Doctor Zainab Malik

Doctor Zainab Malik Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Doctor Zainab Malik, Women's Health Clinic, Medical Colony, Lane no;3, House No. 7B Bahawal Victoria Hospital Bahawalpur Punjab, Bahawalpur.
(2)

Consultant Gynecologist | Fertility Expert | PCOS Specialist | IUI Expert | Digital Doctor | Online Consultant

Clinic:
Zainab Fertility Center,
Medical Colony,Line #3,House No.7B Bahawalpur
5:00 PM – 9:00 PM
Call # +923076456060
WhatsApp: +923297858208

09/07/2025

عنوان: عادتیں نسل کا پتا دیتی ہیں سیّد کی شان اور حضرت خضرؑ کی حکمت: محمود غزنوی کے ایک انوکھا درباری واقعہ

تحریر: پروفیسر ملازم حسین بخاری

سلطان محمود غزنویؒ کا شمار تاریخِ اسلام کے ان عظیم حکمرانوں میں ہوتا ہے جن کی سلطنت نہ صرف وسیع تھی بلکہ ان کا دربار علم و عرفان، عدل و انصاف اور روحانیت کا مرکز بھی تھا۔ ایک دن سلطان نے اپنے دربار میں حاضرین سے کہا:

“کیا کوئی مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہے؟”
یہ سوال درباریوں کے لیے حیرت کا باعث تھا۔ جب تمام علما، فقہا اور مشائخ خاموش رہے، تو ایک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا کہ وہ یہ خدمت انجام دے سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے اہل خانہ کی کفالت بادشاہ وقت کرے۔ بادشاہ نے یہ شرط منظور کر لی۔

دیہاتی نے چلہ کاٹنے کے نام پر چھ ماہ گزارے، پھر مزید چھ ماہ مانگے۔ لیکن آخرکار اس نے سچ اگل دیا کہ وہ جھوٹا تھا، صرف اپنے بچوں کی بھوک سے تنگ آکر ایسا بہانہ گھڑا تھا۔
بادشاہ کو بہت غصہ آیا اور دربار لگا کر اس کی سزا کے بارے میں مشورہ کرنے لگا
درباری فیصلے اور شخصی عادات:
سب سے پہلے سلطان نے سزا کے لیے اپنے وزیروں سے رائے لی تو:
1. پہلا وزیر: “اس کا گلا کاٹ دیا جائے” —
تو بادشاہ نے دربار کی طرف رخ کیا وہاں نورانی چہرے والے بزرگ بھی بیٹھے تھے سُلطان نے اس سے پوچھا آئی بزرگ آپکا کیا خیال ہے تو اس بزرگ نے کہا: “اس وزیر نے درست فرمایا!”
2. دوسرا وزیر: “اسے کتوں کے آگے ڈال دیا جائے” —
بادشاہ نے پھر اس بزرگ سے پوچھا آپکا کیا خیال ہے اس نے پھر کہا: “اس وزیر نے درست فرمایا!”
3. ایاز:
اب سلطان نے ایاز سے پوچھا تو اس نے کہا “اسے معاف کر دیا جائے، کیونکہ اس کا جرم مجبوری کا تھا” —
سلطان نے پھر اس بزرگ پوچھا آپکا کیا خیال ہے تو اس نے فرمایا: “ایاز نے بالکل سچ کہا!”
اس تضاد نے سلطان کو حیرت میں ڈال دیا۔ جب اس نے بزرگ سے پوچھا کہ آپ نے ہر دفعہ درست کہا تو انہوں نے پردہ فاش کیا:
• سلطان معظم پہلا وزیر کا والد قصائی تھا اور یہ قصائی خاندان سے تھا، اس لیے اس کی سوچ تلوار کی تھی۔یہ تو آپکی غلطی ہے آپ نے قصائیوں کو وزیر بنایا ظاہر ہے وہ اپنی نسلی سوچ کے مطابق فیصلہ دیں گے۔
• دوسرا وزیر کا والدکتے پالتا تھا شکاریوں کے گھرانے سے تھا، اس لیے اس کی طبیعت میں درندگی تھی۔
• مگر ایاز ایک سیّد زادہ تھا، جس کی فطرت میں حلم، معافی، رحم اور قربانی تھی — یہی سیادت کی شان ہے۔
یہ سن کر سلطان محمودؒ کی آنکھیں کھل گئیں۔ اُس نے ایاز سے کہا: “تم نے مجھے پہلے کیوں نہ بتایا کہ تم سیّد ہو؟”
ایاز نے عاجزی سے جواب دیا:
“کبھی فخر نہ کیا… لیکن آج حضرت خضرؑ نے میرا بھید کھول دیا۔”
تجزیہ و سبق:
1. عادتیں نسل کا پتا دیتی ہیں: انسان کا مزاج اکثر اس کے خاندانی ورثے کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
2. غریب کی مجبوری کو جرم نہ سمجھا جائے: جو مجبوری میں غلطی کرتا ہے، اس کے ساتھ رحمت سے پیش آنا افضل ہے۔
3. ظاہری رُتبہ کچھ نہیں، باطنی شان اصل مقام ہے: ایاز بادشاہ کا غلام تھا، لیکن باطن میں ولایت، سیادت اور حکمت کا خزانہ تھا۔
4. حضرت خضرؑ کا ظہور: اہلِ دل اور سچّے لوگوں کی مجلس میں ہی حضرت خضر علیہ السلام جلوہ گر ہوتے ہیں۔
اختتامی کلمات:
یہ حکایت صرف تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ کردار سازی، انسان شناسی، اور نظامِ عدل کا ایک آئینہ ہے۔ سلطان، وزیر، ایاز، اور حضرت خضرؑ — ہر ایک کردار اپنے اندر ایک اخلاقی سبق رکھتا ہے۔

ایاز کی سیادت نے اس درباری منظر کو بدل دیا، اور حضرت خضرؑ کی موجودگی نے اس واقعے کو روحانی حقیقت بنا دیا۔
سادات کی شان معافی، حلم اور وفا میں پوشیدہ ہے، نہ کہ انتقام میں۔

08/07/2025

When I die
when my coffin
is being taken out
you must never think
i am missing this world

don’t shed any tears
don’t lament or
feel sorry
i’m not falling
into a monster’s abyss

when you see
my co**se is being carried
don’t cry for my leaving
i’m not leaving
i’m arriving at eternal love

when you leave me
in the grave
don’t say goodbye
remember a grave is
only a curtain
for the paradise behind

you’ll only see me
descending into a grave
now watch me rise
how can there be an end
when the sun sets or
the moon goes down

it looks like the end
it seems like a sunset
but in reality it is a dawn
when the grave locks you up
that is when your soul is freed

have you ever seen
a seed fallen to earth
not rise with a new life
why should you doubt the rise
of a seed named human

have you ever seen
a bucket lowered into a well
coming back empty
why lament for a soul
when it can come back
like Joseph from the well

when for the last time
you close your mouth
your words and soul
will belong to the world of
no place no time

Maulana Jalaluddin Rumi

07/07/2025

بچے ماں باپ کو چھوڑ کر دوسرے ملک جا رہے ہیں، شوہر بیوی کو چھوڑ کر دوسرے شہر جا رہا ہے، بیوی روزگار کے لیے شوہر سے دور جا رہی ہے، بھائی بھائی سے جدا ہو رہا ہے…
کیوں کمانا چاہتے ہیں ہم وہ دولت جو ہمیں اُن سے دور کر دے جن کے ساتھ جینے میں ہماری خوشی ہے؟
یہ ترقی رشتے توڑ چکی ہے، خاندان بکھر چکے ہیں۔

آخر میں بچتا کیا ہے؟
بس تھوڑی سی آزادی،
کچھ بیمے کی رقم،
ایک پلاٹ یا بینک میں تھوڑی سی جمع پونجی۔

اور کھویا کیا؟
وہ لوگ، جن کے ساتھ جینا تھا۔

سب سے بڑی محرومی یہ کہ بیماری میں کوئی اپنوں کا سہارا نہیں ہوتا
اور موت پر اپنوں کا کندھا بھی نصیب نہیں ہوتا۔

اس لیے…
کماؤ ضرور، مگر جیو اُن کے ساتھ جن کے ساتھ جینا ہے۔

Copy

07/07/2025

ڈاکٹر کی ڈائری ✍️

رزق اور برکت

اکثر لوگ ازراہ مزاح کہتے ہیں کہ ڈاکٹر کے رزق میں اضافہ کی دعا کرنا بادی النظر میں مرض اور مریض بڑھنے کی دعا کرنا ہے 😁
اور واقعی بظاہر ایسا تاثر ملتا بھی ہے۔۔

لیکن اگر تھوڑا ڈیپ جایئں تو ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہو،جیسا کہ اگر میں بطورِ ڈاکٹر اپنے رزق میں برکت یعنی بڑھوتری کی دعا مانگوں تو میں یوں التجا کرتا ہوں کہ اے میرے پروردگار تو میرے ہاتھ میں مزید شفاء ڈال،تو نے یہ دنیا آزمائش کیلئے ڈیزائن کی ہے اور اس آزمائش کی ٹاپ شاید بیماری ہے جسکے آگے انسان ایسا بے بس ہو جاتا ہے کہ اُسے تو ☝️یاد آجاتا ہے۔۔

سو بیماریاں تو تا قیامت آنی ہی آنی ہیں،تو نے مجھے اپنی جناب سے جتنا چاہا اُتنا علم دے کر طبیب بنایا ہے اور دنیا کے معاملات کو چونکہ تو نے اسباب سے جوڑا ہے اور اپنی کچھ صفات کی پرچھائیاں میرے اندر بھی رکھی ہیں،تو تیری توفیق سے تھوڑا بہت شافی میں بھی ہوں لیکن میں خود شفاء دئیے جانے کا محتاج ہوں “الشافی” صرف تیری زات ہے ۔۔

مجھے اچھی طرح پتا ہے کہ کہاں ہماری “ڈاکٹری” ختم ہوتی ہے اور کہاں سے پھر ✍️ معاملہ تیری طرف لوٹایا جاتا ہے ۔۔
Surat-us-Shooaraa: 26 | Ayat: 80
وَ اِذَا مَرِضۡتُ فَہُوَ یَشۡفِیۡنِ ﴿۪ۙ۸۰﴾
اور جب بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے

اے میرے پروردگار تیری توفیق سے تھوڑا بہت رازق میں بھی ہوں لیکن میں تو خود رزق دئیے جانے کا محتاج ہوں سو “الرزاق” صرف تیری زات ہے،رحمان بن کے رحم تو میں بھی کرتا ہوں لیکن میں خود بھی رحم کئے جانے کا محتاج ہوں سو
“الرحمان” صرف تیری زات ہے ۔۔

قارئین جب اللہ طبیب کے ہاتھ میں شفاء بڑھائے گا تو اسکے بھی کچھ criteria’s ہوں گے نا۔۔
اور اس میں سب سے پہلے اسکا بلا تفریقِ مذہب و رنگ و نسل اُسکا وضع کردہ قانون فطرت ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتا وہ یہ کہ جو فرد یا اقوام اسکا دیا ہوا علم اور عقل جتنی زیادہ استعمال کرے گا اور اپنے پیشے سے جتنا مخلص ہو گا وہ دنیا میں اسکا رزلٹ لازمی پائے گا جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں تو لوگوں کی ایوریج عُمریں تک بڑھا دی گئی ہیں ۔۔

اور دوسرا یہ کہ جو جتنا زیادہ compassion رکھے گا اپنے fellow Human beings کیلئے اتنا ہی اسے برکت دی جائے گی،اس تناظر میں بھی ترقی یافتہ ممالک ہم سے کہیں آگے ہیں اور دیکھ لیں صحت اور کوالٹی آف لائف میں نوازے بھی جارہے ہیں ۔۔
Empathy is a very rare gift 💝

خیر میں بات کر رہا تھا کہ جب زیادہ سے زیادہ مریض شفایاب ہونگے کسی ڈاکٹر سے تو ظاہر ہے کہ اسکی clientage بڑھے گی اور ویسے بھی رزق صرف پیسہ ہی نہیں ہوتا بے شمار چیزیں جنہیں ہم نے
‏ For Granted لیا ہوتا ہے جب چِھنتی ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اوہو اس “رزق” کو تو میں نے
‏ account for ہی نہیں کیا تھا ۔۔

In my opinion “inner peace’ is the ultimate form of “RizQ”
اور اسکا بہترین سورس دوسروں بالخصوص محرومین کو اپنے ہر قسم کے رزق میں شامل کرنا ہے ۔۔

Surat-uz-Zaariyaat: 51 | Ayat: 19
وَ فِیۡ اَمۡوَالِہِمۡ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الۡمَحۡرُوۡمِ ﴿۱۹﴾
اور ان کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے
لیے
برکت کسے کہتے ہیں ✍️
1-The concept of Barakah in Regards to time shows that it has multiple dimensions

2- While time is generally expressed in terms of length only while Devine blessing gives it an element of Breadth too

3-Using time effectively means attempting to widen the scope of the
Amount of life we are given

4-Hence Two people can be given the same length of the time but differ drastically in quality and quantity of accomplishments within that period

ڈاکٹر اسد امتیاز ابو فاطمہ
۵/۶/۲۵

Shared with The intention of Motivation

07/07/2025

کچھ عرصے سے میں دیکھ رہی ہوں کہ اکثر گھرانوں میں دس محرم کا دن بلکل ایک عام سا دن ہوتا ہے۔ جیسے کوئی چھٹی کا دن ہو۔۔۔۔
کچھ گھرانوں میں مارے بھاندے ہی صحیح کچھ اہتمام ہوتا ہے یا دعوتیں ہوتی ہیں مگر اس واقعہ پر کلام نہیں ہوتا۔۔۔۔
مجھے یاد ہے کہ دس محرم ہی نہیں بلکہ سات محرم سے ہی ہمارے گھر میں ایک الگ ہی ماحول ہوتا تھا اور خاص طور دس محرم کو تو بہت ہی مختلف، ہماری والدہ اٹھتے بیٹھتے اہلبیت کا ذکر کرتی رہتی تھیں۔ حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے نام پر رونے بھی لگ جاتی تھیں۔ کبھی کھانے کے لیے تیاری کر رہی ہوتیں تو کبھی افطار کی ساتھ ساتھ ذکر کرتی جاتیں ہمیں ان کے بارے میں بتاتی جاتیں۔
یہاں تک کہ ان دنوں میں ہم کلاس میں جا کر دیگر بچوں کو یہ سب بتاتے۔۔۔۔۔
میں نے اپنے والد کو کبھی عام حالات میں جب وہ جوان تھے روتے نہیں دیکھا مگر جب میری والدہ یہ سب قصہ سناتی تو ان کی آنکھوں میں بھی آنسو آجاتے۔۔۔۔ وہ اس دن افطار یا کھانے کے لیے ایک سے ایک چیز لاتے ہمارا گھر نعمتوں سے بھر جاتا اور والدین کہتے کہ وہ خود پیاسے گئے مگر ان کے صدقے میں ان کے نانا جان کی امت کو کیسی کیسی نعمتیں ملتی ہیں۔۔۔۔
حضرت شفیع اوکاڑوی صاحب کا بیان چلتا رہتا اور ہمارے ذہن کے پردے پر جیسے کوئی فلم چلتی رہتی۔۔۔۔
ظہر کی نماز پڑھنے کا وقت ہوتا تو امی کہتیں کہ اب تک اتنے شہید ہوچکے تھے، عصر کی نماز کا وقت ہوتا تو امی کہتیں کہ امام حسین کا وقت شہادت ہے۔۔۔۔۔ ہم ان تمام باتوں کو محسوس کرتے۔۔۔۔۔
تلوار، گھوڑا، حضرت امام حسین کے خطبات، حضرت عباس کی شجاعت، حضرت زینب کی بہادری۔۔۔۔۔ بس یہی سب ذہن میں چلتا رہتا تھا۔۔۔۔۔
دس محرم کی رات کو امی قرآن پڑھنے کا خاص اہتمام کرتی تھیں کہ کل صبح شہادت ہوگی آج کی ساری رات حضرت امام حسین نے عبادت میں گزاری تھی۔۔۔۔
ایک بات جو اکثر امی کہتی کہ اگر امام حسین یزید کی بیعت کر لیتے تو آج ہر فاسق فاجر کی بیعت جائز ہوجاتی۔۔۔ انہوں نے نہ کر کے ہمیں بتایا ہے کہ کبھی باطل کے سامنے سر نہ جھکانا، انہوں نے اپنے نانا جان ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے دین کو زندہ کیا یے۔۔۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے ان ہستیوں سے محبت جیسے ہماری رگوں میں خون بن کر دوڑنے لگی۔۔۔۔ ہم کتابں خرید خرید کر لاتے یہ سب پڑھنے کے لیے تاکہ مزید احوال جان سکیں۔۔۔۔
یہ جڑیں اتنی مظبوط ہو گئیں کہ اب جسم سے جان جائے تو جائے ان کی محبت نہیں جاسکتی۔
والدین اور خاص طور پر والدہ کی اس تربیت کے باعث حق و باطل میں فرق بہت جلدی سیکھا اور حق کا ساتھ دینے کی جرات ہم تنیوں بہن بھائیوں نے خود میں پروان چڑھتی دیکھی۔۔۔۔۔
بطور انسان عمل میں کمی کوتاہی تو ملے گی مگر محبت میں کھوٹ یا بزدلانہ پن نہیں ملے گا۔۔۔۔۔
یہ سب بتانے کا مقصد یہ یے ان تجربات سے میں آج کے والدین بالخصوص ماوں سے یہ کہنا چاہوں گی کہ اس دن کو کسی عام دن کی طرح نہ منائیں۔۔۔۔
اس دن کو جو بھی کر رہے ہیں قربانی حسین کا مقصد اپنی اولاد کو سیکھاتے اور سمجھاتے رہیں۔۔۔۔
بچہ جب یہ دیکھتا ہے کہ مسجد میں تو امام صاحب اتنا جذباتی ہو رہے تھے اس واقعے پر اور گھر میں والدین کو جیسے کوئی فرق ہی نہیں پڑا، ان کی زبان سے تو میں نے کوئی بات نہیں سنی، میرے والدین کی آنکھوں میں تو کوئی آنسو نہیں آئے۔۔۔۔۔
تو اس کا مطلب یہ اتنا ہے نہیں جتنا بتایا جا رہا یے۔۔۔
ناحسوس طریقے سے اس کے دل میں اہمیت کم ہوتی ہے۔ جوان ہو کر کسی صاحب نظر کی صحبت مل جائے تو شاید یہ سمجھ سکے ورنہ اسے کوئی نہیں سمجھا سکتا کہ اس واقعے کی اہمیت دین اسلام میں کیا یے۔
اور والدین کا ان ہستیوں سے بگانہ پن بچے کے لیے Spiritual numbness کی ایک بہت اہم وجہ بھی بن جاتی ہے، اسے قرآن کی آیاتیں خود کو جھنجوڑتی ہوئی محسوس نہیں ہوتیں۔ کیوں کہ صاحب قرآن ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے نواسے کی شہادت کو اس نے کبھی محسوس ہی نہیں کیا ہوتا، اس فیلنگ کو اس نے کبھی محسوس نہیں کیا ہوتا کہ نیزے پر چڑھے سر مبارک سے قرآن کریم کی تلاوت کا منظر کیسا ہوگا۔۔۔۔ اس کے رونگٹے کبھی کھڑے نہیں ہوتے۔۔۔۔
شجاعت و بہادری کیا ہوتی ہے، حق و باطل کا فرق کیا ہوتا ہے، اس نے یہ سب کبھی محسوس نہیں کیا ہوتا۔
اس طرح سے یہ بچہ دین سے Emotionally and spiritually cut ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔
پھر بچتا ہے میدان میں Rational..... وہ اسے بتاتا ہے کہ پتا نہیں حضرت امام حسین کو کیا ضرورت تھی کربلا جانے کی۔۔۔( معاذ اللہ)۔ شاید یہ ایک Power move تھا، شاید یہ بس ایک اقتدار کی جنگ تھی۔۔۔۔ اب ایسا بھی کچھ نہیں تھا جتنا بتایا جاتا ہے ( معاذ اللہ) یہاں سے یزید بدمعاش کے بارے میں کہیں نا کہیں Soft corner پیدا ہونے لگتا یے، نہیں بھی ہوتا تو کم از کم حضرت امام حسین کے اقدامات پر تنقیدی جائزہ کی آڑ میں دل میں شک کا پودا اگنے لگتا یے۔۔۔۔۔
یہاں اس بیچارے کا بیڑا غرق ہونا شروع ہوتا ہے۔۔۔۔
اس لیے والدین کا بچوں سے connection، بچوں کے ساتھ بیٹھ کر قربانی حسین کی وجوہات و مقاصد بیان کرنا انتہائی اہم ہے۔۔۔۔۔
باہر وہ سنیں یا نہ سنیں اگر وہ گھر میں والدین کی زبانی نہیں سن رہے تو یاد رکھیں وہ شک کے کسٹمر بن رہے ہیں۔
والدین بچوں کے لیے سب سے پہلے ہیرو ہوتے ہیں اس دنیا میں۔ وہ کیا کرتے ہیں، کیا بتاتے ہیں، یہ سب کچھ بچوں کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔
عصر حاضر کے والدین جاگ جائیں اس سے پہلے کہ آپ کے بچے حسینیت پر شک کرنا اور کسی یزید کو حق سمجھنا شروع کر دیں۔۔۔۔
وما علینا الاالبلاغ

فیض عالم

نوٹ: میرے والدین کو اپنی آج کی خاص دعا میں یاد رکھئیے گا، اللہ کریم والد مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور میری والدہ کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے آمین۔ ان کا بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے اہلبیت کی محبت سے ہمیں سرشار کیا۔۔۔۔


06/07/2025

سلام یا حسین!

آپ ایک لحظہ کے لیے حسین (ع) کی شخصیت کو مقدسات سے الگ رکھ دیں۔ آپ فرض کر لیجئیے کہ وہ اس رسول کے نواسے نہیں تھے جن کا مسلمانوں نے کلمہ پڑھا۔ فرض کریں حسین کسی مذہبی شخصیت کا نام نہیں وہ ایک عام فرد ہے۔ تفصیل میں کیا جانا چھاننا ہو تو چھاننی ہی کام آوے ہے۔ اور حق یہ ہے کہ ایک شخص نے اس وقت کی جابر اور ناجائز حکومت کے خلاف قیام کیا۔ یہ وہ حکومت تھی جس کی بنیادوں میں آمریت تھی۔معاہدہ حسن کی روشنی میں دیکھیں تو اس معاہدے کو توڑتے ہوئے یزید کو جانشین مقرر کر کے نا صرف تخت دیا گیا بلکہ اہلیان مدینہ سے بزور بازو بیعت لی گئی۔ اگر یزید کا کردار دیکھیں تو کھلے عام شرابی، فاسق و فاجر تھا جو خود کو خلیفہ منوا رہا تھا۔ موٹی موٹی بات تو یہ ہے کہ کیا حسین کو اہلخانہ سمیت گھیر کر مارا نہیں گیا۔ مارا گیا ناں۔ تو بس مظلوم کا ساتھ دینا عین عبادت ہے۔ ظالم کی طرفداری سراسر حرامزدگی ہے۔

یزید کا بیٹا تخت چھوڑ گیا اس نے اپنے باپ کا دفاع نہیں کیا مگر کچھ ایسے بیٹے پیدا ہو گئے ہیں جو یزید کے دفاع میں اُلٹا لٹک جاتے ہیں۔ چلیں یہ فرض کر لیں کہ کربلا ایک حادثہ تھا سو ہو گیا۔ آگے چلیں۔ واقعہ حرہ سے تاریخ کی کتابوں کے منہ پھٹنے کو آ رہے ہیں۔بعد از جنگ کربلا اہلیانِ مدینہ نے یزید کی بیعت توڑتے ہوئے بغاوت کر دی۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیئے یزید نے اپنی فوج کو مکہ اور مدینہ پر چڑھائی کرنے کے احکامات دیئے جس کو واقعہ حرہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ 27 ہزار نفوس پرمشتمل یزیدی فوج نے مدینہ کی حرمت کو پامال کر ڈالا۔ مدینہ میں اصحاب اور ان کے خاندان کا قتل کیا گیا۔ اصحاب زادیوں سے گستاخیاں کی گئیں۔ روضہ رسول پر شامی فوج نے اپنے گھوڑے باندھے اور اسے اصطبل بنا ڈالا۔ مسجد نبوی میں تین روز تک آذان و نماز معطل رہی۔ آپ واقعہ حرہ کو پڑھیں تو آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں لگ بھگ 700 اصحاب رسول کا قتل کیا گیا اور مجموعی طور پر ہزاروں افراد کا خون بہایا گیا۔

مدینے سے فارغ ہو کر یزیدی فوج نے ابن زبیر کو قتل کرنے کے واسطے مکہ کی راہ لی۔ ابن زبیر حرم میں پناہ لئے بیٹھے تھے اور اپنے خاندان و اصحاب کے ساتھ اپنے دفاع میں لشکر بنائے موجود تھے۔ 64 روز تک کعبہ کا محاصرہ کیا گیا۔ بلآخر کعبہ پر منجیقوں سے سنگ باری کی گئی۔ کعبہ کے غلاف کو آتشزدگی سے آگ لگی۔ آگ اتنی شدید تھی کہ کعبہ کی دیواریں سیاہ ہو گئیں۔ اسی حملے کے دوران اطلاع آئی کہ دمشق میں یزید کا انتقال ہو گیا ہے۔ ابن زبیر نے اعلان کیا کہ اب تمہارا آقا تو مر گیا اب کیوں کعبہ کی حرمت پامال کر کے مزید ظلم کرتے ہو ؟ ۔ فوج واپس دمشق کو روانہ ہو گئی۔ ابن زبیر نے مکہ میں اپنی گورنری کا اعلان کرتے ہوئے اپنی حکومت بنا لی۔

بھئی فرعون ہو ، نمرود ہو، شداد ہو ، ابوجہل ہو یا یزید ہو اس کا دفاع دماغی خلل کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔ قاتلوں کی دستار بندی کرنا سوائے غیرانسانی فعل کے اور کیا ہو سکتا ہے۔ لعنتی کرداروں کو ہار نہیں پہنائے جا سکتے۔آج کے دور میں جہاں مسلم دنیا سے مغربی دنیا تک مذاہب سمٹ رہے ہیں، جہاں لوگوں سے خدا منوانا مشکل ہو رہا ہے وہاں حسین منوانا آسان ہے۔ یہی سبب ہے کہ ساڑھے چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی لوگوں میں غمِ حسین تازہ معلوم ہوتا ہے۔ کوئی ملحد ہے یا مذہبی یہ بحث ہی نہیں۔ حسینی تحریک کا پیغام ابدی ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ تیس ہزار کے لشکر کے سامنے ایک شخص اپنا گھر بار، بھائی، بچے، بھتیجے اور بھانجے قربان کر کے کھڑا ہے کہ میں جابر حکومت نہیں مانتا۔ اور اس کا خدا پر ایسا پختہ یقین ہے کہ حسین کے کردار اور داستان کا مطالعہ کرنے والوں کو سوچ میں مبتلا کر دیتا ہے “کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے”۔ یہی سبب ہے مسلم سے غیر مسلم سکالرز، انقلابی اور ادیب تک حسینی تحریک سے متاثر نظر آتے ہیں۔وہ کیا شعر یاد آیا

جُز حسین ابن علی مرد نہ نکلا کوئی
جمع ہوتی رہی دنیا سرِ مقتل کیا کیا

تمام مقدسات کو سائیڈ پر رکھیں اور تاریخ کا مطالعہ کریں۔ انسانی تاریخ بتائے گی کہ حسین سے کارل مارکس تک اور چی گویرا سے ہو چی منہ تک ان لوگوں نے ارب ہا انسانوں پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ یہ جبر کے خلاف مزاحمت کی علامت بنے ہیں۔ جہاں تک بات ہے حسین کی تو اس سے زیادہ کیا کہوں جو احمد ندیم قاسمی بخوبی کہہ گئے

وہ جو نُورِ چشمِ بتول تھا، وہ جو گلِ ریاضِ رسول تھا
اسی ایک شخص کے قتل سے میری کتنی صدیاں اُداس ہیں

جسے صرف حق ہی قبول ہو، یہی جس کا اصل اصول ہو
جو نہ بک سکے ، جو نہ جھک سکے، اسے کربلائیں ہی راس ہیں

حریت کے شہنشاہ حسین ابن علی (ع) کو سرخ سلام۔کبھی کہنا ضروری ہو جاتا ہے خاص کر جب ظالم، قاتل اور باطل کی دستار بندی کرنے والے ان دنوں میں سوشل میڈیا پر اُلٹیاں کرنے لگیں۔پھر شعر یاد آ گیا

کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجازِ سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

مہدی بخاری

حوالہ جات:

تاریخ الخلفاء صفحہ نمبر 186 ، جلال الدین سیوطی
البدایہ صفحہ نمبر 1162 ، ابن کثیر
مسند احمد باب 6 نمبر 380 ، امام احمد بن جنبل
سنن ترمذی باب 8 نمبر 602، ترمذی
صحیح بخاری ، نمبر 2604
صحیح مسلم، نمبر 4101
دلائل النبوة للبيهقى، باب 6، نمبر 475، امام بیہقی
ابن عساکر 108/58
الإصابة لابن حجر 26/5، ابن حجر
المنتظم لابن الجوزی 15/6، امام ابن الجوزی
سنن ابن ماجہ، نمبر 3958

A book recently I have studied and will recommend you all to read if you really want to know about history of Karbala an...
06/07/2025

A book recently I have studied and will recommend you all to read if you really want to know about history of Karbala and detailed booke review given in 1st comment

06/07/2025

خطبہ حضرت امام حسین علیہ السلام
کتاب شام کربلا
کربلا ایک واقعہ نہیں، ایک پیغام ہے
یہ ویڈیو حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمہ اللہ کی شہرۂ آفاق کتاب "شامِ کربلا" کا جامع اور دل کو چھو لینے والا خلاصہ پیش کرتی ہے۔

اس کتاب میں امام حسینؓ، اہل بیت اطہار، اور میدانِ کربلا میں پیش آنے والے تاریخی حقائق کو نہایت ایمان افروز اور فکری انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
یہ ویڈیو ان تمام ناظرین کے لیے ہے جو حق، قربانی، صبر اور استقامت کے اصل مفہوم کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

🌙 آئیے حسینیت کے پیغام کو سمجھیں، دل سے قبول کریں، اور اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔





06/07/2025

کتاب شام کربلا
کربلا ایک واقعہ نہیں، ایک پیغام ہے
یہ ویڈیو حضرت مولانا محمد شفیع اوکاڑوی رحمہ اللہ کی شہرۂ آفاق کتاب "شامِ کربلا" کا جامع اور دل کو چھو لینے والا خلاصہ پیش کرتی ہے۔

اس کتاب میں امام حسینؓ، اہل بیت اطہار، اور میدانِ کربلا میں پیش آنے والے تاریخی حقائق کو نہایت ایمان افروز اور فکری انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
یہ ویڈیو ان تمام ناظرین کے لیے ہے جو حق، قربانی، صبر اور استقامت کے اصل مفہوم کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

🌙 آئیے حسینیت کے پیغام کو سمجھیں، دل سے قبول کریں، اور اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔





05/07/2025

ہم حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالٰی کا برگزیدہ رسول مانتے ہیں .... ان کی تکریم کرتے ہیں، ان پر سلامتی کی دعا کرتے ہیں. یہ سب ہمارے ایمان کا حصہ ہے. نہ کریں تو مسلمان ہونے کا دعوئ خام ٹھہرتا ہے.

لیکن کیا یہ سب کرنے سے ہم عیسائی بن جاتے ہیں ؟؟؟

ایسا نہیں ہے. کیونکہ عیسائی بننے کے لیے چند دیگر عقائد کی ضرورت ہے جن کے ہم مکلف نہیں.

بالکل اسی طرح محرم کی دس تاریخ کو واقع ہونے والے سانحہ کے متعلق دو ٹوک رویہ اور خود کو خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ بلا کم و کاست کھڑے رکھنا نہایت اہم ہے. محض اس لیے نہیں کہ نواسہ رسول اور ان کے خاندان والوں کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا .... بلکہ اس لیے بھی کہ جانبین میں کوئی تقابل ہی نہیں، نہ کردار کا، نہ بصیرت کا اور نہ ہی نسب کا.

جو دوست یزید کو کچھ رعایت دینا چاہتے ہیں وہ یہ ضرور دیکھیں کہ یزید نے رعایت کے لیے کوئی ابہام باقی رہنے دیا ؟ بالفرض کربلا کا اسے علم نہیں تھا تو جنہوں نے مکہ اور مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی وہ لشکر بھی اس کی لاعلمی میں روانہ کر دیے گئے؟ جو قتل و غارت حرمین کی حدود میں ہؤا وہ کیا شبہ باقی رکھتا ہے کہ کربلا کے صحرا میں کیا کچھ نہ ہؤا ہو گا. جنہیں خدا کے گھر اور نبی کی مسجد کی حیاء نہ آئی انہیں لق و دق میدان میں کس بات کا پاس ہو سکتا تھا ؟

اس میں ایک سبق یہ بھی ہے کہ جو کسی بھی مصلحت کی وجہ سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھ نہیں گئے ان کی کربلا خود چل کر مکہ و مدینہ پہنچ گئی. امام حسین اپنی ذات کے لیے یزید کے خلاف نہیں نکلے تھے. دین میں فتنہ کی سرکوبی کے لیے گھر سے باہر آئے. تنہا رہ گئے تو صرف ان کے قافلے والے ہی نہیں مارے گئے، وہ وبال ان پر بھی آ کر رہا جو پیچھے رہ گئے. وہ تو خدا نے ہی یزید کا ہاتھ روک لیا ورنہ وہ تو معلوم نہیں اسلامی تاریخ میں لہو کے اور کتنے باب بڑھا دیتا.

حضرت امام حسین اور یزید کے متعلق ہمیں قطعیت کے ساتھ غیر متزلزل ہونا چاہیے. یہ بحیثیت مسلمان اور نبی کریم کے امتی ہمارا فرض ہے. اہل بیت اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی بے لاگ حمایت سے کوئی شیعہ نہیں بن جاتا اور نہ ہی یہ صرف ان کی ذمہ داری ہے...

(تحریر ڈاکٹر عاصم اللہ بخش)

05/07/2025

Address

Medical Colony, Lane No;3, House No. 7B Bahawal Victoria Hospital Bahawalpur Punjab
Bahawalpur
63100

Opening Hours

Monday 17:00 - 21:00
Tuesday 17:00 - 21:00
Wednesday 17:00 - 21:00
Thursday 17:00 - 21:00
Friday 17:00 - 21:00
Saturday 17:00 - 21:00

Telephone

+923076456060

Website

https://drzainabmalik.com/

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Doctor Zainab Malik posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Doctor Zainab Malik:

Share