CARE Hospital chakwal

CARE Hospital chakwal providing gynaecological, ultrasound,and paediatric services.

11/11/2025

Care Hospital is seeking clinical assistants for its pediatric indoor department. Walk-in interviews are scheduled from Monday to Saturday, 3 to 6 pm.

01/10/2025

نوزائیدہ بچوں کو عام طور پر 6 مہینے تک صرف ماں کا دودھ یا فارمولہ دودھ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد جب بچہ بیٹھنے لگے اور نگلنے کی صلاحیت بہتر ہو جائے تو وی نِنگ (Weaning) یعنی دودھ کے ساتھ ساتھ ٹھوس غذا دینا شروع کی جاتی ہے۔

یہاں پاکستانی بچوں کے لیے آسان اور گھریلو وی نِنگ فوڈز کی فہرست دی جا رہی ہے:

---

🥣 پہلے 6–8 مہینے میں

چاول کا دلیہ (Kheer جیسا بغیر چینی کا)

دلیہ/اوٹس نرم پکا ہوا

دال کا پانی یا پتلی دال (ہلکی اور بغیر مرچ مصالحہ کے)

آلو کا بھرتا (اُبال کر میش کیا ہوا)

کیلا میش کر کے

سیب یا ناشپاتی اُبال کر پیوری بنا لیں

---

🥗 8–10 مہینے میں

نرم سبزیوں کی پیوری (گاجر، کدو، آلو، مٹر)

انڈے کی زردی اُبلا ہوا (سفیدی بعد میں)

کھچڑی (چاول + دال) بغیر مرچ کے

سوپ (چکن یا سبزی)

نرم روٹی کا ٹکڑا دودھ یا شوربے میں بھگو کر

---

🍲 10–12 مہینے میں

چکن یا مچھلی کا نرم بھرتا (ہڈی اور کانٹے نکال کر)

دال اور چاول کی نرم کھچڑی

نرم پکے پھل کے ٹکڑے (کیلا، آم، پپیتا)

نرم چپاتی کے چھوٹے ٹکڑے سبزی یا دال کے ساتھ

دہی (بغیر نمک و چینی کے)

---

✅ احتیاطی باتیں

1. نمک، مرچ اور مصالحے نہ ڈالیں۔

2. شہد ایک سال سے پہلے نہ دیں (انفیکشن کا خطرہ ہوتا ہے)۔

3. ہر نئی غذا ایک وقت میں دیں اور 2–3 دن دیکھیں کہ الرجی تو نہیں ہو رہی۔

4. کھانے کے ساتھ ساتھ ماں کا دودھ یا فارمولا جاری رکھیں۔

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Haris Ali, Assad Zaib, Muhammad Ayaz Chaudhary, Abdul Was...
13/09/2025

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Haris Ali, Assad Zaib, Muhammad Ayaz Chaudhary, Abdul Wasey, Akash Qamar, Muhammad Waqas, Qari Ali Raza, Imran Malik

12/09/2025

سروائیکل کینسر کیا ہے؟

سروائیکل کینسر رحم کے نچلے حصے (سروکس) میں ہونے والا کینسر ہے، جو بچہ دانی کو اندام نہانی (va**na) سے جوڑتا ہے۔

بنیادی وجہ

اس کی سب سے عام وجہ ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) کا انفیکشن ہے، خاص طور پر HPV کی کچھ اقسام جیسے 16 اور 18۔

اکثر اوقات یہ وائرس خود ہی ختم ہو جاتا ہے، لیکن اگر یہ لمبے عرصے تک موجود رہے تو سروکس کے خلیوں میں خطرناک تبدیلیاں لا سکتا ہے جو وقت کے ساتھ کینسر میں بدل سکتی ہیں۔

خطرے کے عوامل

کم عمری میں شادی یا جنسی تعلقات

زیادہ جنسی پارٹنرز

سگریٹ نوشی

کمزور مدافعتی نظام (مثال: ایچ آئی وی)

باقاعدہ اسکریننگ نہ کروانا

---

بچاؤ (Prevention)

1. ویکسینیشن (ٹیکہ لگوانا)

HPV ویکسین (جیسے Gardasil یا Cervarix) کینسر پیدا کرنے والے وائرس سے حفاظت دیتی ہے۔

یہ ویکسین سب سے مؤثر 9 سے 14 سال کی عمر میں ہے، خاص طور پر لڑکیوں کے لیے۔

26 سال کی عمر تک بھی لگائی جا سکتی ہے، اور کچھ ممالک میں خطرے کی صورت میں 45 سال تک بھی تجویز کی جاتی ہے۔

ویکسین کینسر اور اس کی ابتدائی خطرناک تبدیلیوں کے امکانات کو بہت حد تک کم کر دیتی ہے۔

2. اسکریننگ

پاپ اسمئیر (Pap smear) اور HPV ٹیسٹ سروکس کے خلیوں میں ابتدائی تبدیلیوں کو پہچان سکتے ہیں۔

ہر عورت کو 21 سال کی عمر کے بعد سے باقاعدگی سے ٹیسٹ کروانا چاہیے۔

3. طرزِ زندگی میں احتیاط

محفوظ جنسی تعلقات (کنڈوم کا استعمال)

سگریٹ نوشی سے پرہیز

صحت مند طرزِ زندگی اور مدافعتی نظام کو مضبوط رکھنا

---

✅ خلاصہ: سروائیکل کینسر کی سب سے بڑی وجہ HPV ہے۔ اس سے بچاؤ کے لیے سب سے مؤثر طریقہ HPV ویکسینیشن اور باقاعدہ اسکریننگ ہے۔

HPV ویکسین کا شیڈول

💉 1. اگر عمر 9 سے 14 سال ہے

صرف 2 خوراکیں کافی ہیں۔

پہلی خوراک (Day 0) → پھر دوسری خوراک 6 سے 12 ماہ بعد۔

💉 2. اگر عمر 15 سال یا اس سے زیادہ ہے

3 خوراکیں لگتی ہیں۔

پہلی خوراک (Day 0) → دوسری خوراک 1 سے 2 ماہ بعد → تیسری خوراک 6 ماہ بعد۔

💉 3. 26 سال تک

یہ ویکسین مؤثر رہتی ہے اور تجویز کی جاتی ہے۔

💉 4. 27 سے 45 سال تک

کچھ صورتوں میں، اگر عورت یا مرد کو HPV انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہو تو ڈاکٹر مشورے کے بعد ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

---

⚠️ اہم باتیں

ویکسین صرف بچاؤ (prevention) کے لیے ہے، علاج کے لیے نہیں۔

ویکسین کے باوجود بھی باقاعدہ پاپ اسمئیر/HPV ٹیسٹ کروانا ضروری ہے۔

مردوں کے لیے بھی HPV ویکسین دستیاب ہے تاکہ وہ بھی وائرس سے بچ سکیں اور دوسروں کو متاثر نا کریں

12/09/2025

فلو ویکسین کے فوائد اور نقصانات

✅ فوائد (Pros)

1. بیماری سے حفاظت: فلو ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

2. شدید بیماری سے بچاؤ: اگر فلو ہو بھی جائے تو شدت کم ہوتی ہے اور پیچیدگیاں (نمونیا وغیرہ) کم ہوتی ہیں۔

3. کمزور مریضوں کا تحفظ: بچوں، بوڑھوں، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں (دمہ، شوگر، دل کے مریض) والے افراد کو زیادہ فائدہ۔

4. پھیلاؤ کم ہوتا ہے: ویکسین لینے والے دوسروں کو کم متاثر کرتے ہیں۔

5. ہسپتال داخلے میں کمی: ویکسین ہسپتال میں داخل ہونے کے خطرات کو کم کرتی ہے۔

---

⚠️ نقصانات (Cons)

1. ہر بار نئی لگتی ہے: فلو وائرس بدلتا رہتا ہے اس لیے ہر سال ویکسین لگوانی پڑتی ہے۔

2. 100% مؤثر نہیں: ویکسین لینے کے باوجود بھی فلو ہو سکتا ہے، لیکن عموماً ہلکا ہوتا ہے۔

3. عارضی سائیڈ ایفیکٹس:

ٹیکہ لگنے کی جگہ درد یا سوجن

ہلکا بخار یا تھکن

جسم میں درد

4. نایاب مگر ممکنہ الرجی: بعض افراد کو شدید الرجی ہو سکتی ہے (انتہائی کم کیسز میں)۔

---

📌 اہم بات: زیادہ تر ماہرین صحت بچوں، بوڑھوں اور دائمی بیماریوں والے افراد کو انفلوئنزا ویکسین ہر سال لگوانے کی سفارش کرتے ہیں۔

05/09/2025

سانس کی نالی کی الرجی کو کونسے چیزیں بڑھاتی ہیں اور انہیں کیسے کنٹرول کیا جائے؟

سانس کی نالی کی الرجی (Respiratory Allergy) کئی وجوہات سے بڑھ سکتی ہے۔ یہ زیادہ تر نزلہ، کھانسی، سانس پھولنا، یا چھینکوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ ذیل میں وہ عوامل درج ہیں جو الرجی کو بڑھاتے ہیں اور ان سے بچاؤ یا کنٹرول کے طریقے:

الرجی بڑھانے والے عوامل:

1. دھول مٹی (Dust & Dust Mites) – گھر یا بستر کی گرد الرجی کو زیادہ کرتی ہے۔

2. پولن (Pollen) – بہار اور خزاں کے موسم میں پھولوں اور گھاس کا پولن الرجی کو بڑھاتا ہے۔

3. دھواں اور آلودگی – سگریٹ کا دھواں، گاڑیوں کا دھواں اور فضائی آلودگی الرجی کو بگاڑ دیتے ہیں۔

4. جانوروں کے بال اور جلد کے ذرات (Pet dander)۔

5. تیز خوشبوئیں یا کیمیکل سپرے – پرفیوم، ایئر فریشر یا صفائی کے کیمیکلز۔

6. نمی اور پھپھوندی (Moisture & Mold) – نم جگہوں پر پیدا ہونے والی پھپھوندی الرجی بڑھاتی ہے۔

7. موسم کی اچانک تبدیلی – خاص طور پر ٹھنڈی ہوا یا سردی۔

8. تیز مصالحہ دار یا ٹھنڈی چیزیں کھانا – بعض افراد میں یہ بھی الرجی کو ابھار سکتا ہے۔

---

الرجی کو کنٹرول کرنے کے طریقے:

✅ گھر کو روزانہ صاف کریں اور دھول کم سے کم کریں۔
✅ بیڈ شیٹس اور پردے گرم پانی سے باقاعدگی سے دھوئیں۔
✅ پولن کے موسم میں کھڑکیاں بند رکھیں اور باہر کم نکلیں۔
✅ سگریٹ کے دھوئیں اور آلودگی سے بچیں۔
✅ ایئر پیوریفائر یا ماسک کا استعمال کریں۔
✅ نمی اور پھپھوندی سے بچنے کے لیے گھر کو ہوادار رکھیں۔
✅ جانوروں کو بیڈروم سے دور رکھیں۔
✅ ڈاکٹر کے مشورے سے اینٹی الرجی دوائیاں (اینٹی ہسٹامین یا انہیلر) استعمال کریں۔

---

📌 اگر الرجی بہت زیادہ بڑھ جائے یا سانس لینے میں شدید دشواری ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

05/09/2025

بچے کا مٹی کھانا
جی بالکل! اس مسئلے کو طبی زبان میں پیکا (Pica) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک عادت ہے جس میں بچہ مٹی، چاک، دیوار کی پلستر، صابن، کاغذ یا دیگر غیر غذائی چیزیں کھاتا ہے۔ یہ اکثر 1 سے 6 سال کی عمر کے بچوں میں دیکھا جاتا ہے۔

---

بچوں کے مٹی کھانے کی وجوہات

1. خون کی کمی (آئرن کی کمی / انیمیا)

