Healthcare

Healthcare Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Healthcare, Medical and health, Abdullah colony, Faisalabad.

19/09/2021

*دنیا کی گیارویں عالمی وبا۔۔۔۔۔کرووناوائرس*

*پہلی وباء۔۔۔
رومن ایمپائر 541ء* میں "طاعون" جس سے *250000000
(ڈھائی* کروڑ)ھلاکتیں ھوئیں۔۔۔!

دوسری وباء۔۔۔165ء میں حسرہ۔چیچک اور طاعون کی صورت *میں پھیلی جس نے 5000000*
پچاس لاکھ انسانوں کو زمین بوس کیا۔۔!!

تیسری وباء چین سے1334ء میں شروع ھوا اور اس طاعون *نے یورپ کی 60%آبادی* کاصفایاکیا۔۔۔!!

*1576ء* میں کوکولٹ ذیلی نامی وبائی آفت جیسے کالایرقن کہاجاتاتھا نے میکسیکو کی لاکھوں آبادی صفحہ ھستی سے مٹادی۔۔۔!

*1852ء* میں بھارت سے برطانیہ تک پھیلنے والے ھیضے نے *80ہزار* سے ذیادہ انسانوں کابھینٹ لیا۔۔۔!

*1855ء* میں چین میں طاعون کی وباء نے ایک کروڑ کا خون چوسا۔۔۔!

*1957ء* میں سے چین سے فلواورانفلونزا کی وبادنیا کے کئ ممالک میں پھیلی اور بیس لاکھ کے قریب انسان لقمہ اجل بنے۔۔۔!

1918ء میں"عظیم فلو" کی وباء نے چارکروڑ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔۔۔!
*1920ء سے1960*
ء تک ایڈز نے
*ساڑھے چھ کروڑ انسانوں کو
* متاثر کیا جس میں ڈھائی کروڑ انسان زندگی کی بازی ہارگئے۔۔!!!

اور اب دنیاگیارویں بار کرووناوائرس جیسے تباہ کن وباء کی لپیٹ میں ھے جو چائناکے شہر ووھان میں تباہی مچانے کے بعددنیا میں تیزی سے پھیل رہی ھے جو لاعلاج ھے جس نے چند دنوں میں ہزاروں زندگیاں چھینی اور انسانی ھلاکتیں دن بدن بڑھ رہی ھے عالمی سطح پر اس وباسے بچنے کی واحد صورت قرنطینہ قرار دیا جارہاھے اس لیے ترقیافتہ ممالک لاک ڈاون کرکے اپنے عوام کی جانوں کا تخفظ کرنے کیلئے سرتھوڑ کوشیشیں کررہی ھے اور ان کے عوام ریاستی قوانین کی بھرپور پاسداری کرکے سنجیدگی سے حکومتی اقدامات پر عمل درآمد کرکے خود اور اپنی قوم کو اس موذی آفت سے بچانے کیلئے برسرپیکار
*ھیں۔۔اٹلی کے عوام نے اس وباکو
* سنجیدہ نہیں لیا جس کانتیجہ ھے کہ وہاں سے روزانہ آرمی کی گاڑیاں شہرسے بھر بھر کے لاشیں اٹھا رہی ھیں ان
*کاصدر رورو کر دنیا کو اپنی*
بے بسی کا روگ دکھاکر اس وباسے دنیاکوبچانے کیلئے دہائیاں دے رہاھے اور ایک ھم ھیں جو اس وباء کو ایک عالمی سازش قرار دین کر اس کو مذاق بنا کر خود اپنے اور اپنی قوم کیلئے ایک بڑی تباہی کاباعث بن رھے ھیں۔۔۔خدارا ھوش کے ناخن لیں دنیاپرایک بڑی مصیبت کی طرح نازل ھونے والی وباء
کوسمجھیں ۔۔
اس سے بچاؤ*
کیلئے ریاستی اقدامات پر من وعن عمل کرکے ہی اس سے بچنے کی امید ھے وگرنہ وہ دن دور نہیں کہ نہ ھمیں اپنے پیاروں کی جنازوں کاشمار ھوگا نہ کرووناوائرس سے ھونے والی
*ھلاکتوں کی گنتی کاخیال! ۔۔۔۔😭😭😭

یاد رکھیئے کروونا لاعلاج ھے
۔۔۔۔اس کا واحد علاج
*احتیاط ھے۔۔۔۔۔۔یا ۔۔قرنطینہ* ۔۔۔۔۔!!

02/01/2021

صحت کی بات آتی ہےتوموسم سرما مشکل وقت ہوسکتا ہےاس موسم میں دن چھوٹےاورراتیں لمبی اور ٹھنڈی ہوتی ہیں جس کا مطلب یہ ہےکہ گھر میں زیادہ وقت گزرتا ہے۔سردی جسمانی سرگرمی پر بھی پابندی عائد کرتی ہے جس وجہ سےطرزِزندگی سست ہوجاتی ہے۔طرزِزندگی میں تبدیلیوں کی وجہ سےسرد موسم جسمانی اور دماغی طورپر ہمیں متاثر کرتا ہے۔ماہرِامراض نسواں کے مطابق سردموسم خواتین کے ماہواری کے معاملات کو خراب کرتا ہے۔سردی ماہواری کے چکرکو متاثرکرتی ہےان تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے چند نکات مندرجہ ذیل ہیں؛

قبل از حیض –
قبل از حیض خواتین میں کچھ علامات ظاہر ہوتیں ہیں جس میں



چڑچڑاپن –

کمردرد –

سردرد –
ذہنی دباؤ –

نیند نہ آنا –

تھکاوٹ –

ڈپریشن –
سردیوں میں زیادہ ترانسان کاوقت گھر میں گزرتا ہے جس وجہ سے وہ خود کو الگ تھلگ محسوس کرتا ہے،سورج کی روشنی کی کمی بھی بیماریوں کو بڑھا سکتی ہے۔سورج کی روشنی نہ ملنے کی وجہ سے کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے۔کیلشیم سے بھرپور غذااورباقاعدگی سے ورزش آپ کی ماہواری کی علامات کو بہتر بنا سکتی ہے۔

حیض میں درد –
سردیوں کے موسم میں حیض کے دوران درد کا زیادہ سامنا کرنا پڑھ سکتا ہےکیونکہ سردی کے موسم مین بلڈ ویسلز تنگ ہوتیں ہیں جس وجہ سے خون کے بہاؤ میں خلل پڑھ سکتا ہے۔اس لئے درد میں آرام کے لئے گرم پانی کی بوتل یا ہیٹنگ پیڈ استعمال کرنا چاہیے۔

ہارمونزکا عدم توازن –
ہارمونز کا عدم توازن سرد موسم کا نتیجہ ہے،محدود دھوپ اینڈوکرائن سسٹم کو متاثر نہیں کرتی اور ٹھائیرایڈ سست پڑسکتا ہے،جسم جب درجہ حرارت میں ایڈجسٹ ہوتا ہے تب ہارمونز کا توازن برقرار ہوتا ہے۔اگرایک یا دو مہینوں میں ماہواری کا سائیکل معمول پر نہیں آتا توآپ کو ڈاکٹر کو دکھانے کی ضرورت ہے۔

ماہواری کا سائیکل –



حیض کاسائیکل سرد موسم میں شدید متاثر ہوتا ہے،ان تبدیلیوں کوموسم سے وابستہ کئی عوامل سے منسوب کیاگیا ہے۔جیسے ماحول کا دباؤ،ہواکا درجہ حرارت اور سورج کی روشنی شامل ہے۔ایک اور مطالعےسے علم ہواہے کہ حیض کو متاثر کرنے والا سب سے بڑا عنصر سورج کی روشنی ہے۔
وٹامن ڈی سے بھرپور خوراک حیض کے سائیکل

23/12/2020

(انرجی فوڈز)۔
November 27, 2020 by Aisha Zafar
Reading Time: 3 minutes
توانائی کی کمی آپ کی روزمرہ کی سرگرمیوں کو متاثرکرسکتی ہے،انسان دن بھرکام کرنےکے بعدخودکوتھکاہوامحسوس کرتاہےجوتوانائی کی کمی کی نشانی ہے۔اس کی کمی کی وجہ سےہماری کارگردگی بھی متاثرہوتی ہے۔جوخوراک ہم دن میں کھاتے ہیں اس سےہم توانائی کی سطح کاتعین کرسکتے ہیں۔اگرچہ جوخوراک ہم دن بھرکھاتے ہیں اس سےہمیں توانائی ملتی ہےلیکن کچھ فوڈز ایسی ہوتی جس میں غذائی اجزاشامل ہوتے ہیں اوروہ ہماری توانائی کی سطح کو بڑھانے میں اہم کردار اداکرتی ہے جس سے ہم اپنی سرگرمیاں باخوبی سرانجام دے سکتے ہیں۔

صحت مند طرزِزندگی اور صحت مند وزن کےلئے متوازن غذا بہت ضروری ہےاگرآپ تھوڑاسابھی کام کرکےتھک جاتے ہیں توآپ کو ایسی غذا کی ضرورت ہے جس میں ضروری اجزااور منرلز شامل ہوں جوآپ کو توانائی فراہم کریں تاکہ آپ دن بھر چست رہ سکیں اور ہر کام اچھے طریقے سے سرانجام دے سکیں۔کونسی ایسی غذائیں ہیں جن کے استعمال سے ہم اپنی جسمانی طاقت بڑھا سکتے ہیں اورانرجی حاصل کر سکتے ہیں۔ان غذاؤں کو جاننے کےلئے یہ مضمون آپ کے لئے فائدہ مند ہوگا۔

ہمارے جسم میں توانائی بڑھانے والی غذائیں مندرجہ ذیل ہیں؛
سیب
سیب دنیاکے مقبول پھلوں میں سے ایک ہے،یہ فائبر سے بھرپور ہوتا ہے۔قدرتی مٹھاس اور فائبر ہمارے جسم کو توانائی فراہم کرنے میں اہم ہے۔روزانہ سیب کا استعمال ہمیں بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔سیب میں اینٹی اکسیڈنٹ مواد ہوتا ہےجو ہمارے جسم کو زہریلے مادوں سے دور رکھتا ہے۔سیب کا استعمال آپ کو دن بھر توانا اور چست رکھ سکتا ہے۔

کیلا
کیلے میں موجودپوٹاشیم اور وٹامن بی6آپ کو توانائی فراہم کرتا ہے۔اس میں پروٹین،کاربوہائیڈریٹ ،فاسفورس اور وٹامن اے سے بھرپور ہوتا ہے یہ ہمارے جسم کو فوری طور پر توانائی فراہم کرتا ہے۔ریشےبنانے والے عناصر۔پروٹین اور معدنیات کا امتزاج جو اس میں پایا جاتا ہے وہ بہت کم کسی اور پھل میں پایا جاتا ہے۔جسمانی توانائی کی بحالی اور الیکٹرولائٹس کے باعث کیلے ورزش کرنے والے افراد کے لئے انرجی ڈرنک سے زیادہ موئژہوتے ہیں۔

انڈے
انڈے نہ صرف اطمینان بخش کھانا ہے بلکہ یہ توانائی سے بھی بھرپور ہوتے ہیں۔انڈوں میں پروٹین،کیلشیم اور اومیگا3فیٹی ایسڈ کا اچھا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔یہ ہمارے جسم کے لئے بہت ضروری ہیں۔اس سے جسمانی میٹابولزم کی رفتار تیز ہوتی ہے اور توانائی بھی حاصل ہوتی ہے۔

دہی
دہی میں بہت سے غذائی اجزاپائے جاتے ہیں،دودھ کی نسبت دہی میں کیلشیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔دہی ہماری صحت لیے بہت ضروری ہے اگرآپ تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں تو روزانہ دہی کا استعمال کریں یہ ہمیں ہائیڈریٹ کرکے ہمارے جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے۔اس میں موجود بیکٹریا ہماری قوت مدافعت بڑھتی ہے۔اس سے بہت سی بیماریاں بھی ختم ہوتیں ہیں۔نظامِ ہاضمہ بھی مضبوط ہوتا ہے۔اس لئے دہی کا استعمال لازمی کریں۔

دلیہ
دلیہ میں فائبراور کاربوہائیڈریٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو ہمارے وزن کو کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔روزانہ ایک کٹوری دلیہ سے ہمارے جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے۔اس سے ہمارا کولیسٹرول کی کمی ہوتی ہے کیونکہ اس میں موجود فائبر کولیسٹرول کو کنٹرول کرتا ہے۔اس میں کیلشیم اور میگنیشیم کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہےجس وجہ سے ہماری ہڈیاں مضبوط ہوتیں ہیں۔

گری دار میوے
گری دار میوے ایک زبردست ناشتہ ہوسکتا ہے،جن میں موجود غذائی اجزا ہمارے جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔زیادہ تر گری دار میووں میں بادام،اخروٹ،کاجو،پستہ اورمونگ پھلی شامل ہے۔خاص طور پر اخروٹ میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈاور اینٹی اکسیڈنٹ ہونے کی وجہ سے یہ ہمیں توانائی فراہم کرتے ہیں۔گری دار میووں میں بہت سے وٹامنز اور غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جیسے آئرن اور وٹامن ای تونائی فراہم کرنے اور تھکاوٹ کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

02/12/2020

جب بھی سردی کےموسم کاآغازہوتاہےہوائیں خشک ہوتیں ہیں،ساتھ ساتھ سردی کی دستک سےاوربھی بہت سے مسائل کاآغازہوتاہے۔ جیسےجلدی کی خشکی،نزلہ،زکام،کھانسی،گلہ خراب اوربخاروغیرہ۔یہ سب وہ بیماریاں ہیں جو بدلتے موسم کے ساتھ آتی ہیں۔کچھ لوگوں کی صحت پربدلتاموسم بہت جلداثرکرتاہےاوروہ ان مسائل کا شکارہوتے ہیں۔اگر موجودہ صورتحال کودیکھا جائےتویہ علامات کرونا وائرس کی بھی ہیں جس وجہ سے لوگوں کوبےاختیاطی نہیں کرنی چاہیے۔اور فوری طور پرخیال کرنا چاہیے تاکہ سنگین صورتحال سے بچاجاسکے۔خراب گلےکی حالت اایسی ہوتی ہے کہ اس میں ہمیں اپنی خوراک پرتوجہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ہم مزید گلے کی سوزش سے بچ سکیں اورخوراک سےہی اس کا علاج کرسکیں۔ہمیں گلے کی سوزش میں کونسی غذاکااستعمال کرناچاہیے، اس مضمون میں وہ آپ کے لیے لکھی گئی ہیں۔

لیموں کارس اور شہد-
لیموں اور شہدکاپانی آپ کے گلے کی خراش اورسوزش دور کرنے میں بہترین عمل ہے،اس میں اینٹی اکسیڈنٹ خصوصیات پائی جاتیں ہیں جوانفیکش کوختم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔اس میں وٹامن سی بھی پایاجاتا ہے جو ہماری جلد کو بھی فائدہ دیتا ہے۔

گاجرکا استعمال –
جب آپ بیمار ہوں توگاجرکااستعمال بہت اچھاہے،کچی گاجر کا استعمال آپ کےگلےکےلئےتکلیف کاباعث بن سکتا ہےاس لئے گلے کی سوزش میں گاجرکوابال کرکھائیں گاجرغذائی اجزاسےبھرپورہوتی ہے،گاجر میں وٹامن اے،وٹامن سی،وٹامن کے،فائبراورپوٹاشیم پایاجاتا ہےجو صحت کے لئے بہت اچھے ہیں۔

Address

Abdullah Colony
Faisalabad
MAINBAZAARABDULLAHCOLONY

Telephone

03126626541

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Healthcare posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram