11/02/2026
خاموش ٹوٹ پھوٹ بکھرے ذہن
وہ ایک تعلیم یافتہ لڑکی تھی اس کے خواب ، اس کی پہچان اور اس کی امیدیں سب ایک نئی زندگی کے ساتھ وابستہ ہونے کو پر امید تھیں۔ اس کی شادی اس کے کزن کے ساتھ اس کی پسند سے کر دی گئ۔ وہ لڑکا ڈاکٹر تھا اور بظاہر یہ ایک محفوظ اور با وقار رشتہ تھا۔ لیکن وہ کہتے ہیں نا راہ پیا جانے یا واہ پیا جانے۔ ادھر بھی شادی کہ بعد اصل رنگ نمایاں ہونے لگے۔ اس لڑکے کا ایک نرس کے ساتھ جزباتی تعلق تھا اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ عہد وفا کر چکے تھے۔ لیکن لڑکے نے خاندانی دباؤ میں اپنی کزن سے بھی شادی کر لی سب کا خیال تھا وقتی تعلق ہے خود ہی بھول جائیں گے جیسا ہمارے معاشرے میں لڑکے کو چھوٹ دی جاتی ہے اس نے بھی اپنی شریک حیات کو اسے بھول جانے کو وعدہ دیا لیکن وفا نا کر سکا اور اس لڑکی کی ساتھ بھی تعلق قائم رکھا اور دونوں ہی ایک دوسرے سے دور جانے کو قبول نہی کر پا رہے تھے۔ آخر کار انہوں نے بھی ایک ہونے کا فیصلہ کیا اور لڑکے نے واضح کہہ دیا کہ میں اس لڑکی سے بھی شادی کروں گا۔ اس کا یہ فیصلہ اس کی بیوی پر ایک نفسیاتی تشدد سے کم نہی تھا۔
لڑکے کی یہ الفاظ کہ میں دونوں کو ایک ساتھ رکھوں گا ایک گھر میں الگ الگ پورشن میں میں دوسری شادی کروں گا۔ مرد کو شاید شرعی اور معاشرتی حق اس لڑکے کو موجود تھے لیکن ایک لڑکی ایک بیوی کیلیے یہ جملے اس کی عزت، شناخت، خودی اور اعتماد پر کاری ضرب تھے۔
وہ ایک خود اعتماد اور اڑان بھرتی ہوئی لڑکی ٹوٹ گئ ۔
یہ ایک جسمانی نہی ذہنی شکست کا سبب تھا۔ وہ لڑکی سب چھوڑ کر اپنے والدین کہ گھر واپس آگئ۔ بھر تو بدل لیا لیکن اس کی نفسیاتی اذیت نہی بدل پائی۔ مسلسل رونا، دل گھبرانا، دھڑکن کا تیز ہو جانا، پسینہ آنا اور نیند نا آنا جیسے مسائل کہ ساتھ اس کہ دن رات میں ڈھلنے لگے۔ اسے نفسیاتی اصطلاح میں پینک اٹیک (panic attack) کہتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا وہ خود۔ وہ لڑکا ، اس کا خاندان اور یہ معاشرتی اسے اس حالت سے واپس لا پائے گا یا اس کی مزید گہری حالت جسے ڈپریشن (Depression ) کہتے ہیں تک لے جائیں گے۔
اصل مسلہ محبت یا بے وفائی کا نہی ہے۔ یہ اس سے بڑھ کر
Emotional Betrayal
Gaslighting (وعدے کر کے توڑنا)
Forced Compromise
Polygamy without consent
Psychological Abuse
اور سب سے خطرناک
عورت کو choice نہ دینا ہے۔
کیا ایک لڑکی کا صرف تعلیم یافتہ ہونا اس کی ذہنی صحت کا ضامن ہوتا ہے؟
کیا خاندان محض رشتی بچانے کی غرض سے لڑکیوں کی ذہنی صحت سے کھیل جائیں ایک مناسب طرز عمل ہے
کیا مرد کی خواہش کو ہمیشہ معتبر اور حل تصور کیا جائے گا؟
یہ سوال ہم سب کیلیے اور معاشرے کیلیے ہیں.
حل
یہاں سب سے بڑھ کر سب سے پہلے فوکس اس لڑکی کی حالت پر دینا چاہیے۔
اسے جلد کسی clinical psychologist سے رجوع کرنا چاہیے
فیملی کو ساری نصیحتوں اور کمپرومائز سکھانے کی بجائے اس کے ساتھ کھڑے ہو کر اسے اس کی اہمیت کا اور اپنی محبت کا اظہار احساس دلانا چاہیے
لڑکی کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ کمزور نہی مظلوم ہے۔
یاد رکھیے۔ کچھ رشتوں کے ٹوٹنے سے نہی ان کو نبھانے کی دباؤ سے انسان ٹوٹ جاتا ہے۔
ذہنی صحت کوئی عیش نہی یہ وجود کے بقا کی ضمانت ہے
Psychology with Aftab Ahmad