Dr Abbas khan yousafzai

Dr Abbas khan yousafzai Dr Abbas yousafzai
(Mbbs general physician )
Doctor at PIMS Islamabad

06/04/2026

ہم کہہ کہہ کے تھک گئے اخر کار گورنمنٹ نے پالیسی بنا لی !!
پیدل چلو

کیا اب ان ڈاکٹرز کے خلاف بھی ایکشن ہو گا کہ جب بجلی نہیں تھی تو سرجری کیوں کی؟ یا اس کے خلاف ایکشن ہو گا جس نے یہ ویڈیو ...
01/04/2026

کیا اب ان ڈاکٹرز کے خلاف بھی ایکشن ہو گا کہ جب بجلی نہیں تھی تو سرجری کیوں کی؟ یا اس کے خلاف ایکشن ہو گا جس نے یہ ویڈیو بنائی؟
یا پھر ان کے خلاف ایکشن ہو گا جو بیک اپ مہیا نا کر سکے یا پھر LESCO کے افسران کو معطل کیا جائے گا؟
نام نہاد دانش ور اپنی رائے لے کر آئیں

31/03/2026

ٹویٹ کرنے پر 2 کروڑ جرمانہ
3 قتل کرنے پر مجرمان بری
پاکستان کا اللّٰہ حافظ

💯
30/03/2026

💯

جونیئر ڈاکٹروں نے ویڈیو بنائی، جو کہ آپریشن تھیٹر کے اندر سے بنانا غلط تھا، لیکن اس میں نہ تو مریض کی کوئی پرائیویسی متا...
28/03/2026

جونیئر ڈاکٹروں نے ویڈیو بنائی، جو کہ آپریشن تھیٹر کے اندر سے بنانا غلط تھا، لیکن اس میں نہ تو مریض کی کوئی پرائیویسی متاثر ہوئی اور نہ ہی مریض کے بارے میں کوئی ایسی چیز نظر آ رہی ہے۔

جو چیز واضح طور پر نظر آ رہی ہے وہ یہ ہے کہ ڈاکٹرز ایک ہی آپریشن تھیٹر میں درمیان میں پردہ لگا کر دو آپریشن کر رہے ہیں، اور کام کا بوجھ اس قدر زیادہ ہے کہ تمام ڈاکٹر ایک ہی وقت میں مصروف ہیں۔ وہ ایک ہی آپریشن تھیٹر میں دو مریضوں کا آپریشن کر کے زیادہ سے زیادہ مریضوں کو سہولت فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس بات کو کسی نے سراہا نہیں۔ ویڈیو بنانے والی ڈاکٹرز سب سے جونیئر ہیں، جبکہ آپریشن کرنے والی ڈاکٹرز سکون کے ساتھ اپنا کام کر رہی ہیں اور مریض بھی ٹھیک ہیں، بعد میں بھی انہیں کوئی پیچیدگی پیش نہیں آئی۔

لیکن معاشرے میں اس قدر پستی آ چکی ہے کہ مشی خان جیسی عمر رسیدہ اور غیر تعلیم یافتہ خواتین، اسد طور جیسے صحافی، اور بہت سے دیگر لوگوں نے اس معاملے پر ایسا شور مچایا جیسے خدا نخواستہ مریضوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہو یا انہیں قتل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔

اگر ویڈیو بنانے سے واقعی پرائیویسی کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس پر قانون کے مطابق تادیبی کارروائی کر لیں۔ کوئی کہتا ہے ان کو گرفتار کر لیا جائے، کوئی کہتا ہے ان کے لائسنس معطل کر دیے جائیں، اور کوئی کہتا ہے انہیں سڑکوں پر گھسیٹا جائے۔

اے ظالمو، اے محض ویوز لینے کے لیے حد سے گزر جانے والے لوگوں! کیا اس سے بھی تمہیں تسلی نہیں ہوگی؟ کیا تم چاہتے ہو کہ انہیں چوک میں کھڑا کر کے پھانسی دے دی جائے یا توپوں کے سامنے کھڑا کر کے اڑا دیا جائے؟

ایک ایسی قوم جو ایک SHO یا MNA/MPA کے سامنے ذلیل ہوتی ہے، وہ انہی ڈاکٹروں سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتی ہے۔

جتنا کسی کا قصور ہے، اس کے مطابق ضرور تادیبی کارروائی کریں، مگر اس شدت پسند ذہنیت کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے نام نہاد صحافی اس معاشرے میں آزاد گھومنے کے بھی قابل نہیں ہیں۔

The Ancient 4,500-Year-Old Tunic at the Egyptian Museum. #      history community heritage
26/03/2026

The Ancient 4,500-Year-Old Tunic at the Egyptian Museum.



#


history community heritage

ہمت مردان مددخدا!سرکس والوں نے اُسے پانچ لاکھ کےبدلے اُس کےوالد سےمانگا،والد نے تو انکار کردیا،مگر اِس ذلت آمیز آفر نے ت...
26/03/2026

ہمت مردان مددخدا!

سرکس والوں نے اُسے پانچ لاکھ کےبدلے اُس کےوالد سےمانگا،والد نے تو انکار کردیا،مگر اِس ذلت آمیز آفر نے تین فٹ کا قد رکھنےوالے گنیش کی حوصلہ شکنی کےبجائے اُس کے دل میں کچھ کرنے کا عزم پیدا کردیا۔

ڈاکٹربننے کےشوق میں تعلیم جاری رکھی،ایم بی بی ایس کیلئے میڈیکل کونسل آف انڈیا کو درخواست دی جو جسمانی معذوری کی بناء پر مسترد کردی گئ،گنیش کے بھائ نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا،بدقسمتی سے مقدمہ ہار گیا۔

چند دنوں کیلئےضرور مایوسی ہوئ،مگر ہمت نہیں ہاری،سپریم کورٹ کا دروازہ کٹھکٹھایا،بالآخر ایک دن وکیل نے عدالت کےکمرےسےباہرنکلتےہی گنیش کے بھائ کو آواز دیکر کہا"مبارک ہو!ہم مقدمہ جیت گئے۔

گنیش کابھائ اُسی جگہ بیٹھ کر ڈیڑھ دوگھنٹے تک خوشی کےمارےروتارہا۔

آج گنیش ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ اُسی میڈیکل سینٹرمیں بطورڈاکٹرز آفیسر کام کررہاہے،جہاں اُس نے ایم بی بی ایس کیا۔

ضروری نہیں کہ آپ کی قیمت اُتنی ہی ہو جتنی کہ سرکس والے بتاتےہیں،ہمت کریں اور آپکی قیمت لگانے والے ہی کو خریدنے کی صلاحیت اپنےاندر پیدا کریں۔

🇵🇰✍️🕊️🩺

بچوں میں ہڈیوں کی کمزوری اور ٹیڑھا پنبچوں میں ہڈیوں کے ٹیڑھے پن کو عموماً رِکٹس کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جو زیاد...
11/03/2026

بچوں میں ہڈیوں کی کمزوری اور ٹیڑھا پن

بچوں میں ہڈیوں کے ٹیڑھے پن کو عموماً رِکٹس کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی حالت ہے جو زیادہ تر وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ وٹامن ڈی انسانی جسم میں ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ اس کی مدد سے جسم کیلشیم اور فاسفورس کو بہتر طور پر جذب کرتا ہے۔ جب بچوں کے جسم میں وٹامن ڈی کی مقدار کم ہو جاتی ہے تو ہڈیاں کمزور اور نرم ہونے لگتی ہیں، جس کے نتیجے میں وہ اپنی قدرتی سیدھی ساخت برقرار نہیں رکھ پاتیں اور آہستہ آہستہ ٹیڑھی ہونے لگتی ہیں۔

یہ بیماری زیادہ تر اس عمر میں ظاہر ہوتی ہے جب بچوں کی ہڈیاں تیزی سے بڑھ رہی ہوتی ہیں۔ ایسے بچوں میں ٹانگوں کا خم دار ہونا ایک نمایاں علامت ہے۔ بعض بچوں کی ٹانگیں باہر کی طرف مڑ جاتی ہیں جبکہ بعض میں گھٹنوں کے قریب اندر کی طرف جھکاؤ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کلائیوں اور ٹخنوں کے جوڑ بھی معمول سے زیادہ چوڑے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ بعض اوقات سینے کی ہڈیوں کی بناوٹ میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے جس سے سینہ ابھرا ہوا یا بے قاعدہ محسوس ہو سکتا ہے۔

وٹامن ڈی کی کمی کی ایک اہم وجہ بچوں کا دھوپ میں کم رہنا ہے۔ سورج کی روشنی انسانی جلد میں وٹامن ڈی بننے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ جب بچے زیادہ تر گھر کے اندر رہتے ہیں یا انہیں مناسب دھوپ نہیں ملتی تو جسم میں اس وٹامن کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر خوراک میں وہ غذائیں شامل نہ ہوں جو ہڈیوں کے لیے ضروری اجزاء فراہم کرتی ہیں تو ہڈیوں کی نشوونما متاثر ہو سکتی ہے۔

اس بیماری میں مبتلا بچوں کی نشوونما عموماً سست ہو جاتی ہے۔ بعض بچوں میں چلنے میں دیر لگتی ہے یا چلتے وقت ٹانگوں میں کمزوری اور درد محسوس ہوتا ہے۔ ہڈیاں نرم ہونے کی وجہ سے معمولی دباؤ کے نتیجے میں بھی ان کی شکل میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اگر اس حالت کو بروقت توجہ نہ دی جائے تو ہڈیوں کی ساخت میں مستقل بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔

والدین کے لیے ضروری ہے کہ اگر بچے کی ٹانگوں یا جسمانی ساخت میں غیر معمولی خم، کمزوری یا نشوونما میں سستی محسوس ہو تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ ایسی صورت میں کسی مستند معالج سے مشورہ کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ معالج بچے کا معائنہ کر کے مناسب رہنمائی فراہم کر سکتا ہے اور ضروری جانچ کے ذریعے اصل وجہ کا تعین کیا جا سکتا ہے۔

لہٰذا اگر بچوں میں ہڈیوں کے ٹیڑھے پن، کمزوری یا نشوونما کی خرابی کی علامات ظاہر ہوں تو فوراً کسی ماہر معالج سے رابطہ اور مشورہ حاصل کرنا چاہیے تاکہ بچے کی صحت اور ہڈیوں کی درست نشوونما کو محفوظ بنایا جاسکے۔۔

ہم جب ہسپتال جاتے ہیں تو ہماری ڈیمانڈ یہ ہوتی ہے کہ ڈاکٹر ہمارا مریض چاہے وہ زیادہ  بیمار ہے یا نہیں ہے، ایمرجنسی ہے یا ...
09/03/2026

ہم جب ہسپتال جاتے ہیں تو ہماری ڈیمانڈ یہ ہوتی ہے کہ ڈاکٹر ہمارا مریض چاہے وہ زیادہ بیمار ہے یا نہیں ہے، ایمرجنسی ہے یا نہیں یے، اس کو لٹا کر پورے پروٹوکول کے ساتھ چیک کرے
دوائی موقع پر فراہم کرے۔ نرس، وارڈ بوائے جہاں بھی کوئی کمی بیشی ہو وہ ڈاکٹر پوری کرے، حتی کہ مریض نے غسل خانے جانا ہے تو بھی ڈاکٹر ہی کوئی بندوبست کرے
ان میں کہیں بھی کوئی کوتاہی ہو تو ڈاکٹر حرام کھا رہا ہے کام ٹھیک نہیں کر رہا، موبائل پر لگا ہے
لیکن اپنے ہمارے حالات یہ ہیں کہ کہیں قطار میں ہم اپنی جگہ کسی زیادہ بیمار کو نہیں دیتے۔ بیڈ شیئر کرنے کا کہہ دو تو مریض کے ورثا کو مرگی پڑ جاتی ہے جیسے سرکاری بیڈ پر ساتھ مریض لٹانے کا نہیں کہا گردہ مانگ لیا ہے۔
کوئی سیریس مریض اٹینڈ کرتے دو منٹ لگ جائیں تو ساتھ والا مرنے لگ جاتا ہے کہ مجھے پہلے دیکھ۔ یہ دیکھے بغیر کہ اگلا مریض ہی دیکھ رہا ہے ، شٹاپو نہیں کھیل رہا
گزارش یہ ہے اسپتال میں وسائل اور افرادی قوت محدود ہوتی ہے
اس لیے سرکار کے بہنوئی بننے کی بجائے آرام سے علاج کرایا کریں
آپ پرل کانٹینینٹل میں تشریف نہیں لائے ہوتے، سرکاری اسپتال میں ہوتے ہیں جو اپنے کیپیسٹی سے تین چار گنا پہلے ہی زیادہ کام کر رہا ہوتا ہے.

09/03/2026
مسکیولر ڈسٹروفی ایک موروثی پٹھوں کی بیماری ہے جس میں پٹھے آہستہ آہستہ کمزور ہو جاتے ہیں۔ اس کی سب سے عام اور شدید قسم ڈو...
07/03/2026

مسکیولر ڈسٹروفی ایک موروثی پٹھوں کی بیماری ہے جس میں پٹھے آہستہ آہستہ کمزور ہو جاتے ہیں۔ اس کی سب سے عام اور شدید قسم ڈوشین مسکیولر ڈسٹروفی (Duchenne Muscular Dystrophy – DMD) ہے، جو عموماً صرف لڑکوں میں پائی جاتی ہے۔ اس بیماری کی علامات زیادہ تر دو سے چار سال کی عمر میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں، جب والدین یہ محسوس کرتے ہیں کہ بچہ ہم عمر بچوں کے مقابلے میں کمزور ہے، جلدی تھک جاتا ہے، دوڑنے، سیڑھیاں چڑھنے یا زمین سے اٹھنے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔

اس بیماری مین رانوں اور کولہوں کے پٹھے سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں۔ابتدائ علامات میں بچے زمین سے اٹھتے وقت ہاتھوں کا سہارا لے کر اٹھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پنڈلیوں کے پٹھے بظاہر موٹے نظر آتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ طاقت نہیں بلکہ خراب پٹھوں کی جگہ چربی اور فائبر کے جمع ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ بچے کا چلنا مزید مشکل ہو جاتا ہے اور اکثر بچے دس سے بارہ سال کی عمر تک چلنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں اور وہیل چیئر پر منتقل ہو جاتے ہیں۔

جیسے جیسے بیماری بڑھتی ہے، صرف ٹانگوں ہی نہیں بلکہ جسم کے دیگر حصے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ریڑھ کی ہڈی میں ٹیڑھا پن ، جوڑوں میں اکڑاؤ ، اور بازوؤں مین بھی کمزوری پیدا ہو سکتی ہے۔ دل کے پٹھے بھی متاثر ہو سکتے ہیں، اور پھول جاتے ہیں۔ سانس کے پٹھوں کی کمزوری کی وجہ سے بار بار سینے کے انفیکشن، نمونیا، اور سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ بعض بچوں میں خوراک کو نگلنے کے مسائل بھی آسکتے ہیں۔

اس بیماری کی اصل وجہ جینیاتی خرابی ہے۔ ڈوشین مسکیولر ڈسٹروفی میں ایک خاص پروٹین ڈسٹروفن کی کمی یا عدم موجودگی ہوتی ہے، جو پٹھوں کو مضبوط رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ بیماری ایکس کروموسوم سے منسلک ہوتی ہے، اس لیے زیادہ تر لڑکے متاثر ہوتے ہیں جبکہ مائیں اکثر کیریئر ہوتی ہیں،وہ خود تو متاثر نہیں ہوتی مگر بچوں میں بیماری ٹرانسفر کر سکتی ہیں۔ خاندان میں ماموں یا نانا کی طرف کے مرد افراد میں یہ بیماری پائ جا سکتی ہے۔ ڈسٹروفن کی کمی کی وجہ سے پٹھے آہستہ آہستہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں، کمزور ہوتے ہیں اور وقت کے ساتھ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

تشخیص کے لیے سب سے پہلے خون کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے، اور پٹھوں میں خرابی کو دیکھا جاتا ہے۔ مزید ٹیسٹوں میں NCS-EMG کا ٹیسٹ شامل، جبکہ حتمی تشخیص کے لیے جینیاتی ٹیسٹنگ کی جاتی ہے، جو بیماری کی تصدیق کرسکتا ہے۔ تشخیص کے بعد بچوں میں ریڑھ کی ہڈی کا ایکس رے اور دل کا الٹراساونڈ کروایا جاتا ہے ہیں تاکہ پیچیدگیوں کا بروقت پتا چل سکے۔

ڈوشین مسکیولر ڈسٹروفی کا مکمل علاج فی الحال موجود نہیں، لیکن مناسب اور بروقت مینجمنٹ سے بچے کی زندگی کا معیار بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ علاج میں باقاعدہ فزیوتھراپی شامل ہے تاکہ پٹھوں کی اکڑاہٹ کم ہو اور حرکت زیادہ دیر تک برقرار رہے۔ بعض بچوں میں اسٹیرائڈز استعمال کیے جاتے ہیں، جو پٹھوں کی کمزوری کو کچھ حد تک سست کر سکتے ہیں۔ دل کے لیے کارڈیالوجسٹ کی نگرانی اور مناسب دوائیں نہایت ضروری ہیں۔ ریڑھ کی ہڈی کے شدید مسائل میں اسپائن سرجری کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ سانس اور خوراک سے متعلق مسائل کے لیے بھی خصوصی نگہداشت کی جاتی ہے۔

دنیا میں اس بیماری کے لیے نئے علاج اور جین تھراپی پر تحقیق جاری ہے۔ یہ علاج اس وقت بہت مہنگے ہیں اور ہر جگہ دستیاب نہیں، لیکن امید ہے کہ مستقبل میں یہ سہولیات پاکستان جیسے ممالک میں بھی دستیاب ہو سکیں گی اور مزید بچوں کو فائدہ پہنچ سکے گا۔

آخر میں والدین کے لیے یہ پیغام نہایت اہم ہے کہ کچھ بیماریاں مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہو سکتیں، لیکن نرمی، صبر، بروقت تشخیص اور درست مینجمنٹ سے بچے کی تکلیف کم کی جا سکتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے درست فیصلے بچوں اور خاندانوں کی زندگی پر بہت بڑا مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔

Address

Main Kalay
Alpurai

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Abbas khan yousafzai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Abbas khan yousafzai:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category