Doctor Zainab Malik

Doctor Zainab Malik

Comments

AOA! Kindly let me know AGR koi sirion se gir jay or thori buhat kharash ay to injacation lgwana zaruri hota hein.
She is very competent doctor and listen
Every problem of pateints very carefully and try to solve according to pateints...God bless you dear😇😇
*#بے_اولاد_حضرات_کے_لیے*

*👈🏻 جب کسی جوڑے کی اولاد نہ ہو رہی ہو تو وہ فوری طور پر ڈاکٹرز سے رجوع کرتا ہے جو دونوں کے میڈیکل ٹیسٹ کرکے دیکھتے ہیں کہ یہ طبی لحاظ سے بچہ پیدا کرنے کی اہلیت رکھتے بھی ہیں کہ نہیں۔ بعض کیسز میں یہ سامنے آجاتا ہے کہ بچہ پیدا کرنے کی بنیادی اہلیت تو رکھتے ہیں مگر اس کی راہ میں کچھ عارضی رکاوٹیں حائل ہیں۔*

🔷 چنانچہ وہ علاج کے ذریعے ان رکاوٹوں کو دور کردیتے ہیں اور یوں اس جوڑے کے ہاں بچے کی ولادت ہو جاتی ہے۔ بعض کیسز میں رپورٹس یہ بتا دیتی ہیں کہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت بالکل ہی نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ اس صلاحیت کے نہ ہونے کے سبب اس جوڑے کی فی الحال اولاد نہیں ہوسکتی۔ اس طرح کے کیسز میں میڈیکل سائنس بالکل درست کہتی ہے لیکن جو اگلی گزارش کرنے جا رہی ہوں اس پر آپ دوستوں سے غور کی درخواست ہے۔

📯 اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ

*جسے ہم چاہتے ہیں صاحب اولاد بنا دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں بانجھ پیدا کر دیتے ہیں۔*

اب جوں ہی آپ پر میڈیکل سائنس انکشاف کرتی ہے کہ آپ تو بانجھ ہیں تو آپ کچھ دن کا سوگ منا کر بے اولادی قبول کرکے بیٹھ جاتے ہیں۔ آپ اس بات پر غور ہی نہیں کرتے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن مجید میں کچھ اور بھی بیان فرما رکھا ہے۔ مثلا پیدائش کے باب میں فطری قاعدہ یہی ہے کہ اولاد ماں اور باپ کے ملاپ سے وجود میں آتی ہے لیکن اسی پیدائش والے باب میں ہم قدرت کے چار مظاہر دیکھتے ہیں۔ پہلا یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام کے وجود میں باپ کا کوئی کردار ہے اور نہ ہی ماں کا، وہ کسی کی اولاد نہیں ہیں۔

*حضرت حوا کی تخلیق میں مرد یعنی حضرت آدم کا کردار تو ہے لیکن عورت کا کوئی کردار نہیں۔*

📯طحضرت عیسیٰ علیہ السلام *کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بغیر باپ کے پیدا فرمایا یعنی ان کی تخلیق میں عورت کا کردار تو ہے لیکن باپ کا کوئی کردار نہیں۔*

انسان کے وجود میں آنے کے یہ تینوں عظیم الشان نمونے خاص ہیں جو ان تین مواقع کے علاوہ کہیں نظر آئے ہیں اور نہ ہی نظر آ سکیں گے لیکن انسان کی پیدائش کے معاملے میں سورہ مریم کا آغاز ہی ایک چوتھی طرح کا معاملہ پیش کرتا ہے جو اس لحاظ سے تو خاص ہے کہ
حضرت زکریا علیہ السلام بڑھاپے کی انتہاء میں اللہ سے اولاد مانگتے نظر آ رہے ہیں اور جواب میں بشارت بھی حضرت یحیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی مل رہی ہے لیکن اس لحاظ سے عام ہے کہ آج بھی بہت سے افراد کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ بڑھاپے میں اولاد سے نواز دیتے ہیں۔

حضرت زکریا علیہ السلام کے واقعے میں قابل غور بات یہ ہے کہ بڑھاپے میں اللہ سے اولاد مانگنے کا خیال انہیں حضرت مریم علیہ السلام کے پاس بے موسم پھل دیکھ کر آیا اور انہوں نے سوچا کہ جس طرح اللہ سبحانہ و تعالیٰ حضرت مریم کو بے موسم پھل دے رہے ہیں ویسے ہی مجھے بڑھاپے والے خشک سالی موسم میں اولاد بھی تو دے سکتے ہیں۔ بس پھر کیا تھا، انہوں نے اپنے رب کے آگے دعاء پیش کردی اور دعاء بھی یوں کہ کوئی اور سن نہ سکے۔

كهيعص (1) ذِكْرُ رَحْمَتِ رَبِّكَ عَبْدَهُ زَكَرِيَّا (2) إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ نِدَاءً خَفِيًّا (3) قَالَ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُن بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا (4) وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِن وَرَائِي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا (5) يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ ۖ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِيًّا (6) يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ اسْمُهُ يَحْيَىٰ لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِن قَبْلُ سَمِيًّا (7) قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا (8) قَالَ كَذَٰلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِن قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا (9)

*👈🏻اس پس منظر کے ساتھ گزارش یہ ہے کہ میڈیکل رپورٹس دیکھ کر ہمت مت ہارا کیجئے بلکہ حضرت زکریا علیہ السلام کی طرح سوچ کر اللہ سے مانگنے کا اہتمام فرمایا کیجئے۔*

*🌟 یہ تو ایمان کا کیس ہے اور سوال بس یہ ہے کہ آپ کا اللہ پر ایمان و یقین کتنا پختہ ہے۔ یہ جن حضرات کے ہاں پندرہ اور بیس سال بعد پہلی اولاد ہوتی ہے یہ پختہ ایمان والے کیسز ہی تو ہیں۔*

🌟🌟🌟🌟🌟

*📯صلوۃ الحاجت بہت کام کی چیز ہے لیکن اس میں تھوڑا سا اہتمام کر لیا جائے تو اس کی قوت بہت بڑھ جاتی ہے۔۔ اس کے بعد ہاتھ اٹھا کر اپنے رب سے اس طرح مانگئے جس طرح آپ بچپن میں ماں سے چمٹ کر کوئی چیز مانگا کرتے تھے اور تب تک نہیں چھوڑتے تھے جب تک لے نہ لیتے تھے۔*

🌟🌟🌟🌟🌟

اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں کہ

*👈🏻 میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق پیش آتا ہوں تو دوستو اپنے رب سے اچھا گمان قائم رکھا کیجئے اور مایوس نہ ہوا کیجئے۔ اگر آپ کی رپورٹس نیگٹو آجاتی ہیں تو اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ میڈیکل سائنس اس کیس میں فی الحال آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتی، آپ کا کیس خالصتا اللہ کے دربار کا کیس ہے۔*

*👈🏻 آپ میڈیکل رپورٹس پر اللہ کے دربار کو بھی چھوڑ دیتے ہیں، کیوں ؟ سائنس اللہ کی قدرت کی نفی تو نہیں۔ ایک بار مانگ کر تو دیکھئے وہ دعاء جو عرش کو ہلا دے !*

📯📯🔷🔷🔷📯📯

Doctor Zainab Malik is a Gynaecologist subfertility and PCOS expert at zainab clinic bwp. services includes normal delivery,c.section,dnc,IUI,laproscopy,hystrectomy,tvs,family planning and contraception.for online consultation contact on 03076456060.

Operating as usual

[09/20/21]   موٹیویشن کی بھنگ چھوڑو، موو یور ایز!

بلی ہو یا شیر ہو؟ کسی نے کیا بتایا ہے؟

نفسیات کی دنیا میں دو عشرے سے زیادہ عرصہ ہوگیا. دنیا کی 60 سے زیادہ قومیتوں کے ساتھ کوچنگ کے حوالے سے واسطہ رہا. وہاں یہ اندازہ ہوا کہ ہم پاکستانی بہانے بازی میں دنیا میں ٹاپ تین ممالک میں آتے ہیں. باقی دونوں کے بارے میں بھی کبھی گفتگو ہوگی، لیکن آج فوکس اپنے آپ پر ہے.

90 کی دہائی کے آخر میں نفسیات اور پرسنل ڈیویلپمنٹ پر کام شروع کیا. تب موٹیویشنل سپیکرز کا کسی نے نام بھی نہیں سنا ہوگا. تب سے لے کر اب تک پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہ گیا ہے مگر کچھ چیزیں جوں کی توں ہیں. تب بھی پاکستانی دماغ کو کسی جگاڑ، کسی شارٹ کٹ، کسی کیپسول، کسی تعویذ کی تلاش تھی، اور آج بھی ہے. تب بھی اور آج بھی لاکھوں لوگ ہیں جو سینکڑوں گھنٹے موٹیویشنل گفتگو سنتے ہیں، اشفاق احمد، واصف علی واصف، ٹونی رابنز، برائن ٹریسی، جیک کینفیلڈ وغیرہ کی کتابیں پڑھتے ہیں، جملے انڈر لائن کرتے ہیں، واہ واہ کرتے ہیں. لوگوں کو مرشد کہتے اور بناتے ہیں، مگر وہ کام پھر بھی نہیں کرتے جو انہیں کرنا ہے. اپنے ہڈ حرامائٹس کو کبھی کلچر، کبھی سیاست، کبھی کسی اور پر منڈھتے ہیں. حالانکہ سیدھی سی بات ہے، یا تو کام نہ کرنے کے لیے بہانہ بنایا جاسکتا ہے، یاکام ہر صورت میں کرنے کی وجہ ڈھوندی جاسکتی ہے.

ان گنت پیغامات آتے ہیں، آپ کی کتابیں پڑھ لیں، فلاں کی کتابیں بھی پڑھ لیں،چار سال سے لیکچر بھی اتنے گھنٹے گھول کے پی لیے، مگر افاقہ نہیں ہورہا.

پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی کو بھی بندے کا پتر یا دھی بننے کے لئے سالوں تھراپی نہیں چاہیے، موٹیویشنل سپیکرز کی گفتگو درکار نہیں ہے، ڈھیروں کتابیں نہیں پڑھنی پڑیں گی، مراقبہ نہیں کرنا پڑے کا، چلہ بھی نہیں کرنا ہوگا، بس ایک چیز درکار ہے. فیصلہ کرنا ہوگا، درد سہنا ہوگا اور بدلنا ہوگا. دیٹ از ایٹ!!

یہ لمبے چوڑے نسخے بل شٹ ہیں اور اپنے آپ کو دھوکا دینے کا طریقہ ہیں. ہم انسان دو وجوہات کی وجہ ہی سے کوئی کام کرتے ہیں. یا درد سے جان چھڑانے کے لیے یا پھر مزے کی طرف بھاگنے کے لیے. بس ایک فیصلہ کرنا پڑے گا اور تبدیلی آجائے گی.

انسانی دماغ کیسے کام کرتا ہے اور کیافیصلے لیے جاتے ہیں؟ اس بات کو واضح کرنے کے لیے ایک جٹاکی قسم کی مثال دوں گا. سمجھ لیں یہ باتوں کا ہنٹر ہے، اسے گھمانا پڑے گا، موٹیویشن کے ساتھ چھترول کا کمبینیشن زبردست بنتا ہے.

ہم سب دو، تین سال تک کی زندگی تک کپڑوں کے اندر ہی ہگ دیتے تھے( یا پوپتے تھے). ہمارے پاس جو ڈاٹا دستیاب تھا اسی حساب سے یہ آسان ترین طریقہ تھا.
ماں باپ پیپیاں جپھیاں کرتے تھے، گالوں پر بوسے دیتے تجھے اور یہ بتاتے ہوئے کہ تم کتنے کیوٹ ہو، نیا ڈائپر پہنا دیتے تھے اور دوبارہ گندا ہونے کا انتظار کرتے تھے. اب تھوڑی دیر کے لیے سوچیں اپنے آپ کو یا کسی بھی اور جینیس کے بارے میں خیال کریں کہ دو، تین سال کی عمر میں اس نے اماں ابا سے پرزور اصرار کرکے ٹوائلٹ جانے کے لیے کہا ہو. انسانی نفسیات ایسی ہے کہ اگر کپڑوں کے اندر ہگنے پر تالیاں ملتی رہیں گی تو وہ پوری زندگی ایسا ہی کرنے کو ترجیح دے گا. میں آج تک کسی ایسے بچے کے وجود سے ناواقف ہوں جس نے خود بخود اپنا ڈائپر اتار پھینکا ہو اور کہا ہو کہ مجھے ٹوائلٹ لے چلو.

تین چار سال کی عمر میں ہمیں ایک انقلابی مسئلہ درپیش آگیا. ٹاٹلٹ. اب تمہیں اپنے زور بازو پر ہگنا پڑے گا اور خود کو صاف کرنا پڑے گا. ورنہ بگھتو گے. اب جانوں، مانوں بے بی کو چیلنج کا سامنا کرنا ہے.

یہ زندگی میں پہلا بڑا جھٹکا تھا. لگا عشق جھوٹا ہے لوگ سچے ہیں.

اب ٹوائلٹ میں ہگنے کے لیے دلائل ملاحظہ فرمائیں جو ہم سب کو اس عمر میں دیے گئے :

بڑے بچے ایسا نہیں کرتے
اگر سکول جانا ہے تو یہ عادت بدلنی پڑے گی
اگر ممی کی عزت رکھنی ہے تو عادت بدلو
گندے بچوں کے پاس فرشتے نہیں آتے ہیں
اندر پاٹی کرنے والوں کو شیطان اور جن چمٹ جاتے ہیں.
اوووو، نرا گند ڈال دیا ہے
اوووو، گندے بچے، گندی بو.... تیری تو.....
اوئے پاٹی..... اب یہاں سے آگے گالم گلوچ، تھپڑم مکا، شروع ہوجاتی ہے.

اب تمہارے دماغ ہر یہ افتاد آن پڑی اور فیصلہ کرنا ہڑا تھا کہ یا تو ٹوائلٹ سیکھنا پڑے گا، یا پھر لتر پریڈ شروع ہوجائے گی .... کسی تھراپی کے بغیر، کسی موٹیویشنل سپیکر کو سنے بغیر نارمل بچے فیصلہ کرلیتے ہیں کہ کیا کرنا ہے. اسے بی ہیویرل شفٹ کہتے ہیں. یعنی پہلے سے سیکھے گئے سسٹم کے برعکس ایک نئے نظم کو نافذ کرنا.... اور اسی شفٹ کی ضرورت ہمیں زندگی میں مسلسل پڑتی رہتی ہے!

2-3 سال کی عمر گزارے ہوئے بہت عرصہ ہوگیا اور ابھی تک آپ کو دوبارہ کپڑے گندے نہیں کرنے پڑے. یہ میں نارمل زندگی کی بات کررہا ہوں، بیماری وغیرہ مستنشیات میں سے ہیں.

یاد رکھیں یہ درد وہ استاد ہے جو ہمیں وہ فیصلہ کرنے پر آمادہ کرتا ہے، شفٹ کے مرحلے کو آسان بناتا ہے. اور ہمیں وہ نہیں رہنے دیتا جو ہم رہنا پسند کرتے ہیں.

اب زندگی کے اونٹ پر بیٹھیں گے تو کوہان تو ہوگا. جھٹکے بھی لگیں گے، ہڈیاں بھی ٹوٹیں گی.

سی ایس ایس کرتے ہوئے کچھ ہڈ حرام ایسے بھی دیکھے کو پچھلے دس سال سے لیٹے ہوئے روٹیاں کھا رہے تھے آور گھر والوں سے خرچہ کروا رہے تھے کہ سی ایس ایس کر رہے ہیں. یا یہ کہ ڈیپریشن ہے، سٹریس ہے ابھی اپنے آپ کو موٹیویٹ کر رہے ہیں. ایک دفعہ پھر بیمار لوگوں کی بات نہیں کر رہا، انہیں علاج کرانا ہوگا، مگر نارمل بندے یاد رکھیں، اگلا کام کسی ماہر نفسیات کا نہیں، لتر پولا کرنے والے کا ہے اور اس کی ضرورت زندگی میں ہم سب کو پڑ جاتی ہے جب ہم اپنے کمفارٹ زون میں کمبل پہن کر لیٹ جاتے ہیں.

مسئلہ موٹیویشن کی گفتکو میں یا بولنے والے کی زبان میں نہیں. وہ اصول کارگر ہیں. وہ اثر رکھتے ہیں چاہے موٹیویشن دلانے والا ان پر عمل کرے یا سننے والا /والی. تاہم ایکشن لیے بغیر، درد سے گزرے بغیر کچھ نہیں ہوگا، نہ بولنے والے کے لیے، نہ سننے والے کے لیے!

موٹیویشن تمہیں پمپ کرتی ہے، کرنے پر اکساتی ہے، مگر ساری باتیں سن کر اگر تم نے ڈائپر میں ہی ہگنا ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا. نفسیاتی طور پر لگے گا کہ کچھ ہورہا ہے. لیکن اگر تم بلی ہو اور تمہیں باتوں سے شیر بنایا گیا ہے تو میدان لگ گیا تو یو ول شٹ ان یور پینٹس اور بلی کے طور پر مرنے کے چانس زیادہ ہیں.

یاد رکھو اگر تم موٹیویشن کی پھکی پر یقین رکھتے ہی ہو، اور اپنے آپ کو ورزش کی ترغیب دلانا چاہتے ہو تو ترتیب یہ رہے گی.

دس منٹ موٹیویشن
ایک گھنٹہ جم

یہ جان لو کہ دس گھنٹے بھی موٹیویشنل سپیکر کی گفتگو یا راک میوزک سننے سے کیلوریز کم نہیں ہوں گی. موٹیویشن کو افیون مت بناؤ. اس سے فائدہ اٹھاؤ ، اس سے کامیاب ہونے کے اصول سیکھو مگر فوراً ایکشن لو. سب سے بڑا اصول حرکت ہے. جوڑ کڑکاؤ، پسینہ بہاؤ. واک یور ٹاک. گیٹ یور شٹ ٹوگیدر اینڈ موو آن. اپنے ڈنڈ نکالنا شروع کرو، یہ کام تمہیں خود ہی کرنا ہوگا. اگر تم نے کسی کو کسی دروازے کی طرف اشارہ کرتے دیکھا ہے تو وہ دروازہ خود کھولنا ہوگا اور اس میں سے گزرنا ہوگا. فیصلہ کرو، اور کر گزرو. ورنہ یہ ٹھرک جاری رکھو اور شکوے کرتے رہو. اگر اپنے آپ کو سچ مچ بدلنا ہے تو موو یور ایز ناؤ. گیٹ سیٹ، گو!!

عارف انیس

()

guidelines on PCPNC 18/09/2021

guidelines on PCPNC

https://youtu.be/zB0Yu8dHj4k

guidelines on PCPNC

18/09/2021

what is this?do u know advantages?

what is this?do u know advantages?

[09/17/21]   زندگی تو مارے گی!

یہ طے ہے کہ زندگی روز ایک ایک دن کرکے مارے گی، تھکن ہوگی ، جسم ٹوٹ جائے گا، نیند روٹھ جائے گی، دل پر دل بروں کے ہاتھوں خراشیں پڑیں گی، انگ انگ فریاد کرے گا اور درد چار چپھیرے رقص کرے گا. خوشی ملتی رہے گی مگر درد کے دو پاٹوں میں وقفہ بن کر. مگر جس حال میں جینا مشکل ہو، اسی حال میں جینا لازم ہے.

قدیم رومی سلطنت میں ایک قاعدہ تھا. رومی کمال کے لوگ تھے. ہزار سال کی شہنشاہیت چلا گئے، کچھ ڈھنگ کا کرتے ہی ہوں گے. ان کا دستور تھا کہ جب ان کا کوئی جرنیل بڑی فتح حاصل کر کے واپس آتا توا ایک عظیم الشان جلوس نکالا جاتا. جرنیل سنہری چوغہ اور سر پر تاج پہنتا. چار وحشی گھوڑوں کا رتھ روم کی گلیوں میں دوڑتا اور ارد گرد مداحوں کے ٹھٹھ لگے ہوتے جو فاتح کے نام کے نعرے بلند کرتے. جرنیل کے بالکل پیچھے ایک تنو مند حبشی غلام آراستہ ہوتا. جیسے ہی نعرے بلند ہوتے وہ جرنیل کے کان میں چبھتی ہوئی سرگوشی کرتا. "میمنتو موری، میمنتو موری"..... مطلب بڑا واضح تھا "یاد رکھو تم فانی ہو. یاد رکھو تم مر جاؤ گے. یاد رکھو تم مٹی ہوجاؤ گے". فتح کے ان لمحات میں شاید اس جرنیل اور ہم سب کے لیے ان سے اہم کلمات اور کوئی نہیں ہیں.

ہم سب کے خواب ہیں، سراب ہیں، نیتیں ہیں، ارادے ہیں، عزائم ہیں، کچھ پوری ہوں گی، کچھ ادھوری رہیں گی. کچھ پوری ہوکر ادھوری ہوجائیں گی. ہم سب اپنے خوابوں کے تعاقب میں مارے جائیں گے.

نفسیات کی راہوں میں چلتے ہوئے بیس برس سے زائد عرصہ ہوگیا. نفسیاتی توڑ پھوڑ کے حوالے سے ایک چیز یہ سیکھی کہ ہم میں سے اکثر جزباتی طور پر کانچ کے بنے ہوئے ہوتے ہیں. اب زندگی جب دھوبی پٹڑا مارتی ہے تو ہم چور چور ہوجاتے ہیں. اس لیے کہ ہم نے اس کانچ کو آگ پر صیقل نہیں کیا ہوتا. ہم جتنے "فریجائل" ہوتے ہیں، اتنا ہی گھائل ہوتے ہیں.

ہمیں ذاتی طور پر اور قومی طور پر، جذباتی طور پر ٹف ہونا پڑے گا، اپنے جذباتی مسلز کے اوپر سے چربی پگھلانا پڑے گی. اگر ہم جذباتی طور پر تگڑے ہوجائیں تو زندگی کے حادثات ہمیں تھکا سکتے ہیں مگر توڑ نہیں سکتے، تبھی میں ان رومی فلاسفروں کی بات دوہراتے ہوئے کہتا ہوں کہ مشکل راستہ نہیں، مشکل ہی راستہ ہے. راستے میں جو رکاوٹ آتی ہے، وہ بھی راستے کا حصہ بن جاتی ہے.

اگر تم زندگی کی جنگ میں سورما ہو تو پھر تم ہر منفی کو مثبت بنانا سیکھ جاؤ گے /گی. جتنی اینٹیں پھینکی جائیں گی، ان سے ہی پہاڑ کی چوٹی کی جانب جاتا ہوا رستہ تعمیر ہوجائے گا. ہم حالات پر نہیں، اپنے اوپر بس چلا سکتے ہیں. جب زندگی ہمیں اپنے قدموں پر اوندھے منہ جھکا دے اور اٹھنے کی سکت نہ ہو تو پھر بھی ہم گرے رہنے سے انکار کر سکتے ہیں. صبر راستہ ہے، ہمت راستہ ہے، عاجزی راستہ ہے، رکاوٹ راستہ ہے. اپنی زندگی پر غور کریں، اس میں جتنا بھی رنگ ہے، اس میں اس وقت نکھار آیا جب زندگی کے گرم پانی نے پتی کو کھولاؤ میں ڈالا.

شکوہ کرنا چھوڑدو، اپنی ذمہ داری پر اور اپنی شرطوں پر جینا شروع کرو. زندگی اور لوگوں کو اپنے آپ کو روندنے کا حق خود دیا ہے، وہ ان سے واپس لے لو. کانچ مت بنو، لوہے کے چنے بن جاؤ. زندگی کے چکر سے کوئی بچ کر نہیں نکلتا. بس آدمی کو مرتے دم تک ضرور زندہ رہنا چاہیے!

عارف انیس

( مصنف کی زیر تعمیر کتاب "صبح بخیر زندگی" سے اقتباس )

[09/15/21]   ”بالوں کے قبل از وقت سفید ہونے کی وجوہات اور علاج“

بالوں کے قبل از وقت سفید ہونے کی بیماری بہت بڑھ چکی ہے۔
ہر دوسرا شخص سر اور داڑھی میں قبل از وقت سفید بالوں کی وجہ سے پریشان ہے۔
سفید بال بڑھاپے کی علامت ہیں،اور یہ تقریباً پچاس سال کے بعد سفید ہونا شروع ہوتے ہیں۔
مگر آج کل یہ پندرہ بیس سال کی عمر میں سفید ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔
سفید بالوں کے علاج کے لیے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں،یوٹیوب وغیرہ پر ٹوٹکے بھی بتائے جاتے ہیں،مگر ان میں سے ایک ٹوٹکا بھی کارآمد نہیں ہوتا۔
بال جیسے تھے ویسے ہی رہتے ہیں،اس کی وجہ یہ ہے کچھ لوگوں کو بالوں کی سفیدی کی اصل وجہ کا علم نہیں ہوتا کہ یہ کیوں سفید ہوتے ہیں۔

بالوں کی سفیدی کا تعلق ایک ایسے مادے سے ہے جسے ”میلانن“ کہتے ہیں۔
میلانن روغن کے خلیوں سے بننے والا ایک ایسا مادہ ہے جسے ”میلانو سائٹس “ کہتے ہیں۔
یہ کھوپڑی کے بالوں میں موجود ہوتا ہے۔
ایک بات یاد رکھیں بال کھوپڑی سے باہر نکلنے سے پہلے سفید ہی ہوتا ہے،یعنی بالوں کا اصل رنگ سفید ہی ہے،یہ میلانن ہوتا ہے جس کی وجہ سے بال سیاہ ہوتے ہیں۔
میلانو سائٹس میلانن کو خلیوں میں پہنچاتے ہیں۔
میلانو سائٹس کیراٹین لے کر جاتے اور بالوں کو قدرتی سیاہ رنگ دیتے ہیں۔۔
میلانو سائٹس کی اقسام:

میلانو سائٹس کی مندرجہ ذیل دو اقسام ہیں۔

نمبر ایک:یوومیلینن

نمبر دو:فومیلینن

پہلے نمبر پر آنے والی قسم یعنی یوومیلینن وہ قسم ہے جس سے بال گہرے سیاہ یا بھورے ہوتے ہیں۔
یعنی اگر آپ کے بالوں کے اندر یوومیلینن ہے تو آپ کے بال سیاہ یا بھورے ہونگے۔
ایشائی لوگوں میں یہ میلانن زیادہ پایا جاتا ہے۔
جبکہ دوسری قسم کے میلانو سائٹس میں شامل فومیلینن وہ مادہ ہے جو کو ہلکا رنگ دیتے ہیں۔
یہ میلانن بالوں کو پیلا،سرخ اور نارنجی رنگ دیتا ہے،زیادہ تر یورپین لوگوں کے بالوں میں یہ میلانن ہی پایا جاتا ہے۔

”بال سفید ہونے کی وجوہات“

نمبر 1:

بال سفید ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے،میلانو سائٹس میلانن روغن کی پیداوار کم کردیتے ہیں۔
یعنی یہ روغن کم پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے بال سفید ہوجاتے ہیں۔۔

نمبر:2

”وقت سے پہلے بالوں کے سفید ہونے کی وجہ“

وقت سے پہلے اگر بال سفید ہوگئے ہیں تو اس کی بھی کئ وجوہات ہیں۔۔
ان میں سے ایک تو ہارمون کی سطح میں تبدیلی سے میلانن کی پیداوار کم کرسکتی ہے جس کی وجہ سے بال قبل از وقت سفید ہوجاتے ہیں۔
نمبر3:

”جینیاتی نقائص “
جینز میں کچھ نقائص کی وجہ سے بھی بال قبل از وقت سفید ہوکر نقص کا باعث بنتے ہیں۔۔

نمبر4:

کشیدگی۔
غصہ،تناؤ،غم،خوف،سٹریس جیسی حالتیں ہارمون میں عدم توازن پیدا کرکے بالوں کی سفیدی کا باعث بن سکتی ہیں۔

نمبر4:
خوراک کی کمی۔
خوراک کی کمی بھی میلانن کی پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہے جس کی وجہ سے بال قبل از وقت سفید ہوجاتے ہیں۔
کیلشیم،آئرن،وٹامں ڈی اور B12 کی کمی سے میلانن کی پیداوار متاثر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں بال سفید ہوجاتے ہیں۔

5روٹین میں تبدیلی۔

روٹین میں تبدیلی کی وجہ سے بھی بالوں پر اثرات پڑتے ہیں۔
اگر راتوں کو زیادہ دیر تک جاگا جائے،سورج کی روشنی میں زیادہ دیر تک کام کیا جائے،زیادہ جسمانی کام جس کی وجہ سے پٹھوں وغیرہ میں کھنچاؤ پیدا ہو،تمباکو نوشی وغیرہ یہ سب عوامل میلانن کی پیداوار کم کرتے ہیں اور پھر اس کی وجہ سے بال سفید ہوجاتے ہیں۔
اس کے علاوہ اگر کیمیکلز کا بہت زیادہ استعمال کیا جائے،تو بھی میلانن کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
”میلانن کی پیداوار میں اضافہ کرنے والے عوامل “
بالوں کی سفیدی کو ختم کرنے کا صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے میلانن کی مقدار میں اضافہ یہ اضافہ میلانن بڑھانے والی غذاؤں کے ذریعے ممکن ہے۔

آئرن سے بھرپور غذائیں میلانن پیدا کرتی ہیں ان میں گہرے سبز پتوں والی سبزیاں جیسے پالک،پھلیاں وغیرہ شامل ہیں۔
اس کے علاوہ مچھلی،کیلے،ٹماٹر دالیں،گری دار میوے،جیسے اخروٹ،بادام وغیرہ بھی آئرن سے بھرپور ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ مختلف اقسام کے بیج کاجو،مونگ پھلی،کدو وغیرہ کے بیج یہ سب آئرن سے بھرپور غذائیں میلانن کی پیداوار بڑھانے میں حصہ ڈالتی ہیں۔
اس کے علاوہ کوپر،تانبے سے بھرپور غذاؤں کا استعمال بھی میلانن کی پیداوار بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ان میں سیب،ناشپاتی،انگور،آڑو چنے،دالیں وغیرہ شامل ہیں۔
اگر آپ کے جسم کے اندر میلانن کی کمی پوری ہوجائے تو آپ کے بال سفید نہیں رہیں گے۔
لیکن ایک بات ذہن میں رہے کہ میلانن کی زیادتی نقصان دہ بھی ثابت ہوتی ہے۔
”میلانن کے مضر اثرات “
جیسے ہر چیز کے فوائد کے ساتھ کچھ مضر اثرات ہوتے ہیں اور زیادتی کسی بھی چیز کی ہو نقصان دہ ہوتی ہے بالکل اسی طرح میلانن کی زیادتی اور ایک حد سے زیادہ مقدار نقصان دہ ہوتی ہے۔
اگر جلد میں میلانن کا ایک حد سے زیادہ اضافہ ہوجائے تو، ہائپر پگمنٹشن کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ ایسی صورتحال ہے جو چہرے،ہاتھوں اور ٹانگوں سمیت جسم پر ناہموار روغن کا سبب بنتی ہے۔
یہ جلد کے رنگ کو سیاہ کردیتی ہے دھبوں کی شکل میں۔
اس لیے میلانن کی کمی اور زیادتی دونوں کے نقصانات ذہن میں رکھتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

Hazara Herbs

[09/15/21]   :" اگر آپ سجدہ الله کا کر رہے ہیں تو الله کے ساتھ'"
" الجھا نہ کریں "
کہ بیٹا کیوں نہیں دیا اور بیٹی کیوں نہیں دی۔
وہ تو پیدا کرتا رہتا ہے۔

" اس کا کوئی آج کا تو" تجربہ " نہیں ہے۔
;" وہ مالک ہے اور "پُرانا مالک """ہے،
" زمین و آسمان کا مالک ہے، "
" اسے پتہ ہے
" کہ بیٹوں کی شادی کیسے ہوتی ہے،
" "بیٹیوں کی شادی کیسے ہوتی ہے
" اور رزق کیسے دیا کرتے ہیں۔
" " "وہ سارے کام جانتا ہے۔ "

" آپ تو آج اس دنیا میں آۓ ہیں،
;; " وہ تو ہمیشہ کا رہنے والا ہے۔ " " '

"" آپ جانے دیں اور اپنی کاریگریاں بند کریں " "

کیونکہ
" اصلی کاریگر وہی ہے۔ "

" آپ اپنے مالک کے ساتھ ہیرا پھیری بند کریں۔ "

"اس پر راضی ہوجاٸیں،
" اپنے سر کو جھکا دیں "
" کہ یا الله ہم راضی ہیں۔ "

" بس ہم راضی ہیں اور تو بھی راضی ہوجا،
" تیری مہربانی ہے! "

;""اتنی بات آپ کر لیں
" ; "تو آپ کی زندگی آسان ہونا شروع ہوجاۓ گی۔ "

گفتگو____8، صفحہ نمبر ___84 تا 85.

سرکار امام حضرت امام واصف علی واصف رحمۃ اللّٰہ علیہ

[09/15/21]   ایک مریض آیا..
ہم نے کہا کہ گوشت میں ٹیکہ لگے گا..
بھائی صاحب نے تھوڑی دیر بعد آدھا کلو بکرے کا گوشت لا کر ٹیبل پر رکھ دیا..😅
اے لو سر جی لاؤ ٹیکہ.. 🤗
مریض راکڈ تے ڈاکٹر شاکڈ..

(عرفان ریاض کی وال سے منقول شدہ سچا واقعہ)

15/09/2021

very good and learning experience at WHO workshop World Health Organization- Pakistan

very good and learning experience at WHO workshop World Health Organization- Pakistan

[09/14/21]   سٹریس ویکسینیشن سیریز - قسط 9

جینا کل پر مت چھوڑو!

ہم انسانوں کی ایک کمینی عادت ہے. ہم پریشان آج ہونے کو ترجیح دیتے ہیں، جب کہ جینا کل پر چھوڑ دیتے ہیں. ہم جانتے ہیں کہ پریشانی ملتوی نہیں ہوسکتی. بھلا کیا پتہ، کل ہو، نہ ہو!

آپ نے ارد گرد بہت سے دوست احباب دیکھے ہوں گے، جو ایڈوانس میں پریشان ہوتے ہیں. وہ اپنے دماغ میں سین کھیلتے ہیں، اور ایسا ویسا ہوجانے کے تمام زاویے کھوج لیتے ہیں. نفسیات دانوں کی ایک دس سال پر محیط ریسرچ بتاتی ہے کہ ایڈوانس میں پریشان ہونے والوں کے %91 اندازے غلط نکلتے ہیں.

لبرٹی انشورنس نے لاکھوں افراد ہر مشتمل ریسرچ سے یہ کھوج لگائی کہ %38 لوگ روزانہ کی بنیاد پر پریشان ہوتے ہیں، ان چیزوں کے لیے جو رونما نہیں ہوتیں. ایک اور بڑی ریسرچ سے یہ معلوم ہوا کہ 25 سال تک کے نوجوان لڑکے لڑکیاں ایک سال میں 63 دن کے برابر وقت پریشان ہونے پر لگاتے ہیں. جب مزید بڑوں میں یہ تناسب سال کے 125 دن تک جا پہنچتا ہے.

سٹریس کے بارے میں ایک چیز پر واضح ہوجائیں، یہ کہیں اور سے نہیں آتی، یہ آپ کے لائف سٹائل کا حصہ ہے. ہمارے اندر سے وہی باہر آتا ہے، جو ہمارے اندر ہوتا ہے. ہر روز جو آپ کرتے/کرتی ہیں، کہتے/کہتی ہیں، سنتے /سنتی، کھاتے /کھاتی ہیں، وہی آپ باہر نکالتے ہیں. اسے کہتے ہیں، گاربیج ان، گاربیج آؤٹ! اگر کوڑا کھائیں گے تو کوڑا باہر نکلے گا. فل سٹاپ!

اگر آپ کا دن کا بیشتر حصہ اخبار میں بری خبریں ڈھونڈنے سے شروع ہوتا ہے، پھر ٹی وی پر پھولے ہوئے سانس اور رقت آمیز لہجے والی نیوز کاسٹر آپ کو تازہ ترین واردات کے بارے میں بتاتی ہے، پھر آپ شیخ رشید، نواز شریف، عمران خان، عثمان بزدار، عمر شیخ، غلام سرور خان اور اسی طرح کے دیگر دانشوروں کے بیانات سنتے ہیں، پھر ان کے بارے میں بحث کرتے ہیں. پھر ان کے بیانات آگے بھیجتے ہیں اور پھر فیس بک پر مزید بری خبریں ڈھونڈتے ہیں.

یہی نہیں آپ سٹریس مقناطیس بن جاتے /جاتی ہیں، فون پر بات ہو تو اڑوس پڑوس اور خاندان میں جو کالی بھیڑیں ہیں آپ نے ان پر تبصرہ کرنا ہے، غیبت کرنی ہے، ادھر ادھر کی لگا دینی ہے. پھر رات کو سوتے ہوئے آپ کا معدہ قلابازیاں کیوں نہیں لگائے گا؟ نیند کوسوں دور کیوں نہیں بھاگے گی؟ پورا دن آپ نے اپنے اندر تیزاب انڈیلا ہے، آب تیزابی ڈکار تو آئیں گے.

سٹریس پر اس ساری گفتگو کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ساری برائیاں سٹریس میں ہیں. سٹریس آپ کی دوست ہے. آپ کو چوکنا اور ہوشیار رکھتی ہے. مسئلہ پریشانی سے شروع نہیں ہوتا، بلکہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب آپ پریشانی کو بیٹھنے کے لیے کرسی یا چارپائی فراہم کردیتے /دیتی ہیں. مسئلہ بگڑتا اس وقت ہے جب آپ اس سائرن کو آفت نہیں کرتے /کرتیں اور یہ ہر وقت ٹیاؤں ٹیاؤں کرتا پھرتا ہے.

اچھا ایک اور چیز ہوتی ہے جسے کہتے ہیں، "سرکل آف کنسرن" ، یعنی توجہ کا دائرہ. عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا. آپ فلسطینیوں کے حق میں ہیں، آپ کو تکلیف ہوئی. ایک ہوتا ہے، "سرکل آف انفلیواینس"، یعنی کہ اثر کا دائرہ. اگر آپ کو تکلیف تو ہوئی مگر آپ عرب امارات یا بحرین کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، صرف اپنا موڈ خراب کرسکتے ہیں تو یہ عادت سٹریس لینے کے لیے تیر بہدف ہے. ہاں، البتہ آپ کچھ ایسا کرسکتے ہیں جس سے فلسطینیوں کے حق میں کچھ پیش رفت ہوسکے، تو بسم اللہ، ضرور کریں. ہاں آپ نے زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی، جلوس نکالا، توجہ دلائی، زیادتی کے شکار کا سر ڈھانپا، یہ سب کام کرنے والے ہیں.لیکن ایسا معاملہ جس کے بارے میں سوچ سوچ کر آپ کو تبخیر ہوجائے( مجھے کیوں نکالا؟ عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ کیوں لگایا؟ عمر شیخ کو سی سی پی او کیوں لگایا)، مگر آپ کچھ بھی نہ کرسکیں، اس سے پرہیز بہتر ہے. کیا یہ لوگ اس قابل ہیں کہ آپ کی توجہ کا حصہ بن سکیں؟ خالق کی کائنات میں کیسی کیسی خوبصورتیاں موجود ہیں، پھر آپ کی توجہ خوبصورت کیوں نہیں ہوسکتی؟ چلیں، صحافیوں کی تو یہ روزی روٹی ہے، ان کے لیے یہ سب جاننا اور اس پر تبصرہ کرنا ضروری ہے. آپ کاہے کو من بوجھل کرتے ہو؟

پچھلے دس برس میں چالیس سے زیادہ ملکوں کا سفر کیا. عمومی طور پر یہ دیکھا کہ ہمارا ملک سب سے زیادہ سیاست زدہ ہے. ہم اٹھتے، بیٹھتے، کھاتے پیتے سیاست کی جگالی کرتے ہیں. حالانکہ اس بارے میں یوسفی صاحب کمال کی بات کر چکے ہیں کہ اپنے ہاں ﺣﺎﻻﺕِ ﺣﺎﺿﺮﮦ ﭘﺮ ﺗﺒﺼﺮﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻠﮉﭘﺮﯾﺸﺮ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﻟﯽ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﺭﮐﮫ ﺳﮑﮯ، ﻭﮦ ﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﮯ ،ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺣﺎﻻﺕ کا ذمہ دار ہے.

آپ کو ایک ہلکا پھلکا چیلنج کرسکتا ہوں، اخبار پڑھنے اور سیاست زدہ رہنے والا شخص آپ کو اکثر سٹریس سے بھرا ملے گا. اس میں غم و غصے اور شکوے کی کیفیات گھلی ملی رہتی ہیں. خیر نفسیات یہ بھی بتاتی ہے کہ جہاں مسلسل غیر یقینی کیفیت موجود رہے اور حالات حاضرہ کو کئی سال ہوجائیں ،وہاں کشتی والے ٹاک شوز پی پاپولر ہوتے ہیں.

پچھلے دس برس میں دنیا کے کچھ غیر معمولی افراد سے ملاقات ہوئی جو اپنی تحریر و تقریر سے لاکھوں افراد کی زندگیوں میں انقلاب لاچکے تھے اور بہت سے میدانوں میں علم کے نئے گوشے دریافت کرچکے تھے. میں اس وقت ہکا بکا رہ گیا جب ٹونی بیوزان اور دیپک چوپڑا کے ساتھ ایک لمبا سفر کیا اور معلوم ہوا کہ ان دونوں نے پچھلے بیس تیس سال میں عمومی طور پر نہ کبھی اخبار پڑھا تھا نہ زیادہ ٹی وی دیکھا تھا. جب وجہ پوچھی تو جواب سیدھا سا تھا "اخبار اور ٹی وی اپنے مالکوں کے کہنے پر دنیا جہان سے بری خبریں ڈھونڈ کر اکٹھی کر دیتے ہیں، ہمیں بھلا ایسی خبروں سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟"

ہاں، ان لوگوں کو موسیقی سنتے دیکھنا، کتابوں میں محو پایا، حسن کا خوشہ چین پایا، لمبے لمبے فاصلے پیدل چلتے دیکھا، سفر کرتے، فطرت اور آرٹ کی پرستش کرتے دیکھا، ہنستے، مسکراتے دیکھا، سکرین سے زیادہ انسانوں سے بات چیت کرتے پایا، دوسروں کو سنتے اور ان کی مدد کرتے دیکھا اور تب احساس ہوا کہ خوش ہونا اتنا ہی آسان، یا مشکل ہے!

عارف انیس

(مصنف کی زیر تعمیر کتاب "صبح بخیر زندگی" سے اقتباس. اس تحریر کو کسی بھی جگہ چھاپنے یا پھیلانے کے لیے آپ کو کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے. جملہ حقوق پڑھنے والے کے نام محفوظ ہیں )

Videos (show all)

Location

Products

intrauterine insemination
Intrauterine Contraceptive Device
c section
DNC

Telephone

Address


Medical Colony, Lane No;5 Bahawalpur
Bahawalpur
31600

Opening Hours

Monday 17:00 - 21:00
Tuesday 17:00 - 21:00
Wednesday 17:00 - 21:00
Thursday 17:00 - 21:00
Friday 17:00 - 21:00
Saturday 17:00 - 21:00
Other Bahawalpur clinics (show all)
Health Tips By Saira Health Tips By Saira
Circular Road University Chowk
Bahawalpur, 63100

Welcome to Health Tips By Saira Your Favorite Channel. Watch daily online free Health Management videos in Urdu with lots of Natural ways and Home Remedy.

Dental Solutions Dental Solutions
House No. 33 - C, Model Town "A", Bahawalpur
Bahawalpur, 63100

This page belongs to Dr. Farheen Moud, She is a prominent female dentist over 7 Year Experience. She earns several certifications including B.D.S and MPhil Pharmacology (Research in Xerostomia is Continue). She remains affiliated with BMU, SIMDC & NIOD.

Weight Healing Foods Weight Healing Foods
GECHS
Bahawalpur, 63100

We provide quality information for a healthy body and healthy brain. We also provide guidance how to be fit healthy and lose weight normally through the diet plan. No exercise no medication.

Neurotherapy Bahawalpur Pakistan Neurotherapy Bahawalpur Pakistan
Nasir Javed Hafiz Colony House# 5, Satellite Town
Bahawalpur, 63350

The Neurotherapy Modern day special therapy, Cure Chronic Diseases like Heart problem, Blood pressure, kidney problems and much more. Therapist Nasir Javed

MDR-TB, Bahawal Victoria Hospital MDR-TB, Bahawal Victoria Hospital
Bahawal Victoria Hospital
Bahawalpur, 63100

We are dealing with MULTI DRUG RESISTANT TUBER CULOSIS patients.

QMC Bahawalpur Session 1988 - 93 QMC Bahawalpur Session 1988 - 93
Quaid E Azam Medical College, Circular Road
Bahawalpur

Dedicated to Sweet Memories of QMC

Sitc Hospital Sitc Hospital
85-A, Noor Mahal Road, Bahawalpur Pakistan.
Bahawalpur, 63100

The Ultimate Gynae Care Clinic !

New Maqbool Medical Store KPT New Maqbool Medical Store KPT
New Maqbool Medical Store, Near New Sabz Mandi, Hasilpur Road, Khairpur Tamewali
Bahawalpur, 06222

Khichi Hospital Khichi Hospital
Khichi's Hospital
Bahawalpur, 63100

Khichi Hospital is one place stop for all your medical needs, we have caring staff of medical practitioners and surgeons, for the people you care about.

HASBI ALLAH Homoeo Clinic HASBI ALLAH Homoeo Clinic
Street No One Model Town C
Bahawalpur, 63100

HAFIZ + PHARMACY HAFIZ + PHARMACY
Model Town B Branch, Rangers Market Branch, Baghdad Road Branch , University Chock Branch
Bahawalpur, 63100

A Chain of Medicine Super Mart