26/04/2026
پاکستان میں تقریباً 53٪ بچے خون کی کمی (Anemia) کا شکار ہیں، اور 40٪ بچے غذائی کمی (Malnutrition) سے متاثر ہیں۔ یہ اعداد صرف رپورٹوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ہر گلی، ہر گھر، اور ہر ہسپتال میں نظر آتے ہیں... کمزور جسم، پیلے چہرے، سست آنکھیں، اور بچپن جو اپنی پوری صلاحیت تک پہنچ ہی نہیں پاتا۔ اس صورتحال کے اسباب کو سمجھنا ضروری ہے۔
سب سے پہلے، غذا کا معیار (Quality of Diet) ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے گھروں میں پیٹ تو بھر جاتا ہے مگر غذائیت نہیں ملتی۔ ہماری خوراک میں روٹی، چاول، اور چائے تو ہوتی ہے، لیکن پروٹین، آئرن، اور وٹامنز کی کمی ہوتی ہے۔ آج کل بازار میں دستیاب کھانے کی اشیاء، جیسے کہ پاپڑ وغیرہ، بچوں کو بھرے ہوئے لگتے ہیں لیکن وہ اندر سے کمزور ہوتے ہیں، جسے ہم “Hidden Hunger” کہتے ہیں۔
دوسرا، ماں کی صحت (Maternal Health) بھی بہت اہم ہے۔ ایک کمزور ماں ایک کمزور بچے کو جنم دیتی ہے۔ اگر ماں خون کی کمی کا شکار ہو، حمل کے دوران مناسب غذا نہ لے، یا حملوں میں وقفہ کم ہو، تو بچہ پیدائش سے ہی مختلف اقسام کی کمیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ حاملہ خواتین کو کم از کم آٹھ بار چیک اپ کروانا چاہیے۔
تیسرا، غلط غذائی عادات (Feeding Practices) بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بچوں کو پہلے چھ ماہ صرف ماں کا دودھ دینا چاہیے، لیکن ہم بچوں کو پانی، شہد، اور دیگر چیزیں بھی دیتے ہیں۔ اس سے بچوں میں انفیکشن بڑھتے ہیں اور انہیں وہ غذائیت نہیں ملتی جو انہیں ملنی چاہیے۔
چوتھا، بار بار انفیکشن (Repeated Infections) بھی بچوں کی صحت کو خراب کرتے ہیں۔ دست، نمونیا، اور دیگر بیماریاں بچے کی توانائی اور غذائیت کو ختم کر دیتی ہیں۔
پانچویں، غربت اور آگاہی کی کمی (Poverty & Awareness Gap) بھی اہم وجوہات ہیں۔ بہت سے گھرانوں میں وسائل محدود ہوتے ہیں اور لوگ متوازن غذا کے بارے میں آگاہ نہیں ہوتے۔
ان مسائل کا حل نکالنا مشکل نہیں لیکن مستقل مزاجی مانگتا ہے۔
• پہلے 6 ماہ صرف ماں کا دودھ
• 6 ماہ کے بعد مناسب اور متوازن غذا
• آئرن اور وٹامنز سے بھرپور خوراک
• صاف پانی اور حفظان صحت
• ویکسینیشن اور بروقت علاج
• ماں کی صحت اور تعلیم پر توجہ
یہ سب کچھ کر کے ہم ایک صحت مند نسل تیار کر سکتے ہیں۔ بچوں کی غذائیت صرف گھر کا مسئلہ نہیں، قوم کا مستقبل ہے۔