Dr.Shahnawaz M.K Dal Senior Psychiatrist

Dr.Shahnawaz M.K Dal Senior Psychiatrist This page will promote psychiatry and drug addiction treatment. Appointment for consultation and discussion of disorders

کیا آپ کو رشتوں میں مسائل کا سامنا ہے؟ ہاں اگر آپ کو درپیش ہیں: • بات چیت میں رکاوٹیں • جذباتی دوری • اعتماد کے مسائل • ...
28/11/2025

کیا آپ کو رشتوں میں مسائل کا سامنا ہے؟

ہاں اگر آپ کو درپیش ہیں:
• بات چیت میں رکاوٹیں
• جذباتی دوری
• اعتماد کے مسائل
• بار بار ہونے والے جھگڑے
• اپنے احساسات کے بارے میں الجھن

یاد رکھیں… آپ کو یہ سب اکیلے برداشت کرنے کی ضرورت نہیں۔

اگر آپ ایسے چیلنجز سے گزر رہے ہیں، تو خفیہ اور پیشہ ورانہ مشاورت حاصل کر کے آپ وہ مدد لے سکتے ہیں جس کی آپ کو ضرورت ہے

“لوگ کیا کہیں گے؟”یہ صرف ایک جملہ نہیں…یہ وہ خوف ہے جو انسان کے اندر اس وقت بویا جاتا ہے جب وہ چلنا بھی نہیں جانتا۔یہ وہ...
28/11/2025

“لوگ کیا کہیں گے؟”
یہ صرف ایک جملہ نہیں…
یہ وہ خوف ہے جو انسان کے اندر اس وقت بویا جاتا ہے جب وہ چلنا بھی نہیں جانتا۔
یہ وہ بوجھ ہے جو ہم کندھوں پر اٹھائے بڑے ہوتے ہیں،
یہ وہ دھاگہ ہے جو ہمارے ہر فیصلے کے گرد لپیٹ دیا جاتا ہے…
اور آہستہ آہستہ ہم اپنی زندگی اپنی نہیں رہنے دیتے۔

ہم جو ہنسی ہنسنا چاہتے ہیں،
سوچتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔
جو راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں،
ڈرتے ہیں لوگ باتیں نہ بنا لیں۔
جو دل چاہتا ہے،
وہ بھی اکثر خاموش رہ جاتا ہے،
کیونکہ کہیں کوئی نظر،
کوئی جملہ،
کوئی طنز…
ہمیں اندر سے نہ توڑ دے۔

یہ دنیا عجیب ہے—
لوگ اس وقت بھی بات کرتے ہیں جب آپ خاموش ہوں،
اس وقت بھی جب آپ کہہ دیں کہ “مجھے پروا نہیں”،
اور اُس وقت بھی جب آپ اُن کی خوشی کے مطابق زندگیاں بدل دیں۔
لوگوں کی زبانوں پر تالے نہیں لگتے…
صرف دلوں پر زخم لگتے ہیں۔

مگر جو سب سے گہری حقیقت ہے، وہ یہ:
لوگوں کی باتیں کبھی کسی انسان کے درد کو نہیں روک سکتیں،
اور نہ ہی اُن کا سکون لوٹا سکتی ہیں۔
وہ صرف تماش بین ہیں—
آپ کی تھکن، آنسو، کوششیں، قربانیاں…
انہیں کچھ بھی نظر نہیں آتا۔
صرف نتیجہ نظر آتا ہے، اور جملے تیار رہتے ہیں۔

پھر بھی پتہ ہے ہم کیا کرتے ہیں؟
اپنی خوشی قربان،
اپنے فیصلے موخر،
اپنے خواب منجمد…
صرف اس لیے کہ کہیں دنیا کچھ بول نہ دے۔

لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ
دنیا ہمیشہ کچھ نہ کچھ کہتی ہے۔
آپ جھکیں تو کہیں گے کمزور ہو،
کھڑے رہیں تو کہیں گے ضدی ہو،
ہنسو تو کہیں گے دکھاوا ہے،
روؤ تو کہیں گے ڈرامہ ہے۔

لوگوں کے منہ، موسموں کی طرح بدلتے ہیں۔
آج دھوپ، کل بارش، پرسوں کچھ اور۔

مگر تمہاری زندگی…؟
وہ ایک ہی بار ملتی ہے۔
تمہارے خواب…؟
وہ تمہارے اپنے ہیں۔
تمہارے زخم…؟
وہ صرف تم محسوس کرتے ہو،
لوگ نہیں۔

کبھی ایک لمحے کو رک کر سوچو—
کیا وہ لوگ جن کے خوف میں تم جیتے ہو،
تمہارا درد بانٹیں گے؟
کیا وہ تمہاری ٹوٹی راتوں میں ساتھ ہوں گے؟
کیا انہیں تمہاری چھوٹی چھوٹی خوشیاں عزیز ہوں گی؟
نہیں۔
اُنہیں صرف “کہنی” ہے۔
اور کہنا اُن کی عادت ہے،
زندگی تمہاری ہے۔

اس لیے ایک دن اپنے دل میں چراغ جلاؤ اور کہو:
میری زندگی، میرے فیصلے۔
لوگوں کی باتیں…
ہوا کی طرح آئیں گی اور گزر جائیں گی۔

کیونکہ آخر میں…
لوگوں کے الفاظ نہیں،
دل کی خاموشیاں پچھتاتی ہیں۔
اور زندگی ایک ہی ہے—
کسی کی زبان کے خوف میں کھو دینے کے لیے نہیں،
خود کے لیے جینے کے لیے۔

Let’s walk for mental health on world mental health day today  ゚viralfbreelsfypシ゚viral  ゚viralシ
10/10/2025

Let’s walk for mental health on world mental health day today
゚viralfbreelsfypシ゚viral
゚viralシ




Please share نشے کا مریض علاج سے کیوں انکار کرتا ہے؟اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، لیکن اکثر یہ بات ایک ہی چیز پر آ کر رک...
11/09/2025

Please share
نشے کا مریض علاج سے کیوں انکار کرتا ہے؟
اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، لیکن اکثر یہ بات ایک ہی چیز پر آ کر رک جاتی ہے: خوف۔ جب کہ نشے کی زندگی اپنے ساتھ کئی خطرات لے کر آتی ہے، پھر بھی نشے کے عادی افراد علاج کو متبادل کے طور پر کیوں نہیں دیکھتے؟ حقیقت یہ ہے کہ عادی افراد اور شرابی اکثر سب سے آخر میں یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا استعمال ایک مسئلہ ہے، اور جب ان کا سامنا اس حقیقت سے کروایا جاتا ہے تو سب سے بڑی وجہ یہی بتائی جاتی ہے کہ وہ اصرار کرتے ہیں کہ انہیں کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر حالات درست ہوں تو وہ خود ہی اپنی مشکل کو “حل” کر سکتے ہیں۔

ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ علاج صرف یہ ہے کہ نشہ چھوڑنے کے دوران شدید تکالیف برداشت کرنی ہوں گی اور کوئی سہولت یا مدد نہیں ملے گی۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ منشیات اور الکحل کے علاج کے مراکز میں محفوظ میڈیکل ڈیٹاکس پروگرام موجود ہوتے ہیں جو دوائیوں اور طبی اصولوں کے ذریعے علامات کو قابو میں رکھتے ہیں اور مریض کو زیادہ سے زیادہ آرام فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ بحالی کے پورے عمل سے گزر سکے۔

اگر آپ کسی ایسے مریض کے اہل خانہ، دوست یا چاہنے والے ہیں جو علاج کی ضرورت کے باوجود انکار کر رہا ہے تو ممکن ہے آپ نے یہ سب وجوہات سنی ہوں۔ تاہم، ایسے مؤثر طریقے موجود ہیں جن کے ذریعے آپ کسی شخص سے شراب نوشی یا نشے کے علاج کے بارے میں بات کر سکتے ہیں

゚viralfbreelsfypシ゚viral
゚viralシ





نیند ایک نعمت ہے تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 30 سے 90 منٹ کی دوپہر کی نیند (Nap) دماغ کو تروتازہ رکھنے کے ساتھ ساتھ عمر بڑھ...
10/09/2025

نیند ایک نعمت ہے
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 30 سے 90 منٹ کی دوپہر کی نیند (Nap) دماغ کو تروتازہ رکھنے کے ساتھ ساتھ عمر بڑھنے کے عمل کو بھی سست کرتی ہے، اور بڑھاپے میں ذہنی صحت کو بہتر بناتی ہے۔

بدقسمتی سے موجودہ دور کے کام کا نظام اس عادت کی گنجائش نہیں دیتا، جس کے باعث لوگوں کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔

ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ دوپہر کے وقت مختصر نیند لینا نہ صرف ذہن کو تازہ کرتا ہے بلکہ حیاتیاتی بڑھاپے (Biological Aging) کو سست کرنے اور دماغ کی حفاظت کرنے میں بھی مددگار ہے۔

چین میں 6,600 درمیانی عمر اور ضعیف افراد پر کی جانے والی اس تحقیق میں پایا گیا کہ جو لوگ باقاعدگی سے اعتدال میں نیند لیتے تھے (30–90 منٹ)، ان میں دماغی کمزوری (Cognitive Decline) کی رفتار سست تھی اور ان کی حیاتیاتی عمر بھی کم نکلی، ان لوگوں کے مقابلے میں جو بالکل بھی نیند نہیں لیتے تھے۔

یہ تحقیق China Health and Retirement Longitudinal Study کے اعداد و شمار پر مبنی تھی اور اس میں حیاتیاتی بڑھاپے کے دو پیمانوں کا استعمال کیا گیا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ جو لوگ نیند نہیں لیتے تھے ان کی حیاتیاتی عمر نمایاں طور پر زیادہ تھی اور دماغی کمزوری بھی تیزی سے بڑھ رہی تھی، جب کہ اعتدال میں نیند لینے والوں میں یہ عمل سست تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیند لینا ایک کم خرچ اور آسان ذریعہ ہے جو صحت مند بڑھاپے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ تحقیق سے یہ بھی پتا چلا کہ حیاتیاتی عمر (جو کولیسٹرول، سوزش، اور بلڈ پریشر جیسے طبی اشاریوں سے ناپی جاتی ہے) نیند اور دماغی کارکردگی کے درمیان تعلق کو جزوی طور پر واضح کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیند لینے والے ذہنی طور پر بہتر اس لیے بھی تھے کیونکہ وہ حیاتیاتی طور پر “زیادہ جوان” تھے۔

تاہم، بہت زیادہ دیر تک نیند لینا (90 منٹ سے زائد) یہ فوائد نہیں دکھا سکا۔ اس کے باوجود تحقیق اس بات کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ دن کے وقت آرام کو بڑھاپے اور دماغی صحت کی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا جانا چاہیے، خصوصاً ان معاشروں میں جہاں بڑھاپے کے ساتھ ڈیمنشیا (یادداشت کی شدید بیماری) کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔

دنیا میں بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کے پیشِ نظر، دوپہر کی نیند جیسی سادہ عادات معیارِ زندگی برقرار رکھنے میں مزید اہمیت اختیار کر سکتی ہیں۔

References:
H, Huang L, Zhang S, Zhang Y, Lan Y. Daytime napping, biological aging and cognitive function among middle-aged and older Chinese: insights from the China health and retirement longitudinal study. Front Public Health. 2023 Nov 17;11
゚viralfbreelsfypシ゚viral
゚viralシ



Schizophrenia awareness message  اسکیزوفرینیا (Schizophrenia) ایک شدید اور دائمی ذہنی بیماری ہے جو سوچنے، سمجھنے، محسوس ...
10/09/2025

Schizophrenia awareness message

اسکیزوفرینیا (Schizophrenia) ایک شدید اور دائمی ذہنی بیماری ہے جو سوچنے، سمجھنے، محسوس کرنے اور رویے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اسے عام طور پر “ذہنی حقیقت سے کٹ جانا” بھی کہا جاتا ہے۔
اہم علامات (Symptoms)

اسے تین بڑے گروپس میں بیان کیا جاتا ہے:

1. مثبت علامات (Positive Symptoms)

یعنی وہ چیزیں جو عام طور پر موجود نہیں ہوتیں لیکن مریض میں پیدا ہو جاتی ہیں:
• وہم (Delusions) → غلط عقائد جیسے کہ کوئی پیچھا کر رہا ہے یا کوئی طاقت اسے کنٹرول کر رہی ہے۔
• فریبِ نظر / آوازیں سننا (Hallucinations) → خاص طور پر آوازیں سننا جو دوسروں کو سنائی نہیں دیتیں۔
• غیر مربوط سوچ اور بات چیت (Disorganized Speech & Thinking)

2. منفی علامات (Negative Symptoms)

یعنی عام انسانی صلاحیتوں کا ختم ہونا یا کم ہونا:
• جذبات کا نہ ہونا یا کم ہونا (Flat affect)
• بات چیت اور سوشل تعلقات میں کمی
• کام یا دلچسپی میں کمی
• بے حسی (Apathy)

3. علمی علامات (Cognitive Symptoms)
• یادداشت میں کمزوری
• توجہ برقرار رکھنے میں دشواری
• فیصلے کرنے اور مسئلے حل کرنے کی صلاحیت میں کمی

وجوہات (Causes)

ابھی مکمل طور پر واضح نہیں، مگر چند عوامل اہم ہیں:
• جینیاتی (Genetic) → خاندان میں موجود ہو تو خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
• دماغی کیمیکلز (Neurotransmitters) → خاص طور پر dopamine اور glutamate کا عدم توازن۔
• دماغی ساختی تبدیلیاں (Brain structural changes) → MRI میں بعض حصوں میں تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔
゚viralfbreelsfypシ゚viral
゚viralシ




• ماحولیاتی عوامل → حمل کے دوران پیچیدگیاں، وائرل انفیکشن، ابتدائی عمر کا ٹراما، منشیات (cannabis وغیرہ)

ایک سائیکیاٹرسٹ کو سماج کے کون کون سے مسائل کو ڈسکس کرنا چاہئے ؟ایک سائیکیاٹرسٹ جب سماجی مسائل پر بات کرے تو اس کا دائرہ...
08/09/2025

ایک سائیکیاٹرسٹ کو سماج کے کون کون سے مسائل کو ڈسکس کرنا چاہئے ؟

ایک سائیکیاٹرسٹ جب سماجی مسائل پر بات کرے تو اس کا دائرہ کار صرف انفرادی ذہنی صحت تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرتی تناظر کو شامل کرتا ہے۔ ذیل میں چند اہم مسائل ہیں جن پر ایک سائیکیاٹرسٹ کو گفتگو اور آگاہی دینی چاہئے:
1. ذہنی صحت کا شعور
• ڈپریشن، اینگزائٹی، بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا وغیرہ کے بارے میں عام لوگوں کو آگاہ کرنا۔
• ذہنی امراض کو بیماری تسلیم کرنے اور علاج کے قابل سمجھنے کی ترغیب دینا۔
2. اسٹیگما (بدنامی اور شرمندگی)
• سماج میں ذہنی بیماریوں کے ساتھ جڑے تعصبات اور منفی تصورات کو دور کرنا۔
3. خاندانی نظام کے مسائل
• والدین اور اولاد کے تعلقات، میاں بیوی کے جھگڑے، گھریلو تشدد اور خاندانی دباؤ۔
4. نشہ اور اس کی تباہ کاریاں
• منشیات، الکحل اور دیگر نشہ آور عادات کے ذہنی و سماجی اثرات۔
5. تعلیم اور نوجوانوں کے مسائل
• طلبہ میں امتحانی دباؤ، کیریئر کا انتخاب، خودکشی کے رجحانات، اور موبائل/سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال۔
6. غربت اور معاشی دباؤ
• بیروزگاری، مالی بحران اور ان کے ذہنی صحت پر اثرات۔
7. خواتین کے مسائل
• گھریلو تشدد، امتیازی سلوک، کام کی جگہ پر ہراسانی، اور تولیدی صحت کے حوالے سے ذہنی دباؤ۔
8. بڑھتی ہوئی خودکشی کی شرح
• اسباب، روک تھام اور سماجی تعاون کی اہمیت۔
9. بزرگوں کے مسائل
• تنہائی، نظراندازی، ڈیمینشیا اور بڑھاپے کی ذہنی صحت۔
10. تشدد اور سماجی عدم برداشت
• انتہا پسندی، غصے کا بڑھتا ہوا رجحان اور اس کے ذہنی و معاشرتی نقصانات۔
11. ٹراما اور کرائسز سچویشن
• جنگ، دہشت گردی، قدرتی آفات یا حادثات
کے بعد ذہنی صحت کی بحالی

゚viralfbreelsfypシ゚viral
゚viralシ

Big shout out to my newest top fans! 💎Shareef Khoso, Mohummad Umair Rajput, Rizwan KabooroDrop a comment to welcome them...
06/09/2025

Big shout out to my newest top fans! 💎

Shareef Khoso, Mohummad Umair Rajput, Rizwan Kabooro

Drop a comment to welcome them to our community, fans

Negative & Obsessive Thoughts: منفی اور جنونی خیالات سے نجاتہم میں سے اکثر ایسے خیالات کا شکار رہتے ہیں جو بار بار دماغ ...
06/09/2025

Negative & Obsessive Thoughts: منفی اور جنونی خیالات سے نجات

ہم میں سے اکثر ایسے خیالات کا شکار رہتے ہیں جو بار بار دماغ میں گھومتے ہیں۔ کبھی وہ خیالات ہمیں خوف میں مبتلا کرتے ہیں کہ شاید کچھ برا ہونے والا ہے، کبھی شرمندگی دلاتے ہیں کہ سب لوگ ہمارے بارے میں برا سوچتے ہیں، اور کبھی وہ ہمیں خود سے نفرت کرنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم ناکام ہیں۔ یہ خیالات عام طور پر حقیقت نہیں ہوتے، بلکہ دماغ کے پرانے پیٹرنز اور خطرے کو ضرورت سے زیادہ محسوس کرنے کی عادت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

جیسے ایک شخص بار بار دفتر سے بھیجی گئی ای میل کو دوبارہ پڑھتا ہے کہ کہیں اس نے کوئی لفظ ایسا تو نہیں لکھ دیا جس سے باس ناراض ہو جائے۔ اصل میں کوئی ناراض نہیں ہوتا، لیکن اس کا دماغ بچپن کی اس عادت کو دہرا رہا ہوتا ہے کہ "اگر میں غلطی کروں گا تو مجھے قبول نہیں کیا جائے گا۔"

یہ خیالات کیوں پیدا ہوتے ہیں؟ دماغ خوشی کے لیے نہیں، بقا کے لیے بنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ منفی پہلو پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔ پرانے صدمے، بچپن کے تلخ تجربات، ناکامی یا تعلقات کے مسائل دماغ میں ایسے نقش چھوڑ جاتے ہیں جو ہر نئی صورت حال میں حرکت میں آ جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ عادات جیسے ہر بات پر اوور تھنکنگ، دوسروں کی رائے کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینا، یا ہر چیز پر مکمل کنٹرول کی خواہش بھی ان خیالات کو بڑھاتی ہیں۔

ان خیالات کو توڑنے کے لیے سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خیال حقیقت نہیں ہوتا۔ اگر دماغ کہتا ہے کہ "سب مجھ سے ناراض ہیں" تو خود سے سوال کریں "کون؟ کب؟ کس نے کہا؟" زیادہ تر صورتوں میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ دوسرا قدم یہ ہے کہ اس سوچ کو بار بار آنے دینے کے بجائے وقت کی حد لگائیں۔ مثال کے طور پر، اگر ایک ہی بات دماغ میں چل رہی ہے تو صرف دس منٹ اسے سوچنے کے لیے رکھیں اور باقی دن میں خود کو روکیں۔

دماغ کو نئے سگنل دینا بھی ضروری ہے۔ گہری سانس کی مشق کریں: چار سیکنڈ سانس اندر لیں، چار سیکنڈ روکیں، اور چار سیکنڈ میں باہر نکالیں۔ کسی مثبت سرگرمی جیسے چہل قدمی، کسی دوست سے بات، یا جرنل لکھنے کی عادت ڈالیں۔ اگر یہ خیالات روزمرہ زندگی متاثر کر رہے ہیں تو پیشہ ور مدد لینا کمزوری نہیں بلکہ ذہنی صحت کی ضرورت ہے۔ کلینیکل سائیکالوجسٹ کے ساتھ CBT سیشن میں ایسے خیالات کی جڑ پہچانی جا سکتی ہے اور عملی حکمتِ عملی سیکھی جا سکتی ہے۔

یاد رکھیں خیالات حقیقت نہیں ہوتے لیکن ان پر یقین کرنا آپ کی زندگی بدل دیتا ہے۔ آج سے خود کو یہ چیلنج دیں کہ بغیر ثبوت کے کسی بھی منفی خیال کو سچ نہ مانیں۔

ہماری زندگیوں میں بےچینی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم جہاں ہیں وہاں ہونا ہی نہیں سیکھاسارا دن یا تو ماضی میں ہوتے ہیں ...
05/09/2025

ہماری زندگیوں میں بےچینی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم جہاں ہیں وہاں ہونا ہی نہیں سیکھا
سارا دن یا تو ماضی میں ہوتے ہیں
یا
مستقبل میں
اگر کہیں نہیں ہوتے تو بس "حال" ہی میں نہیں ہوتے...

゚viralfbreelsfypシ゚viral

゚viralシ



Address

M K Hospital Opp Agha Khan Hospital Main Jamshoro Road Hyderabad
Hyderabad
71000

Telephone

+92222100771

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Shahnawaz M.K Dal Senior Psychiatrist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr.Shahnawaz M.K Dal Senior Psychiatrist:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category