Lady Health Worker Program Dhirkot

Lady Health Worker Program Dhirkot Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Lady Health Worker Program Dhirkot, Medical and health, Bagh.

09/04/2026

" شام کا ایک گھنٹہ اپنے لیے ضرور نکالیں..."
گھر کی چھت پر بیٹھیں..._
لوگوں کے مکان دیکھیں..._
آسمان میں اڑتے پرندے دیکھیں..._
کافی یا چائے کا کپ..._
دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر حرارت محسوس کریں.
اپنے لیے وقت نکالیں...
اپنے آپ کو انا سے ہٹا کر اہمیت دیں.._
زندگی کی تلخیوں کو چائے کی چسکیوں کے ساتھ ختم کریں..._

اور اگر پھر بھی سکون نا آئے..._
تو اس خالی کپ کو دیکھیے..._
جس طرح اس کپ میں دوبارہ چائے بھرنے کی گنجائش ہے اسی طرح آپکے اندر بھی زندگی اور خوشی بھرنے کی گنجائش باقی ہے..._

کون کیا کرتا ہے
کیا کہتا ہے
کیا کھاتا کیا پیتا ہے.....
ان سب باتوں سے دور ہو کر..... صرف اپنا جائزہ لیجیے

" اپنے اندر کی خالی جگہوں کو پُر کرنا سیکھیے "

خود کو بھی کبھی محسوس کر لیا کریں
کچھ رونقیں خود سے بھی ہوا کرتی ہیں۔۔

آسانی کا انتظار کرنا بھی عبادت ہے، کیونکہ آزمائش ہمیشہ نہیں رہتی۔

ناقص کو اگر اپنے نقص کی خبر ہو جائے
تو وہ ضرور کامل ہو سکتا ہے۔

اپنی کمزوریوں کا علم ہوجانا بھی کمال کی ایک قسم ہے۔

ﷲ پاک ہم سب کے لیئے آسانیاں پیدا فرمائے آمین۔

خوش رہیں خوشیاں بانٹیں۔

پریس ریلیز۔ *آج مورخہ 19مارچ 2026 کو  حکومت جموں و کشمیر نے نیشنل پروگرام برائے فیملی پلاننگ اینڈ پرائمری ہیلتھ کیئر (FP...
19/03/2026

پریس ریلیز۔
*آج مورخہ 19مارچ 2026 کو حکومت جموں و کشمیر نے نیشنل پروگرام برائے فیملی پلاننگ اینڈ پرائمری ہیلتھ کیئر (FP&PHC) کے ملازمین کی ریگولرائزیشن/کنفرمیشن کے لیے ایک جامع اور واضح طریقہ کار کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ اہم پیش رفت محکمہ صحت عامہ آزاد کشمیر کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ مؤرخہ 01 جنوری 2013، عدالت العالیہ آزاد جموں و کشمیر کے فیصلہ مؤرخہ 27 فروری 2023، نیز متعلقہ ریگولرائزیشن نوٹیفکیشنز اور ایکٹ 2017 کی روشنی میں عمل میں لائی گئی ہے۔یہ پالیسی وزیراعظم آزاد کشمیر اور وزیر صحت عامہ آزاد کشمیر کی خصوصی ہدایات پر ترتیب دی گئی، جس میں سیکرٹری صحت عامہ آزاد کشمیر برگیڈیئر عامر رضا ٹیپو، سپیشل سیکرٹری محکمہ صحت عامہ یونس میر، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ آزاد کشمیر ڈاکٹر سردار آفتاب حسین اور نیشنل پروگرام فیملی پلاننگ و بنیادی صحت آزاد کشمیر کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمتین نے کلیدی کردار ادا کیا۔منظور شدہ طریقہ کار کے مطابق وہ تمام ملازمین جو یکم جولائی 2012 کو نیشنل پروگرام کے تحت خدمات سرانجام دے رہے تھے، انہیں مروجہ قواعد و ضوابط کے مطابق مرحلہ وار ریگولرائز/کنفرم کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں گریڈ 16 اور 17 کی اسامیوں پر تعینات ملازمین کے کیسز سلیکشن بورڈ نمبر 03 میں پیش کیے جائیں گے، جسے مزید مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے سپیشل سیکرٹری صحت عامہ اور ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ قانون کو بطور اضافی ممبران شامل کیا گیا ہے۔اسی طرح غیر جریدہ (Non-Gazetted) اسامیوں کے لیے متعلقہ سلیکشن کمیٹیاں کیسز کا جائزہ لیں گی، جن میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر (لیگل) نظامت اعلیٰ صحت عامہ کو بطور اضافی ممبر شامل کیا گیا ہے تاکہ قانونی تقاضوں کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جا سکے۔سلیکشن بورڈ اور کمیٹیاں ہر کیس کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کریں گی، جس میں درج ذیل اہم نکات کو خصوصی طور پر مدنظر رکھا جائے گا۔اسامیوں کی باقاعدہ تشہیر (Advertisement)
تقرری کا مکمل میرٹ پر ہونا متعلقہ قواعد و ضوابط کی پابندی
مطلوبہ تعلیمی و پیشہ ورانہ اہلیت تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد حتمی سفارشات مجاز اتھارٹی کو ارسال کی جائیں گی، جن کی منظوری کے بعد باقاعدہ ریگولرائزیشن/کنفرمیشن کے احکامات جاری کیے جائیں گے۔حکومت آزاد کشمیر کے اس اقدام کو محکمہ صحت عامہ کے ملازمین کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف

پورے آزاد کشمیر میں عید الفطر کے موقع پر ہیلتھ  ایمپلائز فیڈریشن اپنے چارٹر آف ڈیمانڈز پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے بھ...
19/03/2026

پورے آزاد کشمیر میں عید الفطر کے موقع پر ہیلتھ ایمپلائز فیڈریشن اپنے چارٹر آف ڈیمانڈز پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے بھرپور احتجاج کرنے کا فیصلہ۔
"احتجاج کی آواز: محکمہ صحت کے مطالبات"
6 فروری سے 19 مارچ تک چلنے والا Health Workers کا احتجاج ہمارے معاشرے کے ایک اہم مسئلے کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ احتجاج صرف پنشن، بقایا جات، سکیل میں اضافہ، اور میڈیکل الاؤنس کے حصول کے لیے نہیں تھا بلکہ یہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے بھرپور جدوجہد کرنے کا عزم تھا۔
ہیلتھ ورکرز نے اپنی خدمات کا حق ادا کیا ہے، لیکن اب تک ہمارے مطالبات پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔ حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ ہمارا صبر کا امتحان نہ لیا جائے۔ ہمارے مطالبات پورے کیے جائیں۔
یہ وقت تھا کہ حکومت ہمارے مطالبات کو سنجیدگی سے لیتی اور ہمارے حقوق کو تسلیم کرتی، مگر بدقسمتی سے ہمیشہ کی طرح ہمیں بہت کمزور سمجھا گیا اور بیوروکریسی نے اپنی روش برقرار رکھی۔
دیوٹی 24 گھنٹے کروائیں اور حق مانگنے پر نظر انداز کیا جائے، مگر اب نہیں۔
اب کی بار محکمہ صحت کے تمام ملازمین ایک ساتھ ہیں اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے بھرپور جدوجہد کریں گے۔

15/03/2026

!!!تنخواہوں میں کٹوتی!!!
جنگ ایران اور اس ر ائیل کے درمیان ہو رہی ہے… مگر اس کے دھماکے سب سے زیادہ اگر کہیں سنائی دے رہے ہیں تو وہ پاکستان کے غریب گھروں میں ہیں۔
کہتے ہیں جنگ کی آگ سرحدوں تک محدود رہتی ہے، مگر ہمارے ہاں اس کی تپش سیدھی عوام کی جیب تک پہنچ جاتی ہے۔ پٹرول ایک دم پچپن روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا۔ اس کے بعد خبر آئی کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پانچ سے تیس فیصد تک کٹوتی کی تیاری ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی جنگ ایران اور اس رائ یل کے درمیان ہے… یا پھر پاکستان کے عام آدمی کے خلاف؟
دنیا کے بیشتر ملکوں میں تیل کی قیمتیں اتنی بے دردی سے نہیں بڑھائی گئیں جتنی پاکستان میں بڑھا دی گئیں۔ پھر جب عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونا شروع ہوئیں تو دنیا کے کئی ممالک نے اپنی عوام کو ریلیف دینا شروع کر دیا۔ لیکن پاکستان میں وہی پرانی قیمتیں آج بھی عوام کے سینے پر پتھر بن کر رکھی ہوئی ہیں۔
یہاں مسئلہ صرف پٹرول کا نہیں… مسئلہ سوچ کا ہے۔
حکومتیں اس لیے بنائی جاتی ہیں کہ مشکل وقت میں عوام کے لیے ڈھال بنیں۔ ریاست کا سب سے بڑا امتحان وہ لمحہ ہوتا ہے جب حالات خراب ہوں، معیشت دباؤ میں ہو اور لوگ پریشان ہوں۔ ایسے وقت میں حکومتیں اپنے اخراجات کم کرتی ہیں، مراعات چھوڑتی ہیں اور عوام کو سہارا دیتی ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں الٹا ہو رہا ہے:
بوجھ کمروں میں بیٹھے طاقتوروں سے ہٹ کر سیدھا اس آدمی کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ سے جھکا ہوا ہے۔
ایک مزدور صبح کام پر نکلتا ہے تو اسے پٹرول کی قیمت یاد آتی ہے۔ ایک سرکاری ملازم تنخواہ کا حساب لگاتا ہے تو کٹوتی کا خوف سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ ایک دکاندار چیزوں کے دام بڑھاتا ہے تو گاہک کی آنکھوں میں بے بسی نظر آتی ہے

یہ صرف معاشی بحران نہیں… یہ احساسِ محرومی کا بحران ہے۔
دنیا میں کہیں جنگ ہو جائے تو حکومت اپنے لوگوں کے گرد حفاظتی حصار کھڑا کرتی ہیں۔ مگر پاکستان میں عجیب روایت ہے: جنگ کہیں بھی ہو، مہنگائی یہاں آ جاتی ہے۔
ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے۔ ماں مشکل وقت میں بچوں کا بوجھ کم کرتی ہے، بڑھاتی نہیں۔ مگر اگر ماں ہی بچوں سے کہنے لگے کہ اپنے حصے کا بوجھ خود اٹھاؤ تو پھر گھر کے اندر پیدا ہونے والی خاموشی سب سے خطرناک ہوتی ہے۔
پاکستان کے لوگ زیادہ کچھ نہیں مانگتے۔ وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ جب دنیا میں طوفان اٹھے تو حکومت کم

08/03/2026

آج International Women's Day کے موقع پر ہمیں ان بہادر خواتین کو سلام پیش کرنا چاہیے جو گزشتہ 31 سال سے خاموشی سے قوم کی خدمت کر رہی ہیں۔ نیشنل پروگرام وہ مشن تھا جو Benazir Bhutto کے وژن کے تحت شروع ہوا، تاکہ عورت کو بااختیار بنایا جائے اور صحت کی سہولیات ہر گھر تک پہنچ سکیں۔
لیکن افسوس!
جن خواتین نے اپنی جوانی اس ملک اور عوام کی خدمت میں گزار دی، آج وہی خواتین بنیادی حقوق، سروس اسٹرکچر اور پنشن سے محروم ہیں۔
یہ کیسا انصاف ہے کہ 31 سال کی خدمت کے بعد بھی انہیں اپنے حق کے لیے سڑکوں پر آنا پڑے؟
یہ کیسا نظام ہے جہاں خدمت کرنے والوں کو حقوق دینے کے بجائے دھمکیاں دی جاتی ہیں؟
آج ہم سوال کرتے ہیں:
کیا ان کی محنت کی کوئی قدر نہیں؟
کیا ان کی قربانیوں کا کوئی حساب نہیں؟
وقت آ گیا ہے کہ ان خواتین کو ان کا جائز حق، باقاعدہ سروس اسٹرکچر اور ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن دی جائے۔
کیونکہ جو عورتیں قوم کی خدمت کرتی ہیں، انہیں عزت اور انصاف دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
یہ صرف خواتین کا مسئلہ نہیں، یہ انصاف اور انسانیت کا سوال ہے۔ ✊🏻

27/12/2025

‏وہ لڑکی لال قلندر تھی…

27 دسمبر صرف بے نظیر بھٹو کی شہادت ھی نہیں بلکہ
،
یہ پاکستان کے دل پر لگا وہ زخم ہے
جو ہر سال تازہ ہو جاتا ہے۔

وہ صرف ایک رہنما نہیں تھی،
وہ امید تھی، چراغ تھی،
آمریت کے اندھیروں میں جلتی ہوئی مشعل تھی۔

بی بی جب بولتی تھیں تو خوف ٹوٹ جاتا تھا،
جب مسکراتی تھیں تو آمریت لرزتی تھی۔

وہ لال قلندر تھی —
سرخ، بے خوف، سرکش، عوام کی بیٹی۔

آج بھی یہ مٹی پوچھتی ہے:
بی بی واپس کیوں نہ آئیں؟

شہید بے نظیر بھٹو —
آپ کا لہو جمہوریت پر قرض ہے،

11/12/2025
10/11/2025

خسرہ روبیلا دو مختلف وائرل بیماریاں ہیں جو بچوں میں عام ہوتی ہیں۔

* #خسرہ (Measles #)*

خسرہ ایک وائرل بیماری ہے جو بچوں میں عام ہوتی ہے۔ یہ بیماری خسرہ وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے، جو ہوا کے ذریعے پھیلتی ہے۔ خسرہ کی علامات میں شامل ہیں:

- بخار
- کھانسی
- نزلہ
- آنکھوں کی سرخی
- جسم پر سرخ دھبے

* #روبیلا (Rubella #)*

روبیلا بھی ایک وائرل بیماری ہے جو بچوں میں عام ہوتی ہے۔ یہ بیماری روبیلا وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے، جو ہوا کے ذریعے پھیلتی ہے۔ روبیلا کی علامات میں شامل ہیں:

- بخار
- کھانسی
- نزلہ
- جسم پر سرخ دھبے
- گردن میں سوجن

*خسرہ روبیلا کی ویکسین*

خسرہ روبیلا کی ویکسین بچوں کو 9-12 ماہ کی عمر میں دی جاتی ہے، اور دوسری خوراک 16-24 ماہ کی عمر میں دی جاتی ہے۔ یہ ویکسین بچوں کو خسرہ اور روبیلا سے بچاتی ہے اور ان کی صحت کو بہتر بناتی ہے۔

*

خسرہ روبیلا کی روک تھام کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں:

- بچوں کو خسرہ روبیلا کی ویکسین دیں
- بچوں کو صاف ستھرا رکھیں
- بچوں کو صحت مند غذا دیں
- بچوں کو وائرل بیماریوں سے بچائیں

Address

Bagh

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lady Health Worker Program Dhirkot posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram