Dr.Atif homoeopathic clinic

Dr.Atif homoeopathic clinic homoeopathic doctor

26/03/2025

*ارجن: دل کا محافظ درخت*

ارجن (Arjun)ایک قد آور درخت ہے۔ جو ہندوستان، پاکستان، سری لنکا، میانمار اور کچھ دوسرے ایشیائی ممالک میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ پتے امرود کے پتوں جیسے قریبا چار پانچ انچ لمبے اور ایک سے دو انچ چوڑے ہوتے ہیں اور دس پتوں سے لے کر پندرہ پتے ایک شاخ میں لگتے ہیں۔اسکے پھول لمبے اور گچھے نما ہوتے ہیں اور اسکے بیج لکڑی کی طرح اور پانچ کونوں والے ہوتے ہیں۔اس کے پھل لمبے اورسبز رنگ کے ہوتے ہیں۔ ماہ جولائی میں اس کو پھل کثرت سے لگتے ہیں۔اسکو بیج اور قلم دونوں طریقوں سے لگایا جا سکتا ہے۔

لاہور کے لارنس باغ میں بھی ارجن کے کئی درخت ہیں۔آج سے چالیس پچاس سال پہلے یہ درخت شہروں میں سڑک کنارے اکثر لگائے جاتے تھے لیکن بعد میں کسی دور میں ہزاروں کی تعداد میں ان پرانے درختوں کو کاٹ دیا گیا۔ لیکن اب گذشتہ دس پندرہ سال میں محکمہ جنگلات پنجاب اور خصوصا موٹر وے اتھارٹی والوں نے اسکے سینکڑوں درخت لاہور۔اسلام آباد موٹر وے کے اطراف میں لگائے ہیں۔

اسکی لکڑی کافی ٹھوس قسم کی ہوتی ہے اوریہ ان درختوں میں شامل ہے جن کی لکڑی فی کیوبک میٹر ایک ٹن کے قریب ہوتی ہے۔یہ درخت سینکڑوں سال تک قائم رہتا ہے اور بظاہر اسے کوئی بیماری بھی نہیں لگتی۔

ایک اعلیٰ قسم کا ریشم کا کیڑاجسے Tussar silk کہا جاتا ہے، اس ریشم کے کیڑے اس درخت کے پتوں پر پالے جاتے ہیں۔

اس درخت کو طب میں بہت اہمیت حاصل ہے اور ہزاروں سال سے اس درخت کے مرکبات مختلف ادویات اور بیماریوں سے بچاؤ کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔خاص طور پر دل سے متعلقہ بیماریوں اور ہائی بلڈ پریشر کیلئے اسکی چھال کو ابال کر پیتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس درخت کو ''دل کا محافظ'' درخت بھی کہا جاتا ہے۔

ارجن کو ہندی میں ارجنا،سنسکرت میں ارجن پرکھش، تامل میں مردتنے، بنگالی میں ارجن، گجراتی میں ساجد ان اور انگریزی میں بھی Arjun Tree ہی کہتے ہیں، اسکا نباتاتی نام Terminalia arjuna ہے۔

ارجن میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا: ارجن کی چھال میں پندرہ فیصد ٹے نین، تیس فیصد کیلشِیم کاربونیٹ، سوڈیم اور گلوکوسائیڈ پایا جاتا ہے۔انکے علاوہ بیٹا سائیٹو سیٹرول،ٹرائی ٹرپی نائیڈسیونین،ارجونین،ارجونیٹین،ارجو نولک ایسڈ،فراری تیل،شکر،کے ساتھ تھوڑی مقدار میں میگنیشیم اور ایلومینیم کے نمکیات بھی ملتے ہیں۔

ارجنا کے پتوں سے ہومیوپیتھک میں مدر ٹنکچر (Q) تیار کی جاتی ہے۔ جو کہ دل کو طاقت دیتا ہے۔اس کی دھڑکن کو کم کرتا ہے۔ ارجن زہریلے اثرات سے پاک ہے۔

ارجن کے طبی فوائد:

دل کے امراض: ارجن کو دل کا محافظ درخت کہا جاتا ہے۔ اس کی چھال میں پایا جانے والا گلوکو سائیڈ انگریزی دواڈیجی ٹیلس (Digitalis)کی طرح دل کی دھڑکن کو ختم کرتا ہے اور دل کو طاقت دیتا ہے۔ تاہم ڈیجی ٹینس میں زہریلے ا ثرات ہوتے ہیں اور ارجن کی چھال کا گلو کو سائڈ بالکل بے ضرر ہوتاہے۔

اس کو دل کے فعلی اور عضویاتی امراض میں جیسے کہ درددل، انجائینا،خفقان،ورم بطانہ قلب،ورم غلاف القلب میں استعمال کیا جاتا ہے،اس کی سب سے اچھی خوبی اس کا بے ضرر ہونا ہے۔ اس کے دل پر کوئی زہریلے اثرات نہیں ہوتے۔ یہ ہائیپرٹینشن میں خاص طور پر مفید ہے۔

ارجن میں پائے جانے والے اجزاء دل کے نازک پٹھوں خون کی نالیوں کو مظبوط کرنے کے ساتھ خون میں چکنائی کو ہضم کرنے والے نظام کی اصلاح کر کے اسے فعال بناتے ہیں۔اینٹی اوکسیڈنٹ بطور دوا ایسے جزو کا نام ہے جو دوسرے اجزاء کو اکسیجن سے مل کر ٹھوس ہونے سے روکے جیسے کہ خون کی نالیوں میں چکنائی کا جمنا،ارجن کی چھال سے بننے والا قہوہ اپنی اینٹی اوکسیڈنٹ صلاحیت کی وجہ سے دل کے امراض میں انتہائی مفید ہے۔

ڈی این اے تحفظ: ارجن میں ایسے مرکبات ہیں جو ڈی این اے کو مختلف وجوہات سے پہنچنے والے نقصان سے بچانے میں معاون ہیں۔

قلبی صحت: یہ دل کے پٹھوں کو طاقت فراہم کرتا ہے اور خون کو پمپ کرنے کی دل کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے۔ اس میں کارڈیو حفاظتی اقدامات ہیں، جو دل کے زیادہ سے زیادہ افعال کو محفوظ رکھنے میں مدد کرتا ہے اور کارڈیک چوٹ کی بحالی کے عمل کو تیز کرتا ہے۔ یہ سب سے زیادہ عام طور پر مایوکارڈیل انفکشن (ہارٹ اٹیک) سے بچاؤ کے لئے استعمال ہوتا ہے کیونکہ اس میں اینٹی ایٹروجینک پراپرٹی ہے، جو کورونری شریانوں میں پیدا ہونے والی سختی کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے اور دل کے ٹشووں میں خون کے بہاؤ کو بہتر بناتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر کا علاج: ہائی بلڈ پریشر کیلئے ارجن ایک بہترین گھریلو علاج ہے۔ ہائی بلڈ پریشر ایک انتہائی سنگین طبی حالت ہے جو دل کی ناکامی، فالج، دل کا دورہ، گردے کی خرابی اور دیگر سنگین پریشانیوں کا سبب بن سکتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کی عام علامات میں شدید سردرد، متلی، الٹی، الجھن، ناک سے خون بہنا وغیرہ شامل ہیں۔ لہذا قدرتی طور پر ہائی بلڈ پریشر کا علاج کرنے کے لئے ارجن سے بہتر کوئی قدرتی دوا نہیں ہے۔

بواسیر اور خون بہہنے والی امراض: ارجن میں پائے جانے والے قدرتی مادے میں اینٹی ہیمرجک پراپرٹی ہے، جس سے بہتے خون کو روکا جا سکتا ہے۔ یہ یونانی طب میں عام طور پر دیگر جڑی بوٹیوں کے ساتھ خون بہہ جانے والی عوارض کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

ارجن کے دیگر استعمال: ارجن قدرت کا ایک بیش بہا تحفہ ہے۔ارجن کی چھال کا جوشاندہ دست، پیچش، جریان خون اور جریان منی میں مفید ہے۔ اگر اس کی چھال کے جوشاندہ سے زخموں کو دھویا جائے تو جلدی مندمل ہو جاتے ہیں۔ اس کی چھال کے سفوف کو کیل مہاسے اور چھائیوں میں استعمال کرنا مفید ہے۔ معمولی چوٹ میں چھال کو پانی میں پیس کر لیپ کر لینا کافی ہے۔ اس کی چھال سے بہترین کھاد بنائی جاتی ہے۔ بنگال (مدنا پور) میں اس کی چھال خاکی کپڑہ رنگنے میں کام آتی ہے۔ ارجن کی چھال کا سفوف دودھ یا پانی کے ہمراہ چو ٹ لگنے اور ہڈی ٹوٹنے میں کھلاتے ہیں۔ جب کے خون جمنے سے جلد پر سرخ یا نیلے رنگ کے داغ پڑ گئے ہوں۔ پتے تیل میں جلا کر کان میں ڈالنا کان درد کے لئے مفید ہے۔ پھل کا سفوف چار گرام ہمراہ پانی قبض کو کھولتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

10/09/2023

اسرائیلی سائنسدانوں نے اسپرم اور انڈے کے بغیر ہی بچے کی پیدائش کو ممکن بنا دیا ۔
سائنس کہتی ہے کہ بچے کی پیدائش کے لئے انسانی اسپرم اور انڈے کی ضرورت ہوتی ہے۔
لیکن سائنسدانوں نے یہ بھی ممکن کر دیا کہ ان کے بغیر بھی بچہ آسانی سے پیدا ہو سکتا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ویزمین انسٹی ٹیوٹ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ اسٹیم سیلز کا استعمال کرتے ہوے ایک انسانی جنین Human embro بنایا گیا اس نے ایسے ہارمونز بھی نکالے کہ لیب میں حمل کا ٹیسٹ پازیٹو ہو گیا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ نیا ماڈل ایک حقیقی جنین کی طرح تیار ہو سکتا ہے۔

26/08/2023

Jigar Ki Kharabi Ki Alamat | Jigar Kharab Hone Ki 7 Alamat | 7 Early Signs Of Liver Failure In UrduJigar Kharab Hone Ki 7 Alamat l 7 Early Signs Of Liver Dam...

02/06/2023


خلیفہ ھارون الرشید نے فرانس کے بادشاہ شارلمان کو ایک گھڑی تحفہ بھیج دی ۔ یہ گھڑی 4 میٹر اونچی خالص پیتل سے بنی تھی اور پانی کے زور پر چلتی تھی ۔
گھنٹہ ہونے پر گھڑی کے اندر سے 1 گیند نکلتی ، 2 گھنٹے پر 2 گیندیں اور 3 گھنٹے پر 3 گیندیں اس طرح ہر گھنٹے کے ساتھ ایک گیند کا اضافہ ہوتا تھا ، گیند کے نکلنے کے ساتھ ایک خوبصورت سریلی آواز کے ساتھ گیند کے پیچھے پیچھے ایک گھڑ سوار نکلتا وہ گھڑی کے گرد چکر کاٹ کر واپس داخل ہوتا جب 12 بج جاتے تو بارہ گھڑ سوار نکلتے چکر کاٹ کر واپس جاتے ۔
‌گھڑی کی یہ حرکتیں دیکھ کر بادشاہ شارلمان کافی پریشان ہوا اس نے پادریوں اور نجومیوں کو محل میں بلایا، سب نے دیکھ کر کہا اس گھڑی کے اندر ضرور شیطان ہے ۔
سب رات کے وقت گھڑی کے پاس آئے کہ اس وقت شیطان سویا ہوگا ، چنانچہ انہوں نے گھڑی کھول لی تو آلات کے سوا کچھ نہیں ملا ، لیکن گھڑی خراب ہوچکی تھی ۔ پورے فرانس میں گھڑی کو ٹھیک کرنے کے لئے کوئی کاریگر نہیں تھا ، شرمندگی کی وجہ سے ھارون الرشید سے بھی نہیں کہہ سکتے تھے کہ کوئی مسلمان کاریگر بھیج دیں ۔
مطلب کہ جب سائنس پر مسلمانوں کی اجارہ داری تھی اس وقت یورپ سائنس کو جادو سمجھتا تھا ۔

دُنیا میں سب سے پہلا "کیمرہ" ایجاد کرنے والا "ابنِ الہیثم" ہے ۔
دُنیا میں سب سے پہلا "کیلنڈر" ایجاد کرنے والا "عُمرخیام" ہے ۔
آپریشن سے قبل مریض کو "بےہوش" کرنے کا طریقہ متعارف کروانے والا "زکریاالرازی" ھے ۔۔
دُنیا میں "الجبرا" ایجاد اور متعارف کروانے والا "موسیٰ الخوارزمی" ہے ۔
سن 1957 میں "شیمپو" ایجاد کرنے والا "محمد" ہے ۔
زمیں پہ آنے والے "زلزلوں" کی سب سے پہلے سائنسی وجوہات بیان کرنے والا "ابنِ سینا" ہے ۔
کپڑا اورچمڑا رنگ کرنے اور گلاس بنانے کیلئے "میگنیز ڈائی آکسائد" کا استعمال متعارف کروانے والا "ابنِ سینا" ہے ۔
دھاتوں کی صفائی ، "سٹیل" بنانے کا طریقہ متعارف کروانے والا "ابنِ سینا" ہے ۔
مصنوعی "دانت" لگانے کا طریقہ متعارف کروانے والا "ابوالقاسم الزہروی" ہے ۔
ٹیڑھے "دانتوں" کو سیدھا کرنے اور خراب "دانت" نکالنے کا طریقہ متعارف کروانے والا "ابوالقاسم الزہروی" ہے ۔
دُنیا میں سب سے پہلے "ادویات" بنانے کے علم متعارف کروانے والا "ابنِ سینا" ہے ۔
دُنیا میں کششِ ثقل کی درست پیمائش کا طریقہ متعارف کروانے والا "عُمرخیام" ہے ۔
آنکھ ، ناک ، کان اور پتے کا "آپریشن" سے علاج متعارف کروانے والا "ابوالقاسم الزہروی" ہے ۔
دنیا میں "سرجری" کیلئے استعمال ھونے والے تین اہم ترین آلات متعارف کروانے والا "ابوالقاسم الزہروی" ہے ۔
دُنیاوی علموں میں "علمِ اعداد" اور "جدیدریاضی" کی بنیاد رکھنے والا "یعقوب الکندی" ہے ۔
مریضوں کو دی جانے والی "ادویات کی درست مقدار" کا تعین کرنے والا "یعقوب الکندی" ہے ۔
دُنیا کو "آنکھ" پہ روشنی کے مُضراثرات کا بتانے والا "زکریاالرازی" ہے ۔
روشنی کی "رفتار" کا آواز کی "رفتار" سے تیز ہونے کا انکشاف کرنے والا "البیرونی" ہے ۔
دنیا کو "زمین چاند اور سیاروں" کی حرکات اور خصوصیات سے روشناس کرنے والا "البیرونی" ہے ۔
دُنیا کو "قُطب شمالی اور قُطب جنوبی" کی سمت کا تعین کرنے کے "سات طریقے" بتانے والا "البیرونی" ہے ۔
علمِ ارضیات میں مغرب والوں کی زبان سے "بابائےارضیات" کہلائے جانے والا "ابنِ سینا" ہے ۔
دُنیا میں "ہائیڈروکلورک ایسڈ ، نائٹرک ایسڈ اور سفید سیسہ" بنانے کے طریقے بیان کرنے والا " جابر بن حیان" ہے ۔
کیمیکلز بنانے اور ایجاد کرنے میں "بابائےکیمیا" کہلائے جانے والا "ابنِ سینا" ہے ۔
دُنیا کو "روشنی کے انعکاس" اور بصارت میں "ریٹینا" کا مرکزی کردار متعارف کروانے والا "ابنِ الہیثم" ہے ۔
اور "سیاروں" کی حرکت کا درست تعین کرنے والا "نصیرالدین طوسی" ہے ۔

یہ سب مُسلمان سائنسدان ہی تھے اور تُم پوچھتے ہو کہ اِسلام نے آج تک دُنیا کو دیا ہی کیا ہے ؟؟؟؟

04/01/2023

ہاتھی پاؤں یا لمفیٹک فلئرائسس کا علاج

لاکھوں میں ایک فرد آپ کو ایسا نظر آئے گا جس کا ایک پاؤں ٹانگ ہاتھ یا بازو دوسرے کی نسبت بہت موٹا ہوگا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ بیماری ایک مچھر کے کاٹنے سے لاحق ہوتی ہے؟ جی ہاں ایک ایسا مچھر جس کے اندر filarial parasites کے لاروا ہوتے ہیں۔ ان کو (roundworms) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لاروا انفیکٹڈ مچھر کے کاٹنے سے مچھر سے انسانی جسم داخل ہوتے اور وہاں اپنا اگلا لائف سائیکل پورا کرکے بڑے ہوجاتے۔

جس طرح کسی عمارت میں پانی کی نکل و حرکت کے لیے ایک سیورج سسٹم ہوتا ہے بلکل اسی طرح انسان جسم میں بھی خون کی نالیوں سے خودکار نظام کے تحت نکلنے والی رطوبتوں کو ٹھکانے لگانے کے Lymphatic system کام کرتا ہے۔ اب فلیرئل لاروے بڑے ہو کر لمف نارڈ lymph nodes کو بند کر دیتے۔ اور وہ رطوبتیں اپنی مطلوبہ جگہ جانے کی بجائے وہیں ٹانگ کے نچلے حصے یا بازو میں کہنی کے نچلے حصے میں جمع ہونا شروع ہو جاتیں۔ ایک طرف تو وہ پانی جمع ہو رہا ہوتا دوسری طرف جسم میں موجود پیراسائٹ تیزی سے اپنا سائز اور اپنی تعداد بڑھا رہے ہوتے۔

نتیجتاً پاوں ٹانگ ہاتھ یا بازو کا سائز ایسے ہوجاتا جیسے ہاتھی کا پاؤں ہے۔ ایک طرف تکلیف تو دوسری طرف سوشل سٹگما الگ سے جان لے رہا ہوتا۔ لوگ ڈرنا شروع کر دیتے کہ اس متاثرہ فرد کو کاٹنے والا مچھر ہمیں بھی کاٹ کر انفیکٹڈ نہ کر دے۔ اور انکا یہ ڈر کسی نہ کسی حد تک درست ہوتا ہے۔ مگر ایسا ہر قسم کے مچھر کے کاٹنے سے بلکل نہیں ہوتا۔ بلکہ اکثریت کیسز میں مچھر کی ایک خاص قسم Culex کے کاٹنے سے منتقل ہوتی ہے۔ اور نہ ہی خدا نخواستہ ایسا ہوتا ہے اس فرد کو کاٹنے والا مچھر جسے کاٹے گا وہ بھی ایسا ہی ہوجائے گا۔

ڈاکٹرز کی طرف سے اس مرض سے متاثرہ مریض کو ہدایت کی جاتی کہ وہ ہر ممکن حد تک خود کو مچھر کے کاٹنے سے بچائے۔ پرسنل ہائی جین کا بہت خیال رکھے۔ جن لوگوں کا امیون سسٹم مضبوط ہوتا ان کو انفیکٹڈ مچھر کاٹنے کے بعد بھی عموماً لاروا اپنا لائف سائیکل مکمل نہیں کر پاتا اور ہمیشہ لاروا سٹیج میں ہی رہتا ہے۔ جسکی وجہ سے انکو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔

ہاتھ پاؤں ٹانگ یا بازو موٹا ہونے سے پہلے ہی عموماً گردن کے دائیں سائیڈ پر خون کی نالیاں بڑی نمایاں ہو کر اسکن سے باہر ابھری ہوئی نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس اسٹیج پر مرض کا آغاز ہو رہا ہوتا ہے اور کیمو تھراپی سے اسے کافی حد تک بڑھنے اور نقصان کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ ایک عام ڈاکٹر نہیں بلکہ ایک ڈرما ٹالوجسٹ Dermatologist اس مرض کی تشخیص اور علاج کرتا ہے۔ علاج میں ابھی تک کوئی ایسا نہیں ہے جو اس چیز کو سو فیصد ختم کر سکے۔ ڈاکٹرز پوری دنیا میں Diethylcarbamazine (DEC) نامی دوائی ان مریضوں کو دیتے ہیں۔ اس دوا کا بنیادی مقصد جسم میں موجود adult worm کو مارنا ہوتا ہے۔ پانی کو خشک کرنے یا نکالنے پر کام کیا جاتا۔ ایسا نہیں ہوتا کہ اندر گوشت بڑھ گیا ہوا ہے اور آپریشن کرکے ایک ہی بار ٹانگ یا بازو کو نارمل کر دیا جائے۔ احتیاط اور علاج لمبے عرصے تک جاری رہتا ہے۔
ہومیو پیتھی میں Hydrocotyle 30 دن میں تین سے چار مرتبہ روزانہ دینے سے باقی طریقہ علاج کی نسبت مریض جلدی صحتیاب ہو جاتا یے۔

ایسے افراد سے ڈرنے کی بجائے ان سے محبت کی جائے۔ اور انکو تنہائی سے نکال کر ہر قسم کے فیملی و سوشل ایونٹس میں ضرور شریک کیا جائے۔ اور ایسے افراد خود بھی کوئی ایسی سافٹ ہا ہارڈ اسکل سیکھ کر خود کو مصروف رکھیں جس میں کہیں آنے جانے کی ضرورت کم سے کم ہو۔

جسم کے کس عضو organ کو کیسے بچائیںآنکھوں کو بچانا ہے تو وٹامن A استعمال کریںاعصاب nerves کو بچانا ہے تو وٹامن B1 استعمال...
06/09/2022

جسم کے کس عضو organ کو کیسے بچائیں
آنکھوں کو بچانا ہے تو وٹامن A استعمال کریں
اعصاب nerves کو بچانا ہے تو وٹامن B1 استعمال کریں
اسکن کو بچانا ہے تو وٹامن C استعمال کریں
ہڈیوں کو بچانا ہے تو کیلشم اور وٹامن D استعمال کریں
سیکس آرگن کو بچانا ہے تو وٹامن۔ E استعمال کریں
خون بہنے سے بچانا ہے تو وٹامنK استعمال کریں
بالوں کو بچانا ہے تو وٹامن H بایوٹن استعمال کریں
جگر کو بچانا ہے تو کشمش اور آلوبخارا استعمال کریں
گڑدوں کو بچانا ہے تو کالی کشمش ا ور کرین بیری استعمال کریں
معدے کو بچانا ہے تو دودھ استعمال کریں
آنتوں کو بچانا ہے تو اسپغول کا چھلکا اور منقہ استعمال کریں
دل اور پٹھوں کو بچانا ہے تو سلفر ڈائی آکسائیڈ گیسوٹرانسمیٹر استعمال کریں
رگوں blood vessels کو بچانا ہے تو نائٹرک ایسڈ گیسوٹرانسمیٹر استعمال کریں
دماغ کو بچانا ہے تو ھائیڈروجن سلفائیڈ گیسوٹرانسمیٹر استعمال کریں
لبلبہ Pancreas کو بچانا ہے تو کرومک کلورائیڈ استعمال کریں ڈاکٹر عاطف شہباز

18/07/2022

معروف ہارٹ سرجن میجر جنرل (ر) اظہر محمود کیانی نے ملک بھر کے عوام کو مشورہ دیا کہ اگر کسی کو اچانک سینے کے درمیان کھچاؤ اور درد محسوس ہونے لگے جو بائیں بازو یا گردن کے دونوں طرف بڑھنے لگے۔ پسینہ چھوٹ پڑے۔ رنگ زرد ہو جائے۔ سانس لینے میں دشواری ہو۔ یا ایسا ایسا محسوس ہو جیسے اُسکے سینے پہ کوئی بیٹھا ہے اور اپنے اندر شدید بے چینی محسوس کرے تو یہ ہارٹ اٹیک کی نشانی ہو گی۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے متعلقہ شخص کو ایک ڈسپرین ٹیبلٹ فوری طور پہ چبا کر نگل لینی چاہئے اور زبان کے نیچے ایک ٹیبلٹ اینجی سڈ Angised رکھ لینی چاہئے۔ شرٹ کے اندر سینے کے بائیں جانب Deponid این ٹی فائیو سکن پیچ (PATCH) لگا لینا چاہئے۔ اس کٹ کی مجموعی لاگت صرف پچاس سے پچپن روپے بنے گی۔
فرسٹ ایڈ کے اس فوری عمل سے ہسپتال پہنچنے تک متعلقہ شخص موت کے منہ میں جانے اور ہارٹ اٹیک سے بچ جائے گا۔ انشاء اللہ۔
تمام مرد و خواتین جن کی عمر 40 سال سے زائد ہو چکی ہو اپنی ہارٹ سیفٹی کٹ خود تیار کر کے گھر۔ آفس۔ گاڑی۔ کوٹ کی اندرونی جیب یا لیڈیز ہینڈ بیگ میں اپنے ساتھ رکھیں تو وہ اچانک ہارٹ اٹیک سے موت کا شکار ہونے سے بچ سکتے ہیں.
اللہ کریم سب کو صحت و سلامتی عطا فرمائے۔آمین ثمہ آمین

15/07/2022

1. بلڈ پریشر: 120/80
2. نبض: 70 - 100
3. درجہ حرارت: 36.8 - 37
4. تنفس: 12-16
5. ہیموگلوبن: مرد (13.50-18)
خواتین ( 11.50 - 16 )
6. کولیسٹرول: 130 - 200
7. پوٹاشیم: 3.50 - 5
8. سوڈیم: 135 - 145
9. ٹرائگلیسرائیڈز: 220
10. جسم میں خون کی مقدار:
پی سی وی 30-40%
11. شوگر: بچوں کے لیے (70-130)
بالغ: 70 - 115
12. آئرن: 8-15 ملی گرام
13. سفید خون کے خلیات: 4000 - 11000
14. پلیٹلیٹس: 150,000 - 400,000
15. خون کے سرخ خلیے: 4.50 - 6 ملین۔
16. کیلشیم: 8.6 - 10.3 ملی گرام/ڈی ایل
17. وٹامن ڈی 3: 20 - 50 این جی/ملی لیٹر (نینوگرام فی ملی لیٹر)
18. وٹامن B12: 200 - 900 pg/ml

*جو لوگ اوور پہنچ چکے ہیں ان کے لیے تجاویز:*
*40 سال*
*50*
*60*

*پہلا مشورہ:*
ہمیشہ پانی پئیں چاہے آپ کو پیاس نہ لگے یا ضرورت کیوں نہ ہو... صحت کے سب سے بڑے مسائل اور ان میں سے زیادہ تر جسم میں پانی کی کمی سے ہوتے ہیں۔ 2 لیٹر کم از کم فی دن (24 گھنٹے)

*دوسرا مشورہ:*
کھیل کھیلو یہاں تک کہ جب آپ اپنی مصروفیت کے عروج پر ہوں... جسم کو حرکت میں لانا چاہیے، چاہے صرف پیدل چل کر... یا تیراکی... یا کسی بھی قسم کے کھیل ہی کیوں نہ ہوں۔ 🚶 پیدل چلنا شروع کرنے کے لیے اچھا ہے... 👌

*تیسرا مشورہ:*
کھانا کم کریں...

ضرورت سے زیادہ کھانے کی خواہش کو چھوڑ دو... کیونکہ یہ کبھی اچھا نہیں لاتا۔ اپنے آپ کو محروم نہ کریں بلکہ مقدار کم کریں۔ پروٹین، کاربوہائیڈریٹس پر مبنی خوراک کا زیادہ استعمال کریں۔

*چوتھا مشورہ*
جہاں تک ممکن ہو، گاڑی کا استعمال نہ کریں جب تک کہ بالکل ضروری نہ ہو... اپنے پیروں پر پہنچنے کی کوشش کریں جو آپ چاہتے ہیں ( گروسری، کسی سے ملنا...) یا کسی مقصد کے لیے۔ لفٹ، ایسکلیٹر استعمال کرنے کے بجائے سیڑھیوں کا دعوی کریں۔

*پانچواں مشورہ*
غصہ چھوڑ دو...
غصہ چھوڑ دو...
غصہ چھوڑ دو...
فکر چھوڑو.... چیزوں کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرو...

اپنے آپ کو پریشانی کے حالات میں شامل نہ کریں ... یہ سب صحت کو کم کرتے ہیں اور روح کی رونق کو چھین لیتے ہیں۔ ایک نینی کا انتخاب کریں جس کے ساتھ آپ آرام دہ محسوس کریں۔ ان لوگوں سے بات کریں جو مثبت ہیں اور سنیں 👂

*چھٹا مشورہ*
جیسا کہ کہا جاتا ہے.. اپنا پیسہ دھوپ میں چھوڑ دو.. اور سایہ میں بیٹھو.. اپنے آپ کو اور اپنے آس پاس والوں کو محدود نہ کرو.. پیسہ اس سے جینے کے لیے بنایا گیا تھا، اس کے لیے نہیں جینے کے لیے۔

*ساتواں مشورہ*
اپنے آپ کو کسی کے لیے رنجیدہ نہ کرو، اور نہ ہی کسی ایسی چیز پر جو آپ حاصل نہ کر سکے،
اور نہ ہی کوئی ایسی چیز جس کے آپ مالک نہ ہو سکے۔
اسے نظر انداز کریں، بھول جائیں؛

*آٹھواں مشورہ*
عاجزی.. پھر عاجزی.. پیسے، وقار، طاقت اور اثر و رسوخ کے لیے... یہ سب چیزیں ہیں جو تکبر اور تکبر سے خراب ہو جاتی ہیں..
عاجزی وہ ہے جو لوگوں کو محبت کے ساتھ آپ کے قریب لاتی ہے۔ ☺

*نواں مشورہ*
اگر آپ کے بال سفید ہو جاتے ہیں، تو اس کا مطلب زندگی کا خاتمہ نہیں ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک بہتر زندگی شروع ہو چکی ہے۔ 🙋 پر امید بنیں، یاد کے ساتھ زندگی گزاریں، سفر کریں، خود سے لطف اندوز ہوں
منجانب ۔ ڈاکٹر عاطف شہباز

03/06/2022
26/02/2022

The word hepatitis arise from the Ancient Greek word hepar meaning 'liver', and the Latin itis meaning ‘inflammation’. So Hepatitis is the inflammation of the liver.

The most common cause for hepatitis is viruses. Other causes may include excessive alcohol use, certain medications, toxins, other infections, and autoimmune diseases.

Reg,Dr Atif
03343181767

23/02/2022

The signs and symptoms of acute viral hepatitis result from damage to the liver and are similar regardless of the hepatitis virus responsible. Patients may experience a flulike illness, and general symptoms include nausea, vomiting, abdominal pain, fever, fatigue, loss of appetite, and, less commonly, rash and joint pain. Sometimes jaundice, a yellowing of the skin and eyes, will develop. The acute symptomatic phase of viral hepatitis usually lasts from a few days to several weeks; the period of jaundice that may follow can persist from one to three weeks. Complications of acute viral hepatitis include fulminant hepatitis, which is a very severe, rapidly developing form of the disease that results in severe liver failure, impaired kidney function, difficulty in the clotting of blood, and marked changes in neurological function. Such patients rapidly become comatose; mortality is as high as 90 percent. Another complication is chronic hepatitis, which is characterized by liver cell death and inflammation over a period greater than six months.

Encyclopaedia Britannica thistle graphic to be used with a Mendel/Consumer quiz in place of a photograph.
BRITANNICA QUIZ
44 Questions from Britannica’s Most Popular Health and Medicine Quizzes
How much do you know about human anatomy? How about medical conditions? The brain? You’ll need to know a lot to answer 44 of the hardest questions from Britannica’s most popular quizzes about health and medicine.
Viral causes
Most cases of hepatitis are caused by viral infection. The viruses that give rise to liver inflammation include cytomegalovirus; yellow-fever virus; Epstein-Barr virus; herpes simplex viruses; measles, mumps, and chickenpox viruses; and a number of hepatitis viruses. The term viral hepatitis, however, usually is applied only to those cases of liver disease caused by the hepatitis viruses.

There are seven known hepatitis viruses, which are labeled A, B, C, D, E, F, and G. Hepatitis A, E, and F viruses are transmitted through the ingestion of contaminated food or water (called the fecal-oral route); the spread of these agents is aggravated by crowded conditions and poor sanitation. The B, C, D, and G viruses are transmitted mainly by blood or bodily fluids; s*xual contact or exposure to contaminated blood are common modes of transmission.

Hepatitis A
Hepatitis A, caused by the hepatitis A virus (HAV), is the most common worldwide. The onset of hepatitis A usually occurs 15 to 45 days after exposure to the virus, and some infected individuals, especially children, exhibit no clinical manifestations. In the majority of cases, no special treatment other than bed rest is required; most recover fully from the disease. Hepatitis A does not give rise to chronic hepatitis. The severity of the disease can be reduced if the affected individual is injected within two weeks of exposure with immune serum globulin obtained from persons exposed to HAV. This approach, called passive immunization, is effective because the serum contains antibodies against HAV. An effective vaccine against HAV is available and is routinely administered to children over two years of age living in communities with high rates of HAV. The vaccine is also recommended for people who travel to areas where HAV is common, homos*xuals, people with chronic liver disease, hemophiliacs, and people who have an occupational risk for infection.

Hepatitis B
Hepatitis B is a much more severe and longer-lasting disease than hepatitis A. It may occur as an acute disease, or, in about 5 to 10 percent of cases, the illness may become chronic and lead to permanent liver damage. Symptoms usually appear from 40 days to 6 months after exposure to the hepatitis B virus (HBV). Those persons at greatest risk for contracting hepatitis B include intravenous drug users, s*xual partners of individuals with the disease, health care workers who are not adequately immunized, and recipients of organ transplants or blood transfusions. A safe and effective vaccine against HBV is available and provides protection for at least five years. Passive immunization with hepatitis B immune globulin can also provide protection. Approximately 1 in 10 patients with HBV infection becomes a carrier of the virus and may transmit it to others. Those who carry the virus are also 100 times more likely to develop liver cancer than persons without HBV in their blood.

Hepatitis C
Hepatitis C virus (HCV) was isolated in 1989, at which time it was referred to as non-A, non-B hepatitis. It typically is transmitted through contact with infected blood. Infection may cause mild or severe illness that lasts several weeks or a lifetime; in the early 21st century an estimated 71 million people worldwide had chronic HCV infection. About 80 percent of those who become infected are asymptomatic; those who do show symptoms may experience a flulike illness, with fatigue, nausea, vomiting, and sometimes jaundice. Approximately 60 to 80 percent of chronic infections progress to chronic liver disease, such as cirrhosis or liver cancer. Alcoholics who are infected with hepatitis C are more prone to develop cirrhosis.

Treatment for hepatitis C involves a combination of antiviral medications, namely alpha interferon and ribavirin; however, only about half of those receiving these drugs respond. Other antivirals, such as boceprevir and telaprevir, may be used along with interferon and ribavirin in patients who are infected with a form of hepatitis C known as hepatitis C genotype 1; this therapy typically is reserved for patients in whom the combination of interferon and ribavirin alone is ineffective. Hepatitis C infection can be prevented by avoiding unsafe blood products, needle sharing, and unprotected s*x and by exercising caution when seeking tattoos or body piercings. Despite extensive research, a vaccine to prevent HCV infection has remained elusive.

Hepatitis D
Infection with hepatitis D virus (HDV), also called the delta agent, can occur only in association with HBV infection, because HDV requires HBV to replicate. Infection with HDV may occur at the same time infection with HBV occurs, or HDV may infect a person already infected with HBV. The latter situation appears to give rise to a more serious condition, leading to cirrhosis or chronic liver disease. Alpha interferon is the only treatment for HDV infection. Preventing infection with HBV also prevents HDV infection.

Hepatitis E
Discovered in the 1980s, the hepatitis E virus (HEV) is similar to HAV. HEV is transmitted in the same manner as HAV, and it, too, only causes acute infection. However, the effects of infection with HEV are more severe than those caused by HAV, and death is more common. The risk of acute liver failure from infection with HEV is especially great for pregnant women. In less-developed countries, including Mexico, India, and those in Africa, HEV is responsible for widespread epidemics of hepatitis that occur as a result of ingestion of contaminated water or food (enteric transmission).

Hepatitis F and G
Some cases of hepatitis transmitted through contaminated food or water are attributed to the hepatitis F virus (HFV), which was first reported in 1994. Another virus isolated in 1996, the hepatitis G virus (HGV), is believed to be responsible for a large number of s*xually transmitted and bloodborne cases of hepatitis. HGV causes acute and chronic forms of the disease and often infects persons already infected with HCV.

Other causes

Most cases of chronic hepatitis are caused by the hepatitis viruses B, C, and D, but other factors such as alcoholism, reaction to certain medications, and autoimmune reactions lead to development of the disease. Chronic hepatitis may also be associated with some illnesses, such as Wilson disease and alpha-1-antitrypsin deficiency. Chronic hepatitis B primarily affects males, whereas chronic hepatitis C arises in equal numbers in both s*xes. Autoimmune hepatitis, a disorder associated with a malfunction of the immune system, generally occurs in young women. Treatment for autoimmune hepatitis includes corticosteroids, which help to reduce symptoms.

Alcoholic hepatitis results from sustained consumption of excessive amounts of alcohol. The condition can be reversed if it is caught in its early stages and if the individual either significantly reduces or entirely curtails intake of alcohol. If untreated, it can result in alcoholic cirrhosis.

The Editors of Encyclopaedia Britannica
This article was most recently revised and updated by Kara Rogers.
The signs and symptoms of acute viral hepatitis result from damage to the liver and are similar regardless of the hepatitis virus responsible. Patients may experience a flulike illness, and general symptoms include nausea, vomiting, abdominal pain, fever, fatigue, loss of appetite, and, less commonly, rash and joint pain. Sometimes jaundice, a yellowing of the skin and eyes, will develop. The acute symptomatic phase of viral hepatitis usually lasts from a few days to several weeks; the period of jaundice that may follow can persist from one to three weeks. Complications of acute viral hepatitis include fulminant hepatitis, which is a very severe, rapidly developing form of the disease that results in severe liver failure, impaired kidney function, difficulty in the clotting of blood, and marked changes in neurological function. Such patients rapidly become comatose; mortality is as high as 90 percent. Another complication is chronic hepatitis, which is characterized by liver cell death and inflammation over a period greater than six months.

Encyclopaedia Britannica thistle graphic to be used with a Mendel/Consumer quiz in place of a photograph.
BRITANNICA QUIZ
44 Questions from Britannica’s Most Popular Health and Medicine Quizzes
How much do you know about human anatomy? How about medical conditions? The brain? You’ll need to know a lot to answer 44 of the hardest questions from Britannica’s most popular quizzes about health and medicine.
Viral causes
Most cases of hepatitis are caused by viral infection. The viruses that give rise to liver inflammation include cytomegalovirus; yellow-fever virus; Epstein-Barr virus; herpes simplex viruses; measles, mumps, and chickenpox viruses; and a number of hepatitis viruses. The term viral hepatitis, however, usually is applied only to those cases of liver disease caused by the hepatitis viruses.

There are seven known hepatitis viruses, which are labeled A, B, C, D, E, F, and G. Hepatitis A, E, and F viruses are transmitted through the ingestion of contaminated food or water (called the fecal-oral route); the spread of these agents is aggravated by crowded conditions and poor sanitation. The B, C, D, and G viruses are transmitted mainly by blood or bodily fluids; s*xual contact or exposure to contaminated blood are common modes of transmission.

Hepatitis A
Hepatitis A, caused by the hepatitis A virus (HAV), is the most common worldwide. The onset of hepatitis A usually occurs 15 to 45 days after exposure to the virus, and some infected individuals, especially children, exhibit no clinical manifestations. In the majority of cases, no special treatment other than bed rest is required; most recover fully from the disease. Hepatitis A does not give rise to chronic hepatitis. The severity of the disease can be reduced if the affected individual is injected within two weeks of exposure with immune serum globulin obtained from persons exposed to HAV. This approach, called passive immunization, is effective because the serum contains antibodies against HAV. An effective vaccine against HAV is available and is routinely administered to children over two years of age living in communities with high rates of HAV. The vaccine is also recommended for people who travel to areas where HAV is common, homos*xuals, people with chronic liver disease, hemophiliacs, and people who have an occupational risk for infection.

Hepatitis B
Hepatitis B is a much more severe and longer-lasting disease than hepatitis A. It may occur as an acute disease, or, in about 5 to 10 percent of cases, the illness may become chronic and lead to permanent liver damage. Symptoms usually appear from 40 days to 6 months after exposure to the hepatitis B virus (HBV). Those persons at greatest risk for contracting hepatitis B include intravenous drug users, s*xual partners of individuals with the disease, health care workers who are not adequately immunized, and recipients of organ transplants or blood transfusions. A safe and effective vaccine against HBV is available and provides protection for at least five years. Passive immunization with hepatitis B immune globulin can also provide protection. Approximately 1 in 10 patients with HBV infection becomes a carrier of the virus and may transmit it to others. Those who carry the virus are also 100 times more likely to develop liver cancer than persons without HBV in their blood.

Hepatitis C
Hepatitis C virus (HCV) was isolated in 1989, at which time it was referred to as non-A, non-B hepatitis. It typically is transmitted through contact with infected blood. Infection may cause mild or severe illness that lasts several weeks or a lifetime; in the early 21st century an estimated 71 million people worldwide had chronic HCV infection. About 80 percent of those who become infected are asymptomatic; those who do show symptoms may experience a flulike illness, with fatigue, nausea, vomiting, and sometimes jaundice. Approximately 60 to 80 percent of chronic infections progress to chronic liver disease, such as cirrhosis or liver cancer. Alcoholics who are infected with hepatitis C are more prone to develop cirrhosis.

Treatment for hepatitis C involves a combination of antiviral medications, namely alpha interferon and ribavirin; however, only about half of those receiving these drugs respond. Other antivirals, such as boceprevir and telaprevir, may be used along with interferon and ribavirin in patients who are infected with a form of hepatitis C known as hepatitis C genotype 1; this therapy typically is reserved for patients in whom the combination of interferon and ribavirin alone is ineffective. Hepatitis C infection can be prevented by avoiding unsafe blood products, needle sharing, and unprotected s*x and by exercising caution when seeking tattoos or body piercings. Despite extensive research, a vaccine to prevent HCV infection has remained elusive.

Hepatitis D
Infection with hepatitis D virus (HDV), also called the delta agent, can occur only in association with HBV infection, because HDV requires HBV to replicate. Infection with HDV may occur at the same time infection with HBV occurs, or HDV may infect a person already infected with HBV. The latter situation appears to give rise to a more serious condition, leading to cirrhosis or chronic liver disease. Alpha interferon is the only treatment for HDV infection. Preventing infection with HBV also prevents HDV infection.

Hepatitis E
Discovered in the 1980s, the hepatitis E virus (HEV) is similar to HAV. HEV is transmitted in the same manner as HAV, and it, too, only causes acute infection. However, the effects of infection with HEV are more severe than those caused by HAV, and death is more common. The risk of acute liver failure from infection with HEV is especially great for pregnant women. In less-developed countries, including Mexico, India, and those in Africa, HEV is responsible for widespread epidemics of hepatitis that occur as a result of ingestion of contaminated water or food (enteric transmission).

Hepatitis F and G
Some cases of hepatitis transmitted through contaminated food or water are attributed to the hepatitis F virus (HFV), which was first reported in 1994. Another virus isolated in 1996, the hepatitis G virus (HGV), is believed to be responsible for a large number of s*xually transmitted and bloodborne cases of hepatitis. HGV causes acute and chronic forms of the disease and often infects persons already infected with HCV.

Other causes

Most cases of chronic hepatitis are caused by the hepatitis viruses B, C, and D, but other factors such as alcoholism, reaction to certain medications, and autoimmune reactions lead to development of the disease. Chronic hepatitis may also be associated with some illnesses, such as Wilson disease and alpha-1-antitrypsin deficiency. Chronic hepatitis B primarily affects males, whereas chronic hepatitis C arises in equal numbers in both s*xes. Autoimmune hepatitis, a disorder associated with a malfunction of the immune system, generally occurs in young women. Treatment for autoimmune hepatitis includes corticosteroids, which help to reduce symptoms.

Alcoholic hepatitis results from sustained consumption of excessive amounts of alcohol. The condition can be reversed if it is caught in its early stages and if the individual either significantly reduces or entirely curtails intake of alcohol. If untreated, it can result in alcoholic cirrhosis.

The Editors of Encyclopaedia Britannica
This article was most recently revised and updated by Kara Rogers.

Address

West Cannal Road Mansoor Abad
Faisalabad

Telephone

+923343181767

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Atif homoeopathic clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr.Atif homoeopathic clinic:

Share

Category