09/05/2026
تقریبا چار دن پہلے ہمارے کلینک پر ایک تقریبا 40 سال کا مرد ایا اس کو رعشہ ہو گیا تھا یعنی کہ اس کا جسم کانپتا تھا ۔ خاص طور پر ہاتھ اور اس کے ساتھ اس کو خارش بھی تھی اور ہلکی ہلکی خارش والی جگہ سرخ بھی تھی بقول اس کے کھیتوں سے اس کو کام کرتے وقت یہ ہلکی خارش شروع ہوئی ساتھ ہی جسم تھوڑا سرخ ہونا شروع ہو گیا اور تقریبا ایک گھنٹے کے بعد اس کا جسم کانپنے لگ گیا خاص طور پر ہاتھ اور دایاں پیر ہلکا ہلکا حرکت کر رہا تھا پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس کو کسی قسم کی کوئی بیماری یا کوئی مسئلہ نہیں تھا اور یہ یک دم کیسے شروع ہوا اس کو ہرگز نہیں معلوم۔
جسم پر خارش کو مد نظر رکھ کے اور رعشہ کو مد نظر رکھ کر ہومیوپیتھک میڈیسن اگیری کس
30 طاقت
میں اس کو اٹھ خوراکیں بنا کر دی گئیں میں زیادہ تر اس طرح دوائی پڑیوں کی شکل میں دیتا ہوں۔
ایک خوراک ہم نے اس کو کلینک پر دے دی ایک خوراک اس کو ایک گھنٹے کے بعد لینے کے لیے بولا اور باقی تمام خوراکیں ہر دو گھنٹے کے بعد ریپیٹ کرنے کو بولا گیا ۔
میں نے اس کو بتایا اگر چار سے پانچ خوراک لینے کے بعد بھی اپ کو فرق محسوس نہ ہو تو اپ پھر لازمی ہاسپٹل جا سکتے ہیں۔
ان چار دن کے دوران نہ وہ بندہ میرے پاس ایا نہ مجھے اس کے متعلق کوئی علم تھا اور میں یہی سمجھا کہ جس طرح کی اس کی کنڈیشن ہوگی شاید وہ ٹھیک نہیں ہوا لیکن جمعہ کی نماز سے پہلے وہ میرے پاس ایا
اس کے پاس اس کا چھوٹا بچہ بھی تھا میں نے اس سے پوچھا کہ بھائی اس دن اپ کی طبیعت کا کیا بنا اپ نے مجھے بتایا نہیں تو اس بندے نے بولا کہ محترم میرا مسئلہ شام تک بہتر ہو گیا تھا اور صبح میں جب سو کر اٹھا تو تقریبا ٹھیک تھا لیکن اج اپ مجھے میری دوائی بھی دوبارہ بنا دیں کیونکہ میں ابھی تک خود کو مکمل طور پر ٹھیک نہیں سمجھ رہا اور اس بچے کو اٹھ دس دن سے کھانسی ہے اس کی بھی دوائی مجھے بنا دیں۔
ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے لیے سٹڈی کرتے رہنا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ سٹڈی کرتے رہنے سے بہت سی چیزیں اس کے ذہن میں محفوظ رہتی ہیں جو وقتی پریشانی کے دوران یاد ا جاتی ہیں تو انسان بہتر طریقے سے مریض کا ٹریٹمنٹ کر سکتا ہے۔
اگیری کس میں ایک بہت خاص علامت ہوتی ہے کہ اس کے اندر رعشہ بھی ہوتا ہے اور بعض اوقات مریض کو ساتھ خارش بھی ہوتی ہے یہ میں نے شاید انسائیکلوپیڈیا کی بک میں پڑھا تھا جو اس مریض پر کام اگیا۔
تحریر۔ ہومیوپیتھک ڈاکٹر محمد رضوان