GB Food and Nutrition Organization.

GB Food and Nutrition Organization. health awareness
Food security and safety

The Department of Agriculture and Food Technology at Karakoram International University (KIU) hosted a vibrant “Food Gal...
03/11/2025

The Department of Agriculture and Food Technology at Karakoram International University (KIU) hosted a vibrant “Food Gala” under the BS Human Nutrition and Dietetics program, celebrating the rich culinary diversity of Gilgit-Baltistan. The event not only showcased traditional dishes and their nutritional significance but also offered students valuable, hands-on exposure to hospitality, nutrition education, and event management. Gracing the occasion as the chief guest, Vice Chancellor Prof. Dr. Attaullah Shah commended the students’ innovation, enthusiasm, and dedication in promoting healthy dietary practices and preserving the region’s authentic food heritage through creativity and cultural pride.

04/10/2025
19/09/2025

A Public Message

Today, September 19, 2025, a seminar on "Improvement of Maternal and Child Nutrition" was successfully held at Musharaf ...
19/09/2025

Today, September 19, 2025, a seminar on "Improvement of Maternal and Child Nutrition" was successfully held at Musharaf Hall, Karakoram International University (KIU). The session was organized by the Nutrition Cell, Health Department, Gilgit-Baltistan, in collaboration with UNICEF Pakistan.

Speakers and Facilitators...
The seminar featured presentations and discussions by esteemed speakers, including:

1. *Mr. Farooq Satti* (HOD Food Department, KIU) - Welcome Speech
2. *Mr. Muhammad Abbas* (Provincial Coordinator) - Objectives and Current Nutritional Situation
3. *Dr. Nadir Shah* (SUN Consultant) - Optimum Breastfeeding Practices
4. *Gynecologist* - Maternal Health Presentation
5. *Pediatrician* - Child Health Presentation
6. *KIU Students* - Skit on Maternal and Child Nutrition
7. *Dr. Ansar Madni / Dr. Fiza Ansar* - Importance of Breastfeeding in Islam
8. *Dr. Azhar* (Professor, KIU) - Research-Based Information on Child and Maternal Nutrition
9. *Secretary Health GB* - Keynote Speech
10. *Vice Chancellor, KIU* - Valedictory Address

- Presentations on maternal and child nutrition, breastfeeding, and maternal health
- Expert discussions on child health and breastfeeding in Islam
- Engaging skit by KIU students on maternal and child nutrition
- Thought-provoking speeches by the Secretary Health and Vice Chancellor

The seminar concluded with certificate distribution and a group photo, marking a successful event that promoted awareness and discussion on improving maternal and child nutrition.

بے خبری سے بیماری تک: غذائیت کا المیہگلگت بلتستان پاکستان کا وہ حسین خطہ ہے جو اپنی قدرتی خوبصورتی، برف پوش پہاڑوں اور د...
16/09/2025

بے خبری سے بیماری تک: غذائیت کا المیہ

گلگت بلتستان پاکستان کا وہ حسین خطہ ہے جو اپنی قدرتی خوبصورتی، برف پوش پہاڑوں اور دریاؤں کے باعث دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ لیکن اس حسین وادی کے باسی کئی بنیادی مسائل سے دوچار ہیں، جن میں غذائیت کی کمی ایک نہایت اہم اور سنگین مسئلہ ہے۔ پہاڑی جغرافیہ، محدود وسائل، غربت اور شعور کی کمی نے مل کر یہاں کے عوام کو صحت کے حوالے سے کئی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ غذائیت کا تعلق صرف پیٹ بھرنے سے نہیں بلکہ انسانی جسم کی نشوونما، ذہنی صلاحیتوں اور بیماریوں سے بچاؤ سے ہے۔ اگر معاشرے میں غذائیت پر توجہ نہ دی جائے تو اس کے اثرات نہ صرف انفرادی صحت بلکہ معاشرتی ترقی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

زندگی کے ابتدائی ایک ہزار دن یعنی حمل سے لے کر بچے کی دوسری سالگرہ تک کا وقت نہایت اہم ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب بچے کی دماغی اور جسمانی نشوونما تیزی سے ہو رہی ہوتی ہے۔ گلگت بلتستان میں کئی بچے ماں کے دودھ سے محروم رہ جاتے ہیں یا انہیں وقت پر متوازن خوراک نہیں مل پاتی، جس کے باعث وہ آئرن، وٹامن ڈی اور کیلشیم کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کمی کے نتیجے میں بچے بار بار بیمار پڑتے ہیں، ان کی ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں اور ذہنی صلاحیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق غذائی قلت کے شکار بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے جس کا اثر ان کی تعلیمی زندگی پر بھی براہِ راست پڑتا ہے۔

تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے لیے صحت مند خوراک بے حد ضروری ہے۔ بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں زیادہ تر بچے ناشتہ کیے بغیر اسکول جاتے ہیں یا بازار کی غیر معیاری اشیاء کھاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ان کی توجہ پڑھائی پر کم ہو جاتی ہے بلکہ وہ کمزوری اور بیماریوں کا شکار بھی رہتے ہیں۔ اسکول نیوٹریشن پالیسی یہاں بالکل موجود نہیں، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ ایک لازمی جزو ہے کہ اسکول جانے والے بچوں کو دودھ، پھل اور متوازن لنچ فراہم کیا جائے۔

حاملہ خواتین کو اپنی اور بچے کی صحت کے لیے اضافی غذائیت درکار ہوتی ہے۔ آئرن اور فولک ایسڈ خون کی کمی سے بچاتے ہیں جبکہ کیلشیم بچے کی ہڈیوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ گلگت بلتستان میں زیادہ تر خواتین ان اجزاء کی کمی کا شکار ہیں کیونکہ یہاں متوازن غذا کی فراہمی محدود ہے۔ بہت سی خواتین دوران حمل کمزوری، خون کی کمی اور پیچیدگیوں کا سامنا کرتی ہیں جس سے ماں اور بچے دونوں کی صحت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اسی طرح دودھ پلانے والی خواتین کو نہ صرف اضافی توانائی بلکہ پروٹین، وٹامنز اور منرلز کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کو صحت مند دودھ فراہم کر سکیں۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں زیادہ تر خواتین خود غذائی قلت کا شکار ہوتی ہیں، جس کے باعث ان کے بچوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے اور وہ بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں غذائیت کو قومی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ یورپ، امریکہ اور جاپان جیسے ممالک میں حاملہ خواتین کو سرکاری سطح پر آئرن، فولک ایسڈ اور کیلشیم سپلیمنٹس فراہم کیے جاتے ہیں۔ ہر اسپتال اور کلینک میں کلینیکل ڈائیٹیشن موجود ہوتے ہیں جو خواتین کو دوران حمل اور دودھ پلانے کے دوران رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اسکولوں میں بچوں کو روزانہ دودھ، پھل اور صحت مند کھانے لازمی دیے جاتے ہیں۔ کمیونٹی کی سطح پر آگاہی مہمات اور ٹریننگ پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ لوگ غذائیت کی اہمیت کو اپنی روزمرہ زندگی میں شامل کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بچوں اور خواتین کی صحت بہتر ہے اور غذائی قلت کے مسائل تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔

اس کے برعکس گلگت بلتستان میں نہ تو کوئی کلینیکل ڈائیٹیشن ہے، نہ ہی غذائیت پر کام کرنے والا کوئی باقاعدہ ادارہ قائم ہے۔ عوام میں غذائیت کے بارے میں شعور کی شدید کمی ہے۔ زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ کھانا صرف پیٹ بھرنے کا نام ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اچھی اور متوازن غذا انسان کو اسپتالوں سے دور رکھتی ہے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کو یہ بنیادی حقیقت معلوم ہی نہیں۔ یہی لاعلمی غذائی قلت کے مسائل کو بڑھا رہی ہے اور بچوں، خواتین اور بزرگوں کو مختلف بیماریوں کا شکار بنا رہی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ گلگت بلتستان میں غذائیت کو پالیسی سطح پر اہمیت دی جائے۔ حکومت اور اداروں کو چاہیے کہ اسکول نیوٹریشن پالیسی متعارف کرائیں تاکہ بچوں کو متوازن کھانا فراہم کیا جا سکے، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لیے غذائی مراکز قائم کیے جائیں، کلینیکل ڈائیٹیشنز اور نیوٹریشن کے ماہرین کو اسپتالوں میں تعینات کیا جائے، کمیونٹی کی سطح پر آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ لوگ غذائیت کی اہمیت کو سمجھ سکیں اور غذائی سپلیمنٹس اور ضروری وٹامنز عوام کو باآسانی فراہم کیے جائیں۔

غذائیت ایک ایسا شعبہ ہے جو براہِ راست انسانی صحت، تعلیمی کارکردگی اور معاشرتی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔ اگر گلگت بلتستان میں بھی ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر پالیسیاں بنائی جائیں، اسپتالوں اور اسکولوں میں غذائیت کو ترجیح دی جائے اور عوام میں شعور اجاگر کیا جائے تو ایک صحت مند، خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر غذائی قلت کا یہ مسئلہ
مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔



Address

Gilgit
GB۔FNO

Telephone

+923488915256

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GB Food and Nutrition Organization. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to GB Food and Nutrition Organization.:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram