Faiza Abad, Near to Sargodha Road Gujrat

Faiza Abad, Near to Sargodha Road Gujrat Our Page is about the FaizAbab People and shops and Clinic and Schools

  in Govt Schools Punjab.,     ,  ,   ,         ,  ,  ,  ,    ,     ,  ,  ,   ,     ,  ,
14/10/2024

in Govt Schools Punjab., , , , , , , , , , , , , , ,

24/01/2023

امام علی نقی علیہ السلام.......

Jab_Ak_Jadoogar_Nay_Imam_Ali_Naqi_(A.S)_Ky_Sath_Jado_Karny_Ki_Koshish_Ki_To_Kya_Hoa_IAllama_Ali_Raza(480p).mp4

25/12/2022

ایام فاطمیہ

25/12/2022

سیدہ زاہرا سلام علیا کے مصائب, ایام فاطمیہ

13/08/2021

پاکستان کے امیر ترین شخص کا بیمثال انداز عزاداری
ایک نصیحت آموز حقیقت

یہ واقعہ میں نے خطیب آل محمد (ص) قبلہ سید اظہر حسن زیدی صاحب سے سنا اور انہیں یہ بات خود اس امیر ترین شخص نے سنائی

50 کی دہائی کی بات ھے۔ کراچی روز عاشور کے جلوس میں ایک شخص بوسیدہ سیاہ لباس پہنے ماتم میں مصروف تھا۔ آس پاس کے لوگوں سے بالکل بے نیاز ہو کر اپنی دھن میں مگن۔

جلوس میں شریک ایک عزادار کو اس کا یہ انداز بہت بھلا معلوم ہوا۔ اس نے اس ماتم دار کو فقیر سمجھا۔ سستے زمانے تھے۔ اس نے جیب سے دس روپے کا نوٹ نکالا۔ اور خاموشی سے اس ماتمدار کے ہاتھ میں تھما دیا۔ اس نے اس نوٹ کو چوما اور جیب میں ڈال لیا۔

وہ مومن کہتا ھے کہ میری نظریں اس فقیر پر مرکوز رھیں

جب جلوس وداع ہوا اور ہم گھروں کو واپس لوٹے تو میں نے دیکھا کہ ایک دس گز لمبی شیورلے گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی تھی۔ ایک لمبے تڑنگے جوان نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور وہ فقیر اس گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو گیا۔

مجھے سخت حیرت ہوئی۔ میں نے آس پاس کے لوگوں سے پوچھا کہ یہ شخص کون تھا؟
پتہ چلا کہ وہ اس وقت کا پاکستان کا امیر ترین شخص تھا اور پاکستان کے سب سے بڑے بینک کا مالک تھا
مجھے اپنے آپ پر سخت غصہ آیا اور شرمندگی محسوس ہوئی

اگلے دن میں اس کے دفتر پہنچ گیا۔ اس نے مجھے بڑے احترام سے بٹھایا اور تواضع کی۔
میں نے ان سے معذرت کی اور اپنے کئے پر شرمندگی کا اظہار کیا۔ وہ رونے لگے۔ بولے ۔ ۔ آپ نے مجھے بہت بڑی رسید عطا کی۔ میں نے وہ نوٹ سنبھال لیا ھے اور اپنے بیوی بچوں سے وصیت کی ھے کہ جب میں مروں تو میرے کفن میں یہ نوٹ ضرور رکھ دینا۔ میں مخدومہ کونین صلواۃ اللہ علیہا کی بارگاہ اقدس میں یہ نوٹ بطور ثبوت پیش کرکے عرض کروں گا کہ بی بی (ص) میں آپ کے مظلوم شہزادے (ص) کا غم اس طرح سے مناتا تھا کہ ایک شخص نے فقیر سمجھ کر مجھے یہ خیرات دی۔

عزاداران امام عالی مقام (ع) یہ کوئی کہانی نہیں۔ حقیقت ھے۔ اور اس میں ہر صاحب شعور کیلئے ایک بہت بڑی نصیحت ھے۔

13/08/2021

COPY FROM GROUP , , A.S

(عمران کیانی) کا تعلق کربلا سے کیسے بنا.. بہت خوبصورت تحریر...
میرا تعلق روایتی سنی گھرانے سے ہے پہاڑوں میں آباد ان لوگوں میں دین کے متعلق سوجھ بوجھ نماز روزہ سے زیادہ نہیں ہے ہر قسم کی فرقہ واریت سے پاک نہایت پرامن علاقہ ہے۔
وہاں کے رسم رواج کے مطابق مرد کا رونا یا آنسو بہانا بزدلی اور کم ہمتی کی علامت سمجھا ہے میں نے بہت سے میتیں دیکھی ہیں جن پر غمزدہ چہرے والے باپ بھائی یا بیٹے تو ہوتے ہیں مگر روتے نہیں کہ کہیں لوگ بزدلی کا طعنہ نہ دیں۔
کربلا اور امام حسین سے میرا پہلا تعارف یہی ہوا تھا میری عمر اس وقت چودہ پندرہ برس تھی مجھے آج بھی یاد ہے وہ عاشور کا دن تھا اور گاؤں کے قریب ہی حکومت کی طرف سے ڈیم بنایا جا رہا تھا جہاں مزدوری کرنے والے افراد ہمارے ڈیرے پر ہی رہتے تھے
نویں محرم کی شب کچھ مزدور جن میں ایک دراز قد سرخ و سفید رنگت والے باریش سید بھی تھے میرے بابا جان(دادا)کے پاس آئے اور عاشور کے دن مسجد میں ذکر کربلا کی اجازت مانگی جو بابا جان نے دے دی۔
ظہر کی نماز ختم ہی ہوئی تھی کہ مسجد کے سپیکر سے ذکر شروع ہوا کہ کیسے
بےیارو مددگار قافلہ حسینی کربلا پہنچا
اور آل رسول پر کیسے پانی بند کر دیا گیا
پھر عباس پانی لینے فرات کے کنارے پہنچے
تو یزیدی لشکر نے ان کے بازوں کاٹ ڈالے
جوں جوں وہ سید مصائب اہل بیت پڑھتا گیا گاؤں کے مرد و بچے مسجد پہنچنا شروع ہو گئے بھیڑ اس قدر جمع ہو چکی تھی کہ مسجد سے متصل قبرستان کی دیواروں پر لوگ چڑھ گئے تھے
ابھی عاشور کے دن کا ذکر شروع ہوا اور سید اپنی رندھی ہوئی آواز میں قاسم و اکبر کی شہادت و مصائب پڑھ رہا تھا کہ مسجد کی دوسری طرف موجود گھروں میں خواتین کے رونے کی آوازیں آنے لگی یہاں تک کے جب سید ذکر کرتے کرتے شہادت امام عالی مقام تک پہنچے میرے بابا جان نے سر سے شملہ اتار دیا اور ان کے رونے کی آواز مسجد سے باہر آنے لگی پورا گاؤں رو رہا تھا صدیوں سے قائم مرد کے نہ رونے کی رسم واقعہ کربلا نے توڑ ڈالی تھی
اور اس دن سے اب تک ہر عاشور کو باوجود کے سبھی سنی ہیں باقاعدگی سے مجلس کا اہتمام کرتے ہیں اور وہ جو سارا سال اپنے عزیزوں کے بچھڑنے پر آنسو روک لیتے ہیں اس دن ہر کسی کے آنسوں بہتے ہیں ہر کوئی روتا ہے اور کوئی کسی کو بزدلی کا طعنہ بھی نہیں دیتا
پہلی دفعہ میرے ذہن میں سوال اٹھا کہ یہ ہستی اتنی عزیز کیوں ہے انہیں کہ جو قوم اپنے جوان بیٹوں کے مرنے پر رونا اپنی مردانگی کی توہین سمجھتی ہو اسکے جوان و بزرگ کسی بچے کی طرح بلک بلک کر کیوں رہے ہیں
یہ میرا حسین سے پہلا تعارف تھا۔

            ,
09/02/2021

,

29/09/2020

Mubashar Luqman

26/02/2020

16/02/2020

Address

In Circulation Of These Road G. T Road, Sargodha Road, Eid Ga Road
Gujrat
50700

Telephone

03333333333

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Faiza Abad, Near to Sargodha Road Gujrat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram