Rising Life Clinical and Counseling Services Pakistan

Rising Life Clinical and Counseling Services Pakistan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Rising Life Clinical and Counseling Services Pakistan, Mental Health Service, Shadab Mor Jhang Road, Faisalabad.

We are providing following services
Psychological assessment
Psychotherapy and counsling
Familly counsling
Career counsling
Addiction Counsling
Child related psychological disorder
Learning Disorder
Speach related issues

23/04/2026
23/04/2026

اینزائٹی (Anxiety) کیا ہے ؟
اینزائٹی ایک ذہنی اور جسمانی ردِعمل ہے، جو عام طور پر مستقبل میں ہونے والے کسی خطرے یا غیر یقینی صورتحال کے اندیشے سے پیدا ہوتا ہے۔ اگرچہ تھوڑی بہت فکر ہمیں چوکنا رکھتی ہے، لیکن جب یہ بلاوجہ، مسلسل اور بے قابو ہونے لگے تو یہ روزمرہ کی زندگی کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔
اس کی علامات کو تین اہم حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: جسمانی، ذہنی، اور طرزِ عمل۔ نیچے دی گئی تفصیل میں الفاظ اور جملوں کو بامعنی اور واضح کیا گیا ہے۔
1. جسمانی علامات (Physical Symptoms)
جب انسان اینزائٹی کا شکار ہوتا ہے، تو اس کا جسم لاشعوری طور پر "جنگ یا فرار" (Fight or Flight) کی حالت میں چلا جاتا ہے، جس کی وجہ سے درج ذیل جسمانی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:
دل کی دھڑکن کا غیر معمولی تیز ہونا: ایسا محسوس ہونا جیسے دل سینے سے باہر نکل آئے گا، یا سینے میں دباؤ اور جکڑن محسوس کرنا۔
سانس لینے میں دشواری یا گھٹن: سانس کا پھولنا یا ایسا لگنا جیسے مکمل طور پر سانس نہیں آ رہا۔
ہاتھوں اور پاؤں کا کانپنا: جسم میں تھراہٹ اور ٹھنڈے پسینے آنا، چاہے موسم گرم ہی کیوں نہ ہو۔
معدے اور ہاضمے کے مسائل: پیٹ میں مروڑ اٹھنا، متلی محسوس ہونا، یا معدے کی خرابی کا شکار ہونا۔
مسلسل تھکاوٹ اور جسمانی کمزوری: آرام کرنے کے باوجود ہر وقت جسم میں درد، بھاری پن، اور نقاہت محسوس کرنا۔
سر درد اور پٹھوں میں کھچاؤ: خاص طور پر کندھوں، گردن، اور جبڑے کے پٹھوں میں تناؤ۔
2. ذہنی اور نفسیاتی علامات (Mental & Cognitive Symptoms)
اینزائٹی آپ کی سوچ، توجہ، اور ادراک کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس کی اہم ذہنی علامات درج ذیل ہیں:
مسلسل اور بے بنیاد اندیشے: "اگر ایسا ہو گیا تو کیا ہوگا؟" (What-if scenarios) جیسی منفی سوچوں کا ذہن پر ہر وقت غالب رہنا، چاہے کوئی حقیقی خطرہ نہ ہو۔
توجہ مرکوز کرنے میں مشکل: کسی ایک کام یا گفتگو پر فوکس نہ کر پانا، یا ذہن کا اچانک "خالی" (Blank) ہو جانا۔
ہر وقت بے چینی اور بے سکونی: ذہن میں خیالات کا ہجوم رہنا اور کسی طور سکون محسوس نہ ہونا۔
نیند کی شدید خرابی: رات بھر منفی سوچوں کے چلنے کی وجہ سے نیند نہ آنا، یا بار بار آنکھ کھلنا اور صبح اٹھ کر تھکاوٹ محسوس کرنا۔
چڑچڑاپن اور غصہ: چھوٹی چھوٹی باتوں پر جلدی ردِعمل دینا، اور ہر وقت تناؤ میں رہنا۔
3. طرزِ عمل کی علامات (Behavioral Symptoms)
اینزائٹی آپ کے روزمرہ کے رویوں، فیصلوں، اور سماجی تعاملات میں واضح تبدیلیاں لاتی ہے:
گریز کا رویہ (Avoidance): ایسی جگہوں، لوگوں، یا کاموں سے مکمل طور پر بچنا جو آپ کو پریشان کرتے ہوں، جیسے کہ سوشل تقریبات، پبلک سپیکنگ، یا کسی مخصوص کام کو ٹالنا۔
بار بار تسلی اور یقین دہانی چاہنا: دوسروں سے بار بار یہ پوچھنا کہ "سب ٹھیک تو ہے نا؟" یا "کیا میں نے یہ کام صحیح کیا؟" تاکہ عارضی طور پر سکون مل سکے۔
فیصلہ کرنے میں ہچکچاہٹ: ہر فیصلے کے منفی نتائج کے خوف سے کوئی بھی فیصلہ نہ کر پانا اور مسلسل الجھن میں رہنا۔
چاک و چوبند رہنے کی عادت (Hypervigilance): ہر وقت خطرے کی تلاش میں رہنا اور معمولی آوازوں یا اشاروں پر بھی گھبرا جانا۔
اس سے نمٹنے کے لیے عملی طریقے اور رہنمائی:
اینزائٹی کو قابو میں رکھنے کے لیے درج ذیل طریقے انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں:
گہرے سانس لینے کی مشق (Deep Breathing): جب بھی گھبراہٹ محسوس ہو، ناک سے 4 سیکنڈ تک لمبا سانس لیں، 4 سیکنڈ کے لیے روکیں، اور پھر منہ سے 6 سیکنڈ میں آہستہ سے نکالیں۔ یہ آپ کے اعصابی نظام کو فوراً پرسکون کرتا ہے۔
گراؤنڈنگ تکنیک (Grounding Technique - 54321): یہ آپ کے ذہن کو حال میں واپس لانے کا بہترین طریقہ ہے۔ اپنے اردگرد موجود ایسی چیزوں کو پہچانیں:
5 چیزیں جنہیں آپ دیکھ سکتے ہیں۔
4 چیزیں جنہیں آپ چھو سکتے ہیں۔
3 آوازیں جو آپ سن سکتے ہیں۔
2 چیزیں جن کی بو آپ سونگھ سکتے ہیں۔
1 چیز جس کا ذائقہ آپ چکھ سکتے ہیں۔
روزمرہ کی ورزش: کم از کم 30 منٹ کی تیز واک، جاگنگ، یا کوئی بھی جسمانی سرگرمی تناؤ کو کم کرنے والے ہارمونز (اینڈورفنز) خارج کرتی ہے۔
نیند اور غذا کا توازن: ایک ہی وقت پر سونے اور جاگنے کی عادت ڈالیں، اور کیفین (چائے، کافی) اور جنک فوڈ کا استعمال کم کریں۔
ایک انتہائی اہم بات:
اگر یہ علامات مسلسل دو ہفتوں سے زیادہ رہیں، اور آپ کی سماجی، پیشہ ورانہ، یا تعلیمی زندگی کو بری طرح متاثر کرنے لگیں، تو یہ "اینزائٹی ڈس آرڈر" ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں کسی ماہرِ نفسیات (Psychologist) یا سائیکاٹرسٹ (Psychiatrist) سے مشورہ کرنا سب سے زیادہ مؤثر اور ضروری حل ہوتا ہے۔ ذہنی صحت بھی جسمانی صحت کی طرح اہم ہے، اس پر توجہ دیں!
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
سپیشل ایجوکیشنسٹ
رائزنگ لائف کلینیکل اینڈ کونسلنگ سروسز پاکستان ۔
ایڈریس ۔
الفارابی کالج آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز نزد بینک الفلاح شاداب موڑ جھنگ روڈ فیصل آباد ۔
رابطہ نمبر:
0300.7609681/0346.7757166




#نفسیات #اینزائٹی #پاکستان

23/04/2026

کبھی کبھی دل کی دھڑکن کا تیز ہونا یا مستقبل کا خوف ہمیں مفلوج کر دیتا ہے، لیکن درست رہنمائی اور سپورٹ سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
اپنی علامات پر غور کریں۔
منفی سوچ کو پہچانیں۔
ماہرِ نفسیات سے رجوع کریں۔
اینگزائٹی کے اسباب کو سمجھنا اور ان سے نمٹنے کے لیے عملی طریقے اپنانا (جیسے گہری سانسیں لینا یا تھراپی) آپ کی زندگی بدل سکتا ہے۔
آئیے، آج سے عہد کریں کہ ہم اپنی اور اپنے پیاروں کی ذہنی صحت کو ترجیح دیں گے۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ

مشورے کے لیے رابطہ کریں:
0300-7609681

#اینگزائٹی #نفسیات

22/04/2026

یہ ایک ایسا سوال ہے جو آج کے دور میں ہر والدین کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ ہم اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور روزمرہ کی مصروفیات میں اتنے مگن ہو جاتے ہیں کہ اکثر وہ سب سے قیمتی وقت، جو ہمارے بچوں کا حق ہے، کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔
بچوں کو "پراپر ٹائم" دینے کا مطلب صرف ان کے ساتھ ایک کمرے میں ہونا نہیں ہے، بلکہ ان کے ساتھ ذہنی اور جذباتی طور پر جڑنا ہے۔ یہاں چند اہم نکات ہیں جن پر ہم سب کو غور کرنے کی ضرورت ہے:
1۔ مقدار سے زیادہ معیار (Quality over Quantity)
ضروری نہیں کہ آپ سارا دن بچوں کے ساتھ بیٹھے رہیں۔ اگر آپ دن بھر میں صرف 30 سے 40 منٹ بھی مکمل توجہ (بغیر موبائل فون کے) کے ساتھ انہیں دیتے ہیں، تو یہ ان کی شخصیت سازی کے لیے کافی ہوتا ہے۔
2۔ ان کے جذبات کو سننا
اکثر ہم بچوں کو صرف ہدایات دیتے ہیں (کھانا کھا لو، سبق یاد کرو)۔ پراپر ٹائم وہ ہے جس میں بچہ آپ کو اپنی کہانیاں سنائے، اپنے ڈر یا اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں شیئر کرے اور اسے محسوس ہو کہ اسے سنا جا رہا ہے۔
3۔ مشترکہ سرگرمیاں
بچوں کے ساتھ مل کر کوئی کھیل کھیلنا، کتاب پڑھنا یا گھر کے چھوٹے کاموں میں انہیں ساتھ شامل کرنا ایک مضبوط تعلق پیدا کرتا ہے۔
4۔ ڈیجیٹل ڈسپلن
گھر آنے کے بعد ایک مخصوص وقت "نو فون زون" (No Phone Zone) ہونا چاہیے۔ جب بچے ہمیں ہر وقت اسکرین میں مگن دیکھتے ہیں، تو وہ خود کو غیر اہم سمجھنے لگتے ہیں۔
ایک اہم بات:
بچے نصیحت سے زیادہ عمل سے سیکھتے ہیں۔ اگر ہم انہیں وقت دیں گے، تو وہ بھی رشتوں کی اہمیت کو سمجھیں گے۔

کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی پیشہ ورانہ مصروفیات آپ کے فیملی ٹائم پر اثر انداز ہو رہی ہیں، یا آپ نے اس کے لیے کوئی خاص روٹین بنا رکھی ہے؟
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
رائزنگ لائف کلینیکل اینڈ کونسلنگ سروسز پاکستان
ایڈریس:
الفارابی کالج آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز نزد بینک الفلاح شاداب موڑ جھنگ روڈ فیصل آباد
0300.7609981/03467757166

#نفسیات

22/04/2026

یہ ایک حقیقت ہے کہ بچہ جتنا اپنے ہم عمر ساتھیوں (Peers) کے ساتھ رہ کر سیکھتا ہے، وہ شاید اکیلے یا صرف بڑوں کی صحبت میں ممکن نہیں۔ اس عمل کو ماہرینِ نفسیات "Peer Learning" کہتے ہیں۔
بچہ اپنے ہم عمر بچوں سے کیا کچھ سیکھتا ہے؟ اس کی تفصیل درج ذیل ہے:
۱۔ سماجی میل جول اور زبان کی روانی
بچے جب آپس میں کھیلتے ہیں، تو وہ ایک دوسرے کے الفاظ، لہجے اور بات کرنے کے انداز کو تیزی سے اپناتے ہیں۔ ہم عمر بچوں میں جھجک نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے ان کی بولنے کی صلاحیت اور زبان کی روانی میں تیزی سے بہتری آتی ہے۔
۲۔ ہمدردی اور بانٹنے کا جذبہ (Sharing & Empathy)
اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کھیلنے سے بچہ یہ سیکھتا ہے کہ اپنی باری کا انتظار کیسے کرنا ہے اور اپنی چیزیں دوسروں کے ساتھ کیسے بانٹنی ہیں۔ یہیں سے اس کے اندر دوسروں کے جذبات کا احترام اور ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔
۳۔ مسائل کا حل اور تخلیقی سوچ
کھیل کے دوران جب کوئی مشکل پیش آتی ہے یا رولز (Rules) پر اختلاف ہوتا ہے، تو بچے مل کر اس کا حل نکالتے ہیں۔ یہ عمل ان میں فیصلہ سازی (Decision Making) اور "Problem Solving" کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔
۴۔ خود اعتمادی اور مقابلہ کرنا
جب بچہ اپنے برابر کے بچوں کو کوئی کام کرتے دیکھتا ہے، تو اس کے اندر بھی وہ کام کرنے کا شوق اور حوصلہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ صحت مند مقابلہ اسے نئی مہارتیں سیکھنے اور اپنے ڈر پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے۔
والدین کے لیے مشورہ
بچوں کو دوسرے بچوں کے ساتھ ملنے جلنے اور کھیلنے کے بھرپور مواقع فراہم کریں۔ اسکول، پارکس اور فیملی گیٹ ٹو گیدر اس سلسلے میں بہترین ثابت ہو سکتے ہیں۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
اسپیشل ایجوکیشنسٹ
رائزنگ لائف کلینیکل اینڈ کونسلنگ سروسز پاکستان
ہم بچوں کی سماجی اور نفسیاتی تربیت کے لیے آپ کو بہترین پیشہ ورانہ حل فراہم کرتے ہیں۔

رائزنگ لائف کلینیکل اینڈ کونسلنگ سروسز پاکستان
(Autism & Rehabilitation center)
📞 رابطہ: 03007609681 | 03467757166
📍 پتہ: شاداب موڑ، جھنگ روڈ، فیصل آباد۔

22/04/2026

والدین کا تلخ رویہ اور بچے کا مستقبل: گھر کا ماحول شخصیت پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟
گھر وہ پناہ گاہ ہے جہاں بچہ خود کو سب سے زیادہ محفوظ تصور کرتا ہے، لیکن جب اسی گھر میں تلخی اور تناؤ کا راج ہو تو بچے کی معصوم شخصیت بکھرنے لگتی ہے۔ یاد رکھیے، بچے وہ نہیں سیکھتے جو ہم انہیں سکھاتے ہیں، بلکہ وہ سیکھتے ہیں جو وہ ہمیں کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔
والدین کا تلخ رویہ بچوں کی معصوم دنیا کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔ گھر، جو کسی بھی بچے کے لیے سکون اور تحفظ کا گہوارہ ہونا چاہیے، جب وہ میدانِ جنگ بن جاتا ہے تو اس کے اثرات بچے کی شخصیت پر گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ بچے اپنے والدین کو اپنا سب سے بڑا سہارا اور رول ماڈل سمجھتے ہیں۔ جب وہ انہیں لڑتے دیکھتے ہیں، تو ان میں غیر یقینی صورتحال اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ ایسے بچے اکثر بے چینی، ڈپریشن اور خوف کا شکار رہتے ہیں۔
بچوں پر اس کے ہونے والے چند اہم اثرات درج ذیل ہیں:
نفسیاتی دباؤ: مسلسل تناؤ بچوں میں بے چینی (Anxiety) اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے۔
رویے میں تبدیلی: تلخ ماحول کی وجہ سے بچے یا تو بہت زیادہ جارحانہ ہو جاتے ہیں یا بالکل خاموش اور تنہائی پسند۔
تعلیمی نقصان: ذہنی سکون نہ ہونے کی وجہ سے بچے پڑھائی پر توجہ نہیں دے پاتے، جس سے ان کا مستقبل متاثر ہوتا ہے۔
سماجی مشکلات: گھر میں لڑائی جھگڑے دیکھنے والے بچوں کو دوسروں کے ساتھ بھروسے کا رشتہ قائم کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔
والدین کے لیے مشورہ:
اپنے اختلافات کو بچوں سے دور رکھیں اور انہیں ایک پُرامن ماحول دیں جہاں وہ کھل کر مسکرا سکیں۔ آپ کا آج کا رویہ ان کے کل کی شخصیت طے کرے گا۔

رائزنگ لائف کلینیکل اینڈ کونسلنگ سروسز میں ہم ایسے بچوں اور والدین کے لیے کونسلنگ سیشنز فراہم کرتے ہیں جو گھریلو حالات کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہوں۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
سپیشل ایجوکیشنسٹ
رائزنگ لائف کلینیکل اینڈ کونسلنگ سروسز پاکستان
(Autism & Rehabilitation Center)
رابطہ اور رجسٹریشن:
03007609681 | 03467757166
پتہ: الفارابی کالج آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز نزد بینک الفلاح شاداب موڑ شاداب موڑ، جھنگ روڈ، فیصل آباد۔

22/04/2026

آٹزم کوئی بیماری نہیں، بلکہ دماغی نشوونما کا ایک منفرد انداز ہے۔ ہر بچہ خاص ہے اور اس کے دنیا کو دیکھنے کا نظریہ دوسروں سے الگ ہوتا ہے۔ اگر آپ کا بچہ بھی سماجی رابطے یا گفتگو میں دشواری محسوس کر رہا ہے، تو پریشان نہ ہوں صحیح وقت پر تشخیص اور تھراپی اسے ایک خود مختار زندگی کی طرف لے جا سکتی ہے۔
علامات: نظریں چرانا، بولنے میں تاخیر، یا تکراری رویے۔
ہمارا مقصد: آپ کے بچے کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو نکھارنا۔آٹزم (ASD) کی بروقت تشخیص بچے کی سماجی اور ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ رائزنگ لائف میں ہماری ماہر ٹیم آٹزم کی منیجمنٹ اور تھراپی کے لیے جدید ترین سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
آج ہی ماہرین سے مشورہ کریں اور اپنے بچے کے مستقبل کو بہتر بنائیں۔
رائزنگ لائف کلینیکل اینڈ کونسلنگ سروسز پاکستان
الفارابی کالج آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز نزد بینک الفلاح نزد بینک الفلاح، شاداب موڑ، جھنگ روڈ، فیصل آباد۔
📞 0300-7609681


#آٹزم

22/04/2026

آٹزم کی منیجمنٹ کے اہم طریقے درج ذیل ہیں
۱۔ بیہیویئرل تھراپی (ABA)
اسے Applied Behavior Analysis کہتے ہیں۔ یہ آٹزم کے لیے سب سے مؤثر تھراپی مانی جاتی ہے۔ اس میں بچے کے مثبت رویوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور مشکل رویوں کو کم کرنے میں مدد دی جاتی ہے۔
۲۔ اسپیچ اور لینگویج تھراپی
آٹزم میں مبتلا بچوں کو بولنے یا اپنی بات سمجھانے میں مشکل ہوتی ہے۔ اسپیچ تھراپسٹ بچے کو الفاظ کا درست استعمال، اشاروں کی زبان اور دوسروں کے ساتھ گفتگو کرنا سکھاتا ہے۔
۳۔ آکیوپیشنل تھراپی (Occupational Therapy)
اس تھراپی کا مقصد بچے کو روزمرہ کے کاموں میں خود مختار بنانا ہے، جیسے:
اپنے ہاتھوں سے کھانا کھانا۔
بٹن بند کرنا یا کپڑے بدلنا۔
حسیاتی مسائل (Sensory issues) کو کنٹرول کرنا (مثلاً شور یا روشنی سے نہ گھبرانا)۔
۴۔ سماجی مہارتوں کی تربیت (Social Skills Training)
اس میں بچے کو سکھایا جاتا ہے کہ دوسروں سے کیسے ملنا ہے، باری کا انتظار کیسے کرنا ہے، اور دوسرے بچوں کے ساتھ مل کر کیسے کھیلنا ہے۔
۵۔ تعلیمی مدد (Special Education)
ایسے بچوں کے لیے انفرادی تعلیمی پروگرام (IEP) ترتیب دیا جاتا ہے۔ اسکول میں ان کی ضرورت کے مطابق نصاب اور پڑھانے کا طریقہ بدلا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی رفتار سے سیکھ سکیں۔
والدین کے لیے چند اہم مشورے
روٹین بنائیں: آٹزم کے شکار بچے مقررہ ٹائم ٹیبل (Routine) میں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ان کے کھانے، سونے اور کھیلنے کا وقت مقرر رکھیں۔
واضح ہدایات دیں: لمبی باتوں کے بجائے چھوٹے اور واضح جملے بولیں۔
صبر اور حوصلہ افزائی: چھوٹی سی کامیابی پر بھی بچے کی تعریف کریں اور اسے انعام دیں۔
رائزنگ لائف کلینیکل اینڈ کونسلنگ سروسز میں ہم آٹزم کی مکمل منیجمنٹ کے لیے پروفیشنل اسیسمنٹ اور تھراپی پلانز فراہم کرتے ہیں۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
سپیشل ایجوکیشنسٹ
مقام: الفارابی کالج آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز ، نزد بینک الفلاح، شاداب موڑ، جھنگ روڈ، فیصل آباد۔
📞 رابطہ:
03007609681/03467757166


#آٹزم

22/04/2026

آٹزم سے متاثرہ بچے کی پرورش ایک ایسا سفر ہے جس میں آپ کو ہر روز ایک نیا سبق سیکھنے کو ملتا ہے۔ والدین کی رہنمائی کے لیے ہمارے کچھ خاص مشورے
بات چیت کا نیا انداز: الفاظ کے ساتھ ساتھ تصاویر اور اشاروں کا سہارا لیں تاکہ بچہ آپ کی دنیا سے جڑ سکے۔
صبر اور مستقل مزاجی: یاد رکھیں، آٹزم میں "روٹین" بچے کی بہترین دوست ہے۔ ایک ہی ٹائم ٹیبل اسے زندگی میں نظم و ضبط اور سکون دیتا ہے۔
خوشیاں منائیں: اس کی چھوٹی سے چھوٹی کامیابی (مثلاً ایک نیا لفظ بولنا یا خود سے کھانا کھانا) ایک بہت بڑی جیت ہے۔ اسے بھرپور سراہیں!
آپ کی تھوڑی سی توجہ اور ہماری ماہرانہ رہنمائی مل کر بچے کا مستقبل سنوار سکتے ہیں۔
رائزنگ لائف کلینیکل اینڈ کونسلنگ سروسز، فیصل آباد
📞 03007609681

22/04/2026

کیا آپ کا بچہ بھی ان چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے؟ اور
والدین اکثر پریشان ہوتے ہیں جب ان کا بچہ
اپنی عمر کے دوسرے بچوں کی طرح باتیں نہیں کرتا۔
پڑھائی میں بہت محنت کے باوجود پیچھے رہ جاتا ہے۔
بہت زیادہ ضدی ہے یا سماجی طور پر الگ تھلگ رہتا ہے۔
تو بِلکُل بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ہم کریں گے آپ بچے کی تشخیص ، مہیّا کریں تھیراپی اور ساتھ ساتھ آپ کی بھی کونسلنگ۔
تشخیص (Assessment): آٹزم، ڈسلیکسیا اور توجہ کی کمی (ADHD) کی ماہرانہ جانچ۔
تھراپی: اسپیچ، بیہویئر اور آکیوپیشنل تھراپی کے جدید طریقے تاکہ بچہ خود مختار بن سکے۔
کونسلنگ: والدین کو وہ طریقے سکھانا جن سے وہ گھر پر اپنے بچے کی بہتر تربیت کر سکیں۔
آج ہی مشورہ کریں، کیونکہ آپ کا ایک فیصلہ بچے کی زندگی بدل سکتا ہے۔
ہم سے رابط کریں
03007609681 | 03467757166
پتہ :الفارابی کالج آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز، شاداب موڑ، جھنگ روڈ، فیصل آباد۔

22/04/2026

والدین اپنے بچوں کی بہترین پرورش کیسے کر سکتےہیں۔
ہم یہاں چند اصول بتا رہے ہیں۔جن پر عمل کرتے ہوئے بچے کی بہترین پرورش کی جا سکتی ہے۔
1. بچوں کی بات کو توجہ سے سنیں (Active Listening):
بچہ جب کچھ بتانا چاہے تو اپنے کام چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوں۔ اس سے بچے میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور اسے یہ احساس ملتا ہے کہ اس کی رائے اور جذبات اہم ہیں۔
2. موازنہ کرنے سے گریز کریں:
ہر بچہ اپنی رفتار سے سیکھتا ہے اور اس کی اپنی انفرادی خوبیاں ہوتی ہیں۔ اپنے بچے کا موازنہ دوسرے بچوں یا بہن بھائیوں سے کرنے کے بجائے اس کی اپنی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر اس کی حوصلہ افزائی کریں۔
3. سکرین ٹائم کے بجائے کوالٹی ٹائم:
موبائل اور ٹی وی کے بجائے بچوں کے ساتھ مل کر کھیلیں، انہیں کہانیاں سنائیں یا ان کے ساتھ سیر پر جائیں۔ آپ کا دیا ہوا وقت ان کی ذہنی صحت اور سماجی مہارتوں کے لیے بہترین سرمایہ کاری ہے۔
4. مستقل مزاجی اور نظم و ضبط:
بچوں کے لیے روزمرہ کے معمولات (جیسے سونے، جاگنے اور کھانے کا وقت) طے کریں۔ واضح حدود اور نظم و ضبط بچوں کو تحفظ کا احساس دیتے ہیں اور ان کے رویوں میں بہتری لاتے ہیں۔
5. علامات کو نظر انداز نہ کریں:
اگر آپ محسوس کریں کہ بچہ اپنی عمر کے لحاظ سے بولنے، سیکھنے یا رویوں میں پیچھے ہے، تو اسے "سستی" سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ کسی ماہرِ نفسیات یا سپیشل ایجوکیشنسٹ سے مشورہ کریں کیونکہ بروقت مداخلت ہی بہترین حل ہے۔
اگر بچے میں مستقل طور پر ذہنی دباؤ ، پڑھائی پر توجہ نہ دینا , پریشان نظر آرہا ہے تو آپ اپنے قریبی ماہر نفسیات سے رابطہ کریں۔
آج ہی مشورہ کریں، کیونکہ آپ کا ایک فیصلہ بچے کی زندگی بدل سکتا ہے۔
رائزنگ لائف کلینیکل اینڈ کونسلنگ سروسز پاکستان۔

پتہ : الفارابی کالج آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز نزد بینک الفلاح شاداب موڑ، جھنگ روڈ، فیصل آباد۔
رجسٹریشن: 03007609681 | 03467757166



Address

Shadab Mor Jhang Road
Faisalabad

Telephone

+923467757166

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rising Life Clinical and Counseling Services Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Rising Life Clinical and Counseling Services Pakistan:

Share