Rising Life Clinical and Counseling Services Pakistan

Rising Life Clinical and Counseling Services Pakistan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Rising Life Clinical and Counseling Services Pakistan, Mental Health Service, Shadab Mor Jhang Road, Faisalabad.

We are providing following services
Psychological assessment
Psychotherapy and counsling
Familly counsling
Career counsling
Addiction Counsling
Child related psychological disorder
Learning Disorder
Speach related issues

سال کے اختتام پر اپنے دل میں شکرگزاری اور امید دونوں رکھیں۔ جو کچھ گزر گیا اسے سبق سمجھیں اور آنے والے دنوں کو نئی کامیا...
31/12/2025

سال کے اختتام پر اپنے دل میں شکرگزاری اور امید دونوں رکھیں۔ جو کچھ گزر گیا اسے سبق سمجھیں اور آنے والے دنوں کو نئی کامیابیوں، خوشیوں اور خوشگوار لمحات سے بھرپور بنانے کا عزم کریں۔ ہر دن ایک نیا موقع ہے اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کا۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ | سپیشل ایجوکیشنسٹ

31/12/2025

سپیشل نیڈ بچوں کے والدین کو کیا اور کتنا کرنا چاہیے؟

سپیشل نیڈ بچے کی پرورش صرف محبت سے نہیں بلکہ شعور، صبر اور درست حکمتِ عملی سے ممکن ہوتی ہے۔ والدین کا کردار اس سفر میں بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ بچے کی ذہنی، جذباتی اور تعلیمی نشوونما کا بڑا حصہ گھر کے ماحول سے جڑا ہوتا ہے۔
سب سے پہلے والدین کو بچے کی کیفیت (Diagnosis) کو حقیقت پسندانہ انداز میں قبول کرنا چاہیے۔ انکار، شرمندگی یا موازنہ نہ صرف والدین کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کرتا ہے بلکہ بچے کی ترقی کی رفتار کو بھی متاثر کرتا ہے۔ قبولیت ہی مؤثر مداخلت (Intervention)
کی پہلی سیڑھی ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ ماہرینِ نفسیات، اسپیچ تھراپسٹ، آکیوپیشنل تھراپسٹ اور اسپیشل ایجوکیٹرز کی رہنمائی کو سنجیدگی سے اپنائیں۔ تھراپی سیشنز صرف سینٹر تک محدود نہ رہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی انہی تکنیکوں کو مستقل مزاجی سے نافذ کیا جائے۔ یاد رکھیں، Consistency سپیشل نیڈ بچوں کی ترقی میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔
حد سے زیادہ تحفظ (Overprotection) بچے کی خود مختاری میں رکاوٹ بنتا ہے۔ والدین کا کام یہ نہیں کہ ہر کام خود کریں بلکہ بچے کو اس کی صلاحیت کے مطابق سیکھنے، کوشش کرنے اور غلطی کرنے کا موقع دیں۔ چھوٹی چھوٹی کامیابیاں وقت کے ساتھ بڑی پیش رفت میں بدلتی ہیں۔
جذباتی طور پر والدین کا پُرسکون اور مثبت ہونا نہایت ضروری ہے۔ بچے والدین کے الفاظ سے زیادہ ان کے رویّوں سے سیکھتے ہیں۔ چیخنا، مایوسی کا اظہار یا موازنہ بچے کی خود اعتمادی کو کمزور کرتا ہے، جبکہ حوصلہ افزائی اور مثبت فیڈبیک بچے کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ والدین اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھیں۔ تھکے ہوئے، دباؤ میں مبتلا والدین بچے کی مؤثر رہنمائی نہیں کر سکتے۔ سپورٹ گروپس، مشاورت اور وقفہ لینا کسی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ ذمہ دار والدین ہونے کا ثبوت ہے۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سپیشل نیڈ بچے کی ترقی ایک دوڑ نہیں بلکہ ایک سفر ہے۔ ہر بچہ اپنی رفتار سے سیکھتا ہے۔ والدین کا کام رفتار طے کرنا نہیں بلکہ صحیح سمت فراہم کرنا ہے۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
سپیشل ایجوکیشنسٹ

انسان کی ذہنی صحت کا تعلق اس بات سے براہِ راست ہے کہ وہ اپنے خیالات، جذبات اور مسائل کو کس حد تک کسی کے ساتھ شیئر کر سکت...
31/12/2025

انسان کی ذہنی صحت کا تعلق اس بات سے براہِ راست ہے کہ وہ اپنے خیالات، جذبات اور مسائل کو کس حد تک کسی کے ساتھ شیئر کر سکتا ہے۔ جب کوئی فرد اپنے مسائل اور اندرونی جذبات کو بیان کرنے کے لیے کسی قابلِ اعتماد شخص یا ماہر نفسیات تک رسائی نہ رکھے، تو وہ اندرونی دباؤ اور تنہائی کے سبب ذہنی توازن کھو بیٹھتا ہے۔ ایسے حالات میں انسان کی نفسیاتی صحت متاثر ہوتی ہے اور وہ جزوی طور پر ذہنی الجھن یا ‘آدھی دیوانگی’ کا شکار ہو سکتا ہے۔ باقاعدہ سپورٹ، سننے والا ماحول، اور جذباتی ریلیف کی موجودگی سے ذہنی سکون اور توازن برقرار رہتا ہے۔"
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ | سپیشل ایجوکیشنسٹ
ذہنی_صحت #تنہائی

30/12/2025

رشتے ہماری زندگی میں خوشی اور سکون کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، اس لیے انہیں مضبوط رکھنا بہت ضروری ہے۔ رشتوں کو مضبوط بنانے کے لیے سب سے پہلے ایک دوسرے سے کھل کر بات کریں اور اپنے جذبات کا اظہار کریں، چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل میں نہ رکھیں۔ ایک دوسرے کے لیے وقت نکالیں، چاہے وہ ساتھ کھانا کھانا ہو یا معمولی باتیں کرنا۔ ایک دوسرے پر اعتماد رکھیں، وعدے پورے کریں اور ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کریں۔ دوسروں کے جذبات اور سوچ کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اختلافات کو تنقید کے بجائے محبت اور سمجھ بوجھ سے حل کریں۔ ایک دوسرے کی اچھائیوں کی تعریف کریں اور محبت، توجہ اور ہمدردی دیں۔ مسائل آئیں تو انہیں مل کر حل کریں اور صبر و برداشت سے کام لیں۔ ہنسی مذاق اور خوشگوار ماحول بھی رشتوں کو مضبوط بناتا ہے۔ مجموعی طور پر، محبت، اعتماد، وقت، ہمدردی اور صبر رشتوں کی ڈور کو مضبوط اور دیرپا بناتے ہیں۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
سپیشل ایجو کیشنسٹ
#رشتے #محبت #اعتماد #خاندان #ہمدردی #صبر #خوشی

29/12/2025
29/12/2025
انگزائٹی (Anxiety) ایک نفسیاتی کیفیت ہے جس میں انسان غیر ضروری خوف، فکر اور تناؤ محسوس کرتا ہے۔ یہ صرف عارضی فکر یا دباؤ...
28/12/2025

انگزائٹی (Anxiety) ایک نفسیاتی کیفیت ہے جس میں انسان غیر ضروری خوف، فکر اور تناؤ محسوس کرتا ہے۔ یہ صرف عارضی فکر یا دباؤ نہیں بلکہ مستقل اور شدید ہوتا ہے جو روزمرہ زندگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ انگزائٹی کی کئی اقسام ہیں: جنرلائزڈ انگزائٹی ڈس آرڈر (GAD) میں انسان معمولی باتوں پر بھی ضرورت سے زیادہ فکر کرتا ہے اور یہ فکر دن بھر برقرار رہتی ہے۔ پینک ڈس آرڈر میں اچانک شدید خوف یا دہشت کا احساس پیدا ہوتا ہے جسے پینک اٹیک کہا جاتا ہے، اس دوران دل کی دھڑکن تیز، سانس لینے میں دشواری اور پسینہ آنا معمول بن جاتے ہیں۔ سوشیل انگزائٹی ڈس آرڈر میں انسان دوسروں کے سامنے بات کرنے یا موجود ہونے میں خوف محسوس کرتا ہے اور عوامی جگہوں پر خود کو کم تر سمجھتا ہے۔ فوبیا کسی مخصوص چیز یا صورتحال جیسے اونچائی، سانپ یا اندھیرے سے غیر معقول لیکن شدید خوف کی حالت ہے جو زندگی محدود کر سکتی ہے۔ او سی ڈی (OCD) میں بار بار غیر ضروری خیالات دماغ میں آتے ہیں اور ان خیالات کو دور کرنے کے لیے مخصوص اعمال انجام دیے جاتے ہیں، جیسے بار بار ہاتھ دھونا یا چیزیں ترتیب دینا۔ انگزائٹی ایک عام لیکن سنجیدہ مسئلہ ہے، جس کا بروقت علاج اور ذہنی سپورٹ انسان کی زندگی میں بہتری لا سکتا ہے۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
سپیشل ایجو کیشنسٹ

28/12/2025

Thank you for joining our page! We’re thrilled to have you here. This is a space where we share valuable insights, tips, updates, and inspiration to help you grow, connect, and stay informed.

Feel free to engage, ask questions, share your thoughts, and be part of our growing community. Your presence makes this space even more meaningful!

Let’s embark on this journey together. 💙

28/12/2025

بچوں میں نفسیاتی مسائل ایک خاموش حقیقت ہیں جنہیں اکثر والدین ضد، لاڈ یا نافرمانی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ بچہ اپنے رویّے کے ذریعے دراصل اپنی اندرونی الجھن، خوف یا تکلیف کا اظہار کر رہا ہوتا ہے۔ اگر بچہ بار بار غصہ کرے، تنہا رہنے لگے، پڑھائی میں اچانک پیچھے چلا جائے، بات بات پر روئے، حد سے زیادہ ڈرنے لگے، یا دوسروں سے میل جول سے کترانے لگے تو یہ محض عادت نہیں بلکہ کسی نفسیاتی مسئلے کی علامت ہو سکتی ہے۔ والدین کا رویّہ بچے کی ذہنی صحت میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے؛ والدین کے جھگڑے، سختی، مسلسل ڈانٹ، توجہ کی کمی، موازنہ کرنا یا حد سے زیادہ توقعات بچے کے ذہن پر گہرے منفی اثرات چھوڑتی ہیں۔ ایسے بچوں کو سزا کی نہیں بلکہ سمجھنے، سننے اور تحفظ کے احساس کی ضرورت ہوتی ہے۔ بروقت تشخیص اور ماہرِ نفسیات، اسپیچ یا بیہیویئر تھراپسٹ سے رجوع کرنے سے نہ صرف بچے کی مشکل کم ہو سکتی ہے بلکہ اس کی شخصیت، اعتماد اور مستقبل بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ یاد رکھیں، ذہنی مسئلہ کسی کی کمزوری نہیں ہوتا اور نہ ہی والدین کی ناکامی، بلکہ یہ ایک قابلِ علاج کیفیت ہے؛ والدین کی آگہی، صبر اور مثبت تعاون ہی بچے کو صحت مند ذہنی زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
اسپیشل ایجو کیشنسٹ









بچوں میں نفسیاتی مسائل ان کی ذہنی، جذباتی اور سماجی نشوونما کو گہرے طور پر متاثر کرتے ہیں، مگر اکثر انہیں ضد، لاپرواہی ی...
28/12/2025

بچوں میں نفسیاتی مسائل ان کی ذہنی، جذباتی اور سماجی نشوونما کو گہرے طور پر متاثر کرتے ہیں، مگر اکثر انہیں ضد، لاپرواہی یا نافرمانی سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اضطراب (Anxiety) اور ڈپریشن جیسے مسائل بچوں میں بھی پائے جاتے ہیں، جن کی وجہ سے بچہ بلاوجہ خوف، گھبراہٹ، اداسی، چڑچڑے پن اور تنہائی کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ ایسے بچے اسکول جانے سے کتراتے ہیں، دوسروں سے بات کرنے میں جھجھک محسوس کرتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کے باوجود خود کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں، جو ان کے اعتماد اور سیکھنے کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔
اسی طرح توجہ کی کمی اور حد سے زیادہ حرکت (ADHD) ایک عام مگر غلط سمجھے جانے والا مسئلہ ہے۔ اس میں بچہ ایک جگہ بیٹھ نہیں پاتا، بات مکمل ہونے سے پہلے بول پڑتا ہے اور ہدایات پر عمل کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے، جسے اکثر بدتمیزی یا شرارت سمجھ لیا جاتا ہے۔ جبکہ آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر (ASD) میں بچے کی سماجی بات چیت، زبان اور رویّوں میں فرق نظر آتا ہے، جیسے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہ کرنا، الفاظ کا محدود استعمال یا ایک ہی عمل کو بار بار دہرانا۔ یہ مسائل ذہانت کی کمی نہیں بلکہ دماغی نشوونما کے فرق کی علامت ہوتے ہیں۔
کئی بچے سیکھنے کے مسائل اور اسپیچ یا لینگویج ڈیلے کا شکار بھی ہوتے ہیں، جس کے باعث پڑھنے، لکھنے، بولنے یا حساب کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ اس کے علاوہ جذباتی کنٹرول کے مسائل، رویّوں کی خرابی، کم خود اعتمادی اور سماجی مہارتوں کی کمی بھی بچوں کی شخصیت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ بعض اوقات صدمے (Trauma) جیسے تشدد، حادثات، والدین کی علیحدگی یا نظر انداز کیے جانے کے تجربات بچوں میں خوف، خاموشی، غصے اور نیند کے مسائل پیدا کر دیتے ہیں۔ ان تمام نفسیاتی مسائل کا بروقت ادراک، والدین کی آگہی، مثبت رویّہ اور ماہرین سے مدد ہی بچوں کو ایک صحت مند، پُراعتماد اور بہتر مستقبل کی طرف لے جا سکتی ہے۔
علی شیر رجوکہ
کلینیکل سائیکالوجسٹ
اسپیشل ایجوکیشنسٹ
















Address

Shadab Mor Jhang Road
Faisalabad

Telephone

+923467757166

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rising Life Clinical and Counseling Services Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Rising Life Clinical and Counseling Services Pakistan:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram