Dr BS Waheed Gastro specialist

Dr BS Waheed Gastro specialist معدہ کے جملہِ مسائل اوربواسیر کا علاج بزریعہ ہومیوپیتھک ادویات کیا جاتا ہے دور دراز والے مریض آن لائن ٹریٹمنٹ کیلئے رجوع کریں۔

19/02/2026

11.6K likes, 443 comments. “روزہ حکومت کے ساتھ رکھنا چاہیے یا سعودی عرب کے ساتھ رکھنا چاہیے یا قران کے مطابق رکھنا چاہیے اہم موضوع ہے سن کر اور سمجھ کر کمنٹ کرے اور اگے دوستوں کو ....

علاج سے پہلے گارنٹی کیوں مانگی جاتی ہے؟ایک حقیقت جو ہر مریض کو جاننی چاہیےاکثر جب کوئی مریض ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے پاس آتا ...
19/02/2026

علاج سے پہلے گارنٹی کیوں مانگی جاتی ہے؟
ایک حقیقت جو ہر مریض کو جاننی چاہیے
اکثر جب کوئی مریض ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے پاس آتا ہے تو اس کی بیماری نئی نہیں ہوتی۔
کئی بار سال بلکہ بعض اوقات دہائیاں گزر چکی ہوتی ہیں۔
مثال کے طور پر معدے کی تکلیف کو ہی لے لیجیے۔
مریض وقتی آرام کے لیے مختلف دوائیں استعمال کرتا رہتا ہے،
اینڈوسکوپی کرواتا ہے،
مختلف گیسٹرو انٹالوجسٹ اور اسپتالوں کے چکر لگاتا ہے،
مگر مکمل شفا کہیں سے نہیں ملتی۔
وقت کے ساتھ مسئلہ صرف معدے تک محدود نہیں رہتا۔
جب معدہ خراب ہو جائے تو جسم کی مجموعی کارکردگی متاثر ہو جاتی ہے۔
غذا صحیح طور پر جذب نہیں ہوتی،
جس کے نتیجے میں خون کی کمی، سر درد، قبض، بواسیر،
جسمانی و جنسی کمزوری، اعصابی مسائل، جگر کی خرابی
اور دیگر کئی پیچیدہ شکایات پیدا ہو جاتی ہیں۔
ایسے مرحلے پر مریض کے ذہن میں ایک گہری مایوسی جنم لیتی ہے:
“شاید میرا مرض اب ناقابلِ علاج ہو چکا ہے۔”
اسی کیفیت میں جب مریض ہمارے پاس آتا ہے تو اکثر کہتا ہے:
“ڈاکٹر صاحب، براہِ کرم میرا مکمل چیک اپ کریں،
میں ہر طرف سے مایوس ہو چکا ہوں۔”
کچھ مریض یہاں تک کہہ دیتے ہیں:
“اب ہمیں ڈاکٹر کے نام سے نفرت ہو گئی ہے۔”
حقیقت یہ ہے کہ
اکثر مریض ڈاکٹر بدلتا رہتا ہے، مگر طریقۂ علاج نہیں بدلتا۔
وہی وقتی آرام دینے والی دوائیں،
وہی علامات کو دبانے والا علاج،
صرف چہرے اور نام بدل جاتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں مریض کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔
اگر دو، تین یا چار مختلف ڈاکٹروں کے پاس جا کر بھی مسئلہ حل نہیں ہو رہا،
تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیماری لاعلاج ہے،
بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ
اب طریقۂ علاج تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر مستقل اور جڑ سے شفا مقصود ہو
تو کسی سمجھدار اور تجربہ کار ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے،
چاہے اس کا کلینک چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔
جتنا وقت اور توانائی برسوں تک دوسرے طریقوں میں صرف کی جاتی ہے،
اگر اس کا ایک حصہ بھی
درست تشخیص، صبر اور تسلسل کے ساتھ
ہومیوپیتھک علاج کو دیا جائے،
تو اکثر معاملات میں بیماری کی جڑ پر مؤثر کام ممکن ہو جاتا ہے۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹر بادشاہ وحید
ماہر امراضِ معدہ و بواسیر
پاکستان خیبر پختونخواہ چکدرہ دیر لوئر

03459292841





























اطلاع برائے اوقاتِ کار (رمضان المبارک)رمضان المبارک کے دوران کلینک کے اوقاتِ کار میں عارضی تبدیلی کی جا رہی ہے۔اس بابرکت...
18/02/2026

اطلاع برائے اوقاتِ کار (رمضان المبارک)
رمضان المبارک کے دوران کلینک کے اوقاتِ کار میں عارضی تبدیلی کی جا رہی ہے۔
اس بابرکت مہینے میں اوقاتِ کار صبح 9 بجے سے دوپہر 1 بجے تک ہوں گے۔
یہ شیڈول صرف رمضان المبارک کے لیے نافذ العمل ہے اور کلینک میں آنے والے مریضوں اور آن لائن علاج / کنسلٹیشن کروانے والے مریضوں—دونوں کے لیے یکساں ہوگا۔
یہ اوقات دونوں کلینکس پر لاگو ہوں گے:
جکدرہ اور تیمرگرہ
ہومیوپیتھک ڈاکٹر بادشاہ وحید
ماہر امراضِ معدہ و بواسیر

آن لائن علاج کا درست طریقہ — دوا نہیں، پہلے کنسلٹیشناکثر لوگ معدے، قبض، بدہضمی، جراثیمِ معدہ یا بواسیر جیسے مسائل میں سو...
17/02/2026

آن لائن علاج کا درست طریقہ — دوا نہیں، پہلے کنسلٹیشن
اکثر لوگ معدے، قبض، بدہضمی، جراثیمِ معدہ یا بواسیر جیسے مسائل میں سوشل میڈیا پر کوئی پراڈکٹ یا دوا دیکھ کر فوراً خرید لیتے ہیں۔ یہ طریقہ بظاہر آسان لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہی جلد بازی بیماری کو لمبا اور پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
آن لائن علاج کا اصل طریقہ یہ ہے کہ دوا خریدنے کے بجائے پہلے باقاعدہ کنسلٹیشن کیا جائے۔ ڈاکٹر مریض کی مکمل علامات، بیماری کی شدت، جسمانی کیفیت، خوراک اور روزمرہ معمولات کو سمجھتا ہے، پھر اسی بنیاد پر علاج تجویز کرتا ہے۔ اس طرح جو دوا دی جاتی ہے وہ اندازے سے نہیں بلکہ ضرورت کے مطابق ہوتی ہے، اس لیے زیادہ مؤثر اور محفوظ ثابت ہوتی ہے۔
آپ کے لیے یہ سہولت موجود ہے کہ آن لائن یا فزیکلی کنسلٹیشن کی جا سکے۔
کنسلٹیشن فیس صرف ٹرائل فیس ہوتی ہے جو 500 روپے سے لے کر 1000 روپے تک ہو سکتی ہے، مگر اس کا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو جو دوا تجویز کی جاتی ہے وہ آپ کی بیماری کے مطابق، بہتر اور درست ہوتی ہے—نہ کہ کسی اشتہار یا اندازے پر مبنی۔
یاد رکھیں، دوا بعد میں آتی ہے، صحیح کنسلٹیشن علاج کی پہلی اور سب سے اہم سیڑھی ہے۔

ڈاکٹر سے باقاعدہ معائنہ کیوں ضروری ہے؟بہت سے لوگ فیس بک یا دیگر سوشل میڈیا پر کسی دوا کا اشتہار دیکھ کر اسے خرید لیتے ہی...
16/02/2026

ڈاکٹر سے باقاعدہ معائنہ کیوں ضروری ہے؟
بہت سے لوگ فیس بک یا دیگر سوشل میڈیا پر کسی دوا کا اشتہار دیکھ کر اسے خرید لیتے ہیں اور ڈاکٹر سے باقاعدہ معائنہ نہیں کراتے۔ خاص طور پر معدے، قبض، جراثیمِ معدہ، بدہضمی یا بواسیر کے مسائل میں یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
ہر مریض کی علامات، بیماری کی شدت اور جسمانی حالت مختلف ہوتی ہے۔ جو دوا کسی دوسرے کے لیے مفید ہے، وہ آپ کے لیے غیر مؤثر یا نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے۔ معمولی فیس بچانے کی خاطر یہ خطرہ اٹھانا سمجھداری نہیں ہے۔
باقاعدہ کنسلٹیشن کے ذریعے ڈاکٹر آپ کی علامات، جسمانی حالت اور مجموعی صحت کو سمجھتے ہیں اور پھر مناسب علاج، غذا کی ترتیب اور ہومیوپیتھک ادویات تجویز کرتے ہیں۔ اس سے علاج مؤثر اور محفوظ بنتا ہے۔
آپ کے لیے خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر بادشاہ وحید، ماہر امراضِ معدہ و بواسیر، تجربہ کار ہیں اور ان سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ چاہے آپ کلینک میں ملاقات کریں یا آن لائن کنسلٹیشن کریں، یہ آپ کے لیے محفوظ اور قابل اعتماد طریقہ ہے۔
یہ معمولی کنسلٹیشن فیس صرف 500 روپے ہے، لیکن اس کے ذریعے آپ کو اپنی صحت کے مسائل میں درست رہنمائی اور علاج ملے گا، جس سے آپ کے مسائل جلد اور مؤثر طریقے سے حل ہو سکتے ہیں۔

خلیج میں ٹیکسی ڈرائیونگ — محنت کے ساتھ صحت کی آزمائشاکثر پاکستانی بھائی خلیج ممالک میں ٹیکسی چلاتے ہیں۔ صبح سویرے نکلنا،...
13/02/2026

خلیج میں ٹیکسی ڈرائیونگ — محنت کے ساتھ صحت کی آزمائش
اکثر پاکستانی بھائی خلیج ممالک میں ٹیکسی چلاتے ہیں۔ صبح سویرے نکلنا، رات دیر تک گاڑی چلانا، روزانہ 15–18 گھنٹے کی ڈیوٹی، اور پیچھے وطن میں خاندان کی ذمہ داریاں۔ اس مسلسل محنت میں سب سے پہلے نظر انداز ہونے والی چیز اپنی صحت بن جاتی ہے۔
طویل ڈیوٹیاں، مسلسل بیٹھنا، ذہنی دباؤ اور بے وقت خوراک معدے اور جسم کے نظام کو کمزور کر دیتی ہیں۔ نتیجتاً معدے کی خرابی، جلن، درد، بدہضمی، پیٹ کا بڑھ جانا، شوگر، بلڈ پریشر اور جوڑوں کے درد جیسی شکایات سامنے آتی ہیں۔
باقی مسائل تو اپنی جگہ ہیں، مگر معدہ اور بواسیر کی شکایت کے شکار افراد اپنی مشکلات ہمارے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ مقصد صرف صحت کے لیے ہلکی رہنمائی دینا ہے، تاکہ چھوٹے اقدامات سے آسانی سے بہتری لائی جا سکے۔
احتیاطی نکات:
صبح کا ناشتہ ضرور کریں۔
دوپہر کا کھانا نہ چھوڑیں۔
رات کا کھانا مغرب کے بعد کم مقدار میں لیں۔
کھانے کے بعد ہلکی چہل قدمی کریں۔
کھانے کے دوران پانی نہ پئیں، دن میں پانی زیادہ استعمال کریں مگر روم ٹمپریچر پر۔
فاسٹ فوڈ، مرغن بازاری غذاؤں اور سافٹ ڈرنکس سے پرہیز کریں۔
سادہ اور قدرتی غذا معدے کے لیے بہترین ہے۔
محنت قابلِ قدر ہے، مگر صحت کے بغیر یہ محنت جسم پر بھاری پڑ سکتی ہے۔ اپنی صحت کا خیال رکھنا، اپنے گھر والوں کا خیال رکھنے کے برابر ہے۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹر بادشاہ وحید
ماہرِ امراضِ معدہ و بواسیر
00923459292841

