09/11/2024
اسموگ دھویں اور دھند کے ملنے سے بنتی ہے۔ سرد موسم میں گاڑیوں کے دھویں میں شامل زھریلے مرکبات، کارخانوں کی آلودگی، اور فصلوں کی باقیات سے اٹھنے والی کاربن ہوا میں شامل ہو جاتی ہے اور فضا میں زیادہ بلندی پر جانے کی بجائے زمین سے تھوڑی بلندی پر ہی اکٹھی ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں فضا میں آلودگی کی ایک تہہ بن جاتی ہے، جسے اسموگ کہتے ہیں۔
اسموگ کے صحت پر بہت سے خطرناک اثرات ہوتے ہیں۔
1. سانس/تنفس کے مسائل
اسموگ میں موجود آلودگی سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سے دمہ، کھانسی، اور گلے کی سوزش جیسی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ پہلے سے سانس کی بیماریوں میں مبتلا لوگوں کے مرض کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ خصوصا بچے، بوڑھے اور حاملہ خواتین اس کا زیادہ شکار بنتے ہیں۔
2. پھیپھڑوں کا نقصان
اسموگ پھیپھڑوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس میں موجود زہریلے ذرات پھیپھڑوں میں جا کر انہیں کمزور کرتے ہیں اور تنفس کی دائمی بیماریاں پیدا کر سکتے ہیں۔
3. دل کی بیماریاں
اسموگ میں شامل آلودگی خون کی گردش کو متاثر کرتی ہے، جس سے ہائی بلڈ پریشر اور دل کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔
4. آنکھوں کی جلن
اسموگ آنکھوں میں سوزش، جلن اور سرخی پیدا کرتی ہے، جس سے بصارت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
5. جسمانی مدافعتی نظام کی کمزوری
اسموگ میں موجود زہریلے مادے جسم کے مدافعتی نظام کو کمزور کر سکتے ہیں، جس سے جسم بیماریوں کے خلاف لڑنے میں کمزور ہو جاتا ہے۔
6. جلد کے مسائل
اسموگ جلد پر اثر انداز ہوتی ہے، جس سے خارش، سرخی اور الرجی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
7. کینسر کا خطرہ
اسموگ میں موجود کچھ کیمیکلز مستقبل میں کینسر کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر پھیپھڑوں کے کینسر کا۔
8-ڈپریشن اور ذہنی امراض
اسموگ سے ڈپریشن اور موڈ ڈس آرڈرز بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
اسموگ سے بچاو کیلئے مندرجہ ذیل طریقے اقدامات پر عمل کریں۔
1-ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے لئے انفرادی اور اجتماعی کوشش کریں اور حکومتی اقدامات کا ساتھ دیں۔
2-غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے پرہیز کریں
3-باہر جانا ضروری ہو تو ماسک استعمال کریں۔ جسم کو زیادہ سے زیادہ ڈھانپیں۔ آنکھوں پر چشمہ استعمال کریں۔ گھر واپسی پر کپڑے بدلیں اور جسم کو صاف کر لیں۔
4-گاڑیوں کے شیشے بند رکھیں۔
5-فلو کی ویکسین ضرور لگوائیں۔
6-پانی زیادہ سے زیادہ پئیں۔
7-سانس کے مریض اپنی معمول کی دوا باقاعدگی سے استعمال کریں اور کسی بھی نئی علامت کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
8-آوٹ ڈور تقریبات میں شرکت سے گریز کریں۔
ڈاکٹر محمد وسیم