Chak No 164 A9L

Chak No 164 A9L میرے گاوٗں کا نام چک نمبر164اے9 ایل ہیں، تحصیل چیچہ وطنی ضلع ساہیوال میں واقع ہے۔ آپ دنیا کے نقشے پر 30.351333 72.772579 کے ذریعے دیکھ سکتے ہیں

The name of my village is Chak No 164 A9L(چھوٹا)
in the tehsil chichawatni district sahiwal It is a big village .There is a canal 9 L on the east of the village. Many good roads run through the village. Three beautiful mosque in my village,Chak No 164 A9L village with a almost there population of 3000, is one of the exemplary villages as it has literacy rate near 100%. There are many private school,This village has 2 govt high girls and boys schools and crime rate their is 0. My village has a market where the local people buy and sell things,health care center in my village,The people are doing farming and animal husbandry in my village. They celebrate all festivals together. The people of my village live simple life. They live peacefully and happily together.

بے شک۔۔
19/01/2024

بے شک۔۔

بے شک۔۔۔۔💞

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ صبح بخیر
19/01/2024

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ صبح بخیر

*‏🍃⭕💚🌹شلجم🌹💚⭕🍃* *🌺شلجم سیب سے دس گنا زیادہ مفید ھے...!**🌺آپ یہ سُن کر حیران ھوں گے...**🌺یہ کیونکر ایسا ممکن ھے؟؟؟**🌺تحقی...
05/01/2024

*‏🍃⭕💚🌹شلجم🌹💚⭕🍃*

*🌺شلجم سیب سے دس گنا زیادہ مفید ھے...!*

*🌺آپ یہ سُن کر حیران ھوں گے...*

*🌺یہ کیونکر ایسا ممکن ھے؟؟؟*

*🌺تحقیقات سے پتہ چلا ھے…*

*🌺یہ عام سی، سَستی سبزی اتنے مہنگے سیب سے دس گنا زیادہ بہتر کیسے ھے...؟*

*🌺تحقیق سے معلوم ھوا کہ شلجم خاص طور پر پٹھوں کی کمزوری، کمر درد، ٹانگوں کے درد، دل، جگر، آنکھوں، ھڈیوں، جوڑوں کا درد، یورک ایسڈ کم کرتا ھے،،،*

*🌺کولیسٹرول نارمل کرتا ھے،*
*🌺قبض دور کرتا ھے،*
*🌺شلجم ابال کر بیسن کے ساتھ گوندھ کر روٹی بنا کر کھانے سے شوگر کنٹرول کرنے میں معاون ھے، البتہ گندم چھوڑنا ھو گی...*

*🌺چونکہ اس میں فائبر زیادہ ھے سلاد کے طور پر کھانے سے پیٹ بھر جاتا ھے،،،*

*🌺وزن کم کرنے والوں کا دوست ھے...*

*⭕آئیے !!!*

*🌺ایک قابل بھروسہ ویب سائٹ کے تعاون سے سیب اور شلجم میں موجود مفید اجزاء کا تناسب دیکھتے ھیں...*

*👈سب سے اھم بات۔۔۔*

*🌷شلجم میں سیب سے 10 گنا زیادہ وٹامن سی ھوتا ھے،*

*🌷یعنی سیب میں 24 فیصد،*
*شلجم میں 200 فیصد...*

*🌷وٹامن B1*
*سیب میں 7 فیصد،*
*شلجم میں 29 فیصد...*

*🌷وٹامن B6*
*سیب میں 14 فیصد،*
*شلجم میں 58 فیصد...*

*🌷سوڈیم…*
*سیب میں 0 فیصد،*
*اور شلجم میں 32 فیصد…*

*🌷پوٹاشیم…*
*سیب میں 12 فیصد،*
*اور شلجم میں 39 فیصد…*

*🌷کیلشیم…*
*سیب میں 5 فیصد،*
*اور شلجم میں 43 فیصد…*

*🌷میگنیشیم…*
*سیب میں 5 فیصد،*
*شلجم میں 22 فیصد…*

*🌷فاسفورس…*
*سیب میں 7 فیصد،*
*اور شلجم میں 33 فیصد…*

*🌷آئرن…*
*سیب میں 8 فیصد،*
*شلجم میں 36 فیصد…*

*🌷مینگنیز…*
*سیب میں 6 فیصد،*
*شلجم میں 42 فیصد…*

*🌷کاپر…*
*سیب 10 فیصد،*
*شلجم میں 61...*

*🌷زنک…*
*سیب 2 فیصد،*
*شلجم 21 فیصد...*

*🌷سیلینئیم…*
*سیب میں 0 زیرو فیصد،*
*شلجم میں 11 فیصد…*

*🌷فائبر…*
*سیب 9 فیصد،*
*شلجم 13 فیصد...*

*🌷پروٹین…*
*سیب 1 فیصد،*
*شلجم 6 فیصد…*

*⭕اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ھیں۔۔۔*

*💚اگر سیب دستیاب نہ ھو،*
*یعنی مہنگا ھو تو،*
*شلجم مناسب قیمت میں بآسانی دستیاب ھو سکتا ھے...*

*💚اگر شلجم کا سیزن نہ ھو تو اسے قدرتی سرکہ میں اچار بنا کر سال بھر محفوظ رکھ سکتے ھیں...*
*روزانہ کسی بھی نئی شکل میں نیا ذائقہ بنا کر استعمال کر سکتے ھیں...*

🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲
*🌹دعاؤں میں مجھے ضرور یاد رکھنا🌴*

05/01/2024

استادِ محترم شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب سے سوال کیا گیا کہ حضرت زندگی کا خلاصہ کیا ھے؟
حضرت نے یہ 20 نکات ارشاد فرمائے۔(1) ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کیا کرو۔(2) کوشش کرو کہ پوری زندگی میں کوئی تمہاری شکایت کسی دوسرے انسان سے نہ کرے۔ پروردگار سے تو بہت دور کی بات ہے۔(3) خاندان والوں کے ساتھ کبھی مقابلہ مت کرنا۔ نقصان قبول کر لینا ،مگر مقابلہ مت کرنا۔بعد میں نتیجہ خود مل جائے گا۔(4)کسی بھی جگہ یہ مت کہنا کہ میں عالم ہوں۔ میرے ساتھ رعایت کرنا۔ یہ ایک غیر نامناسب عمل ہے۔کوشش کرو دینے والے بن جاؤ۔(5) سب سے بہترین دسترخوان گھر کا دسترخوان ہے. جو بھی تمہاری نصیب میں ہوگا بادشاہوں کی طرح کھا لوگے۔(6) اللہ کے سوا کسی سے امید مت رکھنا۔(7) ہر آنے والے دن میں اپنی محنت میں مزید اضافہ کرنا۔(8)مالداروں اور متکبروں کی مجالس سے دوری اختیار کرنا مناسب ہے۔(9) ہردن صبح کے وقت صدقہ کرنا ،شام کے وقت استغفار کا ورد کرنا۔(10) اپنی گفتگو میں مٹھاس پیدا کرنا۔(11)اونچی آواز میں چھوٹے بچے سے بھی بات مت کرنا ۔(12)جس جگہ سے تمہیں رزق مل رہا ہے اس جگہ کی دل وجان سے عزت کرنا۔جس قدر ادب کروگے ان شاءاللہ رزق میں اضافہ ہوگا۔(14) کوشش کرو کہ زندگی میں کامیاب لوگوں کی صحبت میں بیٹھا کرو۔ ایک نہ ایک دن ضرور تم بھی اس جماعت کا حصہ بن جاؤگے۔(15) ہر فیلڈ کےہنر مند کی عزت کرنا ،ان کے ساتھ ادب سے پیش آنا چاہئے ،خواہ وہ کسی بھی فیلڈ کا ھو۔(15) والدین ،اساتذہ اور رشتے داروں کے ساتھ جس قدر اخلاق کا معاملہ کروگے اس قدر تمہارے رزق اور زندگی میں برکت ھوگی۔ (16)ہر کام میں میانہ روی اختیار کرنا۔ (17) عام لوگوں کے ساتھ بھی تعلق رکھنا اس سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ (18) ایک انسان کی شکایت دوسرے سے مت کرنا، ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شکایت کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ (19) ھر بات کو مثبت انداز میں پیش کرنا ،اس سے بہت سے مسائل حل ھو جائیں گے۔(20) بڑوں کی مجلس میں زبان خاموش رکھنا۔
آخر میں درج ذیل دعا سکھائی کہ مشکل وقت میں اہتمام کے ساتھ پڑھا کرو ان شاء الله بہت فائدہ ھوگا۔"رَبَّنَا آتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً وَّهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا۔۔۔۔۔"(منقول)

‏اسلامی احیاء کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ موجودہ تعلیمی نظام ہے، جو دراصل اسی تعلیمی نظام کا تسلسل ہے جس کو مسلم علاقوں...
04/01/2024

‏اسلامی احیاء کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ موجودہ تعلیمی نظام ہے، جو دراصل اسی تعلیمی نظام کا تسلسل ہے جس کو مسلم علاقوں میں colonialism کے دوران معتارف کروایا گیا. ترکی، مصر، شام، عراق، پاکستان، بنگلادیش، ملیشیاء سب اسی تعلیمی نظام کے ذریعے اگلی نسل کی پرورش کررہے جس کے قیام کا ‏مقصد ایسے افراد کی تیاری تھا جو مغرب کی نظر سے دنیا کو دیکھے، اسی کے ورلڈ ویو کو اپنائے، اسی کے فریم ورک سے اپنے مسائل کو حل کرے.

یہی وجہ کہ اس تعلیمی پروسز سے گذرنے والا چاہے کتنا ہی 'مذہبی' ہو وہ بہرحال مغربی تصورات سے اثر انداز ہو ہی جاتا ہے. کوئی مغرب کے نیشن اسٹیٹ کے تصور ‏کو اپنا لیتا ہے اور اسی کلمہ پڑھوانے لگتا ہے، پھر اس کے ذہن میں خلافت utopian چیز بن جاتی ہے اور یورپین یونین کی طرز کی 'اسلامی یونین' پریکٹیکل. کوئی جمہوریت کو عین اسلام سمجھ لیتا ہے اور پھر مسلمانوں کی پوری تاریخ کو کوڑے دان میں پھینک دیتا ہے کیونکہ وہاں اس کو جمہوریت نظر نہیں ‏آتی. کوئی سرمایاداریت کو معیشت کی ارتقاء سمجھ لیتا ہے اور پھر اس کو اسلام کے معیشت کے متعلق احکامات outdated لگتے ہیں جیسے اسٹاک ایکسینچ، fiat currency اور لمیٹڈ لابلیٹی کمپنیز کا ممنوع ہونا. تو کوئی سیاسی نظام کے ارتقائی معراج کو قبول کرلیتا ہے.

‏‏اور معیشت بس برائے نام ہوتی ہے. پھر جو ہوتی ہے وہ بھی اس نکتہ نظر سے نہیں کہ آج اس کا نفاذ ہونا ہے، یعنی مدارس غیر شعوری طور پر ہی لیکن 'سکیولرزم' سے اثر انداز ہوچکے.

اس کا سدباب تو یقینا ریاستی سطح پر ہی ہوسکتا ہے، وہ بھی اسی وقت جب خلافت قائم ہو. لیکن ان شعبوں سے وابسطہ ‏مسلمانوں کو اپنی تمام تر قوت، ذہانت، قابلیت اور دیگر resources کو استعمال کرتے ہوئے اس مغربی ورلڈ ویو کے برخلاف ماحول بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے. جو ان شعبوں سے وابسطہ نہیں ان کا فرض ہے کہ وہ گھر، ہوٹل، درس، مسجد، خانقاہ، آفس میں ‏جہاں ممکن ہو اپنے ارد گرد موجود افراد پر توجہ دیں تاکہ اس مغربی اثر کو کسی حد تک زائل کیا جاسکے. اس جدید دور میں فیسبک، ٹوئیٹر، بلاگز، ولاگ، پاڈ کاسٹ سب کو اس کام کے لیے استعمال کرنا چاہیے..
#چک164

03/01/2024

‏پوری دنیا کو ویکسین لگا کر اب گورے ڈاکٹر حقیقت بتا رہے ہیں۔ اس کا مطلب پاکستانی دیہاتی لوگ سچے تھے۔ جب وہ اس قسم کی باتیں کرتے تھے تو پڑھا لکھا طبقہ انہیں جاہل کہتا تھا۔ اب بھگتیں
#چک164

12/10/2023

*ذہن میں رکھنے کے لئے اہم چیزیں:*

1. بی پی: 120/80
2. نبض: 70 - 100
3. درجہ حرارت: 36.8 - 37
4. سانس: 12-16
5. ہیموگلوبن: مرد -13.50-18
خواتین - 11.50 - 16
6. کولیسٹرول: 130 - 200
7. پوٹاشیم: 3.50 - 5
8. سوڈیم: 135 - 145
9. ٹرائگلیسرائیڈز: 220
10. جسم میں خون کی مقدار: PCV 30-40%
11. شوگر لیول: بچوں (70-130) بالغوں کے لیے: 70-115
12. آئرن: 8-15 ملی گرام
13. سفید خون کے خلیات WBC: 4000-11000
14. پلیٹلیٹس: 1,50,000 - 4,00,000
15. سرخ خون کے خلیات RBC: 4.50 - 6 ملین۔
16. کیلشیم: 8.6 -10.3 ملی گرام/ڈی ایل
17. وٹامن ڈی 3: 20 - 50 این جی / ملی لیٹر۔
18. وٹامن B12: 200 - 900 pg/ml.
*بزرگوں کے لیے خصوصی تجاویز 40/50/60 سال ہیں:*
*1- پہلی تجویز:* ہر وقت پانی پیتے رہیں خواہ آپ کو پیاس یا ضرورت مند ہی کیوں نہ ہو، صحت کے سب سے بڑے مسائل اور ان میں سے اکثر جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ کم از کم 2 لیٹر فی دن۔
*2- دوسری ہدایت:* جسم سے زیادہ سے زیادہ کام کریں، جسم کی حرکت ہو، جیسے چہل قدمی، ورزش، یوگا، تیراکی، یا کوئی بھی کھیل۔
*تیسرا مشورہ:* کم کھائیں... بہت زیادہ کھانے کی خواہش کو چھوڑ دیں... کیونکہ یہ کبھی اچھا نہیں لاتا۔ اپنے آپ کو محروم نہ کریں بلکہ مقدار کو کم کریں۔ پروٹین، کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذائیں زیادہ استعمال کریں۔
*4- چوتھی ہدایت:* گاڑی کا استعمال نہ کریں جب تک کہ یہ بالکل ضروری نہ ہو۔ اگر آپ کہیں بھی گروسری لینے، کسی سے ملنے یا کوئی کام کرنے جا رہے ہیں تو اپنے پیروں پر چلنے کی کوشش کریں۔ لفٹ، ایسکلیٹرز استعمال کرنے کے بجائے سیڑھیاں چڑھیں۔
*5- 5ویں ہدایت* غصہ چھوڑیں، فکر کرنا چھوڑ دیں، چیزوں کو نظر انداز کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے آپ کو پریشان کن حالات میں مت ڈالو، وہ تمام صحت کو خراب کر دیتے ہیں اور روح کی شان کو چھین لیتے ہیں۔ مثبت لوگوں سے بات کریں اور ان کی بات سنیں۔
*6- چھٹی ہدایت* سب سے پہلے پیسے سے لگاؤ چھوڑ دو
اپنے آس پاس کے لوگوں سے جڑیں، ہنسیں اور بات کریں! پیسہ بقا کے لیے بنایا جاتا ہے، پیسے کے لیے زندگی نہیں۔
*7-7واں نوٹ* اپنے لیے، یا کسی ایسی چیز کے لیے جو آپ حاصل نہیں کر سکے، یا جس چیز کا آپ سہارا نہیں لے سکتے، اس پر افسوس نہ کریں۔
اسے نظر انداز کریں اور بھول جائیں۔
*8- آٹھواں نوٹس* پیسہ، عہدہ، وقار، طاقت، خوبصورتی، ذات اور اثر و رسوخ؛
یہ سب چیزیں انا کو بڑھاتی ہیں۔ عاجزی لوگوں کو محبت سے قریب کرتی ہے۔
*9- نواں مشورہ* اگر آپ کے بال سفید ہیں تو اس کا مطلب زندگی کا خاتمہ نہیں ہے۔ یہ ایک اچھی زندگی کا آغاز ہے۔ پر امید بنیں، یادداشت کے ساتھ زندگی گزاریں، سفر کریں، لطف اندوز ہوں۔ یادیں بنائیں!
*10- 10ویں ہدایات* اپنے چھوٹوں سے پیار، ہمدردی اور پیار سے ملیں! کچھ طنزیہ مت کہو! اپنے چہرے پر مسکراہٹ رکھو!
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ ماضی میں کتنے ہی بڑے عہدے پر فائز رہے ہیں، اسے حال میں بھول جائیں اور اس سب کے ساتھ گھل مل جائیں!

08/10/2023

اسلام علیکم
میرا گاؤں چک نمبر 164 اے 9 ایل چیچہ وطنی سے 24 کلومیٹر دور بورے والا روڈ پر ضلع ساہیوال کا آخری گاؤں ہے اس گاؤں میں داخل ہونے کے لیے چار راستے ہیں اور بدقسمتی یہ کہ ایک بھی راستہ صحیح نہیں ہے چاروں روڑ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں
ہمارے گاؤں میں داخل ہونے والا مین راستہ ٹینٹڈر سٹاپ سے ہے اور دوسرا راستہ اڈا 9 ایل سے ہے ہماری ضلع انتظامیہ، اور نگران وزیر اعلیٰ پنجاب سے گزارش ہے کہ ہمارے گاؤں کی دونوں سڑکیں مرمت کروائی جائیں, اڈا نو ایل سے بورےوالا چیچہ وطنی روڑ کا باقی کام بھی جلد از جلد کروایا جائے,
شکریہ

14/11/2022

‏راجہ قاسم اسسٹنٹ کمشنر پتوکی جو رات حادثے کا شکار ہو گئے انکی ایک دوست کے ساتھ چیٹ۔۔۔
آگاہی موت ہے

17/07/2022

حلقہ پی پی 202 ‏چک نمبر 88/12ایل میں خواتین کے پولنگ پر محکمہ ریونیو کا پٹواری جعلی ووٹ ڈالتا پکڑا گیا

08/02/2022

کسی گاؤں میں شنکر نامی ایک کسان رہتا تھا۔ سیدھا سادا غریب آدمی تھا۔ اپنے کام سے کام، نہ کسی کے لینے میں نہ کسی کے دینے میں۔ چھکّاپنجا نہ جانتا تھا۔ چھل کپٹ کی اسے چھو ت بھی نہ لگی تھی۔ ٹھگے جا نے کی فکر نہ تھی۔ ودّ یانہ جانتا تھا۔ کھانا ملا تو کھا لیا نہ ملا تو چربن پر قنا عت کی۔ چر بن بھی نہ ملا تو پانی لیا اور رام کا نام لے کر سو رہا۔ مگر جب کوئی مہمان درواز ے پر آ جاتا تو اسے یہ استغنا کا راستہ تر ک کر دینا پڑ تا تھا۔ خصوصاً جب کوئی سادھومہا تما آجاتے تھے تو اسے لا زماً دنیا وی باتو ں کا سہا را لینا پڑ تا۔ خود بھو کا سو سکتا تھا مگر سادھو کو کیسے بھو کا سلا تا۔ بھگو ان کے بھگت جو ٹھہرے۔

ایک روز شام کو ایک مہاتما نے آکر اس کے درواز ے پر ڈ یر ا جمادیا۔ چہرے پر جلال تھا۔ پیتا میر گلے میں، جٹا سر پر، پیتل کا کمنڈ ل ہاتھ میں، کھڑ اؤ ں پیر میں، عینک آنکھوں پر۔ غر ض کہ پو را بھیس ان مہا تما کا ساتھا جو رؤسا کے محلو ں میں ریاضت، ہوا گاڑیوں پر مندروں کا طواف اور یو گ (مراقبہ ) میں کمال حال کرنے کے لیے لذیذ غذائیں کھا تے ہیں۔ گھر میں جو کا آ ٹا تھا وہ انہیں کیسے کھلاتا؟ زمانۂ قدیم میں جو کی خواہ کچھ اہمیت رہی ہو، مگر زمانہ حال میں جو کی خورش مہاتما لوگو ں کے لیے ثقیل اور دیر ہضم ہوئی ہے۔ بڑی فکر ہوئی کہ مہا تما جی کو کیا کھلاؤں؟ آخر طے کیا کہ کہیں سے گیہوں کا آٹا ادھا ر لا ؤ ں۔ گاؤ ں بھر میں گیہوں کا آٹا نہ ملا۔ گاؤں بھر میں سب آدمی ہی آدمی تھے، دیو تا ایک بھی نہ تھا، دیوتا ؤ ں کو خورش کیسے ملتی؟ خوش قسمی سے گاؤں کے پر وہت جی کے یہاں تھو ڑے سے گیہوں مل گئے۔ ان سے سوا سیر گیہوں ادھار لیے اور بیوی سے کہا کہ پیس دے۔ مہا تما نے کھا یا۔ لمبی تا ن کر سوئے اور صبح آشیر واددے کر اپنا راستہ لیا۔

پر وہت جی سال میں دوبار کھلیانی لیا کرتے تھے۔ شنکر نے دل میں کہا کہ سوا سیر گیہوں کیا لوٹا ؤں۔ پنسیر ی کے بدلے کچھ زیادہ کھلیانی دے دوں گا۔ وہ بھی سمجھ جائیں گے، میں بھی سمجھ جاؤں گا۔ چیت میں جب پر وہت جی پہنچے تو انھیں ڈیڑ ھ پنسیر ی کے قریب گیہوں دے دیے اور اپنے کو سبکد وش سمجھ کر اس کا کوئی تذکرہ نہ کیا۔ پروہت جی نے بھی پھر کبھی نہ مانگا۔ سید ھے سادھے شنکر کو کیا معلوم کہ یہ سوا سیر گیہوں چکانے کے لیے مجھے دوبارہ جنم لینا پڑے گا۔ سات سال گذ ر گئے۔ پروہت جی برہمن سے مہاجن ہوئے۔ شنکر کسان سے مزور ہو گیا۔ اس کا چھوٹا بھائی منگل اس سے الگ ہو گیا تھا۔ ایک ساتھ رہ کر دونو ں کسان تھے، الگ ہو کر دونو ں مزدور ہوگئے تھے۔ شنکر نے بہت چاہا کہ نفاق کی آگ بھڑ کنے نہ پاوے۔ مگر حالت نے اس کو مجبور کر دیا۔ جس وقت الگ چولھے جلے وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ آج سے بھائی بھا ئی دشمن ہو جائیں گے۔ ایک روئے تو دوسر ا ہنسے گا، ایک کے گھر میں غمی ہو گی تو دوسرے کے گھر گلگلے پکیں گے۔ محبت کا رشتہ، دودھ کا رشتہ آج ٹو ٹا جاتا ہے۔ اس نے سخت محنت کر کے خاندانی عزت کا یہ درخت لگایا تھا۔ اسے اپنے خون سے سینچا تھا، اس کا جڑ سے اکھڑ نا دیکھ کر اس کے دل کے ٹکڑ ے ہو ئے جاتے تھے۔ سات روز تک اس نے دانے کی صورت بھی نہ دیکھی۔ دن بھر جیٹھ کی دھو پ میں کا م کرتا اور رات میں لپیٹ کرسورہتا۔ اس سخت رنج اور ناقابل برداشت تکلیف نے خون کو جلا یا دیا، گوشت اور چربی کو گھُلا دیا۔ بیمار پڑا تو مہینوں چار پائی سے نہ اٹھا۔ اب گزر بسر کیسے ہو؟ پانچ بیگھے کے آدھے کھیت رہ گئے، ایک بیل رہ گیا۔ کھیتی کیا خاک ہوتی۔ آخر یہا ں تک نوبت پہنچی کہ کھیتی صرف نام بھر کو رہ گئی۔ معاش کا سارا بھار مزدوری پر آپڑا۔

سا ت سال گزر گئے۔ ایک دن شنکر مزدوری کر کے لو ٹا تو راستہ میں پر وہت جی نے ٹو ک کر کہا، ’’شنکر کل آکے اپنے بیج بینک کا حساب کر لے۔ تیرے یہاں ساڑھے پانچ من گیہوں کب سے باقی پڑے ہیں اور تو دینے کا نام نہیں لیتا۔ کیا ہضم کرنے کا ارادہ ہے؟‘‘

شنکرنے تعجب سے کہا، ’’میں نے تم سے کب گیہوں لیے تھے کہ ساڑھے پانچ من ہو گئے؟تم بھو لتے ہو، میرے یہاں نہ کسی چھٹانک بھرا ناج ہے، نہ ایک پیسہ ادھار۔‘‘

پروہت، ’’اسی نیت کا تو یہ پھل بھو گ رہے ہو کھانے کو نہیں جڑتا۔‘‘

یہ کہہ پر وہت جی نے اس کا سوا سیر گیہوں کا ذکر کیا جو آج سےسات سال قبل شنکر کو دیے تھے۔ شنکر سن کر ساکت رہ گیا۔ میں نے کتنی بار انہیں کھلیانی دی۔ انہوں نے میرا کون سا کا م کیا۔ جب پو تھی پتر اد یکھنے، ساعت شگون بچارنے دوار پر آتے تھے تو کچھ نہ کچھ دچھنا لے ہی جا تے تھے۔ اتنا سوارتھ۔ سوا سیر اناج کولے انڈے کی طرح یہ بھو ت کھڑا کر دیا۔ جو مجھے نگل ہی جائے گا۔ اتنے دنوں میں ایک بار بھی کہہ دیتے تو گیہوں دے ہی دیتا۔ کیا اسی نیت سے چپ بیٹھے رہے۔ بولا، ’’مہا راج نام لے کر تو میں نے اتنا انا ج نہیں دیا، مگر کئی با ر کھلیانی میں سیر سیر، دودوسیر دے دیا ہے۔ اب آپ آج ساڑھے پانچ من مانگتے ہو، میں کہاں سے دوں گا؟‘‘ پروہت، ’’لیکھا جَو جَو۔ بکسیس سوسو۔ تم نے جو کچھ دیاہوگا، کھلیانی میں دیاہوگا، اس کا کوئی حساب نہیں۔ چاہے ایک کی جگہ چار پنسیر ی دے، تمہارے نام ہی میں ساڑھے پانچ من لکھا ہوا۔ جس سے چاہے حساب لگو ا لو۔ دے دو تو تمہارا نام جھیک (کاٹ )دوں، نہیں تو اور بڑھتا رہے گا۔‘‘

شنکر، ’’پانڈ ے! کیوں ایک غریب کو ستانے ہو میر ے کھانے کا ٹھکا نا نہیں، اتنا گیہوں کس کے گھر سے دو گا۔‘‘

پروہت، ’’جس کے گھر سے چاہے لا ؤ، میں چھٹا نک بھر بھی نہ چھوڑوں گا۔ یہاں نہ دوگے، بھگوان کے گھر تو دو گے۔‘‘

شنکر کا نپ اٹھا۔ ہم پڑھے لکھے لو گ ہوتے تو کہہ دیتے، ’’اچھی بات ہے، ایشو ر کے گھر ہی دیں گے وہا ں کی تو ل یہاں سے کچھ بڑی تو نہ ہو گی۔ کم سے کم اس کا کو ئی ثبو ت ہمارے پاس نہیں۔ پھر اس کی کیا فکر؟ ‘‘ مگر شنکر اتنا عقل مند، اتنا چالاک نہ تھا۔ ایک تو قرض، وہ بھی بڑہمن کا! بہی میں نام رہے گا تو سید ھے نرک میں جاؤں گا۔ اس خیال سے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ بو لا۔ مہاراج تمہار اجتنا ہو گایہیں دوں گا۔ ایشو ر کے یہاں کیوں دوں؟ اس جنم میں تو ٹھو کر کھا ہی رہاہوں اس جنم کے لیے کیوں کا نٹے بوؤں؟ مگر یہ کو ئی نیا ئے نہیں ہے۔ تم نے رائی کا پر بت بنا دیا۔ برہمن ہو کے تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہتے تھا۔ اسی گھڑی تقاضا کر کے لیا ہوتا تو آج میر ے اوپر بڑا بوجھ کیوں پڑتا؟ میں تو دے دوں گا، لیکن تمہیں بھگوان کے یہاں جواب دینا پڑے گا؟

پروہت، ’’وہاں کا ڈر تمہیں ہوگا۔ مجھے کیوں ہونے لگا۔ وہاں تو سب اپنے ہی بھائی بند ہیں۔ رشی مُنی سب تو برہمن ہی ہیں۔ کچھ بنے بگڑے گی، سنبھال لیں گے۔ تو کب دیتے ہو؟‘‘

شنکر، ’’میرے پاس دھرا تو ہے نہیں، کسی سے مانگ جا نچ کر لا ؤ ں گا تبھی دوں گا۔‘‘

پروہت، ’’میں یہ مانوں گا۔ سات سال ہو گئے۔ اب ایک کا بھی ملا حظہ نہ کر وں گا۔ گیہوں نہیں دے سکتے تو دستاو یزلکھ دو۔‘‘

شنکر، ’’مجھے تو دینا ہے۔ چاہے گیہوں لے لو۔ چاہے دستاویزلکھاؤ کس حساب سے دام رکھو گے؟‘‘

پروہت، ’’جب دے ہی رہا ہوں تو بازار بھاؤ کا ٹوں گا۔ پاؤ بھر چھڑا کر کیوں بُر ا بنوں ۔‘‘

حساب لگایا گیا توگیہوں کی قیمت ساٹھ روپیہ بنی۔ سا ٹھ کا دستاویز لکھا گیا۔ تین روپیہ سیکڑہ سود۔ سال بھر میں نہ دینے پر سود کی شر ح ساڑہے تین روپے سیکڑہ۔ آٹھ آنے کا اسٹا مپ، ایک روپیہ دستاویز کی تحر یر شنکر کو علیحدہ دینی پڑی۔ سا رے گاؤں نے پروہت جی کی مذمت کی مگر سامنے نہیں۔ مہاجن سے سبھی کو کام پڑتاہے اس کے منہ کون لگے؟

شنکرنے سال بھر تک سخت ریاضت کی میعاد سے قبل اس نے روپیہ ادا کرنے کابرَت سا کرلیا۔ دوپہر کو پہلے بھی چولھا نہ جلتا تھا، صرف چربن پر بسر ہوتی تھی۔ اب وہ بھی بند ہوا۔ صرف لڑکے کے لیے رات کو روٹیاں رکھ دی جاتیں۔ ایک پیسہ کی تمباکو روزپی جاتا تھا۔ یہی ایک لت تھی جسے وہ کبھی نہ چھو ڑ سکا تھا۔ اب وہ بھی اس کٹھن برت کے بھینٹ ہو گئی۔ اس نے چلم پٹک دی، حقہ تو ڑ دیا اور تمبا کو کی ہانڈی چور چور رکرڈالی۔ کپڑے پہلے بھی تر ک کی انتہا ئی حد تک پہنچ چکے تھے۔ اب وہ باریک ترین قدر تی کپڑوں میں منسلک ہو گئے۔ ماگھ کی ہڈیو ں تک میں سرایت کر جانے والی سردی کو اس نے آگ کے سہارے کا ٹ دیا۔

ا س اٹل ارادے کا نتیجہ امید سے بڑھ کر نکلا۔ سال کے آخر تک اس کے پا س ساٹھ روپے جمع ہو گئے۔ اس نے سمجھا کہ پنڈت جی کواتنے روپے دے دوں گااور کہوں گامہاراج باقی روپے بھی جلدی آپ کے سامنے حاضر کردوں گا۔ پندرہ کی تو اور بات ہے۔ کیا پنڈت جی اتنا بھی نہ مانیں گے۔ اس نے روپے لیے اور لے جا کر پنڈت جی کے قدموں پر رکھ دیے۔

پنڈ ت جی نے متعجب ہو کر پوچھا، ’’کسی سے ادھار لیا کیا؟‘‘

شنکر، ’’نہیں مہاراج !آپ کی اسیس سے اب کی مجوری اچھی ملی۔‘‘

پنڈت جی، ’’لیکن یہ تو ساٹھ ہی ہیں۔‘‘

شنکر، ’’ہاں مہاراج !اتنے ابھی لے لیجیے۔ باقی دوتین مہینے مین دے دوں گا۔ مجھے ارن کر دیجیے۔‘‘

پنڈت جی، ’’ارن تو جبھی ہوں گے، جب میری کوڑی کوڑی چکا دوگے؟جاکر میرے پندرہ او رلاؤ۔‘‘

شنکر، ’’مہاراج !اتنی دیا کرو۔ اب سانجھ کی روٹیوں کا بھی ٹھکانا نہیں ہے۔ گاؤ ں میں ہوں توکبھی نہ کبھی دے ہی دوں گا۔‘‘

پنڈت، ’’میں یہ روگ نہیں پالتا۔ نہ بہت باتیں کرنا جانتاہوں۔ اگر میرے پورے روپے نہ ملیں گے تو آج سے ساڑے تین روپے سیکڑہ کا بیاج چلے گا۔ اتنے روپے چاہے اپنے گھر میں رکھو چاہے میر ے یہاں چھوڑ جاؤ۔‘‘

شنکر، ’’اچھا، جتنا لایا ہوں، اتنا رکھ لیجیے۔ میں جاتاہوں، کہیں سے پندرہ اور لانے کی فکر کرتا ہوں ۔‘‘

شنکر نے سارا گاؤ چھان مارا مگر کسی نے روپے نہ دیے۔ اس لیے نہیں کہ اس کا اعتبا ر نہ تھا، یا کسی کے پاس روپے نہ تھے، بلکہ پنڈت جی کے شکار کو چھیڑنے کی کسی میں ہمت نہ تھی۔

عمل کے بعد رد عمل کا قدرتی قاعدہ ہے۔ شنکر سال بھر تک تپسیاکرنے پر بھی جب قر ض بیباق کرنے میں کامیاب نہ ہوا تو اس کی احتیاط مایوسی کی شکل میں تبدیل ہوگئی۔ اس نے سمجھ لیاکہ جب اتنی تکلیف اٹھا نے پر سال بھر میں ساٹھ روپے سے زیادہ نہ جمع کر سکا تو اب کون سا اپا ئے ہے جس سے اس کے دونے روپے جمع ہوں۔ جب سرپر قر ض کا بو جھ ہی لدنا ہے توکیا من بھر اور کیا سوا من کا۔ اس کی ہمت پست ہوگئی محنت سے نفرت ہوگئی۔ امید ہی حوصلہ کی پیدا کرنے والی ہے۔ امید میں رونق ہے، طاقت ہے، زندگی ہے، امید ہی دنیا کی متحرک کرنے والی قوت ہے۔ شنکر مایوس ہوکر بے پر وا ہوگیا۔ وہ ضرور تیں جن کو اس نے سال بھر تک ٹال رکھا تھا۔ اب دروازے پر کھڑی ہونے والی بھکارنیں نہ تھیں، بلکہ سر پر سوار ہونے والی چڑیلیں تھیں جو اپنا چڑھا وا لیے بغیر جان ہی نہیں چھوڑتیں۔ کپڑوں میں پیوندلگنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اب شنکر کو حساب ملتا تو روپے جمع نہ کرتا۔ کبھی کپڑے لاتا اور کبھی کھانے کی کوئی چیز۔ جہاں پہلے تمباکو پیا کرتا تھاوہاں اب گانجہ اور چرس کا چسکا بھی لگا۔ اسے اب روپے ادا کرنے کی کوئی فکر نہ تھی۔ گویا اس پر کسی کا ایک پیسہ بھی نہ تھا۔ پہلے لرزہ آجانے پر بھی وہ کا م کرنے ضرور جاتا تھا۔ اب کام پر نہ جانے کا بہانہ تلاش کیا کرتا۔

اس طرح تین سال گزر گئے۔ پنڈت جی مہاراج نے ایک بار بھی تقاضانہ کیا۔ وہ ہوشیاری شکاری کی طرح تیر بہ ہد ف نشانہ لگانا چاہتے تھے۔ پہلے سے شکار کو بھڑ کا دینا ان کے شیوہ کے خلاف تھا۔

ایک روز پنڈ ت جی نے شنکر کوبلایا۔ حساب دکھایا۔ ساٹھ روپے جمع تھے وہ منہا کرنے پر بھی اب شنکر کے ذمے ایک سو بیس روپے نکلے۔

’’اتنے روپے تو اسی جنم میں دوں گا۔ اس جنم میں نہیں ہوسکتا؟‘‘

پنڈت، ’’میں اسی جنم میں لوں گا۔ اصل نہ سہی سود تو دینا ہی پڑ ے گا ۔‘‘

شنکر، ’’ایک بیل ہے وہ لے لیجیے۔ ایک جھو نپڑی ہے، وہ لے لیجیے ‘‘اور میر ے پاس رکھاکیاہے؟‘‘

پنڈت، ’’مجھے بیل بد ہیالے کرکیا کرنا ہے۔ مجھے دینے کو تمہارے پاس بہت کچھ ہے۔‘‘

شنکر، ’’اورکیا ہے مہاراج۔‘‘

پنڈت، ’’کچھ نہیں ہے، تم تو ہو؟ آخر تم بھی کہیں مزدوری کرنے ہی جاتے ہو۔ مجھے بھی کھیتی کرنے کے لیے ایک مزدور رکھناہی پڑتا ہے۔ سود میں تم ہما رے یہاں کام کیا کرو۔ جب سبھیتاہواصل بھی دے دینا۔ سچ تویہ ہے کہ اب تم دوسری جگہ کام کرنے کے لیے جانہیں سکتے۔ جب تک میر ے روپے نہ چکادو۔ تمہارے پاس کوئی جائیداد نہیں ہے۔ اتنی بڑی گٹھری میں کس اعتبار پر چھوڑدوں؟ کون اس کاذمہ لے گاتم مجھے مہینے مہینے سود دیے جاؤ گے۔ اور کہیں کما کر جب تم مجھے سود بھی نہیں دے سکتے تو اصل کی کو ن کہے؟‘‘ شنکر، ’’مہاراج !سود میں تو کا م کروں گا اور کھاؤ گاکیا؟‘‘

پنڈت، ’’تمہاری گھر والی ہے، لڑکے ہیں۔ کیا وہ ہاتھ پیر کٹا بیٹھیں گے۔تمہیں آدھ سیر جور وز چربن کے لیے دے دیا کروں گا۔ اوڑھنے کے لیے سال میں کمبل پاجاؤ گے۔ ایک سلوکا بھی بنو ادیا کروں گا، اورکیا چاہیے؟ یہ سچ ہے کہ اور لو گ تمہیں چھ آنے روز دیتے ہیں لیکن مجھے ایسی غرض نہیں ہے۔ میں تو تمہیں اپنے روپے بھر انے کے لیے رکھتا ہوں۔‘‘

شنکر نے کچھ دیر تک گہر ے سوچ میں پڑے رہنے کے بعد کہا، ’’مہاراج !یہ تو جنم بھر کی گلامی ہوئی؟‘‘

پنڈت، ’’غلامی سمجھو، چاہے مجوری سمجھو۔ میں اپنے روپے بھرائے بنا تمہیں نہ چھوڑوں گا۔ تم بھا گو گے تو تمہارا لڑکا۔ ہا ں جب کوئی نہ رہے گاتب کی بات دوسری ہے۔‘‘

اس فیصلہ کی کہیں اپیل نہ تھی۔ مزدور کی ضمانت کون کرتا؟ کہیں پناہ نہ تھی؟ بھاگ کر کہاں جاتا؟ دوسرے روز سے اس نے پنڈت جی کے ہاں کام کرنا شروع کردیا۔ سوا سیر گیہوں کی بدولت عمر بھر کے لیے غلامی کی بیڑ یا ں پاؤں میں ڈالنی پڑیں۔ اس بد نصیب کو اب اگر کسی خیال سے تسکین ہوتی تھی۔ تو اسی سے کہ یہ سب میرے پچھلے جنم کا بھو گ ہے۔ عورت کووہ کا م کرنے پڑے تھے جو اس نے کبھی نہ کیے تھے۔ بچے دانے دانے کو ترستے تھے، لیکن شنکر چپ دیکھنے کے سوااور کچھ نہ کر سکتا تھا۔ وہ گیہوں کے دانے کسی دیوتا بد ھا کی طرح تمام عمر اس کے سر سے نہ اترے۔

شنکر نے پنڈت جی کے یہاں بیس برس تک غلامی کرنے کے بعد اس غم کدے سے رحلت کی۔ ایک سو بیس ابھی تک اس کے سر پر سوار تھے۔ پنڈت جی نے اس غریب کو ایشور کے دربار میں تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا۔ پس انہوں نے اس کے جوان بیٹے کی گردن پکڑی۔ آج تک وہ پنڈت جی کے یہاں کام کرتا ہے۔ اس کا ادھار کب ادا ہو گا، ہو گا بھی یا نہیں، ایشور ہی جانے۔

مأخذ :
کے منتخب افسانے

14/12/2021

‏احمد نورانی کی خبر جھوٹی ثابت ہوئی۔سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار کی آڈیو جو فیکٹ فوکس نے جاری کی تھی وہ جعلی نکلی۔

Address

Burewala Road
Chichawatni
57200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chak No 164 A9L posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram