16/01/2026
شوگر (ذیابیطس) اور قدرتی جواہر: آملہ، گوند کتیرا اور گوندِ شریں
طب کی قدیم کتابیں آج بھی پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ شفا مٹی سے اگنے والی جڑی بوٹیوں میں ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میرے مطب میں ایک بوڑھا کسان آیا تھا جس کے پاؤں کا زخم شوگر کی وجہ سے گل چکا تھا اور ڈاکٹروں نے اسے کاٹنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس نے صرف آملہ اور گوندوں کے مرکب کا استعمال شروع کیا اور اللہ کے فضل سے چند ماہ میں نہ صرف زخم بھر گیا بلکہ اس کی قوتِ مدافعت بھی بحال ہوگئی۔ یہ محض اتفاق نہیں تھا بلکہ یہ قدرت کے وضع کردہ اصولوں کی فتح تھی۔
شوگر کو قدیم اطباء "ذیابیطس" کہتے ہیں۔ اس کا مزاج عموماً گرم خشک یا سرد خشک ہوتا ہے جس میں لبلبہ اپنی کارکردگی کھو دیتا ہے۔ آملہ (Phyllanthus emblica) کا مزاج سرد خشک ہے، گوند کتیرا (Tragacanth) کا مزاج سرد تر ہے، اور گوندِ شریں (Acacia gum) معتدل اور مقوی ہے۔ ان کا امتزاج خون میں شوگر کی سطح کو کم کرنے اور لبلبے کو تقویت دینے کے لیے اکسیر ہے۔
قدیم و جدید سائنس کا سنگم
جدید سائنس کہتی ہے کہ آملہ میں وٹامن سی کی اتنی بڑی مقدار موجود ہے جو کرومیم کے ساتھ مل کر انسولین پیدا کرنے والے خلیوں کو متحرک کرتی ہے۔ تحقیقات کے مطابق یہ کولیسٹرول کو کم کرتا ہے اور دل کی نالیوں کو شوگر کے مضر اثرات سے بچاتا ہے۔ قدیم ویدک حکیم اسے "امرِت" (حیاتِ جاوداں) کہتے تھے کیونکہ یہ جسم کے خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ روکتا ہے۔
تقابلی جائزہ: مختلف طبی نظاموں کی نظر میں
یونانی طب: اسے فسادِ خون اور گردوں کی کمزوری قرار دیتی ہے۔ علاج کے لیے سرد اور مقوی اشیاء جیسے آملہ تجویز کیا جاتا ہے۔
آیوروید: شوگر کو "پرمیہا" کہا جاتا ہے۔ آملہ کو ہریدرا (ہلدی) کے ساتھ ملا کر دینا اس نظام کا بنیادی علاج ہے۔
طبِ نبوی ﷺ: کلونجی اور قسطِ شیریں کے ساتھ ساتھ پرہیز اور روزے کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ آپ ﷺ نے شہد اور کھجور کو بھی مخصوص حالات میں شفا قرار دیا۔
چینی طب (TCM): یہ اسے "ین" (Yin) کی کمی اور گردوں کی توانائی کی کمزوری مانتی ہے۔ ایکو پنکچر کے ذریعے تلی (Spleen) کے پوائنٹس کو متحرک کیا جاتا ہے۔
ہومیوپیتھی: اس میں "سائزیجیم" جیسی ادویات علامات کے مطابق دی جاتی ہیں۔
نیچروپیتھی: کچی سبزیوں، کریلا اور جامن کی گٹھلی کے استعمال پر زور دیتی ہے۔
ایکو پنکچر: SP6 اور ST36 جیسے پوائنٹس خون میں شوگر کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
کائیروپریکٹک: ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کی ترتیب درست کر کے اعصابی نظام کو لبلبے کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔
روحانی علاج: دعا، استغفار اور سورہ رحمٰن کی تلاوت سے ذہنی تناؤ کم ہوتا ہے جو شوگر بڑھنے کی بڑی وجہ ہے۔
قانونِ مفرد اعضاء (QMA)
حکیم انقلاب جناب دوست محمد صابر ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق شوگر اکثر غدی عضلاتی (گرم خشک) تحریک کا نتیجہ ہوتی ہے۔ جب جسم میں حرارت بڑھ جاتی ہے تو رطوبات خشک ہو جاتی ہیں۔ آملہ اور گوند کتیرا اعصابی غدی اثرات پیدا کر کے حرارت کو اعتدال پر لاتے ہیں اور جسم میں تری پیدا کرتے ہیں۔ حکیم ابنِ سینا جیسے اکابرین نے بھی مادہ کی منتقلی (امالہ) کے اصول کو تسلیم کیا ہے جو صابر ملتانی کے نظریے کی تائید کرتا ہے۔
دس مشہور طبی نسخے (فارمولری)
* سفوفِ آملہ مرکب: آملہ خشک 100 گرام، جامن گٹھلی 100 گرام۔ لبلبے کی اصلاح کے لیے (حوالہ: بیاضِ اجمل)۔
* جواہرِ گوند: گوند کتیرا، گوند کیکر، گوندِ شریں برابر وزن۔ جسمانی طاقت اور شوگر کے لیے (حوالہ: کتاب المفردات)۔
* ترپھلہ شوگر کور: آملہ، ہریڑ، بہیڑہ۔ قبض اور شوگر کا اکٹھا علاج (حوالہ: چرک سنہتا)۔
* اکسیرِ ذیابیطس: گوندِ شریں 50 گرام، کلونجی 50 گرام۔ نہار منہ استعمال (حوالہ: طبِ نبوی ﷺ اور جدید تحقیق)۔
* سفوفِ مغلظ شوگری: گوند کتیرا 20 گرام، اسبغول 20 گرام۔ مردانہ کمزوری دور کرنے کے لیے (حوالہ: قرابادینِ قادری)۔
* آملہ مربی: دھو کر شہد میں محفوظ کیا ہوا۔ قوتِ قلب کے لیے (حوالہ: دستور العلاج)۔
* گوندِ شریں کا قہوہ: پیٹ کی اصلاح اور شوگر کے لیے (حوالہ: فوائدِ عطار)۔
* سفوفِ حیات: آملہ، کڑوے جو، نیم کی نمولی۔ خون صاف کرنے کے لیے (حوالہ: مجرباتِ اکبری)۔
* معجونِ فلاسفہ جدید: آملہ کے اضافے کے ساتھ۔ گردوں کی شوگر سے حفاظت (حوالہ: قانونِ شیخ)۔
* شربتِ گوند: گوند کتیرا بھگو کر پینا۔ گرمی کی شوگر کا علاج (حوالہ: بیاضِ خاص)۔
تاریخی اطباء کے نظریات
* ابنِ سینا: گردوں کی قوت بڑھانے کے لیے سرد ادویات تجویز کیں۔
* رازی: شوگر کو جگر کی حدت سے جوڑا۔
* جالینوس: اسے اعضاء کی پیاس قرار دیا۔
* بقرط: غذا کو ہی دوا بنانے کا مشورہ دیا۔
* دیسقوریدوس: آملہ کے قبض لانے والے اور مقوی اثرات کا ذکر کیا۔
* سشرت اور چرکا: انہوں نے اسے "مدھو میہہ" (میٹھا پیشاب) کہا اور جسمانی محنت کو حل بتایا۔
روایتی تدابیر (علاج بالتدبیر)
شوگر کے مریض کے لیے 27 روایتی علاج درج ذیل ہیں:
حجامہ (کمر اور پنڈلیوں پر)، فصد (خون کی صفائی)، دلک (تیل کی مالش)، حمام (بھاپ کا غسل)، ریاضت (ورزش)، دلک بالزیت (زیتون کے تیل کی مالش)، تکمید (گرم ٹکور)، تعریق (پسینہ لانا)، ادرار (پیشاب لانا)، اسہال (دست لانا)، قے (الٹی کے ذریعے صفائی)، حقنہ (اینما)، نطول (سر پر پانی دھار)، ضماد (لیپ)، طلا (تیل لگانا)، کے (داغنا)، امالہ (مادے کا رخ موڑنا)، ایامہ (مقامی تحریک)، لینت (نرمی)، علاج بالبخار (دھونی)، علاج بالبارد (ٹھنڈا علاج)، علاج بالحار (گرم علاج)، علاج بالیابس (خشک علاج)، علاج بالرطوبت (تری والا علاج)، اسہال (صفائی)، تفتیحِ اورام (سوجن ختم کرنا)۔
ثقافتی استعمال اور ٹوٹکے
پاکستان اور انڈیا میں آملہ کا اچار اور چٹنی عام ہے۔ چین میں گوند کو جلد کی خوبصورتی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ افغانستان میں گوندِ شریں کو سردیوں میں طاقت کے لیے پنجیری میں ڈالا جاتا ہے۔
دادی ماں کا ٹوٹکا: رات کو ایک چمچ گوند کتیرا پانی میں بھگو دیں اور صبح آملہ کے سفوف کے ساتھ کھا لیں۔ یہ شوگر کی جلن ختم کر دے گا۔
(COPIED)