26/11/2025
کھانسی۔
کھانسی ایک ایسا خودکار قدرتی حفاظتی عمل ہے جو کہ سانس کی نالی میں موجود بلغم یا باہر سے سانس کی نالی میں جانے والی کسی بھی چیز کو باہر نکال پھینک دیتا ہے۔ سانس کی نالیاں بہت حساس ہوتی ہیں اور جب بھی باہر سے کوئی چیز اندر چلا جائے مثلا گرد و غبار، دھواں، پانی وغیرہ تو ایک خودکار قدرتی نظام متحرک ہوجاتا ہے اور اس کو باہر نکال پھینکتا ہے۔اس طرح پھیپھڑوں کے اندر پیدا ہونے والے بلغم کو بھی باہر نکالتارہتاہے۔اس کے علاوہ کچھ بیماریوں میں بھی کھانسی ہوتی ہے۔ اگر سانس کی نالیوں میں کسی بھی وجہ سے تنگی آجاتی ہے تو اس صورت میں بھی کھانسی ہوجاتی ہے۔ سانس کے نالیوں سے باہر انٹر سٹیشیم میں ہونے والی بیماری کی وجہ سے بھی کھانسی ہوجاتی ہے۔
کھانسی کا میکینیزم۔
کھانسی کا عمل ایک پیچیدہ ریفلکس (معکوس ) نظام کے متحرک ہونے کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔ یہ عمل کھانسی کے ریسیپٹرز کے اشتغال/ برانگیختگی سے شروع ہوجاتا ہے جو کہ ٹریکیا(سانس کی سب سے بڑی نالی ) اور اس کے علاوہ سانس کی چھوٹی نالیوں میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ ریسپٹرز فیرنکس(ناک اور منہ کے پچھلا حصہ ) بھی موجود ہوتے ہیں۔ ان ریسیپٹرز کو متحرک کرنے کے لئے کیمیکل اور میکینکل عوامل درکار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھانسی کے ریسیپٹرز کان کے بیرونی نالی، کان کے پردوں، ناک کے اردگرد کے ہڈیوں میں موجود ہوا کے خانوں، ڈایافرام(پیٹ اور سینے کے درمیان والا پردہ نما مسل )، پلیورا(سینے اور پھیپھڑوں پر موجود جھلی )، دل کے اوپر موجود پردہ(پیریکارڈیئم ) اور معدے پر بھی موجود ہوتے ہیں۔
کھانسی کے ریسیپٹرز سے پیغامات ویگس نرو کے ذریعے دماغ کے میڈولا میں موجود کھانسی مرکز میں پہنچ جاتے ہیں۔ کھانسی کے مرکز سے واپس پیغامات اسی ویگس نرو، ڈائی فراہم نرو اور سپائنل موٹر نرو کے ذریعے پھیپھڑوں میں جاتے ہیں اور یوں کھانسی کا عمل پورا ہوجاتا ہے۔
کھانسی کے اقسام۔
کھانسی کے مندرجہ ذیل اقسام قابل ذکر ہیں۔
1۔ مختصر دورانیے کی کھانسی جو کہ عام طور پر تین ہفتوں سے کم ہوتی ہے۔
2۔ طویل دورانیے کی کھانسی جو کہ 8 ہفتوں یعنی دو ماہ سے زیادہ عرصے تک ہوتی ہے۔
3۔ خشک کھانسی جو بغیر بلغم کی ہوتی ہے۔
4۔ بلغمی کھانسی جس میں بلغم ہوتی ہے۔
5۔ دورے والی کھانسی( پیراکسیسمل کھانسی ) جس میں کھانسی کے شدید دورے پڑتے ہیں۔
کھانسی کے وجوہات۔
1۔ انفیکشن جس میں وائرس، بیکٹیریا، فنجائی، ٹی بی اور پرٹوسس(کھالی کھانسی ) وغیرہ شامل ہیں۔
2۔ دمہ اور سی او پی ڈی
3۔ انٹرسٹیشل لنگ ڈیزیز، سگریٹ نوشی، گردو غبار
4۔ سانس کی نالی میں داخل ہوجانے والی کوئی چیز(فارن باڈی )
5۔ پرندوں، گھاس پھوس، کیمیکل اور پینٹ وغیرہ سے ہونے والی الرجی جس کو ہائیپر سینسیٹیوٹی کہا جاتا ہے۔
6۔ کام سے متعلق ہوجانے والا دمہ جس کو اکوپیشنل دمہ کہا جاتا ہے۔
7۔ پھیپھڑوں کا کینسر
8۔ برونکیکٹیسس اور سیسٹک فائیبروسس
9۔ سینے کے اندر سانس کی نالی پر پرنے والا دباؤ مثلا لیمف نوڈ، ٹی بی، ٹیمومر یا رسولی وغیرہ کی وجہ سے پڑنے والا دباؤ ۔اس دباؤ کی وجہ سے سانس کی نالی تنگ ہوجاتی ہے اور اس تنگی کو دور کرنے کیلئے کھانسی واقع ہوجاتی ہے۔
10۔ دل کی بیماری کی وجہ سے بھی کھانسی ہوسکتی ہے مثلا دل کے فیل ہو جانے کی صورت میں یا شدید مائٹرل سٹینوسس کی وجہ سے۔
11۔ ناک اور گلے کی بیماری کی وجہ سے بھی کھانسی ہوسکتی ہے مثلا دائمی سائنوسائیٹس اور دائمی نزلہ جو کہ گلے میں جاتاہے۔( پوسٹ نیزل ڈریس )۔اس کے علاوہ کان کے بیرونی نالی اور کان کے پردوں میں خرابی کے باعث بھی کھانسی ہوسکتی ہے۔
12۔ معدے کے کچھ بیماریوں کی وجہ سے بھی کھانسی ہوسکتی ہے مثلا GORD, خوراک اور سانس کی نالی میں موجود کنکشن(جس کو فیسچولا کہا جاتا ہے۔اس صورت میں میں خوراک کے زرات سانس کی نالی میں داخل ہوجاتے اور عام طور پر کھانے پینے کے دوران مریض کو کھانسی ہوجاتی ہے )، مائکرو اسپائریشن یعنی معدے میں موجود تیزاب کا سانس کی نالی میں جانا۔
13۔ دماغ کے کے وہ امراض جو کہ خوراک نگلنے کے عمل کو متاثر کرتے ہیں مثلا فالج، ملٹیپل سکلیروسس، موٹرنیوران ڈیزیز اور پارکنسن ڈیزیز۔ ان بیماریوں میں معدے کا تیزاب اور خوراک کے زرات سانس کی نالی میں جانے کی وجہ سے کھانسی ہوجاتی ہے۔
14۔ ڈرگز کچھ دوائیوں کی وجہ سے بھی کھانسی ہوسکتی ہے مثلا ACE inhibitors اور Ipratropium Bromide.
ACE inhibitors
بلڈ پریشر کے مریضوں کو دی جاتی ہے تاکہ ان کا بلڈ پریشر کنٹرول کیا جاسکے لیکن کچھ مریضوں کو اس سے خشک کھانسی ہوجاتی ہے۔ان میں شامل دوائیوں کے نام یہ ہیں
Benazepril,Captopril,Elanapril, Fosinopril, Lisinopril, Moexipril, Perindopril, Quinapril,
وغیرہ۔
15۔ ائیڈیوپیتھیک(جس کی وجہ معلوم نہ ہوسکے )
۔ کان میں موجود میل کا جمع ہوجانا
۔ نفسیاتی/عادتا کھانسی
تشخیص اور علاج۔
کھانسی کے تشخیص کے لئے مریض کی مکمل ہسٹری لینے کے بعد کچھ متعلقہ ٹسٹ اور ایکسرے کردیئے جاتے ہیں اور اس کے بعد علاج کیا جاتا ہے۔