09/07/2025
عنوان: عادتیں نسل کا پتا دیتی ہیں سیّد کی شان اور حضرت خضرؑ کی حکمت: محمود غزنوی کے ایک انوکھا درباری واقعہ
تحریر: پروفیسر ملازم حسین بخاری
سلطان محمود غزنویؒ کا شمار تاریخِ اسلام کے ان عظیم حکمرانوں میں ہوتا ہے جن کی سلطنت نہ صرف وسیع تھی بلکہ ان کا دربار علم و عرفان، عدل و انصاف اور روحانیت کا مرکز بھی تھا۔ ایک دن سلطان نے اپنے دربار میں حاضرین سے کہا:
“کیا کوئی مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہے؟”
یہ سوال درباریوں کے لیے حیرت کا باعث تھا۔ جب تمام علما، فقہا اور مشائخ خاموش رہے، تو ایک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا کہ وہ یہ خدمت انجام دے سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے اہل خانہ کی کفالت بادشاہ وقت کرے۔ بادشاہ نے یہ شرط منظور کر لی۔
دیہاتی نے چلہ کاٹنے کے نام پر چھ ماہ گزارے، پھر مزید چھ ماہ مانگے۔ لیکن آخرکار اس نے سچ اگل دیا کہ وہ جھوٹا تھا، صرف اپنے بچوں کی بھوک سے تنگ آکر ایسا بہانہ گھڑا تھا۔
بادشاہ کو بہت غصہ آیا اور دربار لگا کر اس کی سزا کے بارے میں مشورہ کرنے لگا
درباری فیصلے اور شخصی عادات:
سب سے پہلے سلطان نے سزا کے لیے اپنے وزیروں سے رائے لی تو:
1. پہلا وزیر: “اس کا گلا کاٹ دیا جائے” —
تو بادشاہ نے دربار کی طرف رخ کیا وہاں نورانی چہرے والے بزرگ بھی بیٹھے تھے سُلطان نے اس سے پوچھا آئی بزرگ آپکا کیا خیال ہے تو اس بزرگ نے کہا: “اس وزیر نے درست فرمایا!”
2. دوسرا وزیر: “اسے کتوں کے آگے ڈال دیا جائے” —
بادشاہ نے پھر اس بزرگ سے پوچھا آپکا کیا خیال ہے اس نے پھر کہا: “اس وزیر نے درست فرمایا!”
3. ایاز:
اب سلطان نے ایاز سے پوچھا تو اس نے کہا “اسے معاف کر دیا جائے، کیونکہ اس کا جرم مجبوری کا تھا” —
سلطان نے پھر اس بزرگ پوچھا آپکا کیا خیال ہے تو اس نے فرمایا: “ایاز نے بالکل سچ کہا!”
اس تضاد نے سلطان کو حیرت میں ڈال دیا۔ جب اس نے بزرگ سے پوچھا کہ آپ نے ہر دفعہ درست کہا تو انہوں نے پردہ فاش کیا:
• سلطان معظم پہلا وزیر کا والد قصائی تھا اور یہ قصائی خاندان سے تھا، اس لیے اس کی سوچ تلوار کی تھی۔یہ تو آپکی غلطی ہے آپ نے قصائیوں کو وزیر بنایا ظاہر ہے وہ اپنی نسلی سوچ کے مطابق فیصلہ دیں گے۔
• دوسرا وزیر کا والدکتے پالتا تھا شکاریوں کے گھرانے سے تھا، اس لیے اس کی طبیعت میں درندگی تھی۔
• مگر ایاز ایک سیّد زادہ تھا، جس کی فطرت میں حلم، معافی، رحم اور قربانی تھی — یہی سیادت کی شان ہے۔
یہ سن کر سلطان محمودؒ کی آنکھیں کھل گئیں۔ اُس نے ایاز سے کہا: “تم نے مجھے پہلے کیوں نہ بتایا کہ تم سیّد ہو؟”
ایاز نے عاجزی سے جواب دیا:
“کبھی فخر نہ کیا… لیکن آج حضرت خضرؑ نے میرا بھید کھول دیا۔”
تجزیہ و سبق:
1. عادتیں نسل کا پتا دیتی ہیں: انسان کا مزاج اکثر اس کے خاندانی ورثے کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
2. غریب کی مجبوری کو جرم نہ سمجھا جائے: جو مجبوری میں غلطی کرتا ہے، اس کے ساتھ رحمت سے پیش آنا افضل ہے۔
3. ظاہری رُتبہ کچھ نہیں، باطنی شان اصل مقام ہے: ایاز بادشاہ کا غلام تھا، لیکن باطن میں ولایت، سیادت اور حکمت کا خزانہ تھا۔
4. حضرت خضرؑ کا ظہور: اہلِ دل اور سچّے لوگوں کی مجلس میں ہی حضرت خضر علیہ السلام جلوہ گر ہوتے ہیں۔
اختتامی کلمات:
یہ حکایت صرف تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ کردار سازی، انسان شناسی، اور نظامِ عدل کا ایک آئینہ ہے۔ سلطان، وزیر، ایاز، اور حضرت خضرؑ — ہر ایک کردار اپنے اندر ایک اخلاقی سبق رکھتا ہے۔
ایاز کی سیادت نے اس درباری منظر کو بدل دیا، اور حضرت خضرؑ کی موجودگی نے اس واقعے کو روحانی حقیقت بنا دیا۔
سادات کی شان معافی، حلم اور وفا میں پوشیدہ ہے، نہ کہ انتقام میں۔