Experts in Psychology

Experts in Psychology this page about related to Psychology and motivational videos

04/12/2025

دماغ کو اس کا مقام دیجئے
یہ اسی وقت بہتر کام کرتا ہے جب نیت صاف اور ارادہ مضبوط ہو۔
اپنے ذہن کا احترام کریں، اور میری گارنٹی ہے:
آپ کو کبھی امراضِ دماغ کے ماہر کے دروازے تک آنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

مبشر نذر
ماہر امراضِ دماغ و نفسیات"**

29/11/2025

کالے علم، نفسیات اور انسانی رویوں کے درمیان چھپی طاقتور حقیقت…

26/11/2025

دماغی دباؤ اور سر درد — علامات، تشخیص، علاج اور پرہیز

ماہر امراضِ دماغ: مبشر نذر

دماغی دباؤ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں سوچ، جذبات اور اعصابی نظام مسلسل دباؤ میں رہتا ہے جس کے نتیجے میں سر درد، نیند کی کمی، چڑچڑاپن اور توجہ کی کمی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

نفسیاتی علامات:

بے چینی، گھبراہٹ

غصہ، چڑچڑاپن

کام کرنے کی صلاحیت میں کمی

نیند میں خرابی

دل کی دھڑکن تیز ہونا

منفی سوچیں

جسمانی علامات:

ماتھے یا کنپٹیوں میں سر درد

گردن اور کندھوں میں کھچاؤ

بھوک میں کمی یا زیادتی

سانس پھولنا

تھکن، کمزوری

ٹینشن ہیڈیک: ذہنی دباؤ سے کندھوں اور سر کے پٹھے سخت ہو جاتے ہیں۔

مائیگرین: آدھے سر کا شدید درد، روشنی اور آواز سے تکلیف۔

سائیکوجینک ہیڈیک: ذہنی پریشانی یا ٹراما سے پیدا ہونے والا درد۔

ایک ماہر دماغ و اعصاب درج ذیل عوامل دیکھتا ہے:

نفسیاتی معائنہ:

مریض کی ذہنی کیفیت

روزمرہ دباؤ کے ذرائع

نیند، رویّہ اور جذبات

طبی معائنہ:

بلڈ پریشر

خون کا معائنہ (Vitamin D,B12, Thyroid وغیرہ)

اگر ضرورت ہو تو

MRI Brain

CT Scan

EEG
تاکہ کسی جسمانی بیماری کو خارج کیا جا سکے۔

5) ایلوپیتھی علاج (Allopathic Treatment)

دوائیں (Doctors Usually Prescribe):

(صرف ڈاکٹر کے مشورے سے)

Stress/Anxiety:

SSRI/SNRI ادویات

ہلکی Anti-anxiety گولیاں (ضرورت کے مطابق)

ٹینشن ہیڈیک:

NSAIDs (Ibuprofen, Naproxen وغیرہ)

Muscle relaxants

مائیگرین:

Triptans

Propranolol یا Flunarizine جیسی پروفیلیکٹک دوائیں

نیند کی خرابی:

Melatonin

ہلکی نیند کی دوا (ڈاکٹر کی ہدایت سے)

---

6) غیر دوائی علاج (Therapies & Lifestyle)

Cognitive Behaviour Therapy (CBT)

ریلیکسنگ بریتھنگ ایکسرسائز

روزانہ 30 منٹ واک

موبائل/سکرین ٹائم کم

7–8 گھنٹے نیند

پانی کا زیادہ استعمال

زیادہ چائے، کافی، انرجی ڈرنکس

سکرین ٹائم خصوصاً رات سونے سے پہلے

شور، تیز روشنی

دیر سے سونا

ضرورت سے زیادہ سوچنا یا جذبات دبانا

مائیگرین والے افراد: چاکلیٹ، کولڈ ڈرنکس، MSG فاسٹ فوڈ، چیز، اچار

8) فوری آرام کے طریقے

سر اور گردن کی مساج

نیم گرم پانی سے غسل

گہرے سانس لینے کی ورزش

آنکھوں پر ٹھنڈا کپڑا

15 منٹ لیٹ کر آرام

20/11/2025

نفسیاتی خوف اور ڈراؤنے خواب — ایک سنجیدہ مگر قابلِ علاج مسئلہ
تحریر: ڈاکٹر مبشر نذر، ماہرِ امراضِ دماغ

نفسیاتی خوف (Anxiety Fear) اور ڈراؤنے خواب (Nightmares) آج کے دور میں عام ہوتے جا رہے ہیں۔ تیز رفتار زندگی، ذہنی دباؤ، سوشل میڈیا کے اثرات اور غیر یقینی حالات نے ہر عمر کے افراد کو متاثر کیا ہے۔ زیادہ تر لوگ اس مسئلے کا احساس تو رکھتے ہیں مگر اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے، جبکہ بروقت توجہ زندگی کو بہت بہتر بنا سکتی ہے۔

شروع کیسے ہوتا ہے؟ (شروعات)

نفسیاتی خوف عموماً آہستہ آہستہ بڑھتا ہے۔ پہلے معمولی بےچینی، پھر غیرضروری فکر، اور آخرکار دن بھر ذہنی دباؤ۔
اسی طرح ڈراؤنے خواب بھی ابتدا میں کبھی کبھار آتے ہیں مگر وقت کے ساتھ روزانہ کی نیند متاثر کرنے لگتے ہیں۔

نفسیاتی خوف اور ڈراؤنے خواب کے پیچھے متعدد عوامل ہوتے ہیں:
ذہنی دباؤ اور ٹینشن

ذاتی، خاندانی یا معاشی پریشانیاں سب سے بڑی وجہ۔
سوشل میڈیا اور خبریں

حادثات، جرائم اور منفی خبریں ذہن کو خوفزدہ کرتی ہیں۔

بچپن کے صدمات یا حادثات

بچپن کی سخت یادیں اکثر خواب کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔
نیند کا ناقص نظام

بہت دیر تک موبائل استعمال، رات دیر تک جاگنا، بےترتیب سونا۔

ادویات یا نشہ آور چیزیں

غلط دوائیں، کیفین، گٹکا، سگریٹ وغیرہ بھی خوابوں کو متاثر کرتے ہیں۔

علامات (Symptoms)

دل کی دھڑکن تیز ہونا

ہر وقت بےچینی اور گھبراہٹ

رات کو اچانک جاگ جانا

نیند کا نہ آنا یا بار بار ٹوٹنا

پسینہ آنا، ہاتھ ٹھنڈے پڑ جانا

ذہن میں وہم، اندیشے اور منفی خیالات بڑھ جانا

دن بھر تھکاوٹ اور چڑچڑاپن

ڈراؤنے خواب کیوں آتے ہیں؟

خواب دماغ کا علاج ہیں۔ دماغ سارا دن جمع ہونے والے خوف، دباؤ یا صدمات کو رات کو پروسیس کرتا ہے۔ اگر ذہن پر بوجھ زیادہ ہو تو خواب ڈراؤنی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

علاج اور کونسلنگ (Treatment & Counselling)

گفتگو سے علاج (Talk Therapy)

ماہرِ نفسیات سے باقاعدہ سیشن سب سے موثر طریقہ ہے۔ بات کرنے سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور خوف کی جڑ تک پہنچا جا سکتا ہے۔

2. Cognitive Behaviour Therapy (CBT)

غلط سوچ اور منفی خیال بدلتا ہے۔
مریض کو سکھایا جاتا ہے کہ کون سا خیال حقیقت ہے اور کونسا صرف وہم۔
سانس کی مشقیں (Breathing Exercises)

سیکنڈ سانس لیں

سیکنڈ روکیں

سیکنڈ خارج کریں
یہ عمل دن میں 5 سے 10 بار بےچینی کم کرتا ہے۔

نیند کا نظام بہتر کریں

سونے سے 1 گھنٹہ پہلے موبائل بند

رات 10 سے 11 بجے کے درمیان سونا

کمرے میں اندھیرا اور خاموشی

چائے، کافی، کولڈ ڈرنکس رات کے وقت بالکل نہ لیں
مثبت سرگرمیاں

واک، ورزش، تلاوتِ قرآن، درود پاک، ہلکی میوزک، اور کتاب پڑھنا ذہن پر بہترین اثر ڈالتے ہیں۔

ہر وقت نیگٹیو خبریں دیکھنا

ڈرانے فلمیں یا تھرلر ڈرامے

رات کو بھاری کھانا

تنہائی میں منفی سوچوں کا مسلسل پیچھا کرنا

غیر ضروری موبائل استعمال

خود تشخیصی دوائیں کھانا

اگر خوف روزمرہ زندگی متاثر کرنے لگے

خواب بار بار ایک جیسے آئیں

نیند مسلسل خراب ہو

دل کی دھڑکن اور گھبراہٹ بہت زیادہ ہو جائے

ذہنی سکون ختم ہو جائے

نفسیاتی خوف اور ڈراؤنے خواب کسی کمزوری کی نشانی نہیں، یہ ایک طبی مسئلہ ہے۔ بروقت کونسلنگ، مثبت سوچ، بہتر نیند اور سپورٹ سسٹم انسان کو دوبارہ معمول کی زندگی دے سکتے ہیں۔

اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز کو یہ مسئلہ درپیش ہے تو گھبرائیں نہیں، بات کریں، مدد لیں، اور ذہنی صحت کو اہمیت دیں — کیونکہ
صحت مند دماغ ہی صحت مند زندگی ہے۔

15/11/2025

خواب میں رونا: ایک نفسیاتی جائزہ

ماہرامراض دماغ مبشر نذر

خواب ہماری ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کا آئینہ ہوتے ہیں۔ خواب میں رونا عام طور پر جذباتی دباؤ، اندرونی بے چینی یا غیر حل شدہ مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں، بلکہ انسان کی نفسیاتی صحت کا ایک فطری اظہار ہے۔

خواب میں رونے کی وجوہات

1. جذباتی دباؤ: روزمرہ کی زندگی کے دباؤ، کام کی زیادتی، یا تعلقات میں مشکلات خوابوں میں رونے کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔

2. اداسی یا ماضی کے واقعات: پرانے دکھ، شکست یا کسی عزیز کی یاد میں بھی خواب میں آنسو آ سکتے ہیں۔

3. اندرونی اضطراب: اگر آپ کی زندگی میں غیر یقینی صورتحال یا خوف زیادہ ہو، تو یہ خواب میں رونے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

4. ذہنی تھکن: جسمانی یا ذہنی تھکن کے باعث بھی دماغ دن کے تجربات کو خوابوں میں پروسیس کرتا ہے، جس کا اظہار رونے کے ذریعے ہوتا ہے۔

نفسیاتی اہمیت

خواب میں رونا ایک مثبت علامت بھی ہو سکتا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ انسان اپنے جذبات کو دبانے کی بجائے ان کا سامنا کر رہا ہے۔ بعض اوقات خواب میں رونا ذہنی سکون کی پہلی نشانی بھی ہے، کیونکہ یہ ذہن کو دباؤ سے نجات دلانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

حل اور مشورے

جذبات کا اظہار: دن کے دوران اپنے جذبات کو چھپانے کی بجائے کسی دوست یا فیملی کے ساتھ شئیر کریں۔

ریلیکسیشن تکنیکیں: مراقبہ، گہری سانسیں، اور نرم موسیقی ذہنی دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

پروفیشنل مدد: اگر خواب میں رونا بار بار اور شدید ہو، تو ماہر نفسیات سے رجوع کرنا مفید ہو سکتا ہے۔

ذاتی روزنامچہ: دن کے اختتام پر اپنے جذبات اور خیالات لکھنا دماغ کو منظم کرنے اور سکون پہنچانے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔

نتیجہ

خواب میں رونا نفسیاتی دباؤ کی علامت ہے، لیکن یہ ہمیشہ منفی نہیں۔ یہ انسان کی جذباتی صحت کے لیے ایک فطری اور ضروری عمل ہے، جو ہمیں اندرونی مسائل سے آگاہ کرتا ہے اور ذہنی سکون کی راہ ہموار کرتا ہے۔

11/11/2025

بے جان ٹانگیں: نفسیاتی مسئلہ، علاج اور پرہیز
ماہر امراض دماغ مبشر نذر

بے جان یا سن ہو گئی ٹانگیں ایک عام مگر نظرانداز کی جانے والی شکایت ہے، جس کا تعلق نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی عوامل سے بھی ہو سکتا ہے۔ اکثر لوگ اسے صرف تھکن یا نیند کی کمی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جبکہ بعض اوقات یہ کسی گہری ذہنی یا نفسیاتی حالت کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔

نفسیاتی وجوہات

ذہنی دباؤ اور انزائٹی: شدید ذہنی دباؤ، فکر یا انزائٹی کے باعث اعصابی نظام پر اثر پڑتا ہے، جس سے ٹانگوں میں بے حسی، سنسناہٹ یا کمزوری محسوس ہو سکتی ہے۔

