06/10/2025
دنیا نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی دوڑ میں جانے کہاں کہاں کا سفر کر لیا، لیکن حیرت یہ ہے کہ آج یورپ اور برطانیہ کے بڑے بڑے ڈاکٹر، سائنسدان اور ماہرینِ طب دوبارہ فطرت کی طرف پلٹ رہے ہیں۔ وہ اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ انسان کی اصل شفا زمین سے اگنے والے درختوں، جڑی بوٹیوں اور ان سے کشید ہونے والے عرقیات میں چھپی ہے۔ آج لندن کی لیبارٹریز میں سفید کوٹ پہنے سائنسدان، پیرس کی یونیورسٹیوں میں ریسرچرز اور ہائیڈل برگ و آکسفورڈ کے پروفیسرز سب ایک ہی زبان بول رہے ہیں: عرقیات ہی مستقبل کی اصل دوا ہیں۔
جب عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 2019 میں اعلان کیا کہ دنیا کی 80 فیصد آبادی اب بھی جڑی بوٹیوں اور عرقیات پر انحصار کرتی ہے، تو مغربی دنیا کے ایوانوں میں ایک ہلچل مچ گئی۔ یورپ کے ہیلتھ بورڈز اور برطانیہ کی میڈیکل کونسل نے فوری طور پر عرقیات پر تحقیق شروع کی اور آج یہ حقیقت سب کے سامنے ہے کہ عرقیات میں وہ طاقت ہے جو مصنوعی دواؤں میں کبھی نہیں ہو سکتی۔
جرمنی کی ہائیڈل برگ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے جب عرقِ گلاب پر تجربہ کیا تو مریضوں کے چہروں پر وہ سکون ابھرا جو کسی مہنگی دوا سے ممکن نہ تھا۔ پیرس یونیورسٹی کے ماہرین نے جب عرقِ سونف کو معدے کے مریضوں پر آزمایا تو حیرت انگیز بہتری دیکھی گئی۔ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں عرقِ پودینہ پر ریسرچ نے یہ ثابت کیا کہ یہ سانس کی بیماریوں کے لیے ایک قدرتی علاج ہے۔ امریکہ کی ییل یونیورسٹی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ عرقیات کینسر کے مریضوں کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔
سوچئے! کبھی یہی عرقیات دیہات کی چھوٹی سی دکان پر بوتل میں رکھی ملتی تھیں، اور لوگ انہیں پی کر اپنے درد کم کرتے تھے۔ آج وہی بوتلیں یورپ کی جدید لیبارٹریز میں قیمتی مشینوں سے پرکھی جا رہی ہیں۔ یہ منظر ہمیں چیخ چیخ کر یہ پیغام دیتا ہے کہ اصل طاقت فطرت میں ہے، وہی فطرت جس سے ہم دور ہو گئے تھے۔ عرقیات صرف علاج نہیں بلکہ روح کی غذا اور دل کا سکون ہیں۔
لندن اور مانچسٹر کی ہربل فارمیسیز میں عرقِ گلاب، عرقِ پودینہ، عرقِ سونف، عرقِ زیرہ اور عرقِ اجوائن سب سے زیادہ مانگے جاتے ہیں۔ وہاں کے مریض کہتے ہیں کہ یہ عرقیات ان کے لیے دوا نہیں بلکہ زندگی کی نئی اُمید ہیں۔ نیویارک اور شکاگو کے اسپتالوں میں ڈاکٹر مریضوں کو مصنوعی دواؤں کے ساتھ عرقیات بھی تجویز کر رہے ہیں۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کی سمت بدل چکی ہے اور علاج کا رخ دوبارہ عرقیات کی طرف پلٹ رہا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ عرقیات ایک ایسا خزانہ ہیں جنہیں آج یورپ، برطانیہ اور امریکہ اپنی زندگیوں کا حصہ بنا رہے ہیں۔ جب دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ممالک عرقیات پر جھک رہے ہیں، تو ہمیں کیوں شرم آئے کہ ہم اپنی اس قدیم دولت کو اپنائیں؟ وقت قریب ہے جب جدید میڈیکل سائنس خود اعلان کرے گی کہ عرقیات ہی اصل شفا ہیں، یہی علاج ہیں، یہی زندگی ہیں۔
ریفرنسز
1. World Health Organization (WHO). Traditional Medicine Strategy 2014–2023. Geneva: WHO; 2019.
2. University of Heidelberg, Germany. "Therapeutic effects of rose water on mental stress and eye health." Journal of Ethnopharmacology, 2021.
3. Paris University, France. "Foeniculum vulgare (Fennel) Distillates in Gastrointestinal Disorders." Phytotherapy Research, 2022.
4. University of Oxford, UK. "Mentha Piperita Distillates in Respiratory Disorders." Complementary Therapies in Medicine, 2023.
5. Yale University, USA. "Role of Herbal Distillates in Immune System and Chronic Diseases." Integrative Cancer Therapies, 2023 Copy paste