03/05/2026
عالمی یومِ آزادیِ صحافت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ صحافت صرف آزادی کا نام نہیں بلکہ اس کے ساتھ جڑی ہوئی ذمہ داریوں کا نام بھی ہے۔ آزادی اگر بغیر ذمہ داری کے ہو تو وہ انتشار میں بدل سکتی ہے۔ اسی طرح صحافت اگر اصولوں سے ہٹ جائے تو وہ عوام کی رہنمائی کے بجائے گمراہی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
بدقسمتی سے دنیا کے کئی حصوں میں صحافی آج بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ کہیں ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، کہیں انہیں معاشی طور پر کمزور کیا جاتا ہے، اور کہیں انہیں سچ بولنے کی قیمت اپنی آزادی یا سلامتی کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آزادیِ صحافت ابھی ایک مکمل حقیقت نہیں بلکہ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں صحافت کو کئی اضافی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک طرف عوام کی توقعات ہیں کہ انہیں فوری اور درست معلومات فراہم کی جائیں، تو دوسری طرف ادارہ جاتی اور معاشی دباؤ بھی موجود ہے۔ ایسے میں صحافی کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک اپنے اصولوں پر قائم رہتا ہے۔
میری نظر میں صحافت کا اصل مقصد صرف خبر دینا نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح کرنا ہے۔ ایک صحافی اگر اپنے قلم کو دیانت داری سے استعمال کرے تو وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی قلم مفاد، دباؤ یا ذاتی فائدے کے لیے استعمال ہو تو وہی صحافت ایک خطرناک ہتھیار بھی بن سکتی ہے۔
آج کے دور میں صحافی کے لیے سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنی ساکھ کو محفوظ رکھے۔ ساکھ ایک بار خراب ہو جائے تو دوبارہ بحال کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے ہر خبر سے پہلے تحقیق، تصدیق اور غیر جانبداری کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ صحافت میں جلد بازی اکثر غلطی کا سبب بنتی ہے، اور غلطی صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے ادارے کی ساکھ کو متاثر کرتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صحافت کا میدان آج پہلے سے زیادہ مسابقتی ہو چکا ہے۔ ہر ادارہ چاہتا ہے کہ وہ سب سے پہلے خبر دے، لیکن اس دوڑ میں اکثر معیار قربان ہو جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں صحافی کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری اور جلد بازی کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔
عالمی یومِ آزادیِ صحافت ہمیں یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم نے اس آزادی کا صحیح استعمال کیا ہے؟ کیا ہم نے اس آزادی کو عوامی شعور کی بہتری کے لیے استعمال کیا ہے یا اسے محض سنسنی اور ریٹنگ کی دوڑ میں ضائع کر دیا ہے؟
اصل صحافت وہی ہے جو طاقت کے سامنے سچ بولنے کی ہمت رکھتی ہو، جو کمزور کی آواز بنے اور جو معاشرے میں انصاف اور توازن قائم کرنے میں کردار ادا کرے۔ صحافت کا حسن اس کی سچائی میں ہے نہ کہ اس کی چمک دمک میں۔
بے شک آزادیِ صحافت ایک عظیم نعمت ہے، لیکن یہ نعمت صرف اسی وقت فائدہ مند ہے جب اسے ذمہ داری، دیانت اور اصولوں کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ صحافت اگر سچ کے ساتھ کھڑی ہو تو یہ معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے، اور اگر یہ راستہ چھوڑ دے تو یہی طاقت معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
3 مئی کا دن ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ صحافی صرف خبر دینے والا نہیں بلکہ سچائی کا محافظ ہے، اور اس محافظ کی سب سے بڑی طاقت اس کا قلم اور اس کی سچائی ہے۔