05/12/2025
غرور کی ہوا نکال دو… زندگی آسان ہو جائے گی
ایک اسکول نے اپنے نوجوان طلباء کے لیے تفریحی سفر کا اہتمام کیا۔
راستے میں ان کی بس ایک سرنگ کے قریب پہنچی جس کی اونچائی پانچ میٹر لکھی تھی۔
ڈرائیور پہلے بھی کئی بار یہاں سے بس گزار چکا تھا، اس لیے اس نے بغیر تامل کے بس کو سرنگ میں داخل کر دیا۔
لیکن اس بار کچھ مختلف تھا…
بس سرنگ کی چھت سے رگڑ کھا کر درمیان میں پھنس گئی۔
بچے گھبرا گئے، شور مچ گیا اور ڈرائیور پریشان ہو کر بولا:
"میں ہر سال یہاں سے اطمینان سے گزرتا ہوں، آج کیا ہو گیا؟"
ایک آدمی نے جواب دیا:
"سڑک نئی بنی ہے، اس کا لیول اونچا ہو گیا ہے… اسی لیے بس پھنس گئی ہے۔"
لوگوں نے مختلف مشورے دینا شروع کر دیے۔
کوئی کہتا کار باندھ کر کھینچو،
کوئی کہتا کرین لے آؤ،
کوئی کہتا سڑک کھود دو،
کوئی کہتا چھت توڑ دو…
لیکن ہر کوشش رائیگاں گئی۔
اسی شور شرابے میں ایک بچہ چپ کر کے بس سے اترا اور بولا:
"میرے پاس حل ہے!"
سب نے حیرانی سے پوچھا:
"وہ کیسے؟"
بچہ بولا:
"پروفیسر صاحب نے ہمیں ایک سبق دیا تھا۔
انہوں نے کہا تھا کہ انسان اپنے اندر سے غرور، تکبر، نفرت، لالچ اور خود غرضی نکال دے تو وہ جھک جاتا ہے، نرم ہو جاتا ہے، اور مشکل راستے آسان ہو جاتے ہیں۔
اگر ہم ان لفظوں کو بس پر لاگو کریں… تو بس کے ٹائروں کی تھوڑی سی ہوا نکال دیں، اس کی اونچائی کم ہو جائے گی، اور یہ آسانی سے سرنگ سے گزر جائے گی۔"
بچے کی بات سب کو حیران بھی کر گئی اور شرمندہ بھی۔
مگر یہی کام کیا گیا…
ٹائروں کی ہوا کم کی گئی، بس نیچے آئی
اور تھوڑی ہی دیر میں سب بحفاظت سرنگ سے باہر تھے۔
اس واقعے میں ہمارے لیے بڑا سبق چھپا ہے۔
ہماری زندگی کی سرنگیں تنگ نہیں ہوتیں،
ہم خود پھولے ہوئے ہوتے ہیں۔
ہمارے مسائل ہمارے دشمنوں کی طاقت میں نہیں،
ہماری اپنی انا، تکبر، ضد اور خود غرضی میں ہوتے ہیں۔
اگر ہم اپنے اندر کی غرور اور باطل کی ہوا نکال دیں
تو زندگی کے تنگ راستے بھی آسان ہو جاتے ہیں،
اور معاشرہ خود بخود سنور جاتا ہے۔
اپنے اندر جھانک کر دیکھیں…
کبھی کبھار صرف اتنا ہی کافی ہوتا ہے کہ ہم “اپنی ہوا کم کر لیں”
اور راستے خود بننے لگتے ہیں۔