06/05/2026
🔸Public Awareness message
پاکستان کے ہائی رسک علاقوں میں ہر دس میں سے چار بچے اپنے
خون میں سیسہ (Lead) لے کر چل رہے ہیں۔
گزشتہ روز Ministry of National Health Services, Regulations and Coordination اور UNICEF کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیسے کی موجودگی بچوں کی نشوونما کو روکتی ہے، خون کی کمی (انیمیا) کا باعث بنتی ہے، اور مدافعتی نظام کو کمزور کرتی ہے۔
یہ بچوں کے آئی کیو (IQ) کو کم کرتی ہے، توجہ کی صلاحیت گھٹاتی ہے، اور یادداشت کو متاثر کرتی ہے، جس سے سیکھنے میں مشکلات اور رویّے کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اس تحقیق میں حویلیاں (ہری پور)، اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور راولپنڈی سے 2,100 سے زائد بچوں کے نمونے لیے گئے۔
نتائج میں واضح فرق سامنے آیا۔
ہری پور کے علاقے ہٹّر میں 88 فیصد بچے متاثر پائے گئے، جبکہ اسلام آباد میں یہ شرح صرف 1 فیصد تھی۔
یہ اتفاق نہیں ہے۔
یہ ماحولیاتی ناہمواری (Environmental Inequality) ہے۔
سیسے کی زہریلا پن (Lead poisoning) کو ویسی توجہ نہیں ملتی جیسی HIV جیسے امراض کو ملتی ہے،
اسی لیے یہ خاموشی سے نظر انداز ہو جاتا ہے،
حالانکہ اس کے اثرات بچوں کی ذہنی صلاحیت، تعلیم اور مستقبل پر گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔
Dr Ali Zia Butt
Child Specialist