Dr Abbas khan yousafzai

Dr Abbas khan yousafzai Dr Abbas yousafzai
(Mbbs general physician )
Doctor at PIMS Islamabad

15/02/2026

مودی خوش نہ ہوں
کرکٹ بچوں کا کھیل ہے اگر اپ میں ہمت ہے تو ہمارے رافیل کا مقابلہ کریں ۔ جو ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ہم نے پورہ 10 مار گرائے ہیں ۔

ایسے ہی کم نہیں ہوئی بینائی آنکھ کی ۔۔۔میں نے ہر ایک خواب کی قیمت چکائی ہے   Imran KhanImran KhanAli Muhammad KhanMurad ...
12/02/2026

ایسے ہی کم نہیں ہوئی بینائی آنکھ کی ۔۔۔
میں نے ہر ایک خواب کی قیمت چکائی ہے




Imran Khan
Imran Khan
Ali Muhammad Khan
Murad Saeed

08/02/2026

The Ancient 4,500-Year-Old Tunic at the Egyptian Museum.



#


history community heritage

حَسْبِیَ اﷲُ لَآ اِلٰہَ الَّا ھُوَ عَلَیہِ تَوَکَّلْت ُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ العَظِیْمِ۔ مجھے اﷲہی کافی ہے ۔اس کے سوا ...
03/02/2026

حَسْبِیَ اﷲُ لَآ اِلٰہَ الَّا ھُوَ عَلَیہِ تَوَکَّلْت ُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ العَظِیْمِ۔ مجھے اﷲہی کافی ہے ۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اس پر بھروسہ کیا اور وہی عرشِ عظیم کا مالک ہے (سورۃ التوبۃ :١٢٩)

یہ تصاویر لاھور سے چند کلومیٹر دور انڈیا کی ہیں جہاں ایک نیا وائرس جس کا نام نیپا وائرس ھے تیزی سے تباہی مچا رھا ھے، یہ ...
02/02/2026

یہ تصاویر لاھور سے چند کلومیٹر دور انڈیا کی ہیں جہاں ایک نیا وائرس جس کا نام نیپا وائرس ھے تیزی سے تباہی مچا رھا ھے، یہ کرونا وائرس سے ستر فیصد زیادہ محلق ھے۔
نیپا وائرس (Nipah Virus) ایک خطرناک وائرل بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے، اور انسان سے انسان میں بھی پھیل سکتی ہے۔ یہ وائرس سب سے پہلے 1998 میں ملائیشیا میں سامنے آیا تھا۔ اس کی شرحِ اموات کافی زیادہ ہو سکتی ہے، اسی لیے احتیاط بہت ضروری ہے۔
نیپا وائرس کیا ہے؟
نیپا وائرس ایک زوناؤٹک وائرس ہے، یعنی یہ جانوروں (خاص طور پر چمگادڑ) سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔
اکثر کیسز میں:
پھل کھانے والی چمگادڑ
آلودہ پھل یا کھجور کا رس
بیمار جانور (خصوصاً سور)
ذریعہ بنتے ہیں۔
نیپا وائرس کی علامات
علامات عام طور پر انفیکشن کے 5 سے 14 دن بعد ظاہر ہوتی ہیں۔
ابتدائی علامات:
بخار 🤒
سر درد
جسم میں درد
گلے میں خراش
تھکن اور کمزوری
شدید علامات:
سانس لینے میں دشواری
الٹیاں
ذہنی الجھن
غنودگی
دورے (Fits)
دماغ کی سوجن (Encephalitis)
بے ہوشی یا کوما
⚠️ شدید کیسز میں مریض کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
نیپا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟
چمگادڑ کے لعاب یا فضلے سے آلودہ پھل کھانے سے
کچا کھجور کا رس پینے سے
متاثرہ جانوروں سے قریبی رابطہ
نیپا وائرس کے مریض کے جسمانی رطوبتوں (کھانسی، تھوک) سے
نیپا وائرس سے بچاؤ کے طریقے
ابھی تک نیپا وائرس کی کوئی مخصوص ویکسین یا مکمل علاج موجود نہیں، اس لیے احتیاط ہی سب سے بہتر حل ہے۔
احتیاطی تدابیر:
🍎 پھل اچھی طرح دھو کر کھائیں
🥭 گرے ہوئے یا کٹے پھل نہ کھائیں
🥤 کچا کھجور کا رس پینے سے پرہیز کریں
😷 بیمار شخص سے فاصلہ رکھیں
🧼 بار بار ہاتھ صابن سے دھوئیں
🐖 بیمار جانوروں سے دور رہیں
🏥 بخار اور اعصابی علامات ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں

علاج
اس بیماری کا کوئی خاص علاج نہیں
علاج صرف علامات کے مطابق کیا جاتا ہے
شدید مریضوں کو اسپتال میں داخل کرنا ضروری ہوتا ہے

💞💞💞💞💞💝💐
16/01/2026

💞💞💞💞💞💝💐

05/01/2026

افسوس سے احتیات بہتر ہیں

.جب ڈاکٹر خاموش ہو جاتا ہےپاکستان میں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ڈاکٹر بولتا کیوں نہیں، سچ سامنے کیوں نہیں لاتا، یا ہر الز...
02/01/2026

.جب ڈاکٹر خاموش ہو جاتا ہے

پاکستان میں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ڈاکٹر بولتا کیوں نہیں، سچ سامنے کیوں نہیں لاتا، یا ہر الزام کا جواب کیوں نہیں دیتا۔ مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ ڈاکٹر خاموش کیوں ہو جاتا ہے۔

شروع میں ڈاکٹر بولتا ہے۔ وہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے، مریض کو وقت دیتا ہے، رشتہ داروں کو حالات بتاتا ہے، نظام کی کمزوریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مگر آہستہ آہستہ وہ سیکھ لیتا ہے کہ یہاں بولنے کی قیمت بہت زیادہ ہے۔

اگر وہ سچ بولے تو ویڈیو بن جاتی ہے۔
اگر وہ تاخیر کی وجہ بتائے تو الزام آ جاتا ہے۔
اگر وہ نظام کی بات کرے تو کہا جاتا ہے بہانے بنا رہا ہے۔

یوں ایک وقت آتا ہے جب ڈاکٹر بولنا چھوڑ دیتا ہے۔

یہ خاموشی غرور کی نہیں ہوتی، یہ خوف کی ہوتی ہے۔ خوف کہ کہیں بات کو غلط نہ سمجھ لیا جائے۔ خوف کہ کہیں ہجوم نہ اکٹھا ہو جائے۔ خوف کہ کہیں ایک جملہ اس کے خلاف ثبوت نہ بن جائے۔

خاموش ڈاکٹر مریض سے کم بات کرتا ہے۔
وہ کم وضاحت دیتا ہے۔
وہ مشکل فیصلہ لینے سے پہلے کئی بار رک جاتا ہے۔

یہ سب اس لیے نہیں کہ اسے پرواہ نہیں، بلکہ اس لیے کہ اسے اپنی اور اپنے عملے کی حفاظت کی فکر ہوتی ہے۔

مگر اس خاموشی کا نقصان ہوتا ہے۔ مریض کو پوری بات سمجھ نہیں آتی۔ اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ فاصلے بڑھتے ہیں۔ اور نظام مزید ٹوٹتا ہے۔

یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب علاج انسانوں کے درمیان نہیں رہتا، بلکہ فائلوں اور رپورٹس تک محدود ہو جاتا ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈاکٹر کی خاموشی مسئلہ نہیں، ایک علامت ہے۔ یہ علامت ہے ایک ایسے نظام کی جہاں بولنے والا غیر محفوظ ہو، اور خاموش رہنے والا محفوظ۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر کھل کر بات کرے، سچ بتائے، اور بہتر فیصلے کرے، تو ہمیں اسے تحفظ دینا ہوگا۔ عزت دینی ہوگی۔ اور یہ یقین دلانا ہوگا کہ اس کی بات سنی جائے گی، اسے سزا نہیں دی جائے گی۔

یہ بات بطور ڈاکٹر نہیں، بطور شہری کہنی ضروری ہے:

خاموش ڈاکٹر خطرناک نہیں ہوتا،
مگر وہ نظام جو ڈاکٹر کو خاموش کر دے،
وہ سب کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔

صحت اعتماد سے چلتی ہے۔
اور اعتماد خاموشی میں نہیں، تحفظ میں جنم لیتا ہے۔

از قلم:
ڈاکٹر سید شکیل بادشاہ

01/01/2026

آنکھوں سے خواب دل سے تمنا تمام شد
تم کیا گئے کہ شوق نظارہ تمام شد

کل تیرے تشنگاں سے یہ کیا معجزہ ہوا
دریا پہ ہونٹ رکھے تو دریا تمام شد

دنیا تو ایک برف کی سل سے سوا نہ تھی
پہنچی دکھوں کی آنچ تو دنیا تمام شد

شہر دل تباہ میں پہنچوں تو کچھ کھلے
کیا بچ گیا ہے راکھ میں اور کیا تمام شد

عشاق پر یہ اب کے عجب وقت آ پڑا
مجنوں کے دل سے حسرت لیلیٰ تمام شد

ہم شہر جاں میں آخری نغمہ سنا چلے
سمجھو کہ اب ہمارا تماشا تمام شد

اک یاد یار ہی تو پس انداز ہے حسنؔ
ورنہ وہ کار عشق تو کب کا تمام شد









“دسمبر مجھے راس نہیں آتا”کئی سال گزرے کئی سال بیتے شب و روز کی گردشوں کا تسلسلدل و جان میب سانسوں کی پرتیں الٹے ہوئے زلز...
31/12/2025

“دسمبر مجھے راس نہیں آتا”

کئی سال گزرے
کئی سال بیتے
شب و روز کی گردشوں کا تسلسل
دل و جان میب سانسوں کی پرتیں الٹے ہوئے
زلزلوں کی طرح ہانپتا ہے
چٹختے ہوئے خواب
آنکھوں کی نازک رگیں چھیلتے ہیں
مگر میں اک سال کی گود میں جاگتی صبح کو
بے کراں چاہتوں سے اٹی زندگی کی دعا دے کر
اب تک وہی جستجو کا سفر کررہی ہوں
گزرتا ہوا سال جیسا بھی گزرا
مگر سال کے آخری دن
نہایت کٹھن ہیں

میرے ملنے والو!

نئے سال کی مسکراتی ہوئی صبح گر ہاتھ آئے
تو ملنا
کہ جاتے ہوئے سال کی ساعتوں میں
یہ بجھتا ہوا دل
دھڑکتا تو ہے مسکراتا نہیں
دسمبر مجھے راس آتا نہیں

‏اس بچی کا نام عفرین گل ہے۔  پاکستان سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ عفرین کی زندگی کی مشکلات پر ایک نظر ڈالیں۔  ریڑھ کی ہڈی ...
21/12/2025

‏اس بچی کا نام عفرین گل ہے۔
پاکستان سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ عفرین کی زندگی کی مشکلات پر ایک نظر ڈالیں۔
ریڑھ کی ہڈی کی ایک شدید بیماری نے اس کی گردن کو انتہائی حد تک آگے کی طرف جھکا دیا تھا۔ چلنا اس کے لیے تکلیف دہ تھا، بیٹھنا تھکا دینے والا، اور کھانا کھانا روزانہ کی جدوجہد بن چکا تھا۔ وہ مشکل سے اپنا سر اٹھا کر دنیا کو دیکھ پاتی تھی۔
پھر ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا۔ بھارت میں، دہلی کے ماہرِ ریڑھ کی ہڈی کے سرجن ڈاکٹر راجگوپال کرشنن نے اس کا کیس دیکھا اور انسانیت کی خدمت کے لیے سرحدوں کو عبور کیا۔
ایک روپیہ بھی لیے بغیر، انہوں نے اور ان کی ٹیم نے ریڑھ کی ہڈی کی سرجری کے خطرناک ترین چیلنجز میں سے ایک کا سامنا کیا۔
چار بڑے آپریشنز کے دوران، انہوں نے صبر، مہارت اور ہمدردی کے ساتھ عفرین کی حالت کو بہتر بنایا۔
چند مہینوں بعد، عفرین سیدھی کھڑی ہو گئی۔ کئی برسوں بعد پہلی بار، اس کی گردن سیدھی ہو گئی۔
عفرین آج مسکرا رہی ہے۔

(خالد یونس)

Address

Main Kalay
Alpurai

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Abbas khan yousafzai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Abbas khan yousafzai:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category