28/11/2025
لاہور کی ایک معروف بزنس کلاس اور پیری فقیری والی فیملی کے ظلم کا دردناک واقعہ
اس خاندان کے لاکھوں مرید تھے، بیٹا امریکہ میں رہتا تھا۔ پیر صاحب نے اپنے ایک عقیدت مند کی ڈاکٹر بیٹی کا رشتہ خود اپنے بیٹے کے لیے مانگا۔ بڑی شان و شوکت سے شادی ہوئی، لڑکا بیوی کو لے کر دبئی ہنی مون پر گیا۔
ہنی مون کے دوران شوہر کی جب بھی کال آتی، وہ باہر جا کر بات کرتا—بیوی کو کبھی شک نہ ہونے دیا۔
ایک دن اتفاق سے لڑکا سویا ہوا تھا اور فون بجنے لگا۔ بیوی نے کال اٹھائی تو دوسری طرف اس کے شوہر کے بچے تھے۔
لڑکی نے فوراً اپنے والدین کو بتایا۔ انہوں نے سمجھایا کہ دبئی میں کوئی بات مت کرنا، واپس آ جاؤ پھر دیکھتے ہیں۔
پاکستان پہنچ کر جب بات کی گئی تو پیر صاحب نے حیرت انگیز طور پر کہا:
“بیٹے کی پہلے شادی تھی… طلاق ہو چکی ہے، اب وہ اپنے بچوں سے بات کرتا ہے، آپ فکر نہ کریں۔”
لڑکی کے والد نے بے بسی سے پوچھا کہ یہ بات پہلے کیوں نہ بتائی گئی؟
لڑکی کو واپس گھر لے آئے۔ اللہ نے اسے ایک بیٹا دیا لیکن اس پیر فیملی نے بچہ دیکھا تک نہیں—اور فوری طلاق بھیج دی۔
لڑکی کے والد، جو کہ 21 گریڈ کے آفیسر ہیں، خود کہتے ہیں:
> “ہم اتنے بااثر ہونے کے باوجود اپنی بیٹی کے لیے کچھ نہ کر سکے۔ بیٹا گود لے لیں گے، بس ہماری بیٹی کے لیے اچھا انسان چاہیے جو اسے قبول کر لے۔”
---
سبق:
رشتہ کرتے وقت اندھا یقین نہ کریں—چاہے سامنے والا خاندان کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔
هر حال میں لڑکے سے براہِ راست سوال کرنا ضروری ہے۔
بیٹیوں کی زندگی صرف ایک غلط اعتماد سے برباد ہو سکتی ہے۔
پیری فقیری، بڑے عہدے، دولت… سب سے پہلے چیک کرنا چاہیے کہ انسان کی نیت اور کردار کیا ہے۔