Experts in Psychology

Experts in Psychology this page about related to Psychology and motivational videos
بھروسا سائیکولوجیکل سپورٹ ہیلپ لائن
03345673528

23/05/2026

ماہر امراض دماغ ونفسیات ڈاکٹر مبشر نذر
کنجوس لوگ

بعض اوقات انسان کی شخصیت اُس کے خرچ کرنے کے انداز سے پہچانی جاتی ہے۔
کچھ لوگ دولت ہونے کے باوجود ہر چیز کو ناپ تول کر خریدتے ہیں۔ اگر بازار میں آم کی قیمت صبح 200 سے بڑھ کر 250 ہو جائے تو فوراً خریدنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ایسے افراد اکثر بیرونِ ملک زندگی گزارنے یا سخت محنت کے تجربات کے باعث پیسے کی قدر کو حد سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

یہ ضروری نہیں کہ ایسا شخص دل کا برا ہو، بلکہ اُس کی سوچ “نقصان سے بچنے” والی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امیر ہونے کے باوجود کسی کے گھر جاتے وقت سادہ سا تحفہ مثلاً ایک کلو سیب لے جانا بھی اُن کے نزدیک کافی سمجھا جاتا ہے۔
ایسے لوگ جذبات سے زیادہ حساب اور فائدے کی زبان سمجھتے ہیں۔ اگر اُن سے کوئی بڑا کام لینا ہو یا تعاون حاصل کرنا ہو تو فضول تعریف یا دکھاوے کے بجائے صاف، منطقی اور فائدہ مند بات کرنا زیادہ مؤثر رہتا ہے۔ انہیں اعتماد، عزت اور واضح مقصد پسند آتا ہے۔
حد سے زیادہ محتاط مزاج لوگ اکثر دولت محفوظ رکھنے میں ذہنی سکون محسوس کرتے ہیں، جبکہ خرچ کرنے میں بے چینی محسوس کرتے ہیں۔ تاہم جب یہی لوگ کسی پر اعتماد کر لیں تو طویل عرصے تک ساتھ بھی نبھاتے ہیں۔
#نفسیات

16/05/2026

ماہر امراض دماغ ونفسیات ڈاکٹر مبشر نذر
کیلشیم اعصاب اور دماغی مسایل

وٹامن D
کمی آج کے دور کا ایک عام مگر خاموش مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ جدید میڈیکل سائنس اسے ہڈیوں، پٹھوں اور مدافعتی نظام کی کمزوری سے جوڑتی ہے، جبکہ طبِ یونانی اسے جسمانی ضعف، مزاجی بگاڑ اور اعصابی کمزوری کے تناظر میں دیکھتی ہے۔ اگرچہ دونوں نظامِ علاج کے انداز مختلف ہیں، مگر کئی بنیادی باتوں میں دونوں ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔

جدید طب کے مطابق وٹامن D ایک ایسا اہم وٹامن ہے جو سورج کی روشنی سے جسم میں بنتا ہے۔ یہ کیلشیم کے جذب، ہڈیوں کی مضبوطی، پٹھوں کی کارکردگی، اعصابی نظام اور قوتِ مدافعت کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ تحقیقات کے مطابق اس وٹامن کا تعلق دماغی صحت سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ وٹامن D کی کمی بعض افراد میں ذہنی تھکن، چڑچڑاپن، بے چینی، اداسی، توجہ کی کمی، یادداشت کی کمزوری اور موڈ خراب رہنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ بعض ماہرین اسے ڈپریشن اور نیند کے مسائل سے بھی منسلک کرتے ہیں۔

اگر جسم میں اس کی مقدار کم ہو جائے تو آہستہ آہستہ جسمانی کمزوری، ہڈیوں اور پٹھوں کا درد، تھکن، سستی، ٹانگوں میں کھچاؤ اور دماغی دباؤ جیسی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق خون میں وٹامن D کا لیول تقریباً 30 ng/ml یا اس سے زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے۔ اگر لیول 20 سے 30 کے درمیان ہو تو اسے ناکافی تصور کیا جاتا ہے، جبکہ 20 ng/ml سے کم سطح واضح کمی شمار ہوتی ہے۔ اگر مقدار 10 ng/ml سے بھی نیچے چلی جائے تو اسے شدید خطرناک کمی مانا جاتا ہے، جس سے ہڈیاں نرم پڑ سکتی ہیں، بار بار فریکچر ہو سکتے ہیں اور بچوں میں رکیٹس جبکہ بڑوں میں Osteomalacia جیسی بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

وٹامن D کی کمی عموماً دھوپ سے دور رہنے، ناقص غذا، بڑھتی عمر، موٹاپے، جگر یا گردے کی بیماریوں اور مسلسل گھر یا دفتر میں رہنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ تشخیص کے لیے 25-Hydroxy Vitamin D ٹیسٹ کیا جاتا ہے، جبکہ علاج میں مناسب دھوپ، متوازن غذا اور ضرورت کے مطابق Vitamin D3 یا کیلشیم سپلیمنٹس دیے جاتے ہیں۔

دوسری جانب طبِ یونانی جسم کو صرف ایک وٹامن کی کمی سے نہیں بلکہ پورے مزاج اور قوتِ مدبرہ بدن کے تناظر میں دیکھتی ہے۔ یونانی نظریے کے مطابق جسمانی کمزوری، اعصابی ضعف، ہڈیوں کی کمزوری، ذہنی تھکن اور عضلاتی درد اکثر سوء مزاج، ضعفِ ہضم اور اعصابی کمزوری کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اگر غذا صحیح طور پر ہضم اور جذب نہ ہو تو جسم مطلوبہ طاقت حاصل نہیں کر پاتا، جس کے اثرات دماغ اور اعصاب پر بھی پڑتے ہیں۔

یونانی اطباء سرد و تر مزاج کو سستی، ذہنی بوجھ اور عضلاتی کمزوری جبکہ سرد و خشک مزاج کو جوڑوں، اعصاب اور ہڈیوں کے درد سے جوڑتے ہیں۔ اسی لیے علاج میں اصلاحِ مزاج، تقویتِ ہضم اور اعصاب و عضلات کی مضبوطی پر زور دیا جاتا ہے۔ بادام، انجیر، دودھ، مکھن، شوربے، انڈے کی زردی، مناسب دھوپ اور ہلکی ورزش کو مفید قرار دیا جاتا ہے، جبکہ بعض روایتی ادویات جیسے Majun Falasfa، Khamira Gaozaban اور Habbe Asgand بھی بعض اطباء مزاج کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔

جدید طب اور طبِ یونانی دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ اچھی غذا، مناسب دھوپ، متوازن طرزِ زندگی، اچھی نیند اور ذہنی سکون صحت کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم ہر جسم درد، تھکن یا ذہنی دباؤ صرف وٹامن D کی کمی نہیں ہوتا، کیونکہ بعض اوقات Type 2 Diabetes، خون کی کمی، تھائیرائیڈ، ڈپریشن یا جگر و گردے کی بیماریاں بھی یہی علامات پیدا کر سکتی ہیں، اس لیے درست تشخیص اور ماہر معالج سے مشورہ ضروری ہے۔
#نفسیات

14/05/2026

لوکاٹ وٹامن کا خزانہ دماغ دباو کم کرتا ہ
ماہرامراض دماغ ونفسیات ڈاکٹر مبشر نذر

لوکاٹ صرف ایک مزیدار پھل ہی نہیں بلکہ صحت کا خزانہ بھی ہے۔ یہ جسمانی طاقت کے ساتھ ذہنی سکون کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔ گرمیوں میں اس کا استعمال جسم کو تازگی، ہلکی توانائی اور فرحت دیتا ہے۔

100 گرام لوکاٹ میں تقریباً 47 کیلوریز، فائبر، پوٹاشیم، وٹامن اے، وٹامن سی اور اہم اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔ یہ غذائی اجزاء نظامِ ہاضمہ بہتر بنانے، قوتِ مدافعت مضبوط کرنے اور جلد و آنکھوں کی صحت کے لیے مددگار سمجھے جاتے ہیں۔

نفسیاتی طور پر بھی لوکاٹ فائدہ مند مانا جاتا ہے کیونکہ اس میں موجود وٹامنز اور منرلز جسمانی تھکن اور ذہنی دباؤ کم کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔ ہلکی مٹھاس اور قدرتی غذائیت دماغ کو سکون اور موڈ کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ پوٹاشیم اور اینٹی آکسیڈنٹس اعصابی نظام کی بہتر کارکردگی میں کردار ادا کرتے ہیں، جس سے چڑچڑاپن اور کمزوری میں کمی محسوس ہو سکتی ہے۔نظامِ ہاضمہ بہتر کرتا ہے جسم کو فوری توانائی دیتاہےجلد اور آنکھوں کے لیے مفید ہےقوتِ مدافعت مضبوط کرنے میں مددگارذہنی دباؤ اور تھکن کم کرنے میں معاون
اعصابی نظام کو بہتر سپورٹ فراہم کرتا ہے
گرمی میں جسم کو تازگی دیتا ہے

#نفسیات

13/05/2026

جسم اور روح۔۔۔۔۔۔۔
ماہر امراض دماغ ونفسیات ڈاکٹر مبشر نذر

جسم اور روح ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ انسان کی دو مختلف حصے
ہیں۔ جسم انسان کو دنیا میں حرکت، طاقت اور احساس دیتا ہے جبکہ روح انسان کے اندر شعور، سکون، اخلاق اور باطن کی کیفیت سے تعلق رکھتی ہے۔

انسان کی اصل خوبصورتی تب بنتی ہے جب جسم اور روح دونوں میں توازن ہو۔ اگر انسان صرف جسمانی خواہشات میں کھو جائے تو اندرونی سکون متاثر ہو جاتا ہے، اور اگر جسم کی ضروریات کو مکمل نظر انداز کرے تو صحت کمزور ہونے لگتی ہے۔

اسی لیے کامیاب انسان وہ ہے جو جسم کو بھی حق دے اور روح کو بھی سکون دے۔ متوازن زندگی ہی اصل اعتدال ہے۔

اوورتھنکنگ .ہر وقت سوچتے رہنا ذہانت کی علامت نہیں، بعض اوقات یہ تھکے ہوئے دماغ کی خاموش پکار بھی ہوتی ہےماہر امراض دماغ ...
08/05/2026

اوورتھنکنگ .ہر وقت سوچتے رہنا ذہانت کی علامت نہیں، بعض اوقات یہ تھکے ہوئے دماغ کی خاموش پکار بھی ہوتی ہے

ماہر امراض دماغ ونفسیات ڈاکٹر مبشر نذر۔03345673528

کچھ لوگ بظاہر بالکل ٹھیک ہوتے ہیں، مگر ان کا دماغ کبھی مکمل آرام میں نہیں جاتا۔ ایک خیال ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔ یہی کیفیت آہستہ آہستہ “اوورتھنکنگ کی جانب بڑھتی ہءے

اوورتھنکنگ صرف زیادہ سوچنے کا نام نہیں بلکہ یہ دماغ اور اعصابی نظام کی ایسی حالت ہے جس میں انسان ہر بات کو حد سے زیادہ محسوس، تجزیہ اور ذہن میں دہراتا رہتا ہے۔ ایسے افراد اکثر چھوٹی باتوں کو بھی بڑا خطرہ سمجھنے لگتے ہیں۔ رات کو سونے لگیں تو ذہن ماضی، مستقبل، خدشات اور سوالات میں الجھ جاتا ہے۔طبّی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس کیفیت میں دماغ کا “الرٹ سسٹم” مسلسل متحرک رہتا ہے۔ جسم بظاہر آرام میں ہوتا ہے مگر اعصاب تناؤ میں رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے بعض لوگوں کو:

سینے میں عجیب بے چینی
پٹھوں میں کھنچاؤ
تھکن کے باوجود سکون نہ ملنا
نیند کا متاثر ہونا
جلد گھبرا جانا
جیسی علامات محسوس ہوتی ہیں۔
اوورتھنکنگ کرنے والے لوگ اکثر حساس طبیعت، زیادہ ذمہ داری محسوس کرنے والے یا ہر چیز کو گہرائی سے سوچنے والے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ماضی کے دباؤ، سخت ماحول، خوف یا مسلسل ذہنی دباؤ بھی اس کیفیت کو بڑھا دیتے ہیں۔

اس مسئلے کا حل صرف “سوچنا بند کرو” نہیں ہوتا۔ اصل بہتری تب آتی ہے جب انسان اپنے اعصابی نظام کو سکون دینا سیکھے۔ مناسب نیند، متوازن زندگی، ہلکی ورزش، گہری سانس کی مشقیں اور ذہنی دباؤ کم کرنا اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
بعض صورتوں میں ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر کی رہنمائی بھی ضروری ہوتی ہے، کیونکہ مسلسل اوورتھنکنگ انسان کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی صحت پر اثر ڈال سکتی ہے۔
#نفسیات

05/05/2026

فلیکسوٹین ٹیبلٹ نفسیاتی پہلو کے ساتھ ایک نظر
Flexotine Tablet
ماہر امراض دماغ ونفسیات ڈاکٹر مبشر نذر۔۔

ا جسم کا درد صرف جسمانی نہیں ہوتا، بلکہ ذہنی دباؤ، بے چینی اور مسلسل ٹینشن بھی پٹھوں میں کھنچاؤ پیدا کر دیتی ہے۔ ایسے میں Flexotine Tablet نہ صرف جسمانی سکون دیتی ہے بلکہ بالواسطہ طور پر ذہنی دباؤ کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

یہ دوا پٹھوں کو ریلیکس کر کے دماغ کو یہ پیغام دیتی ہے کہ خطرہ یا تناؤ کم ہو گیا ہے، جس سے انسان کو سکون اور ہلکی نیند محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مریض اسے لینے کے بعد خود کو زیادہ پرسکون اور بہتر محسوس کرتے ہیں۔
تاہم یاد رکھیں، یہ دوا بنیادی نفسیاتی مسئلے کا علاج نہیں بلکہ صرف اس کے جسمانی اثرات کو کم کرتی ہے۔ اگر مسلسل بے چینی، ٹینشن یا ذہنی دباؤ موجود ہو تو اصل توجہ اس کی وجہ کو سمجھنے اور حل کرنے پر ہونی چاہیے۔
زیادہ استعمال غنودگی، سستی اور ذہنی دھندلاہٹ پیدا کر سکتا ہے،
#نفسیات۔

25/04/2026

دماغی کینسر اور نفسیاتی پہلو ۔۔۔۔۔۔ ایک اہم حقیقت
ماہر امراض ونفسیات ڈاکٹر مبشر نذر۔۔۔
03345673528...

دماغی کینسر، خاص طور پر Glioblastoma، صرف جسمانی بیماری نہیں بلکہ ایک ایسا عارضہ ہے جو انسان کی شخصیت، سوچ اور رویے کو بھی متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بیماری کی ابتدائی علامات کئی بار جسم سے زیادہ ذہن میں ظاہر ہوتی ہیں۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ مریض میں اچانک رویے کی تبدیلی، غیر معمولی غصہ، بے چینی، یادداشت کی کمزوری، یا فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں کمی پیدا ہونے لگتی ہے۔ گھر والے اکثر ان علامات کو “مزاج کا مسئلہ” یا “ٹینشن” سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ بعض اوقات یہ دماغ کے اندر کسی سنگین مسئلے کا ابتدائی اشارہ ہو سکتی ہیں۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ایک ماہرِ نفسیات اس بیماری کو جلد پہچان سکتا ہے؟
ہاں، لیکن شرط کے ساتھ۔
ایک قابل اور تجربہ کار Psychologist (ماہرِ نفسیات) اگر گہری نظر، علم اور مشاہدے کی صلاحیت رکھتا ہو تو وہ مریض کے رویے، گفتگو اور ذہنی کیفیت میں آنے والی غیر معمولی تبدیلیوں کو پہچان سکتا ہے۔ وہ یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ مسئلہ صرف نفسیاتی نہیں بلکہ دماغی (Neurological) بھی ہو سکتا ہے، اور بروقت مریض کو نیورولوجسٹ یا مزید ٹیسٹ (جیسے MRI) کی طرف ریفر کر سکتا ہے۔

لیکن یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ہر ماہرِ نفسیات یہ صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس کے لیے ضروری ہے:
جدید علم کلینیکل تجربہ مریض کی باریک بینی سے جانچ
اگر یہ چیزیں موجود نہ ہوں تو ابتدائی علامات نظر انداز ہو سکتی ہیں، اور بیماری تشخیص سے پہلے ہی خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔
اصل مسئلہ ہمارے معاشرے میں آگاہی کی کمی ہے۔ ہم جسمانی بیماری کو سنجیدگی سے لیتے ہیں، لیکن ذہنی یا رویے کی تبدیلیوں کو اکثر اہمیت نہیں دیتے۔ حالانکہ دماغی کینسر جیسے امراض کئی بار خاموشی سے شروع ہوتے ہیں اور اپنی موجودگی کا اظہار رویے کے ذریعے کرتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ: “ہر عجیب رویہ صرف نفسیاتی نہیں ہوتا، بعض اوقات وہ دماغ کی ایک خاموش چیخ بھی ہو سکتا ہے۔”۔

23/04/2026

پرفارمنس اینگزائٹی (Performance Anxiety)
ماہر امراض دماغ ونفسیات ڈاکٹر مبشر نذر

پرفارمنس اینگزائٹی ایک ایسی ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان کسی بھی قریبی یا اہم لمحے سے پہلے حد سے زیادہ سوچ، گھبراہٹ اور دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت میں ذہن بار بار یہی سوچتا رہتا ہے کہ “میں ٹھیک پرفارم کر پاؤں گا یا نہیں”، اور یہی سوچ خود اعتمادی کو کمزور کر دیتی ہے۔

اس مسئلے کی عام علامات میں دل کی دھڑکن تیز ہونا، بےچینی، پسینہ آنا، توجہ کی کمی، اور جلدی گھبراہٹ شامل ہیں۔ بعض اوقات انسان نارمل حالات میں بالکل ٹھیک ہوتا ہے، لیکن جیسے ہی کوئی اہم یا قریبی صورتحال آتی ہے، ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے اور کنٹرول کم محسوس ہوتا ہے۔

پرفارمنس اینگزائٹی کی بڑی وجہ منفی سوچ، ماضی کا کوئی برا تجربہ، یا خود پر غیر ضروری دباؤ ڈالنا ہوتا ہے۔ جتنا انسان اس کے بارے میں زیادہ سوچتا ہے، اتنا ہی یہ مسئلہ مضبوط ہوتا جاتا ہے۔

خود پر دباؤ کم کیا جائےاور
مثبت سوچ اپنائی جائے اس دماغ میں تبدیلی شروع ہوجاتا ہے
ذہنی سکون کے لیے سانس کی سادہ مشقیں کی جائیں
اور اگر مسئلہ برقرار رہے تو ماہرِ نفسیات سے رہنمائی لی جائے
یاد رکھیں، یہ کوئی مستقل بیماری نہیں بلکہ ایک قابلِ علاج ذہنی کیفیت ہے۔ درست سمجھ اور مناسب رہنمائی سے انسان دوبارہ پُرسکون اور پراعتماد زندگی گزار سکتا ہے۔

نظر سے اوجھل نہیں — نفسیات کی روشنی میں ایک حقیقتماہر امراض دماغ ونفسیات ڈاکٹر مبشر نذر۔۔آج کے دور میں جب سوشل میڈیا ہما...
18/04/2026

نظر سے اوجھل نہیں — نفسیات کی روشنی میں ایک حقیقت
ماہر امراض دماغ ونفسیات ڈاکٹر مبشر نذر۔۔

آج کے دور میں جب سوشل میڈیا ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے، ایک عجیب مگر دلچسپ نفسیاتی پہلو سامنے آتا ہے: وہ لوگ جو بظاہر ہمیں پسند نہیں کرتے، اکثر وہی ہماری زندگی پر سب سے زیادہ نظر رکھے ہوتے ہیں۔ یہ رویہ محض اتفاق نہیں بلکہ انسانی نفسیات کی ایک گہری حقیقت ہے۔
عام فہم کے مطابق، اگر کوئی شخص ہمیں ناپسند کرتا ہے تو وہ ہم سے دوری اختیار کرے گا۔ مگر حقیقت اس کے برعکس بھی ہو سکتی ہے۔ نفرت کرنے والا فرد اکثر آپ کی سرگرمیوں، کامیابیوں اور معمولات پر نظر رکھتا ہے۔ وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ آپ کیا کر رہے ہیں، کہاں کھڑے ہیں، اور زندگی میں کس مقام تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ تجسس دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ اس کے ذہن میں جگہ بنا چکے ہیں۔
مزید گہرائی میں جائیں تو یہ رویہ صرف نفرت تک محدود نہیں رہتا۔ بعض اوقات یہ ایک چھپی ہوئی تعریف (مخفی پسندیدگی) کا روپ بھی ہو سکتا ہے۔ بہت سے لوگ آپ کی صلاحیتوں اور کامیابیوں سے متاثر تو ہوتے ہیں، مگر اپنی انا یا خودداری کی وجہ سے اس کا اعتراف نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً وہ تنقید یا منفی رویے کا سہارا لیتے ہیں، مگر دل ہی دل میں آپ کو دیکھتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ حسد کا عنصر بھی نہایت اہم ہے۔ جب کوئی فرد خود کو آپ سے پیچھے محسوس کرتا ہے، تو وہ لاشعوری طور پر آپ کا موازنہ اپنی زندگی سے کرنے لگتا ہے۔ آپ کی ہر نئی کامیابی، ہر پوسٹ، ہر تصویر اس کے لیے ایک آئینہ بن جاتی ہے، جس میں وہ اپنی کمیوں کو دیکھتا ہے۔ یہی احساس اسے بار بار آپ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
یہ تمام عوامل مل کر ایک حقیقت کو واضح کرتے ہیں:
اگر لوگ آپ کو مسلسل دیکھ رہے ہیں، چاہے پسندیدگی کے ساتھ یا نفرت کے ساتھ، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ میں کوئی ایسی بات ضرور ہے جو نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔
جو لوگ آپ پر نظر رکھے ہوئے ہیں، وہ دراصل آپ کے اثر (اثراندازی) کا اعتراف کر رہے ہوتے ہیں—چاہے وہ اسے مانیں یا نہ مانیں۔

#نفسیات #زندگی #حقیقت #تحریر

17/04/2026

دماغ آپ کے احکامات کا منتظر رہتا ہے۔
اس کو سمجیں اور ڈاکٹر سے سیشن لین
ماہرامراض دماغ ونفسیات ڈاکٹر مبشر نذر

انسانی جسم ایک حیرت انگیز نظام ہے۔ دل دھڑکتا ہے، جگر کام کرتا ہے، گردے خون صاف کرتے ہیں، معدہ اور آنتیں خوراک ہضم کرتی ہیں، اور بے شمار جسمانی سینسر مسلسل ہمیں زندہ رکھنے میں مصروف رہتے ہیں — یہ سب خودکار نظام کے تحت چل رہا ہوتا ہے۔ مگر ایک چیز ایسی ہے جو خودکار نہیں: دماغ۔

دماغ وہ مرکز ہے جو آپ کے احکامات کا منتظر رہتا ہے۔ یہ وہی کرتا ہے جو آپ اسے سکھاتے ہیں، جس طرف آپ اسے لے جاتے ہیں۔ اگر آپ نے کبھی اپنے دماغ کو سمجھنے، سنبھالنے اور درست طریقے سے استعمال کرنے کی تربیت حاصل ہی نہ کی ہو، تو یہ بالکل ایسے ہے جیسے کوئی شخص گاڑی میں بیٹھ جائے مگر اسے چلانا نہ آتا ہو — نتیجہ کسی بھی لمحے خطرناک ہو سکتا ہے۔
دوستو اور بزرگو، بات کو سنجیدگی سے سمجھیں۔ اگر ہمیں یہ ہی معلوم نہ ہو کہ “طوفان” کیا ہوتا ہے، تو ہم اس سے بچاؤ کیسے کریں گے؟ جب زندگی میں مشکلات، ذہنی دباؤ، یا اندرونی بے چینی کا طوفان اٹھتا ہے، تو انسان کو سب سے پہلے اپنے دماغ کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو نقصان بہت بڑا ہو سکتا ہے — یہاں تک کہ انسان خود کو نقصان پہنچانے کی حد تک جا سکتا ہے۔
ایسے نازک وقت میں سب سے دانشمندانہ قدم یہ ہے کہ کسی ماہرِ نفسیات سے فوری رابطہ کیا جائے۔ اگر وہ آپ کے قریب موجود ہے تو جا کر سیشن لیں، اور اگر دور ہے تو آن لائن سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ کوئی کمزوری نہیں بلکہ سمجھداری اور خود کو سنبھالنے کی علامت ہے۔
آج آپ جو سیکھتے ہیں، وہ صرف آپ کی نہیں بلکہ آپ کے آنے والے خاندان کی زندگی پر بھی اثر ڈالے گا۔ اپنے آپ کو سنبھال کر، ذہنی تربیت حاصل کر کے، آپ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ ایک پُرسکون اور مضبوط مستقبل کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں
#نفسیات

Address

Chakwal
48100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Experts in Psychology posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category