Azlan Medicare Hospital Chakwal

Azlan Medicare Hospital Chakwal Mother and child hospital
ماں اور بچے کا ہسپتال

28/04/2026
بعض بچوں کی پیدائش کے دوران انکا سر پھنس جاتا ہے ۔ اسکی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے بچہ دانی سے سر کے سائز کا بڑا ہونا ...
22/04/2026

بعض بچوں کی پیدائش کے دوران انکا سر پھنس جاتا ہے ۔ اسکی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے بچہ دانی سے سر کے سائز کا بڑا ہونا (Cephalopelvic Disproportion)، بچے کے وزن کا زیادہ ہونا ، حمل میں ماں کو شوگر ہونا شامل ہے ۔ بچے کا سر پیدائیس پر جسم کا سب سے بڑا حصہ ہوتا ہے اسلیے اگر مشکل ڈلیوری ہو تو سر پر ضرور اثر پڑتا ہے۔ پیدائش کے دوران سر پر لگنے والے اس دباؤ یا رگڑ کی وجہ سے سر کی جلد میں موجود خون کی نالیوں پھٹ سکتی ہیں۔ انکے پھٹنے کی وجہ سے خون جمع ہو کر سر کی ہڈی اور جلد کے درمیان جمع ہوجاتا ہے جسے طبی زبان میں Cephalhematoma کہتے ہیں۔

یہ عموماً سر کے ایک طرف ظاہر ہوتا ہے، مگر بعض اوقات دونوں طرف بھی ہو سکتا ہے۔ یہ سوجن عام طور پر سخت محسوس ہوتی ہے اور پیدائش کے فوراً بعد نظر نہیں آتی، بلکہ اکثر چوبیس گھنٹے کے بعد نمودار ہوتی ہے۔ اس کی شکل اور حجم بچے کے سر پر دباؤ کے حساب سے مختلف ہو سکتا ہے۔

اکثر صورتوں میں یہ سوزش خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے۔ اگر یہ گلٹی چھوٹی ہو تو عام طور پر دو سے تین ہفتوں میں ختم ہو جاتی ہے، جبکہ اگر بڑا سائز ہو تو کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ گلٹی کے سائز یا رنگت میں تبدیلی، بچے میں غیر معمولی سستی یا یرقان نظر آنے پر فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

بعض اوقات یہ اتنا سادہ نہیں ہوتا اور پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ اگر خون کی مقدار زیادہ ہو جمع ہو جائے تو بچہ خون کی کمی (انیمیا) کا شکار ہو سکتا ہے۔ خون کے جذب ہونے کے دوران پیلاہٹ یا یرقان (jaundice) بھی ہو سکتا ہے۔ بعض بچوں میں سر کی ہڈی میں فریکچر بھی ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر پیدائش کے دوران سخت دباؤ ہو۔ بہت زیادہ خون جمع ہونے کی صورت میں بعض اوقات سرنج کے زریعے بھی نکالنا پڑ سکتا ہے ۔

تشخیص کے لیے بچوں کے معالج کی مکمل جانچ ضروری ہے۔ بعض اوقات الٹراساؤنڈ یا ایکسرے سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ خون کے نیچے کوئی ہڈی ٹوٹی تو نہیں۔ ڈاکٹر بچے کی حالت، حجم اور خطرے کے مطابق مناسب علاج تجویز کرتے ہیں۔

والدین کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ سر پر گلٹی یا سختی کے ظاہر ہوتے ہی فوراً بچوں کے ماہر ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ بروقت جانچ اور رہنمائی سے بچے کے لیے کسی بھی پیچیدگی یا خطرناک صورتحال سے بچاؤ ممکن ہے۔

ڈاکٹر محمد ارسلان
کنسلٹنٹ چائلڈ اسپیشلسٹ
اذلان میڈی کئیر ہسپتال، چکوال
برائے رابطہ 03125671606

کزن میرج یعنی خاندان اور ذات برادریوں کے اندر شادی ہمارے معاشرتی رواج کا ایک اہم حصہ ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے...
18/04/2026

کزن میرج یعنی خاندان اور ذات برادریوں کے اندر شادی ہمارے معاشرتی رواج کا ایک اہم حصہ ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے ملک میں تقریباً ساٹھ سے ستر فیصد شادیاں اسی طرز پر ہوتی ہیں۔
اس تحریر میں ہم کزن میرج کے بچوں پر پڑنے والے جینیاتی اثرات، خصوصاً دماغ اور اعصابی نظام سے متعلق بیماریوں کے حوالے سے بات کریں گے۔

اکثر لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ وہ کئی نسلوں سے خاندان میں شادیاں کر رہے ہیں اور آج تک کوئی مسئلہ سامنے نہیں آیا۔ یہ بات جزوی طور پر درست ہے کہ ہر کزن میرج لازمی طور پر جینیاتی بیماری کا سبب نہیں بنتی، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خطرہ عام شادیوں کے مقابلے میں واضح طور پر بڑھ جاتا ہے۔

خاص طور پر وہ صورتیں زیادہ خطرناک ہوتی ہیں جہاں خاندان میں پہلے سے کسی فرد میں جینیاتی مسئلہ موجود ہو، چاہے وہ بیماری ظاہر ہو چکی ہو یا خراب جین کی صورت میں چھپی ہوئی ہو۔ بار بار خاندان میں شادی ہونے سے یہی خراب جین ماں اور باپ دونوں سے بچے میں منتقل ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں بچے میں بیماری ظاہر ہو سکتی ہے۔

ایسی بہت سی بیماریاں آٹوسومل ریسسیو کہلاتی ہیں، جن میں تھیلیسیمیا جیسی خون کی بیماریاں، سسٹک فائبروسس کی بیماری جو جو پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے، مختلف نیورو میٹابولک ڈس آرڈرز، اور کئی دماغی بیماریاں شامل ہیں۔ ان حالات میں اگر والدین دونوں میں ایک ہی خراب جین موجود ہو تو ہر بچے میں تقریباً پچیس فیصد امکان ہوتا ہے کہ وہ اس بیماری کا شکار ہو جائے، جو کہ ایک بہت زیادہ شرح ہے۔

اعصابی حوالے سے دیکھا جائے تو کزن میرج کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں میں سیریبرل پالس، مرگی، ذہنی نشوونما میں تاخیر، چلنے پھرنے میں دشواری، اور سیکھنے سمجھنے کی کمزوری جیسے مسائل نسبتاً زیادہ دیکھے جاتے ہیں۔ بعض خاندانوں میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک سے زیادہ بچے موروثی اعصابی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں، والدین زندگی بھر ان کی دیکھ بھال میں لگے رہتے ہیں اور مزید بچوں کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی خوف محسوس کرتے ہیں۔ یہ صورتحال والدین اور پورے خاندان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے۔

اگر کسی بھی وجہ سے خاندان کے اندر شادی کا فیصلہ کیا جائے تو ضروری ہے کہ شادی سے پہلے جینیاتی معلومات، خاندان کی مکمل طبی تفصیل اور مناسب جینیاتی مشاورت حاصل کی جائے۔ اگر بچے میں پیدائش کے بعد نشوونما میں تاخیر، دورے، کمزوری، یا کوئی بھی غیر معمولی اعصابی علامت نظر آئے تو فوری طور پر چائلڈ سپیشلسٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔

ایک عام غلط فہمی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ اگر میاں بیوی کے بلڈ گروپس مختلف ہوں تو بچوں میں جینیاتی بیماریاں ہو سکتی ہیں، حالانکہ اس بات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ بلڈ گروپ کا فرق موروثی اعصابی یا جینیاتی بیماریوں کا سبب نہیں بنتا۔

ڈاکٹر محمد ارالان
کنسلٹنٹ چائلڈ سپیشلسٹ
اذلان میڈی کئیرہسپتال، چکوال
برائے رابطہ 03125671606

World Hemophilia Day – Awareness Saves Precious TimeBleeding disorders like hemophilia often go unnoticed until complica...
17/04/2026

World Hemophilia Day – Awareness Saves Precious Time

Bleeding disorders like hemophilia often go unnoticed until complications arise. Early awareness can make a life-changing difference—especially for children.

Hemophilia is a condition where blood doesn’t clot properly, leading to prolonged bleeding, joint damage, and serious health risks if left untreated. In Pakistan, limited awareness and delayed diagnosis still remain major challenges

At Azlan Medicare Hospital Chakwal, we believe that timely diagnosis, expert pediatric care, and continuous monitoring can protect your child’s future.

Watch out for early signs:
• Easy bruising
• Frequent nosebleeds
• Joint pain or swelling
• Prolonged bleeding from minor cuts

With specialized pediatric care and compassionate support, we’re here to guide families every step of the way.

Because awareness today can prevent complications tomorrow.
📍 Azlan Medicare Hospital Near IDC lab Gulburg Town Rawalpindi Road Chakwal
📞 03125671606

ہم روزمرہ پریکٹس میں ہکلانے یا اٹک کر بولنے والے بہت سے بچوں کو دیکھتے ہیں۔ اکثر بچوں میں یہ مسئلہ عارضی ہوتا ہے اور چند...
15/04/2026

ہم روزمرہ پریکٹس میں ہکلانے یا اٹک کر بولنے والے بہت سے بچوں کو دیکھتے ہیں۔ اکثر بچوں میں یہ مسئلہ عارضی ہوتا ہے اور چند ہفتوں یا مہینوں کے اندر خود بخود بہتر ہو جاتا ہے، خاص طور پر جب بچے کو پرسکون ماحول، وقت اور اعتماد دیا جائے۔ ایسے زیادہ تر بچوں میں کسی دوا یا خاص علاج کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تاہم کچھ بچوں میں اگر وقت کے ساتھ بہتری نہ آئے، ہکلانا بڑھتا جائے یا بچے کی روزمرہ زندگی، اسکول یا اعتماد پر اثر انداز ہونے لگے تو ایسے بچوں کو اسپیچ تھراپسٹ کے پاس ریفر کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

ہکلانا، اٹک کر بولنا یا رک رک کر بات کرنا ایک پیچیدہ مگر عام مسئلہ ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں بچوں اور بڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے بارے میں معاشرے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، جو نہ صرف مسئلے کی درست سمجھ میں رکاوٹ بنتی ہیں بلکہ متاثرہ بچے کے اعتماد کو بھی مجروح کر سکتی ہیں۔ سائنسی طور پر یہ بات واضح ہے کہ ہکلانے کی کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی بلکہ یہ جینیاتی، نیورولوجیکل اور ماحولیاتی عوامل کے امتزاج سے ہو سکتا ہے۔

اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہکلانا والدین کی تربیت یا سختی کی وجہ سے ہوتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہکلانے کی جڑیں اکثر جینیاتی ہوتی ہیں۔ اگر خاندان میں کسی فرد کو ہکلانے کا مسئلہ رہا ہو تو بچے میں اس کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح یہ خیال بھی درست نہیں کہ ہکلانا ذہانت یا جذباتی کمزوری کی علامت ہے۔ ہکلانے والے بچے عموماً نارمل یا حتیٰ کہ غیر معمولی طور پر ذہین ہوتے ہیں۔

یہ بھی ایک عام تاثر ہے کہ ہکلانا ایک نفسیاتی بیماری ہے، جبکہ تحقیق بتاتی ہے کہ یہ بولنے سے متعلق دماغی نیٹ ورک کی فعالیت میں فرق کی وجہ سے ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ہکلانے کی وجہ سے گھبراہٹ یا شرمندگی پیدا ہو سکتی ہے، جس پر توجہ دینا علاج کا اہم حصہ ہوتا ہے۔ ہکلانے کا ذہانت سے کوئی تعلق نہیں، اور دنیا کی کئی کامیاب شخصیات اس کی واضح مثال ہیں۔

اسی طرح دو زبانیں سیکھنے سے ہکلانا ہونے کا تصور بھی درست نہیں۔ اگرچہ دو لسانی بچوں میں بولنے کا انداز مختلف ہو سکتا ہے، لیکن یہ ہکلانے کی وجہ نہیں بنتا۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ہکلانا مکمل طور پر ناقابلِ علاج نہیں۔ بروقت اسپیچ تھراپی، رویّاتی تھراپی اور درست رہنمائی سے ہکلانے میں واضح بہتری لائی جا سکتی ہے۔

سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ ہکلانا کسی کی غلطی نہیں۔ نہ یہ بچے کی کوتاہی ہے اور نہ والدین کی ناکامی۔ ایسے بچوں کو دباؤ، ٹوکنے یا بار بار درست کرنے کے بجائے صبر، حوصلہ افزائی اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ بروقت تشخیص اور مناسب ریفرل بچے کی بول چال، خود اعتمادی اور مستقبل کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔

اذلان میڈی کئیر ہسپتال چکوال ایسی تمام نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے اپنی خدمات دے رہا ہے

ڈاکٹر محمد ارسلان
کنسلٹنٹ چائلڈ اسپیشلسٹ
اذلان میڈی کئیر ہسپتال، چکوال
برائے رابطہ 03125671606

ہمارے کلینکس میں بہت سے ایسے بچے لائے جاتے ہیں جن کے بارے میں والدین یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کی بول چال میں تاخیر ہے۔ حی...
14/04/2026

ہمارے کلینکس میں بہت سے ایسے بچے لائے جاتے ہیں جن کے بارے میں والدین یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کی بول چال میں تاخیر ہے۔ حیرت انگیز طور پر، ان میں سے بہت سے کیسز میں وجہ کوئی بیماری نہیں ہوتی بلکہ ایک نہایت سادہ مگر نظر انداز کی جانے والی حقیقت ہوتی ہے، یعنی والدین کا بچوں کو مناسب وقت نہ دے پانا۔

اکثر ایسا دیکھا گیا ہے کہ والدین مصروفیت کی وجہ سے بچے کو موبائل، ٹی وی یا کارٹون کے سامنے بٹھا دیتے ہیں اور خود اس سے بات چیت کم کر دیتے ہیں۔ بچے زبان اسکرین سے نہیں سیکھتے بلکہ انسانوں سے سیکھتے ہیں۔ جب ایسے بچوں کے والدین کو سمجھایا جاتا ہے کہ وہ روزانہ بچے کے ساتھ بات کریں، اس سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گفتگو کریں، اس کے ساتھ کھیلیں اور اس کے الفاظ کو توجہ سے سنیں، تو بہت سے بچوں میں چند ہی ہفتوں یا مہینوں میں نمایاں بہتری آنا شروع ہو جاتی ہے۔

زندگی کے پہلے دو سال بچے کی زبان، سمجھ اور شخصیت کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اس دوران والدین کی آواز، لمس، توجہ اور وقت بچے کے دماغ کے لیے سب سے قیمتی محرک ہوتے ہیں۔ موبائل، ٹی وی اور کارٹون اس خلا کو پُر نہیں کر سکتے، بلکہ بعض اوقات بول چال میں مزید تاخیر کا سبب بن جاتے ہیں۔

اس کے باوجود یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ ہر بولنے میں تاخیر کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔ اگر بچہ عمر کے مطابق الفاظ نہیں بول رہا، آوازوں پر ردِعمل کم ہے، یا بات چیت میں دلچسپی نہیں لیتا، تو صرف انتظار کرنے کے بجائے بروقت کسی ماہر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ بعض بچوں میں بولنے کی تاخیر کسی نیورولوجیکل، سماعت کے مسئلے یا نشوونما کے عارضے کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔

لہٰذا اگر آپ کو اپنے بچے کی بول چال کے بارے میں کوئی بھی تشویش ہو تو ضرور کسی مستند چائلڈ سپیشلسٹ سے مشورہ کریں۔ بروقت تشخیص اور رہنمائی بچے کے مستقبل پر گہرے مثبت اثرات ڈال سکتی ہے۔ اذلان میڈی کئر ہسپتال چکوال میں اِن تمام ایشوز کا علاج ممکن ہے

ڈاکٹر محمد ارسلان
کنسلٹنٹ چائلڈ اسپیشلسٹ
اذلان میڈی کئیر ہسپتال، چکوال
برائے رابطہ 03125671606

12/03/2026

بچوں میں اکثر بیماریوں جیسے بخار، نزلہ زکام، کھانسی، فلو اور ڈائریا وغیرہ کی وجہ وائرل انفیکشنز ہوتی ہیں، جو عموماً چند دنوں میں خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ بچوں کے مدافعتی نظام میں یہ انفیکشنز اپنے آپ ختم ہو جاتے ہیں اور بچے کی صحت بحال ہو جاتی ہے۔ ایسے معاملات میں والدین کو صبر کرنا چاہیے اور بچے کو آرام دینے، مناسب غذا اور پانی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ صرف ضرورت کے مطابق ہلکی دوائیں دینی چاہئیں۔

لیکن اکثر والدین چاہتے ہیں کہ بچہ فوراً ٹھیک ہو جائے، اس لیے وہ جلدی صحت یابی کے لیے وقتی حل یا انجیکشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے، یہ موقع اکثر غیر تربیت یافتہ یا غیر مستند افراد (quacks) استعمال کرتے ہیں اور بچوں کو بلا ضرورت گوشت میں یا انٹرا مسکیولر انجیکشنز لگاتے ہیں۔ یہ انجیکشن زیادہ تر کولہے (Buttock) کے پٹھوں میں دیے جاتے ہیں، جو بچوں کے لیے حساس مقام ہے کیونکہ یہاں ایک نہایت اہم نرو (Nerve)گزرتی ہے، جسے شیاٹک نرو کہتھ ہیں۔

شیاٹک نرو دماغ اور ٹانگ کے پٹھوں کے درمیان بنیادی رابطہ فراہم کرتی ہے اور پاؤں اور ٹانگ کی حرکت، چلنے، کھڑے ہونے، انگلیوں کی حرکت اور توازن برقرار رکھنے میں اسکا اہم کردار ہے۔ اگر انجیکشن غلط جگہ، زاویے یا تکنیک سے لگایا جائے، یا دوا اس نرو کے قریب یا اندر چلی جائے، تو یہ نقصان کا شکار ہو سکتی ہے۔ نتیجتاً بچے میں مختلف علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، جیسے: ٹانگ یا پاؤں کی کمزوری یا حرکت میں کمی، پاؤں کا لٹک جانا (فٹ ڈراپ)، چلنے میں مشکل اور غیر فطری لنگڑا چلنا، ٹانگ یا پاؤں میں درد، جلن یا سن ہونا، اور پٹھے کمزور یا سکڑ جانا۔

تشخیص کے لیے سب سے پہلے کلینیکل معائنہ کیا جاتا ہے، جس میں بچے کے پٹھوں، حرکت، ردعمل اور چلنے کے انداز کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں مزید جانچ کے لیے NCS/EMG، الٹراساؤنڈ یا ایم آر آئی(MRI) کیے جاتے ہیں تاکہ نقصان کی شدت اور مقام معلوم کیا جا سکے۔

علاج کے مراحل میں سب سے پہلے بچے کے درد کو کم کرنا بنیادی قدم ہوتا ہے، اس کے بعد فزیوتھراپی شروع کی جاتی ہے تاکہ پٹھوں اور اعصاب کی حرکت اور طاقت بحال ہو سکے۔ بعض بچوں کو چلنے میں مدد دینے کے لیے مصنوی سپورٹ بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ اگر نقصان شدید یا دیرپا ہو اور بچے میں بہتری نہ آ رہی ہو تو بعض صورتوں میں سرجری پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ فیصلہ صرف مکمل جانچ اور ماہر چائلڈ نیورولوجسٹ کی رائے کے بعد کیا جاتا ہے۔

والدین کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ غیر ضروری انجیکشن سے پرہیز کریں۔ انجیکشن صرف اسی صورت میں دیے جائیں جب واقعی ضرورت ہو اور کسی مستند چائلڈ اسپیشلسٹ یا بچے کے مخصوص ڈاکٹر نے مشورہ دیا ہو۔ بروقت تشخیص اور صحیح علاج بچوں کے اعصاب اور پٹھوں کی مکمل بحالی میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور مستقل معذوری سے بچاتا ہے۔

جہاں تک ویکسینیشن کا تعلق ہے، والدین مطمئن رہیں کہ زیادہ تر ویکسینز جلد میں یا ایسے پٹھوں میں لگائ جاتی ہیں جہاں ایسے نقصان کا خطرہ نہ ہو اور یہ انجیکشن بالکل محفوظ ہیں۔ ویکسینز ہمیشہ تربیت یافتہ عملے کے ذریعے لگوائی جائیں، کیونکہ یہ بچوں کی صحت کے لیے نہایت ضروری اور محفوظ ہیں۔

ڈاکٹر محمد ارسلان

کنسلٹنٹ چائلڈ اسپیشلسٹ
اذلان میڈی کئیر ہسپتال چکوال
گلبرگ ٹاؤن راولپنڈی روڈ چکوال
براۓ رابطہ03125671606

09/03/2026
09/03/2026

سوال : ڈاکٹر صاحب! کیا چائے کا زیادہ استعمال بچوں میں خون کی کمی کا باعث ہو سکتا ہے ؟
جواب : جی ہاں ! چائے آئرن کی absorption کو کم کرتی ہے آئرن خون بنانے کا بنیادی جز ہے اگر کوئی بچہ چائے کا زیادہ استعمال کرتا ہے تو آئرن کی absorption کم ہو گی اور بچے کو آئرن کی کمی کی وجہ سے خون کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے


Dr Muhammad Arslan
Consultant Child Specialist
Azlan Medicare Hospital Chakwal

Appointment # 03125671606

Address

Chakwal
48800

Telephone

+923125671606

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Azlan Medicare Hospital Chakwal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category