شیاطین جنّ اور جادو Shiyateen Jinn aur Jadoo

شیاطین جنّ اور جادو Shiyateen Jinn aur Jadoo Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from شیاطین جنّ اور جادو Shiyateen Jinn aur Jadoo, Meditation Center, Haripur, Haripur.

یہ پیج جنات اور انسانوں کو شیاطین کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دینےکیلیے بنایا گیا ہے۔
This page has been created to protect the jinn and humans from the evil of the devils.

جن کیا ہیںاللہ نے جنات کو بے دھوئیں کی آگ سے پیدا کیا (القرآن 55:15)۔ یہ انسانوں سے پوشیدہ ہیں لیکن مختلف شکلیں اختیار ک...
12/09/2025

جن کیا ہیں
اللہ نے جنات کو بے دھوئیں کی آگ سے پیدا کیا (القرآن 55:15)۔ یہ انسانوں سے پوشیدہ ہیں لیکن مختلف شکلیں اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں (جانوروں، انسانوں یا خوفناک صورتوں میں)۔ اختیار رکھتے ہیں—انسانوں کی طرح نیکی یا بدی کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ ہماری دنیا کے متوازی ایک جہان میں بستے ہیں، اپنی الگ معاشرت، خاندانوں اور نظام کے ساتھ۔

جنات کی اقسام
مارد (مارد)
اکثر سب سے طاقتور اور سرکش مانا جاتا ہے۔ سمندروں اور کھلے پانیوں سے منسوب۔ متکبر اور مغرور، بعض اوقات بڑی مشکل کے بعد خواہش پوری کرتے ہیں۔

عفریت (عفریت)
شدید طاقتور، چالاک اور پر فریب۔ آگ سے جڑا ہوا، سزا اور افراتفری سے تعلق۔ قرآن (27:39) میں بطور زبردست مخلوق کا ذکر۔

شیاطین (شیاطین)
برے جن، ابلیس (شیطان) کے پیروکار۔ انسانوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں، گناہوں کی طرف راغب کرتے ہیں۔ اکثر انبیاء اور نیک اعمال کے مخالف۔

غول (غول)
گوشت خور، شکل بدلنے والے جن، جو صحرا اور قبرستانوں سے منسوب ہیں۔ مسافروں کو بہکاتے، مردوں کو کھاتے اور خوف پھیلاتے ہیں۔ کہانیوں میں اکثر مردہ یا بھوت جیسی مخلوق کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔

سِلات (سِلة)
فریب اور بھیس بدلنے میں ماہر۔ آسانی سے انسانی معاشرے میں گھل مل جاتے ہیں۔ شریر ہوتے ہیں لیکن ہمیشہ بد نیت نہیں۔

جان (جانّ)
سب سے کمزور یا اولین قسم کے جن مانے جاتے ہیں۔ صحراؤں اور ویران جگہوں سے منسوب۔ نیک بھی ہو سکتے ہیں اور شرارتی بھی۔

جنات کے اعمال اور کردار
انسانوں کے ساتھ تعلق

خیالات القا کرتے ہیں (اچھے یا برے)۔ کبھی کبھی (روایات کے مطابق) انسانوں پر قابض یا بیماری کا باعث بنتے ہیں۔ بعض اوقات جادوگروں اور عاملوں کی مدد کرتے ہیں (سحر/کالا جادو)۔

ان کی اپنی دنیا
قبائل، خاندان، سردار اور حکمران رکھتے ہیں۔ مختلف مذاہب پر عمل کرتے ہیں — کچھ مسلمان، کچھ کافر۔ کھاتے پیتے، شادی کرتے اور مرتے ہیں، لیکن ان کی عمریں لمبی ہوتی ہیں۔

What Jinn Are?Created by Allah from smokeless fire (Qur’an 55:15).Invisible to humans but capable of taking various form...
12/09/2025

What Jinn Are?
Created by Allah from smokeless fire (Qur’an 55:15).
Invisible to humans but capable of taking various forms (animals, humans, monstrous shapes).

Possess free will—like humans, they can choose to do good or evil.
Live in a parallel world to ours, with their own societies, families, and hierarchies.

Kinds of Jinn
Scholars and folklore describe several types, including:

Marid (مارد)
Often depicted as the strongest and most rebellious. Associated with seas and open waters. Proud, arrogant, sometimes granting wishes after much struggle.

Ifrit (عفريت)
Fierce, cunning, and powerful. Often fiery in nature, linked to punishment and chaos. Mentioned in the Qur’an (27:39) as mighty beings.

Shayatin (شياطين)
Evil jinn, followers of Iblis (Satan). Whisper to humans, tempt them toward sin. Often opposed to prophets and righteous deeds.

Ghoul (غول)
Flesh-eating, shape-shifting jinn of deserts and graveyards. Known to lure travelers, devour corpses, or frighten people. In folklore, resembles an undead demon-like being.

Silat (سلة)
Masters of disguise and trickery. Blend easily into human society. Mischievous but not always malevolent.

Jann (جانّ)
Considered the weakest or earliest kind of jinn. Associated with deserts and wilderness. Can be benevolent or mischievous.

Deeds & Works of Jinn
Interaction with Humans: Inspire thoughts (good or bad). Cause possession or illness (in folklore). Sometimes aid magicians or sorcerers (sihr/black magic).

Their Society:
Have tribes, families, leaders, even religions (some are Muslim, others non-believers). Eat, drink, marry, and die like humans, though lifespans are longer.

08/09/2025

اسلامی تاریخ میں جنات مافوق الفطرت مخلوق ہیں جو دھوئیں کے بغیر آگ کی لپٹ سے بنی ہیں۔ ان کے پاس آزادانہ مرضی ہے اور وہ اچھے یا برے ہونے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ جنوں کی کئی قسمیں ہیں، جن میں سے کچھ AI کے ذریعے تصور کیے گئے ہیں...

08/09/2025

In Islamic history, Jinn are supernatural creatures made of smokeless fire. They have free will and can choose to be either good or evil. There are several types of jinn, here are some imagined by AI...

حصہ چہارمآسیب زدگی۔انسانوں پر واقع ہونے والے اکثر واقعات جنہیں ہم آسیب زدگی اور جناتی دورے سمجھتے ہیں محض تقسیم شخصیت (ش...
08/09/2025

حصہ چہارم
آسیب زدگی۔
انسانوں پر واقع ہونے والے اکثر واقعات جنہیں ہم آسیب زدگی اور جناتی دورے سمجھتے ہیں محض تقسیم شخصیت (شیزوفرینیا) اور مالیخولیاکے کے سبب ہوتے ہیں جن کی بنیاد خالص اعصابی ، دماغی ، جذباتی ذہنی ہوتی ہے یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے کچھ واقعات کی دیگر توجیہات بھی ہو سکتی ہیں جن میں سے ایک آسیب زدگی بھی ہو۔
آسیب کیا ہوتا ہے؟۔
اہل علم کا خیال ہے کہ فضا میں کچھ کم شعور توانائیاں کارفرما ہوتی ہیں جنہیں ہم ایک دھندلی یا ادھوری شخصیت کی مثال دے سکتے ہیں، ان نیم تاریک آوارہ گردوں کی اکثر حرکات غیر ارادی اور خود کاری ہوتی ہیں جو انسانی شعور اور ارادے سے خوفزدہ رہتی ہے۔ خلا میں تیرنے والی یہ قوت کردوں اکائیوں میں تقسیم ہے جوناقص، محدود اور ناقص وجود کی مالک ہیں۔ ان اکائیوں کو عنصری مخلوق یا قوائے عنصری کہا جاتا ہے۔
کیا آسیب یا جنات سے ڈرنا چاہیے؟۔
اس مخلوق کی جسمانی ترکیب اور دماغی ساخت انسان سے مختلف اور کم درجے کی مگر ایسے عناصر سے بنی ہوتی کہ ان کے جسم نظر بھی آسکتے ہیں نہیں بھی آسکتے، ان میں اپنی مرضی کی ہر صورت اختیار کرنے کی غیر معمولی صلاحیت ہوتے ہوئے بھی انسانی دماغ کی طاقتور لہروں سے خوفزدہ رہتے ہیں کیوں کہ انسان کے اعصابی نظام اور دل و دماغ سے نکلنے والی طول موج (ویو لینتھ) کی لہریں ان کے وجود کے لئے زہریلی گیس کا درجہ رکھتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ انسان نے جس طرح دوسری عنصری قوتوں جیسا کہ بھاپ، بجلی ، ایٹمی توانائی اور مقناطیسیت وغیرہ کوتسخیر کر کے انہیں اپنے مفادمیں استعمال کر رہا ہے اسی طرح اپنی خود اعتمادی اور قوت ارادی سے ان عنصر زاد مخلوقات کو تابع بنا یاجا سکتا ہے اس لئے کسی بھی شخص کوآسیب ، جنات یا چھلاؤں سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
اہلِ دعوت کی کامیابی سے انہیں کیا حاصل ہوتا ہے؟۔
کہا جاتا ہے کہ اہل دعوت کوجب اپنی محنت و ریاضت سے کسی طرح باطنی حیثیت حاصل ہوجاتی توصلے کے طور پرچار اقسام کے موکل ان کی معاونت کے طورپر مامور کئے جاتے ہیں۔ ان میں سے پہلے نیکوکار جن ہوتے ہیں، دوسرے وہ ملائکہ جن کا تعلق انسانی معاملات سے منسلک ہوتا ہے، تیسرے شہداء کی ارواح جن کی موجودگی کی گواہی مقدس کلام میں بھی موجود ہے، اسی طرح چوتھے اولیاء اکرام کی پاک روحیں ہوتی ہیں۔
دعوتِ عمل ۔
انسانی جسم مختلف قسم کے لطیف سالموں، جزوں، جسموں یا جثوں کا مجموعہ ہوتاہے جیسا کہ مغزکے اندر مغزکی تہیں اور گوشت کے ساتھ گوشت کی باطفتیں گندھی ہوتی ہیں ، اسی طرح وجودِ انساں میں سات لطیفے موجود ہوتے ہیں ، جن میں اہم لطیفہ زیرناف ( لطیفہٗ نفس) ،لطیفہ ٗقلب، لطیفہٗ روح اور لطیفہء سر ہوتے ہیں جوعام زندگی میں تو محدودہوتے ہیں مگر ریاضت، عبادت، نیکی، ذکر، پارسائی اور مرشد کی رہنمائی سے اپنا دائرہ کارِ عمل بڑھاتے رہتے ہیں۔
عامل کی دعوت کا عمل لطیفہء نفس سے شروع ہوتا ہے جواس مقام ناسوت میں واقع ہے جس سے شیاطین اور سفلی روحیں تعلق رکھتی ہیں، اس لئے دعوت تسخیر جنات کا عمل شروع ہوتے ہی اس لطیفہ میں تحرک پیدا ہوکر ایک ایسی ماورائی قوت جنم دیتا ہے جو جنات اور سفلی ارواح کی مرغوب غذا ہوتی ہے جسے پانے کی لالچ میں نادیدہ مخلوق حاضر ہوکر اہلِ دعوت کی فرمانبردار ہو جاتی ہیں اس لئے ہی اسے دعوت عمل کہتے ہیں۔
تسخیرِ جنات میں پیش آنے والے ممکنہ مصائب۔
اس نادیدہ ناری مخلوق یا آتش زادوں کی حاضرات اور تسخیر کا معاملہ بازیچہ اطفال نہیں ہوتا اس لئے دورانِ عمل پڑہنے والوں کو سخت ترین جسمانی آزمائشوں، ذہنی کٹھنائیوں اورروحانی مشکلوں کی وادی ء پرخارسے گزرنا پڑتا ہے۔ ذہن و قلب پر ہر وقت نظر نہ آنے والے ان مہیب سایوں سے نقصان پہنچنے کا خدشہ ننگی تلوار کی طرح لٹکتا رہتا ہے۔ کوئی بھی ذی نفس آسانی سے کسی کی غلامی میں آنا پسند نہیں کرتا اس لئے معمول اپنے عامل کو ہر طرح سے بھٹکانے کی تگ و دو کے حیلے بہانے کرتے رہے ہیں، اس لئے ذرا سی بے احتیاتی اہلِ دعوت کے لئے کانٹوں کی کھیتی اگانے کے ساتھ عمل کا الٹے ہوجانے (رجعت)کا موجب بن جاتی ہے جس کا ازالہ مشکل ہونے کے ساتھ ہر ممکن نقصان کا امکان موجود ہوتا ہے۔ تسخیرِ جنات انسانی ذہن میں ایک رومانوی فکر کو جنم دیتی ہے جس کے حصول کی لالچ میں بہت سے لوگ اس عمل کو سہل جان کر نہ صرف اس کے خواہشمند ہوتے ہیں بلکہ سوچے سمجھے بغیر یا کسی کے کہے سنے پرعمل شروع کردیتے ہیں جوکہ انتہائی تباہ کن ہے۔ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ تسخیرِ جنات کی مہمات روح افزا کم اور جان لیوا زیادہ ہوتی ہیں اس لئے مکمل ضوابط اور شرائط جاننے کے ساتھ کسی عامل و عارف کی نگرانی اور اجازت کے بغیر اس کوچے میں قدم نہیں رکھنا چاہیے ورنہ ایسی عمل خوانیوں کے نتیجہ میں لوگ اپنی جان گنوا نے کے ساتھ پاگل اور مخبوط الحواس بنادیئے جاتے ہیں۔
موضوعات پر اتنا لکھا ہے کہ عقل حیران ہوجاتی ہے۔ ان کی طببیعت میں جنتا تنوع ہے ان کی ۔۔۔۔۔ میں بھی رنگارنگی ہے۔ وہ ایک مجلس آراء قسم کے جوان ہیں، ہم سنیں اور کہا کرے کوئی۔
آگیا بتال جنات کا ایک شریر و مضحکہ خیز قبیلہ ہوتاہے جوعجیب و غریب بھیس بدل کر لوگوں کو ڈراتے رہتے ہیں۔
جن اور بھوتوں کو نادیدہ مخلوقات کی دو علیٰحدہ علٰیحدہ دو قسمیں تصور کیا جاتا ہے۔
جنات کا کیمیائی فارمولا۔
جنات گندھک کے کیمیاوی مواد سے وجود میں آئے ہیں ۔ سلفر اور فلورین گیسوں کے سالمات بھی آگ سے بنی ہوئی مخلوق کے لئے مناسب مواد کی حیثیت رکھتے ہیں کیوں کہ ان دونوں گیسوں کے ایٹم ہائیڈروجن کے ایٹموں سے زیادہ پختہ اور مستحکم ہوتے ہیں۔ جس طرح زمین پر پائی جانے والی تمام مخلوقات کی کیمیاوی ترکیب میں ہائیڈروکابونزعناصر بروئے کارعمل ہیں یعنی جس طرح انسان ہائیڈروکاربونز مرکبات سے بنائے گئے ہیں اسی طرح زمین یا دیگر سیاروں میں کوئی مخلوق کاربونز مصالے سے بھی وجود میں آسکتی ہے اور کیا سلفر اور فلورین کے ایٹموں یا سالموں کی ترکیب سے جنات جیسی خصوصیتیں رکھنے والی جاندار ہستیاں جنم نہیں لے سکتیں۔ مابعد الحیاتیات کی رو سے سلفر اور فلورین کے مرکبات سے ایسی آتشین مخلوق کا وجود کوئی انہونی بات نہیں ہوگی جو آٹھ سو درجہء حرارت پر زندہ رہ سکنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
اسی طرح سلیکان نامی عنصر کے ایٹموں کوبھی ناری مخلوق کی تخلیق کے لئے بنیادی مصالحے کی حیثیت سے استعمال میں لایاجا سکتا ہے۔ علمِ کیمیا بتاتا ہے کہَ فلورو کاربونز اور سلیکان سے بنی ہوئی مخلوق ایسے لطیف اجسام کی مالک ہو گی جن میں وقتِ ضرورت اپنے آپ کوہر سانچے میں ڈھالنے کی صلاحیت ہوگی، اس کا جسمانی نظام غذا کی ضرورت سے بے نیاز ہو گا اوروہ زندہ رہنے کے لئے زمینی درختوں وپودوں کی طرح براہِ راست سورج سے توانائی حاصل کرے گی۔ مشتری انتہائی گرم سیارہ ہے جس پر ہماری زمین کی نباتات اور حیوانات ایک لمحے کے لئے بھی زندہ نہیں رہ سکتے البتہ سلیکان سے بنے ہوئے اجسام یا جنات وہاں سکون کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔
جنات کی قسمیں۔
جنات کی بے شمار قسمیں بتائی جاتی ہیں، ان میں بھی انسانوں کی طرح بعض بے حد خطرناک ہوتے ہیں ، بعض بے ضرر، بعض قوی ہوتے ہیں توبعض کمزور۔ ان کے کچھ گروہ انسانوں سے میل ملاپ کرنے میں عار نہیں سمجھتے بلکہ اس تعلق کو پسند بھی کرتے ہیں جبکہ ان کی ایک بڑی آبادی انسانوں سے گھل مل جانا پسند نہیں کرتی ۔ جناب رئیس امروہوی نے جنات نامی اپنی کتاب میں جنات کی دس قسمیں بتائی ہیں۔ ۱۔ ابلیس ، ۲۔ شیاطین، ۳۔ مروہ، ۴۔ عفاریت، ۵۔ اعوان، ۶۔ غواصون، ۷۔ طیارون، ۸۔ توابع، ۹۔ قرنا، اور ۱۰۔ عمار۔
مابعدالحیاتیات (ایکسوبائیولوجی) کیا ہے؟۔
علم ِ مابعد الحیاتیات کا بانی ایک امریکی عالم حیات جوشولیڈربرگ ہے ۔ اس سائنس کا بنیادی سوال یہ ہے کہ ہماری زمین سے باہر کائنات کے کسی گوشے میں یا خلاء کے کسی قریب وبعید سیارے میں زندگی کی کوئی صورت موجود ہے اور اگر ہے تووہ زمینی زندگی سے کس حد کس طرح مشابہہ یا کس حد تک مختلف و متضاد ہے۔ جدید ہیت دانوں کا اندازہ ہے کہ صرف ہمارے کہکشانی نظام کے اندر ایسے ۶۴ کروڑ سیارے پائے جاتے ہیں جہاں زندگی کسی نہ کسی صورت میں موجود ہونے کا گمان رد نہیں کیا جا سکتا ،ہے ناں حیرت کی بات یعنی چونسٹھ کروڑ اقسامِ زندگی مزید تحقیق یہ ہے کہ ان چونسٹھ کروڑ سیاروں میں دس لاکھ سیارے باشعور اور ترقی یافتہ زندگی کو وجود میں لانے کے لئے ہر طرح سے موزون ہیں اس لئے وہاں اعلی درجے کی ذہین اور باشعور مخلوق کا کامل امکان پایا جانا خارج الامکان نہیں ہے ۔ اس تحقیق کو مظبوط کرنے کے لئے تاریخ میں مثا لیں بھری پڑی ہیں، جیسے تناظر میں اڑن طشتریوں کے زمین پر اترنے کے قصے یا بابل و نینوا کی دیو مالا علم الاصنام کی رو سے قدیم ترین زمانے میں دو آسمانی فرشتے ہاروت و ماروت آسمان سے زمین پر اترے اور دجلہ اور فرات کے کنارے تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھی، تو کیا ہاروت و ماروت کسی دوسرے سیارے سے متعلق تھے۔ ویسے بھی عقل یہ بات تسلیم نہیں کرنے کے حق میں نہیں کہ اس وسیع و عریض دنیامیں زمین کی کوکھ ہی بس ہری بھری ہے جبکہ باقی ساری کائنات کے تمام سیارے بانجھ ہوں گے حالانکہ ان میں سے کئی ہماری زمین سے کہیں زیادہ روشن اور شاندار ہیں ۔
مابعد الحیاتیات میں زندگی کی ایسی اشکال اورنمونوں کو زیر بحث لایا جاتا ہے جو سرِ دست ہماری زمین پر کہیں نظر نہیں آتے مگر مشاہدوں سے یہ حقیقت ثابت ہوچکی ہے کہ کائنات میں زندگی بیشترایسے متضاد نمونوں کو بروئے کار لانے کی صلاحیت رکھتی ہے جنہیں موجودہ علم الحیات اور فن حیاتیات کے اصولوں کی کسوٹی پر نہیں پرکھا جا سکتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کائنات میں زندگی کی ہزارہا مگر الگ الگ فارمولے پائے جا سکنے کے امکانات موجود ہیں جبکہ ہماراعلمِ حیاتیات زندگی کے صرف ایک پروٹین اورپانی والے فارمولے کے گرد گھومتا ہے لیکن چوں کہ اس ایک فارمولے سے زندگی کے تمام امکانات کی تشریح ممکن نہیں اس لئے مابعد الحیاتیات کے ذریعے زندگی کے دوسرے ممکن فارمولوں جیسا کہ ایمونیا، سلفر، فلورین، سلیکان وغیرہ کوزیرِ بحث لایا گیا ہے۔ اس فارمولے پر کام کرنے والے سائنسدانوں کا موضوعِ فکر یہ ہے کہ ایسے سیاروں میں کس قسم کے جاندار پائے جاتے ہیں جہاں آب و ہوا اور درجہ ء حرارت ہمارے سیارے سے بالکل مختلف ہے۔
کیادوسرے سیاروں میں حیات موجود ہو سکتی ہے؟۔
آخرہم لوگ کیوںیہی فرض کئے بیٹھے ہیں کہ زندگی کاصرف وہی فارمولا ضامنِ حیات ہے جو زمین پر موجود ہے یا جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں، کیا ایسا نہیں کہ حیات کی کوئی دوسری یا کئی اور اشکال ، فارم یا صورتیں وسیع کائنات میں نہیں ہوسکتی ہیں۔ زمینی مخلوقات کی شکل ،صورت اور اقسام میں اختلاف کے باجودان کا بنیادی مادہ ء تعمیر ایک ہے ، یہاں پر زندگی اپنے وجود کی بقا کے لئے آکسیجن کی مرہونِ منت ہے مگراس سے ایسا سوچنا کہ جہاں آکسیجن نہیں وہاں زندگی کی تشکیل ممکن نہیں ہوگی خیالِ باطل کی طرح ہے۔ آج سائنس ہمیں علم دیتی ہے زمین پر سبزہ، پودے اور درخت آکسیجن پیدا کرتے ہیں مگر ایک زمانے میں جب زمین کاوشال سینہ اہلِ نباتات کے وجود سے فقیر کے کشکول کی طرح خالی تھا تب بھی یہاں ایسے جاندار موجودتھے جو آکسیجن کے بغیر بھی زندہ رہنے اور اپنی نسل بڑہانے کی صلاحیت رکھتے تھے، ان ہی کی باقیات میں سے قبل آکسیجن دور کے بعض بیکٹریاآج تک اپنا وجود بچائے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں بیشتر سمندری مخلوق جیسا کہ مچھلی وغیرہ کی مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں جو اگر پانی سے نکال آکسیجن کے سمندر میں ساحل پر رکھی جائیں تو تڑپ تڑپ کر مرجاتی ہیں یعنی آکسیجن جیسی نفیس چیز ان کے لئے قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔
اہلِ مشاہدہ ویسے بھی صرف آکسیجن کے ہونے سے زندگی کی ضمانت والے فارمولے کوسا ئنسی طور پر رد کر چکے ہیں اس لئے اگردھرتی پر ایسی مخلوق اپنا وجود قائم رہ سکتی ہیں جو زندگی کے لئے آکسیجن کی محتاج نہیں ہے توکائنات میں پھیلے ہوئے دوسرے سیارے پرزندگی کے کسی نہ کسی فارم میں موجود ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتاہے۔ مثال کے طور پراگر مریخ پر آکسیجن کے بجائے ایمونیا بڑی تعداد میں پائی جاتی ہے یا جس طرح جیوپیٹر اور زحل پر ہائیڈروجن اور ہیلیم گیسیں ایمونیا اور میتھان گیسوں کی آمیزش سے کثیر مقدار میں موجود ہیں تو وہاں زندگی کی نشو نما ممکنات میں سہے ہے کیوں کہ یہ تمام کیمیاوی اجزا حیات کی نشو ونما کے لئے قطعی مناسب ہیںیہ الگ بات ہے کہ ان گیسوں کی تدوین و ترتیب سے زندگی کی شکل و ساخت زمینی جانداروں سے کتنی ہی مختلف کیوں نہ ہو۔
ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اگر زمین پر زندگی کافارمولا پروٹین ان واٹر ہے تو دیگر سیاروں میں جو گیس جنتی زیادہ موجود ہوگی وہاں جانداروں کی ہیت کے فارمولے اسی مناسب سے ترتیب پائیں گے مثلاً پروٹین ان ایمونیا وغیرہ۔ زمین پر جاندار اپنی غذا ہائیڈروجن اور کاربن کے سالمات سے حاصل کرتے ہیں جبکہ لیکن اگر دوسرے سیاروں کی مخلوق دوسرے فارمولوں کے تحت پیدا ہوئی ہوں گی تو لا محالہ ان کی غذا بھی مختلف ہوگی یا یہ بھی خارج الامکان نہیں کہ اپنی انرجی فضا یاروشنی سے جذب کرکے زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ ایسی صورتحال میں جب کہ انہیں غذا کی ضرورت نہیں تو لامحالہ ان کے اجسام بھی غذا کو ہضم کرنے کا سامان سے خالی ہوں گے ۔ اس طرح یہ بات بھی واضع ہوجاتی ہے کہ ان کا جسم انسانوں جیسا نہیں بلکہ کسی اور طرح کا ہو، ممکن ہے وہ ٹھوس نہ ہوں یا بے وزن ہوں، یہ بھی ہو سکتا ہے ان میں ہوا میں اڑنے کی صلاحیت بھی ہو، یا وہ مخلوق اتنی لطیف ہو کہ چشم زون نظر سے غائب ہوجانے اورمختلف شکلیں اختیار کرسکنے پر قادر ہو وغیرہ وغیرہ۔ مابعدالحیات کی سائنس کی رو سے اس وسیع و عریض کائنات لاکھوں ڈھکے چھپے علاقوں میں اس قسم کی مخلوقات کا پایا جانا ممکن ہے۔

حصہ چہارم
آسیب زدگی۔
انسانوں پر واقع ہونے والے اکثر واقعات جنہیں ہم آسیب زدگی اور جناتی دورے سمجھتے ہیں محض تقسیم شخصیت (شیزوفرینیا) اور مالیخولیاکے کے سبب ہوتے ہیں جن کی بنیاد خالص اعصابی ، دماغی ، جذباتی ذہنی ہوتی ہے یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے کچھ واقعات کی دیگر توجیہات بھی ہو سکتی ہیں جن میں سے ایک آسیب زدگی بھی ہو۔
آسیب کیا ہوتا ہے؟۔
اہل علم کا خیال ہے کہ فضا میں کچھ کم شعور توانائیاں کارفرما ہوتی ہیں جنہیں ہم ایک دھندلی یا ادھوری شخصیت کی مثال دے سکتے ہیں، ان نیم تاریک آوارہ گردوں کی اکثر حرکات غیر ارادی اور خود کاری ہوتی ہیں جو انسانی شعور اور ارادے سے خوفزدہ رہتی ہے۔ خلا میں تیرنے والی یہ قوت کردوں اکائیوں میں تقسیم ہے جوناقص، محدود اور ناقص وجود کی مالک ہیں۔ ان اکائیوں کو عنصری مخلوق یا قوائے عنصری کہا جاتا ہے۔
کیا آسیب یا جنات سے ڈرنا چاہیے؟۔
اس مخلوق کی جسمانی ترکیب اور دماغی ساخت انسان سے مختلف اور کم درجے کی مگر ایسے عناصر سے بنی ہوتی کہ ان کے جسم نظر بھی آسکتے ہیں نہیں بھی آسکتے، ان میں اپنی مرضی کی ہر صورت اختیار کرنے کی غیر معمولی صلاحیت ہوتے ہوئے بھی انسانی دماغ کی طاقتور لہروں سے خوفزدہ رہتے ہیں کیوں کہ انسان کے اعصابی نظام اور دل و دماغ سے نکلنے والی طول موج (ویو لینتھ) کی لہریں ان کے وجود کے لئے زہریلی گیس کا درجہ رکھتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ انسان نے جس طرح دوسری عنصری قوتوں جیسا کہ بھاپ، بجلی ، ایٹمی توانائی اور مقناطیسیت وغیرہ کوتسخیر کر کے انہیں اپنے مفادمیں استعمال کر رہا ہے اسی طرح اپنی خود اعتمادی اور قوت ارادی سے ان عنصر زاد مخلوقات کو تابع بنا یاجا سکتا ہے اس لئے کسی بھی شخص کوآسیب ، جنات یا چھلاؤں سے ڈرنا نہیں چاہیے۔
اہلِ دعوت کی کامیابی سے انہیں کیا حاصل ہوتا ہے؟۔
کہا جاتا ہے کہ اہل دعوت کوجب اپنی محنت و ریاضت سے کسی طرح باطنی حیثیت حاصل ہوجاتی توصلے کے طور پرچار اقسام کے موکل ان کی معاونت کے طورپر مامور کئے جاتے ہیں۔ ان میں سے پہلے نیکوکار جن ہوتے ہیں، دوسرے وہ ملائکہ جن کا تعلق انسانی معاملات سے منسلک ہوتا ہے، تیسرے شہداء کی ارواح جن کی موجودگی کی گواہی مقدس کلام میں بھی موجود ہے، اسی طرح چوتھے اولیاء اکرام کی پاک روحیں ہوتی ہیں۔
دعوتِ عمل ۔
انسانی جسم مختلف قسم کے لطیف سالموں، جزوں، جسموں یا جثوں کا مجموعہ ہوتاہے جیسا کہ مغزکے اندر مغزکی تہیں اور گوشت کے ساتھ گوشت کی باطفتیں گندھی ہوتی ہیں ، اسی طرح وجودِ انساں میں سات لطیفے موجود ہوتے ہیں ، جن میں اہم لطیفہ زیرناف ( لطیفہٗ نفس) ،لطیفہ ٗقلب، لطیفہٗ روح اور لطیفہء سر ہوتے ہیں جوعام زندگی میں تو محدودہوتے ہیں مگر ریاضت، عبادت، نیکی، ذکر، پارسائی اور مرشد کی رہنمائی سے اپنا دائرہ کارِ عمل بڑھاتے رہتے ہیں۔
عامل کی دعوت کا عمل لطیفہء نفس سے شروع ہوتا ہے جواس مقام ناسوت میں واقع ہے جس سے شیاطین اور سفلی روحیں تعلق رکھتی ہیں، اس لئے دعوت تسخیر جنات کا عمل شروع ہوتے ہی اس لطیفہ میں تحرک پیدا ہوکر ایک ایسی ماورائی قوت جنم دیتا ہے جو جنات اور سفلی ارواح کی مرغوب غذا ہوتی ہے جسے پانے کی لالچ میں نادیدہ مخلوق حاضر ہوکر اہلِ دعوت کی فرمانبردار ہو جاتی ہیں اس لئے ہی اسے دعوت عمل کہتے ہیں۔
تسخیرِ جنات میں پیش آنے والے ممکنہ مصائب۔
اس نادیدہ ناری مخلوق یا آتش زادوں کی حاضرات اور تسخیر کا معاملہ بازیچہ اطفال نہیں ہوتا اس لئے دورانِ عمل پڑہنے والوں کو سخت ترین جسمانی آزمائشوں، ذہنی کٹھنائیوں اورروحانی مشکلوں کی وادی ء پرخارسے گزرنا پڑتا ہے۔ ذہن و قلب پر ہر وقت نظر نہ آنے والے ان مہیب سایوں سے نقصان پہنچنے کا خدشہ ننگی تلوار کی طرح لٹکتا رہتا ہے۔ کوئی بھی ذی نفس آسانی سے کسی کی غلامی میں آنا پسند نہیں کرتا اس لئے معمول اپنے عامل کو ہر طرح سے بھٹکانے کی تگ و دو کے حیلے بہانے کرتے رہے ہیں، اس لئے ذرا سی بے احتیاتی اہلِ دعوت کے لئے کانٹوں کی کھیتی اگانے کے ساتھ عمل کا الٹے ہوجانے (رجعت)کا موجب بن جاتی ہے جس کا ازالہ مشکل ہونے کے ساتھ ہر ممکن نقصان کا امکان موجود ہوتا ہے۔ تسخیرِ جنات انسانی ذہن میں ایک رومانوی فکر کو جنم دیتی ہے جس کے حصول کی لالچ میں بہت سے لوگ اس عمل کو سہل جان کر نہ صرف اس کے خواہشمند ہوتے ہیں بلکہ سوچے سمجھے بغیر یا کسی کے کہے سنے پرعمل شروع کردیتے ہیں جوکہ انتہائی تباہ کن ہے۔ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ تسخیرِ جنات کی مہمات روح افزا کم اور جان لیوا زیادہ ہوتی ہیں اس لئے مکمل ضوابط اور شرائط جاننے کے ساتھ کسی عامل و عارف کی نگرانی اور اجازت کے بغیر اس کوچے میں قدم نہیں رکھنا چاہیے ورنہ ایسی عمل خوانیوں کے نتیجہ میں لوگ اپنی جان گنوا نے کے ساتھ پاگل اور مخبوط الحواس بنادیئے جاتے ہیں۔
موضوعات پر اتنا لکھا ہے کہ عقل حیران ہوجاتی ہے۔ ان کی طببیعت میں جنتا تنوع ہے ان کی ۔۔۔۔۔ میں بھی رنگارنگی ہے۔ وہ ایک مجلس آراء قسم کے جوان ہیں، ہم سنیں اور کہا کرے کوئی۔
آگیا بتال جنات کا ایک شریر و مضحکہ خیز قبیلہ ہوتاہے جوعجیب و غریب بھیس بدل کر لوگوں کو ڈراتے رہتے ہیں۔
جن اور بھوتوں کو نادیدہ مخلوقات کی دو علیٰحدہ علٰیحدہ دو قسمیں تصور کیا جاتا ہے۔

جنات کا کیمیائی فارمولا۔
جنات گندھک کے کیمیاوی مواد سے وجود میں آئے ہیں ۔ سلفر اور فلورین گیسوں کے سالمات بھی آگ سے بنی ہوئی مخلوق کے لئے مناسب مواد کی حیثیت رکھتے ہیں کیوں کہ ان دونوں گیسوں کے ایٹم ہائیڈروجن کے ایٹموں سے زیادہ پختہ اور مستحکم ہوتے ہیں۔ جس طرح زمین پر پائی جانے والی تمام مخلوقات کی کیمیاوی ترکیب میں ہائیڈروکابونزعناصر بروئے کارعمل ہیں یعنی جس طرح انسان ہائیڈروکاربونز مرکبات سے بنائے گئے ہیں اسی طرح زمین یا دیگر سیاروں میں کوئی مخلوق کاربونز مصالے سے بھی وجود میں آسکتی ہے اور کیا سلفر اور فلورین کے ایٹموں یا سالموں کی ترکیب سے جنات جیسی خصوصیتیں رکھنے والی جاندار ہستیاں جنم نہیں لے سکتیں۔ مابعد الحیاتیات کی رو سے سلفر اور فلورین کے مرکبات سے ایسی آتشین مخلوق کا وجود کوئی انہونی بات نہیں ہوگی جو آٹھ سو درجہء حرارت پر زندہ رہ سکنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
اسی طرح سلیکان نامی عنصر کے ایٹموں کوبھی ناری مخلوق کی تخلیق کے لئے بنیادی مصالحے کی حیثیت سے استعمال میں لایاجا سکتا ہے۔ علمِ کیمیا بتاتا ہے کہَ فلورو کاربونز اور سلیکان سے بنی ہوئی مخلوق ایسے لطیف اجسام کی مالک ہو گی جن میں وقتِ ضرورت اپنے آپ کوہر سانچے میں ڈھالنے کی صلاحیت ہوگی، اس کا جسمانی نظام غذا کی ضرورت سے بے نیاز ہو گا اوروہ زندہ رہنے کے لئے زمینی درختوں وپودوں کی طرح براہِ راست سورج سے توانائی حاصل کرے گی۔ مشتری انتہائی گرم سیارہ ہے جس پر ہماری زمین کی نباتات اور حیوانات ایک لمحے کے لئے بھی زندہ نہیں رہ سکتے البتہ سلیکان سے بنے ہوئے اجسام یا جنات وہاں سکون کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔
جنات کی قسمیں۔
جنات کی بے شمار قسمیں بتائی جاتی ہیں، ان میں بھی انسانوں کی طرح بعض بے حد خطرناک ہوتے ہیں ، بعض بے ضرر، بعض قوی ہوتے ہیں توبعض کمزور۔ ان کے کچھ گروہ انسانوں سے میل ملاپ کرنے میں عار نہیں سمجھتے بلکہ اس تعلق کو پسند بھی کرتے ہیں جبکہ ان کی ایک بڑی آبادی انسانوں سے گھل مل جانا پسند نہیں کرتی ۔ جناب رئیس امروہوی نے جنات نامی اپنی کتاب میں جنات کی دس قسمیں بتائی ہیں۔ ۱۔ ابلیس ، ۲۔ شیاطین، ۳۔ مروہ، ۴۔ عفاریت، ۵۔ اعوان، ۶۔ غواصون، ۷۔ طیارون، ۸۔ توابع، ۹۔ قرنا، اور ۱۰۔ عمار۔
مابعدالحیاتیات (ایکسوبائیولوجی) کیا ہے؟۔
علم ِ مابعد الحیاتیات کا بانی ایک امریکی عالم حیات جوشولیڈربرگ ہے ۔ اس سائنس کا بنیادی سوال یہ ہے کہ ہماری زمین سے باہر کائنات کے کسی گوشے میں یا خلاء کے کسی قریب وبعید سیارے میں زندگی کی کوئی صورت موجود ہے اور اگر ہے تووہ زمینی زندگی سے کس حد کس طرح مشابہہ یا کس حد تک مختلف و متضاد ہے۔ جدید ہیت دانوں کا اندازہ ہے کہ صرف ہمارے کہکشانی نظام کے اندر ایسے ۶۴ کروڑ سیارے پائے جاتے ہیں جہاں زندگی کسی نہ کسی صورت میں موجود ہونے کا گمان رد نہیں کیا جا سکتا ،ہے ناں حیرت کی بات یعنی چونسٹھ کروڑ اقسامِ زندگی مزید تحقیق یہ ہے کہ ان چونسٹھ کروڑ سیاروں میں دس لاکھ سیارے باشعور اور ترقی یافتہ زندگی کو وجود میں لانے کے لئے ہر طرح سے موزون ہیں اس لئے وہاں اعلی درجے کی ذہین اور باشعور مخلوق کا کامل امکان پایا جانا خارج الامکان نہیں ہے ۔ اس تحقیق کو مظبوط کرنے کے لئے تاریخ میں مثا لیں بھری پڑی ہیں، جیسے تناظر میں اڑن طشتریوں کے زمین پر اترنے کے قصے یا بابل و نینوا کی دیو مالا علم الاصنام کی رو سے قدیم ترین زمانے میں دو آسمانی فرشتے ہاروت و ماروت آسمان سے زمین پر اترے اور دجلہ اور فرات کے کنارے تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھی، تو کیا ہاروت و ماروت کسی دوسرے سیارے سے متعلق تھے۔ ویسے بھی عقل یہ بات تسلیم نہیں کرنے کے حق میں نہیں کہ اس وسیع و عریض دنیامیں زمین کی کوکھ ہی بس ہری بھری ہے جبکہ باقی ساری کائنات کے تمام سیارے بانجھ ہوں گے حالانکہ ان میں سے کئی ہماری زمین سے کہیں زیادہ روشن اور شاندار ہیں ۔
مابعد الحیاتیات میں زندگی کی ایسی اشکال اورنمونوں کو زیر بحث لایا جاتا ہے جو سرِ دست ہماری زمین پر کہیں نظر نہیں آتے مگر مشاہدوں سے یہ حقیقت ثابت ہوچکی ہے کہ کائنات میں زندگی بیشترایسے متضاد نمونوں کو بروئے کار لانے کی صلاحیت رکھتی ہے جنہیں موجودہ علم الحیات اور فن حیاتیات کے اصولوں کی کسوٹی پر نہیں پرکھا جا سکتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کائنات میں زندگی کی ہزارہا مگر الگ الگ فارمولے پائے جا سکنے کے امکانات موجود ہیں جبکہ ہماراعلمِ حیاتیات زندگی کے صرف ایک پروٹین اورپانی والے فارمولے کے گرد گھومتا ہے لیکن چوں کہ اس ایک فارمولے سے زندگی کے تمام امکانات کی تشریح ممکن نہیں اس لئے مابعد الحیاتیات کے ذریعے زندگی کے دوسرے ممکن فارمولوں جیسا کہ ایمونیا، سلفر، فلورین، سلیکان وغیرہ کوزیرِ بحث لایا گیا ہے۔ اس فارمولے پر کام کرنے والے سائنسدانوں کا موضوعِ فکر یہ ہے کہ ایسے سیاروں میں کس قسم کے جاندار پائے جاتے ہیں جہاں آب و ہوا اور درجہ ء حرارت ہمارے سیارے سے بالکل مختلف ہے۔
کیادوسرے سیاروں میں حیات موجود ہو سکتی ہے؟۔
آخرہم لوگ کیوںیہی فرض کئے بیٹھے ہیں کہ زندگی کاصرف وہی فارمولا ضامنِ حیات ہے جو زمین پر موجود ہے یا جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں، کیا ایسا نہیں کہ حیات کی کوئی دوسری یا کئی اور اشکال ، فارم یا صورتیں وسیع کائنات میں نہیں ہوسکتی ہیں۔ زمینی مخلوقات کی شکل ،صورت اور اقسام میں اختلاف کے باجودان کا بنیادی مادہ ء تعمیر ایک ہے ، یہاں پر زندگی اپنے وجود کی بقا کے لئے آکسیجن کی مرہونِ منت ہے مگراس سے ایسا سوچنا کہ جہاں آکسیجن نہیں وہاں زندگی کی تشکیل ممکن نہیں ہوگی خیالِ باطل کی طرح ہے۔ آج سائنس ہمیں علم دیتی ہے زمین پر سبزہ، پودے اور درخت آکسیجن پیدا کرتے ہیں مگر ایک زمانے میں جب زمین کاوشال سینہ اہلِ نباتات کے وجود سے فقیر کے کشکول کی طرح خالی تھا تب بھی یہاں ایسے جاندار موجودتھے جو آکسیجن کے بغیر بھی زندہ رہنے اور اپنی نسل بڑہانے کی صلاحیت رکھتے تھے، ان ہی کی باقیات میں سے قبل آکسیجن دور کے بعض بیکٹریاآج تک اپنا وجود بچائے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں بیشتر سمندری مخلوق جیسا کہ مچھلی وغیرہ کی مثالیں بھی دی جا سکتی ہیں جو اگر پانی سے نکال آکسیجن کے سمندر میں ساحل پر رکھی جائیں تو تڑپ تڑپ کر مرجاتی ہیں یعنی آکسیجن جیسی نفیس چیز ان کے لئے قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔
اہلِ مشاہدہ ویسے بھی صرف آکسیجن کے ہونے سے زندگی کی ضمانت والے فارمولے کوسا ئنسی طور پر رد کر چکے ہیں اس لئے اگردھرتی پر ایسی مخلوق اپنا وجود قائم رہ سکتی ہیں جو زندگی کے لئے آکسیجن کی محتاج نہیں ہے توکائنات میں پھیلے ہوئے دوسرے سیارے پرزندگی کے کسی نہ کسی فارم میں موجود ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتاہے۔ مثال کے طور پراگر مریخ پر آکسیجن کے بجائے ایمونیا بڑی تعداد میں پائی جاتی ہے یا جس طرح جیوپیٹر اور زحل پر ہائیڈروجن اور ہیلیم گیسیں ایمونیا اور میتھان گیسوں کی آمیزش سے کثیر مقدار میں موجود ہیں تو وہاں زندگی کی نشو نما ممکنات میں سہے ہے کیوں کہ یہ تمام کیمیاوی اجزا حیات کی نشو ونما کے لئے قطعی مناسب ہیںیہ الگ بات ہے کہ ان گیسوں کی تدوین و ترتیب سے زندگی کی شکل و ساخت زمینی جانداروں سے کتنی ہی مختلف کیوں نہ ہو۔
ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اگر زمین پر زندگی کافارمولا پروٹین ان واٹر ہے تو دیگر سیاروں میں جو گیس جنتی زیادہ موجود ہوگی وہاں جانداروں کی ہیت کے فارمولے اسی مناسب سے ترتیب پائیں گے مثلاً پروٹین ان ایمونیا وغیرہ۔ زمین پر جاندار اپنی غذا ہائیڈروجن اور کاربن کے سالمات سے حاصل کرتے ہیں جبکہ لیکن اگر دوسرے سیاروں کی مخلوق دوسرے فارمولوں کے تحت پیدا ہوئی ہوں گی تو لا محالہ ان کی غذا بھی مختلف ہوگی یا یہ بھی خارج الامکان نہیں کہ اپنی انرجی فضا یاروشنی سے جذب کرکے زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ ایسی صورتحال میں جب کہ انہیں غذا کی ضرورت نہیں تو لامحالہ ان کے اجسام بھی غذا کو ہضم کرنے کا سامان سے خالی ہوں گے ۔ اس طرح یہ بات بھی واضع ہوجاتی ہے کہ ان کا جسم انسانوں جیسا نہیں بلکہ کسی اور طرح کا ہو، ممکن ہے وہ ٹھوس نہ ہوں یا بے وزن ہوں، یہ بھی ہو سکتا ہے ان میں ہوا میں اڑنے کی صلاحیت بھی ہو، یا وہ مخلوق اتنی لطیف ہو کہ چشم زون نظر سے غائب ہوجانے اورمختلف شکلیں اختیار کرسکنے پر قادر ہو وغیرہ وغیرہ۔ مابعدالحیات کی سائنس کی رو سے اس وسیع و عریض کائنات لاکھوں ڈھکے چھپے علاقوں میں اس قسم کی مخلوقات کا پایا جانا ممکن ہے۔

حصہ سوئم۔جنات کے اثرات۔اہلِ جنات جس طرح مختلف مذاہب اور فرقوں سے متعلق ہوتے ہیں اسی طرح طبیعت اور رحجانوں کے حساب سے کچھ...
04/06/2025

حصہ سوئم۔

جنات کے اثرات۔
اہلِ جنات جس طرح مختلف مذاہب اور فرقوں سے متعلق ہوتے ہیں اسی طرح طبیعت اور رحجانوں کے حساب سے کچھ صلح جو ہیں تو کچھ ٖغلط کار ،کچھ نیک ہیں تو کئی بدکار، ان میں اچھے بھی ہیں تو بدمعاش بھی۔ نیک انسانوں کی طرح نیک جنات بھی دوسری مخلوق کو آزار پہنچانے کو گناہ سمجھتے ہیں مگرشریرِ جنات انسان ذات کو ستانے کے قبیح کام سے باز نہیں آتے ۔ ساتویں اقلیم کے بادشا جنات اور مسلمان جنات سے ملاقات کے نتیجہ میں علامہ مغربی تلمسانی نے شریر جنات کی ایذا رسانی کے متعلق اسمائیل وزیر شاہ جنات کا قول نقل کیا ہے کہ ۔ جنات عورتوں اور مردوں کو ستایا کرتے ہیں ۔ ان کی بیشمارا قسام ہیں جن میں سے بیشتر کے بارے میں مجھے علم ہے۔ جنات کی ایسی بھی اقوام ہیں جن میں ستر ہزار قبیلے ہیں اور ہر قبیلے میں ستر ہزار افرادہوتے ہیں ان کی آبادی کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر آسمان سے سوئی پھینکی جائے تو وہ زمین پرنہیں گرے گی بلکہ ان کے سروں پر رک جائے گی۔

جنات کے رہنے کی جگہ ۔
روائتیں ہیں کہ حضرت آدم کی پیدائش سے پہلے جنات کو پیدا کرکے زمین پر آباد کیا گیا تھا۔ پھر جب ان کی نسلی بود و باش کے لئے زمین پر جگہ نہ رہی تو کچھ جنات کو ہوا میں رہنے کی جگہ عطا فرمائی گئی۔ ابلیس اور اس کی اولاد کوبھی ہوا میں رہنے کی جگہ دی گئی۔ حضرت ابن لباس کی روایت ہے کہ جنات کے ہر گروہ کے لئے آسمان میں بیٹھنے کی جگہ مقرر تھی۔ جنات ان مقامات سے وحی الٰہی منکر اپنی طرف سے کچھ باتیں ملاکر کاہنوں سے بیان کرتے تھے ۔ حیاۃ الحیوان میں لکھا ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ نے جنات کو تین اقسام میں پیدا کیا ہے ایک قسم جنات کی وہ ہے جو حشرات العرض کی صورت میں زمین میں موجود ہیں، دوسری قسم وہ ہے جو فضا میں ہوا کی طرح رہتی ہے اور تیسری جنات کی قسم بنی آدم کی طرح ہے۔ جنات میں سے عفریت چشموں اور گڑھوں میں رہتے ہیں، شیاطین شہروں اور مقبروں دونوں جگہ آبادہوتے ہیں جبکہ طواغیت خون آلودہ جگہہوں پر بود و باش رکھتے ہیں۔ انہی کی ایک قوم زذابعہ ہوا ؤں میں رہتی ہے او ر بعض بڑے بڑے شیطان آگ کے قریب مسکن رکھتے ہیں اور بعض تواقیف عفاریت یعنی وہ جنات جو عورتوں کی شکل میں متشکل ہوتے ہیں بڑے بڑے درختوں کے پاس (باغات میں)مقام رکھتے ہیں جبکہ بعض پہاڑوں اور ویران مقامات پر ڈیرہ ڈالے رہتے ہیں۔
شیطان ، اس کا خاندا ن اور اس کے حواری چوں کہ ہوا میں رہتے تھے اس لئے جب وہ ہوا میں رہتے ہوئے گھبرائے تو خدا تعالی سے زمین پر رہنے کی درخواست کی جو قبول کی گئی مگر جب وہ زمین پر آباد ہوئے تو یہاں بھی شرات سے باز نہیں آئے اور گناہوں میں مبتلا ہوگئے تو زمین نے بارگاہ یزدان میں ان کی شرارتوں کے خلاف شکایت کی جس پر خدا تعالیٰ نے اسے تسلی دی کہ میں ان شریر وں کی ہدایت کے لئے اپنے رسول بھیجوں گاحضرت نکعب احبار سے روایت ہے کہ جنات کی امت کے لئے آٹھ سو سال تک آٹھ سو رسول بھیجے گئے یعنی ہر سال کے حساب سے ایک رسول جیسا کہ عامر بن عمیر، بن الجان، صاعق بن ماعق بن مارد، بن الحیان وغیرہ مگر جنات ان سب کو قتل کرتے رہے ۔

شیطان کی حقیقت
شیطان اصل میں ایک جن ہے جس کا اصل نام عزازیل تھا ، جس طرح حضرت آدم علیہ السلام تمام انسانوں کا جدِ امجد ہے اسی طرح شیطان تمام جنات کا باپ ہے اس نے جنات کے ایک قبیلے بنواالجان کی ایک لڑکی سے شادی کی تھی جس سے اس کی نسل بڑھی۔ اس نے اپنی عبادت اور ریاضت سے خدا تعالی کے پیارے بندوں میں مقام حاصل کرلیا تھا مگر ایک لغزش کی بدولت ربوی لعنت کا سزاوار ہوکر ابلیس بن گیااوراس کا خوبصورت چہرہ بگاڑ دیا گیا۔ ایک دور میں ابلیس معلم الملکوت یعنی فرشتوں کا استاد تھا جو عرش کے نیچے ممبر پر نور کے جھنڈے کے سائے تلے بیٹھ کر فرشتوں کو درس دیا کرتا تھا اوراس کے رہنے کی جگہ جنت میں تھی۔ روایت ہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم سے فرشتے سو سے پانچ سوسال تک آدم کو کئے ہوئے سجدے میں رہے جب انہوں نے سر اٹھایا تو ابلیس کو اسی طرح کھڑے ہوئے پایامگر اس کی شکل بگڑ چکی تھی۔ خدا تعالی ٰ نے پوچھا کہ تم نے سجدہ کیوں نہیں کیا تواس نے جواب دیا کہ خلقتنی من نار خلقتہ من طین یعنی مجھے آپ نے آگ سے پیدا کیا اور آدم کومٹی سے ، بھلا افضل بھی مفضول کو سجدہ کرتا ہے۔ شیطان مخلوق میں پہلا جاندار تھا اور دوسرا آدم جنہوں نے خدا تعالی کے حکم کی خلاف ورزی کی اور دونوں کو اس کی سزابھی ملی اور وہ عداوت جوآدم اور ابلیس کے درمیاں جنت سے شروع ہوئی تھی بنی آدم اور بنی شیطان میں آج تک چل رہی ہے۔
جنات اور شیطان دونوں اصل کے اعتبار سے ایک ہی مخلوق ہیں مگر ان میں جوایمانداراور انسان دوست ہیں انہیں جنات کے نام سے اور جو شرارتی یا بے ایمان ہیں انہیں شیطان کہا جاتا ہے۔ کفر، بدعت، سفائر، مباحات اور غیر افضل اعمال کی ترغیب وغیرہ شیطان کے انسانوں کوصراط المستقیم سے بھٹکانے کے مورچے ہیں ۔ طبرانی میں روایت ہے کہ ابلیس حضور صلعم کی پیدائش پر اتنا رویاتھا کہ اس کے سارے پیروکار جمع ہوگئے تو اس نے ان سے کہا اب تم ناامید ہوجاؤ کیوں کہ تم سے رسولِ خدا کی امت کبھی بھی مرتد نہیں ہوسکے گی البتہ ان کے درمیاں دین کی باتوں کو بنیاد بناکر فتنہ ڈالو، نوحہ گر ی اورشعر گوئی کو رواج دو۔ حضور صلعم کا قول ہے کہ ہر گھنگھرو کے ساتھ ایک شیطان لپٹا ہوا ہوتا ہے۔
حضرت مجاہد کے بقول شیطان نے اپنے اولادوں کو مختلف کاموں کے لئے مامور کر رکھا ہے اور ان میں سے اہم کے نام و کام مندرجہ ذیل ہیں۔
لاقیس، ولہان۔ یہ دونوں وضو اور نماز پر مامور ہیں اور لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں۔
نیعاف۔ یہ لڑکا صحرا میں شیطانیت پھیلاتا ہے۔
زلنبور۔ یہ بازاروں پر مامور ہوتے ہیں لوگوں کو جھوٹی تعریفوں اور قسموں پر اکساتا ہے۔
بشر۔ یہ شیطان مصیبت زدہ لوگوں کو جہالت کے کاموں پر ترغیب دیتا ہے جیسا کہ نوحہ گری،ماتم، گریبان چاک کرنا، چہرے کو نوچناوغیرہ۔
ابیض۔ یہ زناکو پھیلانے پر مامور ہے اور مخصوص وقت کے دوران عورت اور مرد کی شرمگاہوں پر مامور ہوتا ہے۔
واسم۔ ان کا کام ہے کہ جب کوئی شخص سلام کئے یا اللہ کا نام لئے بغیر گھر میں داخل ہو تو گھر والوں میں فساد کرائیں۔
مطوس۔ ان کو کام دیا گیا ہے کہ لوگوں کے درمیاں غلط اوربے بنیاد باتیں پھیلائیں۔
مسبوط۔ لوگوں کو جھوٹ بولنے پر اکساناان کے فرائض میں شامل ہے۔
کیا انسانوں کو نادیدہ مخلوقات سے ڈرنا چاہیے؟۔
اس مخلوق کی جسمانی ترکیب اور دماغی ساخت انسان سے مختلف اور کم درجے کی مگر ایسے عناصر سے بنی ہوتی کہ ان کے جسم نظر بھی آسکتے ہیں نہیں بھی آسکتے، ان میں اپنی مرضی کی ہر صورت اختیار کرنے کی غیر معمولی صلاحیت ہوتے ہوئے بھی وہ انسانی دماغ کی طاقتور لہروں سے خوفزدہ رہتے ہیں کیوں کہ انسان کے اعصابی نظام اور دل و دماغ سے نکلنے والی طول موج کی لہریں ان کے وجود کے لئے زہریلی گیس کا درجہ رکھتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ جس طرح آج کا انسان دوسری عنصری قوتوں جیسا کہ بھاپ، بجلی ، ایٹمی توانائی اور مقناطیسیت وغیرہ کوتسخیر کر کے انہیں اپنے مفادمیں استعمال کر رہا ہے اسی طرح اپنی خود اعتمادی اور قوت ارادی سے ان عنصر زاد مخلوقات کو تابع بنا یاجا سکتا ہے اس لئے کسی بھی شخص کوآسیب ، جنات یا چھلاؤں سے ڈرنا نہیں چاہیے۔

آسیب کیا ہوتا ہے؟۔
یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ قوی ارادہ رکھنے والے انسانوں پر نہ عالم مادی کی قوتین اثر انداز ہوتی ہیں نہ عالم ارواح کی۔ تصوفی پیروکار کہتے ہیں کہ انسان کا ارادہ بجائے خود مشیت الٰہی ہے جسے بروئے کار لاکر وہ ظاہر ی اور باطنی کائناتوں کو مسخر کر سکتا ہے۔ انسان کے اندر جتنی صفائی، قلب میں جتنی پاگیزگی اور ذہن میں مثبت جذبات جتنی فراوانی سے ہوں گے اس کے سامنے کائنات کی تمام قوتیں اتنی ہی حقیر ہوں گی۔ لیکن اگر کسی انسان کا ارادہ یا ذہن کمزور اور قلبی دنیا آلودہ ہوگی تو مادی اور ارواح دنیا کی قوتیں اس پر آسانی سے اثر انداز ہوجاتی ہیں جنہیں دوسرے لفظوں میں آسیب، سایہ یا بھوت پریت بھی کہا جاتا ہے۔
علم الارواح کامطالعہ اپنے الفاظ میں بتاتا ہے کہ فضا میں کچھ کم شعور توانائیاں کارفرما ہوتی ہیں جنہیں ہم ایک دھندلی یا ادھوری شخصیت کی مثال دے سکتے ہیں، ان نیم تاریک آوارہ گردوں کی اکثر حرکات غیر ارادی اور خود کار ہوتی ہیں جو انسانی شعور اور ارادے سے خوفزدہ رہتی ہے۔ خلا میں تیرنے والی یہ قوتیں کردوں اور اکائیوں میں تقسیم ہیں اورجوتمام کی تمام محدود اور ناقص وجود کی مالک ہوتی ہیں، انہی اکائیوں کو عنصری مخلوق یا قوائے عنصری یا آسیب بھی کہا جاتا ہے۔

آسیب زدگی اور مالیخولیا کی حقیقت۔
جہاں تک آسیب زدگی کا تعلق ہے تو انسانوں پر واقع ہونے والے اس قسم کے اکثر واقعات جنہیں ہم آسیب زدگی یاجناتی دورے سمجھتے ہیں محض تقسیم شخصیت اور مالیخولیاکی بیماری کے سبب ہوتے ہیں جن کی بنیاد خالص اعصابی ، دماغی ، جذباتی اور ذہنی ہوتی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے کچھ واقعات کی دیگر توجیہات بھی ہو سکتی ہیں جن میں سے ایک آسیب زدگی بھی ممکن ہے۔ آسیب زدہ مریضوں کے ذہن کی چھان بین کے بعد نفس انسانی کے بارے میں عجیب و غریب معلومات ملتی ہیں کہ کسی آسیب زدہ، جن گرفتہ یا مالیخولیا کے مریض کا ذہن کس طرح کام کرتا ہے۔ جن گرفتہ افراد کی دو شخصیتیں ہوتی ہیں، ایک آسیبی یا جناتی اوردوسری حقیقی ( نارمل) شخصیت اور یہ دونوں شخصیتیں ایک دوسرے سے انجان اور متضادپائی گئیں ہیں جو اکثر اوقات ایک حد تک خود مختار بھی ہوتی ہیں۔ جب انسانی ذہن کا ایک حصہ (مثلاً آسیب زدہ)بروئے کار آتا ہے تو وہ مریض کے تمام نظام تصورات، نظام جذبات، نظام محسوسات ،آواز ونداز، آنکھوں کے اشارے ، چہرے کی رنگت ، حرکاتِ جسم الغرض تمام کردار کو اپنے رنگ میں رنگ لیتا ہے اور جب ذہن کا دوسرا حصہ یا دوسری شخصیت ابھرتی ہے تو وہ مریض بالکل الگ رنگ و روپ میں نظر آتا ہے۔
جس طرح ہر نارمل شخص کسی نہ کسی وقت ایب نارمل ہوتا ہے اسی طرح دنیا میں دوہری، تہری بلکہ چوہری شخصیت کے مالک لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔ بعض لوگوں کی شخصیت خالص جذباتی وجوہات کے زیر اثر دو ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے اور جوں جوں ذہن کے ان کٹے ہوئے حصوں کے درمیاں جدائی کی خلیج چوڑی ہوتی چلی جاتی ہے توں توں ان کی مالیخولیائی کیفیت ، جذباتی کشمکش، اعصابی کمزوری اور نفسیاتی پیچیدگی میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر پاگل بھی ہوجاتے ہیں اور اپنے آپ کو کچھ سے کچھ فرض کر لیتے ہیں۔
ہم اکثر اوقات سنتے ہیں کہ فلاں شخص کو جن ہے مگر کم لوگ جانتے ہوں گے کہ وہ کوئی جن یا بھوت نہیں ہوتا بلکہ اس شخص کے گھٹے ہوئے، دبائے ہوئے اور کچلے ہوئے طوفانی جذبات کاآسیب ہے جو مخصوص سماجی اور گھریلوحالات کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ ان تیز و تند جذبات کا ابلاؤ جب اپنی اندرونی کیفیات کے لئے اپنے ذہن میں موجود جگہ کم پاتا ہے تو وہ اپنی ہیجانی خواہشات کی نکاسی، اخراج یا اظہار کا جو ایک ذریعہ پیدا کر تا ہے وہ یہی جنون کا راستہ ہوتا ہے ۔ ہوتا یوں ہے کہ جب انسان اپنی جذبات کی سلگتی ہوئی بارود کو مسلسل دبانے کی کوشش کرتا ہے تو ایک وقت ایسا آجاتا ہے جب کسی اندرونی یا بیرونی تحریک سے مشتعل ہوکراس کے مقید جذبات جوالا مکھی کی طرح پھٹ کر انسان کو سچ مچ بھوت بنا دیتے ہیں ۔ اس قسم کے جذباتی حادثوں سے انسانی ذہن جو ایک ٹکڑے یا حصے کی طرح ہے وہ منتشر ہوکر متعدد ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے۔ آسیب زدگی ، ہسٹریا، مرگی، دماغی دورے،اختلاج قلب، ہذیان، سوتے جاگتے بڑبڑانا ، نیند میں چلنا ،بے انتہا جذباتی ہیجان کے تحت سنگین ارتکابِ جرائم یا خودکشی جیسے تمام معاملات ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ ان جذباتی کیفیتوں کے اثرات نہ صرف ذہن پر شدید پڑتے ہیں بلکہ یہ جسم کو بھی اپنی لپیٹ میں لاکر طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا کردیتے ہیں

حصہ سوئم۔

جنات کے اثرات۔
اہلِ جنات جس طرح مختلف مذاہب اور فرقوں سے متعلق ہوتے ہیں اسی طرح طبیعت اور رحجانوں کے حساب سے کچھ صلح جو ہیں تو کچھ ٖغلط کار ،کچھ نیک ہیں تو کئی بدکار، ان میں اچھے بھی ہیں تو بدمعاش بھی۔ نیک انسانوں کی طرح نیک جنات بھی دوسری مخلوق کو آزار پہنچانے کو گناہ سمجھتے ہیں مگرشریرِ جنات انسان ذات کو ستانے کے قبیح کام سے باز نہیں آتے ۔ ساتویں اقلیم کے بادشا جنات اور مسلمان جنات سے ملاقات کے نتیجہ میں علامہ مغربی تلمسانی نے شریر جنات کی ایذا رسانی کے متعلق اسمائیل وزیر شاہ جنات کا قول نقل کیا ہے کہ ۔ جنات عورتوں اور مردوں کو ستایا کرتے ہیں ۔ ان کی بیشمارا قسام ہیں جن میں سے بیشتر کے بارے میں مجھے علم ہے۔ جنات کی ایسی بھی اقوام ہیں جن میں ستر ہزار قبیلے ہیں اور ہر قبیلے میں ستر ہزار افرادہوتے ہیں ان کی آبادی کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر آسمان سے سوئی پھینکی جائے تو وہ زمین پرنہیں گرے گی بلکہ ان کے سروں پر رک جائے گی۔

جنات کے رہنے کی جگہ ۔
روائتیں ہیں کہ حضرت آدم کی پیدائش سے پہلے جنات کو پیدا کرکے زمین پر آباد کیا گیا تھا۔ پھر جب ان کی نسلی بود و باش کے لئے زمین پر جگہ نہ رہی تو کچھ جنات کو ہوا میں رہنے کی جگہ عطا فرمائی گئی۔ ابلیس اور اس کی اولاد کوبھی ہوا میں رہنے کی جگہ دی گئی۔ حضرت ابن لباس کی روایت ہے کہ جنات کے ہر گروہ کے لئے آسمان میں بیٹھنے کی جگہ مقرر تھی۔ جنات ان مقامات سے وحی الٰہی منکر اپنی طرف سے کچھ باتیں ملاکر کاہنوں سے بیان کرتے تھے ۔ حیاۃ الحیوان میں لکھا ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ نے جنات کو تین اقسام میں پیدا کیا ہے ایک قسم جنات کی وہ ہے جو حشرات العرض کی صورت میں زمین میں موجود ہیں، دوسری قسم وہ ہے جو فضا میں ہوا کی طرح رہتی ہے اور تیسری جنات کی قسم بنی آدم کی طرح ہے۔ جنات میں سے عفریت چشموں اور گڑھوں میں رہتے ہیں، شیاطین شہروں اور مقبروں دونوں جگہ آبادہوتے ہیں جبکہ طواغیت خون آلودہ جگہہوں پر بود و باش رکھتے ہیں۔ انہی کی ایک قوم زذابعہ ہوا ؤں میں رہتی ہے او ر بعض بڑے بڑے شیطان آگ کے قریب مسکن رکھتے ہیں اور بعض تواقیف عفاریت یعنی وہ جنات جو عورتوں کی شکل میں متشکل ہوتے ہیں بڑے بڑے درختوں کے پاس (باغات میں)مقام رکھتے ہیں جبکہ بعض پہاڑوں اور ویران مقامات پر ڈیرہ ڈالے رہتے ہیں۔
شیطان ، اس کا خاندا ن اور اس کے حواری چوں کہ ہوا میں رہتے تھے اس لئے جب وہ ہوا میں رہتے ہوئے گھبرائے تو خدا تعالی سے زمین پر رہنے کی درخواست کی جو قبول کی گئی مگر جب وہ زمین پر آباد ہوئے تو یہاں بھی شرات سے باز نہیں آئے اور گناہوں میں مبتلا ہوگئے تو زمین نے بارگاہ یزدان میں ان کی شرارتوں کے خلاف شکایت کی جس پر خدا تعالیٰ نے اسے تسلی دی کہ میں ان شریر وں کی ہدایت کے لئے اپنے رسول بھیجوں گاحضرت نکعب احبار سے روایت ہے کہ جنات کی امت کے لئے آٹھ سو سال تک آٹھ سو رسول بھیجے گئے یعنی ہر سال کے حساب سے ایک رسول جیسا کہ عامر بن عمیر، بن الجان، صاعق بن ماعق بن مارد، بن الحیان وغیرہ مگر جنات ان سب کو قتل کرتے رہے ۔

شیطان کی حقیقت
شیطان اصل میں ایک جن ہے جس کا اصل نام عزازیل تھا ، جس طرح حضرت آدم علیہ السلام تمام انسانوں کا جدِ امجد ہے اسی طرح شیطان تمام جنات کا باپ ہے اس نے جنات کے ایک قبیلے بنواالجان کی ایک لڑکی سے شادی کی تھی جس سے اس کی نسل بڑھی۔ اس نے اپنی عبادت اور ریاضت سے خدا تعالی کے پیارے بندوں میں مقام حاصل کرلیا تھا مگر ایک لغزش کی بدولت ربوی لعنت کا سزاوار ہوکر ابلیس بن گیااوراس کا خوبصورت چہرہ بگاڑ دیا گیا۔ ایک دور میں ابلیس معلم الملکوت یعنی فرشتوں کا استاد تھا جو عرش کے نیچے ممبر پر نور کے جھنڈے کے سائے تلے بیٹھ کر فرشتوں کو درس دیا کرتا تھا اوراس کے رہنے کی جگہ جنت میں تھی۔ روایت ہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم سے فرشتے سو سے پانچ سوسال تک آدم کو کئے ہوئے سجدے میں رہے جب انہوں نے سر اٹھایا تو ابلیس کو اسی طرح کھڑے ہوئے پایامگر اس کی شکل بگڑ چکی تھی۔ خدا تعالی ٰ نے پوچھا کہ تم نے سجدہ کیوں نہیں کیا تواس نے جواب دیا کہ خلقتنی من نار خلقتہ من طین یعنی مجھے آپ نے آگ سے پیدا کیا اور آدم کومٹی سے ، بھلا افضل بھی مفضول کو سجدہ کرتا ہے۔ شیطان مخلوق میں پہلا جاندار تھا اور دوسرا آدم جنہوں نے خدا تعالی کے حکم کی خلاف ورزی کی اور دونوں کو اس کی سزابھی ملی اور وہ عداوت جوآدم اور ابلیس کے درمیاں جنت سے شروع ہوئی تھی بنی آدم اور بنی شیطان میں آج تک چل رہی ہے۔
جنات اور شیطان دونوں اصل کے اعتبار سے ایک ہی مخلوق ہیں مگر ان میں جوایمانداراور انسان دوست ہیں انہیں جنات کے نام سے اور جو شرارتی یا بے ایمان ہیں انہیں شیطان کہا جاتا ہے۔ کفر، بدعت، سفائر، مباحات اور غیر افضل اعمال کی ترغیب وغیرہ شیطان کے انسانوں کوصراط المستقیم سے بھٹکانے کے مورچے ہیں ۔ طبرانی میں روایت ہے کہ ابلیس حضور صلعم کی پیدائش پر اتنا رویاتھا کہ اس کے سارے پیروکار جمع ہوگئے تو اس نے ان سے کہا اب تم ناامید ہوجاؤ کیوں کہ تم سے رسولِ خدا کی امت کبھی بھی مرتد نہیں ہوسکے گی البتہ ان کے درمیاں دین کی باتوں کو بنیاد بناکر فتنہ ڈالو، نوحہ گر ی اورشعر گوئی کو رواج دو۔ حضور صلعم کا قول ہے کہ ہر گھنگھرو کے ساتھ ایک شیطان لپٹا ہوا ہوتا ہے۔
حضرت مجاہد کے بقول شیطان نے اپنے اولادوں کو مختلف کاموں کے لئے مامور کر رکھا ہے اور ان میں سے اہم کے نام و کام مندرجہ ذیل ہیں۔
لاقیس، ولہان۔ یہ دونوں وضو اور نماز پر مامور ہیں اور لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں۔
نیعاف۔ یہ لڑکا صحرا میں شیطانیت پھیلاتا ہے۔
زلنبور۔ یہ بازاروں پر مامور ہوتے ہیں لوگوں کو جھوٹی تعریفوں اور قسموں پر اکساتا ہے۔
بشر۔ یہ شیطان مصیبت زدہ لوگوں کو جہالت کے کاموں پر ترغیب دیتا ہے جیسا کہ نوحہ گری،ماتم، گریبان چاک کرنا، چہرے کو نوچناوغیرہ۔
ابیض۔ یہ زناکو پھیلانے پر مامور ہے اور مخصوص وقت کے دوران عورت اور مرد کی شرمگاہوں پر مامور ہوتا ہے۔
واسم۔ ان کا کام ہے کہ جب کوئی شخص سلام کئے یا اللہ کا نام لئے بغیر گھر میں داخل ہو تو گھر والوں میں فساد کرائیں۔
مطوس۔ ان کو کام دیا گیا ہے کہ لوگوں کے درمیاں غلط اوربے بنیاد باتیں پھیلائیں۔
مسبوط۔ لوگوں کو جھوٹ بولنے پر اکساناان کے فرائض میں شامل ہے۔
کیا انسانوں کو نادیدہ مخلوقات سے ڈرنا چاہیے؟۔
اس مخلوق کی جسمانی ترکیب اور دماغی ساخت انسان سے مختلف اور کم درجے کی مگر ایسے عناصر سے بنی ہوتی کہ ان کے جسم نظر بھی آسکتے ہیں نہیں بھی آسکتے، ان میں اپنی مرضی کی ہر صورت اختیار کرنے کی غیر معمولی صلاحیت ہوتے ہوئے بھی وہ انسانی دماغ کی طاقتور لہروں سے خوفزدہ رہتے ہیں کیوں کہ انسان کے اعصابی نظام اور دل و دماغ سے نکلنے والی طول موج کی لہریں ان کے وجود کے لئے زہریلی گیس کا درجہ رکھتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ جس طرح آج کا انسان دوسری عنصری قوتوں جیسا کہ بھاپ، بجلی ، ایٹمی توانائی اور مقناطیسیت وغیرہ کوتسخیر کر کے انہیں اپنے مفادمیں استعمال کر رہا ہے اسی طرح اپنی خود اعتمادی اور قوت ارادی سے ان عنصر زاد مخلوقات کو تابع بنا یاجا سکتا ہے اس لئے کسی بھی شخص کوآسیب ، جنات یا چھلاؤں سے ڈرنا نہیں چاہیے۔

آسیب کیا ہوتا ہے؟۔
یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ قوی ارادہ رکھنے والے انسانوں پر نہ عالم مادی کی قوتین اثر انداز ہوتی ہیں نہ عالم ارواح کی۔ تصوفی پیروکار کہتے ہیں کہ انسان کا ارادہ بجائے خود مشیت الٰہی ہے جسے بروئے کار لاکر وہ ظاہر ی اور باطنی کائناتوں کو مسخر کر سکتا ہے۔ انسان کے اندر جتنی صفائی، قلب میں جتنی پاگیزگی اور ذہن میں مثبت جذبات جتنی فراوانی سے ہوں گے اس کے سامنے کائنات کی تمام قوتیں اتنی ہی حقیر ہوں گی۔ لیکن اگر کسی انسان کا ارادہ یا ذہن کمزور اور قلبی دنیا آلودہ ہوگی تو مادی اور ارواح دنیا کی قوتیں اس پر آسانی سے اثر انداز ہوجاتی ہیں جنہیں دوسرے لفظوں میں آسیب، سایہ یا بھوت پریت بھی کہا جاتا ہے۔
علم الارواح کامطالعہ اپنے الفاظ میں بتاتا ہے کہ فضا میں کچھ کم شعور توانائیاں کارفرما ہوتی ہیں جنہیں ہم ایک دھندلی یا ادھوری شخصیت کی مثال دے سکتے ہیں، ان نیم تاریک آوارہ گردوں کی اکثر حرکات غیر ارادی اور خود کار ہوتی ہیں جو انسانی شعور اور ارادے سے خوفزدہ رہتی ہے۔ خلا میں تیرنے والی یہ قوتیں کردوں اور اکائیوں میں تقسیم ہیں اورجوتمام کی تمام محدود اور ناقص وجود کی مالک ہوتی ہیں، انہی اکائیوں کو عنصری مخلوق یا قوائے عنصری یا آسیب بھی کہا جاتا ہے۔

آسیب زدگی اور مالیخولیا کی حقیقت۔
جہاں تک آسیب زدگی کا تعلق ہے تو انسانوں پر واقع ہونے والے اس قسم کے اکثر واقعات جنہیں ہم آسیب زدگی یاجناتی دورے سمجھتے ہیں محض تقسیم شخصیت اور مالیخولیاکی بیماری کے سبب ہوتے ہیں جن کی بنیاد خالص اعصابی ، دماغی ، جذباتی اور ذہنی ہوتی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے کچھ واقعات کی دیگر توجیہات بھی ہو سکتی ہیں جن میں سے ایک آسیب زدگی بھی ممکن ہے۔ آسیب زدہ مریضوں کے ذہن کی چھان بین کے بعد نفس انسانی کے بارے میں عجیب و غریب معلومات ملتی ہیں کہ کسی آسیب زدہ، جن گرفتہ یا مالیخولیا کے مریض کا ذہن کس طرح کام کرتا ہے۔ جن گرفتہ افراد کی دو شخصیتیں ہوتی ہیں، ایک آسیبی یا جناتی اوردوسری حقیقی ( نارمل) شخصیت اور یہ دونوں شخصیتیں ایک دوسرے سے انجان اور متضادپائی گئیں ہیں جو اکثر اوقات ایک حد تک خود مختار بھی ہوتی ہیں۔ جب انسانی ذہن کا ایک حصہ (مثلاً آسیب زدہ)بروئے کار آتا ہے تو وہ مریض کے تمام نظام تصورات، نظام جذبات، نظام محسوسات ،آواز ونداز، آنکھوں کے اشارے ، چہرے کی رنگت ، حرکاتِ جسم الغرض تمام کردار کو اپنے رنگ میں رنگ لیتا ہے اور جب ذہن کا دوسرا حصہ یا دوسری شخصیت ابھرتی ہے تو وہ مریض بالکل الگ رنگ و روپ میں نظر آتا ہے۔
جس طرح ہر نارمل شخص کسی نہ کسی وقت ایب نارمل ہوتا ہے اسی طرح دنیا میں دوہری، تہری بلکہ چوہری شخصیت کے مالک لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔ بعض لوگوں کی شخصیت خالص جذباتی وجوہات کے زیر اثر دو ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے اور جوں جوں ذہن کے ان کٹے ہوئے حصوں کے درمیاں جدائی کی خلیج چوڑی ہوتی چلی جاتی ہے توں توں ان کی مالیخولیائی کیفیت ، جذباتی کشمکش، اعصابی کمزوری اور نفسیاتی پیچیدگی میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر پاگل بھی ہوجاتے ہیں اور اپنے آپ کو کچھ سے کچھ فرض کر لیتے ہیں۔
ہم اکثر اوقات سنتے ہیں کہ فلاں شخص کو جن ہے مگر کم لوگ جانتے ہوں گے کہ وہ کوئی جن یا بھوت نہیں ہوتا بلکہ اس شخص کے گھٹے ہوئے، دبائے ہوئے اور کچلے ہوئے طوفانی جذبات کاآسیب ہے جو مخصوص سماجی اور گھریلوحالات کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ ان تیز و تند جذبات کا ابلاؤ جب اپنی اندرونی کیفیات کے لئے اپنے ذہن میں موجود جگہ کم پاتا ہے تو وہ اپنی ہیجانی خواہشات کی نکاسی، اخراج یا اظہار کا جو ایک ذریعہ پیدا کر تا ہے وہ یہی جنون کا راستہ ہوتا ہے ۔ ہوتا یوں ہے کہ جب انسان اپنی جذبات کی سلگتی ہوئی بارود کو مسلسل دبانے کی کوشش کرتا ہے تو ایک وقت ایسا آجاتا ہے جب کسی اندرونی یا بیرونی تحریک سے مشتعل ہوکراس کے مقید جذبات جوالا مکھی کی طرح پھٹ کر انسان کو سچ مچ بھوت بنا دیتے ہیں ۔ اس قسم کے جذباتی حادثوں سے انسانی ذہن جو ایک ٹکڑے یا حصے کی طرح ہے وہ منتشر ہوکر متعدد ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے۔ آسیب زدگی ، ہسٹریا، مرگی، دماغی دورے،اختلاج قلب، ہذیان، سوتے جاگتے بڑبڑانا ، نیند میں چلنا ،بے انتہا جذباتی ہیجان کے تحت سنگین ارتکابِ جرائم یا خودکشی جیسے تمام معاملات ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ ان جذباتی کیفیتوں کے اثرات نہ صرف ذہن پر شدید پڑتے ہیں بلکہ یہ جسم کو بھی اپنی لپیٹ میں لاکر طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا کردیتے ہیں۔

Address

Haripur
Haripur
22620

Opening Hours

14:00 - 22:00

Telephone

+923479653577

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when شیاطین جنّ اور جادو Shiyateen Jinn aur Jadoo posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to شیاطین جنّ اور جادو Shiyateen Jinn aur Jadoo:

Share