Dr Malik medical specialist

Dr Malik medical specialist this page mainly about public health if any one need help about any health problems can discuss with us for further opinion

10/09/2022

گنے کا رس
یرقان کے مریضوں کیلئے نہایت مفید ہے۔
دل‘ دماغ‘ آنکھوں ‘ گردوں‘معدے‘ اور جنسی اعضاءکو تقویت دیتا ہے۔
پیشاب کی بیماریوں اور قلت پیشاب میں گنے کا رس پینا نہایت مفید ہے۔
پیٹ میں اپھارہ،قبض ،گیس یہاں تک کہ السر کےمراض میں بھی گنے کا رس بہت مفید ہے۔
محنت طلب کام کرنے کے بعد ایک گلاس گنے کا رس پینے سے ساری جسمانی تھکن دور ہو جاتی ہے۔
جسم میں ٹھنڈک کا احساس پیدا کرتا ہے،پیاس کی شدت کو کم کرتا ہےاوردل و دماغ کو فرحت بخشتا ہے۔
دبلے پتلے حضرات کیلئے گنے کا رس بہت مفید ہے اس کے باقاعدہ استعمال سے کمزوری دورہوجاتی ہے اورجسم فربہ اور صحت مند ہو جاتا ہے۔

بچو ں میں ائرن  کی کمی ۔                                                                                        ائرن  ...
22/01/2021

بچو ں میں ائرن کی کمی ۔ ائرن یا حرف عام میں فولاد اور عربی میں حد ید ہمارے جسم کا ایک ا انتہا ئی ئی اہم معدنی عنصر ہے ۔ انسا نی جسم کو کام کر نے کےلئےائرن کی لگا تار فرا ہمی کی ضرورت رہتی ہے ۔ ائرن ہمارے خون کے سرخ خلیو ں میں مو جود پر و ٹین ھیمو گلو بن کا اہم جز ہے ۔ھیمو گلو بن اکسجن کو انسا نی پھپھڑ و ں سے جسم کے ہر حصے اور ہر خلیے تک پہنچا تا ہے ۔اگر جسم میں ائرن کی کمی ہو تو ھیمو گلو بن کی پیدا وار میں کمی ہو تی ہے جسے انیمیا کہتے ہیں۔ ۔ بچو ں میں آ ئرن کی کمی کب ہو تی ہے ۔ پور ے وقفے یعنی نو مہینے میں پیدا ہو نے والے بچو ں میں آئرن کی مقدار چار سے چھ مہنے تک کا فی ہو تی ہے اس کے بعد ا گر بچو ں کو کم آئرن وا لا خوراک دیا جا ئے تو بچے کی جسم میں ائرن کی کمی شرو ع ہو جا تی ہے ۔ وقت سے پہلے پیدا ہو نے والے یا پری میچو ر بچو ں کی جسم میں آیرن کم ہو تا ہے اس لئے پہلے دو مہنو ں مین آیرن کی کمی کے اثرا ت شر وع ہوتے ہیں ۔اس لئے لا زم ہے کہ وقت سے پہلے پیدا ہو نے وا لے بچو ن اضا فی ائرن دیا جا ئے ۔ ااس کے علاوہ اگر چھہ مہینے کی عمر میں بچےکو کم ائرن وا لا خوراک دیا جایے تو ائرن کی کمی شروع ہو تی ہے ۔ کم ایرن والے غذا میں ۔بسکٹ ۔الو چپس ۔بغیر ائرن کا دودھ وغیر ہ شا مل ہے ۔ اور چھ مہینے کے بعد ما ں کا دو دوھ میں بھی ائرن کی مقدار نا کا فی ہوتی ہے ۔اس لئے ضروری ہے کہ چھ مہینے کی عمر میں بچے کو ائرن والی ٹھو سی غذا اہستہاہستہ شروع کی جا ئے ۔ اسی طرح بچہ اگر دو سال کے بعد بھی بو تل سے دودھ پیتا رہے تو جسم میں ائرن کی کمی ہو تی ہے ۔ صرف دودھ سے پیٹ بھرنا اور ٹھو س غذا کم کھا نے کی وجہ سے بھی ائرن کی کمی وا قع ہو تی ہے ۔ اس کےعلاوہ گر جسم کے کسی حصے مثلا انتوں سے نا معلوم طر یقے سے خون بہنا یا ناک سے با ر بار خون بہے تب بھی ا یرن کی کمی ہو تی ہے ۔ آئرن کی کمی کے آثرا ت ۔ کیو نکہ ائرن جسم کے تما م خلیو ں میں ا کسجن پہنچا نے کے لئے ضروری ہے اس لئے جب یہ اہم عنصر جسم میں کم ہو تو خلیو ں کو صحیح اکسجن اور انر جی نہیں پہنچتا ۔ ا س کا نتیجہ سستی ۔بھوک نہ لگنا ۔ کمزوری ۔ چہر ے اور انکھو ں کی پیلا ہٹ کے طور پر ظا ہر ہو تا ہے ۔جد ید تحقیق کے نتییجے میں اس با ت کا بیھی پتہ لگا ہےکہ ائرن کی کمی وا لے بچے دما غی اور ذہنی طو ر پر بھی دو سرے بچو ں سے پیچھے ہو تے ہیں ۔ اس لئے یہ ض روری ہے کہ بچو ں میں آیرن کی کمی نہ ہو نے دی جا ئے ۔ ائرن کس خو راک میں مو جود ہے ۔ ائرن جا نوروں سے حا صل کی ہو ئی غذا یعنی گو شت یا پو دوں سے حا صل شدہ غذا یعنی سبزی پھل یا دا لو ں میں مو جود ہے ۔ گوشت میں موجود ائرن اسا نی سے انسا نی انتو ں سے جذب ہو تا ہے ۔ سرخ گو شت یعنی بیف ۔مٹن او ر مچھلی میں ا ئرن کی مقدار زیا دہ ہو تی ہے ۔ا س کے علا وہ کلیجی ۔چکن اور انڈو ں میں بھی ایرن کی اچھی مقدارہو تی ہے ۔ پو دوں اورسبز یو ں سے حا صل کردہ غذا وں میں گندم ۔دا لیں ۔ پھلیا ں ۔ہر ے پتے وا لی سبز یاں ۔ خو با نی ۔انجیر ۔سیب ۔پا لک وغیرہقا بل ذکر ہیں ۔پو دو ں سے حا صل شدہ ائرن گو شت کے مقا بلے میں کم آ سانی سے جذب ہو جا تا ہے ۔ وٹامن سی وا لی غذا ئیں جیس کہ کینو ۔ ما لٹا ۔ ٹما ٹر۔ سٹرا بیر ی و غیرہ ائرن کو جذب ہو نے میں مدد د یتےہیں ۔ آیرن کی کمی کو کیسے روک جا سکتا ہے ۔ بچے کو چھ مہنے کی عمر سے ایسی ٹھوس غذا شروع کی جا ئے جس میں زیا دہ آئرن ہو ۔ صرف دودھ پلانا نا نا کا فی ہے ۔ زیا دہ جو س اور شکر و الی غذا ئیں بسکٹ ۔چپس و غیرہ سے پر ہیز کیا جا ئے ۔ا گر بو تل کا دودھ دینا نا گز ی ہو توبچے کو ایسا دو دھ دیں جس میں آ یرن شا مل ہے ۔ دو سال کی عمر میں بچے کیی بو تل اور دودھ چھڑوا دیں ۔اس کے بعد بچہ دن میں دو کپ سے زیا دہ دو دھ نہ پئے ۔ پری میچو ر بچو ں میں شرو ع سے اضا فی آئر ن شرو ع کر یں ۔گو شت مچھلی ائرن کا بہترن ذریعہ ہے ۔ آ گر بچہ سست اور پیلا نظر آ ئے اور بھوک کم لگےتو ڈ ا کٹرسے مشو رہ کر یں ۔جوس ۔ بسکٹ کینڈی چپس وغیرہ کی عا دت ڈالنے سے پر ہیز کریں ۔ کو شش کر یں بچہ وہی غذا کھا ئے جو سا رے خاندان کے لیے تیا ر کئا گیا ہو -۔

06/08/2020

⁦⚜️⁩خوش رہنا بہت آسان ہے⁦⚜️⁩
چار ہارمون ہیں جن کے خارج ہونے سے انسان خوشی محسوس کرتا ہے:
1. *Endorphins*، اینڈورفنس
2. *Dopamine* ڈوپامائین
3. *Serotonin*، سیروٹونائین
and اور
4. *Oxytocin* آکسی ٹوسین
*ہمارے اندر خوشی کا احساس ان چار ہارمونس کی وجہ سے ہوتا ہےاس لئےضروری ہے کہ ہم ان چار ہارمونس کے بارے میں جانیں*

▪پہلا ہارمون اینڈورفنس ہے :
جب ہم ورزش کرتے ہیں تو ہمارا جسم درد سے نپٹنے کیلئے اینڈورفنس خارج کرتا ہے تاکہ ہم ورزش سے لطف اٹھا سکیں۔ اسکےعلاوہ جب ہم کامیڈی دیکھتے ہیں، لطیفے پڑھتے ہیں اس وقت بھی یہ ہارمون ہمارے جسم میں پیدا ہوتا۔ اسلئے خوشی پیدا کرنے والے اس ہارمون کی خوراک کیلئے ہمیں روزانہ کم از کم 20 منٹ ایکسرسائز کرنا اور کچھ لطیفے اور کامیڈی کے ویڈیوز وغیرہ دیکھنا چاہیئے۔

▪دوسرا ہارمون ڈوپامائین ہے:
زندگی کے سفر میں، ہم بہت سے چھوٹے اور بڑے کاموں کو پورا کرتے ہیں، جب ہم کسی کام کو پورا کرتے تو ہمارا جسم ڈوپامائین کو خارج کرتا ہے. اور اس سے ہمیں خوشی محسوس ہوتی ہے۔
جب آفس یا گھر میں ہمارے کام کے لئے تعریف کی جاتی تو ہم اپنے آپ کو کامیاب اور اچھا محسوس کرتے ہیں، یہ احساس ڈوپامائین کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ عورتیں عموماً گھر کا کام کرکے خوش کیوں نہیں ہوتی اسکی وجہ یہ ہیےکہ گھریلو کاموں کی کوئی تعریف نہیں کرتا۔
جب بھی ہم نیا موبائیل، گاڑی، نیا گھر، نئے کپڑے یا کچھ بھی خریدتے ہیں تب بھی ہمارے جسم سے ڈوپامائین خارج ہوتا ہے۔اور ہم خوش ہوجاتے ہیں.
اب، آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ شاپنگ کرنے کے بعد ہم خوشی کیوں محسوس کرتے ہیں۔

▪تیسرا ہارمون سیروٹونائین:
جب ہم دوسروں کے فائدہ کیلئے کوئی کام کرتے ہیں تو ہمارے اندر سے سیروٹونائین خارج ہوتا ہے اور خوشی کا احساس جگاتا ہے۔
انٹرنیٹ پر مفید معلومات فراہم کرنا، اچھی معلومات لوگوں تک پہنچانا، بلاگز، Quora اور فیس بک پر پر عوام کے سوالات کا جواب دینا اسلام یا اپنے اچھے خیالات کی طرف دعوت دینا ان سبھی سے سیروٹونائین پیدا ہوتا ہے اور ہم خوشی محسوس کرتے ہیں۔

▪چوتھا ہارمون آکسی ٹوسین ہے:
جب ہم دوسرے انسانوں کے قریب جاتے ہیں یہ ہمارے جسم سے خارج ہوتا ہے۔
جب ہم اپنے دوستوں کو ہاتھ ملاتے ہیں یا گلے ملتے ہیں تو جسم اکسیٹوسین کو خارج کرتا ہے۔
واقعی یہ فلم 'منا بھائی' کی جادو کی چھپی کی طرح کام کرتا ہے۔ جب ہم کسی کو اپنی باہوں میں بھر لیتے ہیں تو آکسی ٹوسین خارج ہوتا ہے اور خوشگواری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

📌 خوش رہنا بہت آسان ہے:
ہمیں اینڈروفنس حاصل کرنے کے لئے ہر روز ورزش کرنا ہے۔
ہمیں چھوٹے چھوٹے ٹاسک پورا کرکے ڈوپا مائین حاصل کرنا ہے۔
دوسروں کی مدد کرکے سیروٹونائین حاصل کرنا ہے۔
اور
آخر میں اپنے بچوں کو گلے لگاکر، فیملی کے ساتھ وقت گزار کر اور دوستوں سے مل کر آکسی ٹوسین حاصل کرنا ہے۔

اس طرح ہم خوش رہیں گے۔ اور جب ہم خوش رہنے لگیں گے تو ہمیں اپنے مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے میں آسانی ہو گی۔

*اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ بچہ اگر خراب موڈ میں ہو تو اسے فوری گلے لگانا کیوں ضروری ہے؟*

بچوں کیلئے:
1.موبائیل یا ویڈیو گیم کے علاوہ گراونڈ پر جسمانی کھیل کھیلنے کی ہمت افزائی کریں۔ (اینڈروفنس)

2. چھوٹی بڑی کامیابیوں پر بچے کی تعریف کریں، اپریشیئٹ کریں۔(ڈوپامائین)

3. بچے کو اپنی چیزیں شیئر کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کی عادت ڈالیں۔اسکے لئے آپ خود دوسروں کی مدد کرکے بتائیں۔(سیروٹونائین)

4. اپنے بچے کو باہوں میں بھر کر پیار کریں۔(آکسی ٹوسین)

خوش رہیں۔ خوشیاں بانٹتے رہیں۔

19/09/2019

ڈینگی بخار سے بچاوࣿ ۔ عوام الناس کیلئے چند بنیادی حقائق اور ہدایات

ڈینگی بخار کا وائرس انسانوں میں ایک مخصوص قسم کے مادہ مچھر AEDES کے کاٹنے سے پہنچتا ہے اور ڈینگی بخار کا سبب بنتا ہے۔
یہ مادہ مچھر ڈینگی کے وائرس کو ڈینگی سے متاثرہ ایک انسان کے خون سے حاصل کر کے دوسرے انسان کو کاٹ کر اس میں منتقل کر دیتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ مچھر اپنے انڈوں کے ذریعے وائرس کو اپنی اگلی نسلوں تک منتقل کر سکتی ہے یعنی ان متاثرہ انڈوں سے پیدا ہونے والے ڈینگی مچھر اس وائرس کو بآسانی انسانوں میں منتقل کر سکتے ہیں۔ مچھر کے کاٹنے کے 5 یا 7 دن بعد بیماری کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
ڈینگی بخار کی عمومی طور پر دو اقسام ہیں۔ ۱۔ ڈینگی بخار۔ ۲۔ ڈینگی بخار کی خونیں قسم (Dengue Heamorrhagic Fever)۔ ڈینگی بخار کی علامات میں تیز بخار ۔ جسم میں شدید درد ۔ آنکھوں کے پیچھے شدید درد ۔ جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد ۔ بھوک نہ لگنا ۔ اُلٹی ہونا یا اور نزلہ اور زکام جیسی کیفیات شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ڈینگی بخار کی خونی قسم میں بخار کے پانچویں دن جلد پر سرخ دھبوں کا نودار ہونا اور بخار کا ختم ہونا۔ ناک، مسوڑوں یا جسم کے دیگر اعضاء سے خون آنا۔ کالا رنگ کا پاخانہ آنا۔ بار بار الٹیاں آنا جیسی علامات شامل ہیں۔ یاد رہے کہ آجکل کے طبی ترقی اور جدید طریقہ علاج کی بدولت ڈینگی بخار سے اموات کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے بشرطیہ کہ علاج مستند ماہر ڈاکٹر سے کروایا جائے۔ تحقیق سے ثابت ہے کہ جب ٹونے ٹوٹکوں کے ذریعے یا عطائی ڈاکٹروں اور حکیموں سے علاج کرایا جاتا ہے تو اس سے مریضوں کی جان کو لاحق خطرات دو چند ہو جاتے ہیں کیونکہ اس سے مریض کی تشخیص اور علاج میں تاخیر واقع ہوتی ہے اور بروقت علاج نہ ملنے کی صورت میں جان لیوا پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں جس سے مریض کی جان جا سکتی ہے۔
ڈینگی بخار کی صورت میں مریض کو زیادہ سے زیادہ آرام مہیا کریں۔ مریض کو اس کی روزمرہ کی خوراک کیساتھ ساتھ زیادہ مقدار میں تازہ پھلوں کا جوس، دودھ، یخنی اور سوپ، قہوہ اور پانی وغیرہ پلائیں۔ بخار کو کنٹرول کرنے کے لیے مریض کو ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق پیراسیٹامول (پیناڈول) دیں مگر 24 گھنٹوں میں 4 دفعہ سے زیادہ نہ دیں۔
اسپرین، بروفین، وورین اور اسی طرح کی اور دفع درد ادویات کا استعمال ہرگز ہرگز نہ کریں ورنہ آپ کے مریض کی جان کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
اگر مریض میں مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوراً مریض کو ہسپتال پہنچائیں:
بخار کے پانچویں یا ساتویں دن جلد پر سرخ دھبوں کا نمودار ہونا اور بخار کا ختم ہونا ۔ ناک، مسوڑوں یا جسم کے کسی اور حصے سے خون آنا۔ پیٹ میں شدید درد ہونا۔ بار بار الٹی کرنا۔ کالا پاخانہ آنا۔ غنودگی طاری ہونا۔ لگاتار کراہنا۔ سانس لینے میں دشواری کا سامنا۔ رنگت پیلی ہو جانا اور بدن کا یکلخت سرد ہو جانا جو کہ علامت ہے کہ مریض کا فشارِ خون (بلڈ پریشر) خطرناک حد تک گر چکا ہے۔ ایسے مریضوں کی جان فوراً اور مناسب طبی امداد ملنے کی صورت میں بچائی جا سکتی ہے۔
ڈینگی بخار سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے پیاروں کو ڈینگی مچھر کے کاٹنے سے محفوظ رکھیں۔ اس کے لیے آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ڈینگی مچھر دن کے اوقات میں اور خصوصی طور پر طلوع اور غروبِ آفتاب کے وقت کاٹتا ہے کیونکہ اُس وقت اسے خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ مچھر کے کاٹنے سے محفوظ رہنے کے لئے پوری آستینوں والی قمیض اور لمبی شلوار یا پتلون پہنیں جو ٹخنوں کو ڈھانپ سکے۔ مچھر بھگانے کے تمام طریقے مثلاً سلگنے والی کوائل، میٹ، مچھر کُش سپرے، لوشن یا تیل وغیرہ لازمی استعمال کریں۔ مچھر دانی کا استعمال خاص کر ڈینگی سے متاثرہ افراد، چھوٹے بچے، حاملہ خواتین، بزرگ اور معذور افراد، پیچیدہ بیماریوں مثلاً دل، گردوں، جگر اور ذیابیطس میں مبتلا افراد کے لیے لازمی کریں۔ گھروں اور دفاتر کی کھڑکیوں اور دروازوں پر جالیاں لگوائیں اور مچھر مار سپرے کروائیں۔ جب گلی محلے میں سپرے کے لیے گاڑی آئے تو گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے کھول دیں تاکہ سپرے کا اثر گھروں کے اندر تک پہنچ سکے۔
جدید تحقیق کے مطابق اس بیماری پر قابو پانے کے لیے ڈینگی مچھروں کا خاتمہ کرنا ضروری ہے اس لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ یہ مچھر کہاں اور کیسے نشون یہ مچھر آپ کے گھروں کے اندر تاریک اور ٹھنڈی جگہوں میں رہتے ہیں۔ گھروں سے باہر یہ اُن جگہوں میں رہتا ہے جہاں نمی، تاریکی اور ٹھنڈ ہو۔ یہ مچھر جمع شدہ اور صاف پانی میں افزائش پاتے ہیں۔ یہ گھروں کے ارد گرد کچرے کے ڈھیروں میں بھی افزائش پاتے ہیں۔ مادہ مچھر گھروں، سکولوں، مدرسوں، مسجدوں وغیرہ میں رکھے پانی کے برتنوں، بالٹیوں، ٹینکیوں، گھڑوں وغیرہ میں انڈے دیتی ہے جن سے موافق حالات میں 10 دن میں مچھر نکل آتے ہیں۔ ڈینگی مچھروں کی پسندیدہ جگہوں میں ڈرم، بالٹیاں، برتن، گملے، ٹینکیاں، واٹر کولر، روم کولر، استعمال شدہ بوتلیں اور شاپنگ بیگ، پرانے استعمال شدہ ٹائر الغرض وہ تمام جگہیں اور اشیاء جن میں پانی کچھ عرصے کے لئے جمع ہو سکتا ہو شامل ہیں لہٰذا ان جگہوں کی خصوصی نگرانی اور صفائی ضروری ہے۔ علاوہ ازیں جب استعمال میں نہ ہوں تو روم کولر وغیرہ سے پانی خارج کر کے خشک کریں۔ اسی طرح پانی کے برتن، بالٹی، ڈرم ٹینکی اور دوسرے برتنوں کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھیں۔ گملوں اور کیاریوں میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں۔ جانوروں اور پرندوں کے پانی کے برتن میں روزانہ پانی تبدیل کریں۔ نالیوں وغیرہ کی صفائی کا خیال رکھیں اور کوئی بھی بندش فوراً دور کریں۔ حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور اپنی اور اپنے پیاروں کی صحت کی خاطر اپنی مدد آپ کے جذبے کے تحت اپنے گھروں، محلوں، گلیوں، سکولوں وغیرہ کی صفائی یقینی بنائیں۔ اسی طریقے اور جذبے سے ہم ڈینگی جیسے موذی مرض پہ قابو پا سw.H.O

11/09/2019

ڈینگی وائرس کا بخار
ڈینگی وائرس جسم میں داخل ہونے کے تین دن کے اندر بخار کا باعث بن سکتا ہے۔ ان تین دنوں میں ڈینگی وائرس کا ٹیسٹ مثبت آئے گا۔ اس کے ساتھ تیز بخار ہوگا۔ اگر بخار کی میعاد تین دن سے زیادہ ہے تو کا ٹیسٹ مثبت آئے گا۔ اسکے بعد مریض یا اس کے معالج کو چاہیے کہ وہ CBC Test کروائے۔ جس میں اور ہیموگلوبن یا پرخصوصی نظر رکھے۔ Platelets کی نارمل تعداد 150-450 تک ہوتی ہے۔ ڈینگی وائرس کے بخار میں اگر ان کی تعداد 100 سے بھی نیچے آجائے تو پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ ڈاکٹر کے مشورے سے کسی اچھی بخار کش دوا، اینٹی الرجی اور اینٹی بائیوٹک کا استعمال کریں اور دن میں 3-4 لٹر ORS ملا پانی استعمال کریں۔ اگر Platelets کی تعداد 50 سے نیچے آجائے تو مریض کو ہسپتال منتقل کر دیا جائے۔ اور اسکے جگر اور گردوں کے ٹیسٹ بھی کروا لیے جائیں۔ Platelets کا 10 سے نیچے آ جانا انتہائی خطر ناک ہو سکتا ہے۔ ایسے مریض کو Platelets mega unit by Apharesis کی ضرورت ہوتی ہے۔
ڈینگی وائرس کے بخار میں 3-7 دن critical ہوتے ہیں۔ اسکے بعد مریض ٹھیک ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ مریض کے Platelets اگر 50 سے زیادہ ہو جائیں تو ہسپتال میں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اگر جسم میں خون کی مقدار یعنی ہیموگلوبن یا Hematocrit زیادہ ہو جائے تو اس کا مطلب ہے کہ جسم میں پانی کی کمی ہو گئی ہے۔ اسکے لیے ORS ملا پانی دن میں3-5 لٹر پلائیں یا Ringer Lactate Infusion کی ڈرپ لگائیں۔ اگر جسم میں White Blood Cells کم ہو رہے ہوں تو یہ ڈینگی وائرس کی تعداد بڑھنے کی علامت ہے۔ اگر جسم میں خون کی مقدار یعنی ہیموگلوبن یا Hematocrit یک دم کم ہو جائے تو یہ خون کے بہ کر ضائع ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے لیے مریض کو تازہ خون لگا نے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ڈینگی وائرس سے خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ڈینگی وائرس سے جاں بحق ہونے والے زیادہ تر مریض یا تو جگر اور گردوں کی پیچیدہ امراض میں مبتلا تھے یا پھر غفلت سے اور دیر سے ہسپتال لائے گئے اور جاں بر نہ ہو سکے۔

07/08/2019
26/07/2019

#مرگی کیا ہے؟
یہ مرکزی اعصابی نظام (نیورالوجی) مرض ہے جس میں #دماغ ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتا اور #جٹکے لگتے ہیں، #بیہوشی ہوتی ہے، دانتوں سے کبھی کبھی #زبان کاٹتا ہے، منہ سے #جھاگ نکلتی ہے. جس سے انسان کا رویہ ٹھیک نہیں ہوتا خوشی غم کے احساس میں ایسا ہوتا ہے اور بعض اوقات تو انسان کے سوچنے سمجھنے کی حس ختم ہو جاتی ہے.
اب بات یہ ہے کہ آجکل کے لوگ اسکو کیا سمجھتے ہیں.
ہمارے معاشرے مرگی کو زیادہ تر لوگ #جنات کا نام دیتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ #مولویوں کے ساتھ ساتھ کسی ڈاکٹر سے بھی مشورہ کر لیں. لوگ پڑھے لکھے ہو کر بھی کافی عرصہ جنات کے علاج میں لگے ہوتے ہیں لیکن جب انکا علاج نہیں ہوتا تو وہ پھر ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں.
دوستوں یہ کوئی جنات نہیں ہوتے اسکا علاج صرف اور صرف ڈاکٹر ہی کر سکتا ہے.
یہ #پوسٹ آپ سب کیلئے ہے #شئیر کریں اور لوگوں کو اس سے آگاہ کریں. شکریہ

 #فالجیہ ایک ایسی بیماری ہے جو دماغ کے باہری حصے اور دماغ کے اندرونی حصوں میں شریانوں پر اثر کرتا ہے.یہ دنیا میں مرنے کی...
26/07/2019

#فالج
یہ ایک ایسی بیماری ہے جو دماغ کے باہری حصے اور دماغ کے اندرونی حصوں میں شریانوں پر اثر کرتا ہے.
یہ دنیا میں مرنے کی وجوہات میں پانچویں نمبر پر ہے.
مالج تب ہوتا ہے جب دماغی شریان جو خون کی سپلائی کرتے ہیں اس وقت یا تو یہ خون میں کو لیسٹرول لیول زیادہ ہونے کی وجہ سےبلاک ہو جاتی ہیں یا خون کا پریشر زیادہ ہونے کی وجہ سے پھٹ جاتے ہیں. تو فالج ہوجاتا ہے. اگر رگ دائیں طرف بند یا پھٹ جائے تو بائیاں طرف مفلوج ہوتا ہے اور اگر بائیں طرف ہو جائے ایسے تو دائیاں طرف مفلوج ہوجاتا ہے.

this page mainly about public health if any one need help about any health problems can discuss with us for further opinion

Address

Dera Ismail Khan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Malik medical specialist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram