19/05/2022
شدید وجع المفاصل گنٹھیے کا بخار۔
یہ ایک شدید مرض ہے جس میں تیز بخار ہوتا ہے اور جوڑ متورم ہوجاتے ہیں ۔ یہ ایک قسم کے خورد بینی کیڑے سے پیدا ہوتا ہے جس کو اصطلاح میں ڈپلو کوکس ردمے ٹیکس یعنی گنٹھیے کا کیڑا کہتے ہیں ۔
اسباب مرض :۔
اگر چہ اس کا با عث ایک خاص قسم کا کیڑا ہے تو کہ مریض کے خون میں پایا جاتا ہے ۔ لیکن دیگر اسباب مثلا نمدار جگہ پر سونا بھیگے کپڑے دیر تک پہنے رہنا۔ یا سردی لگنا یا بارش میں بھیگنا ۔ تغیرات موسم فتور ہاضمہ اور سخت محنت جسمانی کرنا بھی اس کے اسباب ہیں ۔ مستورات میں حیض کا بند ہوجانا۔ یا عرصہ تک دودھ پلانا۔ یا وضع حمل وغیرہ اس کے اسباب ہوتے ہیں ۔ سفلس اور سوزاک بھی اس کے باعث ہوتے ہیں ۔
علامات مرض :۔
ابتدا میں یکایک لرزہ لگ کر تیز بخار چڑھ جاتا ہے ۔ حرارت جسم بہت تیز ہوتی ہے ۔ 104 سے 107 بلکہ 108 درجہ تک ہوجاتی ہے ۔ ماوف جوڑوں پر ورم ہوتا ہے اور سرخی ہوتی ہے اور سخت درد ہوتا ہے ۔ مریض چھوٹا تک برداشت نہیں کر سکتا اور نہ اعضاء کو ہلانا جلانا پسند کرتا ہے ۔ درد کی شدت اور بخار کی تیزی چند دنوں تک رہتی ہے ۔اس کے بعد گھٹنی شروع ہو جاتی ہے ۔ گنٹھیے کے بخار کی دوسری خاص علامت یہ ہے کہ کڑوا ۔ بدبودار پسینہ بکثرت آتا ہے اور پیشاب بھی سرخ رنگ کا کم مقدار میں خارج ہوتا ہے اور نہایت رنگین ہوتا ہے ۔ باضمہ خراب ہوتا ہے ۔ بھوک ماری جاتی ہے ۔ لیکن پیاس بہت لگتی ہے ۔ اس مرض میں جوڑوں کی درم ایک جوڑ سے دوسرے جوڑ میں اور دوسرے سے تیسرے جوڑ میں منتقل ہوتی رہتی ہے ۔ اس طرح بڑے بڑے جوڑوں میں درد کا دورہ ہوتارہتا ہے ۔ مارے درد کے مریض بل تقبل نہیں سکتا اور رات کو نیند نہیں آتی اور جس طرف مریض پڑا رہتا ہے ۔ اسی طرف پڑا رہنا چاہتا ہے کیونکہ ہلنے جلنے سے اس کو تکلیف ہوتی ہے نبض گول اور بھر پور چلتی ہے اور 90 سے 120 مرتبہ چلتی ہے زبان پر زردی مائل سفید فرجمی ہوئی ہوتی ہے ۔ لیکن سر میں کوئی خاص تکلیت نہیں گنٹھیے کے شدید بخار میں سر درد یا ہذیان نہیں ہواکرتا اور یہی اس کی تمیز ی علامت ہے ۔ عموماً دس بارہ روز کے بعد بخار اتر جاتا ہے اور پھر شکایات بھی کم ہوجاتی ہیں اور صرف کمزوری باقی رہ جاتی ہے ۔ مرض اکثر عود کر آتا ہے ۔
نوٹ : جب بخار بھی شدید نہ ہوا اور جوڑوں کا درم اور درد بھی زیادہ نہ ہوتو اس قسم کے مرض کو سب ایکیوٹ رومانیٹرم یا کم شدیدگنٹھیا کہتے ہیں ۔ اس میں ماؤن جوڑوں کی ساخت میں چنداں فرق نہیں آتا۔
نقل مکانی :۔
وجع مفاصل کی دردیں نقل مکانی کرتی رہتی ہیں ۔ یکا یک ایک جوڑ کو چھوڑ کر دوسرے جوڑ میں چلی جاتی ہیں ۔ پھر دوسرے سے تیسرے میں اور اسی طرح سے واپس ہوتی ہوئی اپنے پہلے مقام میں چلی آتی ہیں اور یہی حال ورم کا ہے ۔ جب ایک جگہ ورم زیادہ ہوتا ہے ۔ تو دوسری جگہ کم ہو جاتی ہے ۔ مرض کے حملہ کے دوران اسی طرح سے کئی بار ہوتا ہے لیکن سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب کہ مرض جوڑوں سے پردہ دل یا بطون قلب میں چلا جاتا ہے ۔جب مرض کا حملہ نہایت شدید ہوتا ہے ۔ تب مذکورہ بالا پیچیدگی پیدا ہوتی ہے ۔ نوجوان اشخاص میں زیادہ اور مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ اور خاص کر ایسے مریضوں کو جو کہ پہلے ہی سے کمزور ہوں یا جن کو دل کی دھڑکن کا عارضہ ہو ۔
وجع القلب ( درد دل)۔
جب ورم حجاب القلب ہو تو مریض کا چہرہ نہایت ڈراؤنا ومتفکر ہو جاتا ہے ۔ سانس تکلیف سے آتا ہے اور دل کے مقام پر درد ہوتا ہے نیز پسلیوں کے زیریں اور درمیانی مقام پر دکھن ہوتی ہے ۔ دھڑکن بڑھ جاتی ہے ۔ یا دل کے فعل میں فتور واقع ہوتا ہے۔۔
مزید معلومات اور علاج کے لیے نیچے دیے گئے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں شکریہ۔