Dr Jamshed Iqbal

Dr Jamshed Iqbal Dr.Jamshed Iqbal
MBBS, MCPS(Paeds)
Child Specialist
For Appointment 🩺
☎️ 053-3586651
📱0333-8475878
📍 Ibrahim Clinic,Main Surakhpur Road, Tanda

Bottle Feeding Syndrome!🍼 بوتل فیڈنگ سنڈروم – والدین کے لیے ایک اہم آگاہیبوتل فیڈنگ سنڈروم ایک ایسا مسئلہ ہے جو اُن بچوں...
29/10/2025

Bottle Feeding Syndrome!
🍼 بوتل فیڈنگ سنڈروم – والدین کے لیے ایک اہم آگاہی

بوتل فیڈنگ سنڈروم ایک ایسا مسئلہ ہے جو اُن بچوں میں دیکھا جاتا ہے جو لمبے عرصے تک بوتل(فیڈر) سے دودھ پیتے رہتے ہیں، خاص طور پر جب انہیں سوتے وقت بوتل دی جاتی ہے۔
یہ عادت بظاہر بے ضرر لگتی ہے، مگر اس کے نتائج بچے کی صحت پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔
جب بچہ بوتل سے دودھ پیتا ہے، خاص طور پر لیٹے لیٹے، تو دودھ دانتوں کے گرد جمع رہتا ہے اور منہ میں موجود بیکٹیریا اس دودھ کو تیزاب میں بدل دیتے ہیں۔
یہ تیزاب آہستہ آہستہ دانتوں کی اوپری سطح کو خراب کر دیتا ہے، جس سے دانت پیلے، کمزور اور آخرکار گلنے لگتے ہیں۔
اسی حالت کو “بوتل کیریز” یا “بوتل فیڈنگ سنڈروم” کہا جاتا ہے۔

یہ مسئلہ زیادہ تر اگلے دانتوں میں ہوتا ہے، اور اگر بروقت توجہ نہ دی جائے تو بچے کے تمام دانت متاثر ہو سکتے ہیں۔
ایسے بچے کھانے میں دقت محسوس کرتے ہیں، ان کی مسکراہٹ متاثر ہوتی ہے اور مستقبل میں مستقل دانتوں کی ساخت بھی خراب ہو سکتی ہے۔

اس سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ:

بچے کو سوتے وقت بوتل نہ دی جائے۔

ہر فیڈ کے بعد بچے کا منہ صاف کیا جائے، چاہے وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔

اگر ممکن ہو تو بچے کو کپ یا گلاس سے دودھ پلانے کی عادت ڈالیں۔

پہلے سال کے بعد بوتل کا استعمال بتدریج ختم کریں۔

دانت نکلنے کے بعد باقاعدہ برش یا نرم کپڑے سے صفائی کریں۔

یاد رکھیں، ایک چھوٹی سی احتیاط آپ کے بچے کی مسکراہٹ کو عمر بھر محفوظ رکھ سکتی ہے۔ 😊
تحریر: ڈاکٹر جمشید اقبال

26/10/2025

بچوں کی چھاتی سے کھڑکھڑاہٹ کی آواز آنے کی وجوہات اور اس کا علاج۔

فلیٹ ہیڈ سنڈروم (Flat Head Syndrome) — بچوں کے سر کے چپٹے ہونے کی ایک قابلِ توجہ حالتفلیٹ ہیڈ سنڈروم ایک عام مگر قابلِ ت...
23/10/2025

فلیٹ ہیڈ سنڈروم (Flat Head Syndrome)
— بچوں کے سر کے چپٹے ہونے کی ایک قابلِ توجہ حالت

فلیٹ ہیڈ سنڈروم ایک عام مگر قابلِ توجہ حالت ہے، جس میں بچے کے سر کا پچھلا یا ایک طرفہ حصہ چپٹا نظر آنے لگتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر والدین بچوں کے سر کے نیچے اینٹ، گتہ، یا پھٹی رکھ دیتے ہیں تاکہ سر خوبصورت یا گول نظر آئے۔ لیکن
حقیقت میں یہی عمل بچے کے سر کے پیچھے مسلسل دباؤ ڈال کر
چپٹے پن کا باعث بنتا ہے (flatness)

نوزائیدہ بچوں کی کھوپڑی نرم اور لچکدار ہوتی ہے تاکہ دماغ آسانی سے بڑھ سکے۔ اگر بچہ روزانہ زیادہ دیر تک ایک ہی پوزیشن میں لیٹا رہے تو کھوپڑی کے نرم حصے دباؤ برداشت نہیں کر پاتے
اور ان کی شکل بدلنے لگتی ہے۔ اسے طبّی زبان میں پوسیشنل
پلاگیوسیفل کہا جاتا ہے (plagiocephaly)

یہ حالت بظاہر معمولی لگتی ہے لیکن اگر اس پر توجہ نہ دی جائے تو چہرے کی ساخت یا کانوں کی سیدھ میں بھی فرق آسکتا ہے۔ خوش قسمتی سے، یہ ایک درست ہونے والی حالت ہے۔ زیادہ تر بچوں میں عمر کے ساتھ، حرکت بڑھنے اور پوزیشن بدلنے کی عادت بننے پر سر کی شکل خود بخود بہتر ہو جاتی ہے۔

والدین درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:

بچے کو ہمیشہ سیدھی حالت میں نہ سلائیں، کروٹ بدل کر سلانا ضروری ہے۔

روزانہ کچھ دیر ٹمی ٹائم (Tummy Time) دیں تاکہ بچہ پیٹ کے بل رہ کر گردن اور سر حرکت دے سکے۔

تکیے یا کپڑے وغیرہ سر کے نیچے رکھنے سے گریز کریں۔

بچے کو وقتاً فوقتاً گود میں اٹھا کر رکھیں تاکہ سر پر دباؤ کم ہو
اگر چپٹا پن نمایاں ہو تو اپنے چائلڈ اسپیشلسٹ سے مشورہ ضرور کریں۔

یاد رکھیں، خوبصورت اور صحت مند سر کی شکل کسی خاص کپڑے یا طریقے سے نہیں بنتی، بلکہ قدرتی بڑھوتری اور درست دیکھ بھال سے بنتی ہے۔ تھوڑی سی احتیاط بچے کے سر کی
قدرتی ساخت اور دماغی نشوونما دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
تحریر: ڈاکٹر جمشید اقبال

COLIC PAIN:بچوں کا کولک پین ایک عام مسئلہ ہے جو عموماً زندگی کے ابتدائی تین سے چار مہینوں میں دیکھا جاتا ہے۔ اس میں بچہ ...
21/10/2025

COLIC PAIN:
بچوں کا کولک پین ایک عام مسئلہ ہے جو عموماً زندگی کے ابتدائی تین سے چار مہینوں میں دیکھا جاتا ہے۔ اس میں بچہ روزانہ مخصوص اوقات میں بہت زیادہ روتا ہے، خاص طور پر شام کے وقت۔ کولک کی اصل وجہ مکمل طور پر واضح نہیں، مگر سمجھا جاتا ہے کہ یہ بچے کے ناپختہ نظامِ ہضم، گیس یا پیٹ میں ہوا جمع ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ بعض اوقات ماں کے دودھ یا فارمولا فیڈ میں موجود کچھ اجزاء بھی بچے کے معدے کو حساس بنا دیتے ہیں۔

ایسے بچوں کا رونا عام طور پر تیز، مسلسل اور بے قابو ہوتا ہے، اور بچہ اپنی ٹانگیں پیٹ کی طرف کھینچ لیتا ہے۔ ماں باپ کے لیے یہ کیفیت بہت پریشان کن ہو سکتی ہے لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ کولک وقتی مسئلہ ہے اور بچے کے بڑھنے کے ساتھ خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے۔

بچے کو گود میں لے کر جھولنا، ہلکا مساج کرنا، یا پیٹ کے بل لٹانا کچھ سکون دے سکتا ہے۔ دودھ پلانے کے بعد ڈکار دلوانا بھی بہت اہم ہے۔ اگر بچہ بہت زیادہ رو رہا ہو یا کھانا پینا بند کر دے تو ڈاکٹر سے مشورہ لازمی کریں تاکہ کسی دوسری بیماری کو خارج کیا جا سکے۔
ڈاکٹر جمشید اقبال

16/10/2025

پیدائش کے بعد بچوں کی آنکھیں خراب ہونے کی وجہ اور اس کا علاج۔
❤️❤️

12/10/2025

موسمی تبدیلی کے بچوں کی صحت پے اثرات اور حفاظتی اقدامات۔
❤️❤️

05/08/2025

Follow on Instagram for more updates!!

05/08/2025

ملیریا کی علامات، اور اس سے بچاؤ کے طریقے۔

02/08/2025

بچوں میں چڑچڑاپن اور بھوک نہ لگنے کی وجوہات۔

31/07/2025

ماں کا دودھ نا آنے کی وجوہات!

30/07/2025

کیا آپ کا بچہ بھی آپ کی بات پے توجہ نہیں دیتا؟

29/07/2025

پیدائش کے فوری بعد بچوں کو کون سا دودھ پلائیں ؟

Address

Ibrahim Clinic, Main Surakhpur Road, Tanda
Gujrat
50700

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Jamshed Iqbal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category