون کی شوگر کے مطابق ہوتا رہے گاتاہم دوائی چھوڑنا اکثرممکن نہیں ہوتا۔

• مریض کو چاہیے کہ مناسب وقفوں سے از خود اپنے پیشاب اور خون کی شوگر چیک کرتا رہے، اس کے بغیر مناسب علاج کا کوئی تصور نہیں۔ اسے ہم Self-monitoring of blood glucose کہتے ہیں جو اپنے مخفف SMBG کے نام سے مشہور ہے۔

• یہ شوگر کے مریض کا فرض ہے کہ وہ ذیابیطس کے متعلق، مثلاً غذائی تبدیلیوں، شوگر کی دواؤں،کم شکری کی علامات اورذیابیطس کی ممکنہ پیچیدگیوں کے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرے۔

• ذیابیطس کے مرض سے ہونے والی پیچیدگیوں کی ابتدائی مراحل میں تشخیص کے لیے وقتاً فوقتاً طبی معائنے اور لیبارٹری ٹیسٹوں کی ضرورت پڑتی ہے جسکا تعین کرنا ڈاکٹر کا کام ہے۔ اس مد میں، خون کی چکنائیوں (Lipid profile) کا تعین، گردوں کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا تعین بذریعہ Mircro-albuminuria، پاؤں کو خون مہیا کرنے والی رگوں کی اندرونی کیفیت کا تعین بذریعہ شریانوں کے ڈپلیکس الٹراساؤنڈ (Doppler stidies) اور آنکھوں کے پردۂ بصارت (Retina) کا مکمل معائنہ بذریعہ Fundoscopy کرنا ہر معالج کی ذمہ داری ہے۔

• ذیابیطس سے پیدا ہونے والی تمام تر پیچیدگیوں کو(جیسا کہ UKPDS اور DCCT سائنسی تحقیقات نے ثابت کیا ہے)، شوگر کے اچھے کنٹرول اور مندرجہ بالادیگر حفاظتی اقدامات سے لمبے عرصہ تک کے لیے ٹالا یا روکا جا سکتا ہے۔ تاہم جب ایک مرتبہ یہ پیچیدگیاں ظاہر ہو جائیں تو انکا مکمل ازالہ نا ممکن ہوتا ہے۔باالفاظِ دیگر، یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ذیابیطس کی تشخیص کے ساتھ ہی شوگر اور بلڈ پریشر دونوں کو مناسب علاج کے ذریعے مکمل کنٹرول میں رکھنا ہی ان پیچیدگیوں سے بچنے کی ضمانت ہوتی ہے۔

Address

Miada Hospital Baisment Chaina Plaza
Abbottabad
22010

Opening Hours

Monday 09:00 - 14:00
17:00 - 20:00
Tuesday 09:00 - 14:00
17:00 - 20:00
Wednesday 09:00 - 14:00
17:00 - 20:00
Thursday 09:00 - 14:00
17:00 - 20:00
Saturday 09:00 - 14:00
17:00 - 20:00
Sunday 09:00 - 14:00

Telephone

+92992343453

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Doctor ABDUL Sattar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Doctor ABDUL Sattar:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category