آئرن اور دیگر منرلز کی کمی کی وجہ سے بچے مٹی یا چاک کھانے لگتے ہیں۔

2. وٹامن اور منرلز کی کمی

کیلشیم، زنک اور دیگر غذائی اجزاء کی کمی سے بھی یہ عادت پڑ سکتی ہے۔

3. بھوک یا غذائی قلت

جب بچے کو مناسب خوراک نہ ملے تو وہ مٹی وغیرہ کھانے لگتا ہے۔

4. نفسیاتی وجوہات

توجہ کی کمی، ذہنی دباؤ یا بوریت کی وجہ سے بچے غیر غذائی چیزیں کھا سکتے ہیں۔

5. عادت یا تجسس

کچھ بچے کھیلتے کھیلتے مٹی کھانے کی عادت ڈال لیتے ہیں۔

---

مٹی کھانے کے نقصانات

پیٹ کے کیڑے پڑ سکتے ہیں۔

دست یا قے کی شکایت ہو سکتی ہے۔

معدہ اور آنتوں میں انفیکشن ہو سکتا ہے۔

جسم میں مٹی کے جراثیم اور زہریلے مادے داخل ہو سکتے ہیں۔

خون کی کمی اور کمزوری مزید بڑھ سکتی ہے۔

---

علاج اور احتیاطی تدابیر

1. خون کا ٹیسٹ کروائیں

بچے کا ہیموگلوبن، آئرن، کیلشیم اور دیگر وٹامنز چیک کروائیں۔

2. آئرن اور وٹامن سپلیمنٹس

ڈاکٹر کے مشورے سے آئرن اور ملٹی وٹامنز دیں۔

3. متوازن غذا دیں

سبز پتوں والی سبزیاں، گوشت، دالیں، انڈہ، دودھ، دہی اور پھل کھلائیں۔

کیلشیم اور آئرن والی غذاؤں پر زور دیں۔

4. بچے کو مصروف رکھیں

کھیلوں، کہانیوں یا تعلیمی سرگرمیوں میں بچے کو مشغول رکھیں تاکہ مٹی کھانے کی عادت کم ہو۔

5. صفائی کا خیال رکھیں

جہاں بچہ کھیلتا ہے وہاں کی مٹی اور گردوغبار صاف رکھیں تاکہ اگر بچہ مٹی منہ میں ڈالے تو نقصان کم سے کم ہو۔

6. پیار اور توجہ دیں

اکثر یہ عادت توجہ کی کمی سے بھی پیدا ہوتی ہے، اس لئے بچے کے ساتھ وقت گزارنا ضروری ہے۔

---

👉 اگر بچہ بار بار مٹی یا دوسری غیر غذائی چیزیں کھا رہا ہے تو یہ محض عادت نہیں بلکہ طبی مسئلہ ہے، اس لیے ڈاکٹر سے لازمی رجوع کریں۔

کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کے ساتھ ایسی غذاؤں کی فہرست بھی دوں جو خاص طور پر مٹی کھانے والے بچوں کے لئے فائدہ مند ہوں؟

31/08/2025

آٹزم (Autism Spectrum Disorder – ASD) ایک نیورو ڈویلپمنٹل ڈس آرڈر ہے جس میں بچے یا فرد کے رویے، سیکھنے اور میل جول کے طریقے مختلف ہوتے ہیں۔ اس کی علامات (Symptoms) ہر بچے میں مختلف شدت کے ساتھ ظاہر ہوسکتی ہیں۔

اہم علامات:

1. سماجی تعلقات (Social Interaction) میں مشکلات

دوسروں سے آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات نہ کرنا یا کم کرنا

مسکرانے، اشاروں یا چہرے کے تاثرات کو سمجھنے میں مشکل

ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلنے یا تعلق بنانے میں دلچسپی کم ہونا

نام پکارنے پر جواب نہ دینا

2. زبان اور بات چیت (Communication) میں مشکلات

بولنے میں تاخیر یا بالکل نہ بولنا

غیر معمولی طریقے سے الفاظ دہرانا (Echolalia)

گفتگو کو جاری رکھنے میں مشکل

ہاتھ کے اشارے یا باڈی لینگویج کم استعمال کرنا

3. رویوں میں تکرار اور سختی (Repetitive Behaviors & Restricted Interests)

ایک ہی کام بار بار کرنا (جھولنا، ہاتھ ہلانا، لائن بنانا وغیرہ)

ایک ہی چیز یا موضوع میں حد سے زیادہ دلچسپی لینا

معمولات (Routine) میں تبدیلی برداشت نہ کر پانا

کھلونوں کو مخصوص انداز میں ترتیب دینا

4. حساسیت (Sensory Issues)

آواز، روشنی، خوشبو یا لمس کے بارے میں حد سے زیادہ حساس ہونا

بعض اوقات بالکل ردعمل نہ دینا

کھانے پینے میں بہت زیادہ چناؤ

---

اضافی علامات:

ذہنی نشوونما میں فرق (کچھ بچے سست جبکہ کچھ بہت تیز ذہانت والے ہوتے ہیں)

Hyperactivity یا بالکل خاموش رہنا

Self-injury (خود کو نقصان پہنچانا، سر مارنا وغیرہ)

---

کچھ بچے ان میں سے ہلکی جبکہ کچھ بچے شدید علامات دکھاتے ہیں، اسی لیے اسے “spectrum” کہا جاتا ہے۔

کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کے لیے ابتدائی عمر (2–3 سال) میں پہچانے جانے والی علامات بھی الگ سے لکھ دوں؟

زم ٹزم کی ابتدائی عمر (2–3 سال) میں پہچانی جانے والی علامات:

👶 سماجی تعلقات میں

نام لینے پر جواب نہ دینا یا نظر نہ ملانا

ماں باپ یا دوسرے لوگوں کے ساتھ کھیلنے میں دلچسپی کم

اشارہ نہ کرنا (مثلاً کسی چیز کی طرف انگلی سے اشارہ نہ کرنا)

مسکرانے یا خوشی دکھانے میں کمی

🗣️ زبان اور بات چیت میں

بولنے میں تاخیر (2–3 سال کی عمر میں بھی جملے نہ بول پانا)

ایک ہی لفظ یا جملہ بار بار دہرانا (Echoing)

ہاتھ کے اشاروں (ہاتھ ہلانا، الوداع کہنا) کا استعمال نہ کرنا

دوسروں کو کچھ دکھانے یا بات کرنے میں دلچسپی نہ لینا

🔁 رویے اور دلچسپیاں

کھلونوں کو غیر معمولی انداز میں لگانا (سیدھی لائن میں یا بار بار گھمانا)

ایک ہی حرکت بار بار کرنا (جھولنا، ہاتھ ہلانا)

معمول بدلنے پر شدید غصہ یا پریشانی

کسی خاص آواز، لائٹ یا حرکت میں حد سے زیادہ دلچسپی

👂 حسی (Sensory) فرق

اونچی آواز یا شور سے کان بند کر لینا

روشنی یا پنکھے کی حرکت کو دیر تک گھورنا

کچھ بچوں کو چھونے یا گود میں لینے پر مزاحمت

26/07/2025

"وَیْنِنگ فوڈز"
🍼 بچوں کی غذا سے متعلق عام غلط فہمیاں اور ان کی حقیقت (Weaning Myths Busted in Urdu):

❌ غلط فہمی 1:

چھوٹے بچے کو صرف ماں کا دودھ دو سال تک کافی ہے۔

✅ حقیقت:
چھ ماہ کی عمر کے بعد بچے کی نشوونما کے لیے صرف ماں کا دودھ کافی نہیں ہوتا۔ چھٹے مہینے سے نرم، آسانی سے ہضم ہونے والی غذا کا آغاز ضروری ہوتا ہے۔

---

❌ غلط فہمی 2:

نمک اور مصالحے شروع سے بچے کی غذا میں ڈالنے چاہییں تاکہ وہ ذائقہ سیکھے۔

✅ حقیقت:
ایک سال سے پہلے بچے کی خوراک میں نمک یا تیز مصالحوں کی ضرورت نہیں۔ یہ بچے کے گردوں پر بوجھ ڈال سکتے ہیں۔

---

❌ غلط فہمی 3:

گھریلو کھانے بچے کے لیے محفوظ نہیں، صرف ڈبے والا کھانا دیں۔

✅ حقیقت:
صاف ستھری اور سادہ گھریلو غذا جیسے دلیہ، کھچڑی، پھلوں کا پیسٹ، سبزیوں کی پَیوری بچے کے لیے محفوظ اور فائدہ مند ہے۔

---

❌ غلط فہمی 4:

اگر بچہ نیا کھانا کھانے سے انکار کرے تو فوراً بند کر دینا چاہیے۔

✅ حقیقت:
نئے ذائقے سیکھنے میں وقت لگتا ہے۔ ایک ہی غذا بار بار دینے سے بچہ آہستہ آہستہ اسے قبول کرتا ہے۔ صبر سے کام لیں۔

---

❌ غلط فہمی 5:

صرف چاول یا دلیہ دینا کافی ہے۔

✅ حقیقت:
بچے کی مکمل نشوونما کے لیے مختلف اناج، سبزیاں، پھل، دالیں، انڈہ، اور گوشت شامل کرنا چاہیے۔

---

❌ غلط فہمی 6:

دانت نکلنے تک صرف دودھ ہی کافی ہے۔

✅ حقیقت:
بچے کے دانت نکلنے کا انتظار کیے بغیر ہی چھٹے مہینے سے نرم غذا دینا شروع کر دینی چاہیے۔

---

❌ غلط فہمی 7:

باہر کے تیار شدہ baby food زیادہ صحت مند ہوتے ہیں۔

✅ حقیقت:
گھریلو تازہ کھانے بغیر کیمیکل اور preservatives کے زیادہ محفوظ اور سستے ہوتے ہیں۔

24/07/2025

🩺 دست — والدین کے لیے رہنمائی

📌 علامات:

بار بار پانی جیسے پتلے دست

بخار ہو سکتا ہے یا نہیں

الٹی یا متلی

کمزوری یا سستی

آنکھیں اندر کو دھنس جانا

پیشاب کی مقدار کم ہونا

---

💧 سب سے اہم: پانی کی کمی سے بچاؤ

🔹 او۔آر۔ایس (ORS) کا استعمال

ہر دست یا قے کے بعد ORS کا محلول دیں

چھوٹے بچوں کو چمچ سے بار بار تھوڑا تھوڑا دیں

ماں کا دودھ جاری رکھیں

🔹 پانی کی کمی کی علامات پر نظر رکھیں:

بچہ کمزور یا غنودگی میں ہو

آنکھیں دھنسی ہوئی

پیشاب کم آ رہا ہو

رونا بغیر آنسو کے ہو

---

🍚 غذا جاری رکھیں:

ماں کا دودھ بند نہ کریں

چاول کا پانی، دہی، کیلا، کھچڑی

فیڈنگ بند نہ کریں

بوتل سے فیڈنگ سے گریز کریں

---

❌ کیا نہ کریں:

اینٹی بایوٹک بغیر ڈاکٹر کے نہ دیں

قے روکنے والی دوا بغیر مشورے کے نہ دیں

بازار کے جوس یا ناپاک پانی نہ دیں

---

🚨 فوری اسپتال کب لے جائیں:

بچہ بار بار قے کر رہا ہو

پانی نہیں پی رہا

سستی یا بے ہوشی

خون والے دست

6 گھنٹے سے زیادہ پیشاب نہ آیا ہو

---

نوٹ: زیادہ تر کیسز میں دوا کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف پانی کی کمی کو پورا کرنا ضروری ہے۔

---

❌💬 دست کے بارے میں عام غلط فہمیاں — حقیقت کیا ہے؟ ✅📘

---

❌ غلط فہمی: دست میں دودھ دینا بند کر دینا چاہیے

✅ حقیقت: ماں کا دودھ جاری رکھنا بہت ضروری ہے، یہ بچے کو پانی کی کمی سے بچاتا ہے

---

❌ غلط فہمی: ہر دست میں اینٹی بایوٹک دینا ضروری ہے

✅ حقیقت: زیادہ تر دست وائرل ہوتے ہیں، اینٹی بایوٹک کی ضرورت نہیں ہوتی

---

❌ غلط فہمی: صرف جوس یا کولڈ ڈرنک سے بچہ ہائیڈریٹ ہو جائے گا

✅ حقیقت: صرف ORS ہی جسم میں نمکیات اور پانی کی صحیح مقدار بحال کرتا ہے

---

❌ غلط فہمی: جب تک دست بند نہ ہوں، کھانا بند کر دینا چاہیے

✅ حقیقت: ہلکی غذا جیسے دہی، کیلا، کھچڑی دست میں فائدہ دیتی ہے

---

❌ غلط فہمی: بوتل سے فیڈ کرنا بہتر ہے

✅ حقیقت: بوتل اکثر جراثیم کا ذریعہ بنتی ہے، ماں کا دودھ یا کپ چمچ بہتر ہے

---

❌ غلط فہمی: قے روکنے کی دوا ہر صورت میں ضروری ہے

✅ حقیقت: قے روکنے والی دوا صرف ڈاکٹر کے مشورے سے دیں، خود سے ہرگز نہیں

---

❌ غلط فہمی: ORS صرف شدید دست میں دیا جاتا ہے

✅ حقیقت: ہلکے دست میں بھی ORS دینا مفید ہوتا ہے، پانی کی کمی سے بچاتا ہے

22/07/2025

سانپ کے کاٹے کی صورت میں احتیاط اور ابتدائی طبی امداد
(Snake Bite Awareness in Urdu)

سانپ کے کاٹنے کی علامات:

کاٹنے کی جگہ پر شدید درد اور سوجن

جلد کا نیلا یا سیاہ پڑ جانا

متلی یا الٹی

سانس لینے میں دشواری

پسینہ آنا، کمزوری یا بے ہوشی

دھڑکن تیز ہونا

بینائی دھندلانا یا بولنے میں دقت

---

کیا کرنا چاہیے (First Aid):
✅ مریض کو پرسکون رکھیں، تاکہ زہر آہستہ پھیلے
✅ مریض کو لیٹا دیں، کاٹی ہوئی جگہ کو دل کی سطح سے نیچے رکھیں
✅ کپڑے یا زیورات کاٹی ہوئی جگہ سے ہٹا دیں
✅ فوری طور پر قریبی اسپتال پہنچیں
✅ سانپ کی شناخت یاد رکھنے کی کوشش کریں (رنگ، سائز وغیرہ) لیکن سانپ کو پکڑنے کی کوشش نہ کریں

---

کیا نہیں کرنا چاہیے:
❌ کاٹی ہوئی جگہ کو چیرنا یا چوسنا نہیں
❌ برف یا گرم پانی نہیں لگانا
❌ خود سے کوئی دوا یا جھاڑ پھونک نہیں کرنی
❌ مریض کو چلنے پھرنے نہ دیں
❌ ٹورنیکیٹ (چوٹ پر سخت پٹی باندھنا) نہ باندھیں

---

علاج:
🩺 زہر کا اثر ختم کرنے کے لیے اینٹی وینم (Antivenom) لگایا جاتا ہے، جو صرف اسپتال میں دستیاب ہوتا ہے
🩺 دیگر علاج علامات کے مطابق کیے جاتے ہیں جیسے آکسیجن، وینٹیلیٹر، درد کم کرنے کی دوا وغیرہ

---

احتیاطی تدابیر:

لمبے گھاس یا پتھریلی جگہوں پر چلتے وقت جوتے اور مکمل لباس پہنیں

رات کو چلتے وقت ٹارچ کا استعمال کریں

گھروں یا کھیتوں میں صفائی رکھیں، تاکہ سانپ نہ چھپ سکیں

سانپ نظر آئے تو فوراً مقامی ریسکیو یا محکمہ وائلڈ لائف سے رابطہ کریں

18/07/2025

❌ سیلیئک کے مریض کن چیزوں سے پرہیز کریں:

(گلوٹن پر مشتمل غذائیں)

🌾 1. گندم اور اس سے بنی اشیاء:

آٹا

میدہ

نان

چپاتی

پراٹھا

پوری

سینڈوچ

بسکٹ

کیک

پیسٹری

بریڈ

سویّاں

🍲 2. جو (Barley):

ستّو

مالٹ والی چیزیں (جیسے مالٹڈ دودھ یا سرکہ)

بیئر (ممنوع)

بعض سوپ یا چٹنیاں

🍞 3. رائی (Rye):

رائی کی روٹی

کچھ دلیے یا سیریل

🥣 4. پراسیسڈ/تیار شدہ خوراک:

چپس، نمکو، کریکرز

چاکلیٹ، آئس کریم (جب تک "گلوٹن فری" نہ لکھی ہو)

سویا ساس، کیچپ، سٹو اور ساسز

فرائیڈ اشیاء جنہیں گلوٹن والی اشیاء کے ساتھ تلا گیا ہو

🍝 5. نوڈلز، پاستا، میکرونی

(جب تک خاص طور پر گلوٹن فری نہ ہو)

✅ کون سی چیزیں کھا سکتے ہیں:

(گلوٹن فری غذائیں)

🍚 1. چاول اور چاول کا آٹا

🌽 2. مکئی اور مکئی کا آٹا (کارن فلور)

🫘 3. دالیں، چنے کا آٹا (بیسن)

🥔 4. آلو اور آلو سے بنی اشیاء (بغیر آٹا ملائے)

🥜 5. خشک میوہ جات، بیج (بغیر ذائقہ دار کوٹنگ کے)

🥬 6. سبزیاں، پھل، گوشت، انڈے، دودھ (سادہ حالت میں)

🍞 7. گلوٹن فری آٹا جیسے:

باجرہ

جوار

سنگھاڑے کا آٹا

سویا بین آٹا

اراروٹ

📌 اہم احتیاطی تدابیر:

پیکٹ پر "Gluten-Free" کا لیبل ضرور چیک کریں

گندم، جو، رائی، اسپیلٹ یا مالٹ لکھا ہو تو پرہیز کریں

کراس کنٹامینیشن سے بچیں (یعنی گلوٹن والی چیزوں کے ساتھ پکا ہوا کھانا نہ کھائیں)

Address

Chakwal
48800

Telephone

+923227480175

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when CARE Hospital chakwal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to CARE Hospital chakwal:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category