DRSYR Homopathic Clinic Islamabad

DRSYR Homopathic Clinic Islamabad Medical Knowledge & Rx.

ہمارے جسم میں بہت سارے غدود ہیں، جو مختلف قسم کے کام سرانجام دیتے ہیں. ایسی ہی ایک غدود ہمارے گلے میں موجود ہے جس کو تھا...
06/02/2021

ہمارے جسم میں بہت سارے غدود ہیں، جو مختلف قسم کے کام سرانجام دیتے ہیں. ایسی ہی ایک غدود ہمارے گلے میں موجود ہے جس کو تھائراڈ گلینڈ کہتےہیں:یہ مخصوص قسم کے ہارمون تیار کرتی ہیں
جن کا مقصد غذاء سےحاصل ہونےوالی توانائی کو حد اعتدال میں رکھنا ہوتا ہے.اس کی کمی و زیادتی سے ہمارا جسم مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتاہے.
آئیوڈین ایک اہم غذائی عنصر ہے۔ ایک عام انسانی جسم میں 00004 ۔0 فی صد آئیوڈین موجود ہوتی ہے ۔
جس کا زیادہ ترحصہ تھائی رائیڈ غدود کی شکل ایک تتلی کی مانند ہوتی ہے ،جو کہ گردن میں ٹریکیا (Trachea ) کے قریب پایا جاتا ہے ۔ آئیوڈین غدود میں جا کر اھم کیمیائی مرکبات بناتی ہے ۔
ان میں ایک تھائی راکسن ہار مون ہے جو کہ جسم میں نشو ونما کے عمل کو کنٹرول کرتا ہے ۔
غذا چاہیے نباتات سے حاصل کی جائے یا حیوانات سے اس میں موجود آئیوڈین کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ جس زمین میں وہ کاشت کئے جا رہے ہیں یا جس ماحول میں وہ پرورش پا رہے ہوتے ہیں اس میں آئیوڈین کی کتنی مقدار موجود ہے۔ ایسی زمین جس میں آئیوڈین کی کم مقدار موجود ہو اس پر اگنے والی فصلوں میں بھی آیوڈین کی کم مقدار موجود ہوتی ہے ۔
اس کے علاوہ آئیوڈین کی کمی کا شکار زمین پر چگنے چرنے والے جانوروں میں بھی آئیوڈین کی کمی ہو جاتی ہے ۔
ہماری پوری زندگی کے لئے چائے کے چمچے سے بھی کم آئیوڈین کی ضرورت ہوتی ہے ۔ قدرتی طور پر آیوڈین کی ایک اچھی مقدار سمندری خوراک جیسے مچھلی،، جھینگے وغیرہ میں‌پائی جاتی ہے ۔
لیکن عام مشاہدے میں یہ بات دیکھے میں‌ائی ہے کہ آج کل اس مہنگائی کے دور میں‌‌ قدرتی آئیو ڈین کی حامل سبزیاں ، مچھلی ، اور گوشت وغیرہ عام مطلوبہ مقدار میں‌ نہیں کھائے جا سکتے – لہذا آئیوڈین کی کمی ایک یقینی امر ہے -اور اس کی کمی سے مختلف عوارض پیدا ہو جاتے ہیں.
جن میں گلے کے گلہڑ صاف نظر اتا ہے ، لیکن نظر نہ انے والے عوارض بہت خطر ناک ہیں‌۔آج لاکھوں‌افراد زہنی اور جسمانی صالحتوں کی پسمانندگی کا شکار ہیں لیکن افسوس ہے کہ ان کو یہ بھی خبر نہیں ہے کہ ان کی یہ کیفیت آیو ڈین کی کمی کی وجہ سے ہوئی ہے –
گلہڑ یا گوا ئٹر (Gioter ) چہرے کے نیچے اور گردن کے درمیانی حصے میں تھائیراڈ غدود کی تھیلی کی شکل میں‌ لٹک جانے کو کہتے ہیں-
جب لمبے عرصے تک خوراک میں‌آئیوڈین کی کمی ہو جائے تو اس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے تھائیرائیڈ غدود تیزی سے تھائیرائیڈ ہار مون بناتا ہے جس سے خلیوں‌کی تعداد اور سائز بڑھ جاتا ہے اور یہ گردن میں‌نمایاں ہو جاتا ہے ،
ابتدائی قلت پر عام پوزیشن میں‌ گردن پر سوجن نظر آتی ہے لیکن گردن کو اونچا کیا جائے تو ہلکی سی سوجن نظر اتی ہے یا پھر کھانے پینے کے دوران یہ سوجن نظر اسکتی ہے ۔
اگر آئیو ڈین کی قلت زیادہ عرصے قائم رہے تو گردن پر سوجن نظر آنے لگتی ہے اور گردن بہت زیادہ چوڑی ہو جاتی ہے اور اس وقت بعض اوقات یہ گلہڑ سانس کی نالی پر دباؤ ڈال دیتا ہے جس سے سانس لینے میں رکاوٹ محسوس ہوتی ہے اور کئی دفعہ گلہڑ کا سرطان ہونے کا بھی خدشہ پیدا ہوجاتا ہے
ہائپرتھائی‌رائڈازم یعنی ضرورت سے زیادہ کام کرنا:
اِس کی علا‌مات میں گھبراہٹ یا بے چینی میں اضافہ،‏
وزن کا تیزی سے گرنا،‏ دل کی دھڑکن کا تیز ہونا،‏ اکثر دست رہنا،‏ ماہواری میں بےقاعدگی،‏
چڑچڑاپن،‏ بےچینی،‏ مزاج میں غیرمعمولی اُتارچڑھاؤ،‏ آنکھوں کا اُبھر آنا،‏ عضلا‌تی کمزوری،‏
نیند کی کمی اور بالوں کا ٹوٹنا یا کم ہو جانا شامل ہے۔‏*
ناقص‌درقیت یعنی ہائپوتھائی‌رائڈازم:
اِس کی علا‌مات میں جسمانی اور دماغی نشوونما کا سُست پڑ جانا،‏
وزن میں غیرمعمولی اضافہ،‏ بالوں کا گرنا،‏ قبض رہنا،‏ بہت زیادہ سردی لگنا،‏
ماہواری میں بےقاعدگی،‏ ڈپریشن یا افسردگی،‏ آواز میں تبدیلی،‏
یادداشت کا کمزور ہو جانا اور جسم میں مستقل تھکن کی کیفیت رہنا شامل ہے۔‏
چیک کرنےکا طریقہ:
آپ لیبارٹری میں خون کے ذریعہ تھائرائید ہارمون چیک کروا سکتے ہیں. لیکن گھر میں آپ خود بھی اندازہ لگا سکتے ہیں.روزانہ نیند سے بیدار ہوتے ہی تھرما میٹر بغل میں 10 منٹ رکھ کر چیک کریں‌اور دو دن مسلسل آپ کے جسم کا درجہ حرارت کم ہو تو اس بات کاامکان موجود ہے کہ تھائرائید ہارمونز کی جسم میں کمی ہےہومیوپیتھی علاج:
بیسیلنیم اور سلفر 200 میں ملا کر ایک ہفتہ لگاتار پھر ہفتہ میں 3 دفعہ.
کلکریا فلور 6ایکس دن میں‌تین بار
نوٹ.: یہ ایک نسخہ ہے اگر دیگر علامات مریض پائی جاتی ہیں تو قریبی ڈاکٹر سے علامات کے مطابق دوا لیں یہ نسخہ حرف آخر نہیں ہے

20/01/2021
03/01/2021

DRSYR

03/01/2021
03/01/2021

*******امراض کی حقیقی تشخیص*******۔

ھومیو پیتھی کی ایک ایسی حقیقت جو شائد آپ سب کو بہت عجیب لگے۔ پوسٹ کوڈ۔ Dr.abid.rao.3137*******
لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ھومیوپیتھی کی اصل حقیقت کے بارے میں علاج کرنے والے اور علاج کروانے والے دونوں ہی ھومیو کی اصل حقیقت کے بارے میں 99.9%علم نہی رکھتے۔ سب اسے عام طریقہ علاج کی طرح ایک طریقہ سمجھتے ہیں جبکہ اس اس کی حقیقت بلکل مختلف ہے۔
ھومیو طریقہ علاج مرض کی اصل وجہ کی جڑ کی بیس کی تشخیص کرتی ہے اور اسی بیس کی جینز لیول پر DNA کے بگاڑ کو درست کر کے مریض کو حقیقی شفاء سے ہمکنار کرتی ہے۔ یہ ھومیو ہی ہے جو مرض کے سبب کے ساتھ اس کے میازم کا تصور پیش کرتی ہے۔۔ اور یہ امتیاز صرف ھومیوپیتھک کو حاصل ہے۔جبکہ باقی طریقوں میں صرف مرض کو زبردستی دبا دیا جاتا ہے جو بعد میں شکل بدل کر کسی دوسرے مرض کی شکل میں ظاہر ھو جاتا ہے۔
دنیا ھومیو علاج کروانا چاہتی ہے لیکن افسوس کہ ہم لوگوں میں ھومیو کا وہ نالج موجود نہی ھوتا۔ جس سے مریضوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس ملک میں ہزاروں ڈاکٹر ایک شہر میں موجود ھوتے ہیں۔لیکن پھر بھی انگلیوں پر گنے جانے والے چند ڈاکٹر ہی پہچانے جاتے ہیں۔
اب جس طرح ہمارے دوستوں میں ھومیو کی بیس جاننے کا شوق پیدا ھوا ہے تو لوگوں کا شوق جنوں کی حد تک بڑھ گیا ہے۔ اور آنے والے وقت میں جہاں مرض بڑھ رہے ہیں وہاں بہت سے علاج ناکام ھوتے جا رہے ہیں اور اب سالوں علاج کے بعد مایوس ھو کر لوگ ھومیوپیتھک علاج کے لیئے کسی اچھے ھومیو ڈاکٹر کی تلاش میں پھرتے نظر آتے ہیں۔
ہمارے فاسٹ گروپ میں سب سے بڑی کوشش یہ ہی کی جارہی ہے کہ دوستوں کو مریض کی اصل وجہ اور ھومیو کی بیس سمجھائیں جائے۔
اور دوسرا تمام ھومیو ڈاکٹر کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کیا جائے تاکہ وہ علم آسانی سے بغیر کسی اضافی خرچ کے تمام ھومیو ڈاکٹر تک پہنچ سکے۔اور ہر علاقہ کے مریضوں کو ان کے اپنے علاقہ میں قابل ڈاکٹر مل سکیں۔ اور اب لوگ بھی سمجھنے لگے ہیں کہ مرض کی حقیقی تشخیص ھومیو فلسفہ میں ہے اور اس کا حقیقی علاج بھی صرف ھومیو طریقہ علاج میں ہے۔ مریض کو دیکھ کر مرض کی بیس سالہ پرانی وجہ یا اس کے جینز یعنی وراثت سے حاصل شدہ مرض کو صرف ھومیو ڈاکٹر پہنچ سکتا ہے۔ اور یہ فقرہ شائد آج آپ پہلی بار پڑھ رہے ہیں کہ
موجودہ نظام تشخیص جن میں لیب ٹیسٹ۔اینڈوسکوپی۔کولن سکوپ ھو۔ای سی جی ھو۔ایکو ھو۔یا ایکسرے سے لے کر سٹی سکین تک الغرض تمام ٹیسٹ آپ کے امراض کی موجودہ حالت تو بتا سکتے ہیں لیکن بیماری کی اصل وجہ کی تشخیص صرف ایک ھومیو ڈاکٹر ہی کر سکتا ہے
کہ اصل سب سورا سفلس۔سائیکوسس ہے۔ یا خاندانی TB ہے۔ اصل سب۔ ٹائیفائڈ کا زبردستی علاج ہے۔ یا۔یا نزلہ زکام کا بگاڑ ہے۔ اصل وجہ۔کوئی صدمہ ہے۔ ڈر خوف۔فوبیا کھائے جا رہا ہے۔ یا کو اندرونی چوٹ وجہ بنی۔ہے۔ یا بچپن میں لگنے والی ویکسین نے رنگ دیکھا دیا ہے۔یا جزبات اور غصہ کے دبانے سے جسم برباد ھو گیا ہے۔ یا بےجا ادویات کا استعمال لے ڈوبا ہے۔یا غم اور فکر نے خوشیاں اجاڑ دی ہیں۔یا نیگیٹو سوچ کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔یا وراثت میں ملنے والی بیماری نے کھانا شروع کر دیا ہے۔ یا جسم میں چھپے کینسر نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔یا آج کل خوراک میں مکس زہر نے اپنا کام دیکھا دیا۔۔ اور یہ سب صرف ایک ھومیو ڈاکٹر کا فلسفہ تشخیص کرتا ہے۔ اور یہ سب تشخیص کرنا ایک ھومیو ڈاکٹر کے چند منٹ کا کھیل ہے۔باقی بیکٹیریا ۔وائرس کی حقیقت تو ہے لیکن ان کی وجہ سے امراض پیدا ھونا 15% جبکہ امراض کے بعد انکا پیدا ھونا 85% ھو سکتا ہے۔اور یہ سب زیادہ تر تو آپ کے جسم کی بربادی کے بعد پیدہ ھوتے ہیں۔۔ اور جو اصل تشخیص کر سکتا وہی اصل علاج کر سکتا ہے۔
اور دوسری بات یہ کہ کسی بھی عمارت کو موسمی تغیرات متاثر ضرور کر سکتے ہیں بارش اور دھوپ اس کی دیواروں اور چھت کے رنگ و روغن کو خراب ضرور کر دیتی ہے۔ لیکن گرا نہی سکتی عمارت جب بھی گرے گی اس کی بنیاد کھوکھلی ھونے پر گرے گی۔ اسی طرح بکٹیریا وائرس اسے نقصان ضرور پہنچا سکتے ہیں لیکن اس جسم کی موت کا باعث نہی بنتے۔ حقیقت میں جب انسان کا نفس بیمار ھونے لگتا ہے تو اس کے احساسات تو جزبات پہلے انڈیکیشن دیتے ہیں۔اور پھر جسم بیمار ھونے لگتا ہے۔اور آئستہ آئستہ سارا جسم بیمار ھو جاتا ہے۔ جسم کی بیماری تو لیب ٹیسٹ میں بہت بعد میں ظاہر ھوتی ہے۔جبکہ اس سے پہلے بہت کچھ ھو چکا ھوتا ہے۔
آپ نے اکثر سنا ھو گا مریض یہ کہتا ہے۔ٹیسٹ تو سب ٹھیک ہیں لیکن طبعیت خراب ہے۔۔
اسلیئے کوئی بھی ٹیسٹ مرض کی نشان دہی تو کر سکتا ہے لیکن مرض کی وجہ بیماری نہی بتا سکتا۔
کسی بھی بیماری کی تشخیص صرف ھومیو فلسفہ سے ممکن ہے۔ کیونکہ یہ سائنس صرف اور صرف ایک ھومیو ڈاکٹر جانتا۔ دوسرا کوئی جان بھی کیسے سکتا ہے کیونکہ وہ ھومیو فلسفہ ہی نہی جانتا۔
اور یہ بات ایک دن ہر کوئی ماننے پر مجبور ھو جائے گا۔ کہ امراض کی اصل تشخیص بھی ھومیو طریقہ میں ہے اور حقیقی اور پرمننٹ علاج بھی ھومیو طریقہ میں ہے۔ کیونکہ دنیا کا سب سے جدید ترین طریقہ علاج صرف اور صرف ھومیوپیتھک ہے۔ مسلہ صرف یہ ہے کہ ہمارا ھومیو ڈاکٹر بھی ھومیو فلسفہ کو کچھ کم ہی سمجھتا ہے۔۔میری یہ پوسٹ شائد آج بہت کم لوگ سمجھ پائیں۔لیکن ایک دن آئے گا جب لوگ مجبور ھو کر اسے ماننے پر مجبور ھو جائیں گے۔
ڈاکٹر عابد راو۔فاسٹ ھومیو گروپ۔

Dr.Shoukat Yousaf Raja (DRSYR)
23/11/2020

Dr.Shoukat Yousaf Raja (DRSYR)

Address

Islamabad
092

Telephone

+923445453867

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when DRSYR Homopathic Clinic Islamabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram