ڈاکٹر اظہر عباس

ڈاکٹر اظہر عباس Our aim is to provide free consultation and very economical treatment by using Herbal Herbs to our valuable customers. Usman Dawakhana
Sadhar, Faisalabad.

22/01/2026

رونگٹے کھڑے کر دینے والا سچا واقعہ

کل رات ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے زندگی کی کئی پہلوؤں کو چھو لیا۔ قریب شام کے7 بجےہونگے، موبائل کی گھنٹی بجی۔ فون اٹھایا تو ادھر سے رونے کی آواز۔۔۔
میں نے چپ کرایا اور پوچھا کہ بھابی جی آخر ہوا کیا؟؟
ادھر سے آواز آئی آپ کہاں ہیں؟ اور کتنی دیر میں آ سکتے ہیں؟
میں نے کہا آپ پریشانی بتائیں اور بھائی صاحب کہاں ہیں؟ اور ماں جی کدھر ہیں؟ آخر ہوا کیا ہے؟
لیکن ادھر سے صرف ایک ہی رٹ کہ آپ فوراً آجائیے۔
میں اسے مطمئن کرتے ہوئے کہا کہ ایک گھنٹہ لگے گا پہنچنے میں۔ جیسے تیسے گھبراہٹ میں پہنچا۔

دیکھا کہ بھائی صاحب، (جو ہمارے جج دوست ہیں) سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔
بھابی جی رونا چیخنا کر رہی ہیں۔ 12 سال کا بیٹا بھی پریشان ہے اور 9 سال کی بیٹی بھی کچھ کہہ نہیں پا رہی ہے۔

میں نے بھائی صاحب سے پوچھا کہ آخر کیا بات ہے؟
بھائی صاحب کچھ جواب نہیں دے رہے تھے۔

پھر بھابی جی نے کہا؛ یہ دیکھیے طلاق کے کاغذات۔

کورٹ سے تیار کرا کر لائے ہیں۔ مجھے طلاق دینا چاہتے ہیں۔
میں نے پوچھا "یہ کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟ اتنی اچھی فیملی ہے، دو بچے ہیں۔ سب کچھ سیٹلڈ ھے۔ پہلی نظر میں مجھے لگا کے یہ مذاق ہے۔
لیکن میں نے بچوں سے پوچھا دادی کدھر ھے؟ تو بچوں نے بتایا: پاپا انہیں 3 دن پہلے نوئیڈا کے "اولڈ ایج ہوم" میں شفٹ کر آئے ہیں۔

میں نے نوکر سے کہا: مجھے اور بھائی صاحب کو چائے پلاؤ
کچھ دیر میں چائے آئی. بھائی صاحب کو میں نے بہت کوشش کی چائے پلانے کی۔ مگر انہوں نے نہیں پیا اور کچھ ہی دیر میں وہ معصوم بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ اور بولے میں نے 3 دنوں سے کچھ بھی نہیں کھایا ہے۔ میں اپنی 61 سال کی ماں کو کچھ لوگوں کے حوالے کر کے آیا ھوں۔

پچھلے سال سے میرے گھر میں ماں کے لیے اتنی مصیبتیں ہوگئیں کہ بیوی نے قسم کھا لی کہ "میں ماں جی کا دھیان نہیں رکھ سکتی"
نہ تو یہ ان سے بات کرتی تھی اور نہ میرے بچے ان سے بات کرتے تھے۔

روز میرے کورٹ سے آنے کے بعد ماں بہت روتی تھی۔
نوکر تک بھی ان سے خراب طرح سے پیش آتے تھے اور اپنی من مانی کرتے تھے۔

ماں نے 10 دن پہلے بول دیا: تو مجھے اولڈ ایج ھوم میں ڈال دے۔ میں نے بہت کوشش کی پوری فیملی کو سمجھانے کی، لیکن کسی نے ماں سے سیدھے منہ بات تک نہیں کی۔
جب میں دو سال کا تھا تب ابو انتقال کرگئے تھے۔ ماں نے دوسروں کے گھروں میں کام کر کے مجھے پڑھایا۔ اس قابل بنایا کے میں آج ایک جج ھوں۔
لوگ بتاتے ہیں کہ ماں دوسروں کے گھر کام کرتے وقت کبھی بھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑتی تھی۔ اس ماں کو میں آج اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آیا ہوں۔ میں اپنی ماں کی ایک ایک دکھ کو یاد کرکے تڑپ رہا ہوں جو انھوں نے صرف میرے لئے اٹھائے تھے۔ مجھے آج بھی یاد ھے جب میں میٹرک کے امتحان دینے والا تھا۔ ماں میرے ساتھ رات رات بھر بیٹھی رہتی تھی۔ ایک بار جب میں اسکول سے گھر آیا تو ماں کو بہت زبردست بخار میں مبتلا پایا۔ پورا جسم گرم اور تپ رہا تھا۔ میں نے ماں سے کہا تجھےتیز بخار ہے۔ تب ماں ہنستے ہوئے بولی ابھی کھانا بنا کر آئی ہوں اس لئے گرم ہے۔

لوگوں سے ادھار مانگ کر مجھے یونیورسٹی سے *ایل ایل بی* تک پڑھایا۔

مجھے ٹیوشن تک نہیں پڑھانےدیتی تھی۔ کہیں میرا وقت برباد نہ ہو جائے۔
کہتے کہتے اور زیادہ زور سے رونے لگے اور کہنے لگے۔ جب ایسی ماں کے ہم نہیں ھو سکے تو اپنے بیوی اور بچوں کے کیا ہوں گے۔
ہم جن کے جسم کے ٹکڑے ہیں، آج ہم ان کو ایسے لوگوں کے حوالے کر آئے جو ان کی عادت، انکی بیماری، انکے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ہیں۔ جب میں ایسی ماں کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تو میں کسی اور کے لئے بھلا کیا کر سکتا ہوں۔

آذادی اگر اتنی پیاری ھے اور ماں اتنی بوجھ ہے تو، میں پوری آزادی دینا چاہتا ہوں۔

جب میں بغیر باپ کے پل گیا تو یہ بچے بھی پل جاینگے۔ اسی لیے میں طلاق دینا چاہتا ہوں۔
ساری پراپرٹی میں ان لوگوں کے حوالے کرکے اس اولڈ ایج ھوم میں رہوں گا۔ وہاں کم سے کم ماں کے ساتھ رہ تو سکتا ہوں۔
اور اگر اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود ماں، اولڈ ایج ہوم میں رہنے کے لئے مجبور ہے تو ایک دن مجھے بھی آخر جانا ہی پڑے گا۔

ماں کے ساتھ رہتے رہتے عادت بھی ھو جائےگی۔ ماں کی طرح تکلیف تو نہیں ہوگی۔
جتنا بولتے اس سے بھی زیادہ رو رہے تھے۔ اسی درمیان رات کے 12:30 ھوگئے۔ میں نے بھابی جی اور بچوں کے چہروں کو دیکھا۔
ان کے چہرے پچھتاوے کے جذبات سے بھرے ہوئے تھے۔

میں نے ڈرائیور سے کہا؛ ابھی ہم لوگ اولڈ ایج ہوم چلیں گے۔ بھابی جی، بچے اور ہم سارے لوگ اولڈ ایج ہوم پہنچے ،
بہت زیادہ درخواست کرنے پر گیٹ کھلا۔
بھائی صاحب نے گیٹ کیپر کے پیر پکڑ لیے۔ بولے میری ماں ہے۔ میں اسے لینے آیا ہوں۔
چوکیدار نے پوچھا "کیا کرتے ہو صاحب"؟
بھائی صاحب نے کہا۔ میں ایک جج ہوں۔

اس چوکیدار نے کہا "جہاں سارے ثبوت سامنے ہیں۔ تب تو آپ اپنی ماں کے ساتھ انصاف نہیں کر پائے۔ اوروں کے ساتھ کیا انصاف کرتے ہوں گے صاحب؟

اتنا کہہ کر ہم لوگوں کو وہیں روک کر وہ اندر چلا گیا۔
اندر سے ایک عورت آئی جو وارڈن تھی۔ اس نے بڑے زہریلے لفظ میں کہا۔ 2 بجے رات کو آپ لوگ لے جاکے کہیں اسے مار دیں تو میں اللہ کو کیا جواب دوں گی؟

میں نے وارڈن سے کہا "بہن آپ یقین کیجئے یہ لوگ بہت پچھتاوے میں جی رہے ہیں"

آخر میں کسی طرح انکے کمرے میں لے گئی. کمرے کا جو نظارہ تھا اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ صرف ایک فوٹو جس میں پوری فیملی ہے، وہ بھی ماں کے بغل میں جیسے بچے کو سلا رکھا ھے۔

مجھے دیکھی تو اسے لگا کہیں بات نہ کھل جائے۔
لیکن جب میں نے کہا کہ ھم لوگ آپ کو لینے آئے ھیں۔ تو پوری فیملی ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگی۔ آس پاس کے کمروں میں اور بھی بزرگ تھے۔ سب لوگ جاگ کر باہر تک ہی آگئے۔ انکی بھی آنکھیں نم تھیں۔

کچھ وقت کے بعد چلنے کی تیاری ھوئی۔ پورے اولڈ ہوم کے لوگ باہر تک آئے۔ کسی طرح ہم لوگ اولڈ ایج ہوم کے لوگوں کو چھوڑ پائے۔ سب لوگ اس امید سے دیکھ رہے تھے، شاید انہیں بھی کوئی لینے آئے۔
راستے بھر بچے اور بھابی جی تو چپ چاپ رہے۔ مگر ماں اور بھائی صاحب پرانی باتیں یاد کرکے رو رہے تھے۔ گھر آتے آتے قریب 3:45 ھو گئے۔

بھابی جی بھی اپنی خوشی کی چابی کہاں ہے یہ سمجھ گئی تھیں۔

میں بھی چل دیا لیکن راستے بھر وہ ساری باتیں اور نظارے آنکھوں میں گھومتے رھے۔

*ماں صرف ماں ھے*
*اسکو مرنے سے پہلے نہ ماریں۔
ماں ہماری طاقت ہے۔ اسے کمزور نہیں ھونے دیں۔ اگر وہ کمزور ہو گئی تو ثقافت کی ریڑھ کمزور ھو جاۓگی ۔ اور بنا ریڑھ کا معاشرہ کیسا ھوتا ھے۔ یہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ھے۔

اگر آپ کے آس پاس یا رشتہ دار میں اسطرح کا کوئی مسئلہ ھو تو انھیں یہ ضرور پڑھوایں اور اچھی طرح سمجھایں، کچھ بھی کرے لیکن ھمیں جنم دینے والی ماں کو بے گھر ، بے سہارا نہیں ہونے دیں۔ اگر ماں کی آنکھ سے آنسو گر گئے تو یہ قرض کئی صدیوں تک رہے گا۔

یقین مانیں سب ھوگا تمہارے پاس لیکن سکون نہیں ھوگا۔
سکون صرف ماں کے آنچل میں ھوتا ھے۔ اس آنچل کو بکھرنے مت دینا۔

اس دل کو چھو لینے والی داستان کو خود بھی پڑھیں۔ اور اپنے بچوں کو بھی پڑھائیں تاکہ اس سے عبرت حاصل کر سکیں۔

22/01/2026

ہسپتالوں کے 15 کڑوے اور خفیہ حقائق
ہسپتالوں کی سفید عمارتوں اور سفید کوٹ کے پیچھے اکثر ایسے ”سیاہ سچ“ چھپے ہوتے ہیں جن سے ایک عام مریض اور اس کے لواحقین بے خبر رہتے ہیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جو ڈاکٹرز آپس میں تو کرتے ہیں، لیکن آپ کے سامنے کبھی نہیں کریں گے۔
یہ رہے ہسپتالوں کے 15 کڑوے اور خفیہ حقائق
1-جولائی ایفیکٹ (The July Effect)
دنیا بھر کے (اور خاص طور پر ٹیچنگ) ہسپتالوں میں سال کے کچھ مخصوص مہینوں میں (اکثر جولائی/اگست) نئے اور ناتجربہ کار ڈاکٹرز (House Officers/Interns) آتے ہیں۔ اس دوران طبی غلطیوں کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ آپ دراصل ان کے لیے ”سیکھنے کا سامان“ (Practice Subject) ہوتے ہیں۔
2-ہسپتال،جراثیم کا گھر
ہسپتال صحت یاب ہونے کی جگہ ہے، لیکن حقیقت میں یہ سب سے گندی جگہ بھی ہے۔ یہاں ”سپر بگس“ (Superbugs) ہوتے ہیں۔وہ جراثیم جن پر اینٹی بائیوٹکس اثر نہیں کرتیں۔ اکثر مریض اپنی بیماری سے نہیں بلکہ ہسپتال سے لگنے والے انفیکشن (Hospital Acquired Infection) سے مر جاتے ہیں۔
3-غیر ضروری ٹیسٹ اور کمیشن
یہ ایک کھلا راز ہے کہ بہت سے پرائیویٹ ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کا گٹھ جوڑ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر آپ کو وہ ٹیسٹ بھی لکھ کر دیتا ہے جس کی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ ہر ٹیسٹ پر ڈاکٹر کا 20 سے 40 فیصد ”کمیشن“ (Cut) فکس ہوتا ہے۔
4-وینٹیلیٹر کا میٹر
پرائیویٹ ہسپتالوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مریض دماغی طور پر مردہ (Brain Dead) ہو چکا ہوتا ہے اور بچنے کی کوئی امید نہیں ہوتی، لیکن ہسپتال والے اسے وینٹیلیٹر پر رکھتے ہیں تاکہ ”میٹر چلتا رہے“ اور لاکھوں کا بل بن سکے۔
5-جمعہ کی دوپہر اور ویک اینڈ کا خطرہ
کوشش کریں کہ جمعہ کی دوپہر یا چھٹی والے دن سیریس آپریشن نہ کروائیں۔ ان دنوں میں سینئر اور ماہر ڈاکٹرز چھٹی پر ہوتے ہیں اور ہسپتال جونیئر سٹاف کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ ویک اینڈ پر ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کی اموات کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔
6-ڈاکٹر کی نیند اور تھکاوٹ
آپ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر خدا کا روپ ہے، لیکن وہ ایک انسان ہے۔ ہو سکتا ہے جو سرجن آپ کا پیچیدہ آپریشن کرنے لگا ہے، وہ پچھلے 24 گھنٹوں سے سویا نہ ہو یا کسی گھریلو پریشانی میں مبتلا ہو۔ نیند کی کمی ڈاکٹر کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔
7-سی سیکشن (C-Section) کا بزنس
آج کل نارمل ڈیلیوری بہت کم ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ صرف پیچیدگی نہیں، بلکہ ”وقت“ اور ”پیسہ“ ہے۔ نارمل ڈیلیوری میں گھنٹوں لگتے ہیں اور بل کم بنتا ہے، جبکہ بڑا آپریشن (C-Section) 45 منٹ میں ہو جاتا ہے اور بل بھی ڈبل بنتا ہے۔
8-دوا ساز کمپنیوں کے تحفے
ڈاکٹر اکثر آپ کو وہ دوائی نہیں لکھ کر دیتا جو سب سے سستی اور اچھی ہو، بلکہ وہ لکھتا ہے جس کی کمپنی نے اسے ”کانفرنس“ کے نام پر یورپ کا ٹرپ یا مہنگا تحفہ دیا ہو۔ یہ ”نسخہ“ دراصل ”بزنس ڈیل“ ہوتی ہے۔
9-موت کی خبر چھپانا (False Hope)
ڈاکٹر اکثر جانتے ہیں کہ مریض نہیں بچے گا، لیکن وہ لواحقین کو فوراً نہیں بتاتے۔ وہ کہتے ہیں ”اگلے 24 گھنٹے اہم ہیں، دعا کریں“۔ یہ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ فیملی کو ذہنی طور پر تیار کیا جا سکے اور ہسپتال پر توڑ پھوڑ کا خطرہ کم ہو۔
10-وی آئی پی کلچر
ہسپتال میں ”خون“ سب کا لال ہوتا ہے لیکن پروٹوکول الگ ہوتا ہے۔ اگر آپ کی جان پہچان یا سفارش ہے، تو آپ کو سینئر ڈاکٹر دیکھے گا، ورنہ آپ وارڈ بوائے اور نرسوں کے آسرے پر رہیں گے۔
11-کوڈ ورڈز (Code Words)
ڈاکٹر اور سٹاف آپ کے سامنے ایسی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں جو آپ نہ سمجھ سکیں۔ مثلاً کچھ ممالک میں ڈاکٹرز انتہائی بگڑے ہوئے کیس کے لیے ”GPO“ (Good for Parts Only) یا اسی قسم کے کوڈز استعمال کرتے ہیں تاکہ مریض کو اپنی حالت کا علم نہ ہو۔
12-سرکاری بمقابلہ پرائیویٹ رویہ
وہی ڈاکٹر جو سرکاری ہسپتال میں آپ کو ڈانٹ کر باہر نکال دیتا ہے، شام کو اپنے پرائیویٹ کلینک میں آپ کو مسکرا کر ملتا ہے۔ فرق ”آپ“ نہیں، فرق وہ ”فیس“ ہے جو آپ نے ادا کی ہے۔
13-غلطی تسلیم نہ کرنا
اگر آپریشن کے دوران ڈاکٹر سے کوئی نس کٹ جائے یا غلطی ہو جائے، تو وہ کبھی آپ کو نہیں بتائیں گے۔ وہ اسے ”پیچیدگی“ (Complication) کا نام دے کر فائل بند کر دیں گے، کیونکہ غلطی ماننے کا مطلب ہے قانونی کارروائی اور بدنامی۔
14-دوائیوں کی غلطی (Medication Errors)
ہسپتالوں میں نرسنگ سٹاف کی تبدیلی (Shift Change) کے دوران اکثر مریضوں کو غلط دوائی یا غلط ڈوز دے دی جاتی ہے۔ یہ غلطیاں ریکارڈ پر نہیں لائی جاتیں جب تک کہ ری ایکشن بہت شدید نہ ہو۔
15-آپ صرف ایک ”کیس“ ہیں
آپ کے لیے آپ کا مریض ”پوری دنیا“ ہے، لیکن ڈاکٹر کے لیے وہ بیڈ نمبر 14 پر لیٹا ہوا ”گردے کا مریض“ ہے۔ ڈاکٹروں کو جذباتی طور پر ”ڈی ٹیچ“ (Detach) ہونا سکھایا جاتا ہے، ورنہ وہ روزانہ درجنوں اموات دیکھ کر کام نہیں کر پائیں گے۔ ان کی بے حسی ان کی مجبوری بھی ہے۔

ہر ڈاکٹر برا نہیں ہوتا اور مسیحا آج بھی موجود ہیں، لیکن سسٹم ایک ”کاروبار“ بن چکا ہے۔
ہسپتال جاتے وقت آنکھیں بند کر کے بھروسہ نہ کریں، اپنی تحقیق کریں اور سوال پوچھنا سیکھیں۔
👇
ڈاکٹر شائستہ ناز یوسفزئی
F.8/2 near POF Girls college
Islamabad
Copy paste

    Head یا اس کی دُم Tail Damageمطلب خراب ہے توMHMB Formula یہ ہے   میازمیٹک دوا سفلینم سنگل ہومیوپیتھک دوا چیلی ڈونیم ...
10/01/2026



Head یا اس کی دُم Tail Damage
مطلب خراب ہے تو
MHMB Formula یہ ہے

میازمیٹک دوا سفلینم
سنگل ہومیوپیتھک دوا چیلی ڈونیم اور ایکسریز میں سے ایک کا انتخاب کریں ۔

مدر ٹنکچر ٹرائیبولس اور ڈامیانہ کو مکس کر کے کمپاونڈ بنا دیں۔

بائیوکیمک میں کلکریا فاس اور نیٹرم فاس
6x

اس فارمولے سے سپرم کا ہیڈ صحیح بن جائے گا اور دم میں Spiral بھی آجائے گی۔
انشاء اللہ

اس تحریر میں
Oligospermia (سپرم کی کمی) اور Teratospermia (سپرم کی ساخت کی خرابی)
کے حوالے سے ایک جامع ہومیوپیتھک نقطہ نظر پیش کیا گیا ہے۔

سپرم کی ساخت اور خرابی کا سائنسی تناظر

سپرم کے تین اہم حصے ہوتے ہیں

Head (جس میں DNA ہوتا ہے)
Mid-piece (توانائی کا گھر)
اور Tail (حرکت کے لیے)
اگر سر خراب ہو تو انڈے میں داخلہ مشکل ہوتا ہے
اور اگ دم میں "Spiral"
حرکت نہ ہو تو سپرم منزل تک نہیں پہنچ پاتا۔

MHMB فارمولا

1. سفلینم (Syphilinum)
- میازمیٹک بنیاد سائنسی طور پر یہ دوا
"Nosode" کہلاتی ہے۔
ہومیوپیتھک تحقیق کے مطابق، یہ خلیات کی سطح پر ہونے والی Degenerative Changes (تباہ کن تبدیلیوں) کو روکتی ہے۔ جب جینیاتی سطح پر سپرم کی ساخت بگڑ رہی ہو، تو یہ خلیات کی اصلاح (Cellular Correction) کا عمل شروع کرتی ہے۔

2. سنگل ہومیوپیتھک دوا کا انتخاب

چیلی ڈونیم (Chelidonium)
اس کا براہ راست اثر Liver Metabolism پر ہے۔ جگر خون کو صاف کرتا ہے اور ہارمونز کے توازن (خاص طور پر SHBG) کو برقرار رکھتا ہے۔ اگر جگر درست کام کرے تو خصیوں (Te**es) کو صاف خون اور بہتر غذائیت ملتی ہے، جس سے سپرم کا "Head"
صحت مند بنتا ہے۔

ایکسریز (X-Ray)
یہ دوا شعاعوں کے مضر اثرات اور خلیاتی ٹوٹ پھوٹ کے خلاف کام کرتی ہے۔ یہ Spermatogenesis (سپرم بننے کے عمل) کو تحریک دیتی ہے تاکہ نئے بننے والے سپرم نقائص سے پاک ہوں۔

3. مدر ٹنکچر کمپاونڈ (Tribulus & Damiana)

ٹرائیبولس (Tribulus Terrestris)
سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ یہ جسم میں
Free Testosterone
کی سطح کو بڑھاتا ہے۔ یہ سپرم کی حرکت (Motility) اور دم کی طاقت کے لیے ایندھن کا کام کرتا ہے۔

ڈامیانہ (Damiana)
یہ اعصابی نظام اور جنسی غدود پر اثر انداز ہو کر خون کی گردش (Blood Circulation) کو جنسی اعضاء کی طرف تیز کرتی ہے، جس سے سپرم کی کوالٹی بہتر ہوتی ہے۔

4. بائیوکیمک نمکیات (6x)

کلکریا فاس (Calcarea Phos)
یہ خلیات کی تقسیم (Cell Division) اور ساخت سازی کے لیے ضروری ہے۔ سپرم کے سر (Head) کی مضبوطی کے لیے کیلشیم فاسفیٹ اہم کردار ادا کرتا ہے۔

نیٹرم فاس (Natrum Phos)
یہ جسم میں تیزابیت (Acidity)
کو ختم کرتا ہے۔ اگر سیمن (Semen) میں تیزابیت زیادہ ہو تو سپرم کی دم (Tail) زخمی یا ناکارہ ہو جاتی ہے۔ یہ پی ایچ (pH) لیول کو متوازن رکھ کر سپرم کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

خلاصہ تحقیق
یہ فارمولا تین سطحوں پر کام کرتا ہے

جینیاتی سطح
سفلینم کے ذریعے نقص کی اصلاح۔

ہارمونل سطح
ٹرائیبولس اور چیلی ڈونیم کے ذریعے ٹیسٹوسٹیرون اور میٹابولزم کی بہتری۔

ساختی سطح
بائیوکیمک نمکیات کے ذریعے سپرم کی فزیکل ڈویلپمنٹ۔

> اہم نوٹ

یہ معلومات صرف طبی طالب علموں کے لیے ہیں۔ خود علاجی سے پرہیز کریں اور مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

25/12/2025











راتوں رات شہرت حاصل کرنے والے مفتی شمائل ندوی کے زریعے سے اللہ نے 11 ہندوؤں خاندانوں کو اسلام قبول کراولیا ملحد جاوید اخ...
25/12/2025

راتوں رات شہرت حاصل کرنے والے مفتی شمائل ندوی کے زریعے سے اللہ نے 11 ہندوؤں خاندانوں کو اسلام قبول کراولیا ملحد جاوید اختر جسکو آج تک کوئی مناظرہ میں شکست نہیں دے سکا تھا لیکن دہلی میں ہونے والے دو گھنٹےتک جاری رہنے والے ڈیبیٹ میں ہر مذہب کے ہزاروں لوگ موجود تھے اور اس ڈیبیٹ کی لائیو کوریج پوری دنیا دیکھ رہی تھی لیکن مفتی شمائل ندوی کے بہترین انداز اور پورے دلیل کیساتھ اختر جاوید کو پوری دنیا کے سامنے ایسے ایکسپوز کردیاکہ وہ سر اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہا آخر میں جاوید اختر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا جس پر مفتی شمائل ندوی کو کامیاب قرار دیا گیا میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت کے شہر کلکتہ میں 11ہندوؤں خاندانوں نے مفتی شمائل ندوی کے ادارے میں آکر اپنی خوشی سے اسلام قبول کرلیا







#مناظرہ

#ہدایت


#ایمان
#توحید

#بھارت
#کلکتہ



گرینڈیلیا روبسٹا Grindelia Robusta مدر ٹنکچر ایک ہومیوپیتھک ہے۔یہ دوائی پرانے بلغمی دمہ اور مزمنہ تشنجی بلغمی کھانسی میں...
24/12/2025

گرینڈیلیا روبسٹا Grindelia Robusta مدر ٹنکچر ایک ہومیوپیتھک ہے۔
یہ دوائی پرانے بلغمی دمہ اور مزمنہ تشنجی بلغمی کھانسی میں کام آتی ہے ، جبکہ بمقدار کثیر لیسدار بلغم نکلتی ہو اور بلغم خارج ہونے سے آرام ہوتا ہو۔

علاج اپنی جامع شفا یابی کی خصوصیات کے لیے جانا جاتا ہے، خاص طور پر سانس اور جلد سے متعلق حالات کے لیے۔ اس کا استعمال صحت کے مختلف مسائل کے علاج کے لیے کیا جاتا ہے، بشمول تلی کا درد، خارش والی جلد، جلنے سے چھالے، اور دمہ سے وابستہ سانس لینے کے مسائل۔ یہ قدرتی علاج قدرتی مادوں کے ساتھ علامات کو سنبھالنے میں مدد کرتا ہے، گلے اور سینے کی جلن پر توجہ مرکوز کرتا ہے، اور کبھی کبھار کھانسی سے نرمی کو فروغ دیتا ہے۔
یونہی مریض سوتا ہے تو اس کا دم سانس تک جاتا ہو اور وہ جھٹ چونک اٹھتا ہو اور سانس لینے کے لیے ہانپتا ہو۔۔

گرینڈیلیا روبسٹا مدر ٹنکچر کے کچھ اہم فوائد میں شامل ہیں:
دل کا فعل بے قاعدہ ہو دل بڑھ گیا ہو ۔ بخار ہائی کے ہمراہ کوتاہ دمی ہو۔
سانس کی مدد: میں آرام دہ جلن

گلے اور سینے، سانس لینے کی قدرتی آسانی کی حوصلہ افزائی

جلد کا سکون: جلد کے آرام کو فروغ دینا

جلد کے مسائل جیسے جلن، چھالے اور خارش

درد سے نجات: ہرپس اور روزاسیا کی وجہ سے ہونے والے درد سے نجات فراہم کرنا

ہاضمہ سپورٹ: ہاضمہ کو بہتر بنانا اور بھوک کو بحال کرنا

دمہ کے لیے مدر ٹنکچر
دمہ ایک ایسی حالت ہے جس میں آپ کے ایئر ویز تنگ اور پھول جاتے ہیں اور اضافی بلغم پیدا کرتے ہیں۔ یہ سانس لینے میں دشواری کا باعث بن سکتا ہے اور کھانسی، گھرگھراہٹ اور سانس کی قلت کا باعث بن سکتا ہے۔

گرینڈیلیا روبسٹا GRINDELIA ROBUSTA Q - گھرگھراہٹ اور جبر۔ بلغم جھاگ دار ہے اور اسے الگ کرنا مشکل ہے۔ دمہ کے ساتھ بہت زیادہ سختی سے افزائش، جو آرام دیتا ہے۔ لیٹتے وقت سانس نہیں لے پاتے۔ سانس لینے کے لیے اٹھ کر بیٹھنا چاہیے۔ سوتے وقت سانس رک جاتا ہے۔ ایک آغاز کے ساتھ جاگتا ہے، اور سانس کو پکڑتا ہے۔

موسم تلی طحال میں سخت کاٹنے والی دردیں ہوتی ہوں جو کہ کولہوں تک پھیلتی ہوں۔ تلی بڑھ ہوئی۔

رسٹاکس کے زہر کو دور کرنے کیلئے یہ دوائی اندرونی اور بیرونی ہر دو طرح استعمال کی جاتی ہے اور تریاق کا کام دیتی ہے

مقدار خوراک مدرٹنکچر ایک قطرہ سے 15 قطروں تک یا 3 ایکس


#ہومیوپیتھی




#دمہ



#کھانسی

#گھرگھراہٹ















23/12/2025
21/12/2025

ڈائیلاسز #
#ہومیوپیتھی

ڈائیلاسز کروانے سے پہلے مشورہ ضرور کریںگردے کا ڈائیلاسز ایک مصنوعی طریقہ کار ہے جو ناکارہ گردوں کا کام کرتا ہے، خون سے ف...
19/12/2025

ڈائیلاسز کروانے سے پہلے مشورہ ضرور کریں

گردے کا ڈائیلاسز ایک مصنوعی طریقہ کار ہے جو ناکارہ
گردوں کا کام کرتا ہے، خون سے فضلہ، اضافی نمک اور پانی کو فلٹر کرتا ہے، اور بلڈ پریشر کنٹرول میں رکھتا ہے، جس کی دو اہم اقسام ہیں: ہیمودیالیسز (مشین کے ذریعے خون کو فلٹر کرنا) اور پیریٹونیل ڈائیلاسز (پیٹ کی جھلی کو فلٹر کے طور پر استعمال کرنا)؛ یہ گردے فیل ہونے کے آخری مرحلے کے مریضوں کے لیے ایک لائف لائن ہے، جو زندگی بچانے میں مدد دیتا ہے لیکن یہ علاج نہیں، بلکہ زندگی کو طول دینے کا ایک طریقہ ہے جب تک کہ گردہ ٹرانسپلانٹ ممکن نہ ہو.
ڈائیلاسز کی اقسام
ہیمودیالیسز (Hemodialysis):
خون کو ایک مشین (مصنوعی گردہ) سے گزار کر صاف کیا جاتا ہے.
عام طور پر ہسپتالوں یا ڈائیلاسز سینٹرز میں ہفتے میں کئی بار ہوتا ہے.
اس میں کم بلڈ پریشر اور خارش جیسے ضمنی اثرات ہو سکتے ہیں.
پیریٹونیل ڈائیلاسز (Peritoneal Dialysis):
پیٹ کی اندرونی جھلی (پیریٹونیم) فلٹر کا کام کرتی ہے.
پیٹ میں ایک صفائی مائع (ڈائیلیسیٹ) داخل کیا جاتا ہے جو فضلہ جذب کرتا ہے، اور پھر اسے نکال دیا جاتا ہے.
یہ گھر پر یا سوتے وقت مسلسل کیا جا سکتا ہے. ؟
جب گردے تقریباً 85-90% کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، تو وہ خون سے زہریلے مادے، اضافی سیال، نمک، اور پوٹاشیم نہیں نکال سکتے.
ڈائیلاسز اس کمی کو پورا کرتا ہے اور جسم میں توازن برقرار رکھتا ہے.
یہ گردوں کے مسائل کی جڑ کا علاج نہیں، بلکہ اس حالت میں زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے.
اہم نکات
ڈائیلاسز گردے کی خرابی کی ایک عارضی حالت میں (جیسے اچانک چوٹ لگنے پر) عارضی ہو سکتا ہے، لیکن زیادہ تر صورتوں میں یہ مستقل (جب تک ٹرانسپلانٹ نہ ہو) ہوتا ہے.
ڈائیلاسز کے ساتھ ساتھ، غذائی پرہیز اور دیگر متعلقہ ادویات ضروری ہوتی ہیں.
بہتر زندگی گزارنے اور علامات کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈاکٹر سے مسلسل مشورہ ضروری ہے.
اللّٰہ کے حکم سے گردے نارمل ہو نارمل پوزیشن میں کام کریں گے ان شاء اللّٰہ
03157420106

#گردے #ڈائیلاسز
#ہومیوپیتھی

سنہری باتیں
16/12/2025

سنہری باتیں

Address

Jhang Road Sadhar Bypass Rehman City
Faisalabad
38000

Telephone

+923157420106

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ڈاکٹر اظہر عباس posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to ڈاکٹر اظہر عباس:

Share