کچھ لوگ کمنٹ کرتے ہیں: “آئی پی ایس کی دوا بتا دو”، “معدے کی جراثیم کی دوا کیا ہے؟”، یا “بھوک نہیں لگتی، کیا دوائیں لوں؟”...
12/02/2026

کچھ لوگ کمنٹ کرتے ہیں: “آئی پی ایس کی دوا بتا دو”، “معدے کی جراثیم کی دوا کیا ہے؟”، یا “بھوک نہیں لگتی، کیا دوائیں لوں؟”۔ ہر مسئلے کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔ صرف علامت دیکھ کر دوا لینا اکثر مسائل حل نہیں کرتا، بلکہ کبھی نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔
معدے، بھوک یا ہاضمے کے مسائل جسم کی مجموعی کیفیت، طرزِ زندگی اور دیگر عوامل سے جڑے ہوتے ہیں۔ اسی لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے قابل اعتماد ڈاکٹر سے معائنہ کرائیں اور پھر دوا استعمال کریں۔
اگر اپنے علاقے میں ڈاکٹر دستیاب نہ ہو، تو آن لائن مشورہ کے ذریعے بھی رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے تاکہ مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹر بادشاہ وحید
ماہرِ امراضِ معدہ و بواسیر

سگریٹ نوشی اور معدہ — ایک مختصر مگر اہم حقیقتسگریٹ صرف پھیپھڑوں کو نہیں، معدے کو بھی خاموشی سے نقصان پہنچاتی ہے۔ نکوٹین ...
12/02/2026

سگریٹ نوشی اور معدہ — ایک مختصر مگر اہم حقیقت
سگریٹ صرف پھیپھڑوں کو نہیں، معدے کو بھی خاموشی سے نقصان پہنچاتی ہے۔ نکوٹین معدے میں تیزاب (Hydrochloric Acid) بڑھا دیتی ہے اور معدے کی حفاظتی جھلی (Mucosal Layer) کو کمزور کر دیتی ہے۔
اس کے نتیجے میں یہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
معدے کی تیزابیت اور جلن (Hyperacidity)،
معدے کی سوزش (Gastritis)،
بدہضمی، متلی اور بھراؤ،
معدہ اور بارہ انگلی کا السر (Peptic Ulcer)،
کھٹا پانی آنا اور سینے کی جلن (GERD)۔
میڈیکل طور پر یہ بھی ثابت ہے کہ سگریٹ H. pylori انفیکشن کے اثرات کو بڑھا دیتی ہے اور پہلے سے موجود زخموں کو بھرنے نہیں دیتی، جس کی وجہ سے علاج لمبا ہو جاتا ہے۔
یاد رکھیں، جب تک سگریٹ جاری ہے، معدہ مکمل صحت کی طرف نہیں آ سکتا۔
علاج کے ساتھ عادت کی اصلاح بھی ضروری ہے۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹر بادشاہ وحید
ماہرِ امراضِ معدہ و بواسیر

اکثر لوگ صبح اٹھتے ہی نہار منہ پانی پینے کو بہت بڑا علاج سمجھ لیتے ہیں، لیکن میرا تجربہ اس کے برعکس ہے۔ میں بطور ہومیوپی...
12/02/2026

اکثر لوگ صبح اٹھتے ہی نہار منہ پانی پینے کو بہت بڑا علاج سمجھ لیتے ہیں، لیکن میرا تجربہ اس کے برعکس ہے۔ میں بطور ہومیوپیتھک ڈاکٹر خصوصاً امراضِ معدہ اور بواسیر کے مریضوں کے ساتھ روزانہ کام کرتا ہوں، اس لیے یہ بات پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ یہ کوئی سنی سنائی بات نہیں بلکہ میرا کلینیکل تجربہ ہے۔ طبی طور پر صبح کے وقت معدہ خالی اور ہاضم نظام حساس ہوتا ہے، اگر اس وقت صرف پانی پیا جائے اور ناشتہ نہ کیا جائے تو گیس، تیزابیت، کمزوری اور بھوک کی بے ترتیبی جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔ میں نے بارہا دیکھا ہے کہ جو لوگ نہار منہ پانی پر زور دیتے ہیں مگر ناشتے کو اہمیت نہیں دیتے، وہی لوگ بعد میں بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اصل بات صبح پانی نہیں بلکہ صبح کا ناشتہ ہے، کیونکہ اچھا ناشتہ پورے دن کے لیے جسم کی بنیاد بناتا ہے۔ اسی لیے میں اپنے مریضوں کو یہی ہدایت دیتا ہوں کہ پہلے مناسب ناشتہ کریں اور اس کے بعد دن میں کسی بھی وقت نیم گرم پانی استعمال کریں۔ اگر کوئی اس بات سے اختلاف رکھتا ہے تو ایک مہینہ صبح ناشتہ کر کے خود اس کا تجربہ کرے، پھر فیصلہ خود بخود واضح ہو جائے گا، کیونکہ طب میں سب سے مضبوط دلیل جسم کا اپنا ردِعمل ہوتا ہے۔
— ہومیوپیتھک ڈاکٹر بادشاہ وحید، ماہر امراضِ معدہ و بواسیر
03459292841

اکثر مریض جلد کی الرجی، خارش یا دانوں کی شکایت لے کر آتے ہیں، خاص طور پر جب مچھلی، چکن، دالیں یا گرم غذائیں کھانے کے بعد...
11/02/2026

اکثر مریض جلد کی الرجی، خارش یا دانوں کی شکایت لے کر آتے ہیں، خاص طور پر جب مچھلی، چکن، دالیں یا گرم غذائیں کھانے کے بعد مسئلہ بڑھ جائے۔ بظاہر یہ سکن کا مسئلہ لگتا ہے، مگر حقیقت میں اکثر اس کی جڑ معدے کی خرابی ہوتی ہے۔
جب معدہ کمزور ہو، تیزابیت بڑھی ہوئی ہو یا کھانا صحیح طرح ہضم نہ ہو (Gastritis یا Dyspepsia)، تو جسم اس کا ردِعمل جلد پر دکھاتا ہے۔ اس حالت میں Histamine بڑھ جاتی ہے، جس سے خارش اور الرجی پیدا ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ اسے فوڈ الرجی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ اکثر یہ فوڈ انٹالرینس ہوتی ہے۔
ایسی صورت میں صرف الرجی کی دوائیں یا لوشن وقتی آرام دیتے ہیں، اصل مسئلہ برقرار رہتا ہے اور شکایت بار بار لوٹ آتی ہے۔ اس لیے اگر الرجی کا تعلق کھانے سے ہو تو علاج صرف جلد کا نہیں، بلکہ معدے کا درست معائنہ اور علاج ضروری ہے۔ کیونکہ جب جڑ ٹھیک ہوتی ہے تو علامات خود بخود کم ہونے لگتی ہیں۔

معدے کی تکالیف: بیماری کم، ہماری اپنی غلطیاں زیادہایک مریض میرے پاس آیا جس کی شکایت یہ تھی کہ کھانا کھاتے ہی معدے پر بوج...
10/02/2026

معدے کی تکالیف: بیماری کم، ہماری اپنی غلطیاں زیادہ
ایک مریض میرے پاس آیا جس کی شکایت یہ تھی کہ کھانا کھاتے ہی معدے پر بوجھ بن جاتا ہے۔ اس کے بعد متلی اور قے شروع ہو جاتی ہے۔ جب تک معدہ بالکل خالی نہ ہو جائے، اسے سکون نہیں ملتا۔ وقت کے ساتھ اس میں خوف اور گھبراہٹ بھی شامل ہو گئی تھی۔ یہ مسئلہ کئی سالوں سے چل رہا تھا اور وہ مختلف جگہوں سے علاج کروا چکا تھا۔
جب میں نے مریض کا تفصیلی معائنہ کیا اور اس کی روزمرہ عادتوں کے بارے میں پوچھا تو اصل وجہ سامنے آ گئی۔
سب سے پہلی اور بنیادی غلطی کھانے کے دوران پانی پینا تھی۔
میڈیکل پوائنٹ آف ویو سے دیکھا جائے تو معدہ خوراک کو ہضم کرنے کے لیے ہائیڈروکلورک ایسڈ (HCL) اور ڈائجسٹو انزائمز خارج کرتا ہے۔ جب کھانے کے ساتھ زیادہ پانی پیا جائے تو یہ تیزاب اور انزائمز ڈائلوٹ ہو جاتے ہیں، یعنی ان کی طاقت کم ہو جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خوراک وقت پر ہضم نہیں ہوتی، معدے میں رک جاتی ہے، بھاری پن، گیس، متلی اور آخرکار قے کی صورت میں باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہے۔
دوسری بڑی وجہ خوراک کو اچھی طرح نہ چبانا تھی۔
جب کھانا صحیح طرح نہیں چبایا جاتا تو معدے کو اضافی محنت کرنا پڑتی ہے۔ بڑا لقمہ معدے میں جا کر دیر سے ہضم ہوتا ہے، جس سے معدہ پھیلتا ہے اور بوجھ محسوس ہوتا ہے۔
تیسری بات زمین پر بیٹھ کر نہ کھانا تھی۔
زمین پر بیٹھ کر کھانے سے پیٹ قدرتی پوزیشن میں رہتا ہے، معدے پر دباؤ کم ہوتا ہے اور خوراک آنتوں کی طرف بہتر انداز میں منتقل ہوتی ہے۔ کرسی پر بیٹھ کر کھانے سے پیٹ باہر کی طرف پھیلتا ہے، معدے کے عضلات سست ہو جاتے ہیں اور ہاضمہ کمزور پڑ جاتا ہے۔
چوتھی غلطی صبح سویرے نہار منہ پانی پینا تھی۔
رات کے وقت معدہ پہلے ہی کمزور حالت میں ہوتا ہے۔ نہار منہ زیادہ پانی پینے سے معدے کے تیزاب میں مزید کمی آ جاتی ہے، جس سے صبح کے وقت بدہضمی، متلی اور بھوک نہ لگنے کی شکایت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس ہلکا اور مناسب ناشتہ معدے کو فعال کرتا ہے۔
اس کے علاوہ کولڈ ڈرنکس، بازاری مشروبات، بیکری آئٹمز اور فارمی مرغے کا زیادہ استعمال بھی معدے کی سوزش اور تیزابیت کو بڑھاتا ہے۔
ٹیسٹ کروانے پر مریض کا H. pylori (معدے کا جراثیم) بھی پازیٹو آیا۔ اس کے لیے دوا دے دی گئی، جو ان شاء اللہ جراثیم کو ختم کر دے گی۔
لیکن میں نے مریض کو واضح طور پر بتایا کہ
دوائی جراثیم کو مار سکتی ہے، مگر غلط عادتوں کو نہیں۔
اگر عادتیں درست نہ کی جائیں تو معدے کی تکالیف بار بار لوٹ آتی ہیں۔
یاد رکھیں،
معدے کی زیادہ تر بیماریاں باہر سے نہیں آتیں، ہم خود انہیں دعوت دیتے ہیں۔
صحیح کھانا، صحیح طریقے سے کھانا اور صحیح وقت پر کھانا ہی اصل علاج ہے۔

ہومیوپیتھک ڈاکٹر بادشاہ وحید
ماہرِ امراضِ معدہ

بیماری کو صرف جسم میں نہیں، حالات میں بھی تلاش کیجیے۔کل ایک مریضہ آئی تھی۔ عمر تیس سال سے کم ہے۔ شادی اپنی مرضی کے بغیر ...
10/02/2026

بیماری کو صرف جسم میں نہیں، حالات میں بھی تلاش کیجیے۔
کل ایک مریضہ آئی تھی۔ عمر تیس سال سے کم ہے۔ شادی اپنی مرضی کے بغیر ہوئی۔ چند سال ایسے رشتے میں گزرے جہاں ذہنی دباؤ، لڑائی اور بے سکونی رہی۔ اب میاں بیوی الگ ہیں مگر رشتہ ابھی ختم بھی نہیں ہوا۔ نہ ساتھ کا سکون ہے نہ آزادی کا احساس۔
اس دوران جسم نے بولنا شروع کیا۔ معدہ خراب رہتا ہے۔ نیند پوری نہیں ہوتی۔ بدن میں جکڑن اور کھچاؤ رہتا ہے۔ ہر وقت بے چینی سی کیفیت۔ کھانے کے بعد دل گھبراتا ہے، متلی ہوتی ہے، کبھی الٹی اور کبھی کھانے سے نفرت۔
یہاں ایک بات سمجھنے کی ہے کہ ہر معدے کی شکایت صرف معدے کی نہیں ہوتی۔ انسان کا ہاضماتی نظام براہ راست اس کے جذبات سے جڑا ہوتا ہے۔ جب دل دباؤ میں ہو، جب فیصلے زبردستی مسلط کیے جائیں، جب رشتہ تحفظ کے بجائے خوف بن جائے تو اس کا اثر سب سے پہلے معدے پر پڑتا ہے۔
اسی لیے بہت سے مریضوں کے ٹیسٹ نارمل ہوتے ہیں، دوا وقتی فائدہ دیتی ہے مگر مسئلہ بار بار لوٹ آتا ہے، کیونکہ مسئلہ جسم میں کم اور حالات میں زیادہ ہوتا ہے۔ طب میں اسے نفسیاتی و جسمانی اثرات کہا جاتا ہے، یعنی جب ذہن تھک جائے تو جسم بیمار ہو جاتا ہے۔
یہ بات معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ ہر مریض کمزور نہیں ہوتا، ہر بیماری لاپرواہی کا نتیجہ نہیں ہوتی اور ہر درد کا حل صرف گولی نہیں ہوتا۔ بعض اوقات علاج سمجھنے میں، سننے میں اور حالات کا بوجھ کم کرنے میں ہوتا ہے۔
جب حالات بہتر ہوتے ہیں تو جسم بھی آہستہ آہستہ خاموش ہو جاتا ہے۔ یہ صرف ایک مریضہ کی کہانی نہیں بلکہ ان سب کی کہانی ہے جو خاموشی سے حالات سہتے ہیں اور جن کا جسم درد کی زبان میں بات کرتا ہے۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹر بادشاہ وحید
ماہر امراضِ معدہ و معذیر

Address

Dr. Badshah Waheed Homoeopathic Clinic Chakdara Dir Lower KPK
Chakdara Fort
18800

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 13:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923459292841

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr BS Waheed Gastro specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr BS Waheed Gastro specialist:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category

Gastro Homoeo Clinic Chakdara

خیبر پختونخوا کا پہلاکلینک جہاں پرمعدہ اور بواسیر کے مریضوں کا علاج متبادل یعنی ہومیوپیتھک طریقے سے کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ السریٹیوں کولائٹس،آئی۔بی۔ایس،قبض اور پیٹ کے جملہ امراض کیلئے ہمارے اوقاتِ کار کے مطابق رابطہ کریں۔

رابطہ:03459292841

Whatsapp :0345 9014670