HMS Islamic tuition center

HMS Islamic tuition center Online teaching, QUR'AN,and more

09/01/2026

اگر زنا اور نکاح ایک ہی عمل ہیں، تو پھر سائنس کیوں کہتی ہے کہ ایک انسان کو توڑتا ہے اور دوسرا جوڑتا ہے؟
یہ فرق اخلاقی نہیں… یہ نیورولوجیکل ہے۔

کیمسٹری آف حلال و حرام: دو جسموں کے ملاپ کا نیورو-اسپرچوئل الگورتھم اور نکاح کا حیاتیاتی معجزہ! -

انسانی تاریخ کے اس جدید ترین موڑ پر، جہاں لبرل ازم اور بائیں بازو (Left Wing) کے نظریات نے ”میرا جسم میری مرضی“ اور ”رضامندی کی جنسی آزادی“ (Consensual S*x) کو انسانی حقوق کا معراج بنا دیا ہے، وہاں ایک سوال بار بار ہمارے ذہنوں کے دروازے پر دستک دیتا ہے، ایک ایسا سوال جسے پوچھتے ہوئے بھی ہمارے نام نہاد دانشور کتراتے ہیں اور ہمارے مذہبی طبقات شرماتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا چیز ہے جو ایک ہی عمل، ایک ہی حرکت، اور بظاہر ایک ہی جیسے جسمانی لطف کو دو مختلف انتہاؤں میں بانٹ دیتی ہے؟

آخر وہ کون سا ”جادو“ ہے جو ”قبول ہے“ کے تین بولوں میں چھپا ہے کہ وہی عمل جو چند لمحے پہلے ”زنا“ تھا اور جس پر خدا کا غضب اور معاشرے کی پھٹکار تھی، وہ اچانک ”نکاح“ میں بدلتے ہی عبادت، صدقہ اور باعثِ اجر بن جاتا ہے؟

کیا نکاح نامہ محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے جیسا کہ جدید ملحدین اور سیکولر مفکرین دعویٰ کرتے ہیں، یا پھر یہ کاغذ کا ٹکڑا انسان کی نیورو کیمسٹری (Neurochemistry)، اس کی نفسیات اور اس کی روح کے آپریٹنگ سسٹم میں کوئی بنیادی تبدیلی رونما کر دیتا ہے؟

اگر ہم دائیں بازو (Right Wing) اور مذہبی بیانیے کو دیکھیں تو وہ زنا کو ”گناہِ کبیرہ“ اور نکاح کو ”نصف ایمان“ کہتے ہیں، جبکہ بائیں بازو کے نزدیک یہ محض دو بالغ انسانوں کے درمیان ”حیاتیاتی رگڑ“ (Biological Friction) اور ہارمونز کا کھیل ہے جس کا اخلاقیات سے کوئی لینا دینا نہیں۔

لیکن آج اکیسویں صدی کی سائنس، نیورو بائیولوجی اور ایپی جینیٹکس کی روشنی میں جب ہم ان دونوں نظریات کا تقابل کرتے ہیں تو ایک حیران کن اور دہلا دینے والی حقیقت سامنے آتی ہے۔

سائنس اب چیخ چیخ کر گواہی دے رہی ہے کہ نکاح اور زنا، چاہے وہ بظاہر ایک جیسے جسمانی افعال ہوں، مگر انسانی جسم اور روح پر ان کے اثرات زمین اور آسمان کی طرح مختلف ہیں۔

آئیے اس معمے کو سلجھانے کے لیے ایک کیس اسٹڈی (Case Study) فرض کرتے ہیں۔

ایک مرد اور ایک عورت ہیں۔ ان کے جسم وہی ہیں، ان کے ہارمونز وہی ہیں، ان کی خواہشات وہی ہیں۔ ایک صورتحال میں وہ یہ تعلق ”زنا“ (نکاح کے بغیر) کے طور پر قائم کرتے ہیں، اور دوسری صورتحال میں وہ یہی تعلق ”نکاح“ کے بعد قائم کرتے ہیں۔

بظاہر فزکس کے قوانین کے مطابق عمل (Action) ایک ہی ہے، لیکن بائیولوجی اور سائنس کی نظر میں یہ دو بالکل مختلف واقعات ہیں۔

سب سے پہلے ہمیں ”زنا“ کی سائیکو-بائیولوجی کو سمجھنا ہوگا۔

جب دو افراد نکاح کے بغیر، چھپ کر یا محض باہمی رضامندی سے جنسی تعلق قائم کرتے ہیں، تو ان کے دماغ کا ایک خاص حصہ جسے ”Amygdala“ کہتے ہیں (جو خوف اور خطرے کا مرکز ہے)، وہ غیر شعوری طور پر ”Active“ (متحرک) رہتا ہے۔ چاہے وہ کتنے ہی محفوظ مقام پر کیوں نہ ہوں، انسانی لاشعور (Subconscious) لاکھوں سال کے ارتقائی عمل سے یہ سیکھ چکا ہے کہ یہ عمل ”غیر محفوظ“ (Insecure) ہے۔

اس حالت میں جسم میں ”Dopamine“ کا اخراج تو بہت زیادہ ہوتا ہے, جو کہ ایک وقتی لذت اور نشے کا کیمیکل ہے, لیکن اس کے ساتھ ساتھ ”Cortisol“ اور ”Adrenaline“ (اسٹریس ہارمونز) کی سطح بھی بلند رہتی ہے۔

یہ وہی کیفیت ہے جو ایک ”چور“ کی ہوتی ہے۔

چور کو چوری کے مال میں لذت تو ملتی ہے، لیکن اس کا اعصابی نظام کبھی ”Relax“ نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ ”Fight or Flight“ (لڑو یا بھاگو) کے موڈ میں رہتا ہے۔

جدید نیورو سائنس بتاتی ہے کہ زنا کے دوران دماغ میں ”Oxytocin“ (جسے محبت اور بانڈنگ کا ہارمون کہا جاتا ہے) کا اخراج تو ہوتا ہے، لیکن چونکہ وہاں ”Trust“ (اعتماد) اور ”Security“ (تحفظ) کی بنیاد یعنی ”Commitment“ موجود نہیں ہوتی، اس لیے آکسیٹوسن اپنا پورا اثر دکھانے میں ناکام رہتا ہے۔

نتیجہ کیا نکلتا ہے؟

عمل ختم ہونے کے فوراً بعد ”Dopamine Crash“ ہوتا ہے۔

مرد اور عورت دونوں ایک عجیب سے ”خلا“ (Void)، بیگانگی اور اداسی محسوس کرتے ہیں۔

فرانسیسی میں اسے
”La petite mort“ (The little death)
کہا جاتا ہے۔

یہ وہ لمحہ ہے جب روح چیخ کر بتاتی ہے کہ ”کچھ غلط ہوا ہے“۔

نفسیاتی طور پر، زنا کرنے والے جوڑے میں کبھی بھی حقیقی جذباتی گہرائی (Deep Emotional Intimacy) پیدا نہیں ہو پاتی کیونکہ ان کا تعلق ”جسم“ سے شروع ہو کر ”جسم“ پر ختم ہو جاتا ہے، اس میں ”روح“ کی شمولیت نہیں ہوتی۔

یہ تعلق ”استعمال“ (Use) اور ”استحصال“ (Exploit) کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ ”ایثار“ اور ”ذمہ داری“ پر۔

یہی وجہ ہے کہ زنا کار معاشروں میں انزائٹی، ڈپریشن اور خودکشی کی شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے، کیونکہ وہاں جسم تو سیر ہو رہے ہیں، مگر روحیں بھوکی مر رہی ہیں۔

اب اسی جوڑے کو ”نکاح“ کے دائرے میں لے آئیں۔

جب ”قبول ہے“ بولا جاتا ہے اور گواہوں کی موجودگی میں ایک سماجی اور مذہبی معاہدہ طے پاتا ہے، تو یہ محض رسم نہیں ہوتی، بلکہ یہ انسانی دماغ کے لیے ایک طاقتور ”سگنل“ ہوتا ہے کہ ”اب تم محفوظ ہو“۔

نکاح کا سب سے بڑا سائنسی فائدہ ”Psychological Safety“ (نفسیاتی تحفظ) ہے۔

جب وہی مرد اور عورت نکاح کے بعد قربت اختیار کرتے ہیں، تو ان کا دماغ خطرے کے مرکز (Amygdala) کو بند کر دیتا ہے اور ”Prefrontal Cortex“ (فیصلہ سازی اور سکون کا مرکز) کو فعال کر دیتا ہے۔

اس حالت میں جب قربت ہوتی ہے، تو جسم میں نہ صرف ”Dopamine“ نکلتا ہے، بلکہ اس کے ساتھ بھاری مقدار میں ”Oxytocin“ اور ”Vasopressin“ کا اخراج ہوتا ہے۔

یہ دو ہارمونز صرف جنسی لذت نہیں دیتے، بلکہ یہ دو انسانوں کے درمیان ایک ایسا ”کیمیکل بانڈ“ (Chemical Bond) بنا دیتے ہیں جو کوکین کے نشے سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔

سائنسدان اسے ”Pair Bonding“ کہتے ہیں۔

نکاح کے بعد کی قربت میں اسٹریس ہارمونز (Cortisol) کی سطح زمین پر آ جاتی ہے اور مدافعتی نظام (Immune System) مضبوط ہوتا ہے۔

یہ ”چوری“ کا عمل نہیں، یہ ”ملکیت“ (Ownership) کا احساس ہے۔

ایک ”مالک“ اپنے گھر میں جس اطمینان سے رہتا ہے، چور کسی دوسرے کے گھر میں وہ اطمینان کبھی نہیں پا سکتا۔

قرآن نے اسی کیفیت کو ایک معجزانہ لفظ میں بیان کیا ہے:

”لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا“

(تاکہ تم اس سے ”سکون“ حاصل کرو)۔

جدید سائنس نے آج ثابت کر دیا ہے کہ یہ ”سکون“ کوئی شاعرانہ استعارہ نہیں بلکہ ایک ٹھوس ”نیورولوجیکل اسٹیٹ“ (Neurological State) ہے جہاں انسان کا ہمدردانہ اعصابی نظام (Parasympathetic Nervous System) متحرک ہو جاتا ہے، جسے ”Rest and Digest“ موڈ کہتے ہیں۔

یہ وہ حالت ہے جہاں انسان کی روح، اس کا جسم اور اس کا دماغ ایک ہم آہنگی (Coherence) میں آ جاتے ہیں۔

یہاں ایک اور بہت بڑا سائنسی راز ہے جسے جدید لبرل سائنس دان چھپانے کی کوشش کرتے ہیں مگر حقیقت سامنے آ ہی جاتی ہے، اور وہ ہے ”مائیکرو کائیمرازم“ (Microchimerism)۔

اگرچہ یہ تحقیق ابھی جاری ہے، لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ قربت کے دوران صرف سیال مادوں کا تبادلہ نہیں ہوتا، بلکہ ڈی این اے (DNA) کی سطح پر بھی ایک تبادلہ ہوتا ہے۔

مرد کا ڈی این اے عورت کے دماغ اور جسم میں سالوں تک، بلکہ شاید زندگی بھر کے لیے محفوظ ہو جاتا ہے۔

اگر ایک عورت متعدد مردوں کے ساتھ زنا کرتی ہے (جیسا کہ مغربی معاشرے میں عام ہے)، تو اس کے دماغ میں مختلف مردوں کے ڈی این اے کے ٹکڑے موجود ہوتے ہیں جو ایک ”جینیاتی کھچڑی“ (Genetic Chaos) پیدا کرتے ہیں۔

کچھ محققین کا خیال ہے کہ یہ عورت کی نفسیاتی صحت، اس کے مزاج اور اس کی آئندہ نسل کی صحت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اسلام کا ”عدت“ کا تصور اور زنا کی ممانعت شاید اسی جینیاتی پاکیزگی (Genetic Purity) اور ”نسب“ (Lineage) کے تحفظ کا ایک سائنسی میکانزم ہے۔

جب نکاح کے ذریعے ایک ہی مرد کے ساتھ وفاداری کا رشتہ قائم ہوتا ہے، تو یہ بائیولوجیکل کنفیوژن پیدا نہیں ہوتی، اور عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے ”بائیولوجیکل ردہم“ (Biological Rhythm) کے ساتھ ہم آہنگ (Sync) ہو جاتے ہیں۔

یہ وہ ”یکجائی“ ہے جسے قرآن نے

”ھُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ“

(وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو)

کہہ کر پکارا ہے۔

لباس جسم کے قریب ترین ہوتا ہے، حفاظت کرتا ہے اور زینت دیتا ہے؛ بالکل اسی طرح نکاح دو روحوں کو ایک دوسرے کا محافظ بنا دیتا ہے۔

بائیں بازو (Left Wing) کے نظریات، جو انفرادیت (Individualism) اور جنسی آزادی کا پرچار کرتے ہیں، وہ دراصل انسان کو ”جانور“ کی سطح پر لا کھڑا کرتے ہیں۔

جانوروں میں ”خاندان“ نہیں ہوتا، صرف ”ری پروڈکشن“ ہوتی ہے۔

جب انسان اپنی جنسی خواہش کو محض ”پیاس بجھانے“ کا عمل سمجھ لیتا ہے، تو وہ اپنی انسانیت کی تذلیل کرتا ہے۔

فرائیڈ (Freud) نے کہا تھا کہ جنسی جبلت (Libido) انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

اگر اس طاقت کو کھلا چھوڑ دیا جائے (زنا)، تو یہ سیلاب بن کر معاشرے کو بہا لے جاتی ہے، جیسا کہ ہم آج مغرب میں خاندانی نظام کی تباہی، سنگل پیرنٹ ہڈ اور نفسیاتی بحرانوں کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔

لیکن اگر اس طاقت کو ”نکاح“ کے ڈیم میں محفوظ کر لیا جائے، تو یہی طاقت بجلی بن کر معاشرے کو روشن کر دیتی ہے۔

دائیں بازو اور خاص طور پر اسلام کا فلسفہ یہ ہے کہ جنسی عمل محض لذت نہیں، بلکہ یہ ایک ”ذمہ داری“ اور ”تخلیق“ کا عمل ہے۔

جب ایک جوڑا نکاح کے بندھن میں بندھتا ہے، تو وہ کائنات کے خالق کے ساتھ ایک ”معاہدہ“ (Covenant) کرتا ہے کہ وہ اس عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی زندگی (اولاد) کی حفاظت کریں گے۔

زنا میں ”لذت“ تو ہے، مگر ”ذمہ داری“ نہیں؛ اور بغیر ذمہ داری کے اختیار استعمال کرنا ہی فساد کی جڑ ہے۔

حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

”تمہارا اپنی بیوی سے قربت کرنا بھی صدقہ ہے۔“

صحابہ کرامؓ نے حیران ہو کر پوچھا:

”یا رسول اللہ ﷺ! ہم میں سے کوئی اپنی شہوت پوری کرتا ہے اور اسے اس پر بھی اجر ملتا ہے؟“

آپ ﷺ نے ایک منطقی دلیل دی:

”بتاؤ! اگر وہ یہ خواہش حرام طریقے (زنا) سے پوری کرتا تو کیا اسے گناہ نہ ہوتا؟ اسی طرح جب اس نے اسے حلال طریقے سے پورا کیا تو اسے اجر ملے گا۔“ (صحیح مسلم)۔

یہ حدیث اسلام کے ”فطری دین“ ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

اسلام انسانی خواہشات کو کچلتا نہیں (جیسے رہبانیت و صوفیت)، اور نہ ہی انہیں بے لگام چھوڑتا ہے (جیسے لبرل ازم و روشن خیالی)۔

اسلام انہیں ”چینلائز“ (Channelize) کرتا ہے۔

یہ اجر کیوں ہے؟

اس لیے نہیں کہ آپ نے لذت حاصل کی، بلکہ اس لیے کہ آپ نے اس لذت کو حاصل کرنے کے لیے ”شیطان“ کو شکست دی، آپ نے معاشرے کو فساد سے بچایا، آپ نے ایک عورت کو عزت اور چھت دی، اور آپ نے انسانی نسل کی بقا کے لیے ایک پاکیزہ اینٹ رکھی۔

نکاح کے بعد کی قربت ایک ”اسپرچوئل ٹرانسفر“ (Spiritual Transfer) ہے۔

اس وقت آسمان کے دروازے کھلتے ہیں کیونکہ یہ عمل اللہ کے حکم اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کے تابع ہو کر کیا جا رہا ہے۔

علماء کہتے ہیں کہ زنا سے دل پر ”سیاہ نکتہ“ پڑتا ہے جو انسان کی روحانی بصیرت (Spiritual Insight) چھین لیتا ہے۔

زناکار کی آنکھ سے حیا اور چہرے سے نور ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ اس نے ”خیانت“ کی۔

اس نے اللہ کی امانت (جسم) کو اس جگہ استعمال کیا جہاں کی اجازت نہیں تھی۔

اس کے برعکس، نکاح کرنے والے جوڑے کے چہرے پر ایک خاص ”نور“ اور ”وقار“ آ جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی خواہش کو اللہ کی رضا کے تابع کر دیا۔

اب ذرا ”روحانیت“ کے پہلو سے دیکھیں تو زنا اور نکاح میں وہی فرق ہے جو ”آگ“ اور ”روشنی“ میں ہے۔

آگ جلاتی ہے، راکھ کرتی ہے اور بے قابو ہوتی ہے؛ روشنی راستہ دکھاتی ہے، سکون دیتی ہے اور زندگی کو پروان چڑھاتی ہے۔

جب ایک مرد اور عورت نکاح کے بندھن میں ہوتے ہیں، تو ان کی توانائیاں (Energies) ایک دوسرے میں ضم ہو کر ایک ”مکمل اکائی“ (Unit) بناتی ہیں۔

کوانٹم فزکس کے اصول ”Entanglement“ کے مطابق، دو ذرات جب ایک بار مل جائیں تو وہ فاصلے کے باوجود ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

میاں بیوی کا رشتہ اس کائنات کا سب سے گہرا ”کوانٹم اینٹینگلمنٹ“ ہے۔

ان کا دکھ، سکھ، اور روحانی کیفیات ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہیں۔

زنا میں یہ ”کنکشن“ تو بنتا ہے، لیکن چونکہ وہ بنیاد غلط ہوتی ہے، اس لیے وہ ایک ”نیگیٹو اینٹینگلمنٹ“ بن جاتا ہے جو دونوں کی انرجی کو ڈرین (Drain) کرتا ہے، انہیں ایک دوسرے سے بیزار کرتا ہے اور آخرکار نفرت میں بدل جاتا ہے۔

آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ ناجائز تعلقات کا انجام اکثر دھوکے، قتل یا شدید نفرت پر ہوتا ہے، جبکہ نکاح کا رشتہ (اگر صحیح بنیاد پر ہو) بڑھاپے میں جا کر بھی ایک دوسرے کے لیے رحمت اور سکون کا باعث بنتا ہے۔

یہ اتفاق نہیں، یہ ”قانونِ قدرت“ ہے۔ اللہ نے جو چیز ”طیب“ (پاک) بنائی ہے، اس میں بقا ہے؛ اور جو چیز ”خبیث“ (ناپاک) ہے، اس میں فنا ہے۔

اخلاقی اور سماجی سطح پر دیکھیں تو زنا ایک ”انارکی“ (Anarchy) ہے۔

اگر ہر مرد اور عورت آزادانہ تعلقات قائم کریں، تو ”باپ“ کا تصور ختم ہو جائے گا۔

اور جب باپ کا تعین نہ ہو، تو ذمہ داری کون اٹھائے گا؟

بچہ کس کا ہوگا؟

وراثت کس کی ہوگی؟

معاشرہ بکھر کر رہ جائے گا جیسا کہ جانوروں میں ہوتا ہے۔

نکاح دراصل ”تمدن“ (Civilization) کی بنیاد ہے۔ یہ انسان کو جنگل سے نکال کر شہر میں لاتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ تم صرف اپنی ذات کے لیے نہیں جی رہے، تم ایک زنجیر کی کڑی ہو۔

تمہارے پیچھے تمہارے آباؤ اجداد ہیں اور تمہارے آگے تمہاری اولاد۔

زنا اس زنجیر کو توڑ دیتا ہے۔ یہ انسان کو ”حال“ (Present) کے نشے میں قید کر دیتا ہے اور ”مستقبل“ (Future) کو تاریک کر دیتا ہے۔

نکاح انسان کو ”مستقبل“ کا معمار بناتا ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہمارے جسم محض گوشت اور ہڈیوں کا ڈھانچہ نہیں، یہ اللہ کی بنائی ہوئی ایک انتہائی حساس ”عمارت“ (Building) ہے۔

ہم اس میں جو کچھ داخل کرتے ہیں (غذا ہو یا جنسی تعلق)، وہ ہماری روح کی ساخت کو بدل دیتا ہے۔

زنا محض ایک سماجی جرم نہیں، یہ اپنی ہی روح کے خلاف ایک ”دہشت گردی“ ہے۔

یہ اپنے ڈی این اے کو آلودہ کرنے اور اپنے دماغی سکون کو آگ لگانے کا عمل ہے۔

اور نکاح؟

نکاح محض ایک رسم نہیں، یہ اس کائنات کے خالق کے ساتھ ہم آہنگی کا نام ہے۔

یہ اپنی ادھوری ذات کو مکمل کرنے کا واحد حلال راستہ ہے۔

آج کی سائنس، نفسیات اور روحانیت تینوں اس ایک نقطے پر متفق ہیں کہ انسان کی حقیقی خوشی، سکون اور بقا ”حدود“ کے اندر ہے، نہ کہ ”حدود“ کو توڑنے میں۔

آزادی (Freedom) کا مطلب بریکس فیل گاڑی میں بیٹھنا نہیں ہے، بلکہ آزادی کا مطلب ٹریفک کے قوانین کی پابندی کر کے منزل تک پہنچنا ہے۔

زنا بریک فیل گاڑی ہے جو کھائی میں گرے گی، اور نکاح وہ شاہراہ ہے جو جنت کے دروازے تک جاتی ہے۔

09/01/2026

شیر کی خاموش عادت دراصل زندگی کے اُن گہرے اور ناقابلِ تردید اصولوں کی عکاسی کرتی ہے جنہیں سمجھ لینا انسان کو بے شمار لغزشوں سے بچا لیتا ہے۔ وہ بھوک لگنے تک خاموش رہتا ہے، اس لیے نہیں کہ وہ کمزور ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ اپنی طاقت، اپنے وقت اور اپنی ضرورت کو پہچانتا ہے۔ یہی پہچان اصل دانائی ہے۔ دنیا میں اکثر لوگ بلاوجہ بولتے ہیں، ہر بات کا جواب دینا اپنا حق سمجھتے ہیں اور یوں اپنی ہی قدر کم کر لیتے ہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ ہر آواز جواب کی مستحق نہیں ہوتی اور ہر الزام صفائی کا محتاج نہیں ہوتا۔ خاموشی اکثر انسان کے وقار کی حفاظت کرتی ہے۔ جو شخص خود پر یقین رکھتا ہے وہ دوسروں کے شور سے متاثر نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ اصل طاقت زبان میں نہیں بلکہ کردار میں ہوتی ہے۔ زبان سے نکلی باتیں وقتی اثر رکھتی ہیں، مگر وقت پر کیا گیا عمل دیرپا حقیقت بن جاتا ہے۔ اسی لیے سمجھدار لوگ غیر ضروری بحثوں میں نہیں الجھتے، نہ ہی ہر تنقید کو دل پر لیتے ہیں۔ وہ حالات کو دیکھتے ہیں، لوگوں کی نیتوں کو پرکھتے ہیں اور پھر خاموشی کے ساتھ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ آج کے دور میں، جہاں ہر شخص خود کو ثابت کرنے کی جلدی میں ہے، خاموش رہ جانا ایک سچی بصیرت کی علامت ہے۔ یہ خاموشی انسان کو خود سے جُڑنے کا موقع دیتی ہے، اس کے ارادوں کو مضبوط کرتی ہے اور اس کے صبر کو نکھارتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جو لوگ اپنی توانائی فضول باتوں میں ضائع نہیں کرتے، وہی زندگی کے اصل معرکوں میں سرخرو ہوتے ہیں۔ بالآخر، شیر کی طرح وہی لوگ یاد رکھے جاتے ہیں جو کم بولتے ہیں، مگر جب قدم بڑھاتے ہیں تو ان کی موجودگی خود بولنے لگتی ہے۔

رب کافی ہے
09/01/2026

رب کافی ہے

11/08/2025

Celebrating my 2nd year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

05/08/2024

کبھی کسی کو نیچی نظر سے مت دیکھو کیونکہ تمہاری جو حیثیت ہے یہ تمہاری قابلیت نہیں بلکہ رب تعالی کا تم پر احسان ہے......
────•♥️✨||•

05/08/2024

پریشانیاں ہر ایک کی زِندگی میں موجود ہیں،کوئی بھی ایک مکمل پرفیکٹ زِندگی نہیں گُزار رہا،بس فرق وہاں پہ آتا ہے جب اِنسان اپنے معاملات اللّٰه کے حوالے کرتا ہے اور مُطمئن ہو جاتا ہے اور کہتا ہے!
حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْل

Address

Hala Naka Hyderabad
Hyderabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when HMS Islamic tuition center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category