Professor Dr. Salma Jabeen

Professor Dr. Salma Jabeen Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Professor Dr. Salma Jabeen, Surgeon, Bahawalpur.

Eid festival is knocking at the door 🚪...Ready to glow n shine more with house of Aesthetics 8 A 2nd line medical colony...
13/06/2024

Eid festival is knocking at the door 🚪...
Ready to glow n shine more with house of Aesthetics
8 A 2nd line medical colony BV-HOSPITAL

07/07/2023
ٹائم مینجمنٹ’’آپ یہ واضح نہیں کرسکتے کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔ البتہ آپ اپنے بڑے اہداف اور بڑی منزلوں کا فیصلہ کرسکتے ہیں!...
30/01/2023

ٹائم مینجمنٹ
’’آپ یہ واضح نہیں کرسکتے کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔ البتہ آپ اپنے بڑے اہداف اور بڑی منزلوں کا فیصلہ کرسکتے ہیں! ‘‘(کلیمنٹ اسٹون)
لوگوں کی اکثریت کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ وقت کتنا قیمتی ہے۔ انھیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ زندگی ایک بار ملی ہے اور اس میں بھی آدھی زندگی گزرنے کے بعد جا کر شعور ملا اور یہ شعور ملنے کے بعد بھی یہ نہیں دیکھا کہ وقت کو کہاں استعمال کرنا ہے۔ انسان جس طرح پیسے کے متعلق سوچتا ہے کہ اسے کہاں خرچ کرنا ہے، اس کا بہتر استعمال کیسے کرنا ہے، اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ کیسے اٹھانا ہے، اسی طرح اسے چاہیے کہ وقت کی اہمیت کو بھی جانے۔
سید قاسم محمود مرحوم ادب کی دنیا کا ایک بہت بڑا نام ہے۔ انھوں نے لٹریچر پر بہت کام کیا۔ ان کے آخری ایام میں ایوانِ اقبال، لاہور میں ان کے کام کے حوالے سے ایک پروگرام منعقد ہوا۔ اس میں ان کی کتابیں اور رسائل رکھے گئے۔ ایک بڑا ذخیرہ تھا جس نے خاصی جگہ گھیر لی۔ ایک شخص کا اتنا کام؟ کسی نے ان سے پوچھا کہ قاسم صاحب، آپ ایک فرد ہیں۔ آپ نے اداروں جتنا کام کیسے کیا۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں نے تو کچھ نہیں کیا، بس میں نے وقت کو صحیح استعمال کیا ہے۔ شہید حکیم محمد سعید اُن کے گہرے دوست تھے۔ حکیم صاحب سید صاحب کی مثال دے کر کہا کرتے تھے کہ دیکھو، یہ جن ہے جن! اگر ایک شخص ٹھان لے کہ اسے اپنا وقت قابو کرنا ہے اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے تو وہ کم وقت میں زیادہ کام کرنے کا ہنر سیکھ سکتا ہے۔

ہر انسان کو برابر کا وقت ملتا ہے
قدرت ہر شخص کو دن بھر میں 1440 منٹ، ہفتے میں سات دن، مہینے میں تیس دن اور سال میں 365 دن دیتی ہے، یعنی ہر ایک کو برابر کا وقت ملتا ہے۔ لیکن ہر ایک کا استعمال مختلف ہوتا ہے۔ لوگوں کا ایک ایسا طبقہ ہے جو بہت مصروف ہوتا ہے۔ وہ بہت خوش قسمت لوگ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ وقت کم ہے اور کام زیادہ ہے۔ جبکہ دوسری طرف ایک ایسا طبقہ بھی ہے جس کا وقت گزرتا ہی نہیں۔ ایسے لوگ اپنا وقت ٹی وی دیکھ کر، سوکر، سوشل میڈیا پر یا آوارہ گردی میں گزار دیتے ہیں۔
جو شخص تنظیم وقت کرنا چاہتا ہے، وہ سب سے پہلے یہ دیکھے کہ مجھ سے اپنا وقت کیوں قابو نہیں ہو رہا۔ سب سے پہلے وہ اس کی فہرست بنائے۔ جب فہرست بنے گی تو بہت سے ایسے کام نکلیں گے جو اس کے وقت کے ضیاع کا باعث بن رہے ہوں گے۔

پرائم ٹائم
ہر شخص کے چوبیس گھنٹوں میں کچھ وقت اس کا ’’پرائم ٹائم‘‘ ہوتا ہے۔ پرائم ٹائم وہ وقت کہلاتا ہے کہ جب آدمی کم وقت میں زیادہ معیار اور زیادہ مقدار کا کام کرسکتا ہے۔ مختلف افراد کیلئے پرائم ٹائم مختلف ہوتا ہے۔ کئی لوگوں کیلئے صبح سویرے کا وقت بہتر ہوتا ہے تو بعض لوگوں کیلئے رات کا۔ تاہم، اسلامی فلسفے کے مطابق، کام کرنے کا بہترین وقت تہجد سے لے کر زوال تک کا وقت ہے۔ قرآن میں بھی ہے کہ ہم دن کو کام کرنے کیلئے اور رات کو آرام کیلئے بنایا ہے۔ اس حوالے سے دنیا کے کامیاب ترین اور امیر ترین افراد کی زندگی کا مطالعہ کیا گیا تو پتا چلا کہ وہ لوگ دیر سے سوتے ہیں اور جلد اٹھتے ہیں۔ امریکا میں کی گئی تحقیقات کے مطابق، عموماً دنیا کے امیر ترین افراد صبح تین سے چار بجے اٹھ جاتے ہیں اور پھر نہیں سوتے۔ بہ نظر غائر دیکھا جائے تو یہی فطری طریقہ ہے۔
بہ ہر کیف، اپنے پرائم ٹائم کو جانچ کر اس کے مطابق اپنے کاموں کو ترتیب دیجیے۔ آپ کا جو بھی پرائم ٹائم ہے، اس میں وہ کام کیجیے جو آپ کی زیادہ توجہ مانگتے ہیں۔ اس کے بعد دوسرے کام جو نسبتاً کم توانائی اور توجہ کے طالب ہیں۔اگر آپ پرائم ٹائم میں کم تر توجہ کا کام کریں گے تو باقی وقت میں زیادہ توجہ کا طالب کام کرنا پڑے گا۔ یوں، آپ کا وقت زیادہ لگے گا، مگر نتیجہ کم تر ہوگا۔
بڑی تعداد میں لوگ اپنی دفتر زندگی کو ہی اصل زندگی سمجھتے ہیں۔ اس کے برخلاف، ایسے لوگ بھی ہیں جو صرف اپنی ذاتی زندگی کو زندگی سمجھتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنی فیملی کو ہی اصل زندگی سمجھتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے دوستوں اور ملنے جلنے والوں کو اپنی زندگی کا اثاثہ سمجھتے ہیں۔ جو لوگ جس قسم کی زندگی کو اصل سمجھتے ہیں، وہ اپنے وقت کا زیادہ تر حصہ اس میں گزارتے ہیں۔
جو نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان کی بہت بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ ہم جیسے ہی تعلیم سے فارغ ہوں گے، ہمیں فوراً جاب مل جائے گی، پھر ہمیں زیادہ وقت مل پائے گا۔ لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہوتا۔ جاب ملنے میں کچھ عرصہ لگتا ہے۔ ڈگری لینے کے بعد جو نوجوان جاب کا انتظار کرتے ہیں، ان میں نوے فیصد جاب ملنے تک فارغ رہتے ہیں، حالانکہ انھیں چاہیے کہ اس دوران وہ کوئی ایسا کام کر یں جس میں بے شک تنخوا ہ کم ہو، معیار بھی وہ نہ ہو، مگر اس سے انھیں سیکھنے کو بہت کچھ ملے گا۔ انسان بنیاد کو نہیں دیکھتا، وہ بلندی کو دیکھتا ہے جبکہ بلندی کیلئے بنیاد کی مضبوطی ضروری ہے۔

سات ٹوکریاں
ہماری زندگی کے سات حصے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ زندگی کی سات ٹوکریاں ہیں اوراپنے وقت کو ان ساتوں ٹوکریوں میں رکھنا ضروری ہے۔ کسی ایک ٹوکری کو بھی نظر انداز کردیا گیا تو زندگی متوازن نہیں ہے۔ جب زندگی متوازن نہیں ہوگی تو پریشانیاں جنم لیں گی۔ زندگی کی یہ سات ٹوکریاں کچھ یوں ہیں:
1 پہلی ٹوکری: اپنی ذات ختمہ نہ لگایا جائے
اس میں دیکھا جاتا ہے کہ صحت کی طرف توجہ کتنی ہے، کیا سیلف ایمپروومنٹ ہورہی ہے۔
2 دوسری ٹوکری:اپنی فیملی
اس میں دیکھا جاتا ہے کہ آپ کتنا وقت اپنی فیملی کو دے رہے ہیں اور اس میں کتنی بہتری ممکن ہے۔
3 تیسری ٹوکری: پروفیشن
اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ پروفیشن کیساہے اور پروفیشنل زندگی کیسی ہے۔
4 چوتھی ٹوکری: سوسائٹی
یہ سوشل سرکل ہے۔ اس میں دیکھا جاتا ہے کہ زندگی میں حلقہ احباب کتنے ہیں۔ کون سے مفید ہیں اور کون سے مضر ہیں۔ کتنوں کو رکھنا ہے، کتنوں کو نہیں رکھنا۔کیا درکار وقت دیا جارہا ہے یا ضرورت سے زیادہ وقت یہاں صرف ہورہا ہے۔
5 پانچویں ٹوکری:خدمت
اس میں دیکھا جاتا ہے کہ دوسروں کی خدمت کی حوالے سے بھی کوئی کردار ادا ہورہا ہے کہ نہیں۔ یا انسانیت کی خدمت کیلئے کوئی وقت مختص ہے۔
6 چھٹی ٹوکری:مذہب
اس کا تعلق روحانی نمو سے ہے۔ اس میں دیکھا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے کتنا تعلق ہے۔ کیا مادہ پرست ہوکر تو نہیں رہ گئے۔ کیا اللہ کے حقوق ادا کیے جارہے ہیں۔ اللہ کیلئے کتنا وقت رکھا ہے۔
7 ساتویں ٹوکری:تنہائی
اس میں دیکھا جاتا ہے کہ انسان اپنے ساتھ کتنا وقت گزارتا ہے۔ انسان اپنے سے کتنی دیر ملاقات کرتا ہے۔ وہ خود سے باتیں کرتا ہے یا نہیں۔ وہ اپنے حقوق کو جانتا ہے کہ نہیں۔
یہ زندگی کے سات رنگ ہیں۔ خوش قسمت انسان وہ ہے جس کے اندر یہ سارے رنگ پائے جاتے ہیں۔ انھی سات رنگو ں میں اپنے وقت کو متوازن طور پر تقسیم کرنا دراصل ٹائم مینجمنٹ ہے۔ عین ممکن ہے، کسی دن فیملی کو زیادہ وقت کی ضرورت ہو۔ اس دن دفتر سے چھٹی کرنا ہوگی۔ عین ممکن ہے، کسی دن آفس میں کام زیاد ہ ہو جس کی وجہ سے گھر والوں کو پورا وقت دینا مشکل ہوجائے گا۔ عین ممکن ہے، دوست تکلیف میں ہو۔ اس کو زیادہ وقت کی ضرورت ہو۔ عین ممکن ہے، آ پ بیمار ہوں اس لیے اپنی صحت کیلئے زیادہ وقت چاہیے۔ عین ممکن ہے، آپ اپنے تئیں کُڑھ رہے ہوں اور ایسا لگ رہا ہو کہ زندگی میں کسی شے کی کمی ہے حالانکہ بہ ظاہر کوئی مسئلہ نہ ہو۔ اس وقت آپ کو تنہائی کیلئے زیادہ وقت چاہیے۔
یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ وقت کہاں کہاں تقسیم کرنا ہے اور ابھی کہاں کہاں لگ رہا ہے۔ ترجیحات کا تعین بہت ضروری ہے۔
وقت کی کمی کا مسئلہ کن لوگوں کیلئے نہیں ہے؟
ایک خاص روٹین کے ساتھ کام کرنے والوں کیلئے ٹائم مینجمنٹ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہوتا۔ وہ نو اور پانچ کے پھیرے میں رہتے ہیں۔ انھیں اپنے وقت کو ترتیب اور تنظیم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ واضح رہے، ٹائم مینجمنٹ اُن افراد کا مسئلہ ہے جو وقت کی کمی کا احساس رکھتے ہیں، جو اپنی ایک زندگی میں بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں، جو اپنے معمولی اوقات کو غیر معمولی نتائج میں بدلنے کیلئے پاگل ہوئے جاتے ہیں۔ جو اپنے اندر سوئے جن کو جگا چکے ہیں اور اب اس جن سے کام لینا چاہتے ہیں۔
جب یہ کیفیت ہوجاتی ہے تو پھر کام زیادہ ہوتا ہے اور وقت بہت کم۔

پروایکٹو کردار
دنیا کے کامیاب لوگوں کی عادات میں سے ایک عادت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ پروایکٹیو (Proactive) ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں والدین کو اپنے بچوں کا بیمہ کرانے کی بہت فکر ہوتی ہے، لیکن ان کی تربیت کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ حالانکہ یہ اصل بیمہ ہے۔پروایکٹیو کا مطلب ہے کہ آپ عمل کیلئے کتنے تیار ہیں؟ آنے والے اوقات کو کتنا پلان کیا؟ وقت کو ضائع ہونے سے کتنا بچایا؟ ایسے لوگ ہر وقت، ہر لمحہ اپنے آپ سے سیکھتے رہتے ہیں۔ جو آدمی اپنے روزو شب سے سیکھتا نہیں، وہ اپنے وقت سے زیادہ پاتا بھی نہیں۔
جو لوگ سیکھنے کا شوق رکھتے ہیں اور اپنے اندر تبدیلی کی لچک پیدا کرلیتے ہیں، ان کی ٹائم مینجمنٹ اچھی ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے بہ حیثیت ِ قوم، ہم سیکھنے کو اہم نہیں سمجھتے۔ سیکھنے کیلئے کتاب کا مطالعہ اور حالات کا مشاہدہ اہم ذرائع ہیں۔ دنیا کے ذہین لوگ اپنی زندگی کی بدقسمتی اور خوش قسمتی کو معنی دیتے ہیں۔ جن لوگوں کی زبانوں پر ہر وقت گلہ شکوہ اور پچھتاوا رہتا ہے، یہ اس بات کی نشانی ہوتی ہے کہ وقت کا استعمال صحیح نہیں ہوا۔ مجھے ایک یونانی کہانی یاد آگئی جس میں ہے کہ ایک شخص جب مرنے لگا تو اس کے سامنے تین لوگ آگئے اور چیخ چیخ کر کہنے لگے کہ تم ہمارے مجر م ہو۔ مرنے والے نے کہا، تم کون ہو، میں تمہیں نہیں جانتا۔ ان تینوں نے جواب دینا شروع کیا۔ ان میں سے پہلے نے کہا، میں وہ وقت ہوں جو تمہیں ملا تھا لیکن تم نے مجھے ضائع کردیا۔ دوسرے نے کہا، میں وہ توا نائی ہوں جو تمہیں ملی تھی لیکن تم نے مجھے ضائع کر دیا۔ تیسرے نے کہا، ہم وہ ذرائع ہیں جو مالک نے بہانے بہانے سے تمہیں دیئے مگر تم نے ہمیں ضائع کیا۔ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ مرنے کے بعد انسان سے دنیا کے بارے میں پانچ سوال کیے جائیں گے۔ ان میں سے ایک سوال یہ ہوگا کہ اپنے وقت کو کیسے استعمال کیا۔ انسان جب اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے مواقعوں کو ضائع کرتا ہے تو پھر یہی مواقع اس کے آخری وقت پر عذاب کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ لہٰذا، وقت کو درست طریقے سے استعمال کرنا بہت ضروری ہے اور اس کیلئے ٹائم مینجمنٹ کی مہارت کا سیکھنا لازمی ہے۔

فطرت کے ہاں چھٹی نہیں
ترقی یافتہ ممالک کے لوگ اپنی چھٹی کو بھی پلان کرتے ہیں جبکہ ہم چھٹی والے دن لمبی تان کر سوجاتے ہیں اور پھر پورا دن برباد ہو جاتا ہے۔ یاد رکھیے، زندگی میں قانونِ قدرت کے تحت ’’چھٹی‘‘ کبھی نہیں ہے، صرف کاموںکی تبدیلی ہے۔
یہ زندگی اللہ تعالیٰ کا تحفہ ہے۔ اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اس کا درست استعمال کرناچاہیے۔ وقت اللہ تعا لیٰ کا تحفہ اور انعام ہے۔ اس کو صحیح طریقے سے مینج کرنا چاہیے تاکہ زندگی میں آسانی پیدا ہو۔
نیویارک میں پارکنگ پلازا انیس سو پچیس میں بننا شروع ہوگئے تھے، حالانکہ اس وقت پورے نیو یارک میں صرف پچیس گاڑیاں تھیں لیکن ان کی سوچ پروایکٹیو تھی۔ اس لیے انھوں نے یہ سوچ کر پارکنگ پلازا بنائے کہ آنے والے وقت میں یہاں پر گاڑیاں آئیں گی۔ چنیوٹ پاکستان کا واحد علاقہ ہے جہاں ہزاروں ارب پتی ہیں۔ ایک جگہ پر اتنے امیر ہونے کی وجہ یہ تھی کہ وہ تمام لوگ پروایکٹو لوگ تھے۔
اگر سیکھنے کی جستجو ہے تو انسان کی شخصیت ترو تازہ ہے۔ اگر سیکھنے کی جستجو ہے تو انسان کی شخصیت میں چمک ہے۔ سیکھنے والا ہر وقت کھوج اور تلاش میں رہتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جن لوگوں کو سیکھنے کا شوق ہوتا ہے ، ان کی عمر لمبی ہوتی ہے۔ جب انسان یہ کہتا ہے کہ سب کچھ ختم ہوگیا تو پھر اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اب اس کا جینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
مارٹن لوتھر کنگ کہتا ہے کہ اگر آدمی نے کچھ کرکے دکھانا ہوتو اس کیلئے ایک زندگی کافی ہے، وگرنہ پانچ سو زندگیاں بھی مل جائیں تو وہ کچھ کرکے نہیں دکھا سکے گا۔

25/01/2023
اسلام وعلیکم ۔۔۔۔Dear members of this vibrant group.... prayers for ur health n aafiyat n for ur faimlies too ...I am Pr...
06/01/2023

اسلام وعلیکم ۔۔۔۔
Dear members of this vibrant group.... prayers for ur health n aafiyat n for ur faimlies too ...
I am Professor
Dr Salma Jabeen
Head of gynae
& Obstetrics department QAMC (BVH/SAH/JFH)

I am going to use this forum for informing my all well-wishers & my patients {may Allah bless them with good health always amin}
Regarding
Change of my clinic location...

I am going to start my clinic...at
8/A 2nd line '
medical colony BV-Hospital
From today..
Clinic timing will b
4 30pm to 7pm.. inshallah....

The name of my clinic..
Women Care clinic ..
Trying to provide all services for all ages of women under one roof.inshallah
Maternity services

Gynae services

Gynae Aesthetic service..from March 2023

Facial aesthetic services ..from 2023 March

Diet n fitness advisory

Physiotherapy for women n children only

Facility of laproscopic & general surgeon too

May Allah bring burkut n khaer in this place for me n my faimly.
I pray that Allah make me source of khaer n shifa for my patients n for my colleagues too.....
Request for prayers

05/01/2023

ہر دن کو شاہکار بنائیں
(قاسم علی شاہ)
وہ جادوگر کے نام سے مشہور تھا۔وہ باسکٹ بال کا گرو تھا ۔وہ گراؤنڈ میں کھیل کے دوران ایسی خودکش چھلانگیں لگاتا کہ حریف ٹیم سر پکڑ کر بیٹھ جاتی ، اس کے کھیل کے انداز میں ایسی پھرتی اور ذہانت ہوتی تھی کہ مد مقابل کی نظروں کے سامنے سے بال اچک لیتااور پلک جھپکتے میں باسکٹ گول میں ڈال دیتا۔اپنے کرئیر میں اس نے بے شمار کامیابیاں حاصل کیں اور اسی وجہ سے اس کا شمار امریکہ کے دس عظیم کھلاڑیوں میں ہونے لگا۔1932ء میں ا س نے کوچنگ شروع کی تو اس میدان میں بھی اس کا جادو سرچڑھ کر بولنے لگا۔وہ ’’اوکلا بروئینز‘‘باسکٹ بال ٹیم کی کوچنگ کرنے لگا اور اگلے دس سالوں میں اس نے اپنی ٹیم کو دس بار NCCAچیمپئن شپ جتوائی اور اس کے بعد اس کی ٹیم نے باسکٹ بال کھیل میں تقریباً 88ریکارڈز قائم کیے۔

یہ باسکٹ بال کی تاریخ کا سب سے معزز کوچ ’’جان ووڈن‘‘ تھا جس کی شان دار کوچنگ صلاحیتوں کی بدولت اسے سات بار’’ National Coach of the Year‘‘ کا ایوارڈجبکہ پانچ بار APایوارڈ سے نواز اگیا۔وہ واحد انسان تھا جس کو بحیثیت کھلاڑی اور کوچ کے ’’ہال آف فیم‘‘ میں بھی جگہ ملی ۔وہ کھلاڑی سے زیادہ کوچ کی حیثیت سے مشہور ہواکیوں کہ وہ اپنی ٹیم کے سامنے کھیل کی تکنیک بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے جوشیلے فقرے بھی بول دیتا جس کی بدولت کھلاڑی جیت کے لیے جان کی بازی لگادیتے۔اپنے 29سالہ کوچنگ کرئیر کانچوڑ اس نے اپنے فلسفے’’The Pyramid of Success‘‘میں واضح کیاہے۔ یہ انسانی رویوں اور عادات کاایک فریم ورک ہے جس کی بدولت کامیابی یقینی ہوجاتی ہے۔ اسی فریم ورک پر وہ اپنی ٹیم کی کوچنگ کرتا اور اسی بنیاد پر وہ لگاتار کامیابی کے جھنڈے گاڑتی چلی جاتی ۔ کامیابی کے متعلق اس کے فلسفے اور نظریات سے نہ صرف کھیل بلکہ بزنس ، Personal Success اور لیڈرشپ کے میدان میں بھی بھرپو ر استفادہ کیا جاتارہاہے؛لیکن باسکٹ بال کے اس جادوگر اور کامیابی کے موضوع پر شان دارمہارت رکھنے والے انسان کے سارے وزڈم کا خلاصہ ایک جملے میں تھا۔وہ کہتا ہے جب میں چھوٹاتھا تو مجھے میرے باپ نے کہا تھا:Make each day your masterpiece(اپنے ہر دن کو شاہکار بنادو)۔

ہر دن کوشاہکار بنانے کافلسفہ اس قدر کارآمد ہے کہ یہ انسان کی ساری زندگی کو شاہکار بنادیتاہے۔ا س بات کو یہیں پر روک کر ہم 2023کی طرف بڑھتے ہیں۔
آپ کو نیا سال مبارک ہو۔نیا سال شروع ہوچکا ہے اور حسب سابق اس بار بھی آپ نے کچھ ارادے ، کچھ خواب اور کچھ عزائم مقرر کرلیے ہوں گے۔آپ کے دل میں یہ خواہش ہوگی کہ آنے والا سال میری زندگی کا ایک بہترین سال اور گذشتہ سالوں سے کچھ ہٹ کر ہو۔آپ کو مبارک ہو کہ آپ نے ایک بہترین فیصلہ کیا ہے۔اب آپ نے اگلاسال کیسے ترتیب دینا ہے ، اسی کے متعلق آج کی تحریر میں چند اہم باتیں آپ کے سامنے رکھوں گا۔

میرا آپ سے ایک سوال ہے۔آپ نے جنگل تو دیکھا ہوگا، نہ بھی دیکھاہو توتصویر وغیرہ دیکھی ہوگی۔آپ جنگل کودیکھیں تو وہاں ہر طرف آپ کو ہرے بھرے اور تازگی سے بھرپور درخت ملیں گے۔جنگل میں یہ سدابہار ہریالی کیسے ہوتی ہے؟
دراصل جنگل کے درختوں کو اپنی زندگی میں بار بار ایک امتحان سے گزرنا پڑتاہے۔یہ امتحان طوفانی ہواؤں ، بھڑکتی آگ، کیڑے مکوڑو ں اور دیگر خطرات کی صورت میں ہوتاہے۔کبھی کبھار ایسی خوفناک اور تند و تیز ہوائیں چلتی ہیں کہ درختوں کو اکھاڑ کر رکھ دیتی ہیں۔اب ایسے میں جن درختون کی عمر مکمل ہوچکی ہوتی ہے ، وہ گرجاتے ہیں۔جن درختوں کی شاخیں سوکھ چکی ہوتی ہیں، وہ ٹوٹ جاتی ہیں۔اسی طرح بعض دفعہ درختوں کوکوئی مرض لاحق ہوجاتاہے ۔انھیں ایسا کیڑا لگ جاتاہے جو اُن کی شاخوں کو کھوکھلا کردیتاہے، کھوکھلی شاخیں چند ہی دنوں میں ٹوٹ کر درخت سے الگ ہوجاتی ہیں اور اس تمام مرحلے کے بعد درخت ایک نئے روپ میں نکل آتے ہیں۔وہ پہلے سے زیادہ توانا، خوب صورت اور ہریالی سے بھرجاتے ہیں۔اگر درخت کی زندگی میں یہ آزمائش اور بحران نہ ہو تو وہ کمزور شاخوں اور کھوکھلے تنے کے ساتھ زندگی نہیں گزارسکتا۔یہ قدرت کا اصول ہے کہ جس چیز نے بھی نئے رو پ میں آنا ہے ، اس کو پرانا روپ چھوڑنا پڑے گا۔

نئے سال کے لیے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم گولز تیار کرنے کے ساتھ ساتھ ایک بنیادی چیز ذہن میں رکھیں ۔آپ نے خود کو تبدیل کرنا ہے کیوں کہ اصل مقصد ہی تبدیلی ہے ۔آپ گزشتہ سے بہتر تب ہوں گے جب آپ تبدیل ہوجائیں گے ۔انقلابی تبدیلی کے لیے یہ بات لازمی ہے کہ آپ اپنے پرانے روپ کو چھوڑ دیں ۔ یہ عمل آپ کو مشقت میں ڈال سکتاہے لیکن جنگل والی مثال ذہن میں رکھیں کہ آزمائش کا مطلب ذات کانکھارہوتاہے۔
تبدیلی کے متعلق آپ کے ذہن میں سوال ہوگا کہ ہم کہاں کہاں پر خود کو تبدیل کریں؟
انسان کی زندگی میں چارایسے بنیادی اہداف ہیں جن کے لیے وہ شعوری یا لاشعوری طورپر محنت کرتاہے اور دراصل یہی وہ اہم چیزیں ہیں جو اگر کسی انسان کی درست ہوجائیں تو وہ اپنے آپ کو کامیاب کہلوانے کا حق رکھتا ہے۔

(1)صحت:
صحت ایک ایسی بے مثال نعمت ہے جو اگر ایک دفعہ روٹھ جائے تو اس کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے انسان بڑی سے بڑی قیمت چکانے کوبھی تیار ہوتاہے۔ ہم اگر اپنی روزمرہ زندگی پر نظر دوڑائیں تو ہمارے کھانے پینے کی روٹین اور خوراک انتہائی ناقص ہے۔ہم میں سے اکثر لوگ جنک فوڈ کے شوقین ہیں جو کہ بذات خود کسی بیماری سے کم نہیں۔دوسری عادت حد سے زیادہ کھانے کی ہے۔ہم پیٹ بھرنے سے زیادہ صرف زبان کے ذائقے اور منہ کے چٹخارے کے لیے کھاتے ہیں ۔ ہمیں صحت مند خوراک اور ناقص خوراک کا علم نہیں اور نہ ہی یہ معلوم ہے کہ کب ، کس وقت اور کتنا کھانا ہے۔چنانچہ آج آ پ کو نان چنے ، حلیم ، سموسے اورپکوڑوں کی دکان پر طویل قطاریں نظر آئیں گی جبکہ جاگنگ ٹریکس خالی ۔یہ وہ عوامل ہیں جو براہ راست ہماری صحت پر اثراندا ز ہورہے ہیں اور اسی وجہ سے ہر گھر میں کوئی نہ کوئی مستقل بیمار موجود ہے۔ہر کمانے والے انسان کی کمائی کاایک حصہ دوائیوں پر نکل جاتاہے۔
لہٰذا نئے سال میں اپنی صحت کو ترجیح اول بنائیں۔اپنی خوراک کامعیار چیک کریں اور ناقص چیزیں بالکل بھی نہ کھائیں۔اس کے ساتھ ساتھ روزانہ کی بنیاد پر ورزش کے لیے وقت نکالیں اور کوئی نہ کوئی جسمانی سرگرمی ضرور کریں۔

(2)معاش:
بچپن سے ہی والدین بچوں کی تعلیم کی فکر شروع کردیتے ہیں۔وہ اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلواناچاہتے ہیں اوراس مقصد کے لیے اکثراوقات بھار ی بھرکم فیسوں کی صورت میںاپنی استطاعت سے زیادہ بوجھ بھی اٹھالیتے ہیں۔مقصد یہی ہوتاہے کہ بچوں کے نمبرز اچھے آجائیں، وہ اعلیٰ ڈگری حاصل کریں اور اس کے بعد ایک شان دار نوکری۔جبکہ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ آج ہزاروں پی ایچ ڈیزبے روزگار پھررہے ہیں۔کیا مطلب ہے اس کا؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ والدین اور آج کی نسل ٹرینڈ کے پیچھے بھاگ رہی ہے۔جہاں لاکھوں لوگ پہلے سے ہی موجود ہوں تو وہاں مقابلہ بھی انتہائی سخت ہوگااور چانس ملنے کا امکان بھی نہ ہونے کے برابر۔
نئے سال میں اس چیز کا عہد کریں کہ اپنے لیے نئے میدان دریافت کرنے ہیں۔اپنے اندر موجود قابلیت اور صلاحیت کو نکھار ناہے ۔انٹرنیٹ پر قابل اور باصلاحیت انسان کے لیے رزق کمانے کے ہزاروں راستے موجود ہیں، انھیں تلاش کریںاور اپنی قابلیت کے بل بوتے پر اچھا ذریعہ معاش اپنائیں۔

(3)تعلق/رشتے:
انسان کی زندگی میں اگر مخلص اور خیال رکھنے والے لوگ نہ ہوں تو ہر طرح کی سہولیات اور تعیشات کے باوجود بھی اس کی زندگی بے رونق ہوگی۔انسان، انسانوں کے دم سے ہی زندہ ہے۔ہر انسان ایک ایسے شخص کی آروز کرتاہے جو اس کو سنے ، اس کے ساتھ باتیں کرے اور اس کی خوشی غمی میں شریک ہوں،لیکن آج کل کی مصروف ترین زندگی اور سوشل میڈیا کے بے ہنگم استعمال نے رشتوں کو کمزور کرنا شروع کردیا ہے۔اب ایک گھر میں رہنے والے لوگ بھی بظاہر قریب ہوتے ہیں لیکن دلی طورپر ایک دوسرے سے کافی دورجاچکے ہوتے ہیں اور یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
نئے سال میں کوشش کیجیے کہ اپنے رشتوں کو مضبوط بنائیں ۔جو تعلق کمزور ہوچکا ہے یاکچھ مخلص لوگ آپ سے دور چلے گئے ہیں انھیں دوبارہ اپنی زندگی میں شامل کرلیں ، کیوں کہ یہی رشتے اور انسان ہی کل آپ کے کام آئیں گے اور آپ کو جذباتی طورپر مضبوط کریں گے۔

(4)دلی سکون:
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود کو مادی طورپر کامیاب کرنا چاہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگرہمارے پاس بہت سارا پیساہو ، قیمتی گاڑی اور گھر ہو توان کی بدولت ہمیں خوشی اورسکون مل جائے گا۔جبکہ یہ ہماری ایک بڑی غلط فہمی ہوتی ہے کیوں کہ زندگی بھر کی محنت کے بعد جب ہم اپنی خواہش کے مطابق چیزیں حاصل کرلیتے ہیں تو اس کے بعد بھی ہم خوش نہیں ہوتے ۔سب کچھ ہونے کے باوجود بھی لگتاہے کہ کچھ Missingہے۔اس کی کیا وجہ ہے؟
دراصل ہم اگر اس وقت زندہ ہیں تو وہ روح کی بدولت ہیں اور جب ہم مادیت کے پیچھے بھاگتے بھاگتے روح کوبالکل ہی نظرانداز کردیتے ہیں تو وہ کمزور ہونا شروع ہوجاتی ہے۔جیسی جیسی وہ کمزور ہوتی جاتی ہے ،ویسے ویسے ہمارے اندر بے چینی بھی بڑھتی جاتی ہے۔ہم بے سکونی اور اضطراب کا شکار ہوتے جاتے ہیں اور پھر ہمارے پاس مادی چیزیں کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ، یہ ہمیں سکون نہیں دے سکتیں۔اس لیے روح کو خوراک دینا بہت ضروری ہے اور اس کی خوراک اللہ کا ذکر اور خواہشات کو کم کرنا ہے۔

اس نئے سال میں اپنے رب کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کریں۔خود کو روحانی طورپر طاقتور بنائیں۔آپ روحانی طورپر اگرمضبوط ہوں گے تو پھر زندگی میں جتنی بھی بڑی آزمائش اور بحران آجائے ، آپ کے قدم نہیں ڈگمگمائیں گے ۔آپ ہر حالت میں پرسکون اور مطمئن رہیں گے۔
یادرکھیں کہ تبدیلی کے لیے استقامت بہت ضروری ہے۔تحقیق بتاتی ہے کہ نئے سال کی آمد پر لوگ بڑے جوش و جذبے کے ساتھ پلاننگ کرلیتے ہیں لیکن 90سے 95فی صدلوگ 15جنوری کے بعد واپس اپنی پرانی روٹین پر آجاتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ اپنے اندر استقامت کیسے پیدا کی جائے تاکہ ہم نے اپنے لیے جو پلاننگ کی اس پر لگاتار عمل کریں اور خود کوبہتر بنائیں؟

تحریر کے آغاز میں ہم نے ’’جان ووڈن‘‘ کاایک جملہ نقل کیا تھاکہ اپنے ہر دن کو شاہکار بنانا ہے۔ اسی سوچ کو ہر پل ذہن میں رکھیں ۔یہ آپ کے جذبوں کو تحریک دے گی۔یہ آپ کو موٹیویٹ کرے گی اور آپ کو سوچنے پر مجبور کرے گی کہ اپنے ہر دن کو کس طرح ایک شاہکار دن بنانا ہے۔آپ کا’’ایک دن‘‘ اگر ٹھیک ہوتاہے تو اس طرح کرتے کرتے ’’ایک ہفتہ‘‘ٹھیک ہوجائے گا، اسی طرح ایک مہینہ ، ایک سال اور اس کے بعد پوری زندگی شاہکار بن جائے گی۔

استقامت کے لیے دوسری ٹپ یہ ہے کہ آپ جو بھی کام کریں اس میں اپنی تمام تر توانائیاں جھونک دیں۔اس میں اپناThe Bestدے دیں اوراس کو اس انداز میں مکمل کریں کہ کام کوفخر ہو کہ آپ نے اس کو مکمل کیا ہے۔

تیسری ٹپ یہ ہے کہ اپنے کام میں معاوضے سے زیادہ محنت کریں۔آپ کا نفس آپ کو ورغلاسکتاہے کہ جب ایک چیز کا معاوضہ ہی نہیں مل رہا توپھراتنی خواری کی ضرورت کیا ہے لیکن آپ نے اس کی بات پر دھیان نہیں دینا اور یہ بات ذہن میں رکھنی ہے کہ آپ جو محنت کررہے ہیں اس کاصلہ مستقبل میں ضرورآپ کو ملنے والا ہے۔جب آپ اپنے ہرکام میں The Bestدیں گے تو اس کی بدولت آپ کو کام کرنے میں مزہ آئے گااور آپ کے لیے ترقی کے راستے کھلیں گے ۔

Good news for our health system n new graduates...پریس ریلیز ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب۔۔ *_پنجاب بھر میں پوسٹ گریجویٹ...
30/12/2022

Good news for our health system n new graduates...پریس ریلیز ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب۔۔

*_پنجاب بھر میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ اور ھاؤس جاب کے خواہاں ڈاکٹرز کے لئے بڑی خوشخبری_* ۔۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کی شبانہ روز محنت اور سیکرٹری صحت محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری کی کاوشوں کی بدولت پوسٹ گریجویٹ ریزیڈینسی پروگرامز میں اہم پیش رفت۔۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کی یہ درینہ ڈیمانڈ تھی کہ صوبہ بھر کے DHQs کو اپ گریڈ کر کے ان میں ٹریننگ پروگرام شروع کیے جائیں بلخصوص (FCPS,MCPS,) (Diplomas)
تاکہ نہ صرف ڈاکٹرز اپنے کیریئر کو آگے بڑھا سکیں بلکہ غریب مریضوں کو بھی بہترین علاج معالجہ مل سکے۔۔

دوسری طرف میڈیکل گریجویٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے ہاؤس کی پالیسی کو بھی اپگریڈ کرنا اور DHQs تک پھیلانا بھی قابل ستائش اقدام ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔۔

الحمداللہ اس کامیابی پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب تمام ڈاکٹرز کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور سیکرٹری صحت محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری کا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں۔۔

انشاءاللہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب اس معاملے کو روزانہ کی بنیاد پر فالو بھی کریں گے اور CPSP
میں اپروو بھی کروائیں گے۔۔

ہم پر امید ہیں انشاءاللہ آنے والا وقت ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کی کاوشوں کی بدولت ڈاکٹرز کے لیے مزید خوشخبری لے کر آئے گا۔۔

متحد رہیں۔
مضبوط رہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

APPLICATIONS ARE INVITED FOR THE POSTS OF PROFESSOR (BS-20), ASSOCIATE PROFESSORS (BS-19), ASSISTANT PROFESSORS (BS-18),...
23/12/2022

APPLICATIONS ARE INVITED FOR THE POSTS OF PROFESSOR (BS-20), ASSOCIATE PROFESSORS (BS-19), ASSISTANT PROFESSORS (BS-18), DEMONSTRATOR (BS-17), MEDICAL OFFICERS (BS-17), WOMEN MEDICAL OFFICERS (BS-17), CHARGE NURSE (BS-16) ON ADHOC BASIS PHASE-III

Say Alhamdulillah.....all the times...in all the circumstances....
20/12/2022

Say Alhamdulillah.....all the times...in all the circumstances....

Address

Bahawalpur

Telephone

+923327810791

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Professor Dr. Salma Jabeen posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category