Sattar Care Pharmacy ستار کیئر فارمیسی

Sattar Care Pharmacy ستار کیئر فارمیسی آپ کی صحت ہماری ضمانت

04/05/2026

Send a message to learn more

30/04/2026
29/04/2026
تقدیر کا شکوہ اور ممتا کی آغوشتحریر: رانا راشد ستار ایک محفل میں جب بات والدین کی خدمت اور جنت کی چھڑی، تو ایک نوجوان نے...
22/04/2026

تقدیر کا شکوہ اور ممتا کی آغوش
تحریر: رانا راشد ستار
ایک محفل میں جب بات والدین کی خدمت اور جنت کی چھڑی، تو ایک نوجوان نے بڑی حسرت سے کہا:
"جنت بھی شاید امیروں ہی کے لیے ہے، کیونکہ ہم جیسے غریب بیٹے تو اپنے والدین کو کبھی راضی ہی نہیں رکھ پاتے۔"
اس کی بات میں چھپا درد محسوس کرتے ہوئے وہاں بیٹھے ایک بزرگ نے جواب دیا:
"بیٹا، تمہارا یہ گلہ اس معاشرے کی دین ہے جہاں محبت کو 'مال' سے تولا جاتا ہے۔ تم سمجھتے ہو کہ تم اپنے والدین کو گاڑی، بنگلہ یا بہترین علاج نہیں دے سکے تو تم ناکام ہو گئے؟ تم غلط سوچتے ہو۔
دیکھو، امیر کا بیٹا جب والدین کو کسی مہنگے ہسپتال لے جاتا ہے، تو وہ اپنی دولت کا حق ادا کرتا ہے۔ لیکن جب تم اپنی ساری دن کی تھکن کے باوجود، خالی جیب کے ساتھ گھر آکر اپنی ماں کے پاؤں دباتے ہو اور وہ تمہارے ماتھے پر بوسہ دیتی ہے، تو تم اس وقت جنت کما رہے ہوتے ہو۔
والدین کی ناراضگی اکثر غریبی سے نہیں، بلکہ اس 'چڑچڑے پن' سے ہوتی ہے جو غربت کی وجہ سے اولاد کے لہجے میں آ جاتا ہے۔ اگر غریب بیٹا صرف اپنا لہجہ میٹھا رکھے اور اپنی موجودگی کا احساس دلائے، تو وہ اس امیر سے کہیں زیادہ اپنے والدین کو راضی کر لیتا ہے جو انہیں پیسے تو بھیجتا ہے مگر خود پاس نہیں بیٹھتا۔
یاد رکھو، اللہ 'نیتوں' کا سوداگر ہے، 'پیسوں' کا نہیں۔ تمہاری وہ تڑپ کہ "کاش میرے پاس ہوتا تو میں ماں باپ پر لٹا دیتا"، اللہ کے ہاں اس عمل سے بڑی ہے جو کسی نے دکھاوے کے لیے کیا ہو۔
صدائے راشد

19/04/2026

ایم بی اے، ادھوری محبت اور ایک ٹوٹا ہوا انسان:
کراچی 2003 کی ایک یاد
خوابوں کا عروج (2003)
صدائے راشد
کراچی کی وہ روشن شامیں اور 2003 کا وہ دور... جب اس کے ہاتھ میں ایم بی اے کی ڈگری تھی اور آنکھوں میں جیت کے خواب۔ وہ محفلوں کی جان تھا، دوستوں کا یار تھا، اور اپنے گھر والوں کی واحد امید۔ اسے لگتا تھا کہ دنیا اس کے قدموں میں ہے اور کامیابی محض ایک قدم دور۔
وہ موڑ جہاں زندگی بدل گئی
پھر اسے محبت ہوئی۔ ایسی سچی اور گہری محبت جس نے اس کی پوری کائنات کا مرکز بدل دیا۔ اسے خبر نہ تھی کہ کبھی کبھی جس انسان کے لیے ہم دنیا چھوڑ دیتے ہیں، وہی انسان ہمیں دنیا کے رحم و کرم پر چھوڑ جاتا ہے۔ جب وہ محبت ہاری، تو وہ صرف ایک رشتہ نہیں ٹوٹا، بلکہ اس شخص کا خود پر سے یقین بھی ٹوٹ گیا۔
بھنور: جذباتی شکست سے مالی تباہی تک
دل کے زخم بھرنے اور قسمت آزمانے کے لیے اس نے ٹریڈنگ کا رخ کیا۔ اس نے سوچا کہ شاید پیسہ اس کے کھوئے ہوئے وقار کو واپس لے آئے گا۔ لیکن جذبات میں آکر کیے گئے فیصلے کبھی منافع نہیں دیتے۔ نقصان در نقصان نے اسے وہیں لا کھڑا کیا جہاں نہ نوکری تھی، نہ سرمایہ، اور نہ ہی ہمت۔ وہ ایم بی اے کی ڈگری، جو کبھی اس کا مان تھی، اب ایک بوجھ بن کر رہ گئی۔
آج کی تلخ حقیقت
آج وہ شخص کراچی کی بھیڑ میں ایک سایہ بن کر رہ گیا ہے۔ وہ جو کبھی اپنی فیملی کے خواب بنتا تھا، آج اسے لگتا ہے کہ وہ خود ان کے لیے ایک "بوجھ" بن چکا ہے۔ وہ اب جی نہیں رہا، بس وقت گزار رہا ہے۔ اس کی خاموشی میں ایک چیخ ہے جو کوئی نہیں سنتا۔
ہم سب کے لیے ایک سبق
یہ کہانی صرف اس ایک انسان کی نہیں، بلکہ ان سب کی ہے جو محبت میں ہار کر زندگی سے ہار مان لیتے ہیں۔
دل کا ٹوٹنا دکھ ضرور ہے، مگر یہ زندگی کا خاتمہ نہیں۔
کسی ایک شخص کی خاطر اپنی پوری شخصیت اور مستقبل کو داؤ پر لگانا سب سے بڑی بھول ہے۔
اس کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ جب تک سانس ہے، واپسی کا راستہ کھلا ہے۔ اسے بس اس "خود" کو معاف کرنا ہے جس نے حالات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے تھے۔
تحریر: رانا راشد ستار

17/04/2026

I am fortunate to have many great memories, but this one is truly special. I was invited as a Guest Speaker at the Seerat-un-Nabi ﷺ Conference in Bahawalpur, titled 'Seerat-e-Nabi (ﷺ) and Shan-e-Hussain (رضی اللہ عنہ)'. The honorable host even arranged my attire to match the traditional style of my precious speeches

Address

Lahore

Telephone

+923402520526

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sattar Care Pharmacy ستار کیئر فارمیسی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share