30/05/2020
بہت صاف سیدھی بات ہے کہ اگر سعودیوں نے جنت البقیع میں قبروں کی بے حرمتی یوں کی تھی کہ قبریں کھود دیں ، ہڈیاں باہر نکال پھینکی ، اور قبروں میں غلاظت انڈھیلی تو بلا شک و شبہ ان پر الله کی ، فرشتوں کی اور تمام مخلوق ، چرند پرند کی لعنت ہو ۔۔۔لیکن
اگر انہوں نے قبروں پر موجود عمارتوں کو منہدم کیا ، قبے ختم کیے ، مزارات ہٹا دیے تو اس میں قبروں کی توہین کہاں سے آ گئی ۔۔۔؟
توہین اور تذلیل ہوتی ہے کہ قبر کو اکھاڑا جائے ، میت کو نکالا جائے ، ہڈیوں پر تھوکا جائے جیسے کل شام میں خلیفہ محترم سیدنا عمر بن عبدالعزیز کی قبر پر روافض (شیعوں) کی جانب سے کیا گیا ۔۔۔۔۔
قبروں کی توہین ہوتی ہے وہ عزائم کہ جن کا اظہار ایک گروہ بایں صورت کرتا ہے کہ جب ان کے امام زمانہ آئیں گے تو آ کے ( سیدنا ) ابوبکر و عمر کو قبروں سے نکالیں گے اور سزا دیں گے ۔۔۔۔یہ ہوتی ہے توہین اور توہین کے عزائم ۔۔۔
کل جو سیدنا عمر بن عبدالعزیز کی قبر کے ساتھ کیا گیا بہت سے لوگ اسے سعودیوں کے ستر برس پرانے اقدام کے مماثل قرار دے رہے ہیں کہ جب بقیع میں انہوں نے قبور پر موجود گنبد ہٹا دیئے تھے ۔۔۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ سعودیوں کا قدم توہین قبور تھا یا حدیث پر عمل کی کوشش :
صحیح مسلم میں ہے کہ ابو ہیّاج اسدی کہتے ہیں کہ : مجھے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے کہا:
"کیا میں تمہیں ایسے کام کیلئے نہ روانہ کروں جس کام کیلئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھجوایا تھا؟۔ مجھے آپ ﷺ نے فرمایا تھا :
" کسی بھی مورتی کو مٹائے بغیر اور کسی بھی اونچی قبر کو برابر کئے بغیر مت چھوڑنا"(مسلم 969)
ایک دوسری حدیث میں سیدنا جابر رضی الله عنہ فرماتے ہیں:
«نهى النبي صلى الله عليه وسلم أن يجصَّص القبر ، وأن يقعد عليه ، وأن يبنى عليه » رواهما مسلم
نبی کریم ﷺنے قبروں کو پختہ کرنے،ان پر بیٹھنے ،اور ان پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے۔۔۔ٹھنڈے دل سے سوچیے ، صدیوں کے آبائی عقائد کو پرے رکھ کے کہ کیا حدیث رسول میں کوئی بات غیر مبہم ہے ؟
یہ دونوں احادیث بہت واضح ہیں اور سعودیوں نے ان احادیث کی روشنی میں اقتدار کے آنے پر قبور مکرم پر موجود عمارت ، گنبد اور قبے ختم کر دیئے تھے ۔۔۔لیکن قبور کا مکمل احترام کیا تھا ۔
سیدہ عائشہ کی ایک اور روایت اس معاملے میں قول فیصل ہے ، اگر کوئی سمجھ سکے ۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مرض کے موقع پر فرمایا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانبر نہ ہو سکے تھے:
’’لَعَنَ اللَّهُ اليَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ‘‘۔
[صحیح البخاري رقم الحدیث: ۱۳۹۰، صحیح مسلم، رقم الحدیث: ۵۲۹]
’’اللہ تعالیٰ یہود ونصاریٰ پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو مسجدیں بنالیا‘‘۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
’’لَوْلاَ ذَلِكَ أُبْرِزَ قَبْرُهُ غَيْرَ أَنَّهُ خَشِيَ - أَوْ خُشِيَ - أَنَّ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا‘‘۔
’’اگر یہ ڈر نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بھی کھلی رہنے دی جاتی۔ لیکن ڈر اس کا ہے کہ کہیں اسے بھی لوگ سجدہ گاہ نہ بنا لیں‘‘۔۔۔۔
دیکھئے سیدہ عائشہ کس قدر صاف طور پر فرما رہی ہیں کہ آنے والے دنوں میں اگر سجدہ گاہ بننے کا ڈر نہ ہوتا تو نبی کریم کی قبر بھی بنا کسی عمارت کے ہوتی ۔۔۔اور کھلی رہتی جس طرح مسلمانوں کی قبور ہوتی ہیں ۔۔۔