Royal Herbs

Royal Herbs Human infertility is cured by Royal Herbs
in 40 days treatment

01/04/2023
معدے کا کینسر ایک ایسی بیماری ہے جس میں معدے کی پرت میں مہلک (کینسر) خلیے بنتے ہیں۔ عمر، خوراک اور پیٹ کی بیماری گیسٹرک ...
13/01/2023

معدے کا کینسر ایک ایسی بیماری ہے جس میں معدے کی پرت میں مہلک (کینسر) خلیے بنتے ہیں۔
عمر، خوراک اور پیٹ کی بیماری گیسٹرک کینسر کے خطرے کو متاثر کر سکتی ہے۔

اگرچہ کئی خطرے والے عوامل بیان کیے گئے ہیں، ہیلیکوبیکٹر پائلوری انفیکشن اور گیسٹرک کینسر کی خاندانی تاریخ گیسٹرک کینسر کے دو اہم خطرے والے عوامل ہیں۔

ان لوگوں میں پیٹ کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جن کی خوراک میں نمکین کے ذریعے محفوظ کی جانے والی بڑی مقدار میں غذائیں شامل ہوتی ہیں،
جیسے نمکین مچھلی اور گوشت اور اچار والی سبزیاں۔ پراسیس شدہ، گرل یا چارکول بند گوشت باقاعدگی سے کھانے سے غیر کارڈیا پیٹ کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
علامات:
مسلسل بدہضمی.
کھانا معدے میں پھنسا ہوا ہوامحسوس ھو نا اور بار بار الٹی گرنا۔
سینے اور معدے میں جلن کا احساس.
کھاتے وقت بہت جلد پیٹ بھرا محسوس ہوتا ہے۔
کھانے کے بعد پھولا ہوا محسوس کرنا۔
بیماری کا احساس.
آپ کے پیٹ یا چھاتی کی ہڈی میں درد۔
نگلنے میں دشواری (dysphagia)

مونگ پھلی                        مونگ پھلی کو بیشتر لوگ سرد موسم میں رات کے وقت کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں، اس کے کھانے س...
03/12/2022

مونگ پھلی

مونگ پھلی کو بیشتر لوگ سرد موسم میں رات کے وقت کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں، اس کے کھانے سے آپ کو صحت کے حیرت انگیز فوائد بھی ملتےہیں۔

مونگ پھلی کئی غذائی اجزاء سے لدی ہوتی ہے، مٹھی بھر مونگ پھلی کا استعمال آپ کو ایک ساتھ کئی غذائی اجزاء دیتا ہے لہٰذا ماہرین کہتے ہیں کہ اچھے ذائقے سے لطف اندوز ہونے اور حیرت انگیز فوائد حاصل کرنے کے لیے مونگ پھلی کو لازمی اپنی خوراک میں شامل کریں۔

مونگ پھلی کے فوائد:

پروٹین کا بہترین ذریعہ:

100 گرام مونگ پھلی میں تقریباََ 25 سے 25.8 گرام پروٹین ہوتا ہے۔ پروٹین انسانی جسم کے لیے ضروری ہے، مونگ پھلی کو محدود مقدار میں کھانے سے آپ کو پروٹین ملے گا، مونگ پھلی کا مکھن بھی پروٹین کا ایک معروف ذریعہ ہے۔

وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے:

مونگ پھلی میں چربی کی مقدار کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہمیں وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے مگر اس کا اعتدال میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ یہ پروٹین اور فائبر سے بھری ہوئی ہوتی ہے جو وزن کم کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔

قلبِ صحت کو فروغ دیتی ہے:

مونگ پھلی آپ کو مختلف عوامل پر قابو پانے میں مدد کر سکتی ہے، یہ آپ کو دل کی بیماریوں کے خطرے سمیت کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتی ہے، یہ آپ کی دل کی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مدد کر تی ہے۔

بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرتی ہے:

مونگ پھلی ایک کم گلیسیمک خوراک ہے جو اسے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اچھا بناتی ہے۔ گلیسیمیک انڈیکس بلڈ شوگر لیول پر کھانے کے اثرات کو بیان کرتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض اپنی ذیابیطس کی خوراک میں مونگ پھلی کو محدود مقدار میں شامل کر سکتے ہیں۔ غذا میں سادہ تبدیلیاں آپ کو بلڈ شوگر لیول کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

بہت سے معدنیات اور وٹامنز سے لدے ہوئے:

مونگ پھلی کئی ضروری غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتی ہے۔ یہ آپ کو پروٹین، اومیگا 3، اومیگا 6، فائبر، تانبا ، فولیٹ، وٹامن ای، تھامین، فاسفورس اور میگنیشیم پیش کر سکتی ہے۔ یہ آپ کو ایک ساتھ کئی غذائی اجزاء مہیا کر سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق مونگ پھلی کا استعمال کرنے والے بیشتر افراد کو مونگ پھلی کے فوائد تو معلوم ہی ہوں گے لیکن اس بات کا علم نہیں ہوگا کہ مونگ پھلی کس وقت نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

جسم میں خارش

جسم میں خارش ہونے صورت میں مونگ پھلی نہیں کھانا چاہئے اس سے خارش کے مرض میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

حاملہ خواتین

حاملہ خواتین کے لیے انتباہ ہے کہ وہ مونگ پھلی کا استعمال ترک کردیں اگر انہیں یہ خشک میوہ مرغوب ہے اور اسے کھانا چاہتی ہیں تو پلے اپنے فیملی ڈاکٹر سے رائے لے لیں، اسی طرح کھانسی کی صورت میں مونگ پھلی کا استعمال بالکل نہ کریں کیونکہ ایک تیلی سے بھرپور میوہ ہے جو کھانسی میں اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔

معدے کے مریض

یرقان اور معدے کے مرض میں مبتلا افراد بھی مونگ پھلی کے زائد استعمال سے دور رہیں تاہم کم کھانے سے انہیں کوئی خاص نقصان نہیں ہوگا۔

سانس کے مریض

سانس کے مرض میں مبتلا یا دمہ کے مریضوں کو بھی مونگ پھلی کا استعمال فائدے کے بجائے نقصان میں مبتلا کرسکتا ہے۔

معدے میں تیزابیت

اسی طرح جن افراد کے معدے میں تیزابیت ہو ان کو بھی مونگ پھلی سے دور رہنا چاہئے کیونکہ خشک میوہ جات گرم تاثر رکھتا ہے اس لیے مونگ پھلی بھی تیزابیت یا معدے میں گرمی کے مرض میں اضافے کا سبب بنتی ہے تاہم صحت مند معدے کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔
سائنسی معلومات😎
( معلومات روزنامہ جنگ اور اے، آر، وائی نیوز کی اشاعت سے لی گئی ہے۔)

*🥀مولی کے فوائد* 🥀          ========    سبزیوں کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، مگر بعض سبزیوں کو ہم کم ہی اہمیت دی...
01/12/2022

*🥀مولی کے فوائد* 🥀
========

سبزیوں کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، مگر بعض سبزیوں کو ہم کم ہی اہمیت دیتے ہیں، حالانکہ ان میں صحت، توانائی اور بیماریوں سے بچاؤ کا بیش بہا خزانہ ہوتاہے۔ انھی سبزیوں میں سے ایک مولی بھی ہے۔

مولی برصغیر پاک وہند میں سب سے زیادہ کھائی جانے والی سبزی ہے۔ مولی کے تمام فوائد حاصل کرنے کے لیے اسے کچی حالت میں ہی کھانا چاہیے۔ پکانے پر اس کے حیاتین (وٹامنز) ضائع ہوجاتے ہیں۔

مولی ایک جڑ ہے، اس کا رنگ عموماً سفید ہوتا ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں: ایک لمبی اور دوسری گول۔ یہ شلجم، کھیرے اور ٹماٹر کی طرح سلاد کے طور پر کچی کھائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بطور تر کاری پکائی بھی جاتی ہے۔

مولی میں فاسفورس، کیلسیئم اور حیاتین ج (وٹامن سی) کے علاوہ فولاد کی بھی کافی مقدار ہوتی ہے۔

مولی بواسیر، تلی کے ورم، یرقان، معدے اور پتے کے امراض دور کرنے کے لیے اکسیر ہے۔ مولی یورک ایسڈ کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ گردے صاف کرتی اور فضلات کو خارج کرتی ہے۔

ایشیائی ملکوں، بالخصوص چین میں مولی کو کئی کھانوں کا جزو لازم سمجھا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں دورنگوں کی مولی پائی جاتی ہے: ایک سرخ اور دوسری سفید رنگ کی، مگر عرب ممالک میں سرخ مولی زیادہ مقبول اور پسندیدہ ہے۔

مولی ریشے سے بھر پور سبزی ہے۔ مولی کھانے کے چند فوائد یہ ہیں: بھوک بڑھانے میں مدد گار، جسم میں موجود مضر صحت جراثیم کے خاتمے میں معاون، جگر کے مسائل دور کرنے میں موٴثر، زہریلے اثرات بالخصوص سانپ کا زہر دور کرنے کا ذریعہ، چہرے کی بشاشت بڑھانے میں فائدہ مند،بال گرنے سے روکنے میں سود مند، معدے کی جلن دور کرنے، معدے کو اندر سے صاف کرنے میں مفید، پیچش سے نجات دلانے، سانس کے امراض ختم کرنے میں مفید اور اعصابی مسائل کے حل میں اعانت کرتی ہے۔

اس کے علاوہ مولی کے اور بھی بہت سے فائدے ہیں۔ مولی میں حیاتین الف، ب، ج اور د (وٹامنز اے، بی، سی اور ڈی) ہوتی ہیں۔ گرتے بالوں کو روکنے کے لیے مولی کا باقاعدہ استعمال کریں۔ گنج پر مولی کا پانی ملیں۔ یہ کمزوری دور کرنے اور پتھری خارج کرنے کے لیے بھی مفید ہے۔ غذا کو فوراً ہضم کرتی ہے۔

یرقان میں مولی کے پتوں کا پانی نکال کر گرم کرکے گڑ یا شکر ملا کر بار بار پلائیں، فائدہ ہو گا۔ یرقان کے مرض میں مولی کے پتوں کا رس نکال کر چینی ملا کر پلانے سے مریض شفایاب ہو جاتا ہے۔

مولی کی بھجیا بھی مفید ہے، تلی بڑھی ہوئی ہوتو مولی اور سر کے کا کھانا بہت فائدہ مند ہے۔ پرانے نزلے میں مولی کا پانی اور لیموں کا رس ملا کر پلانے سے فائدہ ہوتا ہے، گلے کے درد میں مولی کے ساتھ لہسن کا کھانا مفید ہوتاہے۔

شراب، ہیروئن اور دوسری نشہ آور اشیا سے نجات حاصل کرنے کے لیے مولی کے سبزپتے پانی میں پیس کردوچمچے شہد ڈال کر ایک پیالی ایک ماہ تک صبح نہار منھ اور سوتے وقت پلائیں، جلد نجات مل جائے گی۔

حلق کا ورم اور خناق میں مولی کے پانی میں لیموں کا رس اور شہد ملا کر چٹانے سے افاقہ ہوتا ہے۔

بواسیر کے خاتمے کے لیے روزانہ دو مولیوں پر چینی لگا کر کھائیں یا مولی کے پتے چینی ملا کر روزانہ کھائیں۔ مولی یا اس کے پتے کھانے سے پیٹ کے کیڑے ختم ہو جاتے ہیں۔ ذیا بیطس کے مریضوں کو زمین کے اندر پیدا ہونے والی سبزیاں کھانے سے منع کیا جاتا ہے، لیکن مولی میں یہ خاصیت ہے کہ یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید ہے اور خون میں شکر کی سطح کو قابو میں رکھتی ہے۔

کان کے درد سے چھٹکارا پانے کے لیے مولی کے رس میں ہم وزن تلوں کا تیل ملائیں اور ہلکی آنچ پر پکائیں، جب رس جل جائے اور خالی تیل رہ جائے تو اسے چھان کر بوتل میں محفوظ کر لیں اور نیم گرم تیل کے چند قطرے کانوں میں ٹپکائیں، اس سے درد اور کان کی دیگر بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔

مولی کے نمک کو کھار کہتے ہیں، یہ کبھی مولی کی جڑ اور کبھی پتوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ مولی کی جڑیا اس کے پتوں کو خشک کرکے جلا کر اس کی راکھ حاصل کرلی جاتی ہے، جس کو بار بار صاف ستھرے باریک کپڑے سے پانی میں حل کرتے ہیں، پھر اس پانی کو پکاتے ہیں تو نمک جم جاتا ہے۔ ایک پاؤ راکھ سے 12تولہ کھار حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اس کا فائدہ یہ ہے کہ پیٹ کی خرابی اور بدہضمی کو دور کرتا، کھانے کو جلد ہضم کرتا اور بھوک بڑھاتا ہے۔ ریاح کو تحلیل کرتا اور پیٹ کے نفخ میں مفید ہے۔

مولی معدے میں تیزابیت کو کم کرتی اور سینے کی جلن کا خاتمہ کرتی ہے۔ مولی میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں، جو سرطانی خلیوں (سیلز) سے لڑتے ہیں۔ مولی خون میں پوٹاشیئم اور سوڈیئم کی مقدار کو مناسب رکھتی ہے، جس کی وجہ سے بلڈ پریشر قابو میں رہتا ہے۔ گردے یا مثانے میں پتھری کی صورت میں روزانہ مولی کھانے سے پتھری ریزہ ریزہ ہو کر جسم سے خارج ہو جاتی ہے۔

بواسیر کے مرض میں مولی کا رس اور مولی کے پتے مریض کو کھلانے سے شفا ملتی ہے۔ مولی کھانے سے جگرکی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔ مولی انتڑیوں کی حرکت تیز کرتی ہے اور اس طرح قبض دور ہو جاتا ہے۔

بچھو پر اگر مولی کا رس ڈالا جائے تو فوراً مر جاتاہے، مولی کے بیج بھی بڑے کا ر آمد ہوتے ہیں۔ آدھا تولہ مولی کے بیج اگر نیم گرم پانی سے کھلائے جائیں تو بند حیض جاری ہوجاتا ہے۔

کسی بھی درد والی جگہ پر مولی کے بیج لیموں کے رس میں ملا کر پیس کر لگانے سے آرام آجاتاہے۔ ٹھنڈے پانی سے مولی اور نمک کھانے سے پیشاب کا رک رک کر آنا، کم آنا اور قطرہ قطرہ آنے کی شکایت دور ہو جاتی ہے۔

مولی کھانے کے بعد گڑ کھانے سے مولی جلد ہضم ہو جاتی ہے اور منھ سے بُو اور ڈکار وغیرہ بھی نہیں آتی۔ تلی کے امراض میں مولی کھانا بہت مفید ہے ۔اس کے کھانے کا طریقہ یہ ہے کہ مولی کاٹ کر چھیل کر کالی مرچ اور ہلکا سا نمک لگا کر رات کو کھلے آسمان کے نیچے رکھ دیں تاکہ وہ اوس میں بھیگ جائے۔ صبح نہار منھ کھا لیں، مولی کو رات میں کھانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ نقل شد

10/08/2022

*دنیا میں سب سے زیادہ اموات كولیسٹرول* *Choledstrol* *بڑھنے کی وجہ سے ہارٹ اٹیک* *Heart Attack* *سے ہوتی ہیں.*
*آپ خود اپنے ہی گھر میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتے ہوں گے جن کا وزن اور كولیسٹرول بڑھا ہوا ھے.*
*اگر آپ کو کوئی تکلیف ہوئی تو ڈاکٹر کہے گا *Angioplasty* *(اےنجيوپلاسٹي)* كرواؤ .اس آپریشن میں ڈاکٹر دل کی نالی میں ایک *Spring* ڈالتے ہیں جسے stent کہتے ہیں.یہ *Stent* امریکہ میں بنتا ہے اور *اس کا Cost of Production صرف 3 ڈالر (300 یا 350 روپے ہے).*
اسی stent کو پاک و ہند میں لاکر *3 یا 5 لاکھ روپے* میں فروخت کیا جاتا ہے اور آپ کو لوٹا جاتا ہے. *ڈاکٹروں کو ان روپوں کا *Commission* *ملتا ہے* ، اسی لیے وہ آپ سے بار بار کہتا ہے کہ Angioplasty كرواؤ .
*Cholestrol، BP ya heart attack*
آنے کی اہم وجہ ہے، Angioplasty آپریشن. یہ کبھی کسی کا کامیاب نہیں ہوتا.كيونکے ڈاکٹر جو spring دل کی نالی میں رکھتا ہے وہ بالکل pen کی spring کی طرح ہوتی ہے.
*کچھ ہی مہينوں میں اس spring دونوں سائیڈوں پر آگے اور پیچھے blockage *(cholesterol اور fat)* جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے.اس کے بعد پھر آتا ہے دوسرا *Heart Attack (ہارٹ اٹیک)*
*ڈاکٹر کہتا هے دوبارہ Angioplasty كرواؤ* .آپ لاكھوں روپے لٹاتے ھیں اور آپ کی زندگی اسی میں نکل جاتی ھے
*اب پڑھیں اس بیماری کا علاج*۔

*ادرک (Ginger Juice)* -یہ خون کو پتلا کرتا ھے.
*یہ درد کو قدرتی طریقے سے 90٪ تک کم کرتا هے*

*لہسن (Garlic Juice)*
*اس میں موجود Allicin عنصر cholesterol اور BP کو کم کرتا ھے*.
*وہ دل کے بلوکج کو کھولتا ھے*.

*لیموں(Lemon Juice)*اس میں موجود* *Antioxidants* *vitamin C اور* potassium خون کو صاف کرتے ہیں.
یہ بیماری کے خلاف مزاحمت (immunity) بڑھاتے ہیں.

*ایپل سائڈر سرکہ (Apple Cider Vinegar)*
اس میں 90 قسم کے عناصر ہیں جو جسم کے سارے اعصاب کو کھولتے ھیں، پیٹ صاف کرتے ہیں اور تھکاوٹ کو مٹاتے ہیں
ان مقامی یعنی چیزوں کو
اس طرح استعمال میں لایئں

*1-ایک کپ لیموں کا رس لیں.*

*2-ایک کپ ادرک کا رس لیں.*

*3-ایک کپ لہسن کا رس لیں.*

*4 ۔ایک کپ ایپل apple سرکہ ان چاروں کو ملا کر دھيمي آنچ پر گرم کریں جب 3 کپ رہ جائے تو اسے ٹھنڈا کر لیں.اب آپ اس میں 3 کپ شہد ملا لیں.*

روز اس دوا کے 3 چمچ صبح خالی پیٹ لیں جس سے سارے
ساری بلوکج ختم ہو جائیں گی.
یعنی شریانیں کھل جائینگی .

*إن شاء اللہ.*
*جزاکم اللہ خیرا .*
ذرا سوچیں کہ شام کے
7:25 بجے ھیں اور آپ گھر جا رہے ھیں وہ بھی بالکل اکیلے .
ایسے میں اچانک آپ کے سینے میں تیز درد ہوتا ہے جو آپ کے ہاتھوں سے ھوتا ہوا آپ
جبڑوں تک پہنچ جاتا ہے .

آپ اپنے گھر سے سب سے قریب ہسپتال سے 5 میل دور ہیں اور اتفاق سے آپ کو یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ آپ وهاں تک پہنچ پائیں گے یا نہیں .
آپ نے سی پی آر میں تربیت لی ہے مگر وہاں بھی آپ کو یہ نہیں سکھایا گیا کہ اس کو خود پر استعمال کس طرح کرنا ہے .

*ایسے میں دل کے دورے سے بچنےکے لئے یہ اقدامات کریں*
چونکہ زیادہ تر لوگ دل کے دورے کے وقت اکیلے ہوتے ہیں بغیر کسی کی مدد کے انہیں سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے. وہ بے ہوش ہونے لگتے ہیں اور ان کے پاس صرف 10 سیکنڈ ہوتے ہیں
*ایسی حالت میں مبتلا شخص زور زور سے کھانس کر خود کو عام رکھ سکتا ہے.*

*ایک زور کی سانس لینی چاہئے ہر کھانسی سے پہلےاور کھانسی اتنی تیز ہو کہ سینے سے تھوک نکلے.*

جب تک مدد نہ آئے یہ
عمل دو سیکنڈ کے وقفے سے دہرایا جائے تاکہ دھڑکن عام ہو جائے.

*زور کی سانسیں پھیپھڑوں میں آکسیجن پیدا کرتی ہے*

*اور زور کی کھانسی کی وجہ سے دل سكڑتا ہے جس سےخون باقاعدگی سےچلتا ہے.*

*جہاں تک ممکن ہو اس پیغام کو سب تک پہنچائیں .*

فالسہ🎈 آجکل مارکیٹ میں آ چکا ہے🍁🌿ماہرین کا کہنا ہے کہ فالسہ کا استعمال گرمی کی شدت سے محفوظ رہنے اور پیاس بجھانے کا اہم ...
12/05/2022

فالسہ🎈 آجکل مارکیٹ میں آ چکا ہے🍁🌿
ماہرین کا کہنا ہے کہ فالسہ کا استعمال گرمی کی شدت سے محفوظ رہنے اور پیاس بجھانے کا اہم ذریعہ ہے۔

👈👈 فوائد:
یہ سرد تاثیر کا حامل پھل ہے جس کی وجہ سے معدے کی گرمی، سینے کی جلن، مسوڑھوں سے خون آنا، معدے کے السر اور شوگر میں کمی کرتا ہے۔

⬅ فالسہ معدہ و جگر کو تقویت دیتا ہے اور جسم سے گرمی کا اخراج کرتا ہے۔
⬅ فالسہ دل کو بھی صحت مند رکھتا ہے۔
یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور پھل ہے جس سے کینسر کے خطرے میں کمی کی جاسکتی ہے۔
⬅ فالسہ خون کو صاف کرتا ہے جس سے جلد بھی شفاف اور صحت مند رہتی ہے۔
⬅ فالسے کا جوس نظام ہاضمہ کے لیے بہترین ہے۔ یہ نظام ہاضمہ کے افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔
⬅ یہ جسم کو ٹھنڈک پہنچانے کے ساتھ جسم میں پانی کی کمی کو دور بھی کرتا ہے۔
⬅ شدید گرمی اور لو میں فالسے کا شربت سن اسٹروک سے محفوظ رکھتا ہے۔

👈👈فالسے کا شربت
موسم گرما میں فالسے کا شربت ایک تحفہ سے کم نہیں۔ فالسہ کیونکہ بہت کم عرصے کے لئے آتا ہے اس لئے اس کا شربت بنا کر محفوظ کرلیا جائے تو کافی عرصے تک فالسے کے کھٹے میٹھے فرحت بخش مشروب کا لطف اٹھایا جاسکتا ہے۔

👈👈 اس کے بنانے کا طریقہ درج ذیل ہے:

👈اشیاء
فالسہ آدھا کلو
چینی ایک کلو
پانی ایک لیٹر
👈👈👈ترکیب تیاری:
ایک کھلے برتن میں فالسہ ڈال کر اسے خوب اچھی طرح سے مسل لیں(یا بلینڈر سے بلینڈلیں) اور پھر پانی ڈال کر باریک کپڑے میں چھان لیں۔ اس کے بعد اس میں چینی ڈال کر پکائیں اور جب ایک تار بن جائے تو اتار لیں۔ ٹھنڈا ہونے پر شیشے کی صاف بوتل میں محفوظ کر لیں اور بوقت ضرورت استعمال کر تے رہیں۔

Yaa Shaafi
21/02/2022

Yaa Shaafi

17/02/2022

*خدا کی قدرت*
"" "" "" *جنات کا سائنسی تجزیہ* "" "" ""
ایک *سائنسدان* کے قلم سے۔۔۔۔
بہت دلچسپ۔۔۔ضرور پڑھیں

‏جنات *اللہ* کی مخلوق ہیں یہ ہمارا یقین ہے ،
وہ آگ سے پیدا کیے گئے ،
ان میں شیاطین و نیک صفت دونوں موجود ہیں
اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے یہ تھریڈ اس بارے میں نہیں ہے ۔

یہ تھریڈ جنات کی سائینٹیفیک تشریح کے بارے میں ہے ۔
کیا وہ ہمارے درمیان ہی موجود ہیں ؟

اور زیادہ اہم سوال یہ کہ ہم انہیں دیکھ کیوں نہیں سکتے ؟

لفظ جن کا ماخذ ہے ‘‘نظر نہ آنے والی چیز’’ اور اسی سے جنت یا جنین جیسے الفاظ بھی وجود میں آئے ۔
جنات آخر نظر کیوں نہیں آتے ؟
اس کی دو وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں ۔
پہلی وجہ یہ کہ انسان کا ویژن بہت محدود ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس کائینات میں ‏جو (electromagnetic spectrum)
بنایا ہے اس کے تحت روشنی 19 اقسام کی ہے ۔
جس میں سے ہم صرف ایک قسم کی روشنی دیکھ سکتے ہیں جو سات رنگوں پر مشتمل ہے ۔
میں آپ کو چند مشہور اقسام کی روشنیوں کے بارے میں مختصراً بتاتا ہوں ۔

اگر آپ gamma-vision میں دیکھنے کے قابل ہو جائیں تو آپ کو دنیا ‏میں موجود ریڈی ایشن نظر آنا شروع ہو جائے گا ۔

اگر آپ مشہور روشنی x-ray vision میں دیکھنے کے قابل ہوں تو آپ کے لیے موٹی سے موٹی دیواروں کے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا ہو جائے گی ۔

اگر آپ infrared-vision میں دیکھنا شروع کر دیں تو آپ کو مختلف اجسام سے نکلنے والی حرارت نظر آئے گی ۔

‏روشنی کی ایک اور قسم کو دیکھنے کی صلاحیت ultraviolet-vision کی ہو گی جو آپ کو اینرجی دیکھنے کے قابل بنا دے گا ۔
اس کے علاوہ microwave-vision اور radio wave-vision جیسی کل ملا کر 19 قسم کی روشنیوں میں دیکھنے کی صلاحیت سوپر پاور محسوس ہونے لگتی ہے ۔

کائینات میں پائی جانی والی تمام ‏چیزوں کو اگر ایک میٹر کے اندر سمو دیا جائے تو انسانی آنکھ صرف 300 نینو میٹر کے اندر موجود چیزوں کو دیکھ پائے گی ۔
جس کا آسان الفاظ میں مطلب ہے کہ ہم کل کائینات کا صرف % 0.0000003 فیصد حصہ ہی دیکھ سکتے ہیں ۔
انسانی آنکھ کو دکھائی دینے والی روشنی visible light کہلاتی ہے اور یہ‏ الٹرا وائیلٹ اور انفراریڈ کے درمیان پایا جانے والا بہت چھوٹا سا حصہ ہے ۔

ہماری ہی دنیا میں ایسی مخلوقات موجود ہیں جن کا visual-spectrum ہم سے مختلف ہے ۔
سانپ وہ جانور ہے جو انفراریڈ میں دیکھ سکتا ہے
ایسے ہی شہد کی مکھی الٹراوائیلٹ میں دیکھ سکتی ہے ۔
دنیا میں سب سے زیادہ رنگ ‏مینٹس شرمپ کی آنکھ دیکھ سکتی ہے ،
الو کو رات کے گھپ اندھیرے میں بھی ویسے رنگ نظر آتے ہیں جیسے انسان کو دن میں ۔
امیرکن کُک نامی پرندہ ایک ہی وقت میں 180 ڈگری کا منظر دیکھ سکتا ہے ۔
جبکہ گھریلو بکری 320 ڈگری تک کا ویو دیکھ سکتی ہے ۔
درختوں میں پایا جانے والا گرگٹ ایک ہی وقت میں ‏دو مختلف سمتوں میں دیکھ سکتا ہے
جبکہ افریقہ میں پایا جانے والا prongs نامی ہرن ایک صاف رات میں سیارے saturn کے دائیرے تک دیکھ سکتا ہے ۔ اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انسان کی دیکھنے کی حِس کس قدر محدود ہے اور وہ اکثر ان چیزوں کو نہیں دیکھ پاتا جو جانور دیکھتے ہیں ۔

‏ترمذی شریف کی حدیث نمبر 3459 کے مطابق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ
جب تم مرغ کی آواز سنو تو اس سے اللہ کا فضل مانگو کیوں کہ وہ اسی وقت بولتا ہے جب فرشتے کو دیکھتا ہے.........
اور جب گدھے کی رینکنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو کیوں کہ اس وقت وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔

‏جب میں نے مرغ کی آنکھ کی ساخت پر تحقیق کی تو مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مرغ کی آنکھ انسانی آنکھ سے دو باتوں میں بہت بہتر ہے ۔
پہلی بات کہ جہاں انسانی آنکھ میں دو قسم کے light-receptors ہوتے ہیں وہاں مرغ کی آنکھ میں پانچ قسم کے لائیٹ ریسیپٹرز ہیں ۔
اور دوسری چیز fovea جو‏انتہائی تیزی سے گزر جانے والی کسی چیز کو پہچاننے میں آنکھ کی مدد کرتا ہے جس کی وجہ سے مرغ ان چیزوں کو دیکھ سکتا ہے جو روشنی دیں اور انتہائی تیزی سے حرکت کریں

اور اگر آپ گدھے کی آنکھ پر تحقیق کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اگرچہ رنگوں کو پہچاننے میں گدھے کی آنکھ ہم سے بہتر نہیں ہے لیکن‏ گدھے کی آنکھ میں rods کی ریشو کہیں زیادہ ہے اور اسی وجہ سے گدھا اندھیرے میں درختوں اور سائے کو پہچان لیتا ہے یعنی آسان الفاظ میں گدھے کی آنکھ میں اندھیرے میں اندھیرے کو پہچاننے کی صلاحیت ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔

البتہ انسان کی سننے کی حِس اس کی دیکھنے کی حس سے بہتر ہے اگرچہ دوسرے‏ جانوروں کے مقابلے میں پھر بھی کم ہے
مثال کے طور پہ نیولے نما جانور بجو کے سننے کی صلاحیت سب سے زیادہ یعنی 16 ہرٹز سے لے کر 45000 ہرٹز تک ہے
اور انسان کی اس سے تقریباً آدھی یعنی 20 ہرٹز سے لے کر 20000 ہرٹز تک ۔
اور شاید اسی لیے جو لوگ جنات کے ساتھ ہوئے واقعات رپورٹ کرتے ہیں وہ‏ دیکھنے کے بجائے سرگوشیوں کا زیادہ ذکر کرتے ہیں ۔
ایک سرگوشی کی فریکوئینسی تقریباً 150 ہرٹز ہوتی ہے
اور یہی وہ فریکوئینسی ہے
جس میں انسان کا اپنے ذہن پر کنٹرول ختم ہونا شروع ہوتا ہے ۔
اس کی واضح مثال ASMR تھیراپی ہے
جس میں 100 ہرٹز کی سرگوشیوں سے آپ کے ذہن کو ریلیکس کیا جاتا ہے ۔‏
اس تھریڈ کے شروع میں ، میں نے جنات کو نہ دیکھ پانے کی دو ممکنہ وجوہات کا ذکر کیا تھا جن میں سے ایک تو میں نے بیان کر دی لیکن
دوسری بیان کرنے سے پہلے میں ایک چھوٹی سی تھیوری سمجھانا چاہتا ہوں ۔

سنہ 1803 میں ڈالٹن نامی سائینسدان نے ایک تھیوری پیش کی تھی کہ کسی مادے کی سب سے چھوٹی‏ اور نہ نظر آنے والی کوئی اکائی ہو گی اور ڈالٹن نے اس اکائی کو ایٹم کا نام دیا ۔
اس بات کے بعد 100 سال گزرے جب تھامسن نامی سائینسدان نے ایٹم کے گرد مزید چھوٹے ذرات کی نشاندہی کی جنہیں الیکٹرانز کا نام دیا گیا ۔
پھر 7 سال بعد ردرفورڈ نے ایٹم کے نیوکلیئس کا اندازہ لگایا ،
صرف 2 سال‏بعد بوہر نامی سائینسدان نے بتایا کہ الیکٹرانز ایٹم کے گرد گھومتے ہیں
اور دس سال بعد 1926 میں شورڈنگر نامی سائینسدان نے ایٹم کے اندر بھی مختلف اقسام کی اینرجی کے بادلوں کو دریافت کیا ۔

جو چیز 200 سال پہلے ایک تھیوری تھی ، آج وہ ایک حقیقت ہے ، اور آج ہم سب ایٹم کی ساخت سے واقف ہیں‏ حالانکہ اسے دیکھ پانا آنکھ کے لیے آج بھی ممکن نہیں ۔
ایسی ہی ایک تھیوری 1960 میں پیش کی گئی جسے string theory کہتے ہیں ۔ اس کی ڈیٹیلز بتانے سے پہلے میں ایک بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔
انسان کی حرکت آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ، اوپر اور نیچے ہونا ممکن ہے جسے‏جسے تین ڈائیمینشنز یا 3D کہتے ہیں ۔ ہماری دنیا یا ہمارا عالم انہی تین ڈائیمینشز کے اندر قید ہے ہم اس سے باہر نہیں نکل سکتے ۔

لیکن string theory کے مطابق مزید 11 ڈائیمینشنز موجود ہیں ۔ میں ان گیارہ کی گیارہ ڈائیمینشنز میں ممکن ہو سکنے والی باتیں بتاؤں گا ۔

اگر آپ پہلی ڈائیمینش‏....
میں ہیں تو آپ آگے اور پیچھے ہی حرکت کر سکیں گے ۔

اگر آپ دوسری ڈائیمینشن....
میں داخل ہو جائیں تو آپ آگے پیچھے اور دائیں بائیں حرکت کر سکیں گے ۔

تیسری ڈائیمینشن .....
میں آپ آگے پیچھے دائیں بائیں اور اوپر نیچے ہر طرف حرکت کر سکیں گے اور یہی ہماری دنیا یا جسے ہم اپنا عالم کہتے ہیں ، ہے ۔‏اگر آپ کسی طرح سے
چوتھی ڈائیمینشن....
میں داخل ہو جائیں تو آپ وقت میں بھی حرکت کر سکیں گے ۔

پانچویں ڈائیمینشن.....
میں داخل ہونے پر آپ اس عالم سے نکل کر کسی دوسرے عالم میں داخل ہونے کے قابل ہو جائیں گے جیسا کہ عالم ارواح ۔

چھٹی ڈائیمینشن .....
میں آپ دو یا دو سے زیادہ عالموں میں حرکت کرنے کے‏قابل ہو جائیں گے اور میرے ذہن میں عالم اسباب کے ساتھ عالم ارواح اور عالم برزخ کا نام آتا ہے ۔

ساتویں ڈائیمینشن....
آپ کو اس قابل بنا دے گی کہ اس عالم میں بھی جا سکیں گے جو کائینات کی تخلیق سے پہلے یعنی بِگ بینگ سے پہلے کا تھا۔

آٹھویں ڈائیمینشن....
آپ کو تخلیق سے پہلے کے بھی مختلف عالموں‏ میں لیجانے کے قابل ہو گی ۔

نویں ڈائیمینشن....
ایسے عالموں کا سیٹ ہو گا جن میں سے ہر عالم میں فزیکس کے قوانین ایک دوسرے سے مکمل مختلف ہوں گے ۔ ممکن ہے کہ وہاں کا ایک دن ہمارے پچاس ہزار سال کے برابر ہو ۔

اور آخری اور دسویں ڈائیمینشن ۔۔۔
اس میں آپ جو بھی تصور کر سکتے ہیں ، جو بھی سوچ‏ سکتے ہیں اور جو بھی آپ کے خیال میں گزر سکتا ہے ، اس ڈائیمینشن میں وہ سب کچھ ممکن ہو گا ۔

اور میری ذاتی رائے کے مطابق جنت ۔۔۔ شاید اس ڈائیمینشن سے بھی ایک درجہ آگے کی جگہ ہے کیوں کہ
حدیث قدسی میں آتا ہے کہ جنت میں میرے بندے کو وہ کچھ میسر ہو گا جس کے بارے میں نہ کبھی کسی آنکھ نے‏دیکھا ، نہ کبھی کان نے اس کے بارے میں سنا اور نہ کبھی کسی دل میں اس کا خیال گزرا ۔
اور دوسری جگہ یہ بھی آتا ہے کہ میرا بندہ وہاں جس چیز کی بھی خواہش کرے گا وہ اس کے سامنے آ موجود ہو گی ۔

بالیقین جنات ، ہم سے اوپر کی ڈائیمینشن کے beings ہیں....
اور یہ وہ دوسری سائینٹیفیک وجہ ہے
جس کی‏ بناء پر ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔
ان دس ڈائیمینشنز کے بارے میں جاننے کے بعد آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ
جنات کے بارے میں قرآن ہمیں ایسا کیوں کہتا ہے کہ وہ تمہیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے ،

یا پھر عفریت اتنی تیزی سے سفر کیسے کر سکتے ہیں جیسے سورۃ سباء میں ذکر ہے‏کہ ایک عفریت نے حضرت سلیمانؑ کے سامنے ملکہ بلقیس کا تخت لانے کا دعویٰ کیا تھا ۔
یا پھر کشش ثقل کا ان پر اثر کیوں نہیں ہوتا اور وہ اڑتے پھرتے ہیں ۔

یا پھر کئی دوسرے سوالات جیسے عالم برزخ ، جہاں روحیں جاتی ہیں ،
یا عالم ارواح جہاں تخلیق سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح سے عہد لیا‏تھا کہ تم کسی اور کی عبادت نہیں کرو گے اور سب نے ہوش میں اقرار کیا تھا ،
یا قیامت کے روز دن کیسے مختلف ہو گا ،
یا شہداء کی زندگی کس عالم میں ممکن ہے ۔

ان تمام عالموں یعنی عالم برزخ ، عالم ارواح یا عالم جنات کے بارے میں تحقیقی طور پر سوچنا ایک بات ہے ،
لیکن جس چیز نے ذاتی طور پر‏پر میرے دل کو چھوا ......
وہ سورۃ فاتحۃ کی ابتدائی آیت ہے ۔

الحمد للہ رب العالمین ۔

تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ، جو تمام عالموں کا رب ہے ۔
اور میں سمجھتا ہوں کہ ‘‘تمام عالم’’ کے الفاظ کا جو اثر اب میں اپنے دل پر محسوس کرتا ہوں ، وہ پہلے کبھی محسوس نہ کیا تھا۔“

10/02/2022

غذاؤں کی تاثیر*

▪٭اچار گرم خشک مزاج رکھتا ہے۔
▪٭اخروٹ گرم تر مزاج رکھتا ہے
▪٭انجیر گرم تر مزاج رکھتا ہے۔
▪٭آلو سرد خشک مزاج رکھتا ہے۔
▪انگور گرم تر مزاج رکھتا ہے۔
▪املی سرد مزاج رکھتی ہے۔
▪اسپغول سرد مزاج رکھتا ہے۔
▪امرود معتدل مزاج رکھتا ہے۔
▪آڑو سرد مزاج رکھتا ہے۔
▪بینگن گرم مزاج رکھتا ہے۔
▪بادام گرم مزاج رکھتا ہے۔
▪کھٹا انار سرد مزاج رکھتا ہے۔
▪آلوچہ سرد مزاج رکھتا ہے۔
▪پان کی تاثیر گرم خشک ہے۔
▪آملہ کی تاثیر سرد خشک ہے۔
▪چونہ کی تاثیر گرم ہے۔
▪پستے کی تاثیر گرم ہے۔
▪برف کی تاثیر سرد خشک ہے۔
▪مگاجر معتدل مزاج ہے۔
▪پودینہ کی تاثیر گرم خشک ہے۔
▪بھنگ سرد مزاج ہے۔
▪تل گرم مزاج ہے۔
▪تمباکو گرم مزاج ہے
▪چائے گرم مزاج ہے۔
▪چنا گرم مزاج ہے۔
▪خربوزہ گرم مزاج ہے۔
▪چقندر گرم مزاج ہے۔
٭بیر خشک مزاج ہے۔
▪جامن سرد مزاج ہے۔
▪جو اور پالک کی تاثیر سرد ہے۔
▪مونگ پھلی گرم مزاج کی ہے۔

🥗 *بھنڈی توری*🥗
▪سرد مزاج اور خشک ہوتی ہے۔
▪پیشاب کی جلن کو دور کرتی ہے۔
▪کبھی کبھی قبض بھی کر دیتی ہے۔ دیر ہضم ہے۔
▪خشکی دور کرتی ہے۔

🍆 *بینگن*🍆
▪خشک مزاج سبزی ہے۔
▪بواسیر کے مریضوں کے لئے لاجواب ہے۔
▪دل کو مضبوط کرتی ہے۔
▪ہاضمہ مضبوط کرتی ہے اور جگر کو اقت دیتی ہے۔

🎋 *ککڑی*🎋
▪پکا کر کھائیں یا دونوں حالتوں میں کھائیں مفید ہے۔
▪نمک کے ساتھ کھائیں تع جلد ہضم ہوتی ہے۔
▪امراض قلب میں بہترین ہے۔
▪پیاس کی شدت کو دور کرتی ہے۔

🔸 *پینٹھا*🔸
▪سرد تر اور نہایت طاقتور ہے۔
٭رسائن ہے۔ خون اور گوشت کو بڑھاتا ہے۔
▪اعصاب اور گرمی کے جملہ امراض کے لئے مفید ہے۔
▪ قبض کو دور کرتا ہے اور حاملہ عورتوں کے لئے بہت مفید ہے۔

✨ *حلوہ کدو*✨
▪سرد تر مزاج رکھتا ہے اور جلد ہضم ہے۔
▪دل دماغ اور جگر کو طاقت دیتا ہے۔
▪پیشاب کی جلن کو دور کرتا ہے۔
▪گرمی کا بخار دور کرنے کے لئے کدو کا ٹکڑا پاؤں اور ہاتھوں پر ملیں۔

🍈 *ٹنڈا*🍈
▪سرد تر مزاج رکھتا ہے ۔
▪دل دماغ اور جگر کو طاقت دیتا ہے۔
▪گوشت کے ساتھ پکائیں تو دیر سے ہضم ہوتاہے۔
▪نزلہ زکام اور بلغم میں نقصان دہ ہے۔

🍅 *ٹماٹر*🍅
🔸خون پیدا کرتا ہے اور قبض کشا ہے۔
🔸گردوں کی تکلیف میں ٹماٹر سے پرہیز کریں۔
🔸چھلکا ہضم نہیں ہوتا اس لئے چھلکا اتار کر ہی کھائیں۔
🔸موٹاپے اور شوگر کے مرض میں مفید ہے۔

🥬 *ساگ*🥬
▪چولائی کا ساگ زود ہضم اور دافع زہرہے۔
▪ساگ کوٹ کر پلانے سے سوزاک والے مریض کی پیپ ختم ہو جاتی ہے۔
▪قبض کشا ہے اور معدے کو طاقت دیتا ہے۔
▪پتھری اور ریت خارج کرتا ہے۔
▪نکسیر نزلہ اور پتھری کا شافع علاج ہے۔
▪قلفہ کا ساگ درد گردہ کو ختم کرتا ہے۔

🥬 *کریلا*🥬
▪گرم اور خشک مزاج کی سبزی ہے۔
▪خون کی خرابی کو دور کر کے خون صاف کرتی ہے۔
▪تلی جگر اور بخار کے لئے بہت مفید ہے۔ اور شوگر کے مریضوں کے لئے بھی بہت اکسیر ہے۔
▪بھوک لگاتا ہے اور معدے کو طاقت دیتا ہے۔

🍈 *گھیا توری*🍈
✨سرد مزاج کی حامل سبزی ہے۔
✨خون کی گرمی اور جوش کو کم کرتی ہے۔
✨توری کا سالن جریاں خون میں بہت فائدہ دیتا ہے۔
✨مرچ ڈال کا توری کا سالن کھانے سے بخار ختم ہو جاتا ہے۔
✨قبض کشا ہے بھوک لگا تا ہے گرمیوں میں جلن اور پیاس دور کرتا ہےکھانسی اور گرمی کو دور کرنے میں مفید ہے۔

🍈 *گھیا کدو*🍈
▪ سر تر سبزی ہے۔
▪بد ہضمی بخار اور دیگر خون اور گرمی کی بیماریوں کو دور کرتی ہے۔
▪گھیا کاٹ کر پیروں کے تلؤں پر مالش کریں تو گرمی ختم ہو جاتی ہے۔
▪حافظہ تیز کرتی ہے اور معدے کی تیزابیت کو دور کرتی ہے۔

🌿 *سوہانجنہ*🌿
▪ مزاج خشک ہے۔ پھلیاں اور پھول کڑوے ہوتے ہیں
▪بادی امراض اور بلغم کے لئے اکسیر ہے۔
▪فالج ، جوڑوں کے درد ریح کے امراض اور کمر کے لئے بے حد مفید ہے۔
▪گردہ مثانہ کی پتھریاور ریت ختم کرتا ہے۔ معدے کو صاف اور بھوک بڑھاتا ہے۔

🥔 *آلو*🥔
🔸 سرد خشک مزاج کی حامل ہے۔
🔸 زیادہ استعمال سے اپھارا ہو جاتا ہے۔
🔸چھلکے سمیت ابال کر چھلکا اتارا جائے اور کھایا جائے تو طاقت ور ہے۔
🔸آلو تنور میں بھون کر نمک لگا کر کھانے سے گنٹھیا کا مرض ختم ہو جاتا ہے۔

🍡 *مٹر*🍡
✨سرد خشک اور زود ہضم ہے۔
✨ حیاتین اور پروٹین سے بھرپور سبزی ہے۔
✨جسم کی معدنی طاقت کو پورا کرنے میں مدد دیتی ہے۔
✨دیر ہضم ہے اس لئے امراض شکم کے مریض اس سے پر ہیز کریں۔

🌿 *اجوائن*🌿
▪گرم خشک مزاج کی حامل ہے۔
▪جراثیم کش ہے اور تشنج ختم کرتی ہے۔
▪کسی بھی مقام پر درد ہو اس کا تیل استعمال کرنے سے درد ختم ہو جاتا ہے۔
▪ اجوائن کو میٹھے تیل میں ڈال کر کان میں ڈالنے سے کان کا درد ٹھیک ہو جاتا ہے۔
▪ اعضاء کا درد ہچکی نفخ، شکم میں بے حد مفید ہے۔
▪ گندے زخموں اور ناک کے کیڑوں کو ختم کر دیتی ہے۔

🌰 *پیاز*🌰
٭ پیشاب آور اور حیض آور ہے۔
٭پیاز کا اچار قے دست ہیضہ اور امراض معدہ کو دور کرتا ہے
٭ پیاز کی گانٹھ ہاتھ میں ہو تو لو نہیں لگتی
٭بچھو بھڑ کاٹ لے تو پیاز کا رس درد ختم کر دیتا ہے۔
٭پیاز کاٹ کر نمک لگا کر ہچکی کے مریض کو کھلائیں تو ہچکی بند ہو جائے گی۔
وبائی امراض سسے بچنا ہو تو پیاز کو جیب میں رکھیں ۔

✨ *لہسن*✨
🔸معدے کی رطوبت ختم کرتا ہے۔
🔸بچھو یا سانپ کاٹ لیں تو لہسن کھانے سے درد ختم ہو جاتا ہے۔
🔸روزانہ صبح لہسن کے ایک دو جوئے کھانے سے زکام نہیں ہوتا۔

🥬 *کچنار*🥬
▪ بواسیر کا خاتمہ کرتی ہے۔
٭مسلسل استعمال سے کسھ مالا پھوڑے پھسیوں اور برص سے نجات مل جاتی ہے۔
▪سرد خشک تاثیر کی حامل ہے اور معدے کا طاقت دیتی ہے۔

🌹 *چقندر*🌹
♦ گرم تر تاثیر کی حامل ہے۔ عورتوں کے دودھ میں اضافہ کرتی ہے۔
♦جوڑوں کے درد میں مفید ہے۔
♦جگر کو طاقت دیتی ہے۔

🔆 *لسوڑا*🔆
🔸 سرد تر خاصیت کا حامل ہے۔
🔸پیشاب کی جلن اور پیشاب کا بار بار آنا ختم کرتا ہے۔ 🔸پیاس کی شدت اور گرمی کے بخار کو رفع کرتا ہے۔
🔸قبض کشا ہے اور گلے اور سینے کا طراوت دیتا ہے۔

🍈 *سردا*🍈
🔸 سرد مزاج کا حامل ہے۔
🔸کمزور مریضوں کے لئے پکا ہوا پھل مفید ہے کچا نقصان دہ ہے۔
🔸خون کو صاف کرتا ہے اور صالھ خون بناتا ہے۔
🔸قوت باہ پیدا کرتا ہے۔

🌹 *انار*🌹
♦میٹھا انار سرد تر اور کھٹا انار سرد خشک تاثیر کا حامل ہے گرمی دور کرتا ہے۔
♦کمزوری معدہ جگر دست اور قے میں ے حد مفید ہے۔
♦پیشاب آور ہے اور بھوک پیدا کرتا ہے۔
♦قابض ہے۔ خون صاف کرتا ہے، دیر ہاضم ہے۔ یرقان کے مریضوں کے لئے مفید ہے اور زیابیطس ختم کرتا ہے ، ضعف معدہ ختم کرتا ہے

🍇 *انگور*🍇
▪ گرم تر مزاج کا حامل ہے۔ قبض کشا ہے اور طاقت کا حامل ہے۔
▪دل ہ دماغ اور پھیپھڑوں کو طاقت دیتا ہے۔
▪خشک انگور وزن بڑھاتا ہے
اگر بچوں کو بے ہوشی کے دورے پڑتے ہوں تو انگور کا رس دن میں چار بار پلائیں شفا ہو گی۔

🍐 *امرود*🍐 ▪٭مقوی مفرح اور دیر ہاضم ہے۔ دل و دماغ کو طاقت پہنچاتا ہے اور خوراک ہضم کرتا ہے۔
▪دل کی دھڑکن تیز ہو تو اس کو کھانے سے اعتدال میں آ جاتی ہے۔
▪خونی بواسیر کے مریضوں کے لئے آب حیات ہے۔ تبخیر معدہ ختم کرتا ہے اور پیٹ کے کیڑے مارتا ہے

🍍 *انناس*🍍
🔸سرد تر مزاج کاحامل ہے طراوت بخش اور گھبراہٹ ختم کرتا ہے۔
🔸دل و دماغ کو طاقت دیتا ہے اور پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے۔
🔸ضعف قلب اور ضعب باہ کی شکایت کو دور کرتا ہے۔ بلڈ پریشر میں مفید ہے اور بخار کو تسکین دیتا ہے

07/02/2022

*بڑھاپا ٹانگوں سے اوپر کی طرف شروع ہوتا ہے۔ اپنی ٹانگوں کو متحرک اور مضبوط رکھیں*

▪️جیسے جیسے ہم سالوں میں آگے بڑھتے ہیں، ہماری ٹانگیں ہمیشہ متحرک اور مضبوط رہیں۔
جیسا کہ ہم مسلسل بوڑھے ہوتے جا رہے ہیں، ہمیں اپنے بالوں کے سرمئی ہونے (یا) جلد کے جھرنے (یا) جھریوں سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔
▪️ *لمبی عمر* کی علامات میں، جیسا کہ یو ایس میگزین *پریونشن* نے خلاصہ کیا ہے، ٹانگوں کے مضبوط پٹھے سب سے اہم اور ضروری کے طور پر درج ہیں۔
▪️اگر آپ دو ہفتے تک اپنی ٹانگیں نہیں ہلائیں گے تو آپ کی ٹانگوں کی طاقت 10 سال تک کم ہو جائے گی

ڈنمارک کی یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ بوڑھے اور جوان دونوں، دو ہفتوں کی غیرفعالیت کے دوران، ٹانگوں کے پٹھوں کی طاقت ایک تہائی تک کمزور ہو سکتی ہے، جو کہ 20-30 سال کی عمر کے برابر ہے۔
▪️جیسے جیسے ہماری ٹانگوں کے پٹھے کمزور ہوتے جائیں گے، اسے ٹھیک ہونے میں کافی وقت لگے گا، چاہے ہم بعد میں بحالی اور ورزشیں کریں۔
▪️اس لیے چہل قدمی جیسی باقاعدہ ورزش بہت ضروری ہے۔
▪️جسم کا سارا وزن ٹانگوں پر ہوتا ہے۔
▪️ پاؤں ایک قسم کے ستون ہیں جو انسانی جسم کا سارا وزن اٹھاتے ہیں۔
▪️دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان کی 50% ہڈیاں اور 50% پٹھے دونوں ٹانگوں میں ہوتے ہیں۔
▪️انسانی جسم کے سب سے بڑے اور مضبوط جوڑ اور ہڈیاں بھی ٹانگوں میں ہوتی ہیں۔
▪️مضبوط ہڈیاں، مضبوط پٹھے اور لچکدار جوڑ *آئرن ٹرائی اینگل* بناتے ہیں جو انسانی جسم کا سب سے اہم بوجھ اٹھاتا ہے۔
▪️ انسان کی زندگی میں 70% سرگرمیاں اور توانائی کو جلانا دونوں پاؤں سے ہوتا ہے۔
▪️کیا آپ یہ جانتے ہیں؟ جب ایک شخص جوان ہوتا ہے تو اس کی رانوں میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ 800 کلو وزنی گاڑی اٹھا سکے!
▪️ ٹانگ جسم کی حرکت کا مرکز ہے۔
▪️دونوں ٹانگوں میں انسانی جسم کے 50% اعصاب، 50% خون کی شریانیں اور 50% خون ان سے بہتا ہے۔
▪️یہ سب سے بڑا گردشی نیٹ ورک ہے جو جسم کو جوڑتا ہے۔
▪️جب ٹانگیں صحت مند ہوتی ہیں تو خون کا بہاؤ آسانی سے ہوتا ہے اس لیے جن لوگوں کی ٹانگوں کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں ان کا دل ضرور مضبوط ہوتا ہے۔
▪️ بڑھاپا پاؤں سے اوپر کی طرف شروع ہوتا ہے۔
▪️جیسے جیسے کوئی شخص بڑا ہوتا جاتا ہے، دماغ اور ٹانگوں کے درمیان ہدایات کی ترسیل کی درستگی اور رفتار کم ہوتی جاتی ہے، اس کے برعکس جب کوئی شخص جوان ہوتا ہے۔
▪️اس کے علاوہ، نام نہاد بون فرٹیلائزر کیلشیم جلد یا بدیر وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو جائے گا، جس سے بوڑھوں کو ہڈیوں کے ٹوٹنے کا زیادہ خطرہ ہو گا۔
▪️بزرگوں میں ہڈیوں کا ٹوٹنا آسانی سے پیچیدگیوں کا ایک سلسلہ شروع کر سکتا ہے، خاص طور پر مہلک بیماریاں جیسے دماغی تھرومبوسس۔
▪️کیا آپ جانتے ہیں کہ عام طور پر 15% عمر رسیدہ مریض، ران کی ہڈی کے فریکچر کے ایک سال کے اندر مر جائیں گے؟
▪️ ٹانگوں کی ورزش، 60 سال کی عمر کے بعد بھی کبھی دیر نہیں لگتی۔
▪️اگرچہ ہمارے پاؤں/ٹانگیں وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ بوڑھے ہوں گے، لیکن ہمارے پیروں/ٹانگوں کی ورزش کرنا زندگی بھر کا کام ہے۔
▪️صرف ٹانگوں کو مضبوط کرنے سے ہی کوئی شخص مزید بڑھاپے کو روک یا کم کر سکتا ہے۔

▪️براہ کرم روزانہ کم از کم 30-40 منٹ چہل قدمی کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آپ کی ٹانگوں کو کافی ورزش مل رہی ہے اور یہ یقینی بنانے کے لیے کہ آپ کے ٹانگوں کے پٹھے صحت مند رہیں۔

*آپ کو اس اہم معلومات کو اپنے تمام دوستوں اور خاندان کے افراد کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے، کیونکہ ہر کوئی روزانہ کی بنیاد پر بوڑھا ہو رہا ہے...*

Address

Chishtian Mandi

Telephone

+923117581959

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Royal Herbs posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Royal Herbs:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram