DRC Homeopathy Clinic,Pharmacy

DRC Homeopathy  Clinic,Pharmacy وَإِذا مَرِضتُ فَهُوَ يَشفينِ
And when I am sick, then He restores me to h

CENTRE OF ADVANCED STUDY & RESEARCH IN HOMOEOPATHY
(Repertorisation)(Diagnosis)(Treatment)(Training)
Drc Homoepathy Clinic, is all set to create the magical aura of gentle healing, that Homoeopathy is all about.Spread over a sprawling piece of landscaped earth, the Drc Homoeopathy furnished with instruments, equipment and top line facilities

Welcome to Drc Homoeopathy on line clinic....Open for admission for courses on Homoeopathy like paramedical diploma courses in Pharmacy, dispensing, certificate courses for International and professionals etc.Drc is all set to become centre of excellence in Homoeopathic education and research. General Information
The main objective of Drc is to establish, promote, sponsor, spreading and promoting knowledge, learning, education and understanding in the field of Homoeopathic education and research and to render the services to suffering humanity through Homoeopathic system of medicine & impart education and training both theoretical and practical to the students to qualify them for practicing as Homoeopathic Medical practitioners according to the principles and science of Homoeopathy. The current Board of Management of the Drc is as follows:
Dr Tariq mahmood
Dr Nazer ahmed
DR Khalid mahmood

10/10/2023
 #  # #اسلام وعلیکم سب سے پہلے تو پانچ وقت نماز پڑھیں سجدہ لمبا کریں ۔ اس سے ریڑھ کی ہڈی کو کافی آرام ملتا ہے۔پھر جب بھی...
29/08/2022

# # #
اسلام وعلیکم
سب سے پہلے تو پانچ وقت نماز پڑھیں سجدہ لمبا کریں ۔ اس سے ریڑھ کی ہڈی کو کافی آرام ملتا ہے۔
پھر جب بھی ٹائم ملے یہ ورزش کریں ہموار جگہ پر ۔
سونے ک کیے نرم گدا استمعال نہ کریں کوشش کریں سوتے وقت آپ کی کمر سیدھی ہو اور سرہانا زیادہ اونچا نہ ہو۔ کم سے کم ایک ماہ یہ روٹین رکھیں ۔
اللہ کرے اپکو ورزش سے ہی آرام آ جاے۔ امین
اگر ساتھ ساتھ دوائی لینا چاہیں تو Homeopathic دوائی لیں۔۔

16/08/2022

ذیابیطس کیا ہے اور آپ اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

ذیابیطس تاحیات ساتھ رہنے والے ایسی طبی حالت ہے جو ہر سال لاکھوں افراد کو ہلاک کرتی ہے اور یہ کسی کو بھی لاحق ہو سکتی ہے۔

یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجود شکر (گلوکوز) کو حل کر کے خون میں شامل نہیں کر پاتا اس کی پیچیدگی کی وجہ سے دل کے دورے، فالج، نابینا پن، گردے ناکارہ ہونے اور پاؤں اور ٹانگیں کٹنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ تیزی سے بڑھتا ہوا مسئلہ ہے اور ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 42 کروڑ 22 لاکھ افراد اس کا شکار ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق یہ تعداد 40 سال پہلے کے مقابلے میں چار گنا ہے۔

صرف پاکستان میں ہر سال ذیابیطس کے مرض کے باعث تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد معذور ہو جاتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے ایک فرد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے اور یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

یہی نہیں بلکہ ذیابیطس پاکستان میں ہلاکتوں کی آٹھویں بڑی وجہ بھی ہے اور 2005 کے مقابلے میں اس سے متاثرہ افراد کی ہلاکتوں میں 50 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

ان خطرات کے باوجود ذیابیطس کا شکار فیصد لوگوں کو اس بات کا علم نہیں کہ روز مرہ کے معمولات میں تبدیلی کئی معاملات میں بہتری لا سکتی ہے۔

ذیابیطس کی وجہ کیا ہے؟

جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم نشاستے (کاربوہائیڈریٹس) کو شکر (گلوکوز) میں تبدیل کر دیتا ہے، جس کے بعد لبلبے (پینکریاز) میں پیدا ہونے والا ہارمون انسولین ہمارے جسم کے خلیوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ توانائی کے حصول کے لیے اس شکر کو جذب کریں۔۔

ذیابیطس تب لاحق ہوتا ہے جب انسولین مناسب مقدار میں پیدا نہیں ہوتی یا کام نہیں کرتی، اس کی وجہ سے شکر ہمارے خون میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

ذیابیطس کی کتنی اقسام ہیں؟

ذیابیطس کی کئی اقسام ہیں۔ ٹائپ ون ذیابیطس میں لبلبہ انسولین بنانا بند کر دیتا ہے جس کی وجہ سے شکر خون کے بہاؤ میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

سائنسدان یہ تو نہیں جانتے کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ شاید ایسا جینیاتی اثر کی وجہ سے ہوتا ہے یا کسی وائرل انفیکشن کی وجہ سے کہ لبلبے میں انسولین بنانے والے خلیے خراب ہو جاتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کا دس فیصد ٹائپ ون کا شکار ہیں۔

ٹائپ 2 ذیابیطس میں لبلبہ یا تو ضرورت کے مطابق انسولین نہیں بناتا یا جو بناتا ہے وہ ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرتی۔

انسولین ہمارے جسم میں شکر کو توانائی میں منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے

ایسا عموماً درمیانی اور بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم یہ مرض کم عمر کے زیادہ وزن والے افراد، سست طرزِ زندگی اپنانے والے اور کسی خاص نسل سے تعلق رکھنے والے افراد خصوصاً جنوبی ایشیائی افراد کو بھی لاحق بھی ہو سکتا ہے۔

کچھ حاملہ خواتین کو دورانِ زچگی ذیابیطس ہو جاتا ہے جب ان کا جسم ان کے اور بچے کے لیے کافی انسولین نہیں بنا پاتا۔

مختلف مطالعوں کے مختلف اندازوں کے مطابق چھ سے 16 فیصد خواتین کو دورانِ حمل ذیابیطس ہو جاتا ہے۔ انھیں ایسے میں غذا اور ورزش کے ذریعے شوگر لیول کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے، تاکہ اسے ٹائپ ٹو انسولین میں بدلنے سے روکا جا سکے۔

اب لوگوں کو خون میں گلوکوز کی بڑھی ہوئی سطح کے بارے میں تشخیص کر کے انھیں ذیابیطس ہونے کے خطرے سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔

ذیابیطس کی علامات کیا ہیں؟

سستی اور پیاس ذیابیطس کی علامات ہو سکتی ہیں

عمومی علامات

بہت زیادہ پیاس لگنا
معمول سے زیادہ پیشاب آنا، خصوصاً رات کے وقت
تھکاوٹ محسوس کرنا
وزن کا کم ہونا
دھندلی نظر
زخموں کا نہ بھرنا
برٹش نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق ٹائپ ون ذیابیطس کی علامات بچپن یا جوانی میں ہی ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور یہ زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔

ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے کا شکار افراد 40 سال سے زائد عمر کے ہوتے ہیں (جنوبی ایشائی افراد 25 سال کی عمر تک)۔ ان کے والدین یا بہن بھائیوں میں سے کسی کو ذیابیطس ہوتا ہے، ان کا وزن زیادہ ہوتا ہے یا وہ موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں، ان میں زیادہ تعداد جنوبی ایشیائی مالک کے لوگوں کی، چینی باشندوں کی، جزائر عرب الہند اور سیاہ فام افریقیوں کی ہے۔

کیا میں ذیابیطس سے بچ سکتا ہوں؟
ذیابیطس کا زیادہ تر انحصار جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل پر ہوتا ہے لیکن آپ صحت مند غذا اور چست طرزِ زندگی سے اپنے خون میں شکر کو مناسب سطح پر رکھ سکتے ہیں۔

صحت مند خوراک کا رجحان اپنانا پہلے شرط ہے

پروسیس کیے گئے میٹھے کھانوں اور مشروبات سے پرہیز اور سفید روٹی اور پاستا کی جگہ خالص آٹے کا استعمال پہلا مرحلہ ہے۔

ریفائنڈ چینی اور اناج غذائیت کے اعتبار سے کم ہوتے ہیں کیونکہ ان میں سے وٹامن سے بھرپور حصہ نکال دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سفید آٹا، سفید روٹی، سفید چاول، سفید پاستا، بیکری کی اشیا، سوڈا والے مشروبات، مٹھائیاں اور ناشتے کے میٹھے سیریل۔

صحت مند غذاؤں میں سبزیاں، پھل، بیج، اناج شامل ہیں۔ اس میں صحت مند تیل، میوے اور اومیگا تھری والے مچھلی کے تیل بھی شامل ہیں۔

یہ ضروری ہے کہ وقفے وقفے سے کھایا جائے اور بھوک مٹنے پر ہاتھ روک لیا جائے۔

جسمانی ورزش بھی خون میں شوگر کے تناسب کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ برطانیہ میں این ایچ ایس تجویز کرتا ہے کہ ہفتے مںی کم از کم ڈھائی گھنے ایروبکس کرنا یا تیز چہل قدمی یا سیڑھیاں چڑھنا مفید ھے
سست روی چھوڑ کر ہفتے میں کم از کم اڑھائی گھنٹے ورزش ضروری ہے

جسم کا صحت مند حد تک وزن شوگر لیول کو کم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر آپ وزن کم کرنا چاہتے ہی تو اسے آہستہ آہستہ کریں یعنی آدھا یا ایک کلو ایک ہفتے میں۔

یہ بھی اہم ہے کہ آپ تمباکو نوشی نہ کریں اور اپنے کولیسٹرول لیول کو کم رکھیں تاکہ دل کے عارضے کا خطرہ کم ہو۔

ذیابیطس میں پیچیدگیاں کیا ہیں؟

خون میں شوگر کی زیادہ مقدار خون کی شریانوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اگر خون کا جسم میں بہاؤ ٹھیک نہ ہو تو یہ ان اعضا تک نہیں پہنچ پاتا جہاں اس کی ضرورت ہوتی ہے اس کی وجہ سے اعصاب کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے درد اور احساس ختم ہو جاتا ہے، بینائی جا سکتی ہے اور پیروں میں انفیکشن ہو سکتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ نابینا پن، گردوں کی ناکارہ ہونے، دل کے دورے، فالج اور پاؤں کٹنے کی بڑی وجہ ذیابیطس ہی ہے۔

ذیابیطس کا مرض نابینا پن، گردوں کی ناکارہ ہونے، دل کے دورے، فالج اور پاؤں کٹنے کا باعث بن سکتا ہے

سنہ 2016 میں ایک اندازے کے مطابق 16 لاکھ افراد براہ راست ذیابیطس کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

کتنے لوگ ذیابیطس کا شکار ہیں؟

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 1980 میں ذیابیطس کا شکار افراد کی تعداد دس کروڑ 80 لاکھ تھی جو 2014 میں بڑھ کر 42 کروڑ 22 لاکھ ہو گئی۔

1980 میں دنیا بھر کے 18 سال سے زاید عمر کے بالغ افراد کا پانچ فیصد ذیابیطس کا شکار تھا جبکہ سنہ 2014 میں یہ تعداد 8.5 فیصد تک جا پہنچی ہے۔

ذیابیطس کی بین الاقوامی فاؤنڈیشن کے اندازوں کے مطابق اس کیفیت کا شکار 80 فیصد بالغ افراد درمیانی عمر کے ہیں، ان کا تعلق کم آمدنی والے ممالک سے ہے اور جہاں کھانے پینے کی عادادت تیزی سے تبدیل ہوتی ہیں۔

ترقی یافتہ ملکوں میں اس کا ذمہ دار غربت اور سستے پروسیسڈ کھانوں کو قرار دیا جاتا ہے۔

شوگر کا علاج بذریعہ dxn فوڈ سپلیمنٹس

رشی مشروم پاؤڈر ۔۔مورینزی شربت ۔۔ اسپائرولینا گولیاں

مزید معلومات کے لئے کال / واٹس ایپ پر رابطہ کریں ۔
03309277794

10/02/2022

چہرہ دیکھ کر دوا پہچانیں:

پلاٹینا کی ناک کی ہڈی پر گوشت نہی ہوتا ہے۔ ناک کی اوپری ہڈی بلکل پتلی ہوتی ہے
کمینٹ میں ناک دیکیں

29/01/2022

آج کل بچوں میں قبض کا ایشو بہت چل رہا ہے۔
والدین کہتے ہیں کہ بچہ 2 دن 3 دن پاخانہ نہیں کرتا پھر کوئی دوا دیں تو پاخانہ کرتا ہے۔
یاد رکھیں۔۔۔
اگر مستقل طور پر قبض رہے جو قبض کشا ادویات کے بغیر نا ٹوٹے تو ایسے کیسز میں 90 فیصد کیس بڑی آنت کے آخری حصے یعنی ریکٹم کی فالجی کیفیت کی بناء پر سامنے آتے ہیں۔۔
بڑی آنت کی حرکت دودھیہ ختم یا کم ہونے کی وجہ سے ریکٹم میں فالج ہو جاتا ہے۔
حرکت دودھیہ بڑھانے کیلئے میٹیریا میں واحد دوا " سیلینئیم" لکھی ہوئی ہے۔
اسکے ساتھ کیسکارا سیگ اور برائونیا Helping ریمیڈیز کے طور پر دیں۔
ان بچوں کا میازم سائیکوٹک ہوتا ہے جس کے لئے میڈورینم ان کی میازمیٹک دوا ہے۔

سلیم اشعر ہومیوپیتھ بھکر

29/01/2022

نقطے کی بات۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہاضمے والی پھکی بنانا مشکل ھے
نیٹرم فاس 6c
گھر میں رکھ لیں۔
وہی کام کرتی ھے۔

سورائسس چنبل کیا ھے؟.                                                            What is psoriasis                      ...
26/07/2021

سورائسس چنبل کیا ھے؟. What is psoriasis

انسان کی جلد کا سب سے اھم کام اندرونی اعضا اور ہڈیوں کے ڈھانچےکو محفوظ بنا کر خوبصورت شکل دینا ھے انسانی جلد تین تہوں پر مشتمل ھوتی ھےسب سے بیرونی تہہ بڑی اہمیت کی حامل ھے کیونکہ یہ جسم کو خطرناک شعاعوں اورموسمی حالات سے محفوظ رکھتی ھےاس کے علاوہ جلد کے ذریعے جسم کے فاسد مادے پسینے کے ذریعے باہر نکلتے ھیں ھماری جلد بہت سی چیزوں سے مل کر بنتی ھے جن میں پانی پروٹین اور معدنیات شامل ھیں ھم اپنے آپکو دوسروں کی نظر میں خوبصورت بنانے کے لیے اپنی جلد کا خاص خیال رکھتے ھیں چونکہ جلد خطرناک شعاعوں موسمی حالات جسم کے فاسد مادوں کا اخراج کرنے کا فریضہ سر انجام دیتی ھے اس لیے بعض اوقات ان چیزوں کا مقابلہ کرتے کرتے خود بھی متاثر ہونا شروع ہو جاتی ھے جسے ہم جلدی بیماری کا نام دیتے ہیں جلدی امراض تو بہت سارے ھیں لیکن ان امراض میں ایک مرض چنبل بھی ھے جسے میڈیکل میں سورائسس بھی کہتے ھیں یہ مرض صدیوں پرانا ھے یہ چھوتی مرض نہیں ھے بلکہ دائمی مرض ھے اور اتنی جلدی انسان کی جان نہیں چھوڑتا سورائسس ایسی بیماری ھے جو جلد کے خلیات کی زندگی جسکے سبب جلد کی سطح پر خلیات بہت تیزی سے بنتے اور مرتے ھیں ھمارے جسم کی اندرونی تہہ میں جلد کے نئےخلیات پیداہوتے ھیں جو آہستہ آہستہ حرکت کرکے بیرونی تہہ تک پہنچتے ھیں جہاں سے خارج ھوجاتےھیں اور یہ دورانیہ عام طور پر 3 سے4ہفتوں میں مکمل ہوتا ھے اس دوران یہ خلیات اپنے افعال کو درست طریقے سے انجام دیتے ھیں لیکن چنبل کے مریض کے خلیات 3سے7دنوں میں ہی جلد کی بیرونی تہہ سے خارج ھو جاتے ھیں اسی وجہ سے جلد کے افعال درست طریقے سے مکمّل نہیں ھو پاتے جس کی وجہ سے جلد کے اوپر چھلکے سے بننے شروع ہو جاتے ھیں اور سکن خراب ھونا شروع ھو جاتی ھے جس کو چنبل یا سورائسس ( psoriasis) کہا جاتا ھے جو معدافتی خلیے ٹی سیل کی خرابی کا نتیجہ ھوتا ھے چنبل کی مختلف مریضوں میں مختلف حالتیں اور شکلیں ھوتی بیں بعض میں چھوٹے چھوٹے سرخ دانے سے بنتے ھیں اور انکے اوپر چھلکے آتے ھیں بعض میں بڑے بڑے زخم سے بن جاتےھیں بعض میں یہ مچھلی کے چانوں (چھلکوں) کی طرح اور بعض ایسے ھوتا ھے جیسے کہ جسم کو پلستر یا چونا سا کر دیا گیا ھو چنبل زیادہ تر کھوپڑی ٹانگوں اور بازوؤں میں زیادہ تر دیکھا گیا ھے اس سے انگلیاں اور ناخن بھی متاثر ہو جاتے ھیں. لیکن چہرے میں بہت کم دیکھنے میں آیا ھے چنبل کی وجوہات : causes of psoriasis

سٹرس غم فکر وتردد دیگر ذہنی اور جذباتی عوامل چنبل کا سبب ھو سکتے ھیں

غربت َغربت کا خوف اس مرض کا ایک سبب ھو سکتا ھے خانہ بدوش میلے کچیلے اور گندے رہنے والے لوگوں میں بھی یہ زیادہ دیکھا گیا ہے.

َناقص خوراک آلودہ پانی اور فضائی آلودگی اس مرض کا سبب ھو سکتی ھے

مختلف کیمیکل اور سیمنٹ کا کام کرنے والوں میں یہ دیکھا گیا ہے

نشہ آور ادویات اینٹی بائیوٹک کا کثرت سے استعمال اس مرض کا سبب ھو سکتا ھے.

تمباکو نوشوں شرابیوں اور دیگر نشہ کرنے والے لوگوں میں بھی یہ مرض عام ھے

بےراہ روی اور جنسی ناجائز تعلقات سورائسس کا باعث بن سکتے ھیں

یہ مرض والدین سے بچوں میں منتقل ھو سکتا ھے اس لیے اسے موروثی مرض بھی کہاں جا سکتا ھے سورائسس چنبل کا علاج جہاں تک ایلوپیتھی کا سوال ھے اس کا ان کے پاس کوئی پراپر علاج نہیں ھے صرف مرض کو کچھ عرصے کے لیے manage کیا جاتا ھے اللہ کے فضل سے ھومیو پیتھک طریقہ علاج میں جہاں دیگر جلدی امراض اور دوسرے ضدی امراض کا علاج موجود ھے وہاں سورائسس کا بھی مکمل اور مستقل علاج موجود ھے لیکن اسکے لیے شرط یہ ھے ڈاکٹر تجربہ کار اور اس مرض پر پوری دسترس رکھتا ھو ھومیو پیتھی میں سب سے پہلے مریض کے میازم کو دیکھا جاتا ھے اسکے بعد مرض کی وجوہات اس کے بعد مریض کے ذہنی اور جذباتی عوامل اس کے بعدمریض کا مجموعہ علامات کے مطابق دوا سلیکٹ کی جاتی ھے ہر مریض کی انفرادی ھسٹری کے مطابق ھی اس کا علاج ممکن ھو سکتا ھے کیونکہ یہ ایک ضدی مرض ھے.

ھومیو پیتھی میں الحمدللہ سورائسس psoriasis یعنی چنبل کا کامیاب علاج ممکن ھے

https://www.facebook.com/418295091584627/posts/4205969836150448/
18/07/2021

https://www.facebook.com/418295091584627/posts/4205969836150448/

آج سے تین سال قبل میں نے ایک پوسٹ لکھی تھی۔ جس میں میں نے کہا تھا کہ چکن کا وزن بڑھانے کے لئے جو آرسینک استعمال کی جاتی ہے۔ چکن کا وزن تو بڑھا دیتی ہے۔ مگر چکن کی کلیجی اس آرسینک کو اسٹورکر لیتی ہے۔ جب ہم انسان کلیجی کھاتے ہیں تو وہ لوگ جن کا جگر کمزور ہو یا جن لوگوں کو ہیپاٹائٹس سی ہو۔ ان کونقصان پہنچاتی ہے۔ آج امریکن ‏ڈرگ ایجنسی( American drug agency) نے اس کو وئریفائی کر دیا ہے۔
لیکن بات یہاں سے آگے بڑھ چکی ہے۔ تقریبا پندرہ دنوں سے مریض مچھلی کھانے کے بعد فوڈپوائزننگ کی کمپلینٹ کر رہے تھے۔ انویسٹی گیشن کے، نتائج سامنے رکھ رہا ہوں۔

فش فارمر ( Fish farmers) چکن کا خون، چکن کی آنتیں، چکن کی باقیات اور معذرت کے ساتھ اس کی بیٹ بھی چارۓ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں۔ چکن کی بیٹ سے ایک کیڑا پیدا ہوتا ہے۔ جس کو کھانے سے فش کا وزن بڑھ جاتا ہے۔

فش فارمر کھاد کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ تاکہ گھاس پھوس پیدا ہو۔ اور مچھلیاں اس کو کھا کر اپنا وزن بڑھائیں۔
آپ کو یاد ہوگا جب اس پوسٹ میں چکن سے پوچھا گیا تھا ۔
" سنا ہے کہ آپ اس دنیا سے جانے کے بعد بھی ہمارے دسترخوان کی زینت بن جاتے ھیں۔ ؟۔"
مسٹر چکن نے جواب دیا تھا
" میں تو اس دنیا سے چلا جاتا ہوں مجھے کیا پتا "۔
جی ہاں میں نے اس فارمنگ فش کا نام ہی "چکن فش" رکھ دیا ہے
یہ دو باتیں میں نے اپنی کلینیکل آبزرویشن (Clinical observations) کی بنیاد پر کہیں ہیں۔ مگر پھر بھی اصلاح کی گنجائش موجود ہے.
dr AnwerHaq ....

Address

Hyderabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when DRC Homeopathy Clinic,Pharmacy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to DRC Homeopathy Clinic,Pharmacy:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram