Homeopathic Doctor Khan

Homeopathic Doctor Khan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Homeopathic Doctor Khan, Doctor, Faisalabad.

ADONIS VERNALIS Q
28/11/2025

ADONIS VERNALIS Q

ملک پور کا قیامت خیز سانحہ: جب ’ان اسٹاپ ایبل‘ موت نے فیصل آباد کو ’مِنی بھوپال‘ بنا دیا! - بلال شوکت آزاد2010 میں ہالی ...
23/11/2025

ملک پور کا قیامت خیز سانحہ: جب ’ان اسٹاپ ایبل‘ موت نے فیصل آباد کو ’مِنی بھوپال‘ بنا دیا! - بلال شوکت آزاد

2010 میں ہالی وڈ کی ایک فلم آئی تھی، "Unstoppable" (ان اسٹاپ ایبل)۔ یہ فلم ایک حقیقی واقعے پر مبنی تھی جس میں ایک گڈز ٹرین (مال بردار گاڑی)، انسانی غلطی کی وجہ سے بغیر ڈرائیور کے، فل تھروٹل (Full Speed) پر پنسلوانیا کے شہروں کی طرف دوڑ پڑتی ہے۔

اس ٹرین کے ڈبوں میں عام سامان نہیں تھا، بلکہ اس میں انتہائی خطرناک کیمیکلز، جن میں "مولٹن فینول" (Molten Phenol) اور دیگر آتش گیر مادہ بھرا ہوا تھا، موجود تھے۔

یہ ٹرین ایک چلتا پھرتا ایٹم بم بن چکی تھی جو اگر کسی آبادی والے علاقے میں ڈی-ریل (Derail) ہو جاتی تو لاکھوں جانیں جاتیں۔

لیکن وہاں کیا ہوا؟

وہاں کا "سسٹم" حرکت میں آیا۔ وہاں کی ریلوے انتظامیہ، وہاں کے سیفٹی ماہرین، وہاں کی پولیس اور وہاں کے عام شہریوں نے مل کر اپنی جان پر کھیل کر اس "ان اسٹاپ ایبل" موت کو روکا۔

انہوں نے یہ نہیں کہا کہ

"جو قسمت میں لکھا تھا وہ ہوگا"،

انہوں نے یہ نہیں کہا کہ

"یہ اللہ کی مرضی تھی"۔

انہوں نے سائنس، ٹیکنالوجی، اور "رسک مینجمنٹ" (Risk Management) کا استعمال کرتے ہوئے اس تباہی کا راستہ روکا۔

یہ ایک ترقی یافتہ قوم کا رویہ تھا جہاں انسانی جان کی قیمت "کارپوریٹ منافع" سے زیادہ تھی۔

مگر آج، جب میں قلم اٹھا رہا ہوں، تو میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے کیونکہ میرے سامنے اسکرین پر کوئی فلم نہیں چل رہی، بلکہ میرے اپنے ملک، پاکستان کے شہر فیصل آباد (ملک پور) کی وہ لرزہ خیز حقیقت ہے جہاں "موت کی ٹرین" کو روکا نہیں گیا، بلکہ اسے آبادی کے عین درمیان لا کر دھماکے سے اڑا دیا گیا۔

کل صبحِ کاذب کے وقت، جب ملک پور کے مکین ابھی اپنی نیند پوری کر رہے تھے، وہاں مبینہ طور پر ایک غیر قانونی، رہائشی علاقے میں قائم "گلیو" (Glue) بنانے والی فیکٹری کے بوائلرز پھٹنے سے جو قیامت برپا ہوئی، وہ کوئی "حادثہ" (Accident) نہیں تھا؛ وہ ایک منظم، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا "قتلِ عام" تھا۔

مبینہ طور پر سو (100) کے قریب لاشیں، درجنوں منہدم گھر، فضا میں پھیلا زہریلا دھواں اور کیمیکلز کی بو اور ملبے تلے دبی انسانیت, یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ہاں "ان اسٹاپ ایبل" صرف موت ہے، اور اسے روکنے والا "سسٹم" خود اس ٹرین کا ڈرائیور بنا بیٹھا ہے۔

فیصل آباد کے اس سانحے کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ کے اوراق الٹ کر 1984 کے بھارت جانا ہوگا، جہاں "بھوپال گیس سانحہ" پیش آیا تھا۔

یونین کاربائیڈ کی فیکٹری سے "متھائل آئسوسائینیٹ" (Methyl Isocyanate) گیس لیک ہوئی اور راتوں رات ہزاروں لوگ اپنی نیند میں ہی ابدی نیند سو گئے۔

وہاں بھی یہی ہوا تھا, فیکٹری انتظامیہ نے چھوٹے چھوٹے "وارننگ سائنز" (Warning Signs) کو نظر انداز کیا تھا، سیفٹی سسٹمز کو غیر فعال کیا تھا، اور لاگت بچانے کے لیے انسانی جانوں کو داؤ پر لگایا تھا۔

فیصل آباد کا یہ سانحہ، بھوپال کا ایک "منی ورژن" (Mini Version) ہے۔

اہلِ علاقہ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ دھماکے سے کئی دن پہلے، بلکہ مہینوں سے فضا میں "گلیو" اور کیمیکلز کی شدید بو پھیلی رہتی تھی۔

یہ بو کیا تھی؟

یہ وہ "وسل" (Whistle) تھی جو وہ بوائلرز پھٹنے سے پہلے بجا رہے تھے، یہ وہ "الارم" تھا جو قدرت دے رہی تھی کہ یہاں کچھ بہت برا ہونے والا ہے۔

لیکن ہمارے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (EPA)، ہماری لیبر ڈیپارٹمنٹ، اور ہماری ضلعی انتظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔

کیوں؟

کیونکہ یہاں انسانی جان کی قیمت اس "لفافے" سے کم ہے جو فیکٹری کا مالک ہر مہینے "کسی نا کسی عہدیدار" کی جیب میں ڈالتا ہوگا۔

بھوپال میں گیس لیک ہوئی تھی، یہاں بوائلر پھٹے ہیں اور کیمیکل پھیلا ہے, نتیجہ دونوں کا ایک ہی ہے: غریب، بے گناہ عوام کا قتل۔

میں یہ سب کوئی جذباتی صحافی بن کر نہیں لکھ رہا، بلکہ ایک "ہیلتھ سیفٹی انوائرنمنٹ" (HSE) سرٹیفائیڈ پروفیشنل کے طور پر لکھ رہا ہوں جس نے موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

مجھے 2010 کی وہ ہولناک رات آج بھی یاد ہے جب میں فاطمہ فرٹیلائزر میں ڈیوٹی پر تھا۔ رات کا وقت تھا، اور ہم کل ملا کر صرف پانچ "سیفٹی آفیسرز" (دو مختلف کمپنیز اور کلائنٹ مطلب فاطمہ والوں کی سیفٹی سمیت) ڈیوٹی پر موجود تھے۔

اچانک "کیلشیم امونیم نائٹریٹ" (CAN) پلانٹ کے ایک "ٹی ٹی" (Transfer Tower) پر الیکٹرک شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ بھڑک اٹھی۔

جو لوگ کیمیکل انڈسٹری کو جانتے ہیں، وہ واقف ہیں کہ کھاد کی فیکٹری (Fertilizer Plant) درحقیقت ایک "ٹائم بم" ہوتی ہے۔

وہاں جابجا گیس چیمبرز، امونیا کے ٹینکس، نائٹرک ایسڈ کے پائپ لائنز اور ہائی پریشر بوائلرز کا ایک جال بچھا ہوتا ہے۔

اگر وہ آگ نہ بجھائی جاتی، تو وہ آگ صرف اس پلانٹ تک محدود نہ رہتی؛ وہ پورے کمپلیکس کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی اور تباہی کا دائرہ کئی کلومیٹرز تک پھیل جاتا۔

ہم پانچ لوگوں نے، اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر، فائر فائٹنگ گیئر پہن کر، اس آگ کے منہ میں چھلانگ لگا دی۔ ہم نے وہ جنگ لڑی جو شاید ہماری نوکری کا حصہ تھی، مگر اس رات وہ ہماری بقا کی جنگ بن گئی۔ اللہ کا کرم ہوا، ہم نے آگ پر قابو پا لیا۔

لیکن اصل المیہ آگ بجھنے کے بعد شروع ہوا۔ وہ واقعہ، جو ایک بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتا تھا، اسے ایسے دبا دیا گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ انتظامیہ نے اس "نیئر مس" (Near Miss) کو ریکارڈ پر لانے سے گریز کیا، کیونکہ اگر یہ خبر باہر نکلتی یا بین الاقوامی آڈیٹرز کو پتا چلتی، تو کمپنی کی سیفٹی ریٹنگ گر جاتی، سرٹیفیکیشنز منسوخ ہو جاتیں اور آپریشنز میں رکاوٹ آتی۔

مجھے تب پہلی بار اندازہ ہوا کہ پاکستان میں "سیفٹی" کا مطلب جان بچانا نہیں، بلکہ "حادثے کو چھپانا" ہے۔

بیرونِ ملک، ایک "نیئر مس" (ایسا حادثہ جو ہوتے ہوتے رہ جائے) پر پوری انکوائری بیٹھتی ہے، نیندیں اڑ جاتی ہیں، اور سسٹم کو ری-ڈیزائن (Re-design) کیا جاتا ہے۔

لیکن یہاں؟

یہاں جب تک سو لاشیں نہ گر جائیں، اسے "حادثہ" ہی نہیں مانا جاتا۔

فیصل آباد کا سانحہ اسی "کور اپ کلچر" (Cover-up Culture) کی تازہ ترین قسط ہے۔

اب آئیے فیصل آباد کے واقعے کی تکنیکی تفصیلات کی طرف۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ فیکٹری "گلیو" (Glue) بناتی تھی۔

گلیو بنانے کے عمل میں جو کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں، ان میں "ٹولیون" (Toluene)، "ایسیٹون" (Acetone)، اور مختلف "ریزنز" (Resins) شامل ہوتے ہیں۔

یہ تمام کیمیکلز انتہائی "آتش گیر" (Highly Flammable) اور "واولیٹائل" (Volatile) ہوتے ہیں۔

ان کے بخارات (Fumes) اگر ہوا میں ایک خاص تناسب سے جمع ہو جائیں تو ایک چھوٹی سی چنگاری بھی "ویپر کلاؤڈ ایکسپلوزن" (V***r Cloud Explosion) کا باعث بن سکتی ہے۔

موصولہ رپورٹس کے مطابق، بوائلرز پے در پے پھٹے۔

ایک بوائلر (Boiler) کبھی بھی اچانک نہیں پھٹتا۔ بوائلر ایک پریشر ویسل (Pressure Vessel) ہے۔ اس کے پھٹنے کے پیچھے ہمیشہ ایک طویل غفلت کی داستان ہوتی ہے۔

* سیفٹی والوز کی ناکامی: ہر بوائلر پر "سیفٹی ریلیف والوز" (SRVs) لگے ہوتے ہیں جو دباؤ بڑھنے پر خود بخود کھل جاتے ہیں۔ اگر بوائلر پھٹا، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ والوز یا تو خراب تھے، یا انہیں جان بوجھ کر "بائی پاس" (Bypass) یا "بلاک" کیا گیا تھا تاکہ پیداوار نہ رکے۔

* واٹر لیول فیلیئر: اگر بوائلر میں پانی کی سطح کم ہو جائے اور آگ جلتی رہے، تو دھات کمزور ہو کر پھٹ جاتی ہے۔ یہ آٹومیٹک کٹ-آف سسٹم کی ناکامی ہے۔

* کیمیکل ری ایکشن: گلیو فیکٹری میں اگر کیمیکل سٹوریج ٹینکس بوائلر کے قریب تھے (جو کہ ایسی غیر قانونی فیکٹریوں میں عام ہے کیونکہ جگہ کم ہوتی ہے)، تو بوائلر کی گرمی نے ان کیمیکلز کو بھڑکا دیا ہوگا، جس نے واپس بوائلر کو ہٹ کیا ہوگا۔

اہل علاقہ کا یہ دعویٰ کہ فیکٹری "ریزیڈنشل ایریا" میں تھی، اس پورے سانحے کی ایف آئی آر اس "زوننگ اتھارٹی" اور "ڈسٹرکٹ گورنمنٹ" کے خلاف کاٹنے کے لیے کافی ہے۔

ایک گلیو فیکٹری، جو کہ ایک "ہائی ہیزرڈ" (High Hazard) یونٹ ہے، وہ گھروں کے بیچ میں کیسے چل رہی تھی؟

کیا لوکل گوذنمنٹ اور ایف ڈی اے (FDA) اندھے تھے؟

یا نوٹوں کی چمک اور فیکٹری مالک کے اثر و رسوخ نے انہیں اندھا کر دیا تھا؟

اس وقت فیصل آباد کی انتظامیہ اور پولیس وہی کر رہی ہے جو وہ ہمیشہ کرتی ہے:

"کور اپ" (Cover-up)۔

بیانات آ رہے ہیں کہ "شارٹ سرکٹ ہوا"، "سلنڈر پھٹ گیا"، یا "قضا و قدر کا لکھا"۔

یہ جھوٹ ہے!
یہ سفید جھوٹ ہے!

سو لاشیں کسی شارٹ سرکٹ سے نہیں گرتیں۔ یہ ایک "انڈسٹریل ڈیزاسٹر" ہے جسے "حادثے" کا نام دے کر فائلوں میں دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پولیس کی اولین ترجیح ملبے تلے دبے لوگوں کو اپنی نگرانی میں نکالنا نہیں، بلکہ فیکٹری کے مالک کو فرار کروانا یا اسے "محفوظ مقام" پر منتقل کرنا ہوتی ہے تاکہ عوام کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے۔

ریسکیو 1122 کے جوان اپنی جان پر کھیل رہے ہیں، مگر ان کے پاس "کیمیکل ڈیزاسٹر" سے نمٹنے کا سامان (Hazmat Suits) ہی نہیں ہے۔ وہ سادہ وردیوں میں زہریلی گیسوں کے درمیان کام کر رہے ہیں، جو کہ بذاتِ خود ایک اور سانحہ ہے۔

ہسپتالوں میں "برن یونٹس" (Burn Units) کی کمی ایک بار پھر عیاں ہو گئی ہے۔ کیمیکل برنز (Chemical Burns) عام آگ کے زخموں سے مختلف ہوتے ہیں؛ ان کے لیے مخصوص "اینٹی ڈوٹس" اور ٹریٹمنٹ پروٹوکولز چاہیے ہوتے ہیں، جو ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ ڈاکٹرز کے پاس گلوکوز کی ڈرپس کے سوا لگانے کو کچھ نہیں، اور لوگ تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں۔

بطور ایک صحافی, لکھاری و تجزیہ نگار اور HSE پروفیشنل، میں اس سانحے کی ذمہ داری "قسمت" پر نہیں، بلکہ ان زندہ انسانوں پر ڈالتا ہوں جو اصل مجرم ہیں:

* فیکٹری مالک: جس نے رہائشی علاقے میں بارود کا ڈھیر لگایا، بوائلرز کی انسپکشن نہیں کروائی، سیفٹی سینسرز کو بائی پاس کیا، اور مزدوروں (بشمول ممکنہ چائلڈ لیبر) کو بغیر کسی حفاظتی تدابیر کے موت کے منہ میں دھکیلا۔

* بوائلر انسپکٹر: وہ افسر جس کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس بوائلر کو سالانہ چیک کرتا اور سرٹیفکیٹ دیتا۔ اگر سرٹیفکیٹ تھا، تو وہ جعلی تھا؛ اور اگر نہیں تھا، تو فیکٹری چل کیوں رہی تھی؟

* ماحولیاتی تحفظ کا محکمہ (EPA): وہ ادارہ جسے "بو" سونگھنی چاہیے تھی مگر وہ "اثر و رسوخ کے تحت مفادات" سونگھنے میں مصروف رہا۔

* ضلعی انتظامیہ و پولیس: جنہوں نے "اثر و رسوخ" کی بنیاد پر اس غیر قانونی فیکٹری کو چلنے دیا۔ وہ بھتہ لیتے رہے، اور آج وہ بھتہ "خون بہا" کی صورت میں عوام ادا کر رہے ہیں۔

فیصل آباد کی فضا میں پھیلی ہوئی گلیو کی وہ بو، اب جلی دبی ہوئی لاشوں کی بو میں تبدیل ہو چکی ہے۔

یہ بو صرف ملک پور تک محدود نہیں رہے گی؛ یہ اسلام آباد کے ایوانوں، لاہور کے سیکرٹریٹ اور ہماری عدلیہ کے بند کمروں تک جانی چاہیے۔

ہم ماضی کے ایسے واقعات کی طرح اس سانحے کو "ریکارڈ" سے غائب نہیں ہونے دیں گے۔

ہم اسے "بھوپال" کی طرح یاد رکھیں گے، لیکن ایک فرق کے ساتھ, بھوپال میں انصاف نہیں ملا تھا، لیکن یہاں ہم انصاف چھین کر لیں گے۔

اگر آج ہم خاموش رہے، اگر ہم نے اسے "اللہ کی مرضی" کہہ کر صبر کر لیا، تو یاد رکھیں، اگلا دھماکہ آپ کے محلے میں، آپ کے گھر کے ساتھ والی اس "چھوٹی سی فیکٹری" میں ہوگا جسے آپ روز نظر انداز کر کے گزر جاتے ہیں۔

یہ سو لوگ مرے نہیں ہیں، انہیں قتل کیا گیا ہے۔ اور اس قتل کا مقدمہ اس پورے کرپٹ، فرسودہ اور قاتل نظام کے خلاف درج ہونا چاہیے۔



#آزادیات

#بلال #شوکت #آزاد
Copied

ہمارے ہاں عموما چینی کو برا جبکہ شکر گڑ شہد کو اچھا سمجھا جاتا ہے۔ چلیں آج ان سب کی نیوٹریشن ویلیو دیکھتے ہیںاور دیکھتے ...
27/10/2025

ہمارے ہاں عموما چینی کو برا
جبکہ شکر گڑ شہد کو اچھا سمجھا جاتا ہے۔
چلیں آج ان سب کی نیوٹریشن ویلیو دیکھتے ہیں
اور دیکھتے ہیں کہ ہمارے لئے سب سے بہتر کیا ہے۔
چلیں چینی سے شروع کرتے ہیں
فیس بک اور باقی سوشل میڈیا پر چینی کو کوکین سے برا اور زہر بتایا جاتا ہے۔
سب سے زیادہ ہر جگہ چینی ہی استعمال ہوتی ہے
بہت ہی زیادہ پراسیس ہوا ایک میٹھا جو گنے سے ہی بنتا ہے
اس کا گلائمکس انڈیکس 65 سے 70 تک ہوتا ہے۔
کیلوریز کی بات کریں تو 390 کیلوریز ایک سو گرام چینی سے ہمیں ملتی ہیں
کوئی خاص نیوٹریشن یا منرلز نہیں۔ بس اچانک سے پیور انرجی بوسٹ

2- شکر یا گڑ
جو لوگ چینی کو ولن بناتے ہیں وہی شکر یا گڑ کو مہان سمجھتے ہیں اور اسے ہیلتھی سمجھتے ہیں
اس میں بہت ہی کم مقدار میں آئرن اور پوٹاشیم پایا جاتا ہے۔
اگر گلائسمکس انڈیکس کی بات کریں تو 70 سے 84 تک جاتا ہے۔ یعنی یہ چینی سے کہیں زیادہ بلڈ شوگر کو سپائک دیتا ہے۔
اگر کیلوریز کی بات کریں تو 380 کیلوریز 100 گرام شکر سے ملتی ہیں
اور رہی بات پراسیس کی تو بہت سے لوگ اسے گورا چٹا کرنے کے لئے نہ جانے کیا کیا ملاتے ہیں۔ اس کا درست ڈیٹا بھی موجود نہیں۔

3- شہد
میرا اور آپ سب کا پسندیدہ
حکیموں کے نزدیک یہ بلاشک و شبہ شوگر کے مریض کھا سکتے ہیں۔
لیکن ہم اسے بھی چیک کرتے ہیں
مکھی نے ہی پراسیس کیا
بہت شاندار اینٹی آکسیڈین
پیٹ کے لئے بہت شاندار چیز

گلائمیکس انڈیکس 45-69 تک

کیلوریز کی بات کریں تو 240 سے 330 تک ایک سو گرام میں
شہد کی قسم کے حساب سے کیلوریز ہوتی ہیں
4- کھجور
ایک مکمل پھل
زیرو پراسیس
آئرن اور فائبر سے بھرپور
انتڑیوں کے لئے شاندار
گلائمیکس انڈیکس صرف 40-55 تک
کھجور کی قسم کے حساب سے ہی انڈیکس ہوتا ہے۔
اگر کیلوریز کی بات کریں تو 315 کیلوریز / سو گرام
تو اس ساری تفصیل کا اگر نچوڑ نکالیں تو چینی چھوڑ کے باقی چیزیں استعمال کرنے سے آپ کی کیلوریز کو کچھ خاص فرق پڑنے والا نہیں۔ نہ ہی چینی ولن اور باقی چیزیں دوست ہوں گی۔
لیکن ایک بہتر چوائس شہد اور کھجور ہو سکتی ہے پر وہ بھی لمٹ میں رہ کے۔
یعنی ایک دن میں تین کھجوریں ہی کافی ہیں۔
اگر چینی استعمال کرنی ہو تو بھی سارے دن میں دو چمچ کافی ہیں

چلیں اب بات کرتے ہیں کہ اگر شوگر کے مریض ہیں اور میٹھا نہیں چھوڑ سکتے تو سٹیو یا یا پھر مونک فروٹ پاؤڈر کے استعمال کا
اٹیویا وور مونک فروٹ دونوں ہی زیرو کیلوریز ہیں
آٹو یا چینی سے دو سو گنا میٹھا ہوتا ہے۔
جہاں چینی کا ایک چمچ درکار ہوتا ہے وہیں سٹو یا کی ایک چٹکی کافی رہتی ہے
لیکن اس میں ایک برائی ہے کہ یہ بعد میں کڑواہٹ لاتا ہے
پاؤڈر استعمال کریں یا پتے۔ مرضی آپ کی
وہیں مونک فروٹ کی بات کریں تو یہ تین سو گنا تک زیادہ مٹھاس دیتا ہے۔
اور استعمال کے بعد بھی مٹھاس بحرحال موجود رہتی ہے
یہ سویٹنر کے طور پر استعمال کئے جا سکتے ہیں
لیکن اگر شوگر نہیں ہے تو آپ چینی بھی گزارے لائق استعمال کر سکتے ہیں۔
WHO کے مطابق آپ اپنی روز کی کیلوریز کا دس فیصد چینی سے لے سکتے ہیں
لیکن میرے خیال سے اس سے بھی تھوڑا کم ہی استعمال کریں تو بہتر ہے۔ تاکہ کیلوریز کا پورشن بچ سکے۔
جو سویٹنر آپ کے استعمال نہیں کرنے ان کے نام
Sucralose
یہ ڈائٹ پیپسی میں استعمال ہوتا ہے۔
ہمارے پیٹ کے اچھے بیکٹیریا کی موت کی وجہ بن سکتا ہے۔
Aspartame
یہ ڈائٹ کوک میں استعمال ہوتا ہے
یا پھر پیپسی میکس میں بھی یہی ہوتا ہے
Acesulfame-k
یہ کوک زیرو میں موجود ہوتا ہے اور کچھ انرجی ڈرنکس جو شوگر فری کے نام پر مارکیٹ میں موجود ہیں
Saccharin-
یہ بھی کافی قسم کے میٹھے شوگر فری کیکس میں استعمال ہوتا ہے
Neotame
یہ بھی لو کیلوریز بیکری اور ڈیرے آئسکریم وغیرہ میں استعمال ہوتا ہے۔
اس لئے یاد رکھیں ہر شوگر فری کا مطلب ہیلتھی نہیں ہے
یہ پوسٹ اپنے ان دوستوں کے ساتھ شئیر کریں جو چینی سے تو پرہیز کرتے ہیں لیکن چینی سے بچتے ہوئے خطرناک کیمیکل استعمال کرتے ہیں
Copied

اولاد کے متمنی اگر دن روزہ رکھ کر ان تینوں اسماء حسنی کو 101 مرتبہ اول و  آخر درود پاک کیساتھ پڑھ کر پانی پر دم کر کے اس...
31/08/2025

اولاد کے متمنی اگر دن روزہ رکھ کر ان تینوں اسماء حسنی کو 101 مرتبہ اول و آخر درود پاک کیساتھ پڑھ کر پانی پر دم کر کے اس پانی سے روزہ افطار کریں تو انشاءاللہ انکو اللہ تعالٰی اولاد کی نعمت سے سرفراز کریگا۔

کیا آپ جاننا چاہتے ہیں  کہ اللہ نہ کرے کہیں آپ نظر بد جادو ٹونہ یا کسی روحانی مسائل کا شکار تو نہیں؟
24/08/2025

کیا آپ جاننا چاہتے ہیں
کہ اللہ نہ کرے
کہیں آپ نظر بد جادو ٹونہ یا کسی روحانی مسائل کا شکار تو نہیں؟

22/08/2025

بسم اللّہ الرّحمن الرحیم
( ہومیوپیتھیک آزمودہ نسخے )
1-: ایسی نامردی جس کے ساتھ مرد کو ج**ع سے نفرت ہو جائے ( ایگنس کاسٹس) دوا ہو گی ۔۔۔
AGNUS CASTUS
2-: ایسی نامردی جس میں سپرم ( جرثومہ منی ) کم ہو جائیں یا بلکل نہ ہوں ( ڈامیانہ) دوا ہو گی ۔۔۔
DAMIANA
3-: ایسی نامردی جس کے ساتھ مریض ڈیپریشن کا شکار ہو جائے (کلیڈیم) دوائی ہو گی ۔۔۔۔
CALADIUM
4-; ایسی نامردی جو کثرت ج**ع کی وجہ سے ہو تو ( ایوینا سٹائیوا) دوا ہو گی ۔۔۔
AVENA SATIVA
5-: ایسی نامردی جس میں نا خواہش ہو اور نہ سختی ، پائی جاتی ہو ( لائیکوپوڈیم) دوا ہو گی ۔۔۔
LYCOPODIUM
6-: ایسی نامردی جس کے ساتھ سیکس (ج**ع) سے نفرت پائی جاتی ہو تو (گریفائٹس) دوا ہو گی ۔۔۔
GRAPHITES
7-: بوڑھوں کی نامردی کے لئے ( لائیکوپوڈیم) بہترین دوا ہے ۔۔۔
LYCOPODIUM
8-: نوجوانوں کی نامردی کے لئے ( سیلینیم) بہترین دوا ہے
SELENIUM
9-: ایسی نامردی جو کنوارہ رہنے کی وجہ سے ہو تو ( کونیم) دوا ہو گی ۔۔۔
CONIUM
10-: سرعت انزال کے لئے بہترین ہومیوپیتھیک ادویات ( ٹائٹینیم ، سیلینیم ، گریفائٹس ، سلفر ، ایسڈ فاس )
TITANIUM
SELENIUM
GRAPHITES
SULPHUR
ACID PHOS
11-: ایسی نامردی جس میں مرد کا عضو تناسل ج**ع کے وقت ڈھیلا ہو جائے تو ( کلیڈیم) دوا ہو گی ۔۔۔
CALADIUM
ایسی نامردی جس میں مرد کو اپنے اوپر بھروسہ نہ ہو کہ وہ ج**ع نہیں کر پائے گا ( اناکارڈیم) دوا ہو گی ۔۔۔
ANACARDIUM
Note:-
کوئی بھی مریض ہومیوپیتھیک ادوایات اپنی مرضی سے استعمال نہ کریں ۔ اپنے قریبی ہومیوپیتھیک ڈاکٹر سے مشورہ کر کے ادویات کا استعمال کریں شکریہ

Copied

08/04/2025

پستان (Breasts) نسوانی حسن پستان اکثر خواتین کے پستان ایک دوسرے سے مختلف ہیں،
ایک پستان چھوٹا ہے اور دوسرا بڑا لٹکا ہوا ،
بھت زیادہ فرق ہے ایک دوسرے میں، ظاہری حسن کا فقدان اور اعتماد میں کمی ہو جاتی ہے۔کیا وجوہات ہو سکتی ہیں ۔

عورت کے پستان بھی جنسی طور پر بہت حساس ہوتے ہیں۔ پستان چھوٹے بڑے ہو سکتے ہیں مگر چھاتیوں کے سائز کا عورت کی جنسی حساسیت سے کوئی تعلق نہیں چھوٹی چھاتیاں‌ زیادہ اور بڑی کم حساس ہو سکتی ہیں

بریزر ۔۔۔ ایک پراسرار راز جو ہر عورت کو نقصان پہنچا رہا ہے ۔۔۔۔

اگر بریزر عورت کے پستان کی بناوٹ اور سائز کے مطابق پہنی جائے تو ایک سہولت ہے۔ یہ سہولت زندگی کو آرام دہ اور صحت بخش بناتی ہے۔
اس کے مقابلے میں، اگر بریزر عورت کے سینے کی بناوٹ یا سائز کے مطابق نہ ہو تو اس سے بڑی مصیبت کوئی نہیں۔
یہ کئی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔

خواتین کو یہ علم ہی نہیں کہ چھاتیوں کی 9 الگ الگ طرح کی شکل ہوتی ہے اور ہر عورت کو اپنی چھاتی کی بناوٹ کے اعتبار سے بریزر لینی چاہیے۔
شاید آپ کو یہ علم نہ ہو کہ دنیا کی ہر عورت کی چھاتی منفرد ہوتی ہے اور ہر عورت کی چھاتی، زمین پر موجود کسی دوسری عورت سے نہیں ملتی۔ عورت کے وجود کا یہ انتہائِ اہم، زندگی بخش اور خوبصورت حصہ، ہم نے نہایت لاپرواہی اور جہالت کی نذر کردیا ہے۔
ہماری بیشتر عورتیں یہ سمجھتی ہیں کہ ساری بریزر ایک جیسی ہوتی ہیں کیونکہ ساری چھاتیاں ایک جیسی ہوتی ہیں لہٰذا بازار جاکر کوئی سی بھی بریزر خرید لیں اور پہن لیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہیں چھاتی کی 9 مختلف شکلوں کا کوئی علم نہیں ہوتا۔

انہیں یہ بھی نہیں پتا کہ اگر بریزر غلط سائز یا شکل کی ہو تو اس سے سینے میں خون کی روانی رک جاتی ہے اور دودھ پلانے والی مائوں کے سینے میں دودھ کی نالیاں سکڑنے لگتی ہیں۔ جس سے سینے میں گلٹیاں بھی بن سکتی ہیں جن سے کینسر بھی ہوسکتا ہے۔
اسی طرح، ہماری تمام مائوں کو، اس بات کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں کہ جوان ہوتی ہوئی بچیوں کو اگر غلط سائز کی بریزر مستقل پہنائی جائے تو بہت ممکن ہے کہ ان کے پستان بڑے ہی نہ ہوں اور چھوٹے رہ جائیں۔
یا پھر یہ کہ ان کی بناوٹ بگڑ جائے۔
یا پھر ایک چھوٹا اور ایک بڑا ہوجائے، جو کہ پاکستان میں ایک عام بات ہے۔

نمبر 1 بریزر کا مسلہ
نمبر 2 دودھ پلانے والی خواتین کا طریقہ دودھ پلانا درست نہیں ہوتا۔ فیڈنگ
نمبر 3 پریکٹس
نمبر 4 گروتھ بڑھوتری کسی ایک پستان میں نادیدہ گلٹیاں
نمبر 5 حیض کے مسائل
نمبر 6. کھولے ہوئے پستان اور سونے کا انداز
نمبر 7. دودھ کی افزائش ہو اور نکلنے کا راستہ بند

پستان خواتین کے لئے درد سینہ نہیں بلکہ بہت بڑا درد سر ہیں. چھوٹے ہو جائیں تو پرابلم. زیادہ بڑے ہو جائیں تو مصیبت. ناپید رہ جائیں تو نالاں.
ایک پستان چھوٹا اور دوسرا بڑا ہو جائے یا لٹک جاے تو عجوبہ.
ایک ہے زندگی اور سو سو طوفان. جائیں تو کہاں جائیں.

ہومیوپیتھک ریمیڈی
فکر نہ کریں ہومیوپیتھی کا دامن بڑا وسیع ہے. نہ کاٹ نہ تراش. نہ چیر نہ پھاڑ. نہ تیر نہ تلوار. نہ نشتر. نہ ٹانکے. نہ سوئیاں نہ سانچے.
کھلا ہے فیض کا چشمہ. .
پستانوں کے چند چیدہ چیدہ مسائل کا علاج ہم ہومیوپیتھک دواؤں کے حوالے سے بیان کریں گے

🚥 پستان عالم بلوغت میں ہی چھوٹے رہ جائیں =
کونیم 200 ہر دوسرے دن ایک خوراک.

🚥 جوان لڑکی کے پستان چھوٹے رہ جائیں =
اگنیشیا 1000 ہفتہ وار اورآئیوڈیم 200 روزانہ.

🚥 بیوہ عورت کی چھاتیاں سوکھ جائیں =
اونسموڈیم سی ایم کی فقط ایک خوراک کے بعد سٹافی 200 اور آئیوڈیم 200 باری باری روزانہ ایک خوراک.

🚥 موٹی عورت کے پستان سوکھ جائیں =
اونسموڈیم سی ایم کی ایک خوراک کے بعد کلکیریا کارب 1000دن میں دو بار.

🚥 لٹکی ہوئی چھاتیاں اوپر اٹھانے کے لئے =
اسکیل کار مدر ٹنکچر.

🚥 قلت حیض کی وجہ سے پستان سوکھ جائیں =
سیبل سیرولیٹا مدر ٹنکچر. لائکوپوڈیم سی ایم.

🚥 پستان چھوٹے اور چپٹے ہو جائیں اور نپلز اندر گھس جائیں =
نکس موسکاٹا. سلیشیا. سارسپریلا. آرسینک آئیوڈائیڈ.

🚥 پستان چھوٹے اور پردرد =
کریوزوٹ.

🚥 چھاتیاں چھوٹی اور جسم کے دوسرے غدود بڑھ جائیں =
اونسموڈیم سی ایم کی ایک خوراک کے بعد آئیوڈیم 200

🚥 پستان غائب فقط پتلی لٹکی ہوئی جلد رہ جائے =
اونسموڈیم سی ایم سنگل ڈوز کے بعد 200

🚥 ایک پستان چھوٹا اور دوسرا بڑا =
سیبل سیرولاٹا مدر ٹنکچر.

🚥 پستان چھوٹے ہو جائیں لٹک جائیں بوجہ کمزوری و قلت غذا =
چیمافیلا مدر ٹنکچر پانچ قطرے دن میں تین بار.
االفالفا مدرٹنکچر دن میں دو بار.
کلکیریا فلور6 ایکس

🚥 پستانوں کا حجم غیر معمولی بڑھ جائے =
فریگیریا مدر ٹنکچر

🚥 پستان چھوٹے ہو جائیں دودھ خشک ہو جائے =
کلکیریا کارب. سلفر. نکس وامیکا. چیمافیلا مدر ٹنکچر. نیٹرم میور. فائیٹولاکا . کونیم . اونسموڈیم. کالی آئیوڈائیڈ 200

🚥 لڑکے کے پستان لڑکی کی طرح بڑھ جائیں. =
کارٹی کوٹرافین.

🚥 لڑکے کی چھاتی میں دودھ آئے =
مرک سال.

🚥 سوکھے پستانوں کو سڈول بنانے کے لئے =
اگنیشیا ون ایم. سیبل سیرولاٹا

⚠ ضروری نوٹ.
یہ سب ادویات بلا شبہ سینکڑوں بار کی تجربہ شدہ ہیں لیکن پھر بھی کوئی بھی دوا اپنے ذاتی معالج یا کسی اچھے ہومیوپیتھ کے مشورے کے بغیر ہرگز ہرگز استعمال مت کریں کیونکہ سیلف میڈیکیشن میں فائدہ کی بجائے نقصان کا اندیشہ زیادہ ہے.

بلوغت کے وقت پستان ہیلدی لیکن چند سال بعد سوکھ جائیں تو انسوموڈیم 1 ایم
سیبل سیرولاٹا مدرٹنکچر 20 قطرے تھوڑے سے پانی میں دن میں تین بار۔
چمافیلا مدرٹنکچر 10 قطرے
کونیم 30 ڈراپس 5

قارئین ! قدرت نے جہاں مناسب سمجھا، وھاں اس نے اپنے کرم سے ھمیں دو دو چیزیں (اعضاء) عطا فرمائی ھیں، مثلاً گردے ، آنکھیں، پھیپھڑے، خصیے، (بیضےtestes ,ovaries) ، دو پستان ۔ دو نتھنے، دو ھاتھ، دو ٹانگیں وغیرہ ۔

لیکن، کبھی آپ نے غور فرمایا،
بظاھر یہ ایک جیسے نظر آنے والے اعضاء، در حقیقت %100 ایک جیسے نہیں ھوتے ۔ ( مردوں میں دونوں خصیئے ایک جیسے نہیں ھوتے، یعنی ایک چھوٹا تو ایک بڑا، دونوں گردوں کا سائز مرد و زن میں مختلف ھوتا ھے ۔ایک گردے کا سائز دوسرے سے مختلف ھوتا ھے- الٹرا ساؤنڈ سے یہ باتیں ثابت ھو چکی ھیں -
عورتوں کے پستانوں کا سائز بھی ایک جیسا نہیں ھوتا یعنی ایک بڑا تو دوسرا قدرے چھوٹا ) لیکن اس میں کچھ تو ہے۔

جب کبھی آپ ان بغور مشاھدہ کریں گے تبھی آپ پر یہ حقیقت آشکار ھوگی ۔
دوسری بات یہ کہ انکی کام کرنے کی صلاحیت اور طاقت بھی ایک جیسی نہیں ھوتی ۔۔۔
تو وجہ کیا ھے ، کبھی غور فرمایا آپ نے ؟؟؟؟؟
Copied

💯 Natural Result Guaranteed With Money back guarantee بالوں کو گرنے سے روکتا ہے بالوں کو لمبا گھنا اور صحت مند بناتاہے ج...
08/02/2025

💯 Natural
Result Guaranteed
With
Money back guarantee
بالوں کو گرنے سے روکتا ہے
بالوں کو لمبا گھنا اور صحت مند بناتاہے
جڑوں کو مضبوط کرکے بہتر نشوونما میں مدد دیتا ہے
خشکی سکری کو ختم کر کے بالوں کو ملائم اور چمکدار بناتا ہے
ہر عمر کے افراد کے ہر طرح کے بالوں کیلئے 💯 نیچرل

کیا آپ اپنے بالوں کے مسائل سے پریشان ہیں ؟؟؟؟اگر آپ اپنے بالوں کے مسائل سے واقعی پریشان ہیں تو پھر یہ پوسٹ آپ کیلیے ہے ۔...
30/01/2025

کیا آپ اپنے بالوں کے مسائل سے پریشان ہیں ؟؟؟؟
اگر آپ اپنے بالوں کے مسائل سے واقعی پریشان ہیں تو پھر یہ پوسٹ آپ کیلیے ہے ۔
اگر آپ برانڈ اور پرائس سے ہٹ کر رزلٹ پر یقین رکھتے ہیں تو یہ پوسٹ آپ کیلیے ہے ۔
اگر آپ گنجا ہونے اور اسکی وجہ سے لوگوں میں ہونے والی شرمندگی سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ پوسٹ آپ کیلیے ہے ۔
اور اگر آپ واقعی میں اپنے بالوں کو بچانا چاہتے ہیں تو یہ پوسٹ آپ ہی کیلیے ہے ۔
روز میری ہر بل شیمپو اور روز میری سپرے 100٪ Organic ہے جو آپ کے بالوں کے تمام مسائل کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے ۔ جس میں کسی بھی قسم کے کیمیکل کا استعمال نہیں کیا گیا ۔ یہ آپ کے ہیر فال کو کم کر کے آپکے بالوں کو لمبے مظبوط گھنے اور صحت مند بنا کر بالوں کی گروتھ کو بڑھاتا اور نئے بال اگاتا ہے ۔

100% Natural and Result guaranteed
14/12/2024

100% Natural and Result guaranteed

روحانی دنیا اسم الرحمٰن کے خواص
02/12/2024

روحانی دنیا
اسم الرحمٰن کے خواص

رُوحانی دنیااسماء الحسنٰی
01/12/2024

رُوحانی دنیا
اسماء الحسنٰی

Address

Faisalabad

Opening Hours

Monday 09:00 - 21:30
Tuesday 09:00 - 21:30
Wednesday 09:00 - 21:30
Thursday 09:00 - 21:30
Friday 09:00 - 21:30
Saturday 09:00 - 21:30
Sunday 09:00 - 21:30

Telephone

+923217352113

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Homeopathic Doctor Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category