Binte Hawa Family Counseling & Training Institute.

Binte Hawa Family Counseling & Training  Institute. Binte hawa Family Training institute is a private organization working for strong family . Family Therapist

07/05/2026
04/05/2026

پری میرج کاؤنسلنگ (Pre-Marriage Counseling) آج کے دور میں ایک بہت اہم ضرورت بن چکی ہے۔ یہ صرف ایک رسمی مرحلہ نہیں بلکہ ایک ایسی تیاری ہے جو دو افراد کو ایک کامیاب اور مضبوط رشتے کے لیے ذہنی، جذباتی اور عملی طور پر تیار کرتی ہے۔

پری میرج کاؤنسلنگ کیوں ضروری ہے؟

1. ایک دوسرے کو بہتر سمجھنے کے لیے
شادی سے پہلے اکثر لوگ صرف ظاہری یا محدود پہلوؤں کو دیکھتے ہیں۔ کاؤنسلنگ کے ذریعے دونوں افراد ایک دوسرے کی شخصیت، عادات، سوچ اور ترجیحات کو گہرائی سے سمجھتے ہیں۔

2. توقعات (Expectations) کو واضح کرنے کے لیے
بہت سے مسائل اس لیے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ میاں بیوی کی توقعات مختلف ہوتی ہیں۔ کاؤنسلنگ ان توقعات کو پہلے ہی واضح کر دیتی ہے جیسے کہ مالی معاملات، کیریئر، بچوں کی پرورش وغیرہ۔

3. کمیونیکیشن بہتر بنانے کے لیے
ایک کامیاب شادی کی بنیاد مؤثر بات چیت ہوتی ہے۔ کاؤنسلنگ سکھاتی ہے کہ اختلاف کے باوجود بات کیسے کی جائے اور مسائل کو کیسے حل کیا جائے۔

4. تنازعات (Conflicts) کو سنبھالنے کی صلاحیت
ہر رشتے میں اختلاف ہوتا ہے، لیکن اسے صحیح طریقے سے ہینڈل کرنا ضروری ہے۔ پری میرج کاؤنسلنگ اس بات کی تربیت دیتی ہے کہ غصہ، انا اور جذبات کو کیسے کنٹرول کیا جائے۔

5. فیملی سسٹم کو سمجھنے کے لیے
ہمارے معاشرے میں شادی صرف دو افراد نہیں بلکہ دو خاندانوں کا ملاپ ہوتی ہے۔ کاؤنسلنگ اس نئے ماحول کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

6. جذباتی اور ذہنی تیاری
شادی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ کاؤنسلنگ دونوں افراد کو اس نئے مرحلے کے لیے ذہنی طور پر تیار کرتی ہے تاکہ وہ حقیقت پسندانہ سوچ کے ساتھ رشتہ شروع کریں۔

7. طلاق کے امکانات کم کرنے کے لیے
تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو جوڑے شادی سے پہلے کاؤنسلنگ لیتے ہیں، ان میں طلاق کی شرح نسبتاً کم ہوتی ہے کیونکہ وہ مسائل کو بہتر طریقے سے سنبھالنا سیکھ لیتے ہیں۔
,بنت حوا شاہین اختر حسین
فیملی اینڈ ریلیشن شپ کنسلٹنٹ

01/05/2026

مطابقت (Compatibility)، کفو اور ایک کامیاب رشتے کا مکمل فارمولا

مطابقت یا Mutabqat ایک ایسا بنیادی اصول ہے جس کے بغیر کوئی بھی رشتہ زیادہ دیر تک مضبوط نہیں رہ سکتا۔ یہ صرف پسند، کشش یا وقتی جذبات کا نام نہیں بلکہ دو افراد کے درمیان گہری ہم آہنگی، سمجھ بوجھ اور توازن کا نام ہے۔ جب دو لوگ اپنی سوچ، مزاج، اقدار اور زندگی کے مقاصد میں ایک دوسرے کے قریب ہوں تو ان کا رشتہ نہ صرف قائم رہتا ہے بلکہ وقت کے ساتھ مضبوط بھی ہوتا جاتا ہے۔

کفو (Kafoo) کا دینی تصور

اسلام میں مطابقت کو “کفو” کہا گیا ہے، یعنی ہم پلہ ہونا۔ کفو کا مطلب صرف مالی یا خاندانی برابری نہیں بلکہ اس میں دین، اخلاق، کردار اور طرزِ زندگی سب شامل ہیں۔

ایک مضبوط رشتے کے لیے کفو میں یہ چیزیں دیکھی جاتی ہیں:

- دین اور اخلاق میں ہم آہنگی
- مزاج اور رویے میں توازن
- خاندانی اقدار کی قربت
- زندگی گزارنے کے انداز میں مطابقت

اسلام کا یہ اصول دراصل ایک balanced system دیتا ہے تاکہ رشتہ وقتی کشش پر نہیں بلکہ مضبوط بنیاد پر قائم ہو۔

AI-Based Compatibility Formula (جدید سائنسی انداز)

مطابقت کو جدید انداز میں ایک سادہ فارمولے سے بھی سمجھا جا سکتا ہے:

Compatibility Score = (Values × 0.30) + (Communication × 0.25) + (Emotional Understanding × 0.20) + (Life Goals × 0.15) + (Lifestyle Match × 0.10)

یہ فارمولا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:

- مشترکہ اقدار سب سے اہم ہیں
- بات چیت رشتے کو زندہ رکھتی ہے
- جذباتی سمجھ مسائل کو کم کرتی ہے
- ایک جیسے goals مستقبل کو آسان بناتے ہیں
- lifestyle match روزمرہ زندگی کو متوازن رکھتا ہے

نام، اعداد اور ستاروں کی مطابقت

کچھ لوگ مطابقت کو سمجھنے کے لیے ناموں کے حروف، اعداد اور ستاروں کو بھی دیکھتے ہیں:

- حروفِ نام ایک خاص تاثر اور توانائی رکھتے ہیں
- اعداد (Numerology) شخصیت کے رجحانات ظاہر کرتے ہیں
- ستارے (Astrology) مزاج اور رویوں کا ایک زاویہ پیش کرتے ہیں

یہ طریقے ایک اضافی رہنمائی ہو سکتے ہیں، لیکن اصل بنیاد ہمیشہ کردار، دین اور عملی زندگی ہی ہونی چاہیے۔

مطابقت کی اقسام (Practical Understanding)

مطابقت کو بہتر سمجھنے کے لیے اس کی مختلف اقسام کو دیکھنا ضروری ہے:

- ذہنی مطابقت: کیا دونوں ایک جیسے انداز میں سوچتے ہیں؟
- جذباتی مطابقت: کیا وہ ایک دوسرے کے احساسات کو سمجھتے ہیں؟
- سماجی مطابقت: کیا دونوں خاندانوں اور ماحول کو قبول کر سکتے ہیں؟
- مالی مطابقت: کیا اخراجات اور priorities ایک جیسی ہیں؟
- طرزِ زندگی کی مطابقت: کیا سادگی یا سوشل لائف میں ہم آہنگی ہے؟

مثال کے طور پر اگر ایک شخص سادہ زندگی چاہتا ہو اور دوسرا بہت زیادہ نمود و نمائش پسند کرے تو یہ فرق بعد میں مسئلہ بن سکتا ہے۔

Red Flags (خطرے کی نشانیاں)

کچھ چیزیں شروع میں ہی ظاہر کر دیتی ہیں کہ مطابقت کم ہے:

- بات چیت میں سختی یا بے عزتی
- غصے پر کنٹرول نہ ہونا
- ذمہ داری سے بچنا
- دین یا بنیادی اقدار میں بڑا فرق

ان علامات کو نظر انداز کرنا بعد میں بڑے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

Compatibility Checklist (خود جائزہ)

فیصلہ کرنے سے پہلے خود سے یہ سوالات ضرور پوچھیں:

- کیا ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں؟
- کیا ہم مشکل وقت میں ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں؟
- کیا ہماری زندگی کے goals ملتے جلتے ہیں؟
- کیا ہم ایک دوسرے کے ساتھ سکون محسوس کرتے ہیں؟

اگر ان سوالوں کے جواب مثبت ہوں تو مطابقت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

وقت اور تیاری (Time vs Readiness)

صرف عمر ہی اہم نہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی تیاری بھی ضروری ہے۔ کچھ لوگ عمر میں بڑے ہو کر بھی immature ہوتے ہیں جبکہ کچھ کم عمر میں بھی balanced ہوتے ہیں۔ اس لیے وقت کے ساتھ ساتھ readiness کو بھی دیکھنا چاہیے۔

والدین اور معاشرے کا کردار

والدین کا کردار بہت اہم ہے:

- فیصلے مسلط نہ کریں
- بچوں کی شخصیت کو سمجھیں
- غیر ضروری تقاضوں اور comparison سے بچیں

سادگی اور حقیقت پسندی کو اپنانا ہی بہترین راستہ ہے۔

حقیقی مثال (Case Study)

دو مختلف رشتوں کو دیکھیں:

ایک رشتہ صرف دولت اور ظاہری چیزوں پر قائم ہوا، لیکن کچھ ہی عرصے بعد اختلافات بڑھ گئے کیونکہ مزاج اور سوچ میں فرق تھا۔

دوسرا رشتہ سادگی اور مطابقت کی بنیاد پر قائم ہوا، جہاں دونوں نے ایک دوسرے کو سمجھا، نتیجہ یہ نکلا کہ وہ رشتہ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتا گیا۔

نتیجہ

مطابقت کوئی اضافی چیز نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت ہے۔ اسلام کا “کفو” اور جدید سائنسی فارمولہ دونوں یہی سکھاتے ہیں کہ کامیاب رشتہ صرف اسی وقت بنتا ہے جب ہم ہم آہنگی کو سمجھ کر فیصلہ کریں۔

اگر ہم جذبات، عقل اور اقدار تینوں کو ساتھ لے کر چلیں تو ہم نہ صرف بہتر فیصلے کر سکتے ہیں بلکہ ایک مضبوط، پُرسکون اور خوشحال زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔
بنت حوا فیملی کونسلنگ اینڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ اسلام اباد
نوٹ۔
علم کوئی بھی غلط نہیں ہوتا اس کا بشرطہ کہ اس ک طریقہ استعمال ا صحیح ہو اور نیت دوسروں کو فائدہ پہنچانا ہو

01/05/2026

مطابقت (Compatibility)، کفو اور ایک کامیاب رشتے کا مکمل فارمولا

مطابقت یا Mutabqat ایک ایسا بنیادی اصول ہے جس کے بغیر کوئی بھی رشتہ زیادہ دیر تک مضبوط نہیں رہ سکتا۔ یہ صرف پسند، کشش یا وقتی جذبات کا نام نہیں بلکہ دو افراد کے درمیان گہری ہم آہنگی، سمجھ بوجھ اور توازن کا نام ہے۔ جب دو لوگ اپنی سوچ، مزاج، اقدار اور زندگی کے مقاصد میں ایک دوسرے کے قریب ہوں تو ان کا رشتہ نہ صرف قائم رہتا ہے بلکہ وقت کے ساتھ مضبوط بھی ہوتا جاتا ہے۔

کفو (Kafoo) کا دینی تصور

اسلام میں مطابقت کو “کفو” کہا گیا ہے، یعنی ہم پلہ ہونا۔ کفو کا مطلب صرف مالی یا خاندانی برابری نہیں بلکہ اس میں دین، اخلاق، کردار اور طرزِ زندگی سب شامل ہیں۔

ایک مضبوط رشتے کے لیے کفو میں یہ چیزیں دیکھی جاتی ہیں:

- دین اور اخلاق میں ہم آہنگی
- مزاج اور رویے میں توازن
- خاندانی اقدار کی قربت
- زندگی گزارنے کے انداز میں مطابقت

اسلام کا یہ اصول دراصل ایک balanced system دیتا ہے تاکہ رشتہ وقتی کشش پر نہیں بلکہ مضبوط بنیاد پر قائم ہو۔

AI-Based Compatibility Formula (جدید سائنسی انداز)

مطابقت کو جدید انداز میں ایک سادہ فارمولے سے بھی سمجھا جا سکتا ہے:

Compatibility Score = (Values × 0.30) + (Communication × 0.25) + (Emotional Understanding × 0.20) + (Life Goals × 0.15) + (Lifestyle Match × 0.10)

یہ فارمولا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:

- مشترکہ اقدار سب سے اہم ہیں
- بات چیت رشتے کو زندہ رکھتی ہے
- جذباتی سمجھ مسائل کو کم کرتی ہے
- ایک جیسے goals مستقبل کو آسان بناتے ہیں
- lifestyle match روزمرہ زندگی کو متوازن رکھتا ہے

نام، اعداد اور ستاروں کی مطابقت

کچھ لوگ مطابقت کو سمجھنے کے لیے ناموں کے حروف، اعداد اور ستاروں کو بھی دیکھتے ہیں:

- حروفِ نام ایک خاص تاثر اور توانائی رکھتے ہیں
- اعداد (Numerology) شخصیت کے رجحانات ظاہر کرتے ہیں
- ستارے (Astrology) مزاج اور رویوں کا ایک زاویہ پیش کرتے ہیں

یہ طریقے ایک اضافی رہنمائی ہو سکتے ہیں، لیکن اصل بنیاد ہمیشہ کردار، دین اور عملی زندگی ہی ہونی چاہیے۔

مطابقت کی اقسام (Practical Understanding)

مطابقت کو بہتر سمجھنے کے لیے اس کی مختلف اقسام کو دیکھنا ضروری ہے:

- ذہنی مطابقت: کیا دونوں ایک جیسے انداز میں سوچتے ہیں؟
- جذباتی مطابقت: کیا وہ ایک دوسرے کے احساسات کو سمجھتے ہیں؟
- سماجی مطابقت: کیا دونوں خاندانوں اور ماحول کو قبول کر سکتے ہیں؟
- مالی مطابقت: کیا اخراجات اور priorities ایک جیسی ہیں؟
- طرزِ زندگی کی مطابقت: کیا سادگی یا سوشل لائف میں ہم آہنگی ہے؟

مثال کے طور پر اگر ایک شخص سادہ زندگی چاہتا ہو اور دوسرا بہت زیادہ نمود و نمائش پسند کرے تو یہ فرق بعد میں مسئلہ بن سکتا ہے۔

Red Flags (خطرے کی نشانیاں)

کچھ چیزیں شروع میں ہی ظاہر کر دیتی ہیں کہ مطابقت کم ہے:

- بات چیت میں سختی یا بے عزتی
- غصے پر کنٹرول نہ ہونا
- ذمہ داری سے بچنا
- دین یا بنیادی اقدار میں بڑا فرق

ان علامات کو نظر انداز کرنا بعد میں بڑے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

Compatibility Checklist (خود جائزہ)

فیصلہ کرنے سے پہلے خود سے یہ سوالات ضرور پوچھیں:

- کیا ہم اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں؟
- کیا ہم مشکل وقت میں ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں؟
- کیا ہماری زندگی کے goals ملتے جلتے ہیں؟
- کیا ہم ایک دوسرے کے ساتھ سکون محسوس کرتے ہیں؟

اگر ان سوالوں کے جواب مثبت ہوں تو مطابقت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

وقت اور تیاری (Time vs Readiness)

صرف عمر ہی اہم نہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی تیاری بھی ضروری ہے۔ کچھ لوگ عمر میں بڑے ہو کر بھی immature ہوتے ہیں جبکہ کچھ کم عمر میں بھی balanced ہوتے ہیں۔ اس لیے وقت کے ساتھ ساتھ readiness کو بھی دیکھنا چاہیے۔

والدین اور معاشرے کا کردار

والدین کا کردار بہت اہم ہے:

- فیصلے مسلط نہ کریں
- بچوں کی شخصیت کو سمجھیں
- غیر ضروری تقاضوں اور comparison سے بچیں

سادگی اور حقیقت پسندی کو اپنانا ہی بہترین راستہ ہے۔

حقیقی مثال (Case Study)

دو مختلف رشتوں کو دیکھیں:

ایک رشتہ صرف دولت اور ظاہری چیزوں پر قائم ہوا، لیکن کچھ ہی عرصے بعد اختلافات بڑھ گئے کیونکہ مزاج اور سوچ میں فرق تھا۔

دوسرا رشتہ سادگی اور مطابقت کی بنیاد پر قائم ہوا، جہاں دونوں نے ایک دوسرے کو سمجھا، نتیجہ یہ نکلا کہ وہ رشتہ وقت کے ساتھ مضبوط ہوتا گیا۔

نتیجہ

مطابقت کوئی اضافی چیز نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت ہے۔ اسلام کا “کفو” اور جدید سائنسی فارمولہ دونوں یہی سکھاتے ہیں کہ کامیاب رشتہ صرف اسی وقت بنتا ہے جب ہم ہم آہنگی کو سمجھ کر فیصلہ کریں۔

اگر ہم جذبات، عقل اور اقدار تینوں کو ساتھ لے کر چلیں تو ہم نہ صرف بہتر فیصلے کر سکتے ہیں بلکہ ایک مضبوط، پُرسکون اور خوشحال زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔
بنت حوا فیملی کونسلنگ اینڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ اسلام اباد

27/04/2026

تحریر: بنتِ حوا شاہین اختر حسین
(فیملی اینڈ ریلیشن شپ کنسلٹنٹ)

آج کل خبروں میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ گردش کر رہا ہے، جہاں ایک ماں نے اپنے ہی تین بچوں کو قتل کر دیا۔ بظاہر یہ ایک سنگین جرم ہے، مگر اگر ہم اس واقعے کو محض ایک خبر کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک تجزیاتی نظر سے سمجھنے کی کوشش کریں، تو یہ ہمارے معاشرے کے ایک نہایت خطرناک اور نظر انداز کیے جانے والے پہلو کو بے نقاب کرتا ہے۔

بطور فیملی اور ریلیشن شپ کنسلٹنٹ، جب میں نے اس کیس کا بغور جائزہ لیا، تو مجھے اس کے پیچھے ایک گہرا نفسیاتی اور سماجی المیہ نظر آیا۔

یہ صرف ایک عورت کا جرم نہیں، بلکہ ایک ناکام نظام کی کہانی ہے۔

میری رائے میں، اس واقعے کی جڑ ایک ایسی شادی ہے جو عورت کی مرضی کے بغیر کی گئی۔ ایک زبردستی کا رشتہ، جس میں نہ جذباتی ہم آہنگی تھی، نہ ذہنی سکون، اور نہ ہی زندگی گزارنے کی مشترکہ خواہش۔

ایسی شادیوں میں عورت بظاہر زندہ رہتی ہے، مگر اندر سے مر چکی ہوتی ہے۔

وقت گزرتا گیا، اس عورت نے ماں کا کردار بھی ادا کیا، بچوں کو جنم دیا، مگر اس کے اندر کی بے چینی، گھٹن اور ناپسندیدگی ختم نہ ہو سکی۔ نو سال ایک ایسے رشتے میں گزارنا، جہاں دل شامل نہ ہو، ایک انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔

پھر ایک مرحلہ ایسا آیا جہاں اس نے اس رشتے سے نکلنے کا راستہ تلاش کیا۔ اسے کہیں اور جذباتی سہارا ملا، ایک نئی وابستگی پیدا ہوئی، جو اس کے لیے فرار کا راستہ بن گئی۔

لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ اکیلی نہیں تھی۔ اس کے ساتھ اس کے تین بچے بھی تھے، جو اس رشتے کی سب سے بڑی ذمہ داری تھے۔

یہاں سے کہانی ایک خطرناک موڑ لیتی ہے۔

جب انسان شدید ذہنی دباؤ، گھٹن، اور جذباتی انتشار میں ہوتا ہے، تو وہ صحیح اور غلط کی تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ اس عورت کے لیے اس کے اپنے بچے بھی اس قید کا حصہ بن گئے، جس سے وہ نکلنا چاہتی تھی۔

اور پھر اس نے ایک ایسا قدم اٹھایا، جو نہ صرف ناقابلِ معافی ہے بلکہ انسانیت کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بھی۔

یہ واقعہ ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔

ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا:

- کیا ہم اپنے بچوں کی شادیوں میں ان کی مرضی کو اہمیت دیتے ہیں؟
- کیا ہم صرف معاشرتی دباؤ میں فیصلے کر دیتے ہیں؟
- کیا ہم مطابقت (compatibility) کو نظر انداز کر کے صرف رشتہ جوڑنے کو کامیابی سمجھتے ہیں؟

یاد رکھیں،
ایک غلط شادی صرف دو لوگوں کی زندگی نہیں برباد کرتی، بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔

زبردستی کے رشتے، نامکمل جذبات، اور عدم مطابقت — یہ سب مل کر ایسے المیوں کو جنم دیتے ہیں۔

یہ وقت ہے کہ ہم شادی کو صرف ایک رسم نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ اور سوچ سمجھ کر کیا جانے والا فیصلہ سمجھیں۔

مطابقت، رضامندی، اور ذہنی سکون — یہ تینوں ایک کامیاب رشتے کی بنیاد ہیں۔
اگر ہم نے آج بھی نہ سیکھا، تو ایسے واقعات صرف خبریں نہیں رہیں گے، بلکہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت بنتے جائیں گے۔

— بنتِ حوا شاہین اختر

22/04/2026

We aim to strengthen family systems by guiding individuals and families toward thoughtful, informed, and emotionally balanced decisions in marriage. Our focus is to reduce misunderstandings and long-term marital conflicts by promoting clarity, compatibility, and realistic expectations before marriage, because compatibility is the key to prosperity .

Binte hawa

22/04/2026

شادی سے پہلے اہم معاملات کی وضاحت – ایک جامع رہنمائی
1. بنیادی اقدار اور خاندانی معیار (Family Values & Standards)
شادی صرف دو افراد کا نہیں بلکہ دو خاندانوں کا تعلق ہوتا ہے۔
اس لیے درج ذیل چیزوں پر پہلے ہی بات ہونی چاہیے:

خاندانی پس منظر (حسب نسب)

مذہبی اور اخلاقی اقدار

رہن سہن (lifestyle)

رسم و رواج اور روایات

اگر دونوں خاندانوں کے اصول بہت مختلف ہوں تو بعد میں clash پیدا ہوتا ہے۔

2. ذات پات اور سماجی ہم آہنگی (Social Compatibility)
ہمارے معاشرے میں ذات پات اور سماجی حیثیت اب بھی اثر رکھتی ہے۔
اس کو نظر انداز کرنے کے بجائے حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھنا چاہیے تاکہ بعد میں احساسِ کمتری یا برتری کے مسائل نہ ہوں۔

20/04/2026

رشتوں کے بڑھتے مسائل کی وجوہات
آج کل رشتوں کے مسائل میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی ایک اہم وجہ انسان کی بڑھتی ہوئی خواہشات ہیں، کیونکہ جب خواہشات حد سے بڑھ جائیں تو وہ رشتوں پر بوجھ بن جاتی ہیں۔ دین، خاص طور پر Islam، انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو توازن میں رکھے، اپنی ضروریات کو سمجھے اور خواہشات کو قابو میں رکھے، کیونکہ ضرورت اور خواہش میں واضح فرق ہے۔ ضرورت وہ ہوتی ہے جو انسان کے سکون، عزت اور بنیادی زندگی کے لیے ضروری ہو، جبکہ خواہش انسان کو مسلسل “مزید اور بہتر” کی طرف لے جاتی ہے۔ جب انسان خواہش کو ضرورت سمجھنے لگتا ہے تو وہ اپنے شریکِ حیات سے غیر حقیقی توقعات وابستہ کر لیتا ہے، جس کے نتیجے میں مایوسی، بے چینی اور تنازعات جنم لیتے ہیں۔ مزید یہ کہ آج کے دور میں سوشل میڈیا اور معاشرتی دباؤ نے بھی لوگوں کی توقعات کو غیر معمولی حد تک بڑھا…

18/04/2026

I am Shaheen Akhtar, Family and Relationship Consultant, Certified Counsellor and Therapist, and CEO of Binte Hawa.
I am also the author of the book Zouj: Intekhab se Nikah Tak.
Through Binte Hawa, we are introducing a Quran-based and AI-supported compatibility framework designed to help individuals understand and assess marital compatibility in a more structured and meaningful way.
For consultations and services, please contact: 0301 510 2008.

Address

Islamabad

Telephone

+923015102008

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Binte Hawa Family Counseling & Training Institute. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Binte Hawa Family Counseling & Training Institute.:

Share