28/12/2025
لاہور کی ایک ایس پی اور آئی سرجن کا معاملہ
لاہور میں آئی سرجن علی زین سے دو پولیس اے ایس پیز کی جانب سے دباؤ ڈال کر 14 لاکھ روپے لینے کا معاملہ، آئی سرجن کے مطابق ایف آئی آر درج کرنے کی دھمکیاں دیکر مریضہ کو پیسے دلوانے میں اے ایس پی شہر بانو نقوی اور اے ایس پی ڈیفنس بریرہ ملوث ہیں۔ دونوں اے ایس پیز نے مختلف اوقات میں غیر قانونی طور دباؤ ڈال کر ایک مریضہ کو 14 لاکھ روپے دلوائے جبکہ ڈاکٹر نے علاج کے عوض مریضہ سے ڈیڑھ لاکھ روپے وصول کیے تھے اور آپریشن بھی ٹھیک ہوا مگر تعلقات کی بنیاد پر دباؤ ڈال کر مریضہ کے لندن علاج کے نام پر 14 لاکھ روپے وصول کیے گئے اور ڈاکٹر کے سیکیورٹی گارڈ کو بھی حوالات میں بند کیا گیا۔ اس واقعہ میں وہی ایس ایچ او خرم بھی ملوث ہے جس کا اے ایس پی شہر بانو نقوی نے اپنی وائرل ویڈیو میں ذکر کیا تھا۔
لاہور کا ایک معروف سرجن اور کنگ ایڈورڈ سے تعلیم یافتہ ایسوسی ایٹ پروفیسر ایک خاتون کی آنکھوں کی سرجری کرتا ہے ، سرجری سے پہلے مریضہ کو تمام تر معلومات دی جاتی ہیں کہ آپکا ویژن کتنے دن میں ٹھیک ہو گا اور کتنا ٹھیک ہو گا اور کونسی آنکھ کی نظر کتنے دن تک ٹھیک ہو گی۔ مریضہ سرجری کے consent فارم پر دستخط کرتی ہیں اور سرجری ہو جاتی ہے ۔ مگر مریضہ خاتون ٹھیک تین دن بعد دوبارہ کلینک پر آ جاتی ہیں اور پھر ڈاکٹر کو گالم گلوچ اور چیخنا چلانا شروع کر دیتی ہیں کہ تم نے میرا آپریشن ٹھیک نہیں کیا میں تمہارے خلاف احتجاج کروں گی تمہیں میڈیا میں گندا کروں گی ، پولیس سے گرفتار کروا دوں گی تم مجھے جانتے نہیں۔ ڈاکٹر اُسے سمجھانے کی کوشش کرتا ہے مگر عورت اپنے تعلقات پر اترا رہی ہوتی ہے اور پھر وہی ہوا جو پاکستان میں ہر طاقتور کے ساتھ تعلقات رکھنے والا کرتا ہے۔ وہ خاتون ایک ASP کی رشتہ دار ہوتی ہیں اے ایس پی اپنے ایس ایچ او کو بھیجتی ہیں جو ڈاکٹر کو دھمکاتا ہے کہ آپکو اے ایس پی صاحبہ بُلا رہی ہیں ۔ ڈاکٹر ASP کے دفتر حاضر ہوتا ہے اور پھر افسر صاحبہ کہتی ہیں کہ میں آپکو بیس طریقوں سے screw کر سکتی ہوں مگر آپ پڑھے لکھے آدمی ہیں اور دوسرا اگر کلینک آپ کا ذاتی نہ ہوتا تو میں وہ بھی بند کروا دیتی ۔ ڈاکٹر بیچارہ ڈر جاتا ہے کہتا ہے میڈم میری کوئی غلطی نہیں میں نے ٹھیک سرجری کی ہے مگر ASP صاحبہ نے کہا کہ مریض مطمئن ہی نہیں تو سرجری ٹھیک کیسے ہو گئی تم سرجری کے پیسے واپس کرو نہیں تو تمہیں screw کروا دونگی۔ ڈاکٹر ڈر کے مارے مان جاتا ہے اور سرجری کی رقم جو کہ ڈیڑھ لاکھ ہوتی ہے وہ واپس کر دیتا ہے مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی وہ مریضہ کہتی ہیں کہ اب اس آنکھ کا علاج میں نے برطانیہ سے کروانا ہے اُس کا خرچہ بھی یہ ڈاکٹر ادا کرے ۔ ڈرا دھمکا کر ڈاکٹر سے پہلے سادہ کاغز اور پھر سٹیمپ پیپر پر دستخط کروا لیے جاتے ہیں اور پھر وہ ASP اپنی اُس مریضہ کو 14 لاکھ روپے لیکر دیتی ہے جس میں ریٹرن ٹکٹ اور برطانیہ میں ڈاکٹر کی چیک اپ فیس شامل ہے۔ اب سوچیں کہ ایک ماہر سرجن اور ایک بڑے تعلیمی ادارے سے پڑھے لکھے اور ویل کنیکٹیڈ ڈاکٹر کے ساتھ ایک ASP اپنے اختیارات سے تجاوز کر کے یہ کر سکتی ہے تو اُس کے ماتحت کیا کچھ نہیں کرتے ہونگے۔
نیو نیوز کے صحافی رضوان احمد جرال کی خبر