ڈپریشن: ڈپریشن کے دوران جسم میں توانائی کی کمی اور اعصاب پر دباؤ بڑھتا ہے، جس سے ٹانگیں اکثر “بے جان” محسوس ہوتی ہیں۔

پانکچر یا خوف: کچھ لوگ کسی حادثے یا چوٹ کے خوف کی وجہ سے جسم کے مخصوص حصوں کو حرکت دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں، جو نفسیاتی بے حسی کا سبب بن سکتی ہے۔

جسمانی عوامل کا نفسیاتی اثر

اگرچہ ٹانگوں کی بے حسی بعض اوقات گردن یا کمر کی ڈسک، وٹامن کی کمی یا دوران خون کی خرابی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے، لیکن نفسیاتی دباؤ انہیں مزید بڑھا دیتا ہے اور دیرپا کر سکتا ہے۔

علاج نفسیاتی علاج (Psychotherapy):

ماہر نفسیات کے ساتھ مشاورت اور تھراپی سے دباؤ اور انزائٹی کم کی جا سکتی ہے۔

CBT (Cognitive Behavioral Therapy) جیسے طریقے بے جان ٹانگوں کی احساس کو کم کرنے میں مؤثر ہیں۔

ریلکسشن تکنیکیں:

یوگا، مراقبہ، گہری سانس کی مشقیں، اور ہلکی ورزش اعصابی دباؤ کم کرتی ہیں اور خون کی روانی بہتر کرتی ہیں۔

متوازن غذا:

وٹامن B12، آئرن اور میگنیشیم سے بھرپور غذائیں اعصاب کو مضبوط کرتی ہیں۔

کیفین یا کولڈ ڈرنکس کی زیادتی سے پرہیز کریں، کیونکہ یہ اعصابی تناؤ بڑھا سکتی ہیں۔
ادویات:

صرف ڈاکٹر کی ہدایت پر اینگزائٹی یا ڈپریشن کے لئے مناسب ادویات استعمال کریں۔

زیادہ دیر بیٹھنے یا کھڑے رہنے سے پرہیز کریں۔

ذہنی دباؤ بڑھانے والے ماحول اور غیر ضروری فکر سے بچیں۔

جسمانی چوٹ یا سخت ورزش سے گریز کریں۔

نیند کی کمی کو معمول بننے نہ دیں، کیونکہ یہ اعصابی کمزوری بڑھا سکتی ہے

بے جان ٹانگیں اکثر جسمانی مسئلہ نظر آتی ہیں، لیکن نفسیاتی دباؤ انہیں بڑھا دیتا ہے۔ بروقت تشخیص، نفسیاتی مشاورت، ریلیکسیشن تکنیک اور مناسب پرہیز سے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یاد رکھیں، ذہنی سکون اور متوازن طرزِ زندگی ٹانگوں کی صحت کے لئے بھی لازمی ہے۔

10/11/2025

🧠 مسلسل سردرد – ایک جسمانی نہیں بلکہ نفسیاتی چیخ

تحریر: ماہرِ امراض دماغ مبشر نذر

ہم میں سے اکثر لوگ جب سر میں مسلسل درد محسوس کرتے ہیں تو فوراً درد کی گولی کھا لیتے ہیں، ٹھنڈی جگہ پر لیٹ جاتے ہیں یا کسی نیورولوجسٹ کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن بہت کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ یہ درد شاید دماغ یا اعصاب کا نہیں، جذبات اور ذہنی دباؤ کا احتجاج بھی ہو سکتا ہے۔

🩺 جسمانی نہیں، نفسیاتی اشارہ

نفسیاتی ماہرین کے مطابق اگر سردرد روزانہ یا بار بار ہو اور کوئی واضح جسمانی وجہ (بلڈ پریشر، آنکھوں کا نمبر، یا مائیگرین وغیرہ) نہ ملے تو اکثر یہ نفسیاتی دباؤ (Psychological Stress) کی علامت ہوتی ہے۔
ایسے مریضوں میں دماغ کے اعصاب مسلسل تناؤ میں رہتے ہیں، خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور نتیجے میں پیشانی، سر کے پچھلے حصے یا گردن میں مستقل بوجھ سا محسوس ہوتا ہے۔

چھپی ہوئی وجوہات

مسلسل سردرد کی چند عام نفسیاتی وجوہات درج ذیل ہیں:

فکری دباؤ: مسلسل سوچنا، فیصلوں کی ذمہ داری یا ناکامی کا خوف۔

احساسِ جرم یا پشیمانی: ماضی کی غلطیوں پر خود کو سزا دینا۔

جذباتی تھکن: طلاق، رشتوں کے ٹوٹنے یا روزمرہ کے جھگڑوں سے ذہن کا بوجھ۔

کمال پسندی (Perfectionism): ہر کام بہترین کرنے کی ضد، جو دماغ پر مسلسل دباؤ ڈالتی ہے۔

دبے ہوئے جذبات: غصہ، دکھ یا خوف جنہیں ظاہر نہ کیا جائے، وہ جسم کے کسی حصے میں درد کی صورت ظاہر ہوتے ہیں، اکثر سر میں۔

علاج صرف گولی نہیں، سوچ کی تبدیلی ہے

نفسیاتی سردرد کا علاج صرف دوائی سے مکمل نہیں ہوتا۔ اصل علاج ہے:

آرام اور نیند کا نظم: نیند کی کمی سب سے بڑا دشمن ہے۔

احساسات کا اظہار: رونا، بات کرنا یا لکھنا — دباؤ کم کرتا ہے۔

گہرے سانس اور مراقبہ: دماغی اکسیجن بڑھاتا اور تناؤ گھٹاتا ہے۔

حد مقرر کرنا: ہر کام خود کرنے کی ضد چھوڑ دیں، اپنے آپ کو وقت دیں۔

ماہرِ نفسیات سے گفتگو: کاؤنسلنگ یا سائیکو تھراپی سے ذہن کے دبے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔

مسلسل سردرد اکثر جسم کا نہیں، روح کا الارم ہوتا ہے جو کہتا ہے:

> “تم بہت زیادہ سوچ رہے ہو، اب تھوڑا جینا بھی سیکھو۔”

اگر آپ بھی ہر روز گولی کے بغیر نہیں رہ سکتے تو خود سے سوال کیجیے — کیا میں اپنے جذبات کو دبا کر ذہن کو بوجھ بنا رہا ہوں؟
یاد رکھیے، دماغ کو سکون دوا نہیں دیتی، احساسِ امن دیتا ہے۔

09/11/2025

بند گوبھی — غذائیت یا خاموش خطرہ؟

تحریر: ماہرا مراض دماغ مبشر نذر

بند گوبھی (کرم کلہ) ایک عام مگر غلط فہمی کا شکار سبزی ہے۔ عربی میں بقلتہ الانصار اور فارسی میں کرنب کہلاتی ہے۔ ہمارے ہوٹلوں میں اب سلاد میں پیاز کے بجائے بند گوبھی زیادہ استعمال ہوتی ہے، کیونکہ یہ سستی اور باآسانی دستیاب ہے، جبکہ قیمت وہی پیاز والی وصول کی جاتی ہے۔

طبی نکتۂ نظر سے بند گوبھی کا مزاج گرم تر (اعصابی و عضلاتی) ہے۔ بظاہر ہلکی غذا دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں یہ نفاخ (گیس پیدا کرنے والی)، قابض، اور غلظتِ خون بڑھانے والی سبزی ہے۔ اس کا مسلسل استعمال خون کو گاڑھا کر دیتا ہے، جس سے دل پر دباؤ بڑھتا ہے اور ہارٹ اٹیک کے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

نفسیاتی طور پر بند گوبھی ان افراد میں کابوس (sleep paralysis) جیسی کیفیت بھی پیدا کر سکتی ہے — ایسی حالت جس میں انسان خواب میں دباؤ، گھٹن یا بوجھ محسوس کرتا ہے اور حرکت نہیں کر پاتا۔ اکثر لوگ اسے سایہ یا جناتی اثر سمجھتے ہیں، جبکہ دراصل یہ بدہضمی اور نظامِ ہضم کی خرابی کا نتیجہ ہوتی ہے۔

لہٰذا دل، معدہ یا اعصاب کے مریضوں کو بند گوبھی کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔
بہتر متبادل کے طور پر سلاد میں چقندر، مولی، گاجر، کھیرے اور پیاز کو لیموں کے رس کے ساتھ استعمال کیا جائے۔ یہ اجزاء اگرچہ دیر ہضم ہیں لیکن کھانے کو ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں، فیٹی لیور کے لیے مفید ہیں اور جسم کی فاضل چربی کم کرتے ہیں۔

08/11/2025

شور کی وجہ سے نفسیاتی مسائل اور دیسی علاج**

ماہر امراض دماغ مبشر نذر

مسلسل شور انسان کے دماغ پر برا اثر ڈالتا ہے۔ شور سے دماغی خلیے تھک جاتے ہیں، توجہ اور یادداشت متاثر ہوتی ہے۔ زیادہ آوازیں سننے سے چڑچڑاپن، غصہ، نیند کی کمی اور ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ دل کی دھڑکن تیز، بلڈ پریشر اور گھبراہٹ کے دورے شروع ہو سکتے ہیں۔ بچوں میں پڑھائی میں کمزوری اور بڑوں میں ڈپریشن یا وہم کے مسائل بڑھنے لگتے ہیں۔

**دیسی علاج:**

. رات سوتے وقت کانوں پر کپاس یا نرم روئی رکھیں۔

دن میں کم از کم آدھا گھنٹہ خاموش ماحول میں بیٹھیں۔
. تلسی کے پتے یا پودینے کی چائے دماغ کو سکون دیتی ہے۔
بادام، اخروٹ اور شہد کا روزانہ استعمال ذہنی طاقت بڑھاتا ہے۔
سوتے وقت گلاب کا عرق سونگھنا یا ماتھے پر لگانا نیند بہتر کرتا ہے۔
. شور والے مقامات سے دور فطری ماحول میں کچھ وقت گزارنا بہترین علاج ہے

*اومپر زول  معدے کے کیپسول — وقتی سکون، دائمی نقصان*تحریر: ماہر امراض دماغ مبشر نذرمیرے عزیز ہم وطنو، دوستو اور بزرگو!ہم...
16/10/2025

*اومپر زول معدے کے کیپسول — وقتی سکون، دائمی نقصان*

تحریر: ماہر امراض دماغ مبشر نذر

میرے عزیز ہم وطنو، دوستو اور بزرگو!
ہم میں سے اکثر لوگ ایک ایسی دوائی کے مستقل استعمال کے عادی بن چکے ہیں جو وقتی آرام تو دیتی ہے مگر اندر ہی اندر جسم اور دماغ دونوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ جی ہاں! میں بات کر رہا ہوں اومپر زول (Omeprazole) کی، جو عام طور پر معدے کی تیزابیت یا جلن کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

شروع میں یہ دوا واقعی سکون دیتی ہے۔ سینے کی جلن ختم، کھانا ہضم، اور نیند بہتر لگتی ہے — مگر آہستہ آہستہ یہی سکون زہر بننے لگتا ہے۔
تحقیقات بتاتی ہیں کہ اومپر زول جیسے "ایسڈ ریڈوسنگ" میڈیسن کا طویل عرصے تک استعمال دماغی خلیات پر منفی اثر ڈالتا ہے۔ بزرگ افراد میں یہ مسئلہ زیادہ شدت سے سامنے آتا ہے — چیزیں بھول جانا، بات یاد نہ رہنا، کمزوری یا ذہنی دھندلاہٹ (Brain Fog) جیسے اثرات اسی کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔

دوسری جانب، یہ دوا معدے کے اصل مسئلے کو ختم نہیں کرتی بلکہ عارضی طور پر دبا دیتی ہے۔
مریض سمجھتا ہے کہ وہ ٹھیک ہو گیا، مگر اندرونی طور پر معدے کا تیزاب کم ہونے سے وٹامن B12، کیلشیم اور میگنیشیم کی کمی ہونے لگتی ہے — اور یہی کمی دماغی کمزوری، ہڈیوں کی کمزوری اور جسمانی تھکن کا باعث بنتی ہے۔

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اومپر زول علاج نہیں، ایک وقتی سہارا ہے۔
اگر معدے کا مسئلہ بار بار ہو رہا ہے تو بہتر ہے کہ ہم اپنی غذائی عادات، طرزِ زندگی اور کھانے کے اوقات درست کریں، بجائے اس کے کہ روز صبح ناشتے سے پہلے ایک “چھوٹی سی کیپسول” پر اپنی صحت کا انحصار رکھیں۔

یاد رکھیں —
اصل علاج دوا میں نہیں، احتیاط اور توازن میں ہے۔
اومپر زول کو عادت نہ بنائیں، بلکہ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اس کا استعمال بند کریں۔
کیونکہ وقتی سکون کے بدلے اگر یادداشت اور دماغی صلاحیت چلی جائے — تو یہ سب سے بڑا نقصان ہے۔
03345673528.

30/08/2025

سیلاب کے بعد پیدا ہونے والے وبائی امراض اور ان کا مؤثر علاج

سیلاب جب آتا ہے تو سب سے پہلا اور بڑا نقصان فصلوں کو پہنچتا ہے۔ اگرچہ بارش کے پانی سے مٹی دھل جائے تو کھڑی فصلیں بچ جاتی ہیں، مگر دوسری بڑی تباہی مال مویشیوں اور انسانی زندگی کو پہنچتی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت کی بروقت کوششوں اور عوام کے تعاون سے بڑے نقصانات میں کمی آتی ہے، جیسا کہ دریائی بند کو کاٹ کر پانی کو پھیلایا گیا۔

اجتماعی تعاون کی ضرورت

سیلاب کے بعد سب سے اہم کام پانی کی نکاسی ہے۔ جہاں پانی رُک جائے وہاں تعفن اور وبائی امراض جنم لیتے ہیں۔ اس موقع پر یہ نہ سوچیں کہ صرف حکومت آئے گی اور سب کچھ سنبھال لے گی، بلکہ اجتماعی طور پر محلے، گاؤں یا برادری کے ساتھ مل کر پانی کی نکاسی کریں۔ یہ اجتماعی کاوش ہی اصل طاقت ہے جو بڑی بڑی مشینری سے بڑھ کر فائدہ دیتی ہے۔

سیلاب کے بعد عام بیماریاں

ملیریا اور ڈینگی (مچھر کی افزائش سے)

ہیضہ (پانی اور خوراک کے آلودہ ہونے سے)

گلے کے امراض، نزلہ و زکام اور بخار
ان سب میں سب سے خطرناک مرض ہیضہ ہے کیونکہ یہ جسم میں پانی اور نمکیات کی شدید کمی کر دیتا ہے۔

ہیضہ کی علامات

مسلسل اسہال اور قے

جسم میں پانی اور توانائی کی کمی

پٹھوں میں اینٹھن یا کڑل

کمزوری اور بے ہوشی کی کیفیت
یاد رکھیں: اگر ہیضہ کے مریض کو بخار ہوجائے تو یہ اچھی علامت ہے کہ جسم کا مدافعتی نظام متحرک ہے، اس وقت بخار کو کم کرنے کی دوا نہیں دینی چاہیے۔

فوری اور گھریلو علاج

1. امرت دھارا (اکسیر دوا)

یہ ہر گھر میں ہونا ضروری ہے۔ نزلہ، زکام، گلے کے امراض اور ہیضہ سب میں مؤثر ہے۔ مارکیٹ میں یہ قلزم کے نام سے بھی دستیاب ہے۔
خوراک: 3–4 قطرے چینی یا پانی کے ساتھ۔

2. نمک مولی

ہیضہ کی بہترین دوا:

اجوائن دیسی (پاؤ بھر)

تیزاب گندھک (حسب ضرورت)

کھانے کا نمک (1 کلو)
خوراک: آدھی چمچ دن میں 3–4 بار قہوہ یا پانی کے ساتھ۔

3. ہیضہ کی اکسیر سفوف

سرخ مرچ 50 گرام

تج 50 گرام

لونگ 30 گرام

دارچینی 30 گرام

ہینگ 30 گرام

اذراقی مدبر 20 گرام

خردل 20 گرام

لہسن 10 گرام
یہ دوا ہیضہ کے مریض کو فوری آرام دیتی ہے اور پانی کی کمی دور کرتی ہے۔
خوراک: ایک کیپسول یا آدھی چمچ سفوف ہر 15 منٹ بعد (ایمرجنسی میں)۔

ملیریا کا علاج

ایک جامع نسخہ:

معز کرنجواہ

طباشیر

کونین

زہرمہرہ

کوڑ

ست گلو

کالی مرچ

پھٹکڑی بریاں

کشتہ سنگ جراحت
برابر وزن میں لے کر حب نخودی (چھوٹی گولیاں) بنالیں۔
خوراک: 1–2 گولیاں دن میں 3 بار پانی یا عرق گاؤزبان کے ساتھ۔

گلے کے امراض

حب بندق نہایت مؤثر دوا ہے جو گلے کی خراش اور آواز بیٹھنے پر فوری اثر کرتی ہے۔

احتیاطی تدابیر

مچھروں سے بچنے کے لیے سفیدے کے پتوں کی دھونی بہترین گھریلو طریقہ ہے۔

اجتماعی تعاون سے پانی کی نکاسی، صفائی اور حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔

یاد رکھیں: سیلاب کے بعد بیماریوں کی زیادہ تر نوعیت عضلاتی اور اعصابی ہوتی ہے، اس لیے علاج بھی اسی اصول کے مطابق ہونا چاہیے۔

✍️ مبشر نذر
ماہرِ امراضِ دماغ و نفسیات – 03345673528

01/08/2025

پروسٹیٹ کی بیماری: جسمانی و نفسیاتی پہلو

پروسٹیٹ کیا ہے؟

پروسٹیٹ ایک چھوٹا گلینڈ ہے جو صرف مردوں میں ہوتا ہے۔ یہ مثانے کے نیچے اور پیشاب کی نالی کے گرد واقع ہوتا ہے۔ اس کا کام منی میں شامل سیال پیدا کرنا ہے۔

پروسٹیٹ کی عام بیماریاں:

1. BPH (Benign Prostatic Hyperplasia)
→ پروسٹیٹ کا غیرسرطانی بڑھ جانا (عموماً عمر کے ساتھ)

2. Prostatitis
→ سوزش یا انفیکشن

3. Prostate Cancer
→ پروسٹیٹ کا کینسر (عام طور پر 50 سال کے بعد خطرہ بڑھتا ہے)

عام علامات:

پیشاب میں رکاوٹ یا کمزوری

بار بار پیشاب آنا، خاص طور پر رات کو

پیشاب کرنے میں جلن یا درد

پیشاب کے بعد بھی خالی محسوس نہ ہونا

پیشاب یا منی میں خون

جنسی کمزوری یا انزال میں پریشانی

الٹراساؤنڈ میں تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

پروسٹیٹ کے سائز، ساخت اور پیشاب کی نالی پر دباؤ کو جانچنے کے لیے Transabdominal یا Transrectal Ultrasound کیا جاتا ہے۔

الٹراساؤنڈ میں دیکھا جاتا ہے:

پہلو وضاحت

سائز نارمل: 20-30 گرام / 3x3x3cm، اگر زیادہ ہو → BPH (باقی رہنے والا پیشاب) 50ml سے زیادہ → خطرناک
ساخت سوجن، fibrosis، calcification یا Mass
نالی کا دباؤ مثانے کی گردن پر دباؤ → رکاوٹ یا لیکیج

پروسٹیٹ کی بڑھی ہوئی سطح:

درجہ اندازاً وزن

ہلکا (Mild) 30-40 گرام
درمیانہ (Moderate) 40-60 گرام
شدید (Severe) 60-100 گرام +

پروسٹیٹ پر نفسیاتی اثرات:

پروسٹیٹ کی بیماریاں نہ صرف جسمانی، بلکہ نفسیاتی طور پر بھی مردوں کو متاثر کرتی ہیں:

1. ذہنی دباؤ

بار بار پیشاب کی حاجت، نیند کی خرابی → مزاج بگڑنا

2. پریشانی (Anxiety)

عوامی جگہ پر پیشاب نہ روک سکنا

ہر وقت بیت الخلا کی تلاش

3. ڈپریشن

"میں پہلے جیسا مرد نہیں رہا" جیسے خیالات

تنہائی، مایوسی اور دل شکستگی

4. جنسی کمزوری اور شرمندگی

ازدواجی تعلقات میں خلل

خود اعتمادی میں کمی

5. وسوسے (Hypochondria)

PSA بڑھنے یا سائز زیادہ ہونے پر کینسر کا بے جا خوف

بار بار ڈاکٹروں کے چکر

6. Self-esteem میں کمی

مردانگی سے متعلق احساسات مجروح ہونا

خود کو کمتر سمجھنا

مکمل تشخیص کے لیے:

الٹراساؤنڈ رپورٹ

PSA ٹیسٹ

DRE (ڈاکٹر کی انگلی سے معائنہ)

یورین فلو ٹیسٹ

MRI (اگر ضرورت ہو)

مشورہ:

پروسٹیٹ کی بیماری قابلِ علاج ہے، مگر مریض کو جسمانی کے ساتھ نفسیاتی سپورٹ بھی دینا ضروری ہے۔

مریض سے بات چیت، مشورہ، اور سماجی تعاون سے بہتری آ سکتی ہے۔

جنسی یا نفسیاتی کمزوری کو چھپانے کی بجائے کھل کر بات کریں۔

📞 رابطہ برائے رہنمائی:
مبشر نذر – ماہر امراض دماغ و نفسیات
📲 03345673528d

Address

Chakwal
48100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Experts in Psychology posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category