Dr. Nadeem

Dr. Nadeem Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr. Nadeem, Medical and health, Naseeb Hospital, katchari chowk, dipalpur, Okara, Dipalpur.

22/12/2021

Medical & health

10/11/2021

پتہ: نصیب ہسپتال، کچہری چوک دیپالپور.
آنے سے پہلے دیے گئے نمبر پر کال کر کے وقت طے کر لیں۔
سروسز ہسپتال لاہور کے ماہر امراض جوڑوں کا درد, ٹوٹی ھڈی کادرد، کمر درد ، پیدائشی معذوری٫ پاوں کا ٹیڑھا پن,پٹھوں کا درد، مہروں کا درد۔ ان تمام امراض کے علاج کے لیے بروز جمعۃ المبارک 10بجے سے 5بجے تک چیک اپ کروا سکتے ہیں.

Medical & health

پتہ: نصیب ہسپتال، کچہری چوک دیپالپور.آنے سے پہلے دیے گئے نمبر پر کال کر کے وقت طے کر لیں۔ سروسز ہسپتال لاہور کے ماہر امر...
10/08/2021

پتہ: نصیب ہسپتال، کچہری چوک دیپالپور.
آنے سے پہلے دیے گئے نمبر پر کال کر کے وقت طے کر لیں۔
سروسز ہسپتال لاہور کے ماہر امراض جوڑوں کا درد, ٹوٹی ھڈی کادرد، کمر درد ، پیدائشی معذوری٫ پاوں کا ٹیڑھا پن,پٹھوں کا درد، مہروں کا درد۔ ان تمام امراض کے علاج کے لیے بروز جمعۃ المبارک 10بجے سے 5بجے تک چیک اپ کروا سکتے ہیں.

پتہ: نصیب ہسپتال، کچہری چوک دیپالپور.آنے سے پہلے وقت وقت طے کر لیں۔ سروسز ہسپتال لاہور کے ماہر امراض جوڑوں کا درد, ٹوٹی ...
03/08/2021

پتہ: نصیب ہسپتال، کچہری چوک دیپالپور.
آنے سے پہلے وقت وقت طے کر لیں۔
سروسز ہسپتال لاہور کے ماہر امراض جوڑوں کا درد, ٹوٹی ھڈی کادرد، کمر درد ، پیدائشی معذوری٫ پاوں کا ٹیڑھا پن,پٹھوں کا درد، مہروں کا درد۔ ان تمام امراض کے علاج کے لیے بروز جمعۃ المبارک 10بجے سے 5بجے تک چیک اپ کروا سکتے ہیں.

رابطہ نمبر: 03146016409ڈاکٹر ندیم اخترپیدائشی ٹیڑھے پاؤں (کلب فٹ)پیدائشی بیماریوں میں بچوں کے ٹیڑھے پاؤں بہت عام ہیں۔ تق...
03/03/2021

رابطہ نمبر: 03146016409
ڈاکٹر ندیم اختر
پیدائشی ٹیڑھے پاؤں (کلب فٹ)
پیدائشی بیماریوں میں بچوں کے ٹیڑھے پاؤں بہت عام ہیں۔ تقریباایک ہزار بچوں میں سے دو بچے اس متاثر ہوتے ہیں۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے پاؤں نیچے اور اندر کی طرف مڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ نقص لڑکوں میں تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔ ان میں سے 50 فیصد بچوں کے دونوں پاؤں متاثر ہوتے ہیں۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟

بچوں کے پاؤں پیدائش کے وقت ٹیڑھے کیوں ہوتے ہیں۔ اسکی کوئی خاص وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ ان بچوں کے پاؤں کے پٹھے سکڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہڈیاں اور جوڑا اپنی صحیح جگہ پر نہیں ہوتے۔ متاثرہ پاؤں عام طور پر معمولی سا چھوٹا ہوتا ہے اور پنڈلیوں کے پٹھے ذرا پتلے ہوتے ہیں۔ لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ اہم چیز جو والدین کو ذہن نشین کر لینی چاہیئے کہ یہ قابل علاج نقص ہے۔ صحیح اور بروقت علاج سے پاؤں سیدھے ہو جاتے ہیں۔ بچے بالکل صحیح چل سکتے ہیں اورمستقبل میں انہیں پاؤں کی وجہ سےکوئی تکلیف یا معذوری نہیں ہوتی۔

پیدائشی ٹیڑھے پاؤں کے لئے بہترین طریقہ علاج

امریکہ کےایک پیڈیاٹرک آرتھو پیڈک سرجن، پروفیسر پونسٹی نے کلب فٹ کاایک بہترین طریقہ علاج دریافت کیا ۔یہ طریقہ علاج تمام ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہے۔اس کو پونسٹی ٹیکنیک ( ) کہتے ہیں۔ہمارے شعبے میں بھی کلب فٹ کا علاج اسی طریقےسے کیا جاتاہے۔ اس طریقہ علاج کے مطابق بچے کے پاؤں کا علاج پیدائش کے چند دنوں میں شروع ہو جانا چاہیے۔ علاج پلاسٹر سے شروع ہوتا ہے پاؤں کو آہستہ آہستہ سیدھا کرکے پلاسٹر لگایا جاتا ہے۔ پلاسٹر لگانے سے بچے کو کوئی خاص تکلیف نہیں ہوتی۔ البتہ بچے اکثر پلاسٹر لگواتے ہوئے روتے ہیں۔ پلاسٹر پاؤں کی انگلیوں سے لے کر گھٹنے کے اوپر تک لگایا جاتا ہے۔ جو 7 دنوں بعد تبدیل کیا جاتا ہےآخر میں عام طور پر ایڑھی کے اوپر والے حصے کو سن کر کے ایک کٹ لگا کر پٹھے کو لمبا کیا جاتا ہے۔ جب پاؤں کافی حد تک ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔ تا کہ پاؤں مکمل طور پر ٹھیک ہو جائے۔ اس کے بعد 3 ہفتوں کے لئے پلاسٹر لگا دیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے دو، تین ماہ میں تقریبا 95 فیصد پاؤں مکمل طور پر ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اس طریقہ علاج اور پلاسٹر سے پاؤں اور ٹانگوں کی نشوونما پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کےبعد کچھ عرصے کیلئے پاؤں کو سپیشل جوتوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ بہت کم پاؤں ایسےہیں جو مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوتے اور انہیں آپریشن کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ہدایات
1. پلاسٹر کو گیلا نہ ہونے دیں اسطرح پلاسٹر نرم ہو جاتا ہے۔ اگر پانی پلاسٹر کے اندر چلا جائے تو جلد کو نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
2. پلاسٹر مضبوطی سے پاؤں کو صحیح جگہ پر رکھتا ہے پلاسٹر کے کنارے وغیرہ کاٹنے سے یہ غیر موثر ہو سکتا ہے۔
3. پلاسٹر لگانے کے بعد کوئی خاص درد نہیں ہوتا مگر اکثر بچے کچھ دیر بے چین رہتے ہیں۔
4. پلاسٹر کو پلاسٹک کے کور کے اندر اچھی طرح لپیٹ کے بچے کو نہلایا جا سکتا ہے۔

رابطہ نمبر: 03146016409پیدائشی ٹیڑھے پاؤں (کلب فٹ)پیدائشی بیماریوں میں بچوں کے ٹیڑھے پاؤں بہت عام ہیں۔ تقریباایک ہزار بچ...
22/02/2021

رابطہ نمبر: 03146016409
پیدائشی ٹیڑھے پاؤں (کلب فٹ)
پیدائشی بیماریوں میں بچوں کے ٹیڑھے پاؤں بہت عام ہیں۔ تقریباایک ہزار بچوں میں سے دو بچے اس متاثر ہوتے ہیں۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے پاؤں نیچے اور اندر کی طرف مڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ نقص لڑکوں میں تین گنا زیادہ ہوتا ہے۔ ان میں سے 50 فیصد بچوں کے دونوں پاؤں متاثر ہوتے ہیں۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟

بچوں کے پاؤں پیدائش کے وقت ٹیڑھے کیوں ہوتے ہیں۔ اسکی کوئی خاص وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ ان بچوں کے پاؤں کے پٹھے سکڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہڈیاں اور جوڑا اپنی صحیح جگہ پر نہیں ہوتے۔ متاثرہ پاؤں عام طور پر معمولی سا چھوٹا ہوتا ہے اور پنڈلیوں کے پٹھے ذرا پتلے ہوتے ہیں۔ لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ اہم چیز جو والدین کو ذہن نشین کر لینی چاہیئے کہ یہ قابل علاج نقص ہے۔ صحیح اور بروقت علاج سے پاؤں سیدھے ہو جاتے ہیں۔ بچے بالکل صحیح چل سکتے ہیں اورمستقبل میں انہیں پاؤں کی وجہ سےکوئی تکلیف یا معذوری نہیں ہوتی۔

پیدائشی ٹیڑھے پاؤں کے لئے بہترین طریقہ علاج

امریکہ کےایک پیڈیاٹرک آرتھو پیڈک سرجن، پروفیسر پونسٹی نے کلب فٹ کاایک بہترین طریقہ علاج دریافت کیا ۔یہ طریقہ علاج تمام ترقی یافتہ ممالک میں رائج ہے۔اس کو پونسٹی ٹیکنیک ( ) کہتے ہیں۔ہمارے شعبے میں بھی کلب فٹ کا علاج اسی طریقےسے کیا جاتاہے۔ اس طریقہ علاج کے مطابق بچے کے پاؤں کا علاج پیدائش کے چند دنوں میں شروع ہو جانا چاہیے۔ علاج پلاسٹر سے شروع ہوتا ہے پاؤں کو آہستہ آہستہ سیدھا کرکے پلاسٹر لگایا جاتا ہے۔ پلاسٹر لگانے سے بچے کو کوئی خاص تکلیف نہیں ہوتی۔ البتہ بچے اکثر پلاسٹر لگواتے ہوئے روتے ہیں۔ پلاسٹر پاؤں کی انگلیوں سے لے کر گھٹنے کے اوپر تک لگایا جاتا ہے۔ جو 7 دنوں بعد تبدیل کیا جاتا ہےآخر میں عام طور پر ایڑھی کے اوپر والے حصے کو سن کر کے ایک کٹ لگا کر پٹھے کو لمبا کیا جاتا ہے۔ جب پاؤں کافی حد تک ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔ تا کہ پاؤں مکمل طور پر ٹھیک ہو جائے۔ اس کے بعد 3 ہفتوں کے لئے پلاسٹر لگا دیا جاتا ہے۔ اس طریقے سے دو، تین ماہ میں تقریبا 95 فیصد پاؤں مکمل طور پر ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اس طریقہ علاج اور پلاسٹر سے پاؤں اور ٹانگوں کی نشوونما پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کےبعد کچھ عرصے کیلئے پاؤں کو سپیشل جوتوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ بہت کم پاؤں ایسےہیں جو مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوتے اور انہیں آپریشن کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ہدایات
1. پلاسٹر کو گیلا نہ ہونے دیں اسطرح پلاسٹر نرم ہو جاتا ہے۔ اگر پانی پلاسٹر کے اندر چلا جائے تو جلد کو نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
2. پلاسٹر مضبوطی سے پاؤں کو صحیح جگہ پر رکھتا ہے پلاسٹر کے کنارے وغیرہ کاٹنے سے یہ غیر موثر ہو سکتا ہے۔
3. پلاسٹر لگانے کے بعد کوئی خاص درد نہیں ہوتا مگر اکثر بچے کچھ دیر بے چین رہتے ہیں۔
4. پلاسٹر کو پلاسٹک کے کور کے اندر اچھی طرح لپیٹ کے بچے کو نہلایا جا سکتا ہے۔
نہایت اہم
1. اگر انگلیوں کی رنگت نیلی یا سفید ہو جائے
2. اگر انگلیاں زیادہ سوج جائیں
3. اگر پلاسٹر نرم یا ٹوٹ جائے
تو پلاسٹر کو فورا اتار دیں اور اپنے معالج سے رابطہ کریں
پلاسٹر اتارنے کی ہدایات
1. گھر سے روانہ ہونے سے ایک گھنٹہ قبل پلاسٹر اتار دیں۔
2. ہلکے گرم پانی میں پلاسٹر کو بھگو کر نرم کر لیں۔ نرم ہو جانے کے بعد پلاسٹر کو اتار دیں۔
3. پلاسٹر اتارنے کے بعد بچے کو نہلایا جا سکتا ہے۔
4. ٹانگوں پر کوئی عام تیل یا لوشن لگا دیں۔

Address

Naseeb Hospital, Katchari Chowk, Dipalpur, Okara
Dipalpur

Opening Hours

09:00 - 17:00

Telephone

+923146016409

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Nadeem posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram