29/10/2025
Bottle Feeding Syndrome!
🍼 بوتل فیڈنگ سنڈروم – والدین کے لیے ایک اہم آگاہی
بوتل فیڈنگ سنڈروم ایک ایسا مسئلہ ہے جو اُن بچوں میں دیکھا جاتا ہے جو لمبے عرصے تک بوتل(فیڈر) سے دودھ پیتے رہتے ہیں، خاص طور پر جب انہیں سوتے وقت بوتل دی جاتی ہے۔
یہ عادت بظاہر بے ضرر لگتی ہے، مگر اس کے نتائج بچے کی صحت پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔
جب بچہ بوتل سے دودھ پیتا ہے، خاص طور پر لیٹے لیٹے، تو دودھ دانتوں کے گرد جمع رہتا ہے اور منہ میں موجود بیکٹیریا اس دودھ کو تیزاب میں بدل دیتے ہیں۔
یہ تیزاب آہستہ آہستہ دانتوں کی اوپری سطح کو خراب کر دیتا ہے، جس سے دانت پیلے، کمزور اور آخرکار گلنے لگتے ہیں۔
اسی حالت کو “بوتل کیریز” یا “بوتل فیڈنگ سنڈروم” کہا جاتا ہے۔
یہ مسئلہ زیادہ تر اگلے دانتوں میں ہوتا ہے، اور اگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو بچے کے تمام دانت متاثر ہو سکتے ہیں۔
ایسے بچے کھانے میں دقت محسوس کرتے ہیں، ان کی مسکراہٹ متاثر ہوتی ہے اور مستقبل میں مستقل دانتوں کی ساخت بھی خراب ہو سکتی ہے۔
اس سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ:
بچے کو سوتے وقت بوتل نہ دی جائے۔
ہر فیڈ کے بعد بچے کا منہ صاف کیا جائے، چاہے وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔
اگر ممکن ہو تو بچے کو کپ یا گلاس سے دودھ پلانے کی عادت ڈالیں۔
پہلے سال کے بعد بوتل کا استعمال بتدریج ختم کریں۔
دانت نکلنے کے بعد باقاعدہ برش یا نرم کپڑے سے صفائی کریں۔
یاد رکھیں، ایک چھوٹی سی احتیاط آپ کے بچے کی مسکراہٹ کو عمر بھر محفوظ رکھ سکتی ہے۔ 😊
تحریر: ڈاکٹر جمشید اقبال