Speech and language therapy in Faisalabad

Speech and language therapy in Faisalabad Get best services by qualified and experienced speech and language therapist. All type of speech and fluency disorders are treated.

experience holder from CMH Lahore, Mayo Hospital, Lahore and Autism Institute of Pakistan, Lahore .

An other successful story with Arham.Arham came with autism (ASD), after one and half year he achieved 1:specting bounda...
30/10/2022

An other successful story with Arham.Arham came with autism (ASD), after one and half year he achieved
1:specting boundaries and personal space.
2:Controlling behaviors like hand flapping and rocking.
3:Expressing frustration in a productive way.
4:Making eye contact during interactions with peers and adults. And also achieved all speech goals and levels Alhamdulillah. Now he is in inclusive setup 4 his studies

Alhamdulillah Alhamdulillah with the grace of Allah Amal achieved all her speech goals in the duration of 3 months 🥰 its...
29/10/2022

Alhamdulillah Alhamdulillah with the grace of Allah Amal achieved all her speech goals in the duration of 3 months 🥰 its a great achievement of Amal and her family specially her NANO and as wel as mine ❤️

14/08/2022

اے ڈی ایچ ڈی کے بارے میں پوچھے جانے والے عمومی سوالات

یہ سوالات سب والدین ، اساتذہ کو معلوم ہونے چاہیے.

⬅️ اے ڈی ایچ ڈی کیا ہے؟

کیا آپ کے بچے کو توجہ مرکوز کرنا مشکل ہے؟ ADHD کے ساتھ بچے ہر وقت متحرک رہتے ہیں اور جلدی سے ایک کام سے توجہ ہٹا کر دوسرے کام کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ ان کو ایک "کام پر" رکھنا مشکل ہوجاتا ہے ، چاہے وہ کسی استاد کی بات سننا ہو یا کوئی کام ختم کرنا ہو.

⬅️ توجہ مرکوز نہیں کر سکتے ہیں

یہ ADHD کی ایک اہم علامت ہے۔ آپ کے بچے کو بولنے والے کی بات سننے ، ہدایات پر عمل کرنے ، کاموں کو ختم کرنے یا اپنے کاموں کو دھیان سے مکمل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ وہ خیالوں کی دنیا میں کھوئے رہ سکتے ہیں اور لاپرواہی سے غلطیاں کر سکتے ہے۔ یا وہ ایسی سرگرمیوں سے اجتناب کر سکتے ہیں جن میں فوکس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے یا وہ سرگرمیاں ان کو بورنگ لگتی ہے-

⬅️ ہیجان، متحرک بے چین رہنا

اے ڈی ایچ ڈی کی ایک اور علامت: آپ کا بچہ کبھی خاموش بیٹھا نہیں رہ سکتا۔ وہ دوڑتا پھرتا ہے اور ہر وقت اونچی جگہوں پر چڑھنے کو کوشش کر سکتا ہے ، یہاں تک کہ گھر کے اندر بھی اودہم مچائے رکھتا ہے۔ جب وہ بیٹھ جاتا ہے ، تو وہ ہلنے جلنے ، پہلو بدلنے یا اچھلنے لگتا ہے۔ آپ یہ بھی دیکھ سکتے ہو کہ وہ بہت باتیں کرتا ہے اوراس کو خاموشی سے کھیلنا مشکل محسوس ہوتا ہے.

⬅️ تیزبے ساختہ یکدم ردعمل دینا

آپ دیکھیں گے کہ آپ کے بچے کو اپنی باری کا انتظار کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ استاد اپنا سوال ختم کرے ، وہ بات کاٹ کر جواب دے سکتا ہے ، دوسروں کے باتوں میں مداخلت کرسکتا ہے یا جوابات میں تیزی پیدا کرسکتا ہے.

⬅️ اس کی کیا وجہ ہے؟

اے ڈی ایچ ڈی والے بچوں میں دماغ کے توجہ کو کنٹرول کرنے والے حصوں میں کم سرگرمی ہوتی ہے ۔ ان میں دماغی کیمیکلوں (جسے نیورو ٹرانسمیٹر کہا جاتا ہے )میں عدم توازن بھی ہوسکتا ہے ۔ یہ واضح نہیں ہے کہ اس کی وجہ کیا ہے ، لیکن اے ڈی ایچ ڈی خاندانوں میں چلتا ہے ، لہذا بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ جین ایک کردار ادا کرتے ہیں۔

⬅️ تشخیص کیسے کریں؟

اے ڈی ایچ ڈی کیلئے لیب ٹیسٹ نہیں ہیں۔ اس کے بجائے ، ڈاکٹر بچے کے والدین سے سوالات کرے گا ، بچے کے رویے کے مسائل کی تفصیل سنئے گا ، اور اس کے بعد استاد کے تبصرے دیکھے گا۔

تشخیص حاصل کرنے کے لیے، آپ کے بچے کو 6 مہینوں تک علامات کی مسلسل رپورٹ ضرور دکھایا جانا چاہئے ، جیسے توجہ نہ دینا ، تیزرفتار ہونا ، اور تیز سلوک کرنا۔

⬅️ اے ڈی ایچ ڈی کی اقسام

اے ڈی ایچ ڈی کی تین اقسام ہیں۔

۱- بچہ توجہ مرکوز نہیں کر پاتا ہے لیکن سکون سے بیٹھ سکتا ہے.

۲- ہر وقت متحرک رہتا ہے اوراس کےلیے سکون سے بیٹھنا مشکل ہوتا ہے.

3- اگر بچے میں دونوں اقسام کی علامات ہیں تو وہ مشترکہ قسم سے تعلق رکھتا ہے ، یہ تیسری قسم کے بچے زیادہ ہوتے ہیں۔

⬅️ اے ڈی ایچ ڈی کے لئے دوائیں

محرک دوائیں جن کو Stimulant medicine کہ سکتے ہیں اپ کے بچے کی توجہ کا دورانیہ بڑھانے میں اور ہائپریکٹیو اور تیز رفتار رویوں پر قابو پانے میں مدد کرتے ہیں۔

مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دوائیں ADHD والے 65٪ سے 80٪ بچوں میں کام کرتی ہیں۔ کسی بھی دوا کی طرح ، اس کے ضمنی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ اپنے ڈاکٹر سے ان پر تبادلہ خیال کریں۔

غیر محرک دوائیں non-Stimulant medicine بچوں کو دی جاسکتی ہیں ، لیکن ان کے مضر اثرات بھی ہو سکتے ہیں

⬅️ کونسلنگ، مشاورت، تھراپی

اس سے آپ کے بچے کو مایوسیوں سے نمٹنے اور خود اعتمادی بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ آپ کو معاونت کی کچھ حکمت عملی بھی سکھاتا ہے۔ ایک قسم کی تھراپی ، جسے معاشرتی مہارت کی تربیت کہا جاتا ہے ، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اپنی باری کا انتظار کرنا اور مل کر کھینا کیسے لیا جائے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ دوائیوں اور تھراپی کے مشترکہ طرزِ عمل کے ساتھ طویل مدتی علاج بہتر کام کرتا ہے.

⬅️ خصوصی تعلیم

اے ڈی ایچ ڈی والے زیادہ تر بچےعام سکولوں میں ہی پڑھتے ہیں ، لیکن کچھ ایسے بچے صرف مخصوس سکولوں میں ہی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ اگر آپ کا بچہ خصوصی تعلیم حاصل کرتا ہے تو ، اسے اسکول کی تعلیم ملے گی جو اس کے سیکھنے کے انداز کے مطابق ہوگی۔

⬅️ معمول کا کردار

اگر آپ واضح روٹین تیار کرتے ہیں تو آپ گھر میں اپنے بچے کو زیادہ بہتر منظم زندگی دے سکتے ہیں۔ روزانہ کا شیڈول ترتیب دیں جو اسے یاد دلائے کہ وہ دن بھر میں کیا کچھ سرگرمیاں کرنی ہیں ۔ اس سے اسے کام پر چلنے میں مدد ملتی ہے۔ اس میں جاگنے ، کھانے ، کھیلنے ، ہوم ورک اور کام کاج کرنے ، اور سونے کے مخصوص اوقات شامل ہونے چاہئیں۔

⬅️ آپ کے بچے کی خوراک

غذا کے بارے میں مطالعے کے ملے جلے نتائج برآمد ہوئے ہیں ، لیکن کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ دماغ کے لئے اچھا کھانا کھانا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ ایسی چیزیں جن میں پروٹین زیادہ ہوتا ہے ، جیسے انڈے ، گوشت ، پھلیاں ، اور گری دار میوے ، آپ کے بچے کو بہتر توجہ میں مدد کرسکتے ہیں۔ ۔ بچے کے کھانے میں کوئی بڑی تبدیلی کرنے سے پہلے اپنے ماہر امراض اطفال سے بات کریں.

⭕⬅️ اے ڈی ایچ ڈی اور جنک فوڈ

اگرچہ بہت سے بچے جنک فوڈ کھانے کے بعد بہت زیادہ چست اور سرگرم ہو جاتے ہیں ، اس بات کا کوئی قوی ثبوت نہیں ہے کہ شوگر ADHD کا سبب ہے۔ کھانے پینے کے عادی افراد کا کردار بھی یقینی نہیں ہے۔ کچھ والدین کا خیال ہے کہ حفاظتی اور کھانے کی رنگت علامات کو خراب کرتی ہے ، اور امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹریکس کا کہنا ہے کہ میٹھے اور جنک فوڈ سے بچنا ایک مناسب اقدام ہے.

⬅️ اے ڈی ایچ ڈی اور ٹیلی ویژن

اے ڈی ایچ ڈی اور سکرین، ٹی وی، موبائل کے سامنے بیٹھنے کے درمیان رابطہ واضح نہیں ہے ، لیکن امریکن اکیڈمی برائے اطفالیات تجویز کرتی ہے کہ آپ اپنے چھوٹے بچے کے اسکرین کا وقت محدود کردیں۔ یہ گروپ 2 سال سے کم عمر بچوں کے لئے ٹی وی دیکھنے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور بڑے بچوں کے لئے دن میں 2 گھنٹے سے زیادہ وقت کی تجویز نہیں کرتا ہے۔ اپنے بچے کی توجہ کی مہارت کو بڑھانے میں مدد کرنے کے لئے ، کھیلوں ، بلاکس ، پہیلیاں اور پڑھنے جیسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کریں.

⬅️ کیا آپ ADHD کو روک سکتے ہیں؟

آپ کے بچے کو اے ڈی ایچ ڈی ہونے سے روکنے کا کوئی یقینی طریقہ نہیں ہے ، لیکن اس خطرہ کو کم کرنے کے لیے آپ اقدامات کر سکتے ہیں۔ جب آپ حاملہ ہو تو ، شراب ، منشیات اور تمباکو سے پرہیز کریں۔ جن بچوں کی مائیں حمل کے دوران سگریٹ نوشی کرتے ہیں ان میں ADHD ہونے کا امکان دوگنا ہوسکتا ہے۔

⬅️ اے ڈی ایچ ڈی والے بچوں کا نارمل زندگی گزارنا

علاج سے ، ADHD والے بچوں کی ایک بڑی اکثریت بہتر ہوتی ہے۔ اور اگر آپ کے بچے کی علامتیں اس کے بالغ ہونے پربھی موجود ہیں پھر بھی اسکی مدد کی جا سکتی ہے اسیے طریقے جو بالغوں کے لیے مناسب ہے۔

یاد رکھیں،
اے ڈی ایچ ڈی کی جانچ کے بعد ایک طویل دورانیہ کے علاج اورتھراپیس کی ضرورت ہوتی ہے. اس لیے والدین بچے کے علاج اور تھراپیس میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کریں. ادویات اور تھراپی مل کر بچے کے رویے میں مثبت بدلاؤ کا سکتی ہے.

علاج اور تھراپیس کے متعلق مزید جاننے کے لیے دئیے گئے نمبر پر رابطہ کریں-

Moeez you came with stammering 3 months earlier, by today you said goodbye to me with fluent speech with the achievement...
26/11/2021

Moeez you came with stammering 3 months earlier, by today you said goodbye to me with fluent speech with the achievements of your speech goals Alhamdulillah!!
Hoping you find strength with each new day of your life😘👌👌My 2nd successful story as Speech therapist with the grace of Allah Almighty 🤲🤲🤲

04/11/2021

اسپیچ تھراپسٹ (زبان کی ڈاکٹر) -
▪︎بچوں کا بولنے میں مشکل پیش آنا۔
▪︎بچوں کا دیر سے بولنا۔
▪︎بولتے وقت ہکلانا۔
▪︎الفاظ کی صحیح طرح ادائیگی نہ کر سکنا۔
▪︎فالج اور لقوہ کے بعد زبان کی حرکت اور علاج۔
Anwar ul haq children hospital Gujar khan
Timing 3:00pm to 6:00pm

03/10/2021
11/09/2021

سٹیم سیل تھراپی ( آٹزم کے علاج میں امید کی ایک کرن)

سائنسدان جہاں حضرت انسان کو ملٹی پلانیٹری بنانے پر دن رات کام کر رہے ہیں۔ اور امید کی جا رہی ہے کہ سنہ دو ہزار پچاس میں 2 ارب چالیس کروڑ روپے میں ایک کپل سیارہ مارس پر اپنی رہائش کا بندوبست کر پائے گا۔ دو ہزار ساٹھ تک تین لاکھ لوگ مارس پر رہائش پذیر ہو چکے ہونگے۔ مکانات کے بعد سبزیاں اگا کر یونیورسٹی اور ہسپتال بننا شروع ہوچکے ہونگے۔ اور ایمازون مارس پر زمین سے ڈاک و دیگر پراڈکٹس ڈیلیور کرنے کی خدمت راکٹس کے ذریعے سر انجام دے گا۔

وہیں انسانوں کو بیماریوں سے بچانے اور بڑی سی بڑی بیماری کو چند لمحوں یا گھنٹوں میں ٹھیک کرنے پر بھی دنیا بھر کے سائنسدان کام کررہے ہیں۔ تقریباً سو بیماریوں کے علاج کو سٹیم سیل تھراپی سے جوڑا جا رہا ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے اس طریقہ علاج سے ہڈیوں کے کینسر bone marrow کا علاج سنہ 1957 میں اس طریقہ علاج کے موجد ای ڈونل تھامس E.Donnall Thomas نے کیا۔ جنہیں 1970 میں فلسفہ اور طب کی فیلڈ میں خدمات پر نوبل انعام سے نوازا گیا۔

سٹیم سیل کیا ہے؟ پہلے یہ دیکھتے ہیں۔

قدرتی یا مصنوعی (ivf) طریقے سے انسانی نطفے (سپرم) اور بیضے (ایگ) کے ملاپ سے جو زائیگوٹ وجود میں آتا ہے۔ وہ انسانی وجود کی ایک بنیادی اکائی ہوتی ہے۔ زائیگوٹ بھی ایک سٹیم سیل ہے جو مزید سٹیم سیلز بنا دیتا ہے) زائیگوٹ کے سٹیم سیل کے کردار کو آپ ایسے سمجھ سکتے کہ جب زایئگوٹ تقسیم ہونے کے دوران الگ ہو جائے تو دونوں زائیگوٹ الگ مکمل جاندار بنا دیتے ہیں۔ جنہیں جڑواں کہا جاتا ہے۔ جو ہوبہو ایک دوسرے کی کاپی ہوتے ہیں۔ یہ اپنی ساخت میں ایک سٹیم سیل ہوتا ہے جس میں 46 کروموسوم ہوتے ہیں۔ 23 باپ کی طرف سے اور 23 ماں کی طرف سے۔ اس ذائیگوٹ کو مشکل سے ہی انسانی آنکھ سے دیکھ سکتی ہے۔

یہ ذائیگوٹ بڑی تیزی سے ایک سے دو ، دو سے چار اور چار سے آٹھ سیلز میں ایک دوسرے سے الگ ہوئے بغیر تقسیم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس تقسیم کے عمل کو مٹوسس mitosis کہا جاتا ہے۔ اس تقسیم ہوتے ذائیگوٹ سے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک سیل نکال کر محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ جسے سٹیم سیل کہتے ہیں۔ یہ سٹیم سیل کی پہلی اور سب سے زیادہ اہم قسم ہے۔

یہ والا سٹیم سیل ہمارے جسم کا کوئی بھی حصہ وہ گوشت یا پٹھے ہوں دل ہو ہڈیاں ہوں مسلز یعنی پٹھے ہوں بال ہوں خون ہو جسم کا کوئی بھی حصہ خراب ہوجانے یا کٹ جانے پر دوبارہ بنانے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔

پانچ دن کے بعد یہ زائیگوٹ فلاپیئن ٹیوب سے ماں کے رحم میں سرکنا شروع کرتا ہے۔ اور بلاسٹو سسٹ Blastocyst کی شکل اختیار کرتا ہے۔ بلاسٹو سسٹ دو ہفتوں کے بعد ایمبریو میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ پھر اس ایمبریو سے بھی سٹیم سیل نکالا جاتا ہے۔ جسے ایمبریونک سٹیم سیل کہتے ہیں۔ یہ سیل بھی بہت زیادہ سیل بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر یہ ذائیگوٹک سٹیم سیل کی طرح جسم کا ہر حصہ دوبارہ بنانے کے قابل نہیں ہوتا۔ یہ سٹیم سیل کی دوسری قسم ہے۔

اس ایمبریو کے گرد پیاز کے چھلکے جیسی اسکن کی ایک باریک تہہ بننا شروع ہوتی ہے۔ اور یہ ایمبریو پلاسینٹا (خوراک و آکسیجن کی نالی) سے جڑ جاتا ہے۔ باریک تہہ کے اندر ایک لیس دار پانی جسے لائیکر یا Amniotic fluid کہتے ہیں بننا شروع ہوتا ہے۔ یہ پانی کوئی عام پانی نہیں ہوتا. اس میں بھی لاکھوں سٹیم سیل ہوتے ہیں. جنہیں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نکالا جاتا ہے۔
یہ سٹیم سیل کی تیسری قسم ہے۔

اسکے بعد جب بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ تو بچے کے ساتھ ہی پلاسینٹا ماں کے رحم سے باہر آتا ہے۔ اس نالی میں بھی خون کی کچھ مقدار ہوتی ہے۔ جسے بلڈ کارڈ یا کارڈ بلڈ کہتے ہیں۔ اس کارڈ بلڈ میں بھی لاکھوں سٹیم سیل ہوتے ہیں جنہیں پہچان کر اس خون سے نکال لیا جاتا ہے۔ یہ سٹیم سیل کی چوتھی قسم ہے۔

اسکے علاوہ کسی بھی عمر کے انسانی جسم کے کسی بھی حصے، گوشت اور عموماً کولہے کی ہڈیوں میں سے اس فرد اپنے سٹیم سیلز بھی تلاش کرکے نکالے جاتے ہیں۔ سٹیم سیلز عام سیلز سے رنگ و ساخت میں مختلف ہوتے ہیں۔ یہ سٹیم سیلز کی اب تک کی دریافت شدہ پانچویں اور آخری قسم ہے۔

ذائیگوٹک، ایمبریونک، ایمنیوٹک فلیوڈ سے نکالے گئے سٹیم سیل پر مذہبی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو تحفظات ہیں۔ کہ یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ اسلامی، عیسائی، یہودی اور بھی کئی مذہبی حلقے شروع سے پہلی دو اقسام کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔ کہ جس ذائیگوٹ یا ایمبریو سے یہ لیے جائیں گے اسے بھی کوئی خطرہ پہنچنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اور یہ قانون فطرت میں چھیڑ چھاڑ تصور ہوتی ہے۔ جو جائز نہیں۔ خیر یہ ایک اور لامتناہی بحث ہے۔ سائنسدان اب ماں کے پیٹ سے باہر مصنوعی طریقے سے بنائے گئے ذائیگوٹ جس میں نطفہ اور بیضہ انسانی ہی ہوتا ہے۔ پہلے دونوں سٹیم سیل نکال رہے ہیں۔ وہ اب حاملہ ماں کے رحم سے کوئی سیل نہیں نکالتے۔

کارڈ بلڈ اور انسان کے اپنے سٹیم سیلز پر کسی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں انہی دونوں اقسام کا استعمال مسلمان حلقوں عام ہوا ہے۔ جو پاکستان میں بھی پانچ سال قبل شروع ہو چکا ہے۔

سٹیم سیل اپنے اندر مزید سیلز بنانے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور بیماری کی تشخیص نوعیت لیول کا تعین ہونے کے بعد ڈاکٹر دیکھتا ہے۔ کہ سٹیم سیل کی کونسی قسم اسکا بہتر علاج ہو سکتی ہے۔ پھر سٹیم سیل کو خون میں جدید مشینری کے ذریعے شامل کرکے متاثرہ جگہ پر انجیکٹ کر دیا جاتا ہے۔ دل کے امراض، نابینا پن کا علاج، مرگی، آٹزم، جگر کے مردہ سیلز کو زندہ کرنا، ہڈیوں کا کینسر، کمر کے مسلز کا کچلا جانا جسکی وجہ سے نچلا دھڑ ناکارہ ہو جاتا ہے۔ منیبہ مزاری اس نچلے دھڑ کے ناکارہ ہونے کی ایک مشہور مثال ہے۔

اور بھی کئی بیماریوں اور معذوریوں کو سٹیم سیل سے ٹھیک کرنے کے دنیا بھر میں ہزاروں کامیاب تجربے ہوچکے ہیں۔ ہزاروں لوگ جزوی و مکمل بینائی حاصل کر چکے ہیں۔ اور کئی لوگ حادثوں کی وجہ سے ویل چیئر پر چلے جانے کے بعد دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو چکے ہیں۔ بلکہ اب تو سٹیم سیل سے نئی ہڈیاں اور اسکن سیلز بنانے کا بھی آغاز ہوچکا ہے۔ بری طرح ٹوٹی ہوئی جڑنے کے ناقابل اور ناکارہ ہڈیوں کو جسم سے باہر بنائی گئی بلکل قدرتی ہڈی سے بدلہ جاسکے گا۔ آنکھ کے قارنیہ تو ہزاروں لوگوں کے ری پلیس کیے جا چکے ہیں۔ جس سے انکی بینائی لوٹ آئی ہے۔ جسم کے جلنے والے حصے کو اسی انسان کے سٹیم سیلز لیکر نئی جلد اگا کر جسم کے ساتھ جوڑی جا سکے گی۔ پلاسٹک سرجری کی جگہ حقیقی جلد لینے کے بلکل قریب ہے۔

میرا موضوع آٹزم ہے تو اس مرض کے علاج میں اب تک کا سب سے موثر ترین علاج سٹیم سیل تھراپی ہی ہے۔ جسکے دنیا بھر میں نتائج بڑے حوصلہ افزا رہے ہیں۔ جسم کے وہ سیلز جو خراب ہوتے ہیں۔ جنکی وجہ سے آٹزم کا شکار بچوں میں مختلف مسائل پائے جاتے ہیں۔ ان سیلز کو سٹیم سیلز سے بدل دیا جاتا ہے۔ خراب سیلز کے ساتھ سٹیم سیلز جڑ کر نئے اور تندرست سیلز بغیر کسی بھی فالٹ کے بنانا شروع کرتے ہیں۔ اور نئے تندرست سیلز کی بتدریج بڑھتی ہوئی تعداد پرانے خراب، ڈیمج سیلز پر غالب ہو کر بیماری کے اثر کو کم کرنا شروع کر دیتے ییں۔

سٹیم سیلز تھراپی کراچی اور اسلام آباد میں کامیابی سے کی جارہی ہے۔ علاج زیادہ مہنگا نہیں ہے۔ پیسے جتنے بھی لگیں جب بچہ ٹھیک ہونے لگے تو پیسے بھول جائیں گے۔ کچھ دھوکے باز ڈاکٹرز مختلف شہروں میں پی آر پی PRP کو ہی سٹیم سیل تھراپی بتا کر سادہ لوح لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ سٹیم سیل تھراپی میں استعمال ہونے والی مشینیں بہت مہنگی ہیں جو ہر کوئی نہیں خرید سکتا۔ (پی آر پی کیا ہے یہ کسی اور دن سہی۔ یا ابھی خود سرچ کر لیں)

آٹزم سوسائٹی آف پاکستان کے مطابق اس وقت تین لاکھ پچاس ہزار 350٫000 بچے آٹزم کا شکار ہیں۔ ان بچوں کے لیے یہ ایک گیم چینجر طریقہ علاج ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ پاکستان کی تقریباً تمام بڑی یونیورسٹیاں سٹیم سیل پر تحقیق کر رہی ہیں۔ مستقبل قریب میں یہ طریقہ علاج ہر بیماری کے لیے استعمال ہوگا۔

مصنف کی زیر تصنیف کتاب "میں مختلف ہوں" سے اقتباس

خطیب احمد

لکنت / ہکلاہٹ                            ہکلانے  کی کئی  علامات اور قسمیں ہیں . اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ بچے یا بڑےبات ...
28/05/2021

لکنت / ہکلاہٹ

ہکلانے کی کئی علامات اور قسمیں ہیں . اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ بچے یا بڑے
بات کرتے کرتے رک جاتے ہیں اور کچھ وقفے کے بعد بات کرتے ہیں ●.● الفاظ کو کھینچ کر بولتے ہیں . ● ایک ہی لفظ لفظ بار بار دہراتے ہیں. . ● کچھ حرف یا الفاظ کو بولنے میں انہیں دقت ہوتی ہےایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ بچے یا بڑے غصہ کرتے ہوئے ہکلاتے ہیں . ●بعض اوقات ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ دوستوں کے ساتھ محفل میں گانا گاتے ہیں گپ شپ لگاتے ہیں لیکن لیکن جونہی اسی محفل میں کوئی اجنبی آجائے یے تو وہ ہکلانا شروع کر دیتے ہیں. ● ماہرین کے مطابق یہ صرف ذہنی رویوں کی وجہ سے ہوتا ہے .● ایک سروے کے مطابق یہ مرض سو میں سے ہر پانچویں بچے کو ہوتا ہے. ● یہ مرض 5 سے 8 سال کی عمر میں میں لگتا ہے.■ ماہر نفسیات الفریڈ ایڈلراپنی مشہور کتاب { انڈرسٹینڈنگ ہیومن نیچر } میں قوت گویائی کے بارے میں لکھتے ہیں انسان کی نشوونما میں دوسرا اہم کردار قوت گویائی ہے جو انسان کو حیوان سے جدا کرتی ہے.
ماہرین کے مطابق لکنت/ ہکلانے کے دو اہم اسباب ہیں۔● ۱:عضویاتی اسباب
۲:نفسیاتی اسباب۔
عضویاتی اسباب
انسانی دماغ میں ایک حصہ جسے سپیچ ایریا کہتے ہیں اگر اس حصے میں کوئی خرابی آجائے یا وہ حصہ ☆ دماغ کے موٹر ایریا سے منقطع ہو جائے تو لکنت ہکلاہٹ جنم لیتی ہے .
دماغ کے اس حصے میں یہ خرابی کسی صدمے ، حادثے یا حمل کے دوران ماں کے پیٹ میں ہوتی ☆ ہے.
اس کے علاوہ بعض ڈاکٹروں کی بھی رائے ہے کہ ٹائیفائیڈ (میعادی بخار) ،خسرہ اور طاعون بھی ■ لکنت / ہکلانے کی وجہ بن سکتے ہیں۔ .
نفسیاتی اسباب
لکنت یا ہکلاہٹ پیدا کرنے کی کئی نفسیاتی وجوہات ہوتی ہیں . ان میں سے چند اہم درج ذیل ہین
مسلسل بغیر کسی وقفہ کے بچوں کی پیدائش سے والدین بڑے ☆ ☆ بچے کی باتوں کو اہمیت نہ دینا . بچوں سے اپنا دھیان ہٹا لیتے ہیں تو اس طرح وہ توجہ حاصل کرنے کے لئے ہکلانا شروع کر دیتے ہیں . ☆ احساس کمتری ☆ غصہ جسکا بچہ اظہار نہ کر سکے . ☆ عدم تحفظ ☆ بچے کی باتوں کو غور سے نہ سننا . ☆ والدین کے روزانہ کے جھگڑے . (Nervousness) بد حواسی ☆ سخت گیر والدین. ☆ والدین کا خوف اور ڈر۔

دیں . بچوں کے feedback تو آپ سب کو چاہیئے کہ اپنے بچوں کی باتوں کو غور سے سنیں انھیں سامنے اپنے مالی ، معاشی مسائل کا ذکر نہ کریں . انھیں خوب پیار کریں . ان میں خود اعتمادی پیدا proper کریں . بچوں کے دوست بنیں . ان کے لئے وقت نکالیں . سپیچ تھراپسٹ سے علاج کروائیں۔

One of my patient moved to Dubai after consulting me for speech therapy from last 3 months and now she continue her spee...
31/01/2021

One of my patient moved to Dubai after consulting me for speech therapy from last 3 months and now she continue her speech sessions from Dubai. Her new speech therapist's remarks about my work🥰🥰🥰🥰🥰 Alhamdulilah

Alhamdulilah 🥰🥰🥰
31/12/2020

Alhamdulilah 🥰🥰🥰

Contect me for any type of problem and disorder of speech production and language
24/10/2020

Contect me for any type of problem and disorder of speech production and language

I m ur speech therapist in Gujar khan district Rawalpindi
24/10/2020

I m ur speech therapist in Gujar khan district Rawalpindi

Address

Jaranwala Road Oppisite Grid Station
Faisalabad

Opening Hours

Monday 03:00 - 18:00
Wednesday 03:00 - 18:00
Friday 03:00 - 18:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Speech and language therapy in Faisalabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Speech and language therapy in Faisalabad:

Share

Category