24/12/2025
بیماری گنٹھیا (نقرس)کا علاج
گنٹھیا: اس کی عام علامت پیر کے انگوٹھے میں درد کا شروع ہونا ہے۔ جو خون میں یورک ایسڈ کے جوڑوں میں جمع ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ گنٹھیا پیشاب کی رفلکس یا پیشاب کی واپسی کا بھی سبب بنتا ہے۔
# بیماری نقرس میں پرہیز کیا ہے؟
باقی زیادہ تر بیماریوں کی طرح، علاج اور اس بیماری سے بچاؤ میں خوراک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نقرس کے مریض یا خون میں یوریا کی زیادتی والے شخص کو، جو اس بیماری کے خطرے میں ہے، خوراک کی اصلاح کرنا ضروری ہے اور خصوصاً درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:
* کیمیائی مٹھاس جیسے چینی، میٹھائیوں، پیسٹری کی دکانوں کی مٹھائیاں وغیرہ۔
* کیمیائی اسانس جیسے کیمیائی جوس، گیس والے مشروبات، صنعتی آئس کریم وغیرہ۔
* صنعتی اور تیار شدہ کھانے جیسے فاسٹ فوڈز، ساسیج، کلبیسی، ہیمبرگر، پیزا وغیرہ۔
* زیادہ کیفین جیسے باسی اور گہری چائے، کوکو، چاکلیٹ، کافی، نسکافی۔
* ہائی ٹرانس فیٹ والی چکنائی جیسے سخت تیل، زیادہ پکا ہوا کھانا، ته دیگ۔
* نیز پیشاب روک کر رکھنے، باسی کھانوں اور کم حرکت کرنے سے پرہیز کیا جائے۔
* نقرس کو عربی میں داء الملوک یعنی بادشاہوں کی بیماری کہتے ہیں اور اس کا آغاز عام طور پر پیر کے انگوٹھے سے ہوتا ہے، اور وہ بھی صبح صادق کے وقت نماز فجر کے قریب، پیر کا انگوٹھا درد اور سوجن کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور باقی جوڑوں میں پھیل جاتا ہے اور شدید اور ناقابل برداشت درد ہوتا ہے۔
* نقرس کی علامت یہ ہے کہ جوڑ تھوڑا سوج جاتا ہے، سرخ اور چمکدار ہو جاتا ہے۔
# طب اسلامی میں نقرس کا علاج / استاد تبریزیان
▫️**روایات میں نقرس کی کیا وجہ ہے؟**
روایات اور طب اسلامی بیماری نقرس کی وجوہات یہ بتاتے ہیں:
1. **گائے کا گوشت کھانا:** اعتدال کے ساتھ گوشت کھانے پر زور دیا گیا ہے۔ روایات میں روزانہ گوشت کھانے سے منع کیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے کہ ہر روز گوشت نہ کھاؤ اور گوشت کھانے میں وقفہ ڈالو۔ اس طرز عمل سے زیادہ پروٹین کی وجہ سے نقرس کے ظاہر ہونے کا امکان نہیں رہتا۔ اس کے علاوہ، اعتدال کے ساتھ کھانے میں بھی یہ خیال رکھنا چاہیے کہ گائے کے گوشت سے مکمل پرہیز کیا جائے۔ کیونکہ اس میں یورک ایسڈ کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
2. **مچھلی اور انڈے کو ایک ساتھ کھانا** ۔
3. **نشہ آور شراب (یا سرکہ) کا دودھ کی چیزوں کے ساتھ کھانا۔**
4. **پیٹ بھرے ہونے کی حالت میں مباشرت کرنا۔**
5. **رات کے پہلے حصے میں مباشرت کرنا۔**
▫️**طب اسلامی میں نقرس کا علاج:**
1. **انجیر زیادہ کھانا۔**
2. **شیطرج نامی پودے کا پیسا ہوا، چار گرام روزانہ۔**
3. **دونوں پنڈلیوں اور کمر کی حجامت (سینگی لگوانا)۔**
نوٹ: شیطرج کو جلد پر بھی لگایا جا سکتا ہے اور کھایا بھی جا سکتا ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں کھانے اور دوسرے مرحلے میں لگانے کی شکل میں استعمال کیا جائے۔
* شیطرج کا پودا لکڑی کے ٹکڑوں کی شکل میں ہوتا ہے اور ہندوستان سے آتا ہے، بدقسمتی سے حال ہی میں یہ پودا کمیاب ہو گیا ہے اور کبھی کبھی اس کی جعلی نقل پیش کی جاتی ہے، شیطرج کی شناخت کے لیے ایک اچھی علامت یہ ہے کہ اگر اسے پیسا جائے تو وہ ریشوں (پشمک) کی شکل میں آ جاتا ہے اور آسانی سے نہیں پِستا۔
# نقرس کے دیگر علاج / طبِ قدیم میں نقرس کا علاج / نقرس کے لیے مفید غذائیں
* **آلو بخارا:** خشک آلو بخارا سات عدد چوس کر شام سے پہلے کھائیں۔
* **سیب کا چھلکا:** ایسے سیب کے چھلکے کا قہوہ جس پر کیمیکل نہ لگا ہو۔ خون میں یورک ایسڈ کے خلاف بہترین ادویات میں سے ایک ہے۔ کھانے سے پہلے ایک کپ سیب کے چھلکے کا قہوہ پی لیں۔
* **انگور اور انگور کا پتہ:** نقرس کے لیے روزانہ دو سے تین گچھے انگور کھانا بہت مفید ہے۔ نیز انگور کے پتے کو اکیلے یا انار کے پانی یا رب انار کے ساتھ کھانا۔
* **تازہ لیموں:** ایک تازہ لیموں ایک گلاس پانی کے ساتھ کھانا مفید ہے۔ اسے شہد میں ملا کر شربت بھی بنا سکتے ہیں۔
* **پہاڑی زرشک کا بھگو کر رکھا ہوا پانی:** ایک کھانے کا چمچ ایک گلاس پانی میں۔
* **سماق:** سماق کا استعمال تجویز کیا جاتا ہے۔ گائے کے گوشت سے پرہیز کے ساتھ ساتھ آپ سماق کو بھیڑ کے گوشت کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ یہ گوشت کی اصلاح کرتا ہے اور نقرس کے لیے مفید ہے۔
* **زردک (ایرانی گاجر):** نقرس کے علاج میں زردک مؤثر ہے۔ اس مقصد کے لیے آپ روزانہ ایک گلاس زردک کا جوس پی سکتے ہیں۔
* **کاسنی:** سبزی والی تازہ کاسنی کا استعمال پہلے درجے میں اور اگر میسر نہ ہو تو کاسنی کے پتوں کا قہوہ – ایک کپ ابلتے ہوئے پانی میں۔
(استاد آیت اللہ ضیائی اور دیگر اساتذہ)
https://whatsapp.com/channel/0029VbAT5zC9xVJp31nnLJ1a
Channel • 479 followers • اس چینل میں اسلامی طرز زندگی اور اسلامی طب کےمطابق بیماریوں کا علاج بیان کیا جائے